Ayahs 51:1–141۔ 14۔ الذاریات ‘ الحاملات ‘ الجاریات ‘ المقسمات ‘ یہ سب صفتیں ہیں جن کے موصوف کا کلام الٰہی میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ اسی واسطے بعض مفسروں نے کچھ موصوف قرار دیا ہے اور بعض نے کچھ ‘ لیکن سلف کا زیادہ مشہورقول یہ ہے کہ ذریت کا موصوف وہ تیز ہوا ہے جو مینہ سے پہلے بادلوں کو اکٹھا کرتی ہے حملت کاموصوف وہ بادل ہے جس میں پانی کا بوجھ ہو ‘ جاریات وہ کشتیاں جو منیہ برسنے کے بعد دریا اور ندی نالوں میں چلتی ہیں ‘ جن سے تجارت ہوتی ہے۔ مقسمت کے موصوف وہ فرشتے ہیں جو تمام شہروں میں مینہ کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ 2 ؎ اس قسم کے بعد یہ فرمایا کہ حشر اور اس دن کی جزا و سزا کا وعدہ جو اللہ کے رسول نے لوگوں سے کیا ہے وہ ایسا ایک سچا وعدہ ہے جس میں کچھ شک نہیں ہے۔ پھر آسمان کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ اہل مکہ قرآن کے جھٹلانے میں کوئی ٹھکانے کی بات نہیں کہتے۔ بےٹھکانی باتیں بناتے ہیں ورنہ سمجھ دار کے لئے تو قرآن میں وہ نصیحتیں ہیں کہ سوائے بدبخت ازلی کے اور سب پر ان نصیحتوں کا اثر پڑتا ہے پھر فرمایا کہ جو لوگ دنیا کی پیدائش پر غور ہیں کرتے کہ جب سزا و جزا نہیں تو پھر آخر یہ دنیا کا اتنا بڑا کارخانہ کس لئے پیدا کیا گیا ہے بلکہ بجائے اس کام کی بات پر غور کرنے کے دنیا کے مال و متاع کی غفلت اور بھول میں پھنس کر حشر کے باب میں یہ لوگ طرح طرح کی اٹکلیں دوڑاتے ہیں اور مسخرا پن سے پوچھتے ہیں کہ وہ سزا و جزا کا دن کب ہے۔ ایسے لوگوں پر خدا کی پھٹکار ہے اور وہ اللہ کے علم ازلی میں دوزخی قرار پا چکے ہیں۔ اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کو اتنا ہی جواب دیا جائے کہ یہ سزا کا دن جب ہوگا کہ ایسے لوگ آگ میں جلیں گے اور اللہ کے فرشتے ان کو ذلیل کرنے کے لئے یہ کہیں گے کہ مسخرا پن سے جس عذاب کی دنیا میں تم لوگ جلدی کیا کرتے تھے سو آج اس عذاب کا مزہ چکھو۔ صحیح 1 ؎ مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے آسوہ حال نافرمان لوگوں سے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے پوچھیں گے کہ دنیا کی جس آسودہ حالی نے تم کو دین سے غافل کرکے اس عذاب میں گرفتار کردیا اس عذاب کے آگے وہ آسودہ حالی کچھ تم کو یاد ہے یا نہیں۔ وہ لوگ قسم کھا کر کہیں گے کہ نہیں یہ حدیث فی غمرۃ ساھون کی گویا تفسیر ہے کیونکہ آیت میں اس آسودہ حالی کی مذمت ہے جو دین سے آدمی کو غافل کر دے اور حدیث میں یہ صراحت ہے کہ یہ مذمت کچھ دنیا میں ہی نہیں بلکہ عقبیٰ میں بھی اللہ کے فرشتے اس کا اولاہنا دیں گے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق حبک کے معنی آسمان کی خوبصورتی اور ہمواری 2 ؎ کے ہیں۔ بعض سلف کا قول ہے کہ پانی یا ریت میں ہوا سے خانے خانے پڑ کر ایک جالی جو ہوجاتی ہے اس کو حبک 3 ؎ کہتے ہیں ترجمہ میں یہی قول لیا گیا ہے۔
(1 ؎ جامع ترمذی ابواب العلم ص 109 جلد 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم بیان کون النھی عن المنکر من الایمان الخ ص 50 ج 1۔ )
(1 ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب العلم ص 37۔ 38 ملاحظہ فرمائیں۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 231 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر 232 ج 4۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر 232 ج 4۔ )
Ayahs 51:15–2315۔ 23۔ اوپر اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ادنیٰ درجہ کا متقی وہ ہے جو شرک اور ریاکاری سے باز رہے اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے امر و نہی کا جو شخص جس قدر پابند ہوگا اسی قدر اس کا مرتبہ متقیوں میں ہوگا پاتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نیک عملوں کی جزا میں اللہ تعالیٰ نے جو بےحساب جنت کی نعمتیں ان کو عنایت فرمائیں وہ انہوں نے بھر پائیں اور وہ لوگ ان نعمتوں سے خوش اور راضی ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی کی ابو سعید کی حدیث ایک جگہ ذکر کی جا چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھے گا کہ تمہارے عملوں کی جزا سے بڑھ کر اپنی رحمت سے جو نعمتیں میں نے تم کو دیں ان سے تم خوش ہو وہ کہیں گے کہ یا اللہ ہم بہت خوش ہیں۔ یہ ٹکڑا اس حدیث کا آیت کے ٹکڑے کی پوری تفسیر ہے۔ بعض مفسروں نے آیت کے اس ٹکڑے کے اور معنی بھی بیان کئے ہیں لیکن صحیح حدیث کے موافق صحیح معنی آیت کے یہی ہیں جو بیان کئے گئے ہیں وہ تھے اس سے پہلے نیکی والے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ریا کاری سے بچ کر خالص عقبیٰ کے ثواب کی نیت سے نیک عمل کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں ان کو جنت ملی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم کی حضرت عمر کی حدیث مشہور ہے جس میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سائل بن کر چند مسئلے پوچھے ہیں اور آنحضرت ﷺ نے ان کے جوابات میں احسان کے یہ معنی بتائے ہیں کہ عبادت کے وقت یا تو آدمی یہ خیال کر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے ورنہ کم سے کم اتنا خیال تو چاہئے کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے اسی لئے آیت میں محسنین کا لفظ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ قابل قبول عبادت میں بغیر ریا کاری کے خالص عقبیٰ کے ثواب کی نیت ضروری ہے۔
ابو دائود 3 ؎ اور نسائی میں معتبر سند سے ابو امام کی حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ بغیر عقبیٰ کے ثواب کی خالص نیت کے کوئی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ وہ تھے رات کو تھوڑا سوتے کا مطلب یہ کہ رات کو سونا کم اور عبادت بہت یہ ان لوگوں کی دنیا میں عادت تھی صحیح 4 ؎ بخاری و مسلم و نسائی اور ابو داؤود میں عمرو بن العاص سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو دائود (علیہ السلام) کی عبادت کا طریقہ بہت پسند تھا۔ پھر فرمایا۔ دائود (علیہ السلام) رات کا چوتھائی حصہ عبادت میں گزار کرتے تھے مسلم 5 ؎ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص نے دائود (علیہ السلام) کی عبادت کا حال آنحضرت ﷺ سے سن کر یہ کہا کہ مجھ میں اس سے افضل عبادت ادا کرنے کی طاقت ہے ‘ آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں اس سے افضل طریقہ عبادت کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے چوتھائی حصہ رات کا عبادت میں گزارا تو اس کے حق میں یہ کہا جائے گا کہ وہ رات کو سویا کم اور افضل مرتبہ عبادت کا اس نے ادا کرلیا۔ صبح کے وقتوں میں معافی مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی رات سے لے کر صبح صادق تک خاص طور پر قبولیت کے وقت میں یہ لوگ اپنے گناہوں کی معافی دنیا میں اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو معاف کردیا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تیسرا حصہ رات کا باقی رہتا ہے تو ہر رات کو اللہ تعالیٰ اول آسمان پر نزول فرما کر ارشاد فرماتا ہے کون توبہ استفغار کرتا ہے تاکہ میں اس کی مغفرت کروں۔ اس حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے اس ٹکڑے کی تفسر ہے کیونکہ آیت میں صبح کی استغفار کی تعریف کی گی ہے اور حدیث میں اس تعریف کا سبب سمجھایا گیا ہے ان کے مال میں حصہ تھا مانگتے اور ہارے کا اس کا مطلب یہ ہے کہ سوا عبادت بدنی کے مالی عبادت بھی ان لوگوں کی عادت تھی۔ یہ نفلی صدقہ کا ذکر ہے کیونکہ یہ سورة مکی ہے اور زکوٰۃ اکثر سلف کے نزدیک مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔ طبرانی کبیر 2 ؎ میں معتبر سند سے ابو امامہ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا چھپا کر صدقہ خیرات کا کرنا ‘ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے سائل وہ ہے جو سوال کرے اور محروم وہ ہے جو باوجود تنگ دست ہونے کے لحاظ کے مارے کسی سے سوال نہ کرے۔ اوپر سے حشر کا جو ذکر تھا اب آگے اس سلسلہ کو پورا کرنے کے لئے فرمایا کہ جو صاحب قدرت آسمان سے مینہ برسا کر زمین سے مثلاً ایک اناج کے دانے سے ہزاروں دانے اور ایک میوے کی گٹھلی سے ہزاروں میوے کی چیزیں پیدا کرتا ہے اور جس نے خلاف عقل ایک بوند پانی سے انسان کو پیدا کرکے بچہ سے بڑھاپے تک اس میں طرح طرح کے نمونے رکھے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ یہ سب باتیں ایسے لوگوں کے لئے پوری حشر کی نشانیاں ہیں جو علم ازلی الٰہی میں حق بات پر یقین لانے والے ٹھہرے ہیں۔ ہاں علم ازل الٰہی میں جو گمراہ قرار پا چکے ہیں وہ ان سب نشانیوں کو آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر بھی طرح طرح کے شک و شبہ میں رہیں گے اور اسی حالت میں مر کر آخر کو دوزخی ہو کر اٹھیں گے۔ معتبر سند سے مسند 3 ؎ امام احمد میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث منکر نکیر کے سوال و جواب کے ذکر میں ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قبر میں جو نیک شخص اللہ کے فرشتوں کے سوال کا اچھی طرح جواب ادا کردیتا ہے تو وہ فرشتے اس شخص سے کہتے ہیں اے شخص تو دنیا میں دین کی باتوں کو یقین جان کر اپنی زندگی بستر کرتا تھا جس یقین کے سبب سے تو دین کی باتوں سے غافل نہیں رہا اور اسی یقین کی حالت پر تو مرا۔ اب انشاء اللہ تعالیٰ اسی حالت پر تو قیامت کے دن قبر سے اٹھے گا جو شخص ان فرشتوں کا جواب اچھی طرح نہیں دیتا اس سے وہ فرشتے ہیں تو شک کی حالت میں جیا اور مرا ‘ اور اسی حالت میں تو قیامت کے دن قبر سے اٹھے گا۔ جن اہل یقین کا آیت میں ذکر وے ان کی حالت کی اور ان کے مقابل اہل شک کی حدیث کے اس ٹکڑے میں تفسیر ہے۔ پھر قسم کھا کر فرمایا کہ جس طرح تم لوگ آپس میں بات چیت وعدہ و عید کرتے ہو اور اس پر دنیا کے ہر طرح کے معاملات چلاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو جزا و سزا کا وعدہ تم سے کیا ہے اس پر اگر تم اپنی آپس کی باتوں کے برابر بھی بھروسا کرو گے تو عقبیٰ کی طرف سے یہ غفلت جو تمہارے دل پر چھائی ہوئی ہے وہ جاتی رہے گی اور عقبیٰ کے درست کرنے کا خیال تمہارے دل میں جم جائے گا اور اللہ کے ساتھ تمہارا معاملہ اچھا ہوجائے گا۔ ورنہ مرنے کے بعد وہ تکلیف اٹھانی پڑے گی جو بیان سے باہر ہے ترمذی 1 ؎ وغیرہ میں ابی بکرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت نیک آدمی کی کیا علامت ہے آپ نے فرمایا جس کی عمر بڑی ہو اور نیک کاموں میں مشغول رہے اور بد آدمی وہ ہے جو اس حالت کے برخلاف ہو۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا ص 378 ج 2 و صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص 969 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان ص 27 ج 2۔ )
(3 ؎ الترغیب والترہیب باب اترغیب فی الاخلاص والصدق الخ ص 36 ج 1۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری باب احب الصلوٰۃ الی اللہ صلوٰۃ دائود ص 486 ج 1۔ )
(5 ؎ صحیح مسلم باب نھی عن صوم الدھر الخ ص 365 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب صلوۃ اللیل الخ ص 258 ج 1 و صحیح بخاری باب الدعاء والصلوٰۃ اخر اللیل الخ ص 153 ج 1۔ )
(2 ؎ الترغیب والترہیب باب الرغیب فی صدقۃ السر ص 39 ج 2۔ )
(3 ؎ الترغیب والترہیب باب ما جاء فی عذاب القبر و نعیمہ الخ ص 698 ج 4۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی طول العمر للمومن ص 68 ج 2۔ )
Ayahs 51:24–3024۔ 30۔ یہ قصہ سورة ہود اور سورة حجر میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جبرئیل و میکائیل و اسرافیل (علیہم السلام) آدمی کی صورت میں مہمانوں کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے پہل ان کو نہیں پہچانا کہ یہ فرشتے ہیں ‘ اس واسطے اپنی مہمان نوازی کی عادت کے موافق ان کے رو برو کھانا لا رکھا جب ان مہمانوں نے کھانا نہ کھایا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جی میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ جب یہ کھانا نہیں کھاتے تو کسی ضرر کے ارادہ سے آئے ہیں۔ اللہ کے فرشتوں نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو خوف زدہ پا کر کہا کہ نبی اللہ کے تم کچھ خوف نہ کرو۔ یہ کہہ کر پھر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو اسحاق ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی۔ مجاہد کی روایت کے حوالہ سے بعض تفسیروں 3 ؎ میں یہ جو لکھا ہے کہ یہ خوش خبری حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی تھی۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ اور وہاں قرآن شریف میں صاف حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا نام آچکا ہے۔ پھر قرآن شریف کے مخالف کوئی تفسیر کیونکر مقبول ہوسکتی ہے غرض صحیح تفسیر یہی ہے کہ سورة و الصفت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نیک اولاد کی دعا کے بعد جو خوش خبری ہے وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوش خبری ہے اور یہ خوش خبری پہلی خوش خبری کے چودہ برس کے بعد ہے اس خوش خبری کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو برس کی تھی۔ اور آپ کی بی بی سارہ کی عمر ننانوے برس کی تھی اور جوانی میں وہ بانجھ تھیں اس واسطے یہ خوش خبری سن کر انہوں نے تعجب سے اپنا منہ پیٹ لیا جب اللہ کے فرشتوں نے ان کی تسکین کی کہ جس طرح ہم نے خوش خبری دی ہے اللہ کا حکم یونہی ہے اللہ بڑا حکمت والا ہے اور اس کی حکمت کے بھید اسی کو خوف معلوم ہیں اس خوش خبری کے ایک برس بعد حضرت اسحاق ( علیہ السلام) پیدا ہوئے۔
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 114 ج 6۔ )
Ayahs 51:31–3731۔ 37۔ خطب کے معنی حال اور قصہ کے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ اللہ کے فرشتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا کہ کس مطلب کے لئے زمین پر تمہارا آنا ہوا ہے فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو قوم لوط پر پتھر برسانے کے عذاب کے لئے بھیجا ہے تفسیر سدی اور تفسیر حسن بصری میں لکھا ہے کہ ان کنکروں پر خدا کی طرف سے ایک مہر کی سی صورت تھی جس سے وہ کنکر دنیا کے کنکروں سے الگ پہچانے جاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نشان کئے ہوئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فقط کنکروں کے مینہ کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ پہلے ان لوگوں کے رہنے کی بستیاں الٹی گئیں اور پھر یہ پتھروں کا مینہ برسا۔ قوم لوط کے چار لاکھ آدمی تھے جو اس عذاب الٰہی سے ایک دم میں ہلاک ہوگئے۔ جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ قوم لوط کی طرح فعل کرنے والے شخص کو سنگسار کرنا چاہئے ان علماء نے ان پتھروں کے مینہ سے سنگساری کی دلیل پیدا کی ہے۔ ابو داؤود 2 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور بیہقی میں حضرت علی سے جو روایت ہے اس میں بھی اغلامی شخص کے سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ امام شافعی 3 ؎ علیہ الرحمۃ کا مذہب حضرت علی ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے اس قول کے موافق ہے لیکن حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کا قول اس کے برخلاف بھی ہے اس کا ذکر آگے آتا ہے اسی واسطے شریعت کے احکام چھانٹ کر جن لوگوں نے کتابیں لکھیں ہیں جن کو کتاب الاحکام کہتے ہیں ان میں علماء نے یہی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کوئی فعل یا قول اس باب میں نہیں پایا جاتا۔ اور آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام کو اس مسئلہ میں ایک طرح کا شک اور اختلاف جو رہا اس سے اس قول کی تصدیق بھی ہوتی ہے صحابہ کا شک تو اس قصہ سے معلوم ہوتا ہے جو بیہقی میں 4 ؎ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں ایک ایسی صورت پیش آئی۔ اس جس سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے صحابہ کو جمع کیا۔ آخر حضرت علی ؓ کے مشورہ کے موافق ایک شخص کو آگ میں جلا دینے کی صلاح قرار پائی۔ اس روایت کو علماء مرسل کہا ہے اور صحابہ کرام کا اختلاف یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس مشورہ کے بعد بھی اس فتویٰ پر سب صحابہ کرام قائم نہ رہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اغلامی شخص کو بلند مکان پر سے دھکا دے کر گرا دینے کا فتویٰ دیا کرتے تھے اور بعض صحابہ تلوار سے قتل کرنے کا اور بعض زنا کی سزا کا فتویٰ دیا کرتے تھے مگر اغلام کی صورت میں زنا سے کم سزا دینے کے کسی صحابی کا قول نہیں ہے اسی واسطے فقہ حنفی اور شافعی میں یہ جو لکھا ہے کہ اغلامی شخص کے لئے فقط تھوڑی سی تعزیر کی سزا کافی ہے۔ اس پر تمام علماء نے اعتراض کیا ہے کہ یہ قول سب صحابہ ؓ کے مخالف ہے۔ بعض علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ معافی گناہ میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے مگر اور علماء نے اس جواب کو غلط ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ یہ جو اب صحابہ ؓ سے مخالفت کرنے کے لئے کچھ کافی جواب نہیں ہے۔ مسوف کے معنی حد سے بڑھا ہوا مرد اور ورت کی مباشرت کی حد سے بڑھ کر یہ لوگ لڑکوں سے بدفعلی کرتے تھے۔ اس لئے الہ کے فرشتوں نے انہیں حد سے بڑھے ہوئے کہا۔ پھر بچا نکالا ہم نے جو تھا وہاں ایمان والا فرشتوں کے کلام میں یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ یہاں اس قصہ کو مختصر طور پر فرمایا ہے سورة حجر میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط اور ان کے ساتھ کے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اس بلا سے بچا دیا۔ ہاں حضرت لوط کے رشتہ داروں میں سے ان کی بی بی جو نافرمان لوگوں کی طرف دار تھی وہ عذاب میں پکڑی گئی اور رکھا اس میں نشان ان لوگوں کو جو ڈرتے ہیں۔ دکھ کی مار کا مطلب یہ ہے کہ قوم لوط کی مثلاً چار بستیاں اجڑ کر اب جو وہاں بودار پانی کا چشمہ ہے یا ثمود کی بستی حجر ملک شام کے راستہ میں اہل مکہ کو پڑتی ہے۔ ایسی چیزوں اور بستیوں کو دیکھ کر انہیں ڈرنا چاہئے جن کے دل میں کچھ خدا کا خوف ہے کیونکہ ان لوگوں کے عذاب کی طرح حال کے لوگوں پر خدا کا عذاب آئے ہوئے کچھ دیر نہیں لگتی۔ تبوک جاتے وقت آنحضرت ﷺ کا گزر ثمود کی اجڑی ہوئی بسیی حجر پر سے ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا 1 ؎ جب تک اس بستی سے گزر نہ ہوجائے خدا سے ڈرنا اور رونا چاہئے کس لئے کہ خدا کا عذاب آتے ہوئے کچھ دیر نہیں لگتی ثمود کے اصل قصہ میں جو روایتیں گزر چکی ہیں وہ آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں۔ احکام دین کی دلی تصدیق اور زبانی اقرار اور ہاتھ پیروں کا نیک عمل ان تینوں چیزوں کے مجموعہ کا نام فرقہ معتزلہ کے نزدیک ایمان ہے۔ اور سلف اہل سنت کے نزدیک نیک عمل فقط ایمان کے کامل ہونے کی شرط ہے۔ ان آیتوں میں جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مومنین فرمایا ہے ان ہی کو پھر مسلمین فرمایا ہے۔ اس لئے صاحب کشاف اور معتزلی علماء نے ان آیتوں کو اپنے مذہب کی اس طرح دلیل قرار دیا ہے کہ لفظ اسلام کے معنی میں اعتقاد قلبی داخل نہیں ہے۔ اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ قوم لوط کے مسلمانوں میں تصدیق قلبی افرار زبانی نیک عمل تینوں باتوں کا مجموعہ تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں مومنین اور مسلمین دونوں لفظ فرمائے۔ مفسرین اہل سنت نے فرقہ معتزلہ کی اس دلیل کو کئی طرح ضعیف ٹھہرایا ہے جس کی تفصیل بڑی تفسیروں میں 2 ؎ ہے حاصل یہ ہے کہ اصل میں ایمان کا لفظ شریعت میں شرع کی باتوں پر دلی یقین رکھنے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ اور اسلام کا لفظ ظاہری اطاعت کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ اب یہ ظاہری اطاعت کبھی تو دلی یقین کے ساتھ ہوتی ہے جس طرح حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا قول اللہ تعالیٰ نے آیت اسلمت لرب العلمین میں نقل فرمایا ہے۔ اور کبھی یہ ظاہری اطاعت پورے دلی یقین کے ساتھ نہیں ہوتی۔ جس طرح آیت لم تو منوا۔ ولکن قولوا اسلمنا میں ہے۔ آیت فما وجدنا فیھا غیربیت من المسلمین میں اسلام کا لفظ اسلمت لرب العلمین کے محاورہ کے موافق بولا گیا ہے اس لئے صاحب کشاف وغیرہ نے اس آیت میں لفظ اسلام کو ولکن قولوا اسلمتا کے معنی میں جو لیا ہے یہ معنی اہل سنت کے نزدیک سیاق آیت کے مخالف ہیں۔ اور لفظ مومنین کے قرینہ سے لفظ مسلمین میں اسلام کے معنی اسلمت لرب العلمین کے محاورہ کے موافق اہل سنت کے نزدیک صحیح ہے۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 235 ج 4۔ )
(2 ؎ ابو داؤود کتاب الحدود فیمن عمل عمل قوم لوط ج 2۔ )
(3 ؎ الترغیب والترہیب باب اترہیب من اللواط الخ ص 483 ج 3۔ )
(4 ؎ الترغیب والترہیب باب الترہیب من اللواط ص 483 ج 3۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب نزول النبی ﷺ الحجر 637 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 236 ج 4۔ )