Ayahs 46:1–81۔ 8۔ شروع سورة سے العزیز الحکیم کی تفسیر سورة الجاثیہ کے شروع میں گزر چکی ہے بالحق اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوسرا جہان پیدا کیا جائے جس میں نیکی اور بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے ” اجل مسمی “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دنیا کی عمر پہلے صور تک ہے جس کا ذکر سورة زمر میں گزر چکا اور ہر شخص کی زندگی اس کی عمر کے آخر ہونے تک ہے چناچہ صحیحین 1 ؎ کی حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود کی حدیث گزرچکی ہے کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی عمر اس کے رزق سب کی ایک میعاد مقرر کردی جاتی ہے غرض جب یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتانے سے معلوم ہوگیا کہ انسان کو دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے ہر انسان کی عمر کی ایک میعاد مقرر ہے اور جس طرح اللہ اور اللہ کے رسول نے بتایا تھا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ کوئی بڑی عمر پا کر اور کوئی چھوٹی، آگے پیچھے سب دنیا سے چلے جاتے ہیں ہمیشہ کوئی دنیا میں رہنے والا نہیں پھر جس اللہ اور اللہ کے رسول کے فرمانے کے موافق دنیا سے یہ چل چلاؤسب کی آنکھوں کے سامنے ہے اسی اللہ اور اللہ کے رسول نے یہ بھی فرمایا ہے کہ دنیا کی یہ چند روز کی زیست اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ نہیں بنائی ہے بلکہ اس چند روزہ زیست کے بعد اور ہمیشہ کی زیست اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس دنیا کی چند روز کی نیکی اور بدی کی جزا و سزا اسی ہمیشہ کی زیست میں پیش آنے والی ہے اور اس سزا سے ان منکروں کو طرح طرح سے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ڈرایا ہے لیکن ان منکروں کے دل ایسے سخت ہوگئے ہیں کہ جس قدر ان کو عقبیٰ کی خرابی سے ڈرایا جاتا ہے اسی قدر یہ لوگ اس نصیحت الٰہی سے منہ موڑے چلے جاتے ہیں اسی واسطے ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ کافر ہیں جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے وہ اس کو دھیان نہیں کرتے پھر فرمایا جن بتوں کی پرستش کے میں یہ بت پرست لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کی نصیحت کو نہیں سنتے اے رسول اللہ کے ان مشرکوں بت پرستوں سے ذرا یہ تو پوچھو کہ کس استحقاق یتیم بت پرستوں نے ان بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اللہ تعالیٰ نے تو زمین و آسمان اور تم پیدا کیا تمہارے بتوں نے زمین یا آسمان پر کوئی چیز پیدا کی ہو تو اس کو ثابت کرو پھر فرمایا کہ اب دنیا میں تو یہ بت پرست لوگ ان بتوں کو اپنا معبود گنتے ہیں قیامت کے دن جن چیزوں کو یہ گمراہ لوگ پوجتے ہیں وہ الٹی ان سے بیزاری ظاہر کریں گے پھر ان گمراہوں کی گمراہی بیان فرمائی کہ جو بت ان منکروں سے قیامت میں بیزاری ظاہر کریں گے ان کی حمایت میں یہ لوگ اللہ کے کلام کو جاود بتاتے ہیں اور اللہ کے رسول پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ انہوں نے یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑ کر بنا لیا ہے پھر اپنے رسول سے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان بہتان باندھنے والوں کو اسی قدر جواب دے دو کہ یہ قرآن میں سے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہوگا تو خدا مجھ سے سمجھ لے گا خدا کے مواخذہ کے وقت تم میں سے کوئی میری مدد نہ کرنا اور اگر تم جھوٹ بہتان باندھتے ہو تو تم سے خدا سمجھے گا کیونکہ خدا کہ ہر ایک کا حال معلوم ہے پھر ان منکروں کو توبہ کی رغبت دلا کر فرمایا کہ اب تک جو کچھ تم نے کیا سو کیا اب بھی اگر اپنے کئے سے آئندہ باز آؤ گے تو اللہ تعالیٰ ہر طرح کے گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ معتبر سند سے ترمذی 1 ؎ میں انس ؓ بن مالک سے روایت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس شخص کا خاتمہ توحید پر ہوا اس شخص کے گناہ اگر اس قدر بھی ہوں کہ جن سے زمین اور آسمان بھر جائے تو بھی مجھے ایسے شخص کے سب گناہوں کو بخش دینے میں دریغ نہیں ہے مشرکین مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتاتے تھے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہو کہ اس زمانہ کی کوئی کتاب یا کوئی سچی زبانی روایت ایسی ہو جس سے ان بتوں کا کسی آسمان یا زمین کا پیدا کرنا جدا یا اللہ کے ساتھ شریک ہو کر ثابت ہوتا ہو تو وہ کتاب یا روایت لا کر میرے رو برو پیش کرو اثارۃ من علم کی تفسیر مجاہد 2 ؎ کے قول کے موافق پرانی سچی روایت کی ہے ترجمہ میں بھی یہی قول لیا گیا ہے عرب میں یہ بھی ایک دستور تھا کہ فال کے طور پر کسی نابالغ لڑکے سے زمین پر بہت سے خط کھنچوا کر ان میں سے دو دو خطوں کو مٹانا شروع کرتے تھے اب مٹاتے مٹاتے اگر آخر کو دو خط باقی رہتے تو اچھی فال سمجھتے اور اگر مٹاتے مٹاتے ایک خط باقی رہ جاتا تھا تو اس فال کو مرضی کے موافق نہیں گنتے تھے۔ معتبر سند 3 ؎ سے امام مستدرک حاکم تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کا جو قول ہے اس میں اسی خطوں کی فال کو او اثارۃ من علم کی تفسیر قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکوں نے خط کشی کی فال سے کیا یہ بات جان لی ہے کہ ان مشرکوں کے بتوں نے کوئی آسمان یا زمین جدا یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ہو کر پیدا کئے ہیں۔ صحیح 4 ؎ مسلم میں معاویہ بن حکم کی حدیث ہے جس میں انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے اس خط کشی کی فال کا مسئلہ پوچھا تھا آپ نے فرمایا پہلے پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر کے زمانہ میں یہ فال جائز بھی تھی اب جائز نہیں ہے ‘ بعض علما نے ان پیغمبر کا نام دانیال لکھا ہے اور بعضوں نے ادریس مگر معاویہ بن الحکم کی روایت میں کسی پیغمبر کا نام نہیں ہے یہ معاویہ بن الحکم مدنی صحابہ میں ہیں صحیح بخاری میں ان کی کوئی روایت نہیں ہے ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کے مابین کے زمانہ میں یہ دانیال پیغمبر تھے ان کے علاوہ بنی اسرائیل میں بھی ایک دانیال ہوئے ہیں مشرکین مکہ کے بت پتھر یا لکڑی کے تھے اس یواسطے فرمایا یہ پتھر و لکڑی کی چیزیں کسی کی التجا کو قیامت تک نہیں پورا کرسکتیں۔ سورة یونس میں نیک لوگوں کی بیزاری کا ذکر گزر چکا ہے اسی کو فرمایا کہ جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کی یہ مشرک پوجا کرتے ہیں قیامت کے دن وہ فرشتے اور نیک لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجائیں گے۔
(1 ؎ صحیح بخاری کتاب القدر 975 ج 2۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی فضل التوبۃ والا ستغفار ص 216 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 154 ج 4۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 154 ج 4۔ )
(4 ؎ صحیح مسلم باب تحریم الکھانۃ واتیان الکھان ص 332 ج 2۔ )
Ayahs 46:9–139۔ 12۔ مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول سمجھتے اور اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکین مکہ سے کہہ دو کہ میں کچھ نیا رسول نہیں ہوں جس طرح مثلاً ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے ویسا ہی میں بھی ہوں ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ باوجود اللہ کے رسول ہونے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے یہ فرمایا کہ اے رسول اللہ کے قریش سے کہہ دو کہ اللہ میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا کرے گا اس کا حال مجھ کو کچھ معلوم نہیں۔ صحیح تفسیر اس کی مفسرین نے یہی قرار دی 1 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو دنیا کا یہ آئندہ کا حال معلوم نہ تھا کہ مکہ میں رہنا ہوگا یا مکہ سے ہجرت کرنی ہوگی اور قریش لوگ ایمان لائیں گے یا ایمان نہ لانے کے سبب سے ان لوگوں پر کچھ عذاب الٰہی آئے گا رہا آخرت کا انجام وہ آپ کو یقینی معلوم تھا کہ آپ اعلیٰ درجہ کے جنت کے مقام میں ہوں گے اور آپ کی شفاعت سے امت میں کے بہت سے گناہ گار جنت میں جائیں گے اس صورت میں اس آیت کو آخرت کے انجام میں مان کر بعض مفسروں نے آیت لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذانبک سے اس آیت کو منسوخ جو کہا ہے اس کی اب ضرورت نہیں رہی اور ان آیتوں میں بنی اسرائیل میں ایک شخص کی آنحضرت کی نبوت پر اور قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے پر گواہی دینے کا جو ذکر ہے یہ تفصیل پورے طور پر طبرانی 2 ؎ مستدرک حاکم اور مسندابی یعلی کی عوف ؓ بن مالک کی ایک صحیح روایت میں آچکی ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور یہ بنی اسرائیل میں کے شخص عبد ؓ اللہ بن سلام ہیں اور یہی شان نزول صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم اور نسائی میں مختصر طور پر سعد ؓ بن ابی وقاص کی روایت سے بھی آئی ہے اس لئے بعض مفسروں نے اس پر یہ جو اعتراض کیا ہے کہ اس مکی آیت میں حضرت عبد ؓ اللہ بن سلام کا ذکر کیونکر آسکتا ہے۔ کیونکہ حضرت عبد ؓ اللہ بن سلام کا اسلام تو صحیح بخاری کی 2 ؎ حضرت انس کی روایت کی رو سے ہجرت کے بعد ہے یہ اعتراض صحیحین وغیرہ کی صحیح روایت کے مخالف ہے قریش کا خیال یہ تھا کہ جو لوگ مال داری یا قوم میں سر کردہ ہونے کے سبب سے دنیا میں کچھ عزت اور آبرو رکھتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک بھی عزت دار ہیں اسی واسطے حضرت بلال عمار صہیب خباب ایسے غریب لوگوں کو اہل اسلام میں دیکھ کر مال دار قریش لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہم کو دنیا کی عزت دی ہے اسی طرح دین کی عزت سے بھی اللہ تعالیٰ ہم کو کبھی محروم نہ رکھتا اور یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم عزت دار لوگوں سے کبھی آگے قدم نہ بڑھاتے وہی قریش کا خیال اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ عزت دار نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اسی کی ہے جو اللہ کی فرمانبرداری کرے جب یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ لوگ کافر اور قابل سزا قرار پا چکے ہیں فقط دنیا کی عزت اور مال داری کے سبب سے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صاحب عزت نہیں قرار پاسکتے چناچہ عبس و تولی میں آگے آئے گا کہ حضرت عبد ؓ اللہ بن مکتوم ایک غریب صحابی کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے عزت دار قریش کو بالکل ذلیل قرار دیا آگے توراۃ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کی صداقت کچھ ایک حضرت عبد ؓ اللہ بن سلام کی گواہی پر منحصر نہیں ہے بلکہ خود توراۃ میں آپ کی نبوت کی صداقت موجود ہے اور توراۃ میں جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ذکر صراحت سے ہے اسی سبب سے حضرت عبد ؓ اللہ بن سلام کی طرح ان نبی آخر الزمان کو سب یہود کے عالم لوگ ایسا جانتے اور پہنچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر بغض اور عداوت کے سبب سے یہ لوگ ان نبی آخر الزمان کی نبوت کا اقرار زبان سے نہیں کرتے وہ عداوت یہی ہے کہ نبی آخر الزمان بنی اسمعیل میں کیوں ہوئے بنی اسرائیل میں کیوں نہیں ہوئے یہ نہیں سمجھتے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسحاق اور اسماعیل اپنے دونوں بیٹوں کی اولاد میں نبوت کے عطا ہونے کی دعا کی تھی وہ قبول ہوئی اور ایک مدت تک اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت رہ کر اب اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں آئی یہ کیا بےانصافی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اثر کو ایک بیٹے کی اولاد میں مانا جائے اور دوسرے بیٹے کی اولاد میں نہ مانا جائے آگے فرمایا کہ اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر توراۃ نازل فرمائی تھی جس نے بنی اسرائیل میں دین کی راہ ڈالی اور اس راہ پر چلنے سے ان کو اللہ کی رحمت کے قابل ٹھہرایا ‘ اسی طرح نافرمان لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈرانے اور فرمان بردار لوگوں کو اللہ کی رحمت کی خوش خبری سنانے کے لئے اہل مکہ کی عربی زبان میں اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن نازل فرمایا جس طرح کسی کے ساتھ سلوک کرنے کو احسان کہتے ہیں اسی طرح دل لگا کر عبادت کرنے کو بھی حسن عبادت کے مطلب سے احسان کہتے ہیں۔ چناچہ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اس حسن عبادت کے معنی کے احسان کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ عبادت کے وقت آدمی یہ خیال کرے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ مرتبہ آدمی کو نصیب نہ ہو تو یہ خیال کرے کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے اس حدیث کو بشرا لمحسنین کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو ایماندار لوگ حدیث کے مضمون کے موافق دل لگا کر عبادت کرتے ہیں یہ قرآن ان کو اللہ کی رحمت کی خوش خبری دیتا ہے اوپرے دل سے عبادت کرنے والے کو اوپرے دل کی عبادت کی عادت کو چھوڑ کر اس خوش خبری کے حاصل کرنے کی عادت سیکھنی چاہئے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 155 ج 4۔ )
(2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 38 ج 6۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب مناقب عبد ؓ بن سلام ص 358 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری ص 561 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم کتاب الایمان ص 27 ج 1۔ )
Ayah 46:1414۔ اوپر غریب مسلمانوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان مسلمانوں کی تسلی کے لئے فرمایا جن لوگوں نے اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کو دل سے مانا اور زبان سے اس کا اقرار کیا اور پھر اس اقرار کو سچا کرکے دکھانے کے لئے جن کاموں کے کرنے کا حکم تھا ان کو کرتے اور مناہی کے کاموں سے بچتے رہے ان کو قیامت کے دن کی آفتوں کا کچھ خوف اور غم نہیں بلکہ بجائے غم کے ان کو یہ خوشی کرنی چاہئے کہ اس دن ان کے نیک کاموں کے بدلہ میں ان کو وہ نعمتیں دی جائیں گی جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں اور کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان نعمتوں کا خیال گزر سکتا ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے جو اوپر بیان کی گئی صحیح 2 ؎ مسلم کے حوالہ سے سفیان بن عبد اللہ ثقفی کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں سفیان کہتے ہیں میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا حضرت مجھ کو دین کی ایسی باتیں بتا دیجئے کہ پھر مجھ کو کچھ پوچھنے کی ضرورت باقی نہ اس کے جواب میں اللہ کے رسول ﷺ نے سفیان کو آیت ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا کا مطلب سمجھا دیا۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں انس بن مالک سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اسلام کے بعد کفر و شرک کی باتوں سے ایماندار شخص کو ایسا گھبرانا چاہئے جس طرح ہر شخص آگ میں ڈالے جانے سے گھبراتا ہے ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ ایماندار شخص کو مرتے دم تک کن باتوں پر کس مضبوطی سے ثابت قدم رہنا چاہے۔
(1 ؎ تفسیرہذا جلد ہذا ص 208۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب جامع اوصاف الاسلام ص 38 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب حلاوۃ الایمان ص 7 ج 1۔ )
Ayahs 46:15–1615۔ 16۔ جس طرح ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ سے بھلائی کرنے کا ذکر فرمایا ہے اسی طرح اور کئی آیتوں میں یہی ذکر ہے۔ صحیح مسلم 4 ؎ میں ابوہریرہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں زندہ پایا اور ان کے ساتھ بھلائی کرکے اس کے اجر میں جنت نہ پائی تو وہ شخص بڑا بدنصیب ہے۔ معتبر سند سے نسائی ابن 5 ؎ ماجہ مستدرک حاکم اور طبرانی میں معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اولاد کے لئے جنت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح اولاد کو ماں باپ کے قدموں کے نیچے کی پڑی ہوئی چیز آسانی سے مل سکتی ہے اسی طرح ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے اور ان کی دعا سے اولاد کو جنت ہاتھ لگ سکتی ہے صحیح بخاری 6 ؎ و مسلم میں عبد ؓ اللہ بن مسعود سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اول وقت کی نماز ادا کرنے کے بعد ماں باپ کی خدمت کو ان عملوں میں بتایا ہے جو عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ شریعت میں ماں باپ کی خدمت کا کس قدر اجر اور اس کی کتنی بڑی فضیلت ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اور ماں کا حق جتلانے کے لئے فرمایا ہے کہ بچہ کے پیٹ میں ہونے اور پیدا ہونے کے وقت ماں کو بڑی بڑی مشقت اٹھانی پڑتی ہے بڑے ہونے کے بعد اولاد کو جس کا خیال ضروری ہے حمل اور دودھ پلانے کی مدت جو ڈھائی برس فرمائی حضرت عبد 1 ؎ عبد اللہ بن عباس نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ اگر چھے مہینے حمل رہ کر ستوانسہ بچہ پیدا ہو تو دو برس دودھ پلانے کی مدت ہوگی اور اگر بچہ نو مہینے میں پیدا ہو تو ایک برس نو مہینے دودھ پلانے کی مدت ہوگی ‘ امام محمد (رح) اور امام ابو یوسف (رح) کا مذہب بھی اسی کے موافق ہے امام ابوحنیفہ (رح) کو یہاں اپنے شاگردوں سے اختلاف ہے ان کے نزدیک دودھ پلانے کی مدت ڈھائی برس تک ہے اس سے زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی فقہ کی کتابوں میں ہے اب آگے نیک اولاد کا ذکر فرمایا کہ بچپنے کی عمر کو طے کرکے جب جوان اور جب چالیس برس کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تو اللہ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں اس کی شکر گزاری میں مجھ کو نیک کاموں کی توفیق دے اور مجھ کو نیک اولاد عنایت فرما اور میں پچھلے گناہوں سے توبہ کرکے آئندہ فرمانبرداروں کے گروہ میں داخل ہوجانے کا اقرار کرتا ہوں ‘ آگے فرمایا ایسے لوگوں کی دعا اللہ تعالیٰ قبول کرکے ان کے گناہوں کو معاف فرمائے گا اور اپنے رسولوں کی زبانی جو اس نے وعدہ کیا ہے اس وعدہ کے موافق وہ ایسے لوگوں کو قا مت کے دن جنت میں داخل کرے گا جن معاویہ بن جاہمہ بن عباس بن مرد اس سلمی کی روایت اوپر گزری بعض علما نے ان کو تابعی اور ان کے باپ دادا کو صحابی قرار دیا ہے۔
(4 ؎ صحیح مسلم باب تقدیم یرالوالدین علی التطوع 314 ج 2۔ )
(5 ؎ مشکوٰۃ شریف البر والصلۃ ص 421۔ )
(6 ؎ صحیح بخاری باب فضل الصلوۃ لوقتھا ص 75 ج 1۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 157 ج 4۔ )
Ayahs 46:17–1917۔ 19۔ اگرچہ تفسیر سدی تفسیر 2 ؎ ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن حضرت ابوبکر صدیق کے بیٹے کی شان میں نازل ہوئی ہے اور تفسیر ابن جریج 3 ؎ میں بجائے عبد الرحمن کے عبد اللہ حضرت ابوبکر صدیق کے دوسرے بیٹے کا نام لیا ہے۔ لیکن اور مفسروں نے اس شان نزول کو اس سبب سے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس شان نزول کی روایت صحیح بخاری 1 ؎ اور نسائی کی صحیح روایتوں کے مخالف ہے صحیح بخاری اور نسائی وغیرہ میں جو قصہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب مروان نے معاویہ کی طرف سے مدینہ میں لوگوں کو یزید کی بیعت کی رغبت دلائی اور کہا امیر المومنین معاویہ کا اپنے جیتے جی اپنے بیٹے کے نام پر لوگوں سے بیعت لینا ایسا ہی ہے جس طرح ابوبکر صدیق نے حضرت عمر کو اور حضرت عمر نے حضرت عثمان کو اپنے جیتے جی خلافت کے لئے نامزد کیا تھا حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق نے کہا نہیں یہ بیٹے کو ولی عہد بنانے کی رسم تو فارس اور روم کے بادشاہوں کی ہے خلفاء اسلام کی نہیں ہے مروان نے طعن کے طور پر کہا کہ یہ وہی عبد الرحمن ہیں جن کی شان میں سورة احقاف کی مذمت کی آیت نازل ہوئی ہے حضرت عائشہ نے پردہ کے پیچھے سے جواب دیا کہ حضرت ابوبکر صدیق کی اولاد کی شان میں سوا سورة نور کی آیتوں کے اور کوئی آیت نہیں اتری حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ اپنے بھائیوں کا حال جس قدرحضرت عائشہ کو معلوم ہوسکتا ہے دوسرے شخص کو نہیں معلوم ہوسکتا اس واسطے حضرت عائشہ کے قول کے مخالف جن مفسروں نے حضرت عبد الرحمن یا حضرت عبد اللہ کی شان میں اس آیت کا نازل ہونا بیان کیا ہے وہ قول صحیح نہیں ہے اور حافظ ابن حجر نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عائشہ کے اس قول سے بعض شیعہ مذہب کے لوگوں نے یہ بات جو نکالی ہے کہ خود حضرت ابوبکر کی بیٹی غار کی آیت حضرت ابوبکر صدیق کی شان میں نازل ہونے کی منکر تھیں کیونکہ وہ صاف کہتی ہیں کہ سورة نور کی ان کی برات کی آیتوں کے سوا اور کوئی آیت ان کے خاندان کے حق میں نازل نہیں ہوئی شیعہ مذہب کے لوگوں کی یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ حضرت عائشہ کے قول میں خاندان سے مراد حضرت ابوبکر صدیق کی اولاد ہے خود حضرت ابوبکرصدیق کے تذکرہ کا وہاں موقع نہیں ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں میں نیک اولاد کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ناہموار اولاد کا ذکر فرمایا ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ بنی آدم میں بعض ایسے ناہموار بھی ہیں کہ ماں باپ سے حشر کا ذکر سن کر بیزار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے میرے ماں باپ تم مجھ کو دوبارہ زندہ ہونے اور حساب و کتاب سے ڈراتے ہو اگر ایسا ہوتا تو جو لوگ مجھ سے پہلے مرگئے ہیں آج تک ان میں سے کوئی ضرور دوبارہ زندہ ہوتا، ماں باپ ناہموار اولاد کی نادانی کی باتیں سن کر اس کے راہ راست پر آجانے کی اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں اور اولاد کو سمجھاتے ہیں کہ اے کمبخت دوبارہ زندہ کئے جانے اور نیک و بد کی جزا و سزا کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے ماں باپ کی یہ سمجھ میں آجانے کے قابل نصیحت سن کر اس ناہموار اولاد نے یہ الٹا جواب دیا کہ یہ باتیں پہلے سے کہانیوں کی طرح چلی آتی ہیں ان ہی کو تم نے سچا جان لیا ہے۔ آگے فرمایا کہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے علم غیب میں ان میں کے اگلے پچھلے جنات اور بنی آدم سب دوزخی ٹھہر چکے ہیں اور یہ لوگ ایسی باتوں سے کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے قیامت کے دن انہی کو بڑا نقصان پہنچے گا۔ ابن 1 ؎ ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے ایک ٹھکانہ جنت میں اور ایک دوزخ میں پیدا کیا ہے اب جو لوگ ہمیشہ کے واسطے دوزخی قرار پائیں گے اور ان کے جنت میں ٹھکانے خالی رہ جائیں گے وہ ٹھکانے بھی جنتیوں کو مل جائیں گے۔ آیتوں میں دوزخی لوگوں کے ٹوٹے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے پھر فرمایا نیک و بد ہر فرقے کے لئے جنت و دوزخ میں درجے مقرر ہیں جیسے جس کے عمل ہوں گے ویسی ہی جزا و سزا ہوگی کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا کہ نیکی کا بدلہ گھٹا دیا جائے یا بدی کی سزا بڑھا دی جائے۔ صحیح مسلم 2 ؎ میں سمرہ ؓ بن جندب سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوزخ کی آگ کسی کے ٹخنوں تک ہوگی کسی کی کمر تک کسی کی گردن تک۔ ترمذی 3 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک گزر چکی ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں صحیح مسلم 4 ؎ کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے ان حدیثوں سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ عملوں کے موافق دوزخ اور جنت میں سزا و جزا کے درجے مقرر ہیں ان کے موافق سزا و جزا تجویز ہوگی سزا کے بڑھا دینے یا جزا کے گھٹا دینے میں کسی پر ظلم نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے آگے فرمایا کہ اب تو یہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے اور سزا و جزا کو کہانیاں بتاتے ہیں لیکن قیامت کے دن سزا کے طور پر دوزخ میں جھونکے جانے کے لئے جب ان کو دوزخ کے کنارہ پر ٹھہرایا جائے گا تو اس وقت کا ان کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ دنیا میں دوبارہ آنے اور نیک عمل کرنے کی کتنی بڑی آرزو ظاہر کریں گے ان آیتوں میں اس مطلب کو مختصر طور پر فرمایا ہے سورة الانعام میں یہ مطلب آیت ولو تری اذ وقفوا علی النار میں تفصیل سے گزر چکا ہے اس لئے سورة الانعام کی وہ آیتیں ویوم یعرض الذین کفروا علے النار کی گویا تفسیر ہیں۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 159 ج 4۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 159 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الاحقاف ص 715 ج 2۔ )
(1 ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجنۃ۔ ص 332۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم با جھنم اعاذنا اللہ منھا۔ ص 381 ج 2۔ )
(3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ درجات الجنۃ۔ ص 89 ج 2۔ )
(4 ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص 319 ج 2۔ )
Ayah 46:2020۔ حدیث اور تفسیر کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر (علیہ السلام) کا اس آیت پر پورا عمل تھا خود بھی آپ تکلف اور راحت کے کھانے پینے کے سامان سے پرہیز کرتے تھے اوروں کو بھی آپ اسی قسم کی نصیحت کیا کرتے تھے حدیث کی کتابوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں حضرت عمر (علیہ السلام) کو دنیا کی راحت کی چیزوں سے اس قدر پرہیز نہیں تھا۔ چناچہ صحیحین 1 ؎ میں خود حضرت عمر ؓ سے جو روایت ہے اس میں حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ عرض کیا تھا کہ حضرت فارس اور روم کے لوگ باوجود مشرک ہونے کے چین کرتے ہیں اور آپ پر اور آپ کی امت پر تنگ دستی غالب ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے کچھ اپنی امت کی فارغ البالی کی دعا فرمایئے آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ کی اس بات کے جواب میں یہ نصیحت فرمائی کہ اے عمر ؓ تم کو اس بات پر قناعت کرنی چاہئے کہ مشرک لوگوں کے لئے دنیا کا چین ہے اور ہم کے لئے عقبیٰ کا چین ہے آنحضرت ﷺ کی اس نصیحت کا حضرت عمر ؓ کے دل پر یہ اثر ہوا کہ اس دن سے حضرت عمر ؓ کے دل سے دنیا کی راحت کا خیال بالکل اٹھ گیا حاصل کلام یہ ہے کہ جن نافرمان منکر حشر لوگوں کا اوپر ذکر تھا جب ان کو دوزخ میں جھونکا جائے گا تو ذلیل کرنے کے لئے ان سے یہ کہا جائے گا کہ آج بےوقت دنیا میں دوبارہ جانے کی کیا آرزو کرتے ہو جب دنیا میں تھے تو ذلیل کرنے کے لئے ان سے یہ کہا جائے گا کہ آج بےوقت دنیا میں دوبارہ جانے کی کیا آرزو کرتے ہو جب دنیا میں تھے تو تمہارا یہ حال تھا کہ دنیا کے عیش و آرام کے آگے عقبیٰ کی باتوں کے سننے میں سرکشی کرتے اور ہر وقت بےحکمی میں لگے رہتے تھے۔ صحیح 2 ؎ مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ بڑے بڑے عیش و آرام والے نافرمان لوگ قیامت کے دن جب دوزخ میں جھونکے جائیں گے تو پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ جس عیش و آرام کے نشہ میں تم آج کے دن کو جھٹلاتے تھے آج کے دن اس عذاب کے آگے تم کو دنیا کا وہ عیش و آرام کچھ یاد ہے وہ لوگ قسم کھا کر کہیں گے کہ اس عذاب کے آگے ہم کو وہ عیش و آرام ذرا بھی یاد نہیں اس حدیث کو آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو دنیا کے جس عیش و آرام نے عقبیٰ کا منکر یا عقبیٰ سے غافل بنا دیا تھا عقبیٰ کے عذاب کے آگے وہ عیش و آرام تو ان لوگوں کو یاد بھی نہ رہے گا لیکن اس عیش و آرام نے ان لوگوں کو جو سرکشی سکھائی تھی اس کا خمیازہ ان کو عقبیٰ میں بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 46:21–2521۔ 25۔ قوم عاد کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو فرمایا ہود (علیہ السلام) کی امت کے لوگ بڑے شہ زور اور صاحب قوت تھے اس لئے ان کی شہ زوری کا غرور توڑنے کے لئے ان پر ہوا کا عذاب بھیجا اس قوم کا قصہ سورة الاعراف سورة ہود اور سورة الشعرا میں گزر چکا ہے ایسی شہ زور قوم کا ہوا میں اڑنا اور پٹخنیاں کھا کھا کر ہلاک ہونا اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہے اسی واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود (علیہ السلام) نے اپنی بت پرست قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے نوح (علیہ السلام) گزر چکا ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ سوائے اللہ کے اور کسی کی بندگی نہیں ہے اگر تم میری اس نصیحت کو نہ مانو گے تو مجھ کو خوف ہے کہ تم لوگوں پر کوئی سخت عذاب آجائے گا قوم کے سرکش لوگوں نے جواب دیا کہ ہود اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ ہم تو اپنے ٹھاکروں کی پوجا نہ چھوڑیں گے ہود (علیہ السلام) نے کہا میں تو فقط اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہوں عذاب کے آنے کا وقت تو اللہ کو ہی معلوم ہے مگر یہ تم لوگوں کی نادانی ہے کہ اللہ سے خبر نہیں مانگتے عذاب کی جلدی کرتے ہو اس کے بعد بادل کی صورت میں آندھی آئی جس نے ساری قوم کو پٹخ پٹخ کر ہلاک کردیا آخر کو فرمایا کہ مجرموں کو اللہ تعالیٰ یوں سزا دیتا ہے اس قصہ کے سنانے میں قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ تم لوگ بھی قوم عاد کی طرح اللہ کے رسول کے جھٹلانے کے مجرم ہو اگر تم اس حالت سے باز نہ آئے تو یہی انجام تمہارا ہوگا اللہ کی وعدہ سچا ہے قوم عاد کے قصہ سے مشرکین مکہ میں کے جن سرکش لوگوں کو عبرت نہیں ہوئی بدر کی لڑائی کے وقت ان کے حق میں اس وعدہ کا جو ظہور ہوا اس کا قصہ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت سے کئی جگہ گزرچکا ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فضل الفقراء الفصل الاول ص 447۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 566 ج 2۔ )
Ayahs 46:26–2826۔ 28۔ قوم عاد کے لوگ جیسے شہ زور تھے ایسے ہی مالدار اور صاحب مقدور بھی تھے کیونکہ اطراف یمن میں ان کی بستیاں خوب شاداب تھیں زراعت کی کثرت تھی مکہ اے اطراف کی زمین کی طرح ناقابل زراعت زمین نہیں تھی اس مالداری کے سبب سے ان لوگوں کو عمارتیں بنانے کا شوق بھی بہت تھا چناچہ اس کا ذکر سورة الشعرا میں گزر چکا ہے ان آیتوں میں یہی بات اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھائی ہے کہ قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے جیسا صاحب مقدور کیا تھا وہ بات تم لوگوں کو حاصل نہیں ہے پھر تم کس بھروسہ پر غریب مسلمانوں سے مسخرا پن کرتے ہو اور کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ تم سے زیادہ صاحب مقدور قوم کو ان ہی باتوں کے خمیازہ کے طور پر ایک دم میں اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا ‘ پھر فرمایا نصیحت کی باتیں سننے کے لئے کان ‘ قدرت کی نشانیوں کے دیکھنے کے لئے آنکھیں ‘ اچھے کاموں کی طرف خیال دوڑانے کے لئے دل یہ سب کچھ ان کو دیا گیا تھا مگر ان چیزوں سے ان لوگوں نے اللہ کی ناراضی کے کام کئے اس کے عذاب میں پکڑے گئے ‘ پھر فرمایا کچھ قوم عاد کے قصہ پر ہی عبرت منحصر نہیں ہے مکہ کے آس پاس ملک شام کے راستہ میں قوم ثمود قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں بھی ان کو نظر آتی ہوں گی اور فرعون کا قصہ بھی انہوں نے سنا ہوگا اور یہ بھی سنا ہوگا کہ ان سب کو مہلتیں دے کر طرح طرح سے سمجھایا گیا کہ برے وقت پر تمہارے یہ بت کچھ کام نہ آئیں گے ان بتوں کی پوجا سے بارگاہ الٰہی میں قربت کا ڈھونڈنا بالکل گھڑی ہوئی ایک بات ہے جس کا آسمان و زمین میں کہیں پتہ و ٹھکانہ نہیں لیکن جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو اچانک عذاب میں پکڑے گئے اور ان پتھر کی مورتوں کو خبر تک نہیں ہوئی کہ ان کی پوجا کرنے والوں پر کیا گزری۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ نافرمان لوگوں کو اللہ تعالیٰ پہلے مہلت دیتا ہے اور مہلت کے زمانہ میں جب وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو کسی عذاب میں پکڑ لیتا ہے جس سے وہ بالکل ہلاک ہوجاتے ہیں یہ وصرفنا الایت لعلھم یرجعون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پچھلی جتنی قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں ان سب کو اللہ تعالیٰ نے ایک زمانہ تک مہلت دی اور مہلت کے زمانہ میں رسولوں کی معرفت طرح طرح سے ان کو سمجھایا تاکہ وہ اپنی عادتوں سے باز آئیں لیکن مہلت کے زمانہ میں جب وہ لوگ سمجھانے سے نہ سمجھے تو طرح طرح کے عذابوں سے ان کو ہلاک کردیا یہی حال قریش کا ہوا کہ بارہ تیرہ برس تک ان کو مہلت دی گئی اور اس مہلت کے زمانہ میں گھڑی گھڑی پچھلی قوموں کے مہلت اور ہلاکت کے قصے سنا کر ان کو ہوشیار کیا گیا لیکن ان میں کے بڑے بڑے لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو بدر کی لڑائی کے وقت ان پر وہ آفت آئی جس کا ذکر صحیح بخاری و مسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے۔
Ayahs 46:29–3229۔ 32۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں عبد ؓ اللہ بن مسعود سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات کی اور ان کو قرآن شریف سکھایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ اور مسلم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جنات سے ملاقات نہیں کی بلکہ اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں جنات قرآن شریف سن کر چلے گئے ‘ بیہقی حافظ ابن حجر اور علما نے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے کہ ان دونوں روایتوں کا قصہ جدا جدا ہے پہلے پہل جنات نے اللہ کے رسول ﷺ کی بیخبر ی میں قرآن شریف سنا اور ایمان لائے اسی کا ذکران آیتوں اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت میں ہے ‘ اس دفعہ جنات کے آنے کا سبب معتبر سند سے ترمذی 2 ؎ نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے جو بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ خاتم النبیین ﷺ کے نیک ہونے سے پہلے جنات آسمان کی کچھ خبریں چوری سے سن آیا کرتے تھے اور کاہنوں سے کہہ دیا کرتے تھے ‘ کاہن وہی لوگ تھے جو اسلام سے پہلے لوگوں کو کچھ آئندہ کی باتیں بتایا کرتے تھے اور اس زمانہ میں عرب کے بہت سے کاموں کا دارومدار ان ہی کاہنوں کی پیشن گوئی پر تھا اس کے بعد جب خاتم النبیین ﷺ نبی ہوئے اور قرآن شریف اترنا شروع ہوا تو چوری سے جا کر آسمان کی خبر سننے والے جنات کی روک ٹوک زیادہ ہوگی اور بہ نسبت پہلے کے ان پر انگارے زیادہ برسنے لگے اور آسمان کی خبروں کے بند ہوجانے سے کاہنوں میں جنات کی آؤبھگت کم ہونے لگی تو آسمان کی خبروں کے بند ہوجانے اور انگاروں کے زیادہ برسنے کا سبب دریات کرنے کے لئے جنات کی ٹکڑیاں زمیان میں چاروں طرف چکر لگاتی پھرتی تھیں انہیں میں کی ایک ٹکڑی ادھر نکل آئی جہاں مکہ سے طائف کو جو راستہ جاتا ہے اس راستہ میں اللہ کے رسول ﷺ صبح کی نماز قرأت سے پھر رہے تھے یہی قرأت ان جنات نے سنی اور پھرجا کر اپنی قوم سے قرآن کی تعریف کی اس پر بہت بڑا قافلہ جنات کا مکہ کے جنگل میں دین اسلام کی باتیں سیکھنے آیا اور اللہ کے رسول ﷺ نے جنات کے اس قافلہ میں جا کر ان کو سورة الرحمن سنائی اور دین کی باتیں سکھائیں اس دوسری دفعہ جنات کے آنے کا صحیح مسلم ترمذی مستدرک حاکم وغیرہ میں عبد ؓ اللہ بن مسعود اور جابر ؓ بن عبد ؓ اللہ کی روایتوں میں تفصیل سے ذکر ہے غرض حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت میں پہلا قصہ ہے اور عبد ؓ الہ بن مسعود کی روایت میں دوسرا قصہ ہے امام مسلم نے صحیح 3 ؎ مسلم میں پہلے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی حدیث کو روایت (3 ؎ صحیح مسلم باب الجھر بالقراءۃ فی الصبح والقراءۃ علی الجن ص 184 ج 1۔ ) کرکے اس کے بعد عبد ؓ اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کو روایت کیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ پہلی روایت کا قصہ پہلے کا ہے اور دوسری روایت کا قصہ مابعد کا حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت میں یہ لفظ جو تھے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے نہ جنات کو دیکھا نہ قصداً جناب کو قرآن سنایا ‘ امام بخاری 1 ؎ نے سورة جن کی تفسیر میں اس روایت کو اس طرح مختصر کیا (1 ؎ دیکھئے صفحہ گزشتہ) ہے کہ ان لفظوں کو چھوڑ دیا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ دوسری دفعہ کے قصے میں اور روایتیں ایسی بھی ہیں جن میں یہ لفظ نہیں ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ امام مسلم نے جو مطلب عبد ؓ اللہ بن مسعود کی روایت سے نکالا ہے امام بخاری نے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت کو مختصر کرکے وہی مطلب نکالا ہے جنات کے قصہ سے قریش کو یہ بات جتلائی گئی ہے کہ جنات جیسی سخت مخلوقات پر ایک دفعہ سننے سے قرآن کا اثر ہوا لیکن قریش میں بعض انسان ایسے سخت دل ہیں کہ گھڑی گھڑی سننے بھی ان کے دل پر قرآن کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس کا سبب یہی ہے کہ ایسے لوگ اللہ کے علم غیب میں دوزخی قرار پا چکے ہیں اس لئے ان کو دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام اچھے نظر آتے ہیں اور جنت میں جانے کے قابل کاموں کی رغبت ان کے دل میں کسی طرح پیدا نہیں ہوتی۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے (2 ؎ صحیح بخاری باب کان امر اللہ قدر امقدورا ص 977 ج 2۔ ) حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب جس مقام کے لائق جو پیدا ہوا ہے دنیا میں ویسے ہی کام اس کو اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں تجربہ کے موافق کسی کام کا نتیجہ پہلے سے دریافت کرلینا اور بات ہے اور کسی کام پر کسی شخص کو مجبور کرنا اور بات ہے اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے کسی شخص کو کسی کام پر مجبور کیا گیا ہے کیونکہ لوح محفوظ میں تو اس کا نتیجہ لکھا گیا ہے جو ہر شخص اپنے اختیار سے کر رہا ہے باقی رہی یہ بات کہ زبردستی ہر شخص کو نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے چناچہ تبارک الذے میں آئے گا لنبلو کم ایکم احسن عملا۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جزا و سزا کا مدار اپنے علم پر نہیں رکھا بلکہ اس علم کے ظہور پر رکھا ہے اور اس ظہور کی صورت یہی تھی کہ نیک و بد کی جانچ کے لئے دنیا کو پیدا کیا گیا اب زبردستی کی حالت میں اس نیک و بد کی جانچ کا موقع باقی نہیں رہتا اس واسطے زبردستی کرکے کسی شخص کو نیک راہ سے لگا دینا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے حاصل کلام یہ ہے کہ قریش کے جو لوگ ایسے تھے کہ قرآن کی نصیحت کا کچھ اثر مرتے دم تک ان کے دل پر نہیں ہوا اس کا سبب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ وہ لوگ اللہ کے علم غیب میں دوزخی قرار پا چکے تھے اس لئے مرتے دم تک ان کو برے کام اچھے معلوم ہوتے رہے اور آخر کو اسی حال میں دنیا سے اٹھ گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پایا۔ چناچہ اس باب میں صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ (3 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 566 ج 2۔ ) بن مالک کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے وہ قصہ یاد کرو جو اللہ تعالیٰ نے جنات کی ایک ٹکڑی کو قرآن سننے کے لئے تمہارے پاس بھیج دیا اور جب وہ جنات اس جگہ پہنچ گئے جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں قرآن کے سننے کا ایسا شوق پیدا کردیا کہ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے چپ رہو یہ کلام اچھی طرح سننے دو اور جب وہ جنات قرآن کی نصیحت سن کر اپنی قوم کے پاس الٹے پھرے تو قوم کے لوگوں کو یہ نصیحت کی کہ اے قوم کے لوگو توراۃ کے بعد ایسی کتاب سنی ہے جس میں پہلی آسمانی کتابوں کی صداقت اور دین کا سیدھا راستہ بتایا گیا ہے اے قوم کے لوگو اللہ کے رسول کا کہنا مانو اور اللہ کے حکم کی فرمانبرداری کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہوں کو معاف کرکے تمہیں دوزخ کے عذاب سے بچائے اور قوم کے لوگوں میں سے جو کوئی اس نصیحت کو نہ مانے گا تو وہ زمین بھر میں بھاگ کر اللہ کے عذاب کو نہیں ٹال سکتا اور جو لوگ اپنے پیدا کرنے والے کو اپنا معبود نہیں جانتے وہ کھلم کھلا گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayahs 46:33–3533۔ 35۔ حشر کے منکر لوگوں کے پاس کوئی نقلی دلیل تو تھی نہیں صرف عقلی باتوں سے وہ لوگ حشر کا انکار کرتے تھے۔ چناچہ مستدرک 1 ؎ حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے سورة یٰس میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایت سے گزر چکا ہے کہ ایک شخص عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی آنحضرت ﷺ کے پاس لایا اور اس ہڈی کو مل مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑات جاتا تھا اور بڑے تعجب سے آنحضرت ﷺ سے کہتا تھا کہ کیا اس ہوا میں اڑی ہوئی حاک سے خدا انسان کا پھر پتلا بنا دے گا وہاں سورة یٰس میں بھی اور یہاں اس آیت میں اور سورة مومن میں اور جگہ جگہ ان عقلی اعتراض کرنے والے لوگوں کی عقل میں آنے کے موافق اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ہے حاصل اس جواب کا یہ ہے کہ اگر یہ لوگ عقل کے ہی پورے پابند ہوتے اور اچھی طرح عقل کو کام میں لاتے تو ضرور ان کی سمجھ میں آجاتا کہ بغیر کسی مادہ اور بغیر کسی مصالحہ کے جس اللہ نے خلاف عقل اتنا بڑا آسمان بلا کسی ستون کے بنا کر کھڑا کردیا اور اتنی بڑی زمین بنا دی اور بغیر مادہ مصالحہ کے پہلی دفعہ انسان کا مادہ اور مصالحہ بھی پیدا کیا اور انسان کو بھی پیدا کیا اس کو انسان کی خاک کا مادہ اور مصالحہ موجود ہوتے ہوئے انسان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہے کیا ان کی عقل اتنے کام کی بھی نہیں کہ اس عقل سے یہ لوگ اتنا سمجھ لیں کہ جس قدرت کے آگے مشکل کام آسان ہیں اس کو آسان کام کیا مشکل ہے اسی واسطے سورة روم میں فرمایا وھو الذی یبد الخلق ثم بعیدہ وھو اھون علیہ اور سورة مومن میں فرمایا لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس ولکن اکثر الناس لا یعلمون حاصل ان دونوں آیتوں کا یہ ہے جب پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کردیا تو اس کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اس طرح اگر انسان سمجھے تو بغیر ستون کے اتنے بڑے آسمان کا اور بغیر مصالحہ کے اتنی بڑی زمین کا پیدا کرنا انسان کا پیدا کرنے سے مشکل ہے پھر مشکل کام جس کی قدرت سے باہر نہیں آسان کام اس کو کیا مشکل ہے غرض بڑے بڑے کام خدا کی قدرت کے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ لوگ دیکھتے تھے اور ایک چھوٹے سے کام کے لئے خدا کی قدرت کے منکر تھے اسی لئے خدا تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو بےعلم اور کم عقل فرمایا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے خوب ان لوگوں کو قائل کیا ہے۔ چناچہ مسند 1 ؎ احمد ابن ماجہ کی ناقابل اعتراض سند کی روایتیں سورة یٰسین میں گزر چکی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن اپنی ہتھیلی میں تھوکا اور فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کو تھوک کی مثل ذلیل چیز سے میں نے پیدا کیا پھر بھی انسان میری قدرت کا قائل نہیں رہی یہ بات کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک اس طرح رواں دواں ہوجائے گی جس طرح عاص بن وائل نے وہ خاک ہوا میں اڑا دی تھی عقل کے پابند لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ حشر کے دن اس رواں دواں خاک کا پتہ کیونکر لگے گا اس کا جواب عقل میں آنے کے موافق اللہ تعالیٰ نے سورة ق میں دیا ہے کہ قدعلمنا ما تنقص الارض منھم و عندنا کتاب حفظ حاصل اس جواب کا یہ ہے کہ جس طرح تاریخ کی کتابوں سے ہزاروں برس کی چیزوں کا دنیا میں پتا لگتا ہے اسی طرح خدا کے دفتر سے حشر کے دن ان شبہ کرنے والوں کی خاک کا پتا لگ جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان حشر کے منکر لوگوں کے پیدا ہونے سے پہلے ان کی رواں دواں خاک کا سب پتہ لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ آگے فرمایا کہ اب تو یہ سزا و جزا کے منکر لوگ اپنے دنیا کے عیش و آرام کے نشہ میں دوزخ کے عذاب کے ذکر کو مسخرا پن میں اڑاتے ہیں لیکن جب دوزخ کا عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اور ان لوگوں کو قائل کرنے کے لئے ان سے پوچھا جائے گا یہ سچا عذاب ہے یا مسخرا پن ہے تو قسمیں کھا کھا کر اس عذاب کو سچا بتائیں گے جس کے جواب میں ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم نے جو اس عذاب کو جھٹلایا تھا اس کی سزا میں اب اس عذاب کا مزہ چکھو مشرکین مکہ میں کے سرکش لوگ جب اللہ کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کو زیادہ ستانے لگتے تھے تو اللہ کے رسول ﷺ کے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ ان سرکشوں کی غیب سے کوئی تنبیہ ہو تو شاید ان لوگوں کی سرکشی کچھ کم ہوجائے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی فرمائی اور فرمایا کہ سرکش لوگوں کی سرکشی تمہارے ساتھ کچھ نئی نہیں ہے پہلے انبیاء جیسے نوح (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے ساتھ بھی اس وقت کے مخالف لوگوں نے بڑی بڑی سرکشی کی ہے اور ان انبیاء نے اس سرکشی کی برداشت اور اس پر صبر کیا ہے ایسا ہی تم کو کرنا چاہئے اور ان سرکش لوگوں کے عذاب کی جلدی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ جس ہمیشہ کے عذاب کا ان سرکشوں سے وعدہ ہے جب وہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا تو اس کے سامنے اس سرکشی کے جینے کو یہ لوگ گھڑی دو گھڑی کا جینا سمجھیں گے۔
پھر فرمایا اس قرآ کے ذریعہ سے نصیحت تو ہر ایک کو پہنچا دی جاتی ہے مگر لوگ اللہ کے علم غیب میں بےحکم ٹھہر چکے ہیں وہ کسی نصیحت سے راہ راست پر نہ آئیں گے اور دونوں جہان میں اپنی سرکشی اور نافرمانی کی خمیازہ اٹھائیں گے توح (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) محمد رسول اللہ ﷺ ان پانچ انبیاء کو مخالف لوگوں سے بڑے بڑے مقابلے رہے ہیں اس لئے ان کو اولوالعزم کہتے ہیں۔ 1 ؎ جس کے معنی ہمت والوں کے ہیں صحیح مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا میں بڑے عیش و آرام سے گزران کرنے والے نافرمان لوگوں کو نافرمانی کی سزا میں جب دوزخ کا ایندھن بنایا جائے گا تو دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کی جس خوشخالی کے نشہ میں تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اللہ کے رسول سے سرکشی کا برتاؤ کیا اس ہمیشہ کے سخت عذاب کے آگے تم کو دنیا کی وہ خوشحالی کچھ یاد ہے وہ لوگ قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اس عذاب کے آگے ہم کو دنیا کی خوشحالی کچھ یاد نہیں اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کی خوش حالی کے نشہ میں جو لوگ آخرت کے عذاب کو جھٹلاتے اور اللہ کے رسول سے سرکشی کا برتاؤ کرتے تھے جب اس کی سزا کے طور پر ان کو دوزخ میں جھونکا جائے گا تو عذاب کی سزا کے آگے دنیا کی وہ خوشحالی یاد بھی رہے گی اور اس عذاب کے آگے دنیا کا چند روز کا جینا ان کو دن بھر کی گھڑیوں میں سے گھڑی بھر کا جینا اور رہنا نظر آئے گا۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری الایۃ ص 678 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب الجھر بالقراءۃ فی الصبح والقراءۃ علی الجن ص 184 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الجن ص 722 ج 2۔ )
(2 ؎ ترمذی شریف تفسیر سورة الجن ص 19 ج 2۔ )
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 267 ج 5)
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 561 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2۔ )