Ayahs 47:1–31۔ 3۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اللہ کی وحدانیت کے راستہ سے روکتے ہیں وہ مثلاً رشتہ داروں کے ساتھ سلوک یا حاجیوں کو پانی پلانا یا اور بعض ایسے نیک کام جو دنیا کی رسم کے طور پر کرتے ہیں عقبیٰ کے اجر کے لحاظ سے ایسے لوگوں کے وہ سب نیک عمل رائیگاں ہیں کیونکہ قیامت اور عقبیٰ کے اجر کے یہ لوگ قائل نہیں ہیں اس لئے ان کے جو نیک عمل ہیں وہ فقط دنیا کی رسم کے طور پر ہیں جو بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے اور عقبیٰ کے اجر کے قائل نہیں ہیں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں حضرت عمر ؓ کی مشہور حدیث ہے۔ جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شریعت کے ہر کام میں نیت معتبر ہے نیت دل کے ارادہ کا نام ہے مشرک کے دلی ارادہ میں نیک عمل کرتے وقت اللہ کی توحید نہیں ہوتی اس لئے نہ مشرک شخص اللہ کی شان کو پہچان سکتا ہے نہ خالص اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے اس کا کوئی نیک کام ہوتا ہے بلکہ شرک میں گرفتار ہونے کے سبب سے ایسے لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ شیطان کے بہکانے سے کرتے ہیں جو بارگاہ الٰہی میں کسی طرح قبول ہونے کے قابل نہیں حاصل کلام یہ ہے کہ مشرکین مکہ نہ اللہ تعالیٰ کی شان پہچانتے تھے نہ عقبیٰ کے اجر کے قائل تھے اسی واسطے فرمایا ایسے لوگ شرک اور انکار حشر کے سبب سے کسی نیک عمل کا اجر عقبیٰ میں نہیں پاسکتے آگے ان مشرکوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اللہ کے کلام اللہ کے رسول اور عقبیٰ کی سزا و جزا کو مانتے ہیں تو ان کے نیک عمل اللہ کی بارگاہ میں ایسے مقبول ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیک عملوں کے طفیل سے ان کے گناہوں کو معاف فرما کر ہمیشہ نیک کاموں میں لگے رہنے کی ان کو توفیق دیتا ہے صحیح مسلم کے 1 ؎ کے حوالہ سے عمرو ؓ بن اعلاص کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو شخص شرک سے باز آ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو اس کے اسلام سے پہلے کے کبیرہ صغیرہ سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس طرح کسی شخص کے دروازہ پر نہر ہو اور وہ دن میں پانچ دفعہ نہائے تو اس کے بدن پر کچھ میل نہیں رہتا اسی طرح پانچوں وقت کی نمازوں سے صغیرہ گناہ باقی نہیں رہتے صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ کی دوسری حدیث ہے جس میں خالص دل کی توبہ سے کبیرہ گناہوں کے معاف ہوجانے کا ذکر ہے حاصل کلام یہ ہے کہ آیتوں میں ایمان اور نیک عملوں کے بعد گناہوں کے معاف ہوجانے کا ذکر ہے اس کی تفسیر ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص شرک سے باز آ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو اس کے اسلام سے پہلے کے صغیرہ کبیرہ سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اسلام کے بعد صغیرہ گناہوں کے معافی کے لئے نماز روزہ کی پابندی کافی ہے اور کبیرہ گناہوں کی معافی کے لئے خالص دل کی توبہ ضرور ہے آگے فرمایا کہ منکر شریعت لوگوں کے نیک عملوں کا رائیگاں جانا اور ایماندار لوگوں کے نیک عملوں کے طفیل سے ان کے گناہوں کا معاف ہونا اس سبب سے ہے کہ منکر شریعت لوگ شیطان کے کہنے پر چلتے ہیں اور ایماندار لوگ اللہ کے حکم پر چلتے ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ یوں مثالیں بیان کرکے لوگوں کو سمجھاتا ہے تاکہ لوگ اپنے بھلے برے کو سمجھیں۔
(2 ؎ صحیح بخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ص 2 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ الخ ص 76 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب الصلوۃ الخمس کفارۃ الخ ص 76 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب قبول التوبۃ من الذنوب ص 2357 ج 2۔ )
Ayahs 47:4–64۔ 6۔ اس آیت میں قیدیوں کے بغیر بدلہ لینے کے اور بدلہ میں کچھ چیز لے کر چھوڑ دینے کا حکم ہے اور سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ بدر کی لڑائی میں آنحضرت ﷺ نے قیدیوں سے فدیہ لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی ناخوشی ظاہر فرمائی تھی اس سے صاف معلوم ہوا کہ بدر کی لڑائی تک قیدیوں کو فدیہ لے کرچھوڑنے کا حکم نہ تھا بدر کی لڑائی کے بعد یہ حکم نازل ہوا ہے اور یہ سورة مدنی ہے۔ اسی واسطے امام المفسرین 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا ہے کہ یہ سورة مدنی ہے سعید بن جبیر اور بعض اور مفسرین نے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے اس باب میں اختلاف کرکے یہ جو کہا ہے کہ یہ سورة مکی ہے یہ قول صحیح نہیں ہے بعض مفسروں نے آیت فاقتلوا المشرکین حدیث وجد تموھم سے اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے لیکن صحیح قول اکثر مفسرین کے نزدیک ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے وہ مقابلہ کے وقت کا حکم ہے اور یہ قید کے وقت کا حکم ہے اب رہی یہ بات کہ قید کے بعد قیدی کے قتل کرنے کا بھی حکم ہے یا نہیں صحابہ کے زمانہ سے اب تک اس میں اختلاف ہے لیکن اللہ کے رسول کا فعل مشرک قیدیوں سے فدیہ لینے کا بھی پایا جاتا ہے اور بغیر فدیہ کے چھوڑ دینے کا بھی اور قیدیوں کے قتل کا بھی چناچہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ کا لینا اور بنی قریظہ اور عبد اللہ بن خطل کو قید کے بعد قتل کرنا اور ثمامہ بن اثال کو بغیر فدیہ کے چھوڑ دینا یہ سب قصے صحیح بخاری 2 ؎ وغرغہ کی صحیح حدیثوں میں ہیں۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جن ایماندار لوگوں کا اوپر ذکر تھا ان کو حکم ہے کہ مقابلہ کے وقت مخالفوں سے خوف لڑو اور پوری لڑائی کے بعد دشمن تمہاری قید میں آجائیں تو ان کو اچھی طرح حفاظت سے رکھو تاکہ موقع پا کر وہ تمہارے کچھ آدمیوں کو مار کر نہ بھاگ جائیں جبکہ یہ قیدی فرمانبرداری نہ قبول کریں خواہ انکو کچھ معاوضہ لے کر چھوڑ دو یا بغیر معاوضہ کے ‘ پھر فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے پچھلے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا وہ چاہتا تو حال کے نافرمان لوگوں کو بھی بغیر تمہارے لڑنے بھرنے کے کسی عذاب سے ہلاک کردیتا لیکن دین کی لڑائی میں اللہ تعالیٰ کو اہل اسلام کی ثابت قدمی کا حال جانچنا منظور ہے پھر فرمایا دین کی لڑائی میں جو لوگ مارے جائیں گے ان کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی مرتے دم تک اللہ تعالیٰ ان کو نیک راستہ پر رکھے گا اور ہر طرح غیب سے ان کی مدد ہوگی اور مرنے کے بعد ان کو جنت کے انعالی مقاموں میں داخل کیا جائے گا جو مقام ان کو پہلے سے جتلا دیئے جائیں گے۔ مجاہد 3 ؎ نے عرفھا لھم کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ اہل جنت اپنے مقاموں کو جنت میں جانے سے پہلے جان لیں گے۔ صحیح 4 ؎ بخاری میں ابو سعید ؓ خدری کی اسی مضمون کی ایک حدیث ہے جس سے مجاہد کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے مستدرک 5 ؎ حاکم میں عبد اللہ بن سلام سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے اللہ کے فرشتے جنت کے مقاموں کا سب پتہ اور نشان اہل جنت کو اچھی طرح بتا دیں گے حاکم نے عبد ؓ اللہ بن سلام کی اس حدیث کو صحیح کہا ہے عبد ؓ اللہ بن سلام کی اس حدیث سے ابو سعید خدری کی حدیث اور مجاہد کے قول کا یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ جنت میں داخل ہونے سے پہلے اہل جنت اپنے جنت کے مقاموں سے واقف ہوجائیں گے۔
Ayahs 47:7–107۔ 10۔ اوپر مسلمانوں کو حکم تھا کہ جب منکر شریعت لوگوں سے مقابلہ ہو تو خوب دل کھول کر لڑو ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے ایماندار لوگو اگر تم اوپر کے حکم کے موافق عمل کرکے اللہ کے دین کو مدد دو گے تو اللہ تعالیٰ غیب سے ہر طرح تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی کے وقت تمہارے دل میں ایسی جرأت پیدا کر دے گا جس سے تمہارے قدم میدان جنگ میں جم جائیں گے جس طرح بدر کی لڑائی میں آسمان سے فرشتے بھیج کر اس نے تمہاری مدد کی اور میدان جنگ میں تمہارے قدم جما دیئے۔ آگے فرمایا جو لوگ اللہ کے دین کے منکر اور اس کے کلام کو جادو بتاتے ہیں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ لشکر اسلام کا رعب پیدا کر دے گا اس لئے میدان جنگ میں ان کے قدم نہیں جمیں گے بلکہ ایسے لوگ ہمیشہ ٹھوکریں کھاتے رہیں گے اور ان کی سب کوشش رائیگاں جائے گی تعس کے معنی ٹھوکر کھا کر اوندھے منہ گر پڑنے کے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دین کے منکر ہیں وہ اسلام کی مخالفت کی لڑائی میں اور اسی طرح ہر کام میں ٹھوکریں کھا کر گرتے اور ہلاک ہوتے رہیں گے یہ ویسا ہی خفگی کا ارشاد ہے جیسا عبس و تولی میں قتل الانسان ما اکفرہ فرمایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ناشکرا انسان مارا جائے صحیح بخاری 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے بھی عقبیٰ سے غافل دنیا داروں کے حق میں تعس عبد الدینار والدراھم کے لفظوں سے خفگی کے طور پر بددعا فرمائی ہے جس کا مطلب یہ ہے اشرفی اور روپیہ کے ایسے غلام جن کو سوائے مال کے جمع کرنے کے دنیا میں اور کچھ کام نہیں ایسے وگ اوندھے منہ گر کر ہلاک ہوجائیں گے آگے فرمایا یہ خفگی ان لوگوں پر اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ اللہ کے کلام کے منکر ہیں اور ایسے لوگوں کے نیک کام شرک کے سبب سے رائیگاں جائیں گے پھر فرمایا ان لوگوں نے ملک شام کے سفر میں قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں کیا نہیں دیکھیں اگر نہیں دیکھیں تو اب دیکھ لیں اور یہ یاد رکھیں کہ ان نافرمان قوموں کے قدم بقدم چلنے والوں پر وہی آفتیں آنے والی ہیں جو ان قوموں پر آچکی ہیں۔
Ayahs 47:11–1211۔ 12۔ سورة انعام میں اللہ تعالیٰ نے عام طور پر سب نیک و بد لوگوں کی قبض روح کا ذکر فرما کر اس کے بعد فرمایا ہے ثم ردوا الی اللہ مولاھم الحق جس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد نیک بد سب اللہ کے سامنے جائیں گے کیونکہ وہ سب کا مالک ہے اور ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ ایمانداروں کا اللہ مولیٰ ہے اور کافروں کا مولیٰ نہیں ہے بعض مفسروں نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ان دونوں آیتوں کے معنوں میں مطابقت نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کا مولیٰ ہے اور سورة انعام کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایماندار اور کافر سب کا مولیٰ ہے اس شبہ کا جواب مفسروں نے یہ دیا ہے کہ سورة انعام میں حشر اور حساب اور کتاب کے ذکر کا موقع تھا اور قیامت میں حساب اللہ تعالیٰ نیک و بد سب سے لے گا اسی واسطے وہاں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک نیک و بد کے حساب کا مالک ہے اور یہاں مدد کا موقع ہے اور کافروں کا کفر اللہ کو پسند نہیں اسی واسطے یہاں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فقط ایمانداروں کا مددگار ہے تفسیر قتادہ سے معلوم ہوا ہے کہ احد کی لڑائی میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی اس وقت مسلمانوں کی تسکین کے لئے یہ دونوں آیتیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہیں تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی تیر انداز لوگوں نے جو کی اسی سبب سے اس لڑائی میں شکست ہوگئی ہے اگر ایماندار اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری پر آئندہ یہ لوگ پورے قائم رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کا کارساز ہے ان کو اور لڑائیوں میں فتح نصیب کرے گا یہ تیر اندازوں کی نافرمانی کا قصہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ احد کی لڑائی کے شروع ہونے سے پہلے اللہ کے رسول ﷺ نے پہاڑ کے ناکہ پر پچاس تیر انداز کو تعناحت کردیا تھا اور اس ناکہ کے قابو رکھنے کی بہت تاکید کردی تھی لیکن لڑائی کے شروع ہونے کے بعد تیر اندازوں نے وہ ناکہ چھوڑ دیا جس سے دشمنوں نے لشکر اسلام کی پشت پر سے بھی حملہ کردیا اور مسلمانوں کی شکست ہوگئی اوپر فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کی دنیا کی مدد اور خفگی کا ذکر فرما کر آگے دونوں فریق کا عقبیٰ کا انجام بیان فرمایا کہ فرمانبردار لوگوں کے لئے عقبیٰ میں جنت ہے اور نافرمان لوگ چوپایوں کی طرح چند روز دنیا کی چیزوں کو برت لیں اور جو کچھ کھانا ہے کھا لیں پھر عقبیٰ میں ان کا انجام دوزخ ہے عقبیٰ کے منکر لوگوں کی مثال چوپایوں کی اس واسطے فرمائی کہ جس طرح چوپایوں کی زندگی کا مدار فقط دنیا کے کھانے پینے پر ہے وہی حال عقبیٰ کے منکر لوگوں کا ہے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوزخ کے عذاب کا جو حال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ حال لوگوں کو معلوم ہوجائے تو لوگوں کو ہنسی کم آئے اور ہر وقت ان کو رونے سے کام رہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں وہ وہ نعمتیں پیدا کی گئی ہیں جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ان حدیثوں سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ ان آیتوں یا اور آیتوں میں جنت اور دوزخ کا جو ذکر ہے اس کی پوری تفسیر طاقت انسانی سے باہر ہے۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 46 ج 6۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب مرجع النبی ﷺ من الاحزاب ص 591 ج 3 و باب این رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح 214 ج 2 و باب وفدبی حنیفۃ و حدیث ثمامد بن اثال ص 627 ج 2۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 174 ج 4۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری باب قصاص الظالم ص 33 ج 1۔ )
(5 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 174 ج 4 بحوالہ ابن ابی حاتم۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب مایتقی من فتنۃ المال الخ ص 952 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب قول النبی لو تعلمون ما اعلم الخ 96 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری با ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ ص 460 ج 1۔ )
Ayah 47:1313۔ مسند 3 ؎ ابو یعلی موصلی میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت کے وقت جب آنحضرت ﷺ مکہ سے نکلے تو آپ نے مکہ کی طرف پھر کر دیکھا اور فرمایا کہ دنیا بھر کے شہروں سے زیادہ یہ شہر مجھ کو زیادہ پیارا اور عزیز ہے اگر قریش لوگ زبردستی مجھ کو اس شہر سے نکالتے تو میں ہرگز اس بستی سے نہ نکلتا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ قریش سے زیادہ صاحب قوت صاحب شوکت قوموں کو اللہ تعالیٰ نے بڑی ذلت اور خواری سے ایک دم میں طرح طرح کے عذابوں سے ایسا ہلاک کردیا کہ کوئی ان لوگوں کی کچھ حمایت اور مدد نہ کے گا اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے تو وہی ذلت و خواری گویا ان کے سر پر بھی سوار ہے چناچہ اللہ کے وعدہ کے موافق دس برس کے اندر وہی ہوا کہ جن بتوں کی حمایت میں ان بت پرستوں نے اللہ کے رسول کو اللہ کے گھر نکالا تھا وہ بت فتح مکہ کے وقت توڑے گئے بڑے بڑے بت پرست جنگ بدر میں گور و کفن نہایت ذلت و خواری سے مارے گئے بعض مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ حجتہ الوداع کے وقت جب آنحضرت ﷺ نے مکہ چھوڑا تو آپ مکہ کی طرف دیکھ کر روئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس شان نزول پر اکثر مفسرین نے یہ اعتراض کیا ہے کہ حجتہ الوداع کے وقت تو مکہ فتح ہوچکا تھا پھر فتح کے بعد جس آئندہ کی تسکین کا اس آیت میں ذکر ہے اس کی ضرورت کیا تھی اور فتح مکہ اور مکہ میں اسلام پھیلنے کے بعد آنحضرت کو مکہ کے چھوڑنے کا رنج ہی کیا تھا غرض آیت کے مضمون سے پہلا ہی شان نزول صحیح ہے کیونکہ شان نزول سبب نزول کو کہتے ہیں اور سبب نزول آیت کے مضمون اور مطلب کے مخالف ممکن نہیں ہے علمائے مفسرین کے نزدیک سلف کا یہ مذہب مشہور ہے کہ ہجرت کے بعد خود مکہ میں بھی جو آیتیں نازل ہوئی ہیں وہ مدنی ہیں اس واسطے یہ آیت بھی مدنی کہلاتی ہے مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکش بدر کی لڑائی میں جو مارے گئے اس کا قصہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی روایت ہے اور بتوں کے توڑنے جانے کا قصہ صحیح بخاری کی 2 ؎ عبد اللہ بن مسعود اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایتوں سے اوپر گزر چکا ہے۔
( 3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 175 ج 4۔ )
1 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد ہذا ص 220 و ص 197۔ )
(2 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد ہذا ص 220 و ص 197۔ )
Ayahs 47:14–1914۔ 19۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں انکے پاس یہ سند ہے کہ انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو لائق تعظیم و عبادت بھی وہی وحد لاشریک ہے اور جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان کے پاس شرعی یا عقلی کوئی سند نہیں ہے بت پرستی جیسی بری چیز کو شیطان نے ان کی نظر میں اچھا کر کے دکھا دیا ہے۔ اس لئے وہ لوگ اسی شیطانی وسوسوں پر چلتے ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح میں سے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا رنج ان کے رشتہ داروں اور معتقدوں کو بہت تھا شیطان نے ان لوگوں کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی شکل کی مورتیں بنا کر رکھ لی جائیں تاکہ ان مورتوں کی آنکھوں کے سامنے رہنے سے ان نیک لوگوں کی آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج کم ہوجائے اور قوم کے لوگوں نے اس کے موافق عمل کیا اب ان لوگوں کی دو تین پشت کے بعد ان کی اولاد کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ یہ مورتیں نیک لوگوں کی ہیں جو کوئی ان مورتوں کی پوجا کرے گا تو وہ نیک لوگ اللہ کی بارگاہ میں اس کی سفارش کریں گے اس وسوسہ سے دنیا میں بتوں کی پوجا جاری ہوگئی برے کام کو جو شیطان لوگوں کو اچھا کرکے دکھاتا ہے اس حدیث سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اس ملعون نے بت پرستی جیسے برے کام کو کس طرح اچھا کرکے لوگوں کو دکھایا جس سے لوگ اس ملعون کے دھوکے میں آگئے حاصل کلام یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں وہ شیطانی وسوسہ کے سبب سے اپنے دل کی خواہش پر چلتے ہیں اسی کو واتبعوا اھواء ھم فرمایا جن دو گروہ کا آیت میں ذکر تھا ان دونوں کے آخرت کے انجام کا آگے ذکر فرمایا کہ خالص اللہ کی عبادت کرنے والے گروہ کو جنت میں داخل کیا جائے گا جس میں دودھ شراب اور شہد کی نہریں بہتی ہوں گی اور فصل اور بےفصل کے میوے وہاں موجود ہوں گے اور ان نعمتوں کا حساب و کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بالکل معاف ہوگا اور دوسرے گروہ کا یہ حال بیان فرمایا کہ وہ لوگ ہمیشہ آگ میں جلیں گے اور پیاس کے وقت ایسا کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جائے گا جس سے ان کی انتڑیاں کٹ کٹ کر نکل پڑیں گی سورة الصافات میں گزر چکا ہے کہ پہلے ان لوگوں کو سینڈھ کا پھل کھلایا جائے گا پھر یہ کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا اس لئے یہاں مختصر طور پر دوزخیوں کے پانی کا ذکر فرمایا ان کے کھانے کا کچھ ذکر نہیں فرمایا صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی روایت دوزخ کے عذاب کے باب 1 ؎ میں اور ابوہریرہ ؓ کی روایت جنت کی نعمتوں کے باب 2 ؎ میں گزر چکی ہیں۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ دوزخ کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کی پوری تفسیر علمائے امت کے علم کی حد سے باہر ہے دنیا کی نہروں میں دنوں تک پانی رہے تو اس میں بو آنے لگتی ہے دنیا کا دودھ زیادہ رہنے سے کھٹا ہوجاتا ہے دنیا کی شراب میں تلخی ہوتی ہے دنیا کا شہد بغیر چھانے کے صاف نہیں ہوتا اس واسطے فرمایا کہ جنت کے پانی دودھ شراب اور شہد میں یہ باتیں نہ ہوں گی اب بت پرستوں کے ذکر کے بعد منافقوں کا ذکر فرمایا کہ وہ اگرچہ قرآن کی آیتوں کو سنتے ہیں اور جب اے رسول اللہ کے یہ لوگ تمہاری مجلس سے نکلتے ہیں تو جو لوگ قرآن کی آیتوں کو دھیان سے سنتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ ابھی اللہ کے رسول نے کون سی آیت پڑھی ہے پھر فرمایا بت پرستوں کی طرح یہ منافق لوگ بھی اللہ کے حکم پر نہیں چلتے بلکہ اپنے دل کی خواہش پر چلتے ہیں اس لئے ان کے دل پر مہر کی طرح زنگ لگ گیا ہے جس سے قرآن کی نصیحت کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی 3 ؎ نسائی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس وقت کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر داغ پڑجاتا ہے پھر اگر اس گناہ کے بعد اس شخص نے خالص دل سے آئندہ کے لئے توبہ کرلی تو وہ گناہ معاف ہوجاتا ہے اور داغ دل پر سے جاتا رہتا ہے اور گناہ پر گناہ کرنے سے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ جو لوگ مرتے دم تک کفر و نفاق سے توبہ نہیں کرتے انکے دل پر کے زنگ کا کیا حال ہوگا اسی کو دل پر کی مہر فرمایا منافقوں کے ذکر کے بعد ایماندار لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ قرآن کی نئی نئی نصیحت سے روز بروز ان کی ہدایت اور پرہیز گاری بڑھتی جاتی ہے آگے فرمایا جب یہ بت پرست اور منافق لوگ قرآن کی نصیحت کو نہیں مانتے تو ان کو دوسرے صور کا انتظار کرنا چاہئے جس کے پھونکے جاتے ہی قبروں سے نکل کر یہ لوگ حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوجائیں گے اور قرآن کی نصیحت کے نہ ماننے کا خمیازہ بھگت لیں گے پھر فرمایا یہ وقت بھی اب کچھ دور نہیں کیونکہ بڑی نشانی قیامت کی نبی آخر الزمان کے نبی ہونے کی ہے جس کا ظہور ہوچکا اب نبی آخر الزمان کے بعد کوئی نبی نہیں جس کی نصیحت کو یہ لوگ مانیں گے اس لئے نبی آخر الزمان کی نصیحت کو جو لوگ نہیں مانتے ان کو دوسرے صور کا انتظار کرنا چاہئے لیکن جب وہ وقت آجائے گا پھر اس وقت کا پچھتاوا کچھ کام نہ آئے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں سہل ؓ بن سعد اور انس بن مالک سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی دو انگلیاں کھڑی کرکے فرمایا جس طرح یہ دونوں انگلیاں پاس پاس ہیں اسی طرح میرا نبی ہونا اور قیامت کا آنا پاس پاس ہے اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ نبی آخر الزمان کا پیدا ہونا اور نبی ہونا قیامت کے قریب ہونے کی بڑی نشانی ہے صحیح حدیثوں میں قیامت کے قریب ہونے کی اور نشانیاں بھی اللہ کے رسول نے بیان فرمائی ہیں مثلاً علم دین کا کم ہوجانا شراب خواری اور بدکاری کا پھیلنا عورتوں کا زیادہ ہونا دونوں کا جلدی گزرنا امانت میں خیانت کا ہونا مینہ کا برسنا اور پیداوار کا پھر بھی کم ہونا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہراکر امت کے لوگوں کو سمجایا کہ خالص اللہ کی عبادت پر ہر ایک کو قائم رہنا چاہئے اور یہ بھی فرمایا کہ امت کو سکھانے کے لئے تم اپنی بھول چوک کی بھی اللہ تعالیٰ سے معافی چاہا کرو امت کے مرد اور عورتوں کے حق میں بھی مغفرت کی دعا کیا کرو آخر کو فرمایا لوگوں کے نیک و بدعمل اور ان عملوں کے سبب سے ہر ایک کا جنت اور دوزخ کا ٹھکانہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے قیامت کے دن اسی کے موافق جزا و سزا کا فیصلہ ہوجائے گا۔
(3 ؎ صحیح بخاری باب وداولا سواعا ولا یغوث و یعوق ونسرا ص 732 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنتۃ اولنار ص 970 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 231۔ )
(3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ویل للمطففین ص 191 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب بعثت انا والساعۃ کھاتین ص 963 ج 2۔ )
Ayah 47:2020۔ معتبر سند کی عبد اللہ بن عباس کی 2 ؎ روایت نسائی مستدرک حاکم وغیرہ کے حوالہ سے سورة النسا میں گزر چکی ہے کہ ہجرت سے پہلے چند صحابہ نے اللہ کے رسول سے اجازت چاہی کہ مشرکوں لڑے بھڑ کر بھگت لینا چاہئے مگر اس وقت تک مسلمانوں کی جمعیت بھی کم تھی اور ان کے پاس لڑائی کا سامان بھی نہ تھا اس لئے ہجرت سے پہلے لڑائی کی اجازت نہیں ہوئی ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے ایک جگہ ہوجانے سے مسلمانوں کی جمعیت بھی بڑھ گئی اور کچھ لڑائی کا سامان بھی جمع ہوگیا تو اللہ نے مسلمانوں کی تمنا کے موافق دین کی لڑائی کا حکم نازل فرمایا جس کا ذکر آیت کے اس ٹکڑے میں ہے قتادہ 1 ؎ کا قول ہے کہ جہاد کی آیتوں کے نازل ہونے سے منافقوں اور کم ہمت لوگوں کی جانچ ہوگئی اس واسطے جہاد کی آیتوں کو جانچ والی آیتیں فرمایا آگے جانچ کے نتیجہ کا ذکر ہے جس سے قتادہ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 325 ج 3۔ )
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 63 ج 6۔ )
Ayahs 47:21–2421۔ 24۔ ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو اسلام کا کچھ زور نہ تھا اس واسطے جن لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی خوبیاں جمائیں اور وہ اسلام لائے ان کا اسلام خالص دل سے تھا یہ بات نہیں تھی کہ ان کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہو ہجرت کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور اسلام کا دن بدن زور اور غلبہ شروع ہوا تو مدینہ کے بہت سے لوگ اپنی عزت اپنا مال اپنی جان بچانے کی غرض سے اس طرح داخل اسلام ہوگئے تھے کہ ظاہر میں تو وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے لیکن دل سے وہ لوگ مسلمان نہ تھے اور جب موقعہ پاتے تھے درپردہ مسلمانوں کی بدخواہی کی باتیں کرتے تھے ان ہی لوگوں کو منافق کہتے ہیں یہ منافق لوگ اپنے دل میں جانتے تھے کہ ان کی درپردہ بدخواہی کا مسلمان جان نہ سکیں گے لیکن اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے جو بات یہ منافق لوگ پردہ کے طور پر مسلمانوں کی بدخواہی کی یا بناوٹ کے طور پر کرتے تھے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس کا ذکر فرما کر ان منافقوں کو رسوا اور فضیحت فرما دیتا تھا چناچہ غزوہ بنی مصطلق کے وقت ایک شخص مہاجر اور ایک انصار کا کچھ جھگڑا ہوگیا تھا اس پر عبد اللہ بن ابی منافقوں کے سردار نے درپردہ اپنے آپس کے لوگوں سے یہ کہا کہ آئندہ سے ہمارے جتھے کے لوگ ان مہاجروں سے سلوک کرنا بند کردیں تاکہ تنگ آ کر یہ لوگ ہماری بستی چھوڑ کر چلے جائیں اللہ تعالیٰ نے سورة منافقوں میں اس قصہ کا ذکر فرما کر منافقوں کو خوب رسوا کیا چناچہ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کی زید بن ارقم کی روایت میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے اسی طرح قرآن شریف میں منافقوں کی درپردہ باتوں اور ان کی رسوائی کا اکثر جگہ ذکر ہے اسی کو اللہ تعالیٰ نے آگے کی آیتوں میں فرمایا ہے کہ کیا ان منافق لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بد نیتی کو اپنے رسول اور مسلمانوں پر ظاہر نہ فرمائے گا اگر یہ لوگ اپنے منافق پنے سے باز نہ آئیں گے تو قرآن میں ان کی رسوائی کی آیتیں نازل ہونے کے علاوہ خود ان کے چہروں پر ایسی پھٹکار برسنے لگے گی کہ ان کی صورت ان کی باتوں سے ان کی پہچان ہوجائے گی حضرت انس ؓ فرمایا کرتے تھے آگے کی آیتیں نازل ہونے کے بعد مدینہ کا کوئی منافق آنحضرت ﷺ پر چھپا نہیں رہا تھا نام بنام سب منافقوں کا حال اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا تھا ناقابل اعتراض سند سے مسند امام احمد بن حنبل میں ابو مسعود ؓ عقبہ بن عمرو کی روایت سے جو قصہ ہے اس قصہ سے حضرت انس ؓ کے قول کی تصدیق ہوی ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز صحابہ کو جمع کرکے خطبہ پڑھا اور چھتیس شخص کا نام لے کر ان کو منافق فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ اے لوگو تم میں منافق بھی شریک ہیں تم کو خدا سے ڈرنا اور اپنے اعتقاد اور عملوں کو درست کرنا چاہئے۔ حاصل یہ ہے کہ جب آیت کے اوپر کے ٹکڑے کے موافق مسلمانوں کی خواہش پر جہاد کا حکم نازل ہوا اور منافقوں کے دل پر اس حکم کا اثر جو کچھ پڑا اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو اے رسول اللہ کے تم نے منافقوں کا حال دیکھا کہ قریب المرگ شخص کی طرح ان کی آنکھیں پتھرا گئیں اور ان کے چہروں پر مردنی چھا گئی۔ سورة قیامہ میں 1 ؎ نسائی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایت آئے گی کہ ایک روز اللہ کے رسول ﷺ نے ابوجہل کی چادر کا پلو پکڑ کر یہ فرمایا تھا اولی لک جس کا مطلب یہ ہے کہ تیرے لئے خرابی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے کلام کی صداقت کے طور پر سورة قیامہ میں یہی لفظ چار دفعہ نازل فرمائے اس شان نزول کی بنا پر بعض سلف نے یہاں بھی فاولی لھم میں لفظ اولیٰ کو ویل سے لے کر آیت کے ٹکڑے فاولی لھم کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ جو لوگ دین کی لڑائی سے جی چراتے ہیں ان کے لئے بڑی خرابی ہے تینوں ترجموں میں یہی قول لیا گیا ہے اس قول کے موافق فاولی لھم پر پچھلا کلام ختم ہوجائے گا اور طاعۃ و قول معروف کی خبر الگ نکالنی پڑے گی مثلاً یوں کہا جائے گا کہ طاعۃ وقول معروف خیر لھم جس کا مطلب یہ ہوگا کہ بجائے جی چرانے کے دین کی لڑائی کے حکم کو ماننا اور اچھی بات کا منہ سے نکالنا بہتر ہے بعض مفسروں نے فاولی لھم طاعۃ وقول معروف کو ایک ہی کلام شمار کرکے آیت کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ بہتر ان لوگوں کے حق میں لڑائی کے حکم کو ماننا اور اچھی بات کا منہ سے نکالنا ہے اس قول کی بنا پر طاعۃ و قول معروف کی کوئی خبر الگ نہیں نکالنے پڑتی ایک روایت میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے بھی یہ آخری تفسیر آئی ہے ” فاذا عزم الامر “ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ منافق لوگ اگر لڑائی سے پہلے لڑائی کے حکم کے ماننے کا زبانی اقرار بھی کرلیتے ہیں تو عین وقت پر اس اقرار سے پھرجاتے ہیں اگر عین وقت پر یہ لوگ اپنے اقرار کو سچا کریں تو ان کے حق میں بہتر ہے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ عبد اللہ بن ابی منافق احد کی لڑائی کے میدان میں سے تین سو آدمیوں کو بہکا کر مدینہ واپس لے آیا جس سے لشکر اسلام کی تعداد بجائے ہزار آدمیوں کے سات سو کی رہ گئی منافقوں کی ایسی باتوں کو فرمایا کہ یہ لوگ عین وقت پر دغا دیتے ہیں آگے فرمایا کہ جو لوگ قرآن کی نصیحت کے پورے پابند نہیں اور قرآن کے جہاد کے حکم کی تعمیل سے جی چراتے ہیں اگر دین کی لڑائی کے طفیل سے ایسے لوگوں کو کبھی حکومت مل گئی تو ان سے یہ بھی کچھ دور نہیں کہ حکومت کے غرور میں یہ لوگ اللہ کے ملک میں طرح طرح کے فساد ڈالیں اور اس فساد کے برپا کرنے میں رشتہ داری کا بھی کچھ پاس ولحاظ نہ رکھیں یہ قرآن کی ایک بڑی پیشن گوئی ہے یزید کی خلافت میں جو فساد برپا ہوئے اور ماموں رشید نے اپنے بھائی امین کو جو قتل کیا ان قصوں کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جائے تو قرآن کی اس پیشن گوئی کا ظہور اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے پھر فرمایا کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے اور اللہ کی رحمت سے وہ بالکل دور ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت کی بات کے سننے کے لئے کان بھلا برا دیکھنے کے لئے آنکھیں ہم نے سب کچھ دیا اس پر بھی ان لوگوں نے بہرے اندھوں کے سے کام کئے پھر فرمایا کئے پھر فرمایا نافرمانی کے سبب سے ایسے لوگوں کے دلوں میں زنگ کے قفل لگ رہے ہیں اس لئے قرآن کے نصیحت ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں کرتی مسند امام احمد ترمذی 1 ؎ نسائی کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی معتبر روایت اوپر گزر چکی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرنے سے آدمی کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اس زنگ کی سیاہی کو قرآن شریف میں کہیں دل کی مہر فرمایا ہے اور کہیں دل کا قفل رشتہ داروں کے ساتھ سلوک سے پیش آنے باب میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں۔
(2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة اذا جاءک المنافقون ص 727 ج 2 و صحیح مسلم باب صفات المنافقین واحکامھم ص 368 ج 2۔ )
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 296 ج 6۔ )
(1 ؎ تیرا ہذا جلد ہذا ص 234۔ )
Ayahs 47:25–2825۔ 28۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے شاگردوں میں قتادہ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ آیتیں یہود کی شان میں ہیں مطلب یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کی صفتیں جو توراۃ میں تھیں ان سے یہ لوگ نبی آخر الزمان کو خوب پہچانتے تھے لیکن نبی آخر الزمان کے نبی ہونے اور ہجرت کرکے مدینہ میں آنے کے بعد آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے خود حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس 3 ؎ کا یہ قول ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں ہیں سورة الحشر میں آئے گا کہ مدینہ کے منافقوں نے یہود بنی نضیر اور بنی قریظہ سے یہ کہلا بھیجا تھا کہ ہم تمہارا ہر طرح ساتھ دیں گے اور ان آیتوں میں بھی سنطیعکم فی بعض الامر فرمایا ہے اس لئے صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں منافقوں کی شان میں ہیں حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو کر پھر پچھلے قدم پلٹ گئے اور منافق بن گئے اس کا سبب یہی ہے کہ وسوسہ شیطانی کے موافق منافق پنے اور جہاد سے جی چرانے میں انہوں نے اپنا دیر تک کا بچاؤ سمجھا اور اس خیال سے انہوں نے درپردہ یہود سے میل جول کا پیغام کہلا بھیجا کہ مسلمان اور یہود دونوں سے دوستی بنی رہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ بھید کی باتیں خوب معلوم ہیں ایک دن ان لوگوں سے ان دغا کی باتوں کی پرسش ہوگی پھر فرمایا اب تو یہ لوگ موت کو ٹالنے کے لئے دین کی لڑائی سے جان چراتے ہیں لیکن جب موت ان کے سامنے آجائے گی اور اللہ کے فرشتے ان کے منہ اور ان کی پیٹھ پر لوہے کی موگریاں مار مار کر ان کی جان نکالیں گے اس وقت یہ کیونکر جان بچائیں گے پھر فرمایا یہ وبال ان پر اس لئے پڑا کہ انہوں نے اللہ کی رضا مندی کے کاموں کو چھوڑ کر اس کی بیزاری کے کام کئے اس لئے اوپری دل سے جو کچھ نیک کام انہوں نے کئے تھے وہ تو بارگاہ الٰہی میں نامقبول ٹھہرے اور برے کاموں کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑا مسند امام 1 ؎ احمد اور ابو داؤود کے حوالہ سے براء بن العازب کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ نافرمان لوگوں کی قبض روح کے لئے عذاب کے فرشتے آتے اور غضب الٰہی سے نافرمان شخص کی روح کو ڈراتے ہیں جس سے وہ روح جگہ جگہ جسم میں چھپتی ہے آخر بڑی سختی سے وہ فرشتے اس روح کو جسم سے نکالتے ہیں آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ نافرمان لوگوں کی قبض روح کے وقت فرشتے ایسے لوگوں کے منہ اور ان کی پیٹھ پر مارتے ہیں اس کا مطلب اس حدیث سے اھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ غضب الٰہی سے ڈر کر ایسے لوگوں کی روح جسم میں جگہ جگہ چھپتی ہے اس لئے اس روح کو جسم سنے نکالنے کے لئے فرشتے مار دھاڑ اور طرح طرح کی سختی کرتے ہیں۔
(2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 66 ج 6۔ )
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 66 ج 6۔ )
(1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ فیما یقال عند مزحضرہ الموت ص 142۔ )
Ayahs 47:29–3129۔ 31۔ یہ وہی آیتیں ہیں جن کا خلاصہ اوپر گزر چکا ہے کہ کیا ان منافق لوگوں نے اپنی بدنیتی کی درپردہ باتوں کو اللہ تعالیٰ سے چھپانا چاہا ہے کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں لوگوں کے درپردہ مشورے اور ان کے دلوں کے بھید سب اس کو معلوم ہیں۔ وہ اگر چاہے تو ان منافقوں کے چہروں پر ایسی پھٹکار برسنے لگے اور ان کی بات چیت میں ایسا اندازہ پیدا ہوجائے کہ وہ منافق اپنے چہروں اور اپنی باتوں سے پہچانے جائیں پھر مسلمانوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ دین کی لڑائی کا حکم اللہ تعالیٰ نے اس حکمت کے لئے نازل فرمایا ہے کہ لڑائی میں ہمت کرنے والے اور فقط زبان سے ہمت جتلانے والوں کا حال کھل جائے نہیں تو اللہ کی قدرت سے یہ بات کچھ باہر نہیں تھی کہ وہ پچھلی قوموں کی طرح ان اسلام کے بدخواہ لوگوں کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتا۔ اوپر کی آیت ولوشاء اللہ لانتصر منھم کو ان آیتوں میں کی آخر آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل وہ ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے زید بن ارقم کی جس روایت کا ذکر اوپر گزرا اور اوپر کے ذکر کے موایق وہی حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے۔
(2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 235)
Ayahs 47:32–3632۔ 35۔ عبد اللہ بن ابی اور جد بن قیس معتب بن قشیر منافقوں کے سردار تھے ان کی دغا بازی دکیھ کر ان کی وقم کے اور نادان لوگ بھی ان کے ڈھنگ سیکھتے تھے اس لئے فرمایا کہ یہ لوگ آپ بھی دین کی باتوں کے دل سے منکر ہیں اور اوروں کو بھی یہی راستہ سکھاتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ سے یہ منافق لوگ طرح طرح کی مخالفتیں کرتے تھے مثلاً عبد اللہ بن ابی نے احد کی لڑای کے وقت تین سو آدمیوں کو بہکا کر لشکر اسلام میں سے کم کردیا چناچہ سورة النساء میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ ” من بعد ما تبین لھم الھدیٰ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ اسلام کے سبب سے ان لوگوں کو اگرچہ یہ معلوم ہوگیا تھا کہ دین اسلام حق ہے لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنے منافق پنے کی باتوں سے باز نہیں آتے تھے جیسے مثلاً بدر کی فتح کے وقت عبد اللہ بن ابی کو غلبہ اسلام اور اس غلبہ کے سبب سے اسلام کی حقانیت کا حال معلوم ہوچکا تھا پھر بھی اس نے بدر کی فتح کے بعد احد کی لڑائی کے وقت وہ منافق پنے کی بات کی جس کا ذکر اوپر گزرا آگے فرمایا کہ ان منافق پنے کی باتوں سے اللہ کے دین کو کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ میں اسلام کی ترقی قرارپا چکی ہے پھر اس کے ارادہ کو کون روک سکتا ہے فرعون جیسا صاحب حشمت بادشاہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے برخلاف موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے پھر فرمایا کہ جب ان منافقوں کے دل میں اسلام کی طرف سے ایسی کھوٹ ہے تو انکا ظاہری اسلام روزہ نماز کچھ کارآمد نہیں اللہ تعالیٰ ان کے سب عملوں کو اکارت کر دے گا کیونکہ غلبہ اسلام کے سبب سے یہ لوگ اپنی جان اپنا مال بچانے کے لئے جو کچھ کرتے ہیں وہ فقط دکھانے کے طور پر کرتے ہیں اور اس طرح کے دکھانے کے نیک عمل اللہ کے انتظام میں اجر کے قابل نہیں ہیں۔ معتبر سند سے مسند امام 1 ؎ احمد مسند بزار وغیرہ میں چند صحابہ سے (1 ؎ بحوالہ مشکوۃ شریف باب فی الریاء والسمعۃ فصل ثانی ص 454۔ ) روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن جب لوگوں کے اعمال نامے اللہ تعالیٰ کے رو برو پیش ہوں گے تو بہت سے عملوں کو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ عمل دنیا کے دکھانے کے لئے کئے گئے ہیں اس لئے قابل قبول نہیں ہیں یہ حدیثیں وسیحبط اعمالھم کی گویا تفسیر ہیں آگے مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ اور رسول کے حکم پر چلو برخلاف حکم اللہ اور رسول کے کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے تمہارا خاتمہ بگڑ کر تمامعمر کے تمہارے پچھلے نیک عمل رائیگاں ہوجائیں ابو داؤود اور ترمذی 2 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے (2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الوصیۃ بالثلت ص 41 ج 2۔ ) کہ بعض مسلمان مرد اور عورتیں عمر بھر نیک کام کرتے ہیں اور مرتے وقت وصیت میں حق تلفی کرکے اپنی عاقبت خراب کرلیتے ہیں اس حدیث کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جس کو بعض علما نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن معین نے شہر بن حوشب کو ثقہ اور ابوزرعہ اور امام احمد نے معتبر کہا ہے صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے سہل ؓ بن سعد کی روایت ایک جگہ (1 ؎ صحیح بخاری باب غزوہ خیبر ص 404 ج 2۔ ) گزر چکی ہے کہ خیبر کی لڑائی میں ایک صحابی نے بڑی جرأت سے دشمنوں کا مقابلہ کیا لیکن اللہ کے رسول نے اس شخص کا خاتمہ برا اور اس کو دوزخی بتایا اور آخر کو اس شخص نے خودکشی کی۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں عبد ؓ اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ بعض لوگ ایسے نیک (2 ؎ صحیح بخاری کتاب القدر ص 985 ج 2 و صحیح مسلم باب کیفیۃ خلق الادمی الخ ص 332 ج 2۔ ) کام کرتے ہیں جس سے ان میں اور جنت میں کچھ تھوڑا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی قرار پا چکے ہیں اس لئے آخر عمر میں وہ لوگ دوزخیوں کے ایسیکام کرنے لگتے ہیں اور اسی حالت پر بغیر توبہ کے مرجاتے ہیں ان حدیثوں کو ولاتبطلوا اعمالکم کے ساتھ ملانے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ جس طرح نیک کاموں سے گناہ مٹ جاتے ہیں جن کا ذکراوپر گزر چکا ہے اسی طرح اللہ اور رسول کی نافرمانی کے کے طور پر بعض گناہ ایسے ہیں جن کے کرنے سے مسلمانوں کے پچھلے نیک عمل رائیگاں ہوجاتے ہیں سورة النساء کی آیت ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ کا اور آیت ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ ثم ماتوا وھم کفار فلن یغفر اللہ لھم کا ایک ہی مطلب ہے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص کفر و شرک میں گرفتار رہ کر بغیر وبہ کے مرجائے گا اس کی مغفرت کسی طرح نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں پھر اس کی تعظیم اور عبادت میں بغیر کسی استحقاق کے دوسروں کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر دنیا میں نہ کوئی گناہ ہوسکتا ہے نہ بغیر توبہ کے اتنا بڑا گناہ معاف ہونے کے قابل ہے اسی مطلب کے ادا کرنے کے لئے صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ (3 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة فرقان ص 701 ج 2 و صحیح مسلم باب بیان کون الشرک اقبح الذنوب الخ ص 63 ج 1۔ ) سے عبد ؓ اللہ بن مسعود کی اسی مضمون کی حدیث ایک گزہ گزر چکی ہے کہ شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں آگے فرمایا شرک جیسے بڑے گناہ میں یہ مشرک لوگ گرفتار ہیں اس لئے اللہ ان سے بیزار ہے جس کے سبب سے ایسے لوگوں کی کوئی مدد غیب سے نہیں ہوسکتی پھر ایسی حالت میں اے مسلمانو ! تم ان مشرکوں سے دب کر صلح نہ کرو کیونکہ تم حق پر ہو اس واسطے اللہ تمہارے ساتھ ہے دنیا میں تم کو دشمنوں پر غالب رکھے گا اور آخرت میں تمہارے نیک کاموں کا پورا اجر دے گا۔ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی (4 ؎ صحیح بخاری باب من ھم بحسنۃ اوسیئۃ ص 960 ج 2 صحیح مسلم باب بیان تجاوز اللہ تعالیٰ عن حدیث النفس الخ ص 78 ج 1۔ ) روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزرچکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر نیکی کا اجر دس سے لے کر سات سو تک اور زیادہ نیک نیتی کی نیکیوں کا اجر اس سے بھی بڑھ کردیا جائے گا یہ حدیث پورے اجر کی گویا تفسیر ہے۔ صحیح مسلم میں جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کبیرہ گناہوں کا جو گناہ گار بغیر توبہ کے مرجائے گا تو اس کی مغفرت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے چاہے بغیر کسی عذاب کے ایسے شخص کو جنت میں داخل کر دے چاہے کس قدر عذاب کے بعد شرک کے گناہ گار اور کبیرہ گناہ کے گناہ گار کی حالت میں جو فرق ہے وہ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
(1 ؎ بحوالہ مشکوۃ شریف باب فی الریاء والسمعۃ فصل ثانی ص 454۔ )
(2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الوصیۃ بالثلت ص 41 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب غزوہ خیبر ص 404 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری کتاب القدر ص 985 ج 2 و صحیح مسلم باب کیفیۃ خلق الادمی الخ ص 332 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة فرقان ص 701 ج 2 و صحیح مسلم باب بیان کون الشرک اقبح الذنوب الخ ص 63 ج 1۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری باب من ھم بحسنۃ اوسیئۃ ص 960 ج 2 صحیح مسلم باب بیان تجاوز اللہ تعالیٰ عن حدیث النفس الخ ص 78 ج 1۔ )
Ayahs 47:37–3837۔ 38۔ دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہو کر دین کی لڑائی اور دین کے کاموں سے جی چرانے والوں کو ان آیتوں میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائیدار اور چند روز کا کھیل تماشہ ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہاں دنیا کے اندر اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیز گاری اختیار کرو تو تم کو خدا اس کا اجر دے گا جس میں ہمیشہ کی راحت ہے تھوڑے دنوں کے کھیل تماشے کے پیچھے ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے دینا کسی سمجھ دار کا کام نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے صدقہ خیرات کی تاکید جو کی ہے اور زکوٰۃ جو فرض کی ہے وہ اسی فائدہ کے لئے کہ دنیا میں غریبوں کا کام چلے اور ایمانداری اور پرہیز گاری سے جو شخص کچھ خرچ کرے عقبیٰ میں ایک کے دس سے لے کر سات سو تک اور زیادہ نیک نیتی کی صورت میں اس سے بھی بڑھ کر اس کو اجر دیا جائے ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے مال کے مانگنے کی کچھ ضرورت نہیں دنیا میں جو کچھ ہے وہ اس کا پیدا کیا ہوا ہے اس لئے جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اس کا ہے اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اس کو خوب معلوم ہے کہ انسان کے دل میں مال کی الفت بہت ہے اگر تنگ کرکے سارامال خرچ کرنے کا حکم دیا جائے گا تو تم بخیلی کرنے لگو گے اور غیروں کو جو کچھ دو گے وہ طرح طرح کی خفگی جتلا کر دو گے اس واسطے زکوٰۃ کی مقدار اس نے برس روز میں چالیسواں حصہ ٹھہرائی ہے اور نفلی صدقہ خیرات کی مقدار ہر شخص کی ہمت پر منحصر رکھی ہے اس حکم کی تعمیل میں جو شخص بخیلی کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا کیونکہ آدمی کے پاس جو کچھ مال متاع ہے وہ دنیا کا دنیا میں رہے گا اور آدمی مرجائے گا ایسی ساتھ چھوڑ دینے والی چیز کو ساتھ لے جانے کا طریقہ تو یہی ہے کہ جس طرح مال کے خرچ کرنے کا حکم شریعت میں ہے عقبیٰ کے اجر کی نیت سے اس حکم کے موافق مال خرچ کیا جائے اور اللہ سے اس کے اجر کی توقع رکھی جائے۔ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ ؓ کی اسی مضمون کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے آخر کو فرمایا اگر موجودہ لوگ اللہ کے حکم کی تعمیل نہ کریں گے تو ان کی جگہ اللہ تعالیٰ کسی اور فرمانبردار مخلوقات کو بدل دے گا ‘ اس فرمانبردار قوم کی تفسیر بعض سلف نے فارس کو قرار دیا ہے 1 ؎ اور بعضوں نے اہل یمن کو مگر مجاہد نے اس کو اللہ تعالیٰ کے علم پر سونپا ہے صحیح مسلم 2 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اگر لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ اور گناہ اور توبہ کرنے والی قوم کو پیدا کر تاکہ اس نئی قوم کے لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتا اور اس حدیث کو آخری آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جس طرح سارے موجودہ لوگوں کے بےگناہ نہ ہوجانے سے کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی اسی طرح اس زمانہ کے موجودہ تو گو صحابہ اور اول درجہ کے فرمانبردار تھے اس لئے یہی تفسیر صحیح اور موجودہ صحابہ کی شان کے موافق معلوم ہوتی ہے کہ ان کی جگہ کسی نئی فرمانبردار قوم کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اگر ضرورت پڑتی تو اللہ تعالیٰ اپنے علم غیب کے موافق کسی نئی فرمانبردار قوم کو بدل دیتا یہ تفسیر مجاہد کے قول کے موافق ہے ‘” سورة محمد ختم ہوئی۔ “
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 67 ج 8۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب قبول التوبۃ من الذنوب ص 357 ج 2۔ )