Ayahs 48:1–10جس بیعت کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے اور صلح حدیبیہ کو فتح اس لئے کہتے ہیں کہ یہی صلح آخر کو فتح مکہ کا سبب قرار پائی ہے معتبر سند سے مسند بزار طبرانی مصنف ابن ابی شبیہ تفسیر عبد الرزاق وغیرہ 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے وقت قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کے امن میں تھا اور قبیلہ بنی بکر قریش کے امن میں تھا اور صلح حدیبیہ اگرچہ دس برس تک کی مدت کے لئے ہوئی تھی لیکن اس صلح کے دو برس کے بعد ان دونوں قبیلوں میں لڑائی ہوئی اور قریش نے صلح حدیبیہ کی شرط کے خلاف قبیلہ بنی بکر کو درپردہ ہر طرح کی مدد دی جب آنحضرت ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا کہ قریش شرائط صلح حدیبیہ پر قائم نہیں رہے تو آپ نے دس ہزار صحابہ کی جمعیت سے مکہ پر چڑھائی کی اور مکہ فتح ہوگیا حاصل کلام یہ ہے کہ یہ سورة اگرچہ صلح حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے نازل ہوئی ہے لیکن فتح مکہ سے دو برس پہلے اس سورة میں فتح مکہ کی خوش خبری ہے۔ اس واسطے صحیح بخاری 2 ؎ و صحیح مسلم میں عبد اللہ بن مغفل وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ کے دن بڑی خوش آوازی سے اونٹنی پر سوار ہو کر آنحضرت ﷺ نے اس سورة کو پڑھا اور اس سورة کے نازل ہونے کے وقت صلح حدیبیہ کے باب میں جب حضرت عمر (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کیا حضرت یہ صلح فتح ہے تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا کہ ہاں ‘ اس صلح کے وقت ابوجندل صحابی کا قصہ ایسا پیش آیا کہ جس وقت یہ قصہ پیش آیا تھا اس وقت بھی مسلمانوں کے دل ہل گئے تھے اور اب بھی اس قصہ کے ذکر سے ہر مسلمان کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں پوری تفصیل اس قصہ کی تو حدیث کی کتابوں میں ہے مگر صاحل اس قصہ کا یہ ہے 1 ؎ کہ ابو جندل کے اسلام لانے اور ہجرت کا ارادہ کرنے کے سبب سے ابوجندل کے باپ سہل بن عمرو نے ابو جندل کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر ابو جندل کو قید کر رکھا تھا قریش کی طرف سے جب سہل بن عمرو ابو جندل کے باپ صلح نامہ لکھوانے کے لئے آنحضرت ﷺ کے پاس حدیبیہ میں آئے تو ابو جندل نے بیڑیوں کی حالت میں ہی کسی طرح سے اپنے آپ کو مسلمانوں کے لشکر میں پہنچا کر مسلمانوں سے فریاد کی کہ مشرکوں کی ایذا سے ان کو چھوڑایا جائے لیکن صلح نامہ میں یہ شرط تھی کہ قریش میں کا جو شخص مسلمانوں میں آئے گا وہ واپس کیا جائے گا اس شرط کے موافق اسی حال میں آنحضرت نے ابو جندل کو ان کے باپ سہل کے حوالہ کیا اور اس وقت صحابہ پر جو حالت گزری وہ بیان سے باہر ہے اسی صلح کے سفر میں حدیبیہ کے سوکھے ہوئے کنویں کا پانی بڑھ جانے کا معجزہ ظہور میں آیا ہے 2 ؎ اور اس بیعت الرضوان کا سبب یہی تھا کہ آنحضرت نے حضرت عثمان کو قریش نے شہید کر ڈالا اس خبر سے آنحضرت نے صحابہ سے قریش کی لڑائی پر بیعت لی اور حضرت عثمان ؓ کی طرف سے خود اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا یہ عثمان ؓ کی بیعت 3 ؎ ہے جو سورتیں ہجرت کے وقت نازل ہوئی ہیں وہ مدنی کہلاتی ہیں اس واسطے حضرت عبد اللہ بن 4 ؎ عباس سے اس سورة کے مدنی ہونے کی روایت بیہقی وغیرہ میں ہے۔ ورنہ صحیح 5 ؎ مسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت کے موافق یہ سورة حدیبیہ کے واپس ہونے کے وقت راستہ میں نازل ہوئی ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اس حدیبیہ کے معاملہ کی ظاہر صورت اگرچہ صلح کی ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک بہت بڑی فتح ہے جس کا نتیجہ تم کو اور تمہارے ساتھ کے مسلمانوں کو آئندہ معلوم ہوجائے گا ‘ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے اس صلح کے وقت مسلمانوں کی فوج 6 ؎ چودہ ہزار کے قریب ہوگئی۔ جس کے مقابلہ سے اہل مکہ عاجز آگئے اور آسانی سے مکہ فتح ہوگیا جس طرح یہ صلح فتح مکہ کی نشانی تھی اسی طرح فتح مکہ اللہ کے رسول ﷺ کی وفات کی نشانی تھے چناچہ اذا جاء نصر اللہ والفتح میں اس کا ذکر آئے گا اس لئے اس صلح کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو یہ خوش خبری سنا دی کہ فتح مکہ کے بعد بطور شکر یہ کے کثرت سے استغفار کرنے کا جو حکم تم کو ہونے والا ہے اس کے موافق عمل کرنے سے اے رسول اللہ کے تمہارے آخری حصہ عمر کے سب گناہ اور اس سے پہلے کے سب گناہ معاف کر دے گا تاکہ تم سے جو کچھ بھول چوک ہوئی ہے اس کو یاد کرکے قیامت کے دن شفاعت کبریٰ کو اپنے ذمہ لینے میں اور انبیا کی طرح تمہیں کچھ پس و پیش نہ ہو۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں گرمی اور پسینہ کی تکلیف سے جب لوگ گھبرائیں گے تو آدم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیاء سے یہ التجا کریں گے کہ وہ لوگوں کا حساب و کتاب جلدی شروع ہوجانے کی سفارش بارگاہ الٰہی میں کریں لیکن سب انبیاء اپنی اپنی بھول چوک کو یاد کرکے اس سفارش کی جرأت نہ کریں گے ‘ آخر یہ سب اہل محشر خاتم النبیین ﷺ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اور انبیاء تو اپنی اپنی بھول چوک یاد کرکے اس کی ندامت سے اللہ تعالیٰ کے رو برو جانے اور ہماری سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرتے آپ کے اگلی پچھلی سب بھول چوک اللہ تعالیٰ نے معاف کردی ہے آپ ہی ہماری سفارش کریئے یہ سن کر آپ سفارش کریں گے اور آپ کی سفارش مقبول ہو کر حساب و کتاب شروع ہوجائے گا ‘ یہ سفارش تمام اہل محشر کے حق میں ہوگی اور گناہ گاروں کو دوزخ سے نکالنے کی سفارش فقط امت محمدیہ ؓ کے گناہ گاروں کے حق میں ہوگی اس واسطے اس سفارش کو سفارش کبریٰ کہتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں اللہ کے رسول ﷺ کے اگلے پچھلے گناہوں کے معاف کردینے کا جو احسان اللہ تعالیٰ نے جتلایا ہے اس کے سبب سے تمام اہل محشر میں جو عزت اللہ کے رسول ﷺ کو حاصل ہوگی اس کا حال اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ ؓ بن شعبہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز میں یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم ہوجاتا تھا۔ صحیح 3 ؎ بخاری وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ہر روز ستر دفعہ سے زیادہ توبہ استفغار کیا کرتے تھے ‘ کثرت عبادت اور کثرت استغفار کے حکم کی تعمیل جس کوشش سے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے تھے اس کا حال ان حدیثوں سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے آگے فرمایا کہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ اور خیبر وغیرہ کا سامان اللہ تعالیٰ نے اپنی زبردست مدد سے اس لئے کردیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے احسان کو پورا کر دے اور ان فتوحات کے سبب سے مخالف لوگوں کی شرارت کم ہو کر اللہ کے دین پر تمہاری اور مسلمان کی ثابت قدمی بڑھ جائے پھر فرمایا اس صلح کی بعض شرطوں کو اگرچہ مسلمان مضر جان کر انہیں نہیں ماننا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسا تحمل پیدا کردیا جس سے ان شرطوں کو انہوں نے مان لیا اور جب اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ان شرطوں کی فائدے ان کو نظرآئے تو اللہ کی قدرت پر ان کا ایمان بڑھ گیا ‘ پھر فرمایا اللہ کے حکم میں تو آسمان اور زمین میں کے ایسے لشکر ہیں کہ پچھلی امتوں کی طرح ان مخالف اسلام لوگوں کو جس طرح چاہے ہلاک کر دے لیکن علم الٰہی میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ فرمانبردار لوگوں کو دین کی لڑائی کے سبب سے بڑا اجر ملنے والا ہے اس لئے اس نے اپنی حکمت کے موافق صلح کی جگہ اور لڑائی کی جگہ سب باتیں مقرر کردی ہیں جن کی ہدایت اللہ کے رسول کی معرفت فرمانبردار لوگوں کو پہنچتی ہے اور اس ہدایت پر چلنا عین فرمانبرداری ہے اور فرمانبردار مرد اور عورتوں کا بدلہ ان کے گناہوں کو معاف کرکے جنت میں داخل کردینا ہے جو نیک لوگوں کے دنیا میں پیدا ہونے کا بڑا نتیجہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان لوگوں کے لئے یہی بڑی کامیابی ہے ‘ پھر فرمایا جس طرح فرمانبرداری نیک لوگوں کے جنت میں جانے کا سبب ہے اس طرح کفر اور نفاق اللہ کے غضہ اور اس کی رحمت سے دور ہونے اور دوزخ میں جانے کا سبب ہے جو بہت بڑا ٹھکانہ ہے اور یہ لوگ تو اللہ کے رسول اور مسلمانوں کے حق میں برائی سوچتے تھے کہ یہ حدیبیہ کے سفر سے صحیح و سلامت الٹے نہ پھریں گے لیکن اس برائی نے ان ہی لوگوں کو دنیا اور عقبیٰ کے چکر میں ڈال دیا دنیا میں تو یہ لوگ مسلمانوں کی ترقی دیکھ کر جلتے رہیں گے اور عقبیٰ میں ان کا انجام وہی ہوگا جو بیان کیا گیا پھر اللہ تعالیٰ اپنے نافرمان بردار بندوں سے بدلہ لینے میں بڑا زبردست ہے اور اس کے لشکر بھی طرح طرح کے ہیں وہ چاہتا تو ان کافروں اور منافقوں سے اب تک بدلہ لے لیتا لیکن اس نے اپنی حکمت سے ہر کام کا وقت مقرر کر رکھا ہے وقت مقررہ پر یہ لوگ اپنی سزا کو پہنچ جائیں گے قیامت کے دن تمام رسولوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم نے جو اپنی امتوں کو اللہ کے احکام پہنچائے تو کتنے آدمیوں نے ان احکام کو مانا اور کتنے آدمیوں نے نہیں مانا چناچہ اس کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے اسی کو فرمایا انا ارسلنک شاھدا مبشرا کے معنی فرمانبردار لوگوں کو جنت کی خوشخبری سنانے والا نذیرا کے معنی نافرمان لوگوں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرانے والا پھر فرمایا یہ خوش خبری اور ڈرانا اس لئے ہے کہ لوگ اللہ اور رسول کی باتوں کو دلی یقین سے مانیں اور رسول کی مدد اور توقیر میں اور اللہ کی عبادت میں لے رہیں جس بعیت رضوان کا اوپر ذکر تھا آگے اس بعیت کا ذکر فرمایا اور اللہ کے رسول جو کام کرتے تھے وہ اللہ کے حکم کے موافق ہوتا تھا اس واسطے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے رسول سے بیعت کر رہے ہیں ان کی بیعت گویا اللہ سے ہے پھر فرمایا جو کوئی اس بیعت کے معاہدہ کو توڑے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ بڑا اجر دے گا ‘ جن مفسروں نے اپنی تفسیروں کی بنیاد سلف کے اقوال پر رکھی ہے ید اللہ کی تفسیر اللہ کے علم پر سونپتے ہیں اور بلامشابہت مخلوقات کے اس طرح کی آیتوں کے ظاہری معنوں پر ایمان لاتے ہیں۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 76 ج 6۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب ابن رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح ص 614 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب صلح الحدیبیۃ ص 106 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب الشروط فی الجھاد ص 377 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب غزوۃ الحدیبیۃ ص 598 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب مناقب عثمان ؓ ص 523 ج 1۔ ) (4 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 67 ج 6۔ )
(5 ؎ صحیح مسلم باب صلح الحدیبیۃ ص 106 ج 2۔ )
(6 ؎ صحیح بخاری باب غزوۃ الحدیبیۃ ص 598 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة بنی اسرائیل ص 684 ج 2 و صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ ص 111 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة انا فتحنالک الایۃ ص 716 ج 2 و مسلم باب اکثار الاعمال الخ ص 377 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب استغفار النبی ﷺ فی الیوم واللیلۃ ص 933 ج 2۔ )
Ayahs 48:11–1611۔ 16۔ جب آنحضرت ﷺ نے عمرہ کی نیت سے مکہ کا ارادہ کیا تو جو لوگ ظاہر میں طرح طرح کے عذر کرکے اس سفر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور اصل میں ان کے دل میں یہ ڈر تھا کہ قریش سے لڑائی ہوگی اور مفت مارے جائیں گے اب صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت کے مدینہ واپس ہوتے وقت راستہ میں جب یہ سورة نازل ہوئی اور ان لوگوں کے منصوبے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ظاہر فرما کر ان لوگوں کو رسوا اور فضیحت کیا اور جو لوگ آنحضرت کے ساتھ حدیبیہ کو گئے تھے ان کو فتح خیبر اور غنیمت کے مال کی خوش خبری دی تو آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے اور اس سورة کی آیتیں سننے کے بعد کچھ اپنی رسوائی رفع کرنے کی غرض سے اور کچھ غنیمت کے مال کے لالچ سے اس حدیبیہ کے سفر میں نہ جانے والوں نے یہ چاہا کہ وہ بھی خیبر کی لڑائی میں آنحضرت کے ساتھ جائیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ لوگ کلام الٰہی کو بدلنا چاہتے ہیں پہلے اس سورة کی آیتوں میں یہ قرار پا چکا ہے کہ خیبر کی لڑائی میں فقط وہی لوگ جائیں گے جو حدیبیہ کے سفر میں اللہ کے رسول کے ساتھ تھے یہی تفسیر ان آیتوں کی صحیح 1 ؎ ہے۔ تفسیر ابن زید 2 ؎ وغیرہ میں کلام الٰہی سے سورة برات کی آیت جو مراد لی ہے اس تفسیر پر حافظ ابو جعفر ؓ ابن جریر اور مفسرین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ قصہ جنگ تبوک کا ہے اور جنگ تبوک فتح خیبر اور فتح مکہ سے بعد ہے پھر یہ مابعد کا قصہ ماقبل کی آیت کی تفسیر کیونکر قرار پاسکتا ہے یہ بھی فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ عذر کہ ان کے گھر میں بال بچوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا اس مجبوری سے یہ لوگ حدیبیہ کے سفر میں گئے یہ عذر بالکل جھوٹا ہے کیونکہ اگر یہ عذر سچا ہوتا تو یہ لوگ لوٹ کے مال لالچ سے خیبر کے لئے کس طرح تیار ہوگئے۔ یہ بھی فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ آسمان و زمین میں سب جگہ اللہ ہی کی حکومت ہے حدیبیہ کے سفر سے بچ کر تم اس کی حکومت سے باہر نہیں ہوسکتے جب تم گھر میں بیٹھے ہو اس وقت بھی تمہارا نفع و نقصان اس کے اختیار میں ہے لیکن وہ غفور رحیم ہے جلدی سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا ہاں ایسے لوگوں کی سزا اس نے دوزخ کی دہکتی آگ ٹھہرا رکھی ہے ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ ان ڈرپوک لوگوں کو ایسا ہی لڑنے کا شوق ہے تو آئندہ ان کو ایک سخت لڑائی والی قوم سے لڑنا پڑے گا اگرچہ مفسرین نے اس سخت لڑائی والی قوم کی تفسیر میں بڑا اختلاف کیا ہے لیکن علی ؓ بن طلحہ کی سند سے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی جو تفسیر 3 ؎ ہے۔ اس میں اس قوم سے مراد فارس کے لوگ ہیں جن سے حضرت عمر (علیہ السلام) کے زمانہ اور کچھ حضرت عثمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں لڑائی ہوئی یہ تفسیر بہت صحیح ہے کیونکہ علی ؓ بن طلحہ کی سند کی قوت و صحت اوپر بیان ہوچکی ہے آخر کو فرمایا کہ اگر اس فارس کی لڑائی میں ان لوگوں نے پہلو تہی کی تو سخت عذاب میں پکڑے جائیں گے حضرت عمر (علیہ السلام) اور عثمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں کثرت سے فتوحات ہوئیں اور اطراف مدینہ کے لوگ اس واسطے ان لڑائیوں میں جانے سے پہلو تہی نہیں کرسکے کہ حضرت عمر (علیہ السلام) کے زمانہ سے تمام لشکر اسلام کے لوگوں کے نام کی فہرست لکھی جانی شروع ہوگئی معتبر سند سے مسند امام 1 ؎۔ احمد اور نسائی میں برائ ؓ بن العازب سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ احزاب کی لڑائی کے وقت مسلمانوں کی تسکین کے لئے فتوحات اسلام کے ذکر میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ فرمایا کہ ملک شام یمن اور فارس کی کنجیاں مجھ کو مل گئیں ہیں اس حدیث کو آیتوں کی ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو ملک صحابہ کے زمانہ میں فتح ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس کا حال اپنے رسول ﷺ کو پہلے ہی بتا دیا تھا۔
( 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 189 ج 4۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 189 ج 4۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 190 ج 4۔ )
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 186 ج 5
Ayah 48:1717۔ اوپر بناوٹی عذر والوں کا ذکر تھا اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو حقیقت میں صاحب عذر ہیں جیسے اندھے لنگڑے اور بیمار کہ ان لوگوں کو دین کی لڑائی چھوڑ کر گھر میں بیٹھا رہنا جائز ہے ‘ بناوٹی عذر والوں کو سمجھانے کے بعد آخر فرمایا کہ جو کوئی اللہ اور رسول کے حکم پر چلے گا اس کے بدلہ میں جنت پائے گا اور جو کوئی اس کے برخلاف کرے گا تو سخت عذاب بھگتے گا۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے اور صحیح ابن حبان وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کم سے کم دوزخ کا عذاب یہ ہوگا کہ دوزخی شخص کے پاؤں میں آگ کی جوتیاں پہنا دی جائیں گی جس سے اس شخص کا بھیجا پگھل کر گھڑی گھڑی نکلے گا اور پھر بدل دیا جائے گا اس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ جب کم سے کم عذاب کا یہ حال ہے تو جس عذاب کو سخت فرمایا اس کا کیا حال ہوگا اس واسطے صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک کی جو روایت ہے اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوزخ کے عذاب کا پورا حال اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے تو ان کو کبھی ہنسی نہ آئے بلکہ ہر وقت وہ روتے رہیں۔
(2 ؎ صحیح مسلم باب شفاعۃ النبی ﷺ لابی طالب الخ ص 115 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب لو تعلمون ما اعلم الخ۔ ص 960 ج 2۔ )
Ayah 48:1818۔ ان آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ بیعت کرنے والے ایمانداروں سے خوش ہوا اس واسطے اس بیعت کا نام بیعت رضوان مشہور ہے صحیح 1 ؎ مسلم میں جابر ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جن لوگوں نے یہ بیعت کی ہے ان میں سے کوئی شخص دوزخ میں نہ جائے گا ‘ صحیح 2 ؎ مسلم میں جابر ؓ کی دوسری روایت ہے کہ جس پیڑ کے نیچے یہ بیعت ہوئی وہ پیڑ کی کر کا تھا اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ سوائے ایک شخص جد بن قیس انصاری کے اور سب موجودہ لوگوں نے بیعت کی یہ وہی جد بن قیس ہے جس کا ذکر سورة توبہ میں گزر چکا کہ تبوک کے سفر میں بھی یہ شخص شریک نہیں ہوا۔ معتبر سند سے طبقات ابن 3 ؎ سعد میں نافع سے روایت ہے کہ عمر ؓ (علیہ السلام) نے اس درخت کو اس لئے کٹوا ڈالا کہ لوگ اس کی تعظیم کرنے لگے تھے یہ ابن سعد چوتھی صدی کے علمائے نیشا پور میں سے معتبر علما ہیں۔ (
(1 ؎ صحیح مسلم باب استحباب مبایع الا مام الجیش الخ ص 129 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب استحباب مبایع الا مام الجیش الخ ص 129 ج 2۔ )
3 ؎ تفسیر الدرالمنثور ص 73 ج 6۔ )
Ayah 48:1919۔ اللہ کے نزدیک اس صلح میں بڑی مصلحتیں تھیں جن مصلحتوں کے سمجھنے سے انسان کی عقل قاصر ہے علاوہ اور مصلحتوں کے یہ کتنی بڑی مصلحت تھی کہ اس صلح کی جو باتیں ظاہر میں مسلمانوں کو شاق اور گراں معلوم ہوئیں آخر کو انجام ان باتوں کا مسلمانوں کے حق میں بہت اچھا ہوا چناچہ صلح حدیبیہ کی یہ شرط کہ جو شخص مشرکوں کی طرف سے صلح کی مدت کے اندر مسلمان ہو کر مسلمانوں کی طرف چلا آئے گا وہ مشرکوں کے حوالہ کردیا جائے گا بڑی سخت اور ناگوار شرط مسلمانوں کو معلوم ہوتی تھی اور اس شرط کے موافق ابو جندل اور ابو بصیر کا مشرکوں کے حوالہ کرنا مسلمانوں کو ابتدا میں شاق گزرا لیکن جب ابو بصیر اور ابو جندل نے کچھ لوگ جمع کرکے مکہ اور شام کے راستہ میں ایک جنگل میں اپنا مقام ٹھہرا لیا اور قریش کے ملک شام جانے آنے والے قافلہ کو لوٹنا شروع کیا تو قریش بہت تنگ ہوئے اور ایک مدت تک ان کی تجارت بند ہوگئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح ابتدا میں مسلمان اپنے حق میں اس شرط کو سخت گنتے تھے اس طرح قریش نے اپنے حق میں اس شرط کو سخت اور مضر گنا اور بڑی منت سے اس شرط کو منسوخ کیا اسی طرح اس صلح کی اور مصلحتیں بھی ہیں جن کی تفصیل حدیث کی کتابوں میں ہے انہیں مصلحتوں میں سے ایک یہ مصلحت تھی کہ اس صلح کے سفر میں بیعت رضوان کا موقع پیش آیا جس بیعت سے اللہ تعالیٰ خوش ہوا اور اللہ کے رسول نے بیعت کرنے والے لوگوں کو جتنی فرمایا۔ صحیح 4 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر ہمیشہ آدمی کے دل پر رہتی ہے اگر خالص دل سے نیک کام کیا جائے تو وہ قابل اجر ٹھہرتا ہے ورنہ نہیں اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ تفسیر قرار پائی کہ بیعت کرنے والوں کے دلوں میں خالص دین کی مدد کا جوش تھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ مدد کی کہ ان کے دلوں میں تحمل پیدا کردیا جس سے وہ خلاف طبیعت شرائط صلح پر راضی ہوگئے اور ان کو اس صلح میں کچھ مال نہیں ملا تھا اس لئے اس کے معاوضہ میں خیبر کی فتح ہوجانے اور وہاں سے بہت سا لوٹ کا مال آنے کی تدبیر نکال دی ‘ آخر کو فرمایا اللہ اپنی حکمت اور تدبیر میں ایسا زبردست ہے جس سے تمام جہان کا کام چلتا ہے۔ اور کوئی اس کی تدبیر کے برخلاف کچھ کام نہیں کرسکتا۔
(4 ؎ صحیح مسلم باب تحریم ظلم المسلم الخ ص 317 ج 2۔ )
(4 ؎ صحیح مسلم باب تحریم ظلم المسلم الخ ص 317 ج 2۔ )
Ayahs 48:20–2620۔ 26۔ اوپر ذکر تھا کہ جن لوگوں نے بیعت رضوان خالص دل سے کی ہے اللہ ان سے خوش ہے اور اس نیک نیتی کے کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو خیبر کی فتح انعام کے طور پر عنایت کی اور یہ حکم دیا کہ اس فتح کی غنیمت کے مال میں سوائے ان بیعت والے لوگوں کے اور کسی دوسرے کا حصہ نہیں ان آیتوں میں فرمایا جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کے غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات کی امید اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہئے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس کے بعد اللہ کے رسول اور خلفا کے زمانہ میں بہت سی فتوحات ہوئیں جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے ہے جس وقت مسلمانوں کا لشکر خیبر کی چڑھائی پر تھا اس وقت میں اسد اور غطفان قبیلہ کے لوگوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال پر حملہ کرکے ان کا مال لوٹ لیا جائے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسا رعب پیدا کردیا جس سے ان کے دلوں میں اس ارادہ کے پورا کرنے کی جرأت باقی نہیں رہی۔ اس کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی دست درازی روک دی تاکہ مسلمانوں کو یہ نمونہ ہوجائے کہ دین کی لڑائی پر جو لوگ جاتے ہیں ان کے اہل و عیال کا اللہ نگہبان ہے اسی نمونہ کے دیکھ لینے کے بعد وہ دین کی باتوں پر ثابت قدم ہوجائیں مسلمان جب عمرہ کی نیت سے مکہ گئے اور مشرکین مکہ نے ان کو روکا اور ان کا روکنا چل بھی گیا اس سے مسلمانوں کی نظر میں فتح مکہ ایک دشوار چیز معلوم ہوتی تھی اس واسطے عام فتوحات کے ذکر کے بعد خاص فتح مکہ کا یوں ذکر فرمایا کہ جو فتح تم لوگوں کے بس کی نہیں ہے وہ اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے پھر فرمایا مسلمانوں کے اس سفر میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک صلح مناسب تھی اگر یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نہ ٹھہری ہوتی کہ اس سفر میں لڑائی نہ ہوگی اور یہ مشرک لڑائی کا قصد کرتے تو ضرور ایسے بھاگتے کہ ان کا مددگار اور حمایتی کوئی پیدا نہ ہوتا کیونکہ نیکیوں کی جزا اور بدیوں کی سزا ایک دستور الٰہی ہے جو پلٹ نہیں سکتا۔ صحیح مسلم 1 ؎ میں انس بن مالک سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب مسلمان لوگ بیعت میں مصروف تھے تو مشرکین مکہ کے میں اسی آدمی مسلمانوں کے لشکر میں گھس آئے اگرچہ ان کا ارادہ حملہ کرنے کا تھا مگر مسلمانوں نے زندہ گرفتار کرلیا اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان کا قصور معاف کرکے ان کو چھوڑ دیا آخری آیت میں اسی قصہ کا ذکر فرمایا۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق فتوحات تو ضرور ظہور آئیں گی مگر یاد رکھنا چاہئے کہ نیک و بد سب کے عمل اللہ کی نگاہ میں ہیں فوحات کے خوشحالی کے بعد ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں جس سے ناشکری پائی جائے ورنہ پھر یہ فتح مندی باقی نہ رہے گی۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے عمرو ؓ بن عوف انصاری کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کی تنگ دستی کے زمانہ کا کچھ خوف نہیں ہے خوف تو اسی زمانہ کا ہے جب پچھلی امتوں کی طرح ان پر دنیا کی بہبودی زیادہ ہوجائے گی جس سے پہلے لوگوں کی طرح ان میں ناشکری کی باتیں پھیل جائیں گی جو ان کی ہلاکت کی نشانی ہے اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق فتوحات اور غنیمت کے مال سے امت محمدیہ ﷺ کو مالا مال کردیا لیکن اس خوشحالی کے زمانہ میں امت کے لوگوں میں وہی ناشکری کی باتیں پھیل گئیں جن کا اللہ کے رسول ﷺ کو اندیشہ تھا شروع اس اندیشہ کا حضرت عثمان ؓ کی خلافت سے ہوا ایک ذرا سی بات میں لوگوں نے خلیفہ عثمان ؓ کو شہید کر ڈالا حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے قصہ کا حال 2 ؎ یہ ہے کہ عثمان نے عبداللہ ؓ بن ابی سرح اپنے دودھ کے بھائی کو مصر کا حاکم کردیا تھا عبد اللہ نے مصر کے لوگوں پر جب ظلم کرنا شروع کیا اور مصر کے لوگ عثمان ؓ کے پاس عبد اللہ ؓ کے ظلم کی فریاد کو آئے تو حضرت علی ؓ کے مشورہ سے حضرت عثمان ؓ نے عبد اللہ کو معزول کرکے اس کی جگہ محمد بن عبد الرحمن حضرت ابوبکر صدیق کے پوتے کو مامور کردیا۔ یہ لوگ محمد بن عبد الرحمن کی ماموری کا حکم لے کر جب مصر کو جا رہے تھے اور محمد بن عبد بن عبد الرحمن ان لوگوں کے ساتھ تھے تو انہوں نے حضرت عثمان ؓ کے غلام کو حضرت عثمان ؓ کے اونٹ پر سوار مصر کی طرف گھبرایا ہوا جاتے دیکھا اس غلام کو گھبرایا ہوا دیکھ کر ان لوگوں نے اس سے پوچھا تو کس کام کو مصر جا رہا ہے تو اس نے کہا خلیفہ نے مجھ کو مصر کے حاکم کے پاس بھیجا ہے ان لوگوں نے پوچھا تریے پاس خلیفہ کا کوئی خط ہے تو اس نے انکار کیا اس پر ان لوگوں نے اس کی تلاشی لی تو حضرت عثمان ؓ کا مہری خط عبد اللہ ؓ بن ابی سرح کے نام نکلا جس کا مضمون یہ تھا کہ محمد بن عبد الرحمن اور ان کے ساتھیوں کو کسی حلیہ سے قتل کردیا جائے اور تاحکم ثانی عبد اللہ مصر کا حاکم رہے۔ اس خط کو دیکھ کر یہ لوگ مصر میں نہیں گئے بلکہ مدینہ کو واپس آئے اور اس خط کا حال حضرت عثمان ؓ سے جب بیان کیا گیا تو انہوں نے قسم کھا کر اس خط کے لکھنے سے انکار کیا پھر زیادہ دریافت سے معلوم ہوا کہ یہ حضرت عثمان کے چچا زاد بھائی مروان بن حکم نے لکھا تھا اور حضرت عثمان ؓ کی مہر کسی طرح اس خط پر کرکے حضرت عثمان کے غلام کو ان کے اونٹ پر بٹھا کر اس غلام کے ہاتھ یہ خط عبد اللہ بن سرح کے پاس مصر بھیجا تھا اس دریافت کے بعد مروان کے مخالف لوگ حضرت عثمان سے مروان کو مانگتے تھے اور حضرت عثمان ؓ مروان کو ان لوگوں کے حوالہ میں دینے سے تامل کر رہے تھے کہ اتنے میں نامعلوم دو شخص حضرت عثمان ؓ کے پڑوس کی دیوار پر سے حضرت عثمان ؓ کے گھر میں کو دے اور حضرت عثمان ؓ کو شہید کر ڈالا۔ یہ دونوں شخص غیر راستہ سے اس واسطے گئے کہ حضرت علی ؓ نے حضرت عثمان ؓ کے گھر کے دروازہ پر امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ کو کھڑا کردیا تھا اور تاکید کردی تھی کہ حضرت عثمان ؓ کے گھر کے اندر کوئی نہ جائے حضرت علی ؓ کے فرمانے سے حضرت امام حسن ؓ اور امام حسین ؓ ہتھیار لگائے وہاں کھڑے تھے یہ عبد اللہ بن ابی سرح وہی شخص ہے جس کے مار ڈالنے کا حکم فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول نے دیا تھا اور حضرت عثمان ؓ کی سفارش سے اس کی جان بخشی ہوئی 1 ؎ تھی۔ یہ ذکر پہلے ایک جگہ تفصیل سے گزر چکا ہے حدیبیہ کے سفر سے پہلے اللہ کے رسول ﷺ نے یہ خواب دیکھا کہ آپ مع صحابہ کے امن سے مکہ گئے ہیں اور عمرہ کی باتیں ادا کر رہے ہیں نبوت سے پہلے بھی اللہ کے رسول کے خواب کی تعبیر جلدی ظاہر ہوجایا کرتی تھی چناچہ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جس طرح ہر رات کے بعد صبح ہوتی ہے اسی طرح اللہ کے رسول کے ہر ایک خواب کے بعد تعبیر کا حال تھا حاصل کلام یہ ہے کہ اور خوابوں کی جلدی اور یقینی تعبیروں کی طرح اس خواب کی تعبیر کو خیال کیا اور چودہ سو صحابہ کو ساتھ لے کر اللہ کے رسول نے مکہ کا قصد کیا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں برس دن کے بعد اس خواب کی تعبیر کا ظہور ہونے والا تھا اس لئے مکہ کے اندر اس سال جانا نہیں ہوا مکہ کے قریب حدیبیہ نام کی ایک بستی ہے وہاں مشرکوں نے اہل اسلام کے اس عمرہ کے قافلہ کو روکا اور بڑے جھگڑے کے بعد اگلے سال عمرہ کرنے اور دس برس تک لڑائی کے موقوف رہنے پر صلح ہوئی اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ مشرکین مکہ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کہتے ہیں اتنا نہیں جانتے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ غیب سے لوگوں کے دلوں میں کعبہ کی زیارت کا شوق پیدا ہوجائے اور یہ نسل ابراہیمی کہلا کر لوگوں کو اس زیارت سے اور قربانی کے جانوروں کو منیٰ کے جانے سے روکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ کچھ چھپے ہوئے مسلمان مرد و عورت مکہ میں نہ ہوتے اور کچھ نئے لوگوں کا رحمت الٰہی سے داخل اسلام ہونا اللہ کے علم غیب میں نہ ٹھہر چکا ہوتا تو بدر کی لڑائی کی طرح اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسی مدد دیتا کہ وہ لڑ کر مکہ تہ وبالا کردیتے لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اس وقت صلح ہو کر صلح کے زمانہ میں کمزور چھپے ہوئے مسلمان مدینہ میں امن سے آن بسیں اور جو نئے مسلمان ہونے والے ہیں وہ مسلمان ہوجائیں اس لئے اگرچہ ان مشرکین مکہ نے صلح کے وقت ضد کی باتیں کیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کردیا جس سے انہوں نے مشرکوں کی ضد کی باتوں کی برداشت کی اور آخر صلح ہوگئی۔ ضد کی باتیں مثلاً صلح نامہ میں بسم اللہ کا اور محمد ﷺ کے نام کے ساتھ لفظ رسول کا نہ لکھنے دینا پھر فرمایا مسلمانوں کی بردباری کی باتیں اور مشرکوں کی ضد کی باتیں اللہ کو سب معلوم ہیں جزا و سزا کے وقت ہر ایک کا فیصلہ ہوجائے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے جو روایتیں ہیں ان میں اس صلح حدیبیہ کی تفصیل زیادہ ہے اور وہی روایتیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا زہری 2 ؎ نے کلمۃ التقوی کی تفسیر بسم اللہ الرحمن الرحیم قرار دی حاصل مطلب اس تفسیر کا یہ ہے کہ مسلمانوں نے صلح نامہ کو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کرنا چاہا لیکن مشرکین مکہ ضد سے اس پر رضا منہ نہیں ہوئے۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب قول اللہ تعالیٰ وھو الذی کف ایدیہم عنکم الایۃ ص 116 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب مایحذر من زھرۃ الدنیا۔ الخ ص 950 ج 2۔ )
(2 ؎ اس قصہ کے بہت سے اجزا تاریخی حقائق کے خلاف ہیں اور تھوڑے سے تامل سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ سب باتیں صحابہ کرام کو اور خاص کر حضرت عثمان کو بدنام کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ )
(1 ؎ سنن ابو داؤود کتاب الحدود باب الحکم فیمن ارتد ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ص 2 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب غزوۃ الحدیبیۃ ص 598 و 600 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 194 ج 4۔ )
Ayahs 48:27–2827۔ 28۔ اللہ کے رسول کے جس خواب کا ذکر اوپر گزرا جب حدیبیہ پر اسلامی قافلہ کے روکے جانے سے اس حدیبیہ کے سفر میں اس خواب کی تعبیر ظہور میں نہیں آئی تو اس خواب کے باب میں منافق طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ سچا خواب دکھایا ہے کہ تم مسلمان لوگ مسجد حرام میں امن وامان سے جاؤگے اور عمرہ کی سب باتوں سے فارغ ہو کر احرام کی حالت سے باہر آنے کے لئے کوئی سر منڈوائے گا اور کوئی بال کترائے گا اس خواب کی تعبیر کو اگلے سال تک ملتوی رکھا کہ اس سال اللہ تعالیٰ نے صلح جو کرا دی ہے جو فتح مکہ کا گویا پیش خیمہ ہے اس صلح کی مصلحت اللہ کو خوب معلوم ہے تم کو معلوم نہیں پھر فرمایا اس بات کا اللہ گواہ ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور دین محمدی کو اللہ تعالیٰ پچھلے سب دینوں پر غالب کرے گا فعلم ما لم تعلموا کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جب کمزور چھپے ہوئے مسلمان مدینہ میں امن سے آ بیٹھیں گے اور مشرکین مکہ میں سے جو لوگ نئے مسلمان ہونے والے ہیں وہ مسلمان ہوجائیں گے اس وقت اس خواب کی پوری تعبیر ظہور میں آئے گی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق یہی بات ظہور میں آنے والی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے صلح کرا دی یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ اس صلح کے شرائط میں فتور پڑجانے سے اللہ کے حکم سے اللہ کے رسول ﷺ نے صلح کی مدت کے اندر مکہ پر چڑھائی کی اور مکہ کو فتح کرلیا اسی سبب سے صلح کو فتح فرمایا یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ محمد ﷺ کے نام کے ساتھ لفظ رسول لکھنے پر مشرکین مکہ نے بہت شور مچایا اس پر اللہ تعالیٰ دین محمدی ﷺ کو بہت پھیلائے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اور معجزوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کا معجزہ مجھ کو ایسا دیا ہے جس سے مجھ کو امید ہے کہ قیامت کے دن میری امت کے نیک لوگوں کی تعداد اور امتوں کے نیک لوگوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی اس حدیث کو لیظھرہ علی الدین کلہ۔ کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حصل یہ ہے کہ اور آسمانی کتابوں کی ہدایت کی باتیں بھی قرآن شریف میں ہیں اور نئی باتیں بھی ہیں اس لئے اور آسمانی کتابوں کو قرآن نے منسوخ کردیا کیونکہ اکیلے قرآن کی ہدایت کے غلبہ سے قیامت کے دن قرآن کے پیرو اور آسمانی کتابوں کے پیروؤں سے زیادہ ہوں گے اس واسطے قرآن ہی پہلی کتابوں پر غالب ٹھہرا۔
(1 ؎ صحیح بخاری کتاب فضائل القران باب کیف نزل الوحی ص 744 ج 2۔ )
Ayah 48:2929۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی رسالت کو اپنی گواہی سے ثابت کیا ہے ان آیتوں میں حضرت محمد ﷺ کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے لوگوں بتایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس رسول کی رسالت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی گواہی سے ثابت کیا ہے ان کا نام محمد ﷺ ہے آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے صحابیوں کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ آپس میں تو بڑی نرم دلی سے رہتے ہیں اور جوش اسلام کے سبب سے منکر شریعت لوگوں کے ساتھ زور آوری سے پیش آتے ہیں اکثر اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں اور ان کی وہ عبادت عقبیٰ کے اجر اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی نیت سے ہوتی ہے دنیا کے دکھاوے کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا کثرت عبادت سے ان کے چہروں پر نور برستا ہے علاوہ قرآن کے ان لوگوں کے اوصاف توراۃ اور انجیل میں بھی بیان کئے گئے ہیں سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات ملی تو اس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سے اوصاف امت محمدیہ کے لکھے ہوئے پائے متی اور لوقا کی انجیل میں اسی کھیتی کی مثال کا اسی طرح ذکر ہے جس طرح اس آیت میں ہے حاصل مطلب اس مثال کا یہ ہے کہ جس طرح کھیتی کے درخت شروع میں کم زور ہوتے ہیں پھر زورپکڑ جاتے ہیں یہی حال خاتم الانبیا ﷺ کے صحابہ کا ہے کہ ہجرت سے پہلے بالکل کمزور تھے پھر ہجرت کے بعد اللہ نے ان کو زور آور کردیا تھا کہ مخالف لوگ ان کا زور دیکھ کر جل جائیں۔ آخر کو فرمایا ان میں سے جو لوگ ایمانداری اور نیک عملی پر قائم رہیں گے ان کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور ان کی نیتوں کا بڑا اجر ملے گا صحیح بخاری 1 ؎ میں اسماء بنت ابی بکر صدیق سے اور مسند امام احمد مستدرک وغیرہ میں عبد اللہ بن زبیر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طلاق دی ہوئی بیوی قیلہ شرک کی حالت میں اپنی بیٹی اسماء کے پاس مکہ سے مدینہ ملنے آئیں اور کچھ تحفہ بھی اپنے ساتھ لائیں لیکن اسماء نے اپنی مشرک ماں کو گھر میں آنے دیا نہ اپنی ماں کا تحفہ لیا آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ جوش اسلام کے سبب سے منکر شریعت لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں ان روایتوں سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ مرد صحابہ تو درکنار صحابیہ عورتوں کو بھی یہاں تک جوش اسلام تھا کہ اسماء اپنی مشرک ماں سے نہیں ملیں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ سے اور صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے جو روایتیں ہیں انکا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن حوض کوثر پر سے بعض مرتد صحابہ کو فرشتے کھینچ کر دوزخ میں لے جائیں گے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے سب صحابہ سے اجر عظیم کا وعدہ جو نہیں فرمایا یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد بعض صحابہ کا اسلام پر قائم نہ رہنا ٹھہرچکا تھا۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ کی روایت سے حدیث قدسی اوپر گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنتی لوگوں کے لئے جنت میں وہ نعمتیں پیدا کی گئی ہیں کہ جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال آسکتا ہے آیت میں جنت کو اجر عظیم جو فرمایا یہ حدیث قدسی گویا اس کی تفسیر ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب صلۃ المراۃ امھا ولھا زوج ص 884 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری کتاب الحوض ص 974 ج 2 و صحیح مسلم باب اثبات الحوض لنبینا ﷺ ص 449 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ ص 460 ج 1۔ )