52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 52:1

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور کی1

1 یعنی کوہ " طور " جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ نے کلام کیا۔
Ayahs 52:2–3

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور لکھی ہوئی کتاب کی

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

کشادہ ورق میں2

2 اس کتاب سے شاید لوح محفوظ مراد ہو یا لوگوں کا اعمالنامہ یا قرآن کریم یا طور کی مناسبت سے تورات یا عام کتب سماویہ، سب احتمالات ہیں۔
Ayah 52:4

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی3

3 شاید کعبہ کو کہا یا ساتویں آسمان پر خانہ کعبہ کی ٹھیک محاذات میں فرشتوں کا کعبہ ہے اس کو " بیت معمور " کہتے ہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔
Ayah 52:5

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی4

4 یعنی آسمان کی قسم جو زمین کے اوپر ایک چھت کی طرح ہے اور یا " سقف مرفوع " عرش عظیم کو کہا جو تمام آسمانوں کے اوپر ہے اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنت کی چھت ہے۔
Ayah 52:6

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور ابلتے ہوئے دریا کی5

5 دنیا کے ابلتے ہوئے دریا مراد ہوں، یا وہ عظیم الشان دریا مراد ہو جس کا وجود عرش عظیم کے نیچے اور آسمانوں کے اوپر روایات سے ثابت ہوا ہے۔
Ayahs 52:7–8

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

بیشک عذاب تیرے رب کا ہو کر رہے گا

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

اس کو کوئی نہیں ہٹانے والاف 6

6 یعنی یہ تمام چیزیں جن کی قسم کھائی شہادت دیتی ہیں کہ وہ خدا بہت بڑی قدرت و عظمت والا ہے۔ پھر اس کی نافرمانی کرنے والوں پر عذاب کیوں نہیں آئے گا۔ اور کس کی طاقت ہے جو اس کے بھیجے ہوئے عذاب کو الٹا واپس کر دے گا۔
Ayah 52:9

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن لرزے آسمان کپکپا کر7

7 یعنی آسمان لرز کر اور کپکپا کر پھٹ پڑے گا۔
Ayah 52:10

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پھریں پہاڑ چل کر8

8 یعنی پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔
Ayahs 52:11–12

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

سو خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کو

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو باتیں بناتے ہیں کھیلتے ہوئے9

9 یعنی جو آج کھیل کود میں مشغول ہو کر طرح طرح کی باتیں بناتے اور آخرت کی تکذیب کرتے ہیں۔ ان کے لیے اس روز سخت خرابی اور تباہی ہے۔
Ayahs 52:13–14

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن کہ دھکیلے جائیں دوزخ کی طرف دھکیل کر

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہ ہے وہ آگ جس کو تم جھوٹ جانتے تھے10

10 یعنی فرشتے ان کو سخت ذلت کے ساتھ دھکیلتے ہوئے دوزخ کی طرف لے جائیں گے اور وہاں پہنچا کر کہا جائے گا کہ یہ وہ آگ حاضر ہے جس کو تم جھوٹ جانتے تھے۔
Ayah 52:15

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

اب بھلا یہ جادو ہے یا تم کو نہیں سوجھتا11

11 یعنی تم دنیا میں انبیاء کو جادوگر اور ان کی وحی کو جادو کہا کرتے تھے۔ ذرا اب بتلاؤ کہ یہ دوزخ جس کی خبر انبیاء نے دی تھی کیا واقعی جادو یا نظر بندی ہے یا جیسے دنیا میں تم کو کچھ سوجھتا نہ تھا، اب بھی نہیں سوجھتا۔
Ayah 52:16

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

چلے جاؤ اس کے اندر پھر تم صبر کرو یا نہ صبر کرو تم کو برابر ہے وہی بدلہ پاؤ گے جو کچھ تم کرتے تھے12

12 یعنی دوزخ میں پڑ کر اگر گھبراؤ اور چلاؤ گے، تب کوئی فریاد کو پہنچنے والا نہیں۔ اور بفرض محال صبر کر کے چپ ہو رہو تب تم پر کوئی رحم کھانے والا نہیں۔ غرض دونوں حالتیں برابر ہیں۔ اس جیل خانہ سے نکلنے کی تمہارے لیے کوئی سبیل نہیں۔ جو کرتوت دنیا میں کیے ان کی سزا یہی حبس دوام اور ابدی عذاب ہے۔
Ayahs 52:17–18

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

جو ڈرنے والے ہیں وہ باغوں میں ہیں اور نعمت میں

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

میوے کھاتے ہوئے جو ان کو دیے ان کے رب نے اور بچایا ان کے رب نے دوزخ کے عذاب سے13

13 یعنی جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے تھے۔ وہاں بالکل مامون اور بےفکر ہوں گے۔ ہر قسم کے عیش و آرام کے سامان ان کے لیے حاضر رہیں گے اور یہ ہی انعام کیا کم ہے کہ دوزخ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا۔
Ayahs 52:19–20

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

کھاؤ اور پیو رچتا ہوا بدلہ ان کاموں کا جو تم کرتے تھے

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

تکیہ لگائے بیٹھے تختوں پر برابر بچھے ہوئے قطار باندھ کر1 اور بیاہ دیں ہم نے ان کو حوریں بڑی آنکھوں والیاں

1 یعنی جنتیوں کی مجلس اس طرح ہوگی کہ سب جنتی بادشاہوں کی طرح اپنے اپنے تخت پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے اور ان کی ترتیب نہایت قرینہ سے ہوگی۔
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے اور ان کی راہ پر چلی ان کی اولاد ایمان سے پہنچا دیا ہم نے ان تک ان کی اولاد کو اور گھٹایا نہیں ہم نے ان سے ان کا کیا ذرا بھی2 ہر آدمی اپنی کمائی میں پھنسا ہے3

2 یعنی کاملوں کی اولاد اور متعلقین اگر ایمان پر قائم ہوں اور ان ہی کاموں کی راہ پر چلیں۔ جو خدمات ان کے بزرگوں نے انجام دی تھی یہ بھی ان کی تکمیل میں ساعی ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو جنت میں ان ہی کے ساتھ ملحق کر دے گا۔ گو ان کے اعمال و احوال سے کما وکیفا فروتر ہوں۔ تاہم ان بزرگوں کے اکرام اور عزت افزائی کے لیے ان تابعین کو ان متبوعین کے جوار میں رکھا جائے گا۔ اور ممکن ہے بعض کو بالکل ان ہی کے مقام اور درجہ پر پہنچا دیا جائے جیسا کہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اس صورت میں یہ گمان نہ کیا جائے کہ ان کاملین کی بعض نیکیوں کا ثواب کاٹ کر ذریت کو دے دیا جائے گا۔ نہیں یہ محض اللہ کا فضل واحسان ہوگا کہ قاصرین کو ذرا ابھار کر اوپر کاملین کے مقام تک پہنچا دیا جائے۔ تنبیہ : احقر نے واتبعتھم ذریتھم کا جو مطلب لیا ہے صحیح بخاری کی یہ حدیث اس کے مناسب معلوم ہوتی ہے۔ قالت الانصار یا رسول اللہ ان لکل قوم اتباعا وانا قد اتبعناک فادع اللہ ان یجعل اتباعنا منا۔ قال النبی ﷺ اللھم اجعل اتباعھم منھم۔ 3 اوپر فضل کا بیان تھا یہاں عدل کا ضابطہ بتلادیا یعنی عدل کا مقتضی یہ ہے کہ جس آدمی نے جو کچھ اچھا یا برا عمل کیا ہے اسی کے موافق بدلہ پائے۔ آگے اللہ کا فضل ہے کہ وہ کسی کی تقصیر معاف فرما دے یا کسی کا درجہ بلند کردے۔
Ayah 52:22

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور تار لگا دیا ہم نے ان پر میووں کا اور گوشت کا جس چیز کو جی چاہے4

4 یعنی جس قسم کا گوشت مرغوب ہو اور جس جس میوے کو دل چاہے بلا توقف لگاتار حاضر کیے جائیں گے۔
Ayah 52:23

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

جھپٹتے ہیں وہاں پیالہ نہ بکنا ہے اس شراب میں اور نہ گناہ میں ڈالنا5

5 یعنی شراب طہور کا دور جب چلے گا تو جنتی بطور خوش طبعی کے ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی کریں گے۔ لیکن اس شراب میں محض نشاط اور لذت ہوگی۔ نشہ ' بکواس اور فتور عقل وغیرہ کچھ نہ ہوگا نہ کوئی گناہ کی بات ہوگی۔
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور پھرتے ہیں ان کے پاس چھو کرے ان کے گویا وہ موتی ہیں اپنے غلاف کے اندر6

6 یعنی جیسے موتی اپنے غلاف کے اندر بالکل صاف و شفاف رہتا ہے گردو غبار کچھ نہیں پہنچتا۔ یہ ہی حال ان کی صفائی اور پاکیزگی کا ہوگا۔
Ayahs 52:25–28

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور منہ کیا بعضوں نے دوسروں کی طرف آپس میں پوچھتے ہوئے

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

بولے ہم بھی تھے اس سے پہلے اپنے گھروں میں ڈرتے رہتے

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

پھر احسان کیا اللہ نے ہم پر اور بچا دیا ہم کو لو کے عذاب سے

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

ہم پہلے سے پکارتے تھے اس کو بیشک وہی ہے نیک سلوک والا مہربان7

7 یعنی جنتی اس وقت ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کریں گے اور غایت مسرت و امتنان سے کہیں گے کہ بھائی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھیے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہ کھٹکا برابر لگا رہتا تھا۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ آج اس نے کیسا مامون و مطمئن کردیا کہ دوزخ کی بھاپ بھی ہم کو نہیں لگی۔ ہم اپنے رب کو ڈر کر اور امید باندھ کر پکارا کرتے تھے۔ آج دیکھ لیا کہ اس نے اپنی مہربانی سے ہماری پکار سنی اور ہمارے ساتھ کیسا اچھا سلوک کیا۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

اب تو سمجھا دے کہ تو اپنے رب کے فضل سے نہ جنوں سے خبر لینے والا ہے اور نہ دیوانہ8

8 کفار، حضور ﷺ کو کبھی دیوانہ کہتے، کبھی کاہن، یعنی جنوں اور شیطانوں سے کچھ جھوٹی سچی خبریں لے کردیتے ہیں۔ اتنا نہیں سمجھتے تھے کہ آج تک کسی کاہن اور دیوانے نے ایسی اعلیٰ درجہ کی نصیحتیں اور حکیمانہ اصول، اس طرح کے صاف، شستہ اور شائستہ طرز میں بیان نہیں کیے ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ آپ ﷺ ان کو بھلا برا سمجھاتے رہیے اور پیغمبرانہ نصیحتیں کرتے رہیے۔ ان کی بکواس سے دل گیر نہ ہوں۔ جب اللہ کے فضل و رحمت سے نہ آپ کاہن ہیں نہ مجنون بلکہ اسکے مقدس رسول ہیں تو نصحیت کرتے رہنا آپ ﷺ کا فرض منصبی ہے۔
Ayah 52:30

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں یہ شاعر ہیں ہم منتظر ہیں اس پر گردش زمانہ کے9

9 یعنی پیغمبر جو اللہ کی باتیں سناتا اور نصیحت کرتا ہے۔ کیا یہ لوگ اس لیے قبول نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کو محض ایک شاعر سمجھتے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ جس طرح قدیم زمانہ کے بہت سے شعراء گردش زمانہ سے یونہی مر مرا کر ختم ہوگئے ہیں، یہ بھی ٹھنڈے ہوجائینگے۔ کوئی کامیاب مستقبل ان کے ہاتھ میں نہیں۔ محض چند روز کی وقتی واہ واہ ہے اور بس۔
Ayah 52:31

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

تو کہہ تم منتظر رہو کہ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں10

10 یعنی اچھا تم میرا انجام دیکھتے رہو۔ میں تمہارا دیکھتا ہوں۔ عنقریب کھل جائے گا کہ کون کامیاب ہے، کون خائب و خاسر۔
Ayah 52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں یہی سکھلاتی ہیں ان کو یا یہ لوگ شرارت پر ہیں11

11 یعنی پیغمبر کو مجنون کہہ کر گویا اپنے کو بڑا عقلمند ثابت کرتے ہیں۔ کیا ان کی عقل و دانش نے یہ ہی سکھلایا ہے کہ ایک انتہائی صادق، امین، عاقل و فرزانہ اور سچے پیغمبر کو شاعر یا کاہن یا دیوانہ قرار دے کر نظر انداز کردیا جائے۔ اگر شاعروں اور پیغمبروں کے کلام میں تمیز بھی نہیں کرسکتے تو کیسے عقلمند ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دل میں سمجھتے سب کچھ ہیں مگر محض شرارت اور کجروی سے باتیں بناتے ہیں۔
Ayahs 52:33–34

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

یا کہتے ہیں یہ قرآن خود بنا لایا کوئی نہیں پر وہ یقین نہیں کرتے

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

پھر چاہیے کہ لے آئیں کوئی بات اسی طرح کی اگر وہ سچے ہیں1

1 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ پیغمبر جو کچھ سنا رہا ہے وہ اللہ کا کلام نہیں ؟ بلکہ اپنے دل سے گھڑ لایا ؟ اور جھوٹ موٹ خدا کی طرف منسوب کردیا ؟ سو نہ ماننے کے ہزار بہانے۔ جو شخص ایک بات پر یقین نہ رکھے اور اسے تسلیم نہ کرنا چاہے وہ اسی طرح کے بےسروپا احتمالات نکالا کرتا ہے ورنہ آدمی ماننا چاہے تو اتنی بات سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ دنیا کی تمام طاقتوں کو اکٹھا کر کے بھی اس قرآن کا مثل نہیں لاسکتے۔ اور جیسے خدا کی زمین جیسی زمین، اور اس کے آسمان جیسا آسمان بنانا کسی سے ممکن نہیں، اس کے قرآن جیسا قرآن بنا لانا بھی محال ہے۔
Ayahs 52:35–36

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا وہ بن گئے ہیں آپ ہی آپ یا وہی ہیں بنانے والے

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا انہوں نے بنایا آسمانوں کو اور زمین کو، کوئی نہیں پر وہ یقین نہیں کرتے2

2 یعنی پیغمبر خدا کی بات کیوں نہیں مانتے۔ کیا ان کے اوپر کوئی خدا نہیں جس کی بات ماننا ان کے ذمہ لازم ہو۔ کیا بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا خود اپنے آپ کو خدا سمجھتے ہیں ؟ یا یہ خیال ہے کہ آسمان و زمین ان کے بنائے ہوئے ہیں لہذا اس قلم رو میں جو چاہیں کرتے پھریں، کوئی ان کو روکنے ٹوکنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ سب خیالات باطل اور مہمل ہیں۔ وہ بھی دلوں میں جانتے ہیں کہ ضرور خدا موجود ہے جس نے ان کو اور تمام زمین و آسمان کو نیست سے ہست کیا۔ مگر اس علم کے باوجود جو ایمان و یقین شرعاً مطلوب ہے اس سے محروم اور بےبہرہ ہیں۔
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان کے پاس ہیں خزانے تیرے رب کے یا وہی داروغہ ہیں3

3 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ زمین و آسمان گو خدا کے بنائے ہوئے ہیں مگر اس نے اپنے خزانوں کا مالک ان کو بنادیا ہے ؟ یا اس ملک اور خزانوں پر انہوں نے زور سے تسلط اور قبضہ حاصل کرلیا ہے۔ پھر ایسے صاحب تصرف و اقتدار ہو کر وہ کسی کے مطیع و منقاد کیوں بنیں۔
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر سن آتے ہیں تو چاہیے لے آئے جو سنتا ہے ان میں ایک سند کھلی ہوئی4

4 یعنی کیا یہ دعویٰ ہے کہ وہ زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جاتے اور وہاں سے ملاء اعلیٰ کی باتیں سن آتے ہیں۔ پھر جب ان کی رسائی براہ راست اس بارگاہ تک ہو تو کسی بشر کا اتباع کرنے کی کیا ضرورت رہی۔ جس کا یہ دعویٰ ہو تو بسم اللہ اپنی سند اور حجت پیش کرے۔
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اس کے یہاں بیٹیاں ہیں اور تمہارے یہاں بیٹے5

5 یعنی کیا (معاذ اللہ) خدا کو اپنے سے گھٹیا سمجھتے ہیں جیسا کہ بیٹے اور بیٹیوں کی اس تقسیم سے مترشح ہوتا ہے اور اس لیے اس کے احکام و ہدایات کے سامنے سر تسلیم جھکانا اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا تو مانگتا ہے ان سے کچھ بدلہ، سو ان پر تاوان کا بوجھ ہے6

6 یعنی کیا یہ لوگ آپ کی بات اس لیے نہیں مانتے کہ خدا نکردہ آپ ان سے اس ارشاد و تبلیغ پر کوئی بھاری معاوضہ طلب کر رہے ہیں جس کے بوجھ سے وہ دبے جاتے ہیں۔