52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 52:1–16

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

( کوہ) طور کی قسم

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

کشادہ اوراق میں

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور ابلتے ہوئے دریا کی

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ تمہارے پروردگار کا عذاب واقع ہو کر رہے گا

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

(اور) اس کو کوئی روک نہیں سکے گا

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ اڑنے لگیں اون ہو کر

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو خوض (باطل) میں پڑے کھیل رہے ہیں

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن ان کو آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کرلے جائیں گے

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

تو کیا یہ جادو ہے یا تم کو نظر ہی نہیں آتا

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

اس میں داخل ہوجاؤ اور صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لئے یکساں ہے، جو کام تم کیا کرتے تھے (یہ) انہی کا تم کو بدلا مل رہا ہے

1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے دریا آگ ہوجائیں اور آیت اذا البحار سجرت سے اس تفیرج کی تائید بھی ہوتی ہے۔ اس قسم کے بعد فرمایا کہ جس نافرمانی کی حالت میں یہ لوگ ہیں۔ اسی حالت میں جو لوگ ان میں سے مرجائیں گے تو جس عذاب کا ان لوگوں سے وعدہ ہے وہ ضرور قیامت کے دن اس طرح ان کو بھگتنا پڑے گا کہ اس عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ پھر فرمایا جس دنیا کی زندگی کے بھروسہ پر انسان اس عذاب سے غافل ہے وہ دنیا ہمیشہ رہنے کی چیز نہیں ہے بلکہ آسمان پہاڑ جو آج ایسے مضبوط نظر آتے ہیں پہلا صور شروع ہوتے ہی آسمان پہلے لرزنے لگے گا پھر پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اڑ جائے گا۔ پہاڑ اڑتے پھریں گے پھر فرمایا اس دن حشر کے جھٹلانے والوں اور دین کی باتوں کو کھیل تماشا ٹھہرانے والوں کی بڑی کم بختی ہے کہ دوزخ میں دھکیل کر اللہ کے فرشتے ان سے یہ کہیں گے اب خوب آنکھیں کھول کر اس آگ کو دیکھو جس سے ڈرانے کی نصیحت کو تم جھٹلاتے اور جادو بتاتے تھے۔ اب اس آگ میں تم کو چیخنا چلانا یا اس کی تکلیف پر صبر کرکے بیٹھ رہنا سب برابر ہے اور تم کو جو سزا ملی ہے کچھ بلا سبب نہیں ہے بلکہ دنیا میں جو تم نافرمانی کرتے تھے یہ اس کا خمیازہ ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے احکام دین کو مینہ سے اور امت کے لوگوں کو زمین سے تشبیہ دی ہے اور زمین کی تیں قسمیں فرمائی ہیں۔ ایک کھیتی اور باغات کی زمین جس کو مینہ سے یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ اس میں طرح طرح کے اناج اور میوہ جات پیدا ہوتے ہیں اور پھر ان اناج کے بیج اور میووں گٹھلیوں سے آگے پیداوار کا سلسلہ چلتا ہے۔ دوسرے وہ نشیب کی زمین جس میں پانی اکٹھا ہو کر چشمے اور تالاب ہوجاتے ہیں اور ان سے آدمیوں اور جانروں کی طرح طرح کا فائدہ پہنچتا ہے تیسرے وہ سخت زمین جس میں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں بلکہ اس میں جو مینہ برستا ہے وہ رائیگاں جاتا ہے علماء نے کہا کہ زمین کی پہلی دو قسموں سے امت کے وہ لوگ مقصود ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی ہدایت سے سلسلہ بہ سلسلہ خود بھی نفع دینی حاصل کیا اور لوگوں کو بھی نفع دینی پہنچایا۔ بعضوں نے علم دینی کی تعلیم سے وہ بیج بویا جس کا سلسلہ اناج کے بیج اور میوہ کی گٹھلیوں کی طرح قیامت تک چلے گا۔ بعضوں نے علم دین کی کتابیں تصنیف کرکے ان کتابوں کو ایک چشمہ فیض بنایا۔ تیسرے قسم سے وہ لوگ مقصود ہیں جن کے دنیا میں پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں یہ جان لیا تھا کہ کوئی آسمانی کتاب رسولوں کی نصیحت ان لوگوں کے دل پر اگر نہ کرے گی۔ اور آخر کار اپنی نافرمانی کی سزا میں یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے ان آیتوں میں ان میں سے تیسری قسم کے لوگوں کے انجام کا ذکر ہے اور یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب المعراج ص 548 ج 1۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب الاسراء برسول اللہ ﷺ ص 91 ج 1۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب فضل منعلم و علم ص 18 ج 1 و صحیح مسلم باب مثل مابعث بہ النبی ﷺ الخ ص 247 ج 2۔ )
Ayahs 52:17–20

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال، اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالیا

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

اپنے اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

تختوں پر جو برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کو ہم ان کا رفیق بنادیں گے

17۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا اہل جنت کے لئے یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ ان کی توحید کے طفیل سے اللہ تعالیٰ ان کے کم تر درجہ کے گناہ معاف فرما کر ان کو جنتی بنا دے گا۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی عبد اللہ بن عمر کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا کہ جس طرح تمہارے گناہوں کو دنیا میں میں نے لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا آج بھی میں تمہارے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں اس لئے جنت کی نعمتوں میں اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچانے کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ سرر مصفوفہ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے چھپر کھٹ کے کئے ہیں صحیح مسلم 2 ؎ اور ترمذی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی علیہ اللہ وسلم نے فرمایا جب جنتی لوگ جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ پکار کر یہ کہے گا اے اہل جنت اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہوگئے ہمیشہ زندہ رہوں گے کبھی مرو گے نہیں۔ ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے جنت کی نعمتوں کے باب میں ابوہریرہ ؓ کی صحیحین 3 ؎ کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ وہ نعمتیں نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں۔ نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے غرض نعمتیں وہ جن کا بیان نہیں ہوسکتا ان کی ہمیشگی وہ جس کی انتہا نہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جب جنت نصیب کرے گا اس وقت ان نعمتوں کی تفصیل معلوم ہوگی اب تو زبان اور قلم ان کے بیان سے عاجز ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب ستر المومن علی نفسہ ص 896 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص 380 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص 378 ج 2۔ )
Ayahs 52:21–23

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہِ ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہوا ہے

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹ لیا کریں گے، جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہوگی نہ گناہ کی بات

21۔ 23۔ عقبیٰ میں ماں باپ سے اولاد کو اور اولاد سے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فائدہ پہنچائے گا چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور طبرانی 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اس آیت کی تفسیر یوں ہے کہ قیامت کے دن بعض جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور بی بی بچوں کا حال فرشتوں سے پوچھیں گے کہ وہ سب کہاں ہیں فرشتے کہیں کے ان کے اعمال اس قابل نہ تھے کہ اس درجہ کی جنت میں وہ داخل ہوتے یہ جنتی لوگ اللہ سے دعا کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک جگہ اعلیٰ درجہ کی جنت میں اکٹھا کر دے گا۔ طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الرحمن بن غزوان ضیفد ہے۔ لیکن یہ روایت مسند 2 ؎ بزار میں بھی ہے اس میں یہ راوی نہیں ہے۔ اس بزار کی روایت اور ابن ابی حاتم کی روایت سے طبرانی کی سند کا ضعف بھی ہلکا ہوجاتا ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد 3 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعض جنتی لوگوں کا درجہ ایک ایک ہی بڑھ جائے گا وہ لوگ کہیں گے یا اللہ ہمارے اعمال تو اس قابل نہ تھے یہ ہمارا درجہ کیونکر بڑھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہاری اولاد نے تمہارے حق میں دعا کی تھی اس لئے تمہارا درجہ بڑھا ہے۔ جس شخص کے تین یا دو نابالغ بچے مرجائیں اس کا جنتی ہونا اوپر حضرت حضرت ابوہریرہ کی صحیحین اور صحیح 4 ؎ مسلم کی حدیث میں گزر چکا ہے اور مسند امام 5 ؎ احمد اور ابو داؤود کی حضرت معاذجہنی کی حدیث بھی اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن کی اولاد قرآن شریف پڑھ کر اس کی موافق عمل کرے گی ان کے ماں باپ کے سروں پر قیامت کے دن ایسا تاج رکھا جائے گا جس کی روشنی آفتاب سے بڑھ کر ہوگی اب آگے ماں باپ کی یہ تسلی بھی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جنتی ماں باپ کی اولاد کو یہ درجہ محض اپنی رحمت سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں میں سے کوئی عمل نہ گھٹایا جائے گا۔ معتبر سند سے تفسیر عبد الرازق اور تفسیر ابن ابی حاتم میں امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس کا جو قول ہے اس کے موافق آیت کے یہی معنی ہیں جو بیان کئے گئے ہر آدمی اپنی کمائی میں پھنسا ہے کا یہ مطلب ہے کہ ہر شخص کا عمل اس کے ساتھ ہے اگر نیک عمل ہے تو نجات کا سبب ہے ورنہ ہلاک کا۔ مسند 7 ؎ امام احمد اور ابو دائود میں معتبر سند سے براء بن عازب کی ایک بڑی حدیث ہے۔ اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد نیک شخص کی قبر میں ایک اچھی صورت کا آدمی آتا ہے اور کہتا ہے میں تیرا نیک عمل ہوں۔ یہ شخص اپنی عمل کی حالت سے خوش ہو کر قیامت کے جلدی قائم ہونے کے ہر وقت دعا مانگتا رہتا ہے اور بد لوگوں کا حال قبر میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ سورة مدثر میں آئے گا کہ جن کے نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ اپنے نیک عمل کے سبب رہائی پائیں گے۔ اور سیدھے ہاتھ کے اعمال نامے والے حساب و کتاب اور وزن اعمال تک ایک حالت منتظرہ میں رہ کر پھر جنت میں چلے جائیں گے غرض یہ ہے کہ ایک آیت مختصر ہے اور دوسری آیت مفصل۔ دونوں آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔ بیہقی 1 ؎ نے نے معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت بیان کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے میوے جنت کے کھانے جنت کی شراب غرض جنت کی سب چیزیں دنیا کی سب چیزوں سے بالکل مزہ میں الگ ہیں۔ دنیا کی چیزوں سے فقط ان کے نام ملتے ہوئے ہیں اسی لئے جنت کے میوے اور کھانے وغیرہ کو دنیا کے میوے اور کھانے سے تشبیہ دے کر کوئی تفسیر نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا کہ دنیا کی شراب پینے کے بعد جس طرح آدمی کی عقل ٹھکانے نہیں رہتی اور بےہودہ باتیں اس کے منہ سے نکلنے لگتی ہیں جنت کی شراب میں یہ بات نہیں ہے جام شراب کا دور پر دور چلے گا اور کبھی کوئی بےہودہ بات کسی جنتی کے منہ سے نہ نکلے گی۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 242 ج 4۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 242 ج 4۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 242 ج 4۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم باب فضل من یموت لہ ولد فیحتسبہ ص 330 ج 2۔ ) (5 ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب فضائل القرآن۔ فصل ثانی ص 186۔ ) (6 ؎ تفسیر ابن کثر ص 341 ج 4۔ ) (7 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فیما یقال عند من حضرۃ الموت فصل ثالث ص 142۔ ) (1 ؎ الترغیب و الترہیب۔ فضل فی ان اعلیٰ مایخطر علی البال اویجوزہ العقل الخ ص 1039 ج 4۔ )
Ayahs 52:24–28

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور نوجوان خدمتگار (جو ایسے ہوں گے) جیسے چھپائے ہوئے موتی ان کے آس پاس پھریں گے

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے آپس میں گفتگو کریں گے

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے تھے

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

تو خدا نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے، بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے

24۔ 28۔ جو موتی کام میں لایا جائے وہ ذرا میلا ہوجاتا ہے ان غلاموں کا رنگ ایسا آبدار ہوگا جس طرح بےکام میں لایا ڈبیا میں رکھا ہوا موتی آبدار ہوتا ہے۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ مشرکوں کے نابالغ بچے جو مرجاتے ہیں یہ وہی ہیں لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ جنت میں اگرچہ غلام اور خدمت گار کی کچھ ضرورت نہیں وہاں سب کام اللہ کے حکم سے خود ہوجایا کریں گے لیکن عزت اور احتشام بڑھانے کے لئے ادنیٰ اہل جنت کو اسی ہزار غلام دیئے جائیں گے چناچہ ترمذی میں 1 ؎ ابو سعید خدری کی حدیث میں اس کا ذکر ہے اگرچہ ترمذی نے اس سند میں رشدین بن سعد کو منفرد کہا ہے جو بعض علماء کے نزدیک ضعیف ہے لیکن صحیح ابن حبان کی سند میں رشدین نہیں ہے۔ اب آگے یہ ذکر ہے کہ یہ متقی لوگ دنیا میں عذاب سے ڈرا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے اس عذاب سے بچانے کی دعا کیا کرتے تھے اس حالت کو یاد کرکے جنت میں اس کا تذکرہ یوں آپس میں کریں گے کہ اللہ بڑا غفور الرحیم ہے کہ اس نے ہماری دنیا کی وہ التجا سن لی اور ہم کو عذاب آخرت سے بچا لیا۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بندوں کا ذکر الٰہی سننے کو جو فرشتے زمین پر آتے ہیں جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں یا اللہ تیرے بندے دوزخ کے عذاب سے خوفزدہ ہو کر اس عذاب سے تیری پناہ چاہ رہے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے ان کو عذاب آخرت سے اپنی پناہ دی۔ حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت کا اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص عذاب آخرت سے دنیا میں ڈرتا رہے گا اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کو عذاب سے بچائے گا۔ (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء مالا دنی اھل الجنۃ من الکرامۃ ص 93 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب فضل ذکر اللہ تعالیٰ ص 948 ج 2 و صحیح مسلم فضل مجالس الذکر ص 344 ج 2۔ )
Ayahs 52:29–34

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر ! ) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا کافر کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے (اور) ہم اس کے حق میں زمانے کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

کہہ دو کہ انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں ؟ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا (کفار) کہتے ہیں کہ ان پیغمبر نے قرآن کو از خود بنالیا ہے، بات یہ ہے کہ یہ (خدا پر) ایمان نہیں رکھتے

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا تو لائیں

29۔ 34۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایتیں ہیں کہ موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے اہل مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھا دیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ دیوانے ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو۔ بلکہ تم اللہ کے کلام کے موافق عام لوگوں کو نصیحت کرتے جاؤ یہ لوگ جھوٹے ہیں اللہ نے اپنے فضل سے تم کو نبوت کی نعمت دی ہے۔ تم اللہ کے رسول ہو۔ عرب میں شاعر بہت ہوتے تھے اور عرب کا یہ بھی ایک دستور تھا کہ ہجو کے ڈر سے شاعروں کے منہ پر ان کی مذمت نہیں کیا کرتے تھے بلکہ جن شاعروں کو مخالف سمجھتے تھے ان شاعروں کی موت کی تمنا کیا کرتے تھے۔ قریش آنحضرت ﷺ کو شاعر خیال کرکے اپنی قوم کے دستور کے موافق آپ کی وفات کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اس لئے فرمایا کہ اپنے گمان میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑا عقل مند گنتے ہیں ان کی عقل میں اتنی بات نہیں آتی کہ یہ اللہ کا کلام نہ ہوتا تو یہ لوگ جو عرب کے فصیح لوگوں میں کہلاتے ہیں اس کے موافق کچھ کلام بنانے سے عاجز کیوں ہوجاتے اور یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ غیب کا یہ حال تو کسی کو معلوم نہیں کہ کس کی موت کب آنے والی ہے لیکن اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے یہ کہہ دو کہ تم لوگ میری موت کا انتظام کرو میں تمہاری موت کا انتظار کرتا ہوں ‘ انجام ہر ایک کا معلوم ہوجائے گا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اللہ کے رسول کی موت کے انتظار کرنے والے بدر کی لڑائی میں ختم ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کے بعد اپنے رسول کی جو مدد کی اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسلام کی جو کچھ ترقی ہوئی وہ ظاہر ہے عرب میں مکہ کے لوگ بڑے عقل مند کہلاتے تھے اس لئے یہ بھی فرمایا کہ ان کی عقلوں نے یہی ان کی رہبری کی ہے کہ یہ دیوانوں کی سی باتیں کرتے ہیں کبھی اللہ کے رسول کو دیوانہ کہتے ہیں اور کبھی شاعر حالانکہ دیوانہ وہ ہے جو معمولی باتیں بھی ڈھنگ سے نہیں کرتا اور شاعر غیر معمولی دور دور کی باتوں کی تک بندی کرتا ہے پھر فرمایا کہ شیطان کے بہکانے سے بہک کر یہ لوگ حد سے زیادہ سرکش ہوگئے اور مر کر پھر جینے کا ان کو یقین نہیں ‘ اس واسطے یہ لوگ ایسی خلاف عقل باتیں کرتے ہیں کاہن جاہلی زمانہ میں وہ لوگ تھے جو جنات کی نذر نیا کرتے تھے اور وہ جنات چوری سے آسمان پر کی کچھ باتیں سن کر ان کاہنوں سے آ کر کہہ دیتے تھے اور وہ آئندہ کی جھوٹ سچ خبریں لوگوں کو بتایا کرتے تھے۔