Ayahs 49:1–31۔ 3۔ حضرت عبد اللہ 4 ؎ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مدنی ہے۔ صحیح بخاری 5 ؎ میں عبد اللہ بن زبیر کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بنی تمیم میں کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے ان لوگوں میں سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک شخص کو قوم کا سردار ہونے کے قابل خیال کیا اور حضرت عمر ؓ نے دوسرے شخص کو اس بحث میں یہ دونوں صاحب بلند آواز سے چیخ چیخ کر باتیں کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے ایماندار لوگو جس طرح اللہ اور رسول کے حکم سے پہلے بنی تمیم میں کسی شخص کو سردار ٹھہرانے کی پیش قدمی کی گئی اور جس طرح اللہ کے رسول ﷺ کی مجلس میں عام مجلسوں کی شان کے موافق چیخ چیخ کر باتیں ہوئیں یہ اللہ کو پسند نہیں اللہ تعالیٰ سب باتیں سننا جانتا ہے اس لئے ایسی باتیں منہ سے نکالتے وقت اللہ سے ڈرنا چاہئے اور یہ سمجھنا چاہئے کہ دین کے تمام احکام امت کے لوگوں کو اللہ کے رسول کی معرفت پہنچتے ہیں جس کے سبب سے امت کے لوگوں کو اللہ کے رسول کی بہت بڑی توقیر لازم ہے جو شخص اس توقیر میں خلل ڈالے گا اس کی بیخبر ی میں ایسے شخص کے نیک عمل رائیگاں ہوجائیں گے کیونکہ جس شخص نے نیک عملوں کے حاصل ہونے کے ذریعہ کی کچھ قدر نہ کی اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے نیک عملوں کی کچھ قدر نہ کرے گا پھر فرمایا جو لوگ اللہ کے رسول کی مجلس میں دبی آواز سے باتیں کرتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیز گاری کے لئے جانچا ہے کیونکہ جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان کو کرنا اور جن کی مناہی ہے ان سے بچنا اسی کا نام پرہیز گاری ہے پھر فرمایا ایسے لوگوں کے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا اور ان کی نیکیوں کا بہت بڑا اجر ان کو ملے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا بعض وقت آدمی کے منہ سے کوئی ایسا کلمہ نکل جاتا ہے جس سے آدمی دوزخی قرار پا جاتا ہے اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیتوں میں جس کے کلموں کے زبان سے نکالنے کی مناہی ہے حدیث میں اس قسم کے کلموں کی سزا جتلائی ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب حفظ اللسان الخ ص 959 ج 2۔ )
(4 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 83 ج 6۔ )
(5 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الحجرات ص 718 ج 2۔ )
Ayahs 49:4–54۔ 5۔ صحیح سند سے مسند 2 ؎ امام احمد طبرانی میں اقرع ؓ بن حابس تمیمی سے روایت ہے کہ اسلام لانے سے پہلے اقرع ؓ بن حابس اپنی قوم بنی تمیم کے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے۔ یہ لوگ مدینہ میں ایسے وقت پہنچے کہ وہ وقت اللہ کے رسول ﷺ کے آرام کا تھا ان لوگوں نے یہ انتظار نہیں کیا کہ آپ زنانہ حجروں میں سے باہر آئیں حجروں کی دیوار کے پیچھے سے آپ کا نام پکارنا شروع کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ان آیتوں کی شان نزول کی ہی حدیث براء بن العازب کی روایت سے ترمذی 1 ؎ میں معتبر سند سے ہے لیکن اس میں اقرع ؓ بن حابس کا نام نہیں ہے حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ گاؤں کے رہنے والے لوگ اکثر کم عقل ہوتے ہیں اس لئے اپنی ناسمجھی سے یہ لوگ دیوار کے پیچھے سے پکارنے لگے اگر ان میں کچھ سمجھ ہوتی اور حجرہ سے باہر نکلنے تک اللہ کے رسول کا انتظار کرتے تو ان کے حق میں بہتر تھا کیونکہ اللہ کے رسول کی بےتوقیری کے الزام سے یہ لوگ بچ جاتے اب انہوں نے جو کچھ کیا اگر یہ لوگ نادم ہوں گے تو اللہ غفور الرحیم ہے ان کے اس الزام کو معاف کرے گا۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 208 ج 4۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الجحرات ص 182 ج 2۔ )
Ayah 49:66۔ مسند امام 2 ؎ احمد طبرانی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں معتبر سند سے حارث بن ضرار خزاعی کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہماری قوم میں ولید ؓ بن عقبہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا قوم کے لوگ ولید کے آنے کی خبر سند کر ولید کی پیشوائی کو بستی کے باہرنکلے تو ولید نے قوم کے اسلام سے پھرجانے کا اندیشہ کرکے مدینہ کا راستہ پکڑا اور مدینہ میں یہ خبر مشہور کردی کہ حارث کی قوم مرتد ہوگئی۔ حارث کہتے ہیں کہ ولید کے پیچھے پیچھے میں بھی مدینہ کو آیا اور اللہ کے رسول ﷺ سے ساراماجرا بیان کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا اے ایمان والو جھوٹی خبر کا حال ذرا دریافت کرلیا کرو تاکہ بےبنیاد و خبر سے کسی فرمانبردار قوم پر چڑھائی کرکے پھر پچھتانا نہ پڑے۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 208 ج 4۔ )
Ayahs 49:7–87۔ 8۔ معتبر سند سے ترمذی 3 ؎ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابو سعید ؓ خدری اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت کی حیات کے زمانہ میں اعلیٰ درجہ کے صحابہ کو ملا کر اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اگر اللہ کے رسول تم لوگوں کے کہنے پر چلیں گے بڑی خرابی آجائے اب تو وہ اعلیٰ درجہ کے صحابہ بھی نہ رہے آج کل کے لوگ اگر خواہ مخواہ کلام رسول کو اپنی مرضی کے مطابق کرنا چاہیں تو خرابی در خرابی ہے حضرت ابو سعید ؓ خدری نے پایا ہے اس زمانہ میں ان کا کلام رسول کی مخالفت یا بےتوقیری کی نسبت وہ خیال تھا حال زمانہ میں جو صحابہ کا زمانہ ہے نہ تابعیوں کا نہ تبع تابعیوں کا اس زمانہ میں جو کلام رسول کی کچھ بےتوقیری کی جائے گی تو اسکا انجام ظاہر ہے سورة مومنون میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس سے حضرت ابو سعید ؓ خدری کے اس قول کی پوری تصدیق ہوتی ہے حاصل سورة مومنوں کی آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو کچھ نصیحت کرتے ہیں وہ سب حق ہے لیکن اکثر لوگوں کو حق بات اس سبب سے کڑوی معلوم ہوتی ہے کہ وہ حق بات ان کی مرضی کے مخالف ہوتی ہے اس لئے وہ لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کو اپنی مرضی کے موافق ہوجانا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ اور اللہ کے رسول کا کلام ہر ایک کی مرضی کے موافق ہونے لگے تو زمین و آسمان کا انتظام بالکل بگڑ جائے۔
(3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الحجرات ص 182 ج 2۔ )
Ayahs 49:9–109۔ 10۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک اور اسامہ بن زید سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی کے ظاہری اسلام لانے سے پہلے ایک روز اللہ کے رسول ﷺ خچر پر سوار ہو کر عبد اللہ کی ہدایت کے لئے اس کے گھر پر گئے تو عبد اللہ آپ کے وہاں جانے سے ناخوش ہوا اور اپنی ناک پر کپڑا ڈھانک کر یہ کہنے لگا کہ آپ کے خچر کی بو سے میرا دماغ پریشان ہوگیا عبد اللہ کی یہ بات سن کر ایک انصاری صحابی نے عبد اللہ کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ تیرے جسم کی بو سے اللہ کے رسول کے حجر کی بو اچھی ہے اس انصاری صحابی کے اس جواب کو سن کر بعض انصاری صحابی عبد اللہ کے طرف دار بن گئے اور بعض اس انصاری صحابی کے اور یہاں تک جھگڑا بڑھا کہ ان انصار کی دو جماعتوں میں خوب مار پیٹ ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا مسلمانوں کی دو جماعتوں میں اگر لڑائی ہوجائے تو ان میں ملاپ کرا دیا جائے۔ انس ؓ بن مالک کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے انصار کی ان دونوں جماعتوں میں ملاپ کرا دیا۔ اس شان نزول سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ آیت میں اقتتلوا کا جو لفظ ہے اس کے معنی مار پیٹ کے ہیں خون ریزی کے نہیں۔ آگے فرمایا کہ اگر اس طرح کی دو جماعتوں میں سے ایک جماعت زیادتی پر اتر آئے اور صلح کے حکم کو نہ مانے تو اس جماعت سے مسلمانوں کو یہاں تک لڑنا چاہئے کہ یہ سرکش جماعت ملاپ پر راضی ہوجائے پھر جب یہ سرکش جماعت صلح پر راضی ہوجائے تو انصاف سے جس طرح ملاپ ہوسکتا ہو اسی طرح ملاپ کرا دیا جائے کیونکہ سب مسلمان آپس میں دینی بھائی ہیں ان میں جھگڑا رہنا اچھا نہیں جو لوگ جھگڑے سے بچتے ہیں اللہ سے ڈریں گے تو وہ اللہ کی رحمت کے قابل ٹھہریں گے مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرمائے گا ان آیتوں میں بہت بڑی پیشن گوئی ہے جس کا ظہور آیتوں کے نازل ہونے کے بیس پچیس برس کے بعد حضرت علی ؓ کی خلافت میں ہوا جمل صفین اور نہروان کی لڑائیاں جو مشہور ہیں وہ حضرت علی ؓ اور ایسے ہی باغی لوگوں کی لڑائیاں ہیں جن کا تذکرہ ان آیتوں میں ہے مناسب مقامات پر ان لڑائیوں کا ذکر اس تفسیر میں گزر چکا ہے ان لڑائیوں میں زیادہ مشہور وہ لڑائی جو 36 میں حضرت معاویہ ؓ اور حضرت علی ؓ سے ہوئی ہے اس لڑائی میں ستر ہزار سے زیادہ مسلمان کام آئے ان تینوں لڑائیوں کی بنیاد حضرت عثمان ؓ کی شہادت ہے پہلے طلحہ اور زبیر نے حضرت عائشہ کو ساتھ لے کر بصرہ کے لوگوں کو جمع کیا اور حضرت علی ؓ سے حضرت عثمان کے قاتلوں کو مانگا حضرت علی ؓ نے جواب دیا کہ تم میں کوئی شخص ان قاتلوں کا پتا لگائے تو میں ان کو سزا دے دوں گا ورنہ گھر کے اندر حضرت عثمان ؓ کی شہادت کا حادثہ ہوا حضرت عثمان ؓ کی بی بی کے سوا گھر کے اندر کوئی نہیں لیکن وہ بھی دونوں قاتلوں کو نہیں پہچانتیں پھر میں قاتلوں کو کس گواہی پر گرفتار کروں حضرت علی ؓ کے مخالف لوگوں کا یہ گمان تھا کہ حضرت علی ؓ ان دونوں شخص قاتلوں کو پہچانتے ہیں اس پر جمل اور صفین کی لڑائی ہوئی صفین کی صلح پنچایت پر جو ہوئی جن آٹھ ہزار آدمیوں کو یہ پنچایت کا فیصلہ پسند نہیں تھا وہ حضرت علی ؓ کے لشکر سے الگ ہوگئے ان ہی لوگوں کو خارجی کہتے ہیں نہروان کے مقام پر ان ہی خارجی لوگوں سے حضرت علی ؓ کی لڑائی ہوئی۔
(1 ؎ صحیح بخاری کتاب الصلح باب ماجاء فی اصلاح بین الناس الخ ص 370 ج 1 و صحیح مسلم باب مالقی النبی ﷺ من اذی المشرکین والمنافقین ص 109‘ 110 ج 2۔ )
Ayahs 49:11–1211۔ 12۔ صحیحین 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ایک بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایماندار آدمی کو چاہئے کہ یا تو نیک بات منہ سے نکالے نہیں تو چپکا رہے غرض اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ٹھٹھے بدگوئی اور غیبت سے زبان کو روکنا ایمانداری کی نشانی ہے جس طرح گالی کا منہ سے نکالنا جھوٹ بولنا امانت میں خیانت کرنا منافق کی نشانی ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کی مذمت پیٹھ پیچھے کرنا غیبت ہے صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت اگر اس شخص میں وہ مذمت کی بات موجود ہو تو کیا اس کا ذکر کرنا بھی غیبت ہے آپ نے فرمایا غیبت تو یہی ہے ورنہ ایک شخص میں کوئی بات موجود ہی نہیں ہے اگر اس کی مذمت کوئی شخص اپنے جی سے ایک بات گھڑ کے کرے تو اس کا نام بہتان ہے ترمذی 1 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خوبی اسلام کی اس شخص نے پائی جس نے بےہودہ باتوں سے اپنی زبان کو روکا اس حدیث کی سند میں ایک راوی قرۃ بن عبد الرحمن بن حبویل ہے جس کو بعض علما نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن عدی نے اس کو معتبر قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اس کی روایتوں کو صحیح ٹھہرایا ہے اور صحیح مسلم میں دوسری روایتوں کی تقویت سے اس کی روایتیں لی گئی ہیں۔ مسند امام ترمذی 2 ؎ نسائی اور ابن ماجہ کی روایت سے حضرت معاذ بن جبل کی حدیث مشہور ہے کہ حضرت معاذ بن جبل نے بڑے تعجب سے آنحضرت سے پوچھا کہ کیا حضرت زبانی باتوں پر بھی قیامت کے دن مواخذہ ہوگا آپ نے فرمایا کہ ہاں بڑا مواخذہ زبان کے سبب سے ہی ہوگا ترمذی نے اس حدیث کو صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا بعض وقت بےپروائی سے آدمی زبان سے ایسا کلمہ کہہ بیٹھتا ہے جس کے سبب سے بری طرح دوزخ میں جھونکا جائے گا حاصل کلام یہ ہے کہ بعض وقت خوش طبعی کے طور پر کسی سچی بات کا منہ سے نکالناجیسا کہ مثلاً آنحضرت نے ہنسی سے حضرت 4 ؎ انس کو دو کانوں والا فرمایا کرتے تھے یا ایک بڑھیا عورت سے آپ نے 5 ؎ فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی جب وہ عورت بہت گھبرائی تو آپ نے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جوان ہو کر جنت میں جائیں گی اسی طرح ضرورت دینی کے سبب سے نصیحت کے طور پر غیبت کے جائز ہونے کا بھی حکم ہے غرض شریعت میں جس قدر روا ہے اس سے بڑھ کر خوش طبعی بدگوئی بدگمانی خود پسندی غیبت سب حرام ہے اسی واسطے ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مسلمانوں کو منع فرمایا ہے اور اللہ کے رسول نے اپنے قول اور فعل سے امت کے لوگوں کو یہ سمجھایا ہے کہ کون سی خوش طبعی اور کون سی غیبت جائز ہے پوری تفصیل اس حدیث کی کتابوں میں ہے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ کسی مسلمان مرد کو مرد سے یا عورت کو عورت سے بےجا ہنسی دلی لگی جائز نہیں ہے کیونکہ جس سے ہنسی کی جائے ہنسی میں اس کی حقارت نکلتی ہے اب ہنسی کرنے والے کو کیا معلوم کہ یہ جس کی حقارت کے درپے ہے اللہ کے نزدیک بعض باتوں میں وہ اس ہنسی کرنے والے شخص سے بہتر ہو۔ پھر فرمایا جس طرح مسلمان مرد اور عورتوں کو آپس کی بےجا ہنسی جائز نہیں ہے اسی طرح آپس میں طعنے دینا نام رکھنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اسلام لانے کے بعد اسلام سے پہلے کی عادتوں سے کسی کو اپنانا اچھی بات نہیں ہے پھر فرمایا جو شخص ان مناہی کی باتوں سے باز نہ آئے گا تو اپنی جان پر گویا ظلم کرے گا کیونکہ یہ سب مناہی کی باتیں حق العباد کی قسم کے گناہ ہیں جن کا فیصلہ قیامت کے دن یہ ہوگا کہ ظالموں کی نیکیاں مظلوموں کو مل جائیں گی اور ظالم خالی ہاتھ دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ چناچہ صحیح مسلم 1 ؎ کے حوالہ سے ابی امامہ کی حدیث اس باب میں ایک جگہ گزر چکی ہے صحیح مسلم 2 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث جو اوپر گزری جس میں بہتان کا ذکر ہے وہ حدیث ان بعض الظن اثم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ زبردستی ایک شخص کی نسبت کوئی بدگمانی پیدا کرکے کوئی عیب اس کے ذمہ لگانا اسی کا نام بہتان ہے جس طرح مردہ کا کوئی گشت کاٹے تو اس کو خبر نہیں ہوتی اسی طرح جس کی غیبت کی جائے وہ بھی بیخبر ہوتا ہے لیکن جس طرح جسم میں سے گوشت کی بوٹی کاٹ لینے سے جسم کو زخم کی تکلیف ہوتی ہے اسی طرح بدگوئی کے لفظوں کو سن کر آدمی کے دل میں زخم پڑجاتا ہے چناچہ مثل مشہور ہے کہ برچھی کا زخم بر جاتا ہے لیکن زبان کا زبان نہیں بھرتا انہیں مناسبتوں سے غیبت کو مردہ کے گوشت کے کھانے سے مشابہت دی گئی ہے آگے فرمایا آئندہ جو کوئی ان باتوں سے توبہ کرے گا تو اللہ غفور الرحیم ہے اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ صحیح مسلم 3 ؎ میں ابوہریرہ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو مسلمان آدمی اپنے بھائی مسلمان کی حقارت اور ذلت کے درپے ہوا اس نے بہت بڑا گناہ کمایا اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیتوں میں جن باتوں کی مناہی ہے وہ سب باتیں مسلمانوں میں حقارت اور ذلت کے پھیلنے کی ہیں جو اس صحیح حدیث کے موافق بڑے وبال کی بات ہے اس لئے ہر مسلمان کو ان سب باتوں سے بہت بچنا چاہئے۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ گناہوں کی دو قسمیں ہیں ایک فقط اللہ کا گناہ ہے جیسے مثلاً نماز کا نہ پڑھنا دوسرا وہ گناہ ہے جس میں بندوں کا بھی حق ہے جیسے مثلاً غبیت کرنا اس دوسری قسم کے گناہوں کی توبہ میں صاحب حق کا راضی کردینا بھی ضروری ہے ان آیتوں میں دوسری قسم کے گناہوں کے ذکر کے بعد ان اللہ تو اب رحیم جو فرمایا اس کا مطلب یہی ہے کہ اس قسم کے گناہ کرنے کے بعد جو شخص آئندہ کے لئے خالص دل سے توبہ کرکے صاحب حق کو بھی راضی کرے گا تو اللہ غفور الرحیم اپنی رحمت سے اس کی توبہ قبول کرے گا۔
Ayah 49:1313۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ اسلام سے پہلے قریش لوگ حج سے فارغ ہونے کے بعد اپنے باپ دادا کی مدح کے شعر پڑھا کرتے تھے جس طریقہ کو اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے موقوف کردیا اسی طرح اور موقعوں پر بھی عرب میں شرافت خاندانی کے فخر کا بڑا دستور تھا اسی دستور کے سبب سے بعض قبیلے بعضوں کو حقیر جانتے تھے جس سے وہ باتیں پیش آتی تھیں جن کی مناہی اوپر کی آیتوں میں گزری اسی واسطے اس آیت میں فرمایا اے لوگو اللہ تعالیٰ نے تم سب کو ایک ماں باپ آدم اور حوا سے پیدا کیا اس لئے بنی آدم کو آپس میں بزرگی جتلانے کے لئے کوئی نئی بات پیدا کرنی چائے اپ یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ نئی بات پرہیز گاری ہے جس ذات برادری کو تم لوگ فخر سمجھتے ہو اللہ کے نزدیک وہ فخر کی چیز نہیں ہے بلکہ وہ تو فقط اس لئے ہے کہ مثلاً بنی اسرائیل اور بن اسماعیل کے کہنے سے لوگ جدا جدا پہنچانے جائیں۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہیں جس میں اللہ کے رسول ﷺ (1 نے فرمایا جس شخص کے مزاج میں پرہیز گاری زیادہ ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی زیادہ عزت والا اور شریف ہے اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ شریعت میں جن کاموں کے کرنے کا حکم ہے خالص دل سے ان کو کرنا اور جن باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنا اسی کا نام پرہیز گاری ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہی پرہیز گاری بڑی عزت کی چیز ہے اب پرہیز گاری میں دل کے خالص ہونے کی جو شرط ہے اس کا حال سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اس کا حال اللہ ہی کو خوف معلوم ہے کہ حقیقت میں کون شریف ہے۔ زبردستی جو لوگ اپنی شرافت کا دعویٰ کرتے ہیں وہ ایک بےسند دعویٰ ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔ جس طرح یہاں قوم کی بڑی جماعت کو ذات اور چھوٹی کو برادری کہتے ہیں اسی طرح عرب میں بڑی جماعت کو شعوب اور چھوٹی چھوٹی کو قبائل کہتے ہیں۔
؎ صحیح بخاری باب لقد کان فی یوسف واخوتۃ ایۃ للسائلین ص 479 ج 1۔ )
Ayah 49:1414۔ ایمان اور اسلام کے ایک ہونے اور نہ ہونے میں بڑا اختلاف قدیم سے ہے۔ امام احمد علیہ الرحمۃ اور امام شافعی علیہ الرحمۃ کا مناظرہ اس باب میں مشہور ہے امام بخاری 2 ؎ نے صحیح بخاری میں چند آیتوں اور حدیثوں سے یہی ثابت کیا ہے کہ حقیقت میں ایمان اور اسلام ایک ہی چیز ہے لیکن مجازی طور پر کبھی مسلمان ایسے شخص کو بھی کہا جاتا ہے جو ظاہری نماز روزہ کرتا ہو اور دین کی باتوں کا پورا یقین اس کے دل میں نہ ہو اور اپنے اس قول کے ثبوت میں امام بخاری نے یہی آیت پیش کی 3 ؎ ہے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس اور سلف اس (3 ؎ صحیح بخاری باب اذالم یکن الاسلام علی الحقیقتۃ الخ ص 8 ج 1۔ ) بات کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت منافقوں کی شان میں نہیں ہے یہ آیت تو بنی اسد کی شان میں اتری 4 ؎ ہے۔ یہ لوگ منافق نہیں تھے۔ بلکہ نو مسلم اور قدیم مسلمانوں کی (4۔ تفسیر الدر المنثور ص 100 ج 6۔ ) برابری کا دعویٰ کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نصیحت فرمائی جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور جب یہ آیت منافقوں کی شان میں نہ رہے گی تو اس آیت سے ایمان اور اسلام میں فرق آجائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان گنوار لوگوں کو مسلمان فرمایا ایمان دار نہیں فرمایا مگر ان سب آیتوں کو ملایا جائے تو ان آیتوں کے مضمون سے امام بخاری کے قول کی تائید نکلتی ہے کس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرقہ کی پہلے مذمت فرمائی اور پھر دوسرے فرقہ کی تعریف فرمائی ہے اور تعریف والے فرقے کے ذکر میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو دین کی باتوں میں کچھ شک و شبہ نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ مذمت والے فرقے کے دل میں دین کی باتوں کی طرف سے کچھ شک و شبہ ہے اس لئے وہ فرقہ منافق لوگوں کا تھا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سلف میں کے جو علما آیت کو بنی اسد کی شان میں بتاتے ہیں ان کے نزدیک معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ دیہاتی نو مسلم لوگ قدیمی مسلمانوں کی طرح جو اپنے آپ کو پکا ایماندار کہتے ہیں اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ قدیمی مسلمانوں کی تو طرح طرح کی جانچ ہوچکی ہے جس میں وہ ثابت قدم رہے تم لوگ تو ابھی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہو مسلمانوں کے ساتھ فقط نماز روزہ میں شریک ہوجاتے ہو تمہارے دلی اعتقاد کی مضبوطی کی جانچ ابھی کچھ نہیں ہوئی آئندہ جانچ کے وقت اگر تم لوگ بھی اللہ اور اس کے رول کے حکم پر چلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے عملوں کے بدلے میں کچھ کمی نہ کرے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے اس لئے بندوں کے نیک عملوں میں کچھ قصور رہ جائے تو وہ اپنی رحمت سے اس کو معاف کردیتا ہے سلف میں کے جو علما آیت کو قبیلہ جہنیہ مزینہ کے منافقوں کی شان میں بتاتے ہیں ان کے نزدیک معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ لوگ حدیبیہ کے سفر کی جانچ کے وقت جان بچا کر گھروں میں رہ گئے اس واسطے ابھی تو ان کی ایمانداری کا دعویٰ جھوٹا ہے آئندہ خالص دل سے یہ کچھ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے نیک عملوں کے اجر میں کچھ کمی نہ کرے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک سے روایت ہے جس میں اللہ (1 ؎ صحیح بخاری باب حلاوۃ الایمان ص 7 ج 1۔ ) کے رسول ﷺ نے فرمایا پکے ایماندار نافرمانی کی باتوں سے ایسے گھبراتے ہیں جس طرح کوئی آگ میں ڈالے جانے سے گھبراتا ہے اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ یہ دیہاتی لوگ جب تک یہ مرتبہ نہ حاصل کرلیں کہ جانچ کے وقت نافرمانی کی بات کے اختیار کرنے کو آگ میں گرنے کے برابر سمجھنے لگیں اس وقت تک یہ لوگ قدیمی مسلمانوں کی برابری نہیں کرسکتے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلا یوذ جارہ ص 889 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب تحریم ص 322 ج 2۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحد الناس ص 67 ج 2۔ )
(2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی حرمۃ الصلوۃ ص 100 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب حفظ اللسان الخ ص 959 ج 2۔ )
(4 ؎ مشکوٰۃ شریف باب المزاح ص 416۔ )
(5 ؎ مشکوٰۃ شریف باب المزاح ص 416۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص 320 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 259۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب تحریم ظلم المسلم الخ ص 317 ج 2۔ )
Ayah 49:1515۔ اوپر کچے ایمان والوں کا ذکر فرما کر اس آیت میں پکے ایمان داروں کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح زبان سے اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کا سچا اقرار کرتے ہیں دل و زبان سے مرتے دم تک اس پر قائم اور ہر طرح جان و مال سے اسلام کی ترقی میں لگے رہتے ہیں غرض یہ سچے ایماندار کسی سختی میں اپنی حالت کو نہیں بدلتے یہ لوگ ان دیہاتی لوگوں کی طرح نہیں ہیں کہ زبان سے تو انہوں نے رسول کی فرمانبرداری کا اقرار کیا اور حدیبیہ کے سفر کے وقت اپنے اس اقرار پر قائم نہیں رہے اور رسول کی حکم عدولی کرکے گھروں میں بیٹھ رہے یا اپنی جان اپنا مال بچانے کے لئے۔ تو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اور اللہ کے رسول پر اپنے اس اسلام کا الٹا احسان جتلاتے ہیں۔ صحیح 2 ؎ مسلم کے حوالہ سے سفیان ؓ بن عبد اللہ ثقفی (2 ؎ صحیح مسلم باب جامع اوصاف الاسلام ص 48 ج 1۔ ) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں سفیان ؓ نے اللہ کے رسول ﷺ سے کہا حضرت مجھ کو اسلام کی کوئی ایسی پوری بات بتا دیجئے کہ گھڑی گھڑی پوچھنے کی مجھ کو ضرورت نہ پڑے آپ نے فرمایا جن باتوں کے کرنے کا شریعت میں حکم ہے ان کے بجا لانے میں اور جن باتوں کی شریعت میں مناہی ہے ان سے بچنے میں خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری قبول کر اور پھر مرتے دم تک اس پر قائم رہ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو باتیں آیت میں پکے ایمان داروں کی نشانی کے طور پر بیان فرمائی ہیں یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان پر قائم ہوجانے کے بعد آدمی کا اسلام ایسا پکا اور پورا ہوجاتا ہے کہ پھر اس کو کسی اور بات کی اسلام میں ضرورت باقی نہیں رہتی۔
Ayah 49:1616۔ جب اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے پکے ایمان داروں کے اوصاف بیان فرمائے تو وہ دیہاتی لوگ یہ کہنے لگے کہ کسی آزمائش کے وقت معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں بھی یہ سب اوصاف موجود ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ان لوگوں کی یہ باتیں فقط زبانی تھیں ان کے دلوں میں ان باتوں کا اثر بہت کم تھا اس لئے اس آیت میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ آسمان و زمین میں جتنی چیزیں ہیں ان میں سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے پھر تم لوگ جو اپنی دین داری کا حال اللہ کو جتلاتے ہو تو تمہاری زبانی باتوں کی اور دل کے بھید کی اس کو سب خبر ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کی ظاہری حالت پر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظر تو ہیشہی انسان کے دل پر ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے وہ کس نیت سے کرتا ہے۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ دیہاتی لوگ زبان سے کچھ کہتے تھے اور دل میں ان کے کچھ اور تھا اور اللہ تعالیٰ کی نظر ہمیشہ انسان کے دل پر لگی رہتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی ظاہری زبان باتوں کو جھوٹا ٹھہرایا۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب تحریم ظلم الملم وخذلہ الخ ص 317 ج 2۔ )
Ayahs 49:17–1817۔ 18۔ ایۃ قالت الاعراب امنا۔ کی شان نزول میں قبیلہ بنی اسد کا ذکر جو گزرا یہ لوگ قحط کے زمانہ میں اپنے گاؤں سے گھبرا کر مدینہ آگئے اور اس لالچ سے دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے کہ غنیمت کے مال میں صدقہ خیرات کی چیزوں میں سے مدد ملتی رہے گی جس سے قحط کا زمانہ اچھی طرح کٹ جائے گا۔ اب اسلام لانے کے بعد یہ لوگ اپنے اسلام کا احسان جتلانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ لوگ اپنے اسلام کا احسان کسی پر نہ رکھیں ان کے اسلام سے اور کسی کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا یہی لوگ اگر سچے دل سے اسلام پر قائم رہیں گے تو ان کا عقبیٰ کا بھلا ہوجائے گا اس لئے ان لوگوں کو اللہ کا احسان ماننا چاہئے کہ اس نے ان کو نیک راستہ سے لگا دیا پھر فرمایا اگر اسی طرح دوسروں پر احسان رکھنے کے لئے یہ لوگ مسلمان رہے تو اسی طرح کا اوپرے دل کا نیک کام بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہے اور دلی ارادہ اور اوپرے دل کے لوگوں کے سب کام اللہ کی نظر میں ہیں اس واسطے یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص اوپر کے دل کے کسی نیک عمل کو دلی ارادہ کا عمل بتا دے۔ طبرانی 1 ؎ کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی صحیح روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن جب سر بمہر اعمال نامے پیش ہوں گے تو بہت سے نیک عملوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں کے اعمال ناموں میں سے نکال ڈالنے کا حکم دے گا فرشتے عرض کریں گے یا اللہ ظاہر تو ان عملوں میں کوئی خرابی نہیں معلوم ہوتی اللہ تعالیٰ فرمائے گا انسان کے دل کا حال تم کو معلوم نہیں مجھ کو خوب معلوم ہے یہ عمل نیک نیتی اور خالص عقبیٰ کے اجر کی غرض سے نہیں کئے گئے اس واسطے نامقبول ہیں۔ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کو بھی اعمال کا جو حال معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے وہ حال بھی چھپ نہیں سکتا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس علم غیب کے موافق سزا و جزا کا فیصلہ فرمائے گا۔
(2 ؎ صحیح بخاری باب اذالم یکن الاسلام علی الحقیقتۃ الخ ص 8 ج 1۔ )