45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 45:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے

1۔ 2۔ حم حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا ذکر سورة بقر اور سورة آل عمران میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنا لیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں یہ فرمایا ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہے العزیز کا یہ مطلب ہے کہ قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسا زبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اگر یہ حال کے لوگ بھی قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے پر اڑے رہیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس وعدہ کا ظہور کئی برس کے بعد بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ اس لڑائی میں قرآن کے بڑے بڑے جھٹلانے والے دنیا میں نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئی جس عذاب کے جتانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پا لیا صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت کے حوالہ سے یہ بدر کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے الحکیم اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی ہیں کہ ان پڑھ آدمی تو درکنا کوئی پڑھا لکھا آدمی بھی ایسی باتیں بغیر تائید غیبی کے نہیں کہہ سکتا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ صاحب حکمت کا اترا ہوا ہے محمد ﷺ نے اپنی طرف سے نہیں سنایا۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 566 ج 2۔ )
Ayahs 45:3–15

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت) کی نشانیاں ہیں

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں تو یہ خدا اور اسکی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے سامنے دوزخ ہے اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ وہی (کام) آئیں گے جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے میں مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر آؤ گے

3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے مینہ کے وقت مینہ برستا ہے اور بڑھنے کے وقت اناج کا درخت بڑھتا ہے اور پھل پکتا ہے ‘ اور سوکھنے کے وقت اناج سوکتا ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے کلام میں اللہ کی قدرت کی یہ نشانیاں ہیں ‘ باوجود ان نشانیوں کے دیکھنے کے جو یہ مشرک لوگ اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کئے جاتے ہیں اور اللہ کے خاص معبود ہونے پر ایمان نہیں لاتے تو پھر آخر اللہ کی قدرت کی کون سی نشانی دیکھ کر یہ لوگ ایمان لائیں گے پھر فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کا کلام اور اللہ کے کلام میں جو اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں وہ سب سن کر مکڑائیاں کرتے ہیں اور اللہ کے کلام کو مسخرا پن اور جھوٹی باتوں میں اڑاتے ہیں لیکن عقبیٰ میں ان مکڑائیوں کا بہت خمیازہ انکوبھگتنا پڑے گا مال اولاد اور جن بتوں کو یہ لوگ اللہ کی عبادت میں شریک کرتے تھے کوئی چیز ان کے کام نہ آئے گی اور کوئی چیز ان کو دوزخ کے عذاب سے نہ چھوڑائے گی اس سبب نصیحت کے بعد فرمایا کہ اللہ اور اللہ کے رسول کا کام نصیحت کا کردینا ہے جو کوئی اس نصحیت کو مان کر کچھ نیکی کرے گا اپنا بھلا کرے گا اور جو کوئی اللہ اور اللہ کے رسول کی نصیحت کو نہ سنے گا اور برائی میں اپنی عمر گنوائے گا وہی اس برائی کے وبال میں گرفتار ہوگا۔ معتبر سند سے مسند امام 1 ؎ احمد میں حضرت محمد بن ابی عمیرہ صحابی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر ایک شخص اپنی یدائش کے دن سے موت کے وقت تک خدا کی عبادت میں لگا رہے اور بڈھا ہو کر مرے تو اس کو بھی قیامت کے دن یہ حسرت رہے گی کہ وہ دوبارہ پھر دنیا میں آتا اور ایسے کام کرتا جن سے اس کا اجر اور ثواب زیادہ ہوتا ‘ اب اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ جو شخص عمر بھر نیک کام نہ کرے گا اپنی عمر کا بڑا حصہ برے کاموں میں صرف کرے گا اس کو برے کاموں کے حمیازہ کے بھگتنے کے علاوہ نیک کام کا وقت ہاتھ سے جاتے رہنے پر کیا کچھ حسرت اور ندامت ہوگی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اب دنیا میں وقت ہے جو کوئی بھلا کام جس قدر کرلے گا اسی کے حق میں اچھا ہے ورنہ عقبیٰ میں سوا پچھتائے کے کچھ حاصل نہیں ناقابل اعتراض سند سے ترمذی 2 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا سے اٹھتے وقت ہر ایک شخص کو ایک طرح کی مذمت اور حسرت ہوتی ہے صحابہ نے پوچھا کہ حضرت ہر ایک شخص کو کس طرح کی ندامت اور حسرت ہوتی ہے آپ نے فرمایا نیک شخص کو اس بات کی ندامت اور حسرت ہوتی ہے کہ اور زیادہ نیکی کیوں نہیں کی اور بد شخص کو اس بات کی ندامت اور حسرت ہوتی ہے کہ تمام عمر بدی میں کیوں رائیگاں کی اور مرنے سے پہلے بدی سے باز کیوں نہ آیا وراء کا لفظ آگے اور پیچھے دونوں معنوں میں بولا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اگرچہ دوزخ کے منکر ہیں مگر دوزخ ان لوگوں کو گھیرے ہوئے ہے مرنے کے ساتھ ہی اس سے کسی طرح ان کا چھٹکارہ نہیں ھذا اھدے والذین کفروابایت ربہم لھم عذاب من رجزالیم اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اتارا ہے اگرچہ وہ سب کو نجات کا سیدھا راستہ بتایا ہے لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد ٹھہر چکے ہیں وہ اس کی نصیحت کو نہیں مانتے جس سے کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی ٹھکانہ دوزخ میں بناتے ہیں رجز کے معنی سخت عذاب کے ہیں۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے اس حدیث سے آیت کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مینہ کے پانی کی طرح قرآن کی نصیحت سب کے حق میں اگرچہ عام ہے لیکن نیک لوگوں کو اس نصیحت سے ایسا ہی فائدہ پہنچتا ہے جس طرح اچھی زمین کو مینہ کے پانی سے فائدہ پہنچتا ہے اور برے لوگوں کے حق میں وہ نصیحت ایسی ہی رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں پانی رائیگاں جاتا ہے ‘ قل للذین امنوا یغفر والللذین لایرجون ایام اللہ لیجزی قوما بما کانوا یکسبون اس سورة میں بھی ایک آیت ہے جس کے مدنی اور مکی ہونے میں سلف کا اختلاف ہے۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کا اگرچہ ایک قول یہ ہے کہ ہجرت کے بعد عبد اللہ بن ابی منافق نے حضرت عمر کو کچھ برا کہا تھا حضرت عمر ؓ نے جب یہ خبر سنی تو عبد اللہ بن ابی سے بدلہ لینا چاہا اس پر یہ آیت اتری لیکن حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا یہی قول پسند کیا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں مشرک لوگ مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذا جو دیتے تھے اس پر یہ درگزر کی آیت اتری حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ ایماندار لوگوں کو ان لوگوں کی باتوں پر صبر کرنا چاہئے جو اللہ کے عذاب کے دنوں سے نہیں ڈرتے تاکہ وقت مقررہ پر صبر کرنے والوں کو صبر کی جزا اور زیادتی کرنے والوں کو زیادتی کی سزا پوری طور پر مل جائے ‘ معتبر سند سے طبرانی 2 ؎ میں انس ؓ بن مالک سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص بجائے بدلہ لینے کے درگزر کرے گا قیامت کے دن بغیر حساب کے اس کو جنت میں جانے کا حکم ہوجائے گا بجائے بدلہ لینے کے درگز کی ہدایت جو اس آیت میں ہے اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ (2 ؎ الترغیب الترہیب باب الترغیب فی العفو ص 514 ج 3) (1 ؎ الترغیب والترہیب فصل فی ذکر الحساب ص 759 ج 4۔ ) (2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب الحشر الفصل الثانی ص 484۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب فضل منعلم و علم۔ ص 18 ج 2۔ )
Ayahs 45:16–20

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور انہیں اہل عالم پر فضیلت دی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے راستے پر (قائم) کردیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے

16۔ 20۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں خباب ؓ بن الارت سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے خباب نے مشرکین مکہ کی سختیوں سے تنگ آ کر آنحضرت ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ جس زمانہ میں یہ مکی آیتیں نازل ہوئی ہیں اس زمانہ میں اہل اسلام مشرکوں کے ہاتھ سے ایسے تنگ تھے جیسے کسی زمانہ میں فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھ سے بنی اسرائیل تنگ آگئے تھے اسی واسطے ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی راحت کی باتوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کا تکلیف کا زمانہ راحت کے زمانہ سے اللہ تعالیٰ نے بدل دیا رفتہ رفتہ یہی حالت مسلمانوں کو بھی پیش آنے والی ہے لیکن راحت کے زمانہ میں انسان کا دین پر پورا قائم رہنا بہت مشکل ہے یہود کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ انہوں نے راحت کے زمانہ میں کیا کیا آپس میں پھوٹ ڈال کر ایک توراۃ کی کئی توراتیں بنا ڈالیں توراۃ کے قائم رکھنے والے انبیا سے بدسلوکی کے ساتھ پیش آئے مسلمانوں کو راحت کے زمانہ میں ایسی باتوں سیب چنا چاہئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں جو نصیحت مسلمانوں کو مختصر طور پر فرمائی تھی اللہ کے رسول نے وہی نصیحت کھلے لفظوں میں فرمائی ہے چناچہ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے عمرو ؓ بن عوف انصاری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کی تنگ حالی کے زمانہ کا کچھ اندیشہ نہیں ہے اندیشہ تو اس زمانہ کا کہ پہلی امتوں کی طرح ان میں خوشحالی آجائے اور وہ خوشحالی ان کو پہلی امتوں کی طرح خرابی میں ڈال دے جب تک راحت کے زمانہ میں اللہ اور اللہ کے رسول کی اس نصیحت کو مسلمانوں نے پیش نظر رکھا اچھے رہے پھر حضرت عثمان کی خلافت کے زمانہ سے جو مسلمانوں میں آپس کی پھوٹ شروع ہوئی تو اس کا اثر آج تک باقی ہے ‘ یہ عثمان کی شہادت کا واقعہ 35 ہجری میں ہوا ‘ ان آیتوں میں جو کچھ ارشاد ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اللہ نے بنی اسرائیل کو توراۃ نبوت اور توراۃ کے موافق فیصلے کرنے کے لئے بادشاہت اور حکومت دی لیکن ان میں سے توراۃ کے عالم آپس کی ضد سے جاہل بن گئے اور آپس کی پھوٹ کے سبب سے انہوں نے اس طرح ایک توراۃ کی کئی توراتیں بنا ڈالیں کہ ان میں کا ایک فرقہ دوسرے فرقے کی توراۃ کو نہیں مانتا۔ پھر فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی اس بےجا پھوٹ کا پورا فیصلہ کر دے گا ‘ پھر فرمایا جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے توراۃ نازل فرمائی اسی طرح اسے رسول اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم پر قرآن نازل فرمایا ہے مشرکین مکہ تم کو اور مسلمانوں کو بڑے بوڑھوں کے طریقے کے چھوڑ دینے کا طعنہ جو دیتے ہیں یہ ان کی نادانی ہے ان کے اصل تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جو بچپنے میں بھی شرک سے بیزار تھے اس لئے تم کو اور مسلمانوں کو قرآن کی نصیحت پر چلنا چاہئے عمرو بن لحی کے زمانہ سے جو ان مشرکوں کے گمراہ بڑے بوڑھے پیدا ہوئے وہ اپنے کسی چھوٹے کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتے اس واسطے ان مشرکوں کی تراشی ہوئی باتیں سننے کے قابل نہیں ہیں ‘ اگر ان کے بڑے ان مشرکوں کے رفیق ہیں تو قرآن کی نصیحت پر عمل کرنے والوں کا اللہ رفیق ہے پھر فرمایا قرآن میں اگرچہ سراپا ہدایت کی باتیں ہیں جن باتوں پر عمل کرنے سے آدمی اللہ کی رحمت کے قابل ہوجاتا ہے لیکن قرآن کی نصیحت سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اللہ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے جس سے ان کے دل میں ایک دن اللہ کے رو برو کھڑے ہونے اور حساب و کتاب کا پورا یقین ہے جو لوگ اللہ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں ان کو مرتے دم تک قرآن کی نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں ان کو قرآن کی نصیحت سے ویسا ہی فائدہ ہوتا ہے جس طرح اچھی زمین کو مینہ کے پانی سے فائدہ پہنچتا ہے اور جو لوگ اللہ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے یہ جو فرمایا کہ بنی اسرائیل کو ستھری چیزیں کھانے کو دیں اس میں من سلویٰ مصر کے فرعون کے باغ وہاں کی کھیتی اور ملک شام کی کھیتی سب چیزیں داخل ہیں توراۃ کا علم نبوت بادشاہت کا دبدبہ جو بنی اسرائیل میں تھا اس وقت کی کسی قوم میں یہ باتیں نہیں تھیں اسی واسطے فرمایا اس وقت جو لوگ جہان میں تھے ان سب پر بنی اسرائیل کو فضیلت حاصل تھی یہ جو فرمایا کہ بنی اسرائیل کو دین کی کھلی کھلی باتیں دی گئی تھیں اس کا مطلب یہی ہے کہ توراۃ میں دین کی کھلی کھلی باتیں تھیں اور توراۃ کے بڑے بڑے عالم بنی اسرائیل میں تھے۔ (1 ؎ بخاری شریف باب مابقی النبی ﷺ واحصابہ من المشرکین ص 543 ج 1۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب کتاب الرقاق باب مایحذر من زھرۃ الدنیا الخ ) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 200۔ )
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور انکی زندگی اور موت یکساں ہوگی یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں

21۔ یہ منکرین حشر کے اس قول کا جواب ہے جس کا آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے وقالوا ماھی الا حیاتنا الدین تموت ونحی ومابھلکنا الا الدھر۔ حاصل ان دہریوں کے قول کا یہ ہے کہ دنیا میں پیڑے کے پودوں کی طرح انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے اور پیڑ کا پودا جس طرح دن بدن بڑھتا جاتا ہے اسی طرح انسان کا بچہ دن بدن بڑھتا جاتا ہے پھر جس طرح پرانا ہوجانے کے سبب پیڑ سوکھ کر اکھڑ جاتا ہے اور گر پڑتا ہے اسی طرح انسان کی عمر کا زمانہ گزر جانے کے سبب سے ایک دن انسان مرجاتا ہے پیڑ کے سوکھ جانے کے بعد اس کی لکڑی جل کر یا گل کر آخر کو خاک ہوجاتی ہے یہیں تک انسان کی پیدائش اور موت کا سلسلہ ختم ہوگیا اس سلسلہ کے بعد پھر دوبارہ انسان کا جینا اور نیک اور بد کو جزا و سزا کا دیا جانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا اس کا جواب جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں کو کچھ علم و عقل نہیں محض اٹکل سے ایسی باتیں یہ لوگ کرتے ہیں کیا دنیا میں دنیا کے حاکموں کے نافرمان لوگوں سے جیل خانے بھرے ہوئے ان لوگوں نے نہیں دیکھے اور کیا دنیا کے حاکموں کے فرمانبردار لوگ جاگیر تنخواہ ہیں اور انعام کھاتے ہوئے ان کی نظر سے نہیں گزرے آخر یہ دنیا کے حاکم کس نے پیدا کئے خدا ہی نے تو پیدا کئے ہیں کیا ان کم عقل لوگوں نے خدا کے دربار کے انصاف کو خدا کی پیدا کی ہوئی مخلوق کے انصاف سے بھی گھٹا دیا کہ خدا نیکوں کی جزا اور بدوں کی سزا کے لئے ایک دن دنیا کی عمر ختم ہونے کے بعد نہ ٹھہرائے گا اور یونہی کھیل کی طرح دنیا میں نیک و بد کو پیدا کرکے ایک دن دونوں کو خاک کرکے پھر خبر نہ لے گا نیک نے نیکی جو کی تھی اس نے اس کا کیا پھل پایا اور بد نے بدی جو کی تھی اس نے اس کا کیا خمیازہ بھگتا اسی واسطے فرمایا کہ ان لوگوں نے اپنی اٹکل سے اللہ تعالیٰ کے انصاف کو جو بٹا لگایا ہے وہ ان کی بہت ہی بری اٹکل ہے رہی یہ بات کہ یہ جزا و سزا دنیا کی دنیا میں ہی کیوں نہیں پوری ہوجاتی اس کا جواب سورة الم سجدہ کی آیت ولنذیقنہم من العذاب الا دنیٰ دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون۔ میں اوپر گزر چکا ہے کہ دنیا پوری جزا و سزا کی جگہ نہیں ہے کثرت گناہوں کے وقت کبھی تھوڑی سی سزا اس لئے دنیا میں ہوجاتی ہے کہ لوگ گناہوں سے باز آئیں اور آخر عمر تک کچھ کرلیں اور آخر عمر تک جبکہ اللہ تعالیٰ نے نیکی کا موقع انسان کو دیا ہے تو جزا اور سزا تمام دنیا کے لوگوں کے مرنے کے بعد ہی چاہئے اسی کا نام حشر اور قیامت ہے اب کوئی بات ان دہریوں کی مرضی کے مخالف ہوجائے مثلاً کسی عزیز یا دوست کا جوانی کی حالت میں مرجانا یا کسی مال کا تلف ہوجانا تو یہ دہرئے لوگ زمانہ کو برا کہا کرتے ہیں چناچہ جاہلیت کے زمانہ کے شعروں میں اب تک وہ مضمون موجود ہیں جن میں زمانہ کی گردش کی مذمت ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس حدیث قدسی میں دیا ہے جو صحیحین 1 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ یہ کم عقل لوگ زمانہ کو کیوں برا کہتے ہیں تمام دنیا کا انتظام تو خدا کے ہاتھ میں ہے انتظام دنیا کو برا کہنا خود خدا کو نام رکھنا اس حدیث قدوسی میں انا الدھر کا جو لفظ ہے اس لفظ کے سبب سے اب حزم وغیرہ نے دہر اللہ کا نام ٹھہرایا ہے مگر حافظ ابن کثیر 2 ؎ اور علما نے اس پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ دہر اللہ کا نام نہیں ہے بلکہ معنی حدیث کے یہ ہیں کہ تمام زمانہ کا انتظام جس کو دہر کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ ہے اس زمانہ میں بھی فارسی اردو کے شاعروں میں سے جو شاعر زمانہ کی مذمت کے مضمون باندھتے ہیں یا نثر کے قصوں کی کتابوں میں اس مضمون کو لکھتے ہیں وہ اس حدیث کے حکم میں داخل ہیں۔ (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة جاثیۃ ص 715 ج 2۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 150 ج 4۔ )
Ayahs 45:22–27

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب خدا کے سوا اس کو کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ بھلا تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے ؟

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف ظن سے کام لیتے ہیں

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑجائیں گے

22۔ 27۔ مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ مرنے کے بعد خاک ہو کر سب برابر ہوجائیں گے کیونکہ انسان کا پھر دوبارہ جینا اور جزا و سزا کا دیا جانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا اوپر کی آیت میں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا تھا کہ ایسی ناانصافی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا نہیں کیا کہ نیک و بد دونوں کے مر کر خاک ہوجانے کے بعد پھر خبر نہ لی جائے کہ نیک شخص نے نیکی جو کی تھی اس کی جزا اور بد شخص نے بدی جو کی تھی اس کی سزا کچھ ہونے کی ہے یا نہیں ان آیتوں میں اس جواب کو پورا کرنے کے لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخر عمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلے پھر اس طرح ہر شخص کی عمر آخر ہوتے ہوتے جب دنیا ختم ہوجائے تو تمام دنیا کی نیکی و بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ ایک دن کردیا جائے اور یہ فیصلہ اس طرح انصاف سے ہو کہ اس میں کسی پر ظلم نہ ہو کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا ا لیا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں کی بےٹھکانے باتوں کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو دین ٹھہرایا ہے ان کو تو یہ لوگ جانتے نہیں اس لئے ان کی ہر بات بےسند اور دل کی خواہش پر ہے جس بات کو ان کا دل چاہتا ہے اس کو یہ اپنا دین ٹھہرا لیتے ہیں جس بات کی پوجا کو ان کا دل چاہتا ہے اس کی پوجا کرنے لگتے ہیں اسی واسطے ان کے ہر ایک قبیلہ کے بت الگ الگ ہیں ‘ پھر فرمایا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں وہ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق نیک بات کے سننے سے انکے کانوں پر اور سمجھنے سے دل پر مہر لگی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کے دیکھنے سے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ان کو راہ راست پر نہیں لاسکتا اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو گمراہی کی حالت پر چھوڑ رکھا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ اس طرح کے لوگ کبھی اپنے ارادہ سے راہ راست پر آنے والے نہیں اور مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کے انتظام کے برخلاف ہے کس لئے کہ دنیا و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے کسی کو مجبور کرکے راہ راست پر لانے کے لئے نہیں پیدا کیا آخر آیت میں افلا تذکرون جو فرمایا اسکا مطلب یہ ہے کہ جن مسلمانوں کو یہ تعجب ہے کہ ہر وقت کی نصیحت سے بعض مشرک راہ راست پر کیوں نہیں آتے ان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں وہ کسی طرح راہ راست پر آنے والے نہیں آگے مشرکین مکہ کی ایک اور نادانی کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے جو قائل نہیں یہ فقط ان کی اٹکل ہے کوئی سند اس بات کی انکے پاس نہیں ہے یہ نہیں سمجھتے کہ جزا و سزا کے لئے دوبارہ زندہ کیا جانا نہ ہو تو دنیا کا پیدا ہونا بیکار ٹھہرتا ہے جو اللہ کے شان سے بہت بعید ہے باقی تفسیر اس آیت کی اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے آگے ایک اور نادانی مشرکین مکہ کی بیان فرمائی کہ حشر کی آیتیں سن کر وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر حشر کا ہونا سچ ہے تو ہمارے بڑوں کو زندہ کیا جا کر ہم سے ملا دیا جائے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ دوبارہ زندہ ہونے کے لئے قیامت کا دن مقرر ہے اب نہیں ہے پھر فرمایا بہت لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ جس نے ایک دفعہ پیدا کیا اس کو وقت مقررہ پر دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اس لئے وہ لوگ جو حشر کے منکر ہیں اگر سمجھیں تو حشر کچھ مشکل نہیں ہے پھر فرمایا جب آسمان و زمین کی سب مخلوقات پر اللہ کا حکم جاری ہے تو اس طرح کی عاجز چیزوں میں سے کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا جاسکتا اس واسطے جو لوگ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ قیامت کے دن جھوٹے قرار پا کر بڑی خرابی میں پڑجائیں گے ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے اب تو یہ لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں مگر قیامت کے ہول سے پریشان ہو کر جب یہ لوگ حساب کے وقت سر جھکا کے گھنٹوں کے بل بیٹھ جائیں گے تو وہ حالت ان لوگوں کی دیکھنے کے قابل ہوگی۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے عبد ؓ اللہ بن مسعود کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لایا جائے گا سورة الفرقان میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ جب دوزخ کو منکرین حشر کی صورت دکھائی دے گی تو غصہ کے مارے دوزخ میں سے طرح طرح کی خوفناک آوازیں آئیں گی علما نے لکھا ہے کہ ایسے ہی ہول کے وقت لوگ گردنیں ڈال کر گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص 318 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا۔ ص 381 ج 2۔ )
Ayahs 45:28–29

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب اعمال کی طرف بلائی جائے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

28۔ 29۔ اس آیت کے اور آیت یوم ند عوکل اناس مامہم کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے طرح طرح کا اختلاف کیا ہے مگر کسی آیت کی تفسیر کسی صحیح حدیث میں آجائے تو پھر اختلاف کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔ ترمذی 1 ؎ مستدرک حاکم صحیح ابن حبان مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے حاصل جس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر شخص کو بلایا جائے گا اور دائیں اور بائیں ہاتھ میں ہر ایک کے عمل کے موافق ہر ایک کا نامہ اعمال دیا جائے گا جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا اس کا چہرہ نورانی ہوجائے گا اور جس کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا اس کے چہرہ پر سیاہی چھا جائے گی اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نامہ اعمال دینے کیلئے اصحاب یمین اور اصحاب شمال اور مقربین اور سابقین کہہ کر قیامت کے دن اللہ کے حکم سے فرشتے لوگوں کو بلائیں گے اسی بلانے کا ذکر ان دونوں آیتوں میں ہے اس لئے تینوں ترجموں میں نامہ اعمال کے ساتھ لوگوں کے بلائے جانے کا ترجمہ کیا گیا ہے جو اس حدیث اور حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق ہے سو اس کے اور قول جو مفسروں نے بیان کئے ہیں وہ صحیح حدیث اور امام المفسیرین حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے قول کے مخالف ہیں ان آیتوں میں یہ جو فرمایا انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون اس کے معنی میں دونوں اردو ترجموں میں اختلاف ہے ایک ترجمہ لکھنے کا ہے اور ایک لکھوانے کا اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے عمل کئی دفعہ لکھے گئے ہیں سب سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا ہے تو لوح محفوظ میں اس قلم نے اللہ کے حکم سے تمام دنیا کی موجودات کے ساتھ انسان کے عمل بھی لکھے ہیں جس کا ذکر صحیح مسلم 2 ؎ عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی اور ترمذی 3 ؎ کی عبادہ ؓ بن صامت کی روایت میں ہے اس عمل کے لکھنے میں فرشتوں کا کچھ دخل نہیں ہے پھر جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ہر ایک بچہ کے عمر بھر کے عمل فرشتہ لکھتا ہے جس کا ذکر صحیحین 4 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت میں ہے پھر شب قدر میں سال بھر تک کے ہر شخص کے عمل لوح محفوظ سے فرشتے نقل کرلیتے ہیں اور کراً کاتبیں زمین پر سے ہر شخص کے عمل جو لکھ کر ہر روز آسمان پر لے جاتے ہیں اس سے وہ فرشتے جو لوح محفوظ پر سے سال بھر کے عمل کی نقل لے کر رکھ لیتے ہیں ہر اٹھوارہ میں مقابلہ کیا کرتے ہیں اس کا ذکر طبرائی 5 ؎ وغیرہ میں ناقابل اعتراض سند سے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ہے غرض ایک ترجمہ میں بلا مداخلت فرشتوں کے خود قلم کے لکھنے کی روایت کے موافق ترجمہ ہے اور دوسرے ترجمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے وہ عمل جو لکھوائے ان روایتوں کا ترجمہ ہی کے موافق ترجمہ کیا گیا ہے غرض حقیقت میں دونوں ترجمے صحیح ہیں۔ (1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة بنی اسرائیل 164 و الترغیب والترہیب فصل فی الحساب وغیرہ ص 793 ج 4۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب حجاج آدم و موسیٰ (علیہ السلام) ص 335 ج 2۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی ابواب القدر ص 47 ج 2۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم باب کیفیۃ خلق الادمی فی بطن امہ الخ ص 332 ج 2۔ ) (5 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 37 ج 6۔ )
Ayahs 45:30–33

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا یہی صریح کامیابی ہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا

30۔ 33۔ اوپر جزا و سزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گزاری اور نیک کام کئے ان کے لئے جنت ہے اور یہی بڑی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لئے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہراتے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزا و سزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا اور جزا و سزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہارا وہی مخسرا پن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ دوزخ قرار دیا ‘ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جنت کو اپنی رحمت اور دوزخ کو اپنا غصہ فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جس شخص پر اللہ کی رحمت ہوگی وہ جنت میں جائے گا اور جس پر غصہ ہوگا وہ دوزخ میں جھونکا جائے گا ان آیتوں میں جنت میں داخل ہونے کو رحمت جو فرمایا ہے اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے ‘ صحیح مسلم 2 ؎ میں انس ؓ بن مالک کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے بعض صحابہ کو ہنستے ہوئے دیکھ کر فرمایا کہ دوزخ کے عذاب کا جو حال میں نے دیکھا ہے اگر وہ حال تم کو نظر آجائے تو تم ہنسنا چھوڑ دو رونے سے کام رکھو۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں نہ وہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل پر ان کا خیال گزرتا ہے ان حدیثوں یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذابوں کی پوری تفسیر علمائے امت کی طاقت سے باہر ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی قول اللہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین ص 1110 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب الامربتحسین الصلوۃ وانما مھا ص 180 ج 1۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقۃ ص 460 ج 1۔ )
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

34۔ قرآن شریف میں کہیں تو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ملاقات اور اپنے سامنے کھڑے ہونے کو حشر فرمایا ہے جیسا کہ قد خسرالذین کذبوا بلقاء اللہ اور وقال الذین لا یرجون لقاء نا۔ میں ہے اور کہیں سزا و جزا جو اس دن لوگوں کو پیش آئے گی اسکو حشر فرمایا جیسا کہ اس آیت میں ہے لقاء یومکم ھذا صحیح حدیثوں میں حشر کے حالات کی جو تفصیل ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیکی و بدی کی پرسش کے وقت حشر کے دن نیک و بد سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور پھر جزا و سزا کا حکم ہوگا اسی واسطے بعضی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے سامنے کھڑے ہونے کو حشر فرمایا ہے اور بعضی آیتوں میں جزا و سزا کو صحیح مسلم 1 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک بڑی روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر طرح کی راحت دی ہے اور وہ لوگ دنیا کے عیش میں آخرت کو بھولے ہوئے ہیں ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ اپنے سامنے کھڑا کرکے پوچھے گا کہ اے شخص کیا تجھ کو میں نے ہر طرح کی عزت اور راحت سے دنیا میں نہیں رکھا وہ شخص کہے گا کہ ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تجھ کو کیا کبھی یہ خیال بھی آتا تھا کہ ایک روز تجھ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا وہ کہے گا کہ نہیں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس طرح تو نے دنیا میں میری بندگی اور فرمانبرداری کو بھلا دیا اسی طرح آج میں نے تجھ کو اپنی نظر رحمت سیبھلا دیا غرض اس حدیث اور صحیح حدیثوں سے معلومہوتا ہے کہ حشر کے دن بد لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ لیکن صحیحین 2 ؎ میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے دیدار کے وقت فرمائے گا تم لوگ اللہ کی عنایت سے راضی اور خوشی ہو اہل جنت عرض کریں گے یا اللہ تو نے ہم کو ہمارے حوصلہ سے بڑھ کر عیش و آرام دیا ہے پھر ہم کیونکر خوش اور راضی نہ ہوں گے اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا سب سے بڑھ کر تمہارے خوش ہونے کی یہ بات ہے کہ میں بھی تم سے ہمیشہ کے لئے خوش ہوں اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ آقا جس غلام سے خوش ہو اس کو کس بات کی کمی ہے غرض اہل جنت کا دیدار تو اس خوشنودی کا ہوگا اور اہل دوزخ جو اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ان کا دیکھنا اللہ کو ایسا ہے جس طرح کسی مجرم کو حاکم کے رو برو کھڑا کرتے ہیں اور حاکم نظر غضب سے اس مجرم کو دیکھتا ہے۔ چناچہ صحیحین 3 ؎ وغیرہ کی روایتوں میں ہے کہ جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہضم کرے گا ایسا شخص جس وقت حشر کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس وقت غضب ناک ہوگا آخری آیت میں فرمایا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی ان کی مدد کرکے ان کو اس عذاب سے چھوڑا نہ سکے گا یہ ان مشرک لوگوں کا ذکر ہے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان نہ ہوگا کیونکہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی یہ حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جن لوگوں کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا فرشتے انبیاء اور نیک لوگ ان کی شفاعت مدد کے طور پر کریں گے اور آخر کو وہ ذرہ برابر ایمان دار لوگ دوزخ سے نکل کر جنت میں جائیں گے۔ (1 ؎ صحیح بخاری کتاب التوحید ص 1107 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ص 409 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری کلام الرب مع اھل الجنۃ ص 1121 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب غلظ تحریم اسبال الازار الخ ص 71 ج 1۔ )
Ayahs 45:35–37

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالیں جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس خدا ہی کو ہر طرح کی تعریف (سزاوار) ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک (اور) تمام جہان کا پروردگار ہے

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے بڑائی ہے اور وہ غالب اور دانا ہے

35۔ 37۔ دوزخیوں پر جب طرح طرح کا عذاب ہوگا تو ان کو قائل کرنے کے لئے یہ کہا جائے گا یہ عذاب تم پر اس لئے ہے کہ تم نے اللہ کے کلام کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑایا تھا اور دنیا کی زندگی پر مغرور ہو کر آج کے دل کو بھول گئے تھے اس لئے اب اس عذاب سے کسی طرح تم چھوٹ نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ عذر سنا جائے گا آخر کو فرمایا جب آسمان اور زمین اور تمام جہان کا مالک اللہ ہے تو اس کے بندوں کو اس کی تعظیم اور تعریف لازم ہے اس میں کسی کو شریک ٹھہرانا بڑی نادانی کی بات ہے کیونکہ آسمان و زمین میں اللہ کی بڑائی مانی جاتی ہے زمین میں جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں ان کے پاس کچھ اس کی سند نہیں ہے پھر فرمایا جو کوئی اس حکم کے برخلاف عمل کرے گا تو اللہ تنافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسا زبردست ہے کہ اس کے بدلہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا پچھلی بہت سی قوموں کو اس نے طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا جو قومیں حال کے لوگوں سے قوت ثروت ہر ایک بات میں بڑھ کر تھیں لیکن اللہ کے عذاب سے کوئی چیز ان کو بچا نہ سکی ‘ فرعون جیسے صاحب لشکر بادشاہ کو اس نے دریا قلزم میں ڈبو کر تہ وبالا کردیا اور اس کا لشکر اس کے کچھ کام نہ آیا صاحب حکمت وہ ایسا ہے کہ اس کی حکمت کے آگے بڑے بڑے بادشاہوں کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی جس طرح مثلاً فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہلاک کرنے کے ارادہ سے بنی اسرائیل کے ہزاروں لڑکوں کو قتل کرایا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا جو نمونہ فرعون کو خواب میں دکھایا تھا اس نمونہ حکمت الٰہی کو فرعون اپنی کسی تدبیر سے نہ روک سکا آخر اس خواب کی تعبیر یہی ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ہی گھر میں پرورش کرایا چناچہ سورة طہ سورة الشعرا اور سورة قصص میں یہ قصہ تفصیل سے گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ فرعون نے شام کے ملک سے ایک آگ نکلتی ہوئی دیکھی جس سے بنی اسرائیل کے محلہ کے سوائے مصر کے اور سب گھر جل گئے۔ اس وقت کے نجومیوں نے اس خواب کی یہ تعبیر بتائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے سبب سے فرعون کی سلطنت کو صدمہ پہنچے گا۔ اس تعبیر کے روکنے کے لئے فرعون نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لڑکے قتل کرا ڈالے مگر حکمت الٰہی کے آگے انسانی تدبیر کیا چل سکتی ہے اب آگے تقدیر الٰہی کے موافق جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ دودھ پلانے کے بعد اپنے بچہ کو ایک صندوق میں لٹا کر اس صندوق کو اس طرح نیل دریا میں ڈال دیا کریں کہ اس صندوق میں ایک رسی بندھی رہے اور پھر اس رسی کا دوسرا سرا پیڑ سے باندھ دیا جائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے اس کے موافق عمل کیا ایک روز حکمت الٰہی کا یہ ظہور ہوا کہ رسی کھل کر وہ صندوق فرعون کے محل کے نیچے بہتے بہتے پہنچ گیا اور فرعون کی بی بی آسیہ کی نظر جب اس صندوق پر پڑگئی تو انہوں نے اس کو نکلوایا اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی محبت آسیہ کے دل میں ڈال دی اور انہوں نے فرعون سے اجازت لے کر موسیٰ (علیہ السلام) کو پالا۔ یوسف (علیہ السلام) کے عہد میں بنی اسرائیل ملک شام سے مصر میں آ کر آباد ہوئے یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہ مصر میں بڑی ذلت سے رہتے تھے ‘ نبی ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے لے جاکر ملک شام میں آباد کریں اسی حکم کے موافق ایک رات بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے چلے فرعون نے جب یہ خبر سنی تو کئی لاکھ آدمیوں کا لشکر لے کر بنی اسرائیل کا پیچھا گیا اور قلزم دریا پر بنی اسرائیل کے قریب آپہنچا اللہ کے حکم سے دریا میں خشک راستہ پیدا ہوگیا جس راستہ سے موسیٰ (علیہ السلام) تو مع بنی اسرائیل کے دریا پار ہوگئے۔ فرعون نے مع اپنے لشکر کے جب اس خشک راستہ سے دریا پار ہونے کا قصد کیا تو بیچ دریا میں پہنچ جانے کے بعد دریا کا پاٹ مل گیا اور فرعون کا قصہ اللہ تعالیٰ کے زبردست ہونے اور صاحب حکمت ہونے کی گویا تفسیر ہیں۔ سورة الجاثیہ ختم ہوئی۔