Ayahs 50:1–101۔ 10۔ حروف مقطعات کا بیان سورة بقر کے شروع میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرشتہ آ کر محمد رسول ﷺ کے رسول ہونے کی اور قرآن کو اللہ کا کلام ہونے کی تصدیق کر دے گا تو ہم مان لیں گے۔ محمد ﷺ تو ہم جیسے انسان ہیں ان کی باتوں کا ہمیں یقین نہیں آتا۔ اس کا جواب تفصیل سے سورة انعام میں ہے مگر حاصل اس کا یہ ہے کہ فرشتہ کو اصل صورت میں دیکھنا تو عام لوگوں کی طاقت سے باہر ہے سوائے اللہ کے رسول کے عام لوگوں میں سے فرشتہ کو جو کوئی اصل صورت میں دیکھے گا وہ فوراً مرجائے گا۔ اس لئے فرشتہ بھی ان لوگوں کے پاس آئے گا تو انسان کی صورت میں آئے گا۔ پھر ان لوگوں کا شبہ بھی باقی رہے گا۔ قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی وہ نبوت اور حشر کا ثبوت ہے جس کا ذکر آگے فرمایا۔ حشر میں مشرکین مکہ کا شبہ یہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک کی تمیز اور خاک سے کیونکہ ہوگی۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ ہمارے پاس انسان کی خاک اسم وار لوح محفوظ میں تفصیل سے لکھی ہے جس سے ہر انسان کی خاک کی تمیز انسان کی عقل میں آسکتی ہے۔ اس جواب کی کچھ صراحت آئندہ کی آیتوں کی تفسیر میں بھی آتی ہے حق سے مطلب یہاں قرآن ہے نبوت کے شبہ کا جواب سورة انعام کے جواب کے علاوہ یہاں جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی نادانی سے نبی آخر الزمان اور قرآن کے باب میں الجھی ہوئی باتیں کرتے ہیں کہ کبھی اللہ کے رسول کو جادوگر اور قرآن کو جاود بتاتے ہیں اور کبھی ایسے ہی اور بکواس لگاتے ہیں۔ ان کو تو سیدھی سی ایک بات بتا دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو اللہ کا کلام نہیں جانتے ہیں تو یہ اور ان کے وہ جنات جو ان کے نجومیوں اور کاہنوں کو آسمانی باتیں چرا چرا کر پہنچاتے ہیں سب مل کر قرآن جیسی کوئی سورت بنا کر پیش کریں۔ جب ان سے یہ نہیں ہوسکتا تو پھر قرآن کو اللہ کا کلام اور جن رسول ﷺ پر یہ کلام اتر ہے ان کو اللہ کا رسول ﷺ جاننے میں ان لوگوں کو شبہ کرنے کا کیا موقع باقی رہا صحیحین 1 ؎ کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حدیث قدسی میں فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کی عقل کے خلاف میں نے اس کو ایک بوند پانی سے پیدا کیا اور اس کے مرجانے کے بعد پھر دوبارہ اس کے جلانے اور نیک و بد کی جزا و سزا کی میں نے اپنے کلام میں خبر دی۔ لیکن اس نے اس کا انکار کرکے مجھ کو جھٹلایا اور میرے کلام میں عقلی اعتراض نکالے اور اپنے خلاف عقل پیدائش کو بھول گیا۔ اسی طرح صحیحین 2 ؎ کی ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث بھی گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر ایک نبی کو ضرورت کے موافق معجزات دیئے گئے ہیں مگر اور معجزات کے علاوہ قرآن ہی میرا ایک ایسا معجزہ ہے کہ موجودہ لوگوں کے سوا ناموجود لوگوں پر بھی قیامت تک اس کا اثر باقی رہے گا۔ ان آیتوں میں حشر نبوت اور قرآن کے اللہ کے کلام ہونے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں اس کے بعد آسمان زمین ‘ زمین کے پہاڑ اور آسمان سے مینہ برس کر کھیتی باغ جو زمین کی پیداوار کے طور پر اس مینہ سے پیدا ہوتے ہیں ان سب کا ذکر فرما کر انسان کو یاد دلایا کہ جس نے بغیر نمونہ کے ان سب عجائبات کو پیدا کیا۔ ایک دفعہ کے نمونہ کے بعد انسان کی دوبارہ پیدائش کو ایسے صاحب قدرت سے بعد جاننا کسی عقل مند کا کام نہیں ہے۔
) 1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة اخلاص ص 743 ج 2)
(2 ؎ باب کفی نزل الوحی الخ ص 744 ج 2۔ )
Ayah 50:1111۔ صحیحین 3 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ حشر کے دن پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے حضرت آدم ﷺ کے زمانہ سے لے کر ایک مینہ برسے گا جس سے حضرت آدم ﷺ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک کے جس قدر جسموں کی خاک زمین میں ہے اس خاک سے سب جسم بن کر اس طرح تیار ہوجائیں گے جس طرح اب مینہ سے ہر طرح کے درخت تیار ہوجاتے ہیں پھر ان جسموں میں روح پھونک دی جائے گی اسی مناسبت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جگہ جگہ مینہ سے ہر طرح کے درختوں کے پیدا ہونے اور حشر کے دن انسان کو دوبارہ پیدا ہونے کی تشبیہ دے کر فرمایا ہے اس سورت کی اوپر کی آیتوں میں اور سوہ آلم سجدہ اور سورة یٰسین میں اور کئی جگہ یہ گزر چکا ہے کہ جو لوگ حشر کے منکر ہیں ان کا بڑا شبہ یہ تھا کہ جب وہ مرجائیں گے اور ان کی ہڈیاں ‘ ان کا گوشت پوست سب کچھ خاک ہوجائے گا اور وہ خاک کچھ ہوا میں اڑ جائے گی اور کچھ پانی کے ریلے میں بہہ جائے گی تو پھر وہ متفرق اور پریشان خاک کیونکر جمع ہوجائے گی اور اس کا پتلہ کیونکر بنے گا۔ اوپر کی آیتوں میں اور جگہ جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی خاک اڑ کر یا بہہ کر جہاں جائے گی وہ سب حال اس کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ اسی پتے سے ہر ایک کی خاک جمع کرلی جائے گی اور جس طرح ایک دانہ سے ہزار دانے اناج کے اور ایک گٹھلی سے تودہ کے تودہ میووں کے مینہ کے اثر سے سب کی آنکھوں کے سامنے خلاف عقل زمین میں سے پیدا ہوتے ہیں ‘ اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ کے اثر سے اللہ تعالیٰ ان کے جسموں کو پیدا کرے گا۔ عقل کا کام یہ نہیں ہے کہ ایک چیز کا موجودہ ہونا ایک دفعہ آزما کر پھر دوبارہ اس چیز کے موجود ہوجانے سے انکار کرے۔ بلکہ عقل کا کام یہ ہے کہ ایک چیز کے وجود پر دوسری چیز کے وجود کو قیاس کرلے۔ تمام عالم کی چیزیں اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تھکان کے ان کی آنکھوں کے سامنے پیدا کریں۔ پھر کون سی عقل سے یہ لوگ ان چیزوں کے دوبارہ پیدا ہونے سے انکار کرتے ہیں صحیحین 1 ؎ اور صحاح کی کتابوں میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور صحابہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک شخص بڑا گناہ گار تھا اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد مجھ کو جلا کر آدھی خاک کو ہوا میں اڑا دینا اور آدھی کو دریا میں بہا دینا۔ وارثوں نے اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کے موافق عمل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جنگل اور دریا میں سے اس کی خاک کو جمع کرکے پھر دوبارہ اس کو زندہ کیا ‘ اور اس سے پوچھا کہ یہ وصیت تو نے کیوں کی تھی ؟ اس شخص نے جواب دیا ‘ یا اللہ تو عالم الغیب ہے۔ گناہ گاری کے سبب سے مجھ کو تیرے سامنے کھڑے ہونے سے خوف آتا تھا۔ اس واسطے میں نے وہ وصیت کی تھی۔ اتنی بات پر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت فرما دی۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگل یا دریا جہاں انسان کی پہلی خاک ہوگی وہی جمع کی جائے گی اور اسی خاک کا دوبارہ پتلا بنایا جائے گا۔
(3 ؎ صحیح مسلم باب مابین التفختین ص 406 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری ص 495 ج 1 و ص 118 ج 2۔ )
Ayahs 50:12–1512۔ 15۔ اہل مکہ نے حشر اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا جو انکار کیا تھا اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی تسکین فرمائی کہ سرکش لوگوں کا انبیاء کو جھٹلانا حشر کی باتوں کو مسخرا پن ٹھہرانا سب نبیوں کے زمانہ میں تھا تمہارے زمانہ میں یہ بات کچھ نئی نہیں ہے۔ پھر فرمایا جیسا ان لوگوں نے کیا ویسا پایا کہ آخر کو سب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو وہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر کام کا پہلے پہل کرنا مشکل ہوتا ہے بغیر کسی نمونہ کے جب ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے سب عالم کو پیدا کردیا تو پھر اسی نمونہ پر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا عقل سے بعید نہیں ہے بلکہ دوبارہ پیدا ہونے سے ان کا انکار شیطانی دھوکا ہے جس میں یہ پڑے ہوئے ہیں۔ خاکی انسان تو اپنی اصلی مادہ خاک سے ہی دوبارہ پیدا کیا جائے گا جس نے لکڑی سے سانپ کو پتھر سے اونٹی کو ‘ پانی سے انسان کو پیدا کردیا۔ اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ خاک سے خاکی انسان کو دوبارہ پیدا کر دے۔ اوپر ابوہریرہ ؓ کی روایت سے صحیحین 1 ؎ کی حدیث قدسی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انسان نے مجھ کو جھٹلا یا جو ایک دفعہ کی اپنی پیدائش کو دیکھ کر پھر اس نے اپنی دوبارہ پیدائش کا انکار کیا۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جزاء سزا کے منکروں کو اللہ تعالیٰ اپنے رو برو کھڑا کرکے ان کی وہ نعمتیں یاد دلائے گا جو انہیں دنیا میں دی گئی تھیں۔ جب وہ ان نعمتوں کا اقرار کریں گے تو ان سے پوچھے گا کہ باوجود ان نعمتوں کے تم کو نیکی و بدی کی جزا و سزا کے لئے میرے رو برو کھڑے ہونے کا بھی کبھی خیال آیا تھا وہ کہیں گے نہیں۔ اس پر فرمائے گا کہ اچھا جس طرح دنیا میں تم نے مجھ کو بھلا رکھا تھا اسی طرح میں نے بھی تم کو اپنی رحمت کی نظر سے آج دور ڈال دیا۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی نظر رحمت سے اس دن دور ڈال دے گا اس دن سوائے دوزخ کے اس کا اور کون سا ٹھکانا ہوسکتا ہے۔ جسمانی حشر اور جسمانی جزا و سزا کے اکثر فلسفی حکماء بھی قائل نہیں ہیں اور نہ شرعی تفصیل کے موافق جنت و دوزخ کو وہ مانتے ہیں بلکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد نفس ہیشہ کے لئے زندہ رہے گا اور اچھا نفس نیکیوں کے تصور سے ایک خوشی میں ‘ اور برا نفس بدیوں کے تصور سے ایک طرح کے رنج میں رہے گا۔ یہ عقیدہ آسمانی کتابوں اور انبیاء کی تعلیم کے برخلاف اور مواخذہ اخروی کے قابل ہے۔ کنوئیں والوں کا تفصیلی قصہ سورة فرقان 1 ؎ میں اور قوم تبع کا قصہ سورة دخان 2 ؎ میں گزر چکا ہے۔ یہاں حاصل اسی قدر ہے کہ یہ دونوں قومیں بھی ہلاک شدہ لوگوں میں سے ہیں۔
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة اخلاص ص 743 ج 2)
(2 ؎ صحیح مسلم باب کتاب الزہد ص 409 ج 2۔ )
(1 ؎ تفسیر ہذا جلد 4 ص 383۔ ) (2 ؎ تفسیر ہذا جلد 5 ص 191۔ )
Ayahs 50:16–2216۔ 22۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ انسان کے مرجانے کے بعد جنگل میں دریا میں جہاں کہیں اس کی خاک ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی جگہ کی خاک باہر نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا کہ خاک تو ظاہر آنکھوں سے نظر آتی ہوئی چیز ہے اللہ تعالیٰ کا علم تو ایسا بڑا ہے کہ وہ انسان کے دل کے خطرے تک کو جانتا ہے۔ صحیح مسلم 3 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ہر ایک انسان کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات رہتا ہے فرشتہ نیک کام کرنے کا خیال دل میں ڈالتا رہتا ہے اور شیطان بد کام کرنے کا وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس صحیح حدیث کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ کئے ہیں کہ اس فرشتہ کے الہام یا شیطان کے وسوسہ کے سبب سے جو کچھ نیک و بد خیال آدمی کے دل میں آتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اور یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہے حبل الورید گردن کی وہ رگ ہے۔ جس کے کٹ جانے سے آدمی مرجاتا ہے۔ صحیحین 4 ؎ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو حدیث قدسی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت کوئی شخص کسی نیک کام کرنے کی نیت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فقط اس دل کے نیک ارادہ پر کراماً کاتبین کو ایک نیکی کے لکھنے کا حکم دیتا ہے۔ اور جب وہ شخص اس نیک ارادہ کے موافق نیک کام کرلیتا ہے تو جیسا وہ کام ہو دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرچہ کراماً کاتبین انسان کے قریب اور ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے علم غیب کی رو سے بہ نسبت ان فرشتوں کے انسان سے زیادہ نزدیک ہے کہ انسان کے دل کا ارادہ ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کے بتانے اور جتلانے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہی صحیح حدیث اس آیت کی تفسیر ہے اور یہی آیت کے صحیح معنی ہیں حدیث قدسی جو اوپر گزری اس میں ذکر تھا کہ نیک ارادہ سے جب کوئی شخص کوئی نیک کام کرلیتا ہے تو خلوص نیت کے موافق دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں کراماً کاتبین لکھتے ہیں۔ اب آگے اس آیت میں فرمایا کہ ہاتھ پیروں کے عمل کی طرح آدمی کے منہ سے جو نیک و بد بات نکلے وہ بھی لکھی جاتی ہے جو جزا و سزا سے متعلق ہیں۔ علی بن طلحہ (رح) کے واسطے سے جو امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لکھی تو سب باتیں جاتی ہیں۔ مگر ہر جمعرات کو ان میں سے وہ باتیں چھانٹ لی جاتی ہیں جو جزا و سزا سے متعلق ہیں اس تفسیر کے مقدمہ میں اس کا ذکر کردیا گیا ہے کہ علی بن طلحہ ؓ کے واسطے سے جو روایت حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ہوتی ہے وہ تفسیر کے باب میں نہایت صحیح روایتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ آیت کے لفظ مایلفظ من قول ایسے عام ہیں کہ ان سے بھی حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ مستدرک 2 ؎ حاکم میں ام عصمۃ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کوئی شخص گناہ کرکے جلدی سے دو تین گھڑی میں توبہ استغفار کرلے تو اس کے اعمال نامہ میں وہ گناہ نہیں لکھا جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم سے بدی لکھنے والا فرشتہ بدی کے لکھنے میں تھوڑی دیر توقف کیا کرتا ہے اور گناہ گار کی توبہ استغفار کا منتظر رہتا ہے۔ حاکم نے اس حدیت کو صحیح کہا ہے۔ بیہقی 3 ؎ میں زبیر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کے دن وہ اپنے اعمال نامہ کو دیکھ کر خوش ہو تو وہ شخص استغفار کو اپنے اعمال نامہ میں بڑھائے۔ بیہقی کی سند میں کچھ اعتراض نہیں ہے اب آگے دو فرشتوں کے تعینات ہونے کا اور آدمی کے قول فعل کے لکھے جانے کا سبب فرمایا کہ دنیا میں انسان کا رہنا چند روز ہے پھر آخر کو موت ہے اور پھر دوبارہ زندہ کرکے اس کو اس کے اعمال کے موافق جزا و سزا دی جائے گی۔ سکر نشہ کو کہتے ہیں۔ موت کے وقت آدمی پر نشہ کی بےہوشی چھا جاتی ہے اس لئے موت کی شدت کو سکرات کہتے ہیں۔ مسند 4 ؎ امام احمد اور طبرانی کی اوسط میں معتبر سند سے انس کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کے لئے دنیا میں موت کی سختی سے بڑھ کر کوئی سختی نہیں ہے لیکن موت کے بعد جو سختیاں انسان کو پیش آنے والی ہیں وہ موت سے بھی زیادہ سخت ہیں یہ اس لئے فرمایا کہ موت کی سختی سے آخر آدمی کی جان نکل جاتی ہے ‘ عذاب قبر اور عذاب دوزخ میں سختی بھی ہوگی اور جان بھی نہیں نکلنے کی ذلک ما کنت منہ تحید کی تفسیر میں علی بن طلحہ کے واسطے سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ برے لوگوں کا حال ہے براء بن عازب کی صحیح حدیث جو اوپر مسند 1 ؎ امام احمد ابو داؤود وغیرہ کے حوالہ سے (1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب مایقال عند من حضرہ الموث ص 142 الفصل الثالث۔ ) گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ برے لوگوں کو نزع کے وقت جب عذاب کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی ناخوشنودی اور طرح طرح کے عذاب کی خبر سناتے ہیں تو ان لوگوں کی روح جسم میں جگہ جگہ چھپتی پھرتی ہے۔ آخر بڑی سختی سے فرشتے ان لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں اسی طرح اچھے لوگوں کو آخری وقت پر جب رحمت کے فرشتے اللہ کی رضا مندی اور جنت کی نعمتوں کی خوش خبری دیتے ہیں تو وہ لوگ موت سے نہیں گھبراتے۔ بلکہ مرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں اتنا اور زیادہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہونے کا دل میں شوق رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے شوق کو پورا کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہونے سے گھبراتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کو اپنی بارگاہ میں بلانا نہیں چاہتا۔ آپ کا یہ ارشاد سن کر حضرت عائشہ ؓ نے آپ سے عرض کیا کہ حضرت ﷺ موت سے تو ہم سب گھبراتے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا شوق نہیں ہے ؟ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا کہ تندرستی کی حالت میں موت سے گھبرانا مقصود نہیں ہے پھر آپ ﷺ نے وہی مضمون فرمایا جو براء بن عازب ؓ کی حدیث کا ہے۔ صحیح 3 ؎ مسلم میں ابی امامہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آپ ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا تم لوگوں کو یہ اچھی طرح سے معلوم رہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو دیکھے گا تو وہ بعد موت کے دیکھے گا۔ موت سے پہلے دنیا کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اسی بنا پر موت کو بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونے کا وسیلہ جان کر حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے وہ استفسار کیا تھا جس کا ذکر مع آنحضرت ﷺ کے جواب کے اوپر گزرا۔ ان حدیثوں سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ آیت میں موت سے گھبرانے کی مذمت ہے۔ اور ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تندرستی کی حالت میں موت سے گھبرانے کی مذمت شرع میں نہیں ہے بلکہ آخری وقت پر گھبرانے کی مذمت ہے۔ اور گھبراہٹ عقبیٰ کے منکر یا عقبیٰ سے غافل لوگوں کو ہوتی ہے اچھے لوگوں کو نہیں ہوتی۔ ان حدیثوں سے علما نے یہ مطلب بھی نکالا ہے کہ آخری وقت پر جو قریب المرگ بیمار خوش نظر آئے تو یہ علامت اس کی نجات کی ہے ورنہ مواخذہ کی۔ آئی بےہوشی موت کی تحقیق کا مطلب اوپر کی حدیثوں کے موافق یہ ہے کہ اس وقت فرشتوں کے جتلانے سے ہر شخص کو حق حق تحقیق کے طور پر اپنا عقبیٰ کا انجام معلوم ہوجاتا ہے۔ صور کا کچھ حال تو سورة زمر میں گزر چکا ہے اور کچھ عم یتساء لون میں آئے گا۔ حاصل یہ ہے کہ صور کے پھونکے آنے سے پہلے شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا آئے گی جس سے ایسے سب آدمی مرجائیں گے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔ اس ٹھنڈی ہوا کا ذکر 1 ؎ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ وغیرہ کی روایتوں میں ہے جو مفسر اس ہوا کو بھی صور گنتے ہیں وہ پہلے صور کا دوسرا صور شمار کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اسی دوسرے صور سے تمام دنیا اجڑ جائے گی اور تیسرے صور سے سب جی اٹھیں گے اور جو مفسر اس ہوا کو صور نہیں کہتے ان کے نزدیک پہلے صور سے دنیا اجڑے گی اور دوسرے صور سے سب جی اٹھیں گے۔ بہرحال ان آیتوں میں آخری صور کا ذکر ہے کیونکہ اس صور کے بعد قیامت کا حال ہے۔ وعید عذاب کے وعدے کو کہتے ہیں اور وعدہ ثواب کے وعدے کو کہتے ہیں۔ اگرچہ قیامت کے دن عذاب وثواب دونوں کا ظہور ہوگا لیکن یہاں عذاب سے ڈرانا مقصود تھا اس لئے فقط وعید کا لفظ فرمایا۔ قیامت کے دن ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے۔ ایک اللہ تعالیٰ کے رو برو لے جانے والا اور دوسرا عملوں کی گواہی دینے والا۔ قرآن و حدیث میں قیامت کے دن کی جن باتوں کا ذکر ہے اس دن وہ سب باتیں انسان کے رو برو آجائیں گی اسی کو فرمایا کہ اس دن انسان کی آنکھوں کے سامنے کا پردہ اٹھ جائے گا اور قیامت کے سب حالات دیکھنے کے لئے اس کی نگاہ خوب تیز ہوجائے گی۔
(3 ؎ صحیح مسلم باب تحریش الشیطن و بعثہ سرایاہ الخ جلد 2 ص 376۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری باب من ھم بحسنۃ او سیئۃ ص 960 ج 2 و صحیح مسلم باب بیان تجاوز اللہ تعالیٰ عان حدیث النفس ص 77 جلد 1۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 224 ج 4۔ )
(2 ؎ الترغیب و الترہیب باب فی الاستفغار ص 802۔ )
(3 ؎ الترغیب و الترہیب باب فی الاستفغار ص 802۔ )
(4 ؎ مسند احمد ج 2 ص 154۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاء ہ ص 963 ج 2۔ )
(3 ؎ فتح الباری تفسیر سورة النجم ص 347 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب ذکر الدجال ص 403 ج 2۔ )
Ayahs 50:23–2923۔ 29۔ اوپر جن دو فرشتوں کا ذکر تھا کہ ایک اللہ کے رو برو لے جانے والا اور دوسرا عملوں کی گواہی دینے والا ‘ ہر شخص کے ساتھ یہ دو فرشتے ہوں گے۔ ان آیتوں میں ساتھ والا ان ہی دونوں کو فرمایا ہے ان میں سے ایک تو اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے گا کہ جس انسان پر میں تعینات تھا وہ حاضر ہے۔ دوسرا یہ عرض کرے گا کہ یہ اس انسان کا عمل حاضر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کے جواب میں دو زخمیوں کے اوصاف بیان فرما کر حکم دے گا کہ ان اوصاف کے لوگوں کو جہنم میں ڈال دو ۔ کفار کے معنی بڑا کفر کرنے والا عنید کے معنی حق بات سے عناد رکھنے والا مناع للخیر کے معنی نیک کام سے روکنے اور ممانعت کرنے والا معتدی بری کاموں میں حد سے بڑھنے والا مریب کے معنی توحید میں شک کرنے والا۔ صحیح 1 ؎ مسلم میں انس بن مالک سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے لوگو دوزخ کے عذاب کا جو حال میں نے دیکھا ہے اگر وہ حال تم کو نظر آجائے تو تم کو ہنسی بہت کم آئے اور روانا بہت۔ عذاب شدید کی یہ حدیث گویا ایک مختصر تفسیر ہے سورة سبا میں گزر چکا ہے کہ شیاطین الجن و الانس جو لوگوں کو بہکاتے ہیں ان کا اور بہکنے والے لوگوں کا حساب کے وقت جھگڑا ہوگا۔ اسی جھگڑے کا مختصر ذکر ان آیتوں میں ہے کہ جو شیاطین انسان کو دنیا میں بہکاتے ہیں جب قیامت کے دن بہکنے والے لوگوں کی طرف سے خدا تعالیٰ کے رو برو ان شیاطینوں کے بہکانے کی شکایت پیش ہوگی تو وہ شیاطین صاف کہہ دیں گے کہ یا اللہ پورا بہکانا ہمارے اختیار میں نہیں تھا۔ ہم نے فقط برے کاموں کی طرف رغبت ان لوگوں کو دلائی تھی ان کے دل میں پہلے سے برائی بسی ہوئی تھی۔ یہ ہمارے کہنے میں آگئے اللہ تعالیٰ نے فرما دے گا۔ آج میرے رو برو جھگڑنے کا دن نہیں ہے۔ رسولوں کی معرفت پہلے ہی میں نے حکم بھیج دیا تھا کہ جو کوئی شیطان کی پیروی کرے گا وہ جہنم میں جائے گا اور جو شرک کرے گا اس پر سخت عذاب ہوگا۔ اس لئے آج جو حکم دیا گیا ہے وہ انصاف کی بناء پر ہے ظلم کی بناء پر نہیں ہے۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب الامرتجسین الصلوٰۃ واتما مھاص 180 ج 1۔ )
Ayahs 50:30–3530۔ 35۔ مسند امام احمد اور صحیحین 2 ؎ میں حضرت انس ؓ بن مالک کی روایت سے خود صاحب وحی ﷺ نے جو تفسیر اس آیت کی فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ میں پڑنے کے قابل لوگوں کے گروہ دوزخ میں پڑتے جائیں گے اور دوزخ میں سے یہ آواز آتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے۔ ؟ یہاں تک کہ آخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم مبارک دوزخ میں رکھ دے گا۔ جب اس وقت دوزخ میں سے بس بس کی آواز آئے گی۔ اور جنت میں جو جنتی لوگوں کے جانے کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا کرکے ان لوگوں سے جنت کی اس خالی جگہ کو بھر دے گا۔ بخاری میں اس طرح کی روایت ابوہریرہ ؓ سے بھی ہے۔ آلم سجدہ میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے یہ فرمایا تھا میں تجھ کو جن و انس سے بھر دوں گا۔ اسی کے موافق اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے پوچھے گا کہ تو بھر چکی جب وہ ھل من مزید کہے گی تو اللہ تعالیٰ ان پر قدم مبارک اس میں رکھ دے گا۔ بعض مفسروں نے اور طرح سے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔ لیکن وہ اس متفق علیہ حدیث کے مخالف ہے۔ نزدیک لائی گئی بہشت ڈر والوں کے۔ اس کا مطلب سلف نے دو طرح بیان کیا ہے ایک تو یہ کہ جس طرح اہل دوزخ کے دکھانے کے لئے دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا اسی طرح عرش معلیٰ کی دائیں طرف کی جگہ محشر کے میدان کے سامنے کردی جائے گی جس سے اہل جنت میدان محشر میں سے جنت کو دیکھ لیں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ بہ نسبت گناہ گاروں کے متقی لوگ پل صراط سے جلدی سے گزر جائیں گے اس لئے ان کو جنت کا راستہ قریب ہوجائے گا۔ طبرانی مستدرک 1 ؎ حاکم میں عبد اللہ بن مسعود کی قیامت کے احوال میں ایک بڑی حدیث ہے اس میں ان دونوں کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اس واسطے یہ دونوں معنی صحیح ہیں۔ طبرانی کی سندوں میں ایک سند اس حدیث کی صحیح ہے۔ حاکم نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے اواب کے معنی اللہ کی فرمانبرداری کی طرف جھکنے والا ‘ حفیظ کے معنی اللہ کی نافرمانی سے بچنے والا۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ کی طرف جھکنے والا اور رجوع ہونے والا دل رکھتا ہے۔ وہی اللہ سے ڈرے گا اور اللہ اور اللہ کے رسول کی نصیحت سنے گا۔ اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کے مضمون کے موافق علمائے پابند شریعت کا صحیح مذہب بھی یہی قرار پایا ہے کہ عقل کی جگہ اور عقل کا ظرف دل ہے دماغ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے قدم مبارک کا ذکر آیات متشابہات میں سے ہے۔ صحابہ اور تابعین کا طریقہ اس میں یہی ہے کہ اس طرح کی آیتوں پر ایمان لانا اور ان کی تفسیر کو اللہ تعالیٰ کے علم پر سونپنا چاہئے۔ دوزخ کے بولنے کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے۔ اس میں صحیح مذہب یہی ہے کہ جس اللہ نے گوشت کے ایک ٹکڑے آدمی کی زبان میں گویائی کی قدرت دی ہے وہ جس چیز میں چاہے قوت گویائی پیدا کرسکتا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں میں جنت اور دوزخ کا مناظرہ آیا ہے اسی طرح کی آیتوں اور حدیثوں میں تاویل کا کرنا عقلی شریعت کا اپنے دل سے بنانا ہے جو بڑے مواخذہ کی بات ہے ہر مسلمان کو مواخذہ عقبیٰ سے ڈرنا اور اس طرح کی مواخذہ کی بات سے پرہیز کرنا لازم اور ضروری ہے ہمارے پاس زیادہ ہے سے جنت کی وہ نعمتیں مقصود ہیں جو کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں۔ نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ اس میں دیدار الٰہی کی نعمت بھی داخل ہے۔
(2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة ق ص 718 ج 2 و صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 382 ج 2۔ )
(1 ؎ الترغیب والترہیب ‘ باب فی الحشر وغیرہ ص 748 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 382 ج 2۔
Ayahs 50:36–4036۔ 40۔ دوزخ کے عذاب کے ذکر کے بعد دنیا کے عذاب سے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ڈرایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کچھ قیامت پر ہی موقوف نہیں ہے۔ دنیا کے طرح طرح کے عذابوں سے بھی بہت سی پہلی ایسی قومیں ہلاک ہوچکی ہیں جو حال کے لوگوں سے قوت ثروت سب میں زیادہ تھیں۔ پھر باوجود اس قوت و ثروت کے اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ انہوں نے نہ پایا حال کے لوگ بھی اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے تو ایک دن یہی نتیجہ ان کا ہوگا پھر فرمایا ہر شخص صاحب عقل نصیحت کو کان لگا کر سننے والے کو یہ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے قصے سن کر بڑی عبرت پکڑنی چاہئے تاکہ کہیں یہی دن اس کے آگے نہ آئے۔ مسند امام احمد صحیحین 1 ؎ وغیرہ میں ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنے آپ کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی ہے جو لوگوں کو ایک بڑے دشمن کے حملہ سے ڈرائے اور پھر یہ فرمایا ہے کہ جس آدمی نے اس دشمن سے ڈرانے والے کی نصیحت مان کر دشمن کے حملہ سے بچنے کا کچھ سامان کرلیا وہ آفت سے بچ گیا۔ اور جس نے ایسا نہیں کیا وہ دشمن کے حملہ سے ہلاک ہوگیا۔ حدیث کا یہ ٹکڑا آیت کے ٹکڑے کی تفسیر ہے۔ مطلب آیت اور حدیث کا یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کی اس طرح کی نصیحتیں جس طرح کی نصیحت اس آیت میں ہے جس نے مان لیں وہ دوزخ کے حملہ سے بچ گیا۔ ورنہ مرنے کے بعد بڑی دشواری کا سامانا ہے۔ اہل مکہ کی ساری سرکشی اس سبب سے تھی کہ وہ حشر کے قائل نہ تھے اس لئے آگے ان کو قائل کیا ہے کہ جس صاحب قدرت نے آسمان و زمین سب کچھ ایک دفعہ پیدا کردیا اور ہزارہا برس ایک اسلوب پر دنیا کا انتظام چلایا جو اس بات کو جتاتا ہے کہ اس صاحب قدرت کو دنیا کے پیدا کرنے میں کوئی درماندگی نہیں ہوئی اس کی قدرت کے آگے انسان کی دوبارہ پیدائش کیا مشکل ہے جو کوئی اس کو مشکل سمجھتا ہے یہ اس کی نادانی ہے پھر اپنے رسول کی یہ تسلی فرمائی کہ باوجود اس نصیحت کے بھی یہ لوگ مخالفت سے باز نہ انیں گے تو وقت مقررہ آنے تک صبر کیا جائے اور اوقات معین پر اللہ کی عبادت کی جائے وقت پر ان سرکشوں سے اللہ خود سمجھ لے گا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے۔ وقت مقررہ پر رفتہ رفتہ مکہ کے سب سرکش زیر ہوگئے۔ اور مکہ فتح ہوگیا وہ اوقات معین کی عبادت یہ ہے کہ سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز ہے سورج غروب ہونے سے پہلے ظہر ‘ عصر ‘ رات کی نماز مغرب ‘ عشاء اور بار السجود۔ مغرب کی دو سنتیں فرضوں کے بعد۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب الانھاء عن المعاصی ص 959 ج 2 و صحیح مسلم باب شفقتہ ﷺ الخ 248 ج 2۔ )