Ayahs 44:1–161۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب قدر رمضان میں ہوتی ہے ان آیتوں میں دھوئیں کا جو ذکر ہے اور فارسی اور اردو قاعدہ میں اس دھوئیں کے باب میں اختلاف ہے صحیح قول اس اختلاف میں یہی ہے کہ ان آیتوں میں تو مکہ کے قحط کے دھوئیں کے مانند غبار کا ذکر ہے اور قیامت کے قریب جو دھواں آسمان پر چھاجائے گا جس کا ذکر صحیح 3 ؎ مسلم کی حذیفہ بن اسید کی روایت میں ہے قیامت کی علامت کا وہ ایک جدا دھواں ہوگا حاصل کلام یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بددعا سے مکہ میں قحط پڑا تھا اور قحط کے دنوں میں بھوک کے سبب سے آنکھوں میں اندھیرا سا آ کر آسمان پر غبار سا چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا اس کو دھواں فرمایا ہے۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود کی روایت سے یہی تفسیر صحیح بخاری 4 ؎ میں ہے اس واسطے یہی تفسیر صحیح ہے کہ ان آیتوں کی تفسیر میں تو اس قحط کے وقت کے غبار کو دھواں قرار دیا جائے اور حذیفہ ؓ بن اسید کی روایت کے موافق علامت قیامت کا دھواں جدا کہا جائے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پہلے شب قدر میں لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل فرمایا اور پھر ہر ایک موقع پر اس کی آیتیں اول آسمان سے نازل ہوئیں۔ بیہقی کی شعب الایمان تفسیر ابن ابی 1 ؎ حاتم اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس میں فیھا یفرق کل امر حکیم امر امن عندنا کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس نے یہ بیان فرمائی ہے کہ شب قدر میں سال بھر کے سب کاموں کی تفصیل لوح محفوظ سے نقل کی جا کر فرشتوں کو سال بھر کا انتظام چلانے کے لئے دی جاتی ہے۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے شاگردوں میں سے مجاہد عکرمہ وغیرہ نے بھی آیت کی یہی تفسیر کی ہے حکیم کے معنی یہاں محکم اور مضبوط کے 2 ؎ کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ کے حکم سے سال بھر کا انتظام لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور اول آسمان سے زمین پر یہ قرآن اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ انجانی کا عذر رفع کردینے کے لئے ہر زمانہ میں آسمانی احکام دے کر رسولوں کا بھیجنا عادت الٰہی میں داخل ہے اس واسطے اس نے اپنی رحمت سے یہ قرآن نازل کیا ہے۔ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی انجانی کو رفع کردینا بہت پسند ہے اس واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے۔ یہ حدیث انا کنا مرسلین کی گویا تفسیر ہے۔ اب آگے فرمایا یہ منکر قرآن لوگ جو باتیں قرآن کی آیتوں کے باب میں کہتے ہیں وہ سب اللہ سنتا ہے اور قرآن کی نصیحت کے موافق نیک لوگ جو عمل کرتے ہیں ان سب عملوں کو وہ جانتا ہے سزا وجزا کے وقت اس کا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ مشرکین مکہ اپنے بتوں کی بنائی ہوئی کوئی چیز نہیں دکھا سکتے تھے اس واسطے وہ اس بات کے قائل تھے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کو سب چیزوں کا خالق مانتے ہو اور اپنے بتوں کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز دنیا میں نہیں دکھا سکتے تو پھر جس کے اختیار میں تمہاری موت و زندگی ہے اور جس نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا اس کی تعظیم میں تم غیروں کو کس سند سے شریک کرتے ہو پھر فرمایا یہ لوگ اس بات کے بھی پورے قائل نہیں ہیں کہ سب چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے مثلاً جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو کشتی کے ڈوبنے کے خوف کے وقت یا کسی اور ایسی مصیبت کے وقت اپنے بتوں کو بھول جاتے ہیں اور اللہ کو سب چیزوں کا خالق جان کر اسی سے مصیبت کے ٹل جانے کی التجا کرتے ہیں اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو پھر بتوں کو اپنا معبود جاننے لگتے ہیں حاصل یہ ہے کہ ہر طرف سے یہ لوگ دھوکے میں ہیں اور وہ دھوکہ بھی ان لوگوں کا کھیل کے طور پر ہے جس طرح بچے کھیل کی چیزوں سے کبھی کھیلتے ہیں اور کبھی ان کو توڑ پھوڑ کر پھینک دیتے ہیں یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ مصیبت کے وقت کچھ ہے اور راحت کے وقت کچھ۔ اب آگے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا اے رسول اللہ کے اگر یہ لوگ اسی حال میں رہیں تو تم کو اسی دھوئیں کے عذاب کا انتظار کرنا چاہئے جو آسمان پر چھا جائے گا اور لوگوں کو گھیر لے گا اس وقت یہ لوگ التجا کریں گے اور کہیں گے کہ یا اللہ اگر یہ دھوئیں کا عذاب ٹل گیا تو ہم راہ راست پر آجائیں گے لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ یہ لوگ راہ راست پر آنے والے نہیں کیونکہ جب اس عذاب سے پہلے یہ لوگ راحت کی حالت میں تھے تو اللہ کے رسول کو دیوانہ بتاتے تھے اور قرآن کی آیتوں کو کہتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے ہے خود تو محمد ﷺ ان پڑھ ہیں کوئی شخص ان کو یہ باتیں سکھا جاتا ہے جس کو یہ اللہ کا کلام مشہور کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی درمیانی مصیتیں ہیں جو ٹل جاتی ہیں ان کے بداعمالوں کی پوری سزا کے طور پر جب انل وگوں کی سخت گرفت ہوگی تو وہ کسی طرح نہیں ٹل سکتی۔ حضرت 1 ؎ عبد ؓ اللہ بن عباس کے قول کے موافق سخت گرفت بدر کی لڑائی کے دن کی گرفت ہے اور حضرت 2 ؎ عبد ؓ اللہ بن مسعود کے قول کے موافق آخرت کے عذاب کی گرفت ہے لیکن ان دونوں قولوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث جو کئی جگہ گزر چکی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ میں کے جو سرکش لوگ بدر کی لڑائی میں نہایت ذلت سے مارے گئے مرتے کے ساتھ ہی وہ عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے اللہ کے رسول نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ اب بدر کے دن دونوں جہانوں کے عذابوں کو سخت گرفت کی تفسیر قرار دیا جائے تو اوپر کے دونوں قولوں میں کچھ اختلاف باقی نہیں رہتا۔ پکڑیں گے ہم بڑھ گیے۔ اس کا مطلب بھی سخت گرفت کا ہے۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 29 ج 6۔ ) (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 29 ج 6۔ ) (3 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 169۔ )
(1 ؎ جمع الفوائد ص 283۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر الخ ص ج 1۔ )
(3 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب العلامات بین یدی الساعۃ الفصل الاول ص 472 )
(4 ؎ صحیح بخاری تیرو سورة الدخان ص 714 ج 2۔ )
(1 ؎ تفسیر فتح القدر ص 557 ج 4۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 137 ج 4۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری کتاب التوحید قول النبی ﷺ لا شخص اغیر من اللہ ص 3 ج 2۔ )
Ayahs 44:17–2317۔ 23۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش پر قحط کی آفت آئی تو انہوں نے اپنے بتوں کو چھوڑ کر خالص اللہ سے رفع قحط کی التجا کی اور جب اللہ نے اس بلا کو دفع کردیا تو وہ لوگ پھر وہی شرک کرنے لگے۔ قریش کی یہ حالت فرعون کی قوم کی حالت سے ملتی ہوئی تھی اس واسطے ان آیتوں میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر فرمایا۔ سورة یوسف میں گزر چکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے مصر کے قیام کے زمانہ میں بنی اسرائیل اپنے اصلی وطن ملک شام کو چھوڑ کر مصر میں آ کر آباد ہوئے اب یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد فرعون بنی اسرائیل کو بڑی ذلت سے رکھتا تھا اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) کے نبی ہو کر مصر میں آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے لے جا کر شام کے ملک میں بسا دو ۔ ان آیتوں میں وہی ذکر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم سے یہ درخواست کی کہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالہ کردیا جائے اسی درخواست کی تائید میں موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں جس طرح مجھ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی میں تم لوگوں کو پہنچا دیتا ہوں اپنی طرف سے اس میں کچھ خیانت نہیں کرتا اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو مان لینے میں تم کو سرکشی مناسب نہیں کیونکہ اس سرکشی کے سب سے قحط کے طوفان کی ٹڈیوں وغیرہ کی آفتوں کو تو تم لوگ میری نبوت کی سند کے طور پر دیکھ چکے ہو۔ اب آئندہ اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آؤگے تو تم پر کوئی بڑی آفت آجائے گی جو جو آفتیں قوم فرعون پر آئیں ان کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالنے کا ڈراوا جو دیا تھا اس کا جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دیا کہ تیرے ظلم سے بچنے کے لئے مجھ کو اللہ تعالیٰ کی پناہ کا سہارا کافی ہے۔ آخر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم سے یہ بھی کہا کہ اگر تم لوگ میری نبوت کو نہیں مانتے ہو تو مجھ سے کچھ مزاحمت نہ کرو میں بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر مصر سے چلا جاتا ہوں جب فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی کسی نصیحت کو نہ مانا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ شکایت کی کہ یا اللہ یہ گناہ گار قوم کے لوگ کسی طرح اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے۔ اب مہلت کا زمانہ پورا ہوگیا اور عذاب الٰہی کے آجانے کے سوا اور کوئی موقع باقی نہ رہا اس لئے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ایک رات مصر سے چلے جاؤ اور اسی حکم میں یہ بھی جتلا دیا کہ گھبرانا نہیں فرعون اور اس کے ساتھی تمہارا پیچھا کریں گے۔ یہ پیچھا کرنے کا قصہ سورة الشعرا میں گزر چکا ہے کہ جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے مصر سے چلے جانے کی خبرسنی تو بہت بڑا لشکر ساتھ لے کر ان کا پیچھا کیا اور دریائے قلزم کے قریب جب بنی اسرائیل کو فرعون کی فوج نظر آنے لگی تو بنی اسرائیل نے گھبرا کر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اب ہم فرعون کے ہاتھ سے بچ نہیں سکتے کیونکہ ہمارے آگے دریا ہے اور پیچھے فرعون کی فوج دوڑم دوڑ چلی آتی ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ گھبراؤ نہیں ہمارے ساتھ ہمارا اللہ ہے وہ ہماری مدد کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم اپنا عصا دریا کے پانی پر مارو حضرت 1 ؎ عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھے اس واسطے عصا کے پانی پر مارتے ہی دریا میں بارہ راستے پیدا ہوگئے تفسیر سدی میں 1 ؎ ہے کہ ان پانی کی دیواروں میں جالیاں بھی پیدا ہوگئیں جن میں ہر ایک قبیلہ کے لوگ دوسرے قبیلہ کے لوگوں کو دیکھتے ہوئے ہنسی خوشی دریا سے پار ہوگئے۔ صحیح بخاری 2 ؎ مسلم نسائی ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں جو چند روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو آئے تو مدینہ کے گرد نواح میں جو یہود رہتے تھے ان کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے سنا اس کا سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ آج ہی کے دن بنی اسرائیل صحیح وسالم دریائے قلزم سے پار ہوئے اور فرعون مع اپنے لشکر کے ڈوب کر ہلاک ہوا اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے شکریہ میں موسیٰ (علیہ السلام) آج کے دن روزہ رکھا کرتے تھے وہی روزہ بنی اسرائیل میں چلا آتا ہے اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کہ اس سے بنی اسرائیل کے صحیح وسالم دریائے قلزم سے پار ہونے اور فرعون کے ڈوبنے کی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن جریر طبری ص 80 جز 19۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن جریر طبری ص 80 جز 10۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب صیام یوم عاشوراء ص 268 ج 1۔ )
Ayahs 44:24–2924۔ 29۔ اوپر گزر چکا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر قلزم دریا کے کنارہ پر پہنچے تو دریا میں راستہ پیدا ہوجانے کے لئے حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا تھا کہ دریا میں اپنا عصا ماریں اب اس آیت کی تفسیر حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس نے یہ فرمائی 3 ؎ ہے کہ دریا سے پار ہوجانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا تھا کہ اس قصد سے دریا میں پھر عصا ماریں کہ پہلی دفعہ دریا میں عصا مارنے سے دریا میں جو راستہ پیدا ہوگیا ہے وہ راستہ دوسری دفعہ عصا کے مارنے سے جاتا رہے تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہو کر بنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ دریا کو اسی طرح بیچ میں سے خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جائیں تو پانی کا پاٹ ملا دیا جائے اور ان سب کو غرق کردیا جائے اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں کھیتیاں اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم کے کنارہ پر آئے اور اللہ کی قدرت سے دریا میں بارہ راستے جو ہوگئے تھے ان کے ذریعہ سے دریا سے پار ہونا چاہا لیکن جب یہ سب بیچ دریا میں پہنچے تو اللہ کے حکم سے دریا کا پاٹ مل گیا اور سب ڈوب گئے آسمان و زمان کے رونے کے باب میں جس حدیث کا حوالہ شاہ صاحب نے اپنے اردو فائدہ میں دیا ہے یہ حدیث ترمذی مسند ابی یعلی موصلی تفسیرابن جریر تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر سفیان ثوری وغیرہ میں حضرت انس ؓ حضرت علی ؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی 1 ؎ روایت سے ہے بعض مفسروں نے اس حدیث کے مخالف آسمان اور زمین کے رونے کی طرح طرح کی تاویل جو کی ہے وہ صحیح نہیں ہے بلکہ یہ آسمان اور زمین کا رونا ایسا ہی ہے جس طرح کہ ممبر کے بن جانے کے بعد وہ کھجور کی لکڑی کا رونا اور صحابہ کا اس رونے کی آواز کا سننا مشہور ہے۔ جس قصہ کی روایت صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت جابر سے ہے پھر وہاں جب رونے کی تاویل نہیں کی جاتی تو یہاں تاویل کی کیا ضرورت ہے جو خدا کھجور کی ایک سوکھی لکڑی کو رونے کے حو اس دینے پر قادر ہے کیا آسمان و زمین کو رونے کے حواس دینے پر قادر نہیں ہے ‘ ترمذی نے انس بن مالک کی حدیث کو روایت کرکے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان دو راوی ضعیف ہیں لیکن موسیٰ بن عبیدہ کو ابن سعد صاحب مغازی اور یعقوب بن شیبہ صاحب مسند کبیر نے معتبر کہا ہے ‘ راویوں کے باب میں ابن سعد اور یعقوب بن شیبہ دونوں کا قول محدثین کے نزدیک اعتبار کے قابل ہے یزید بن ابان کو ابن عدی صاحب الکامل نے معتبر کہا ہے راویوں کے باب میں ابن عدی کے قول کا بڑا اعتبار ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس حدیث کو بالکل بےاصل نہیں کہا جاسکتا۔ علاوہ اس کے تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی 3 ؎ روایت کا حاصل یہ ہے کہ آسمان کے جس دروازے سے ایماندار شخص کے نیک عمل آسمان پر جاتے ہیں اور زمین کے جس ٹکڑے پر یہ ایماندار شخص عمل کرتا ہے اس ایماندار شخص کے مرجانے کے بعد یہ بات باقی نہیں رہتی اس واسطے ایماندار شخص کی موت پر آسمان و زمین کو رونا نہیں آیا۔ وما کانو امنظرین اسکا مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں پر جب عذاب الٰہی آگیا تو وہ لوگ اس سے کسی طرح گھڑی بھر کے لئے بھی بچ نہ سکے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ سورة الشعرا میں گزر چکا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد ملک مصر بنی اسرائیل کے قبضہ میں آگیا۔
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 141 ج 4۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 124۔ 125 جز 25۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب علامات النبوۃ فی الاسلام ص 506 ج 1۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن جریر ص 124۔ 125 جز 25۔ )
Ayahs 44:30–3630۔ 36۔ اوپر فرعون کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرما کر کہ فرعون اپنے جیتے جی بنی اسرائیل کو طرح طرح کی تکلیفیں جو دیتا تھا ان کے لڑکوں کو قتل کراتا تھا ان سے ذلت کے کام لیتا تھا اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے بنی اسرائیل کی یہ سب تکلیفیں رفع کردیں پھر فرعون کا ذکر فرمایا کہ وہ حد سے بڑھ کر سرکشی کرنے لگا تھا اس لئے اس کو سزا دی گئی ‘ فرعون یوں تو دہریہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر تھا لیکن اس میں یہ بات دہریوں سے بڑھ کر تھی کہ وہ گمراہی کے سب سے اپنے آپکو خدا کہلاتا تھا۔ سورة الشعراء میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا تو فرعون نے صاف کہہ دیا کہ فرعون کے سوا کوئی دوسرا خدا تم قرار دو گے تو تم کو قیدا کرا دیا جائے گا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملعون اس قدر خدا کی ہستی کا منکر تھا کہ خدا کے نام لینے کو بھی قید کے قابل جرم گنتا تھا۔ سورة والنازعات میں آئے گا کہ اس ملعون نے اپنی تمام قوم کو جمع کرکے ڈھنڈورا پٹوا دیا تھا کہ جن بتوں کو قوم کے لوگ پوجتے ہیں وہ چھوٹے خدا ہیں اور فرعون سب سے بڑا خدا ہے۔ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس ڈھنڈورے کے تھوڑے عرصہ کے بعد فرعون پر عذاب آگیا اور ڈوب کر ہلاک ہوگیا حاصل کلام یہ ہے کہ فرعون کی ایسی ہی باتوں کو فرمایا کہ وہ حد سے بڑھ کر سرکشی کرنے لگا تھا ‘ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ڈھنڈورا پٹوانے کی فرعون کی سرکشی ایسی بڑھی تھی کہ اس کے تھوڑے عرصہ کے بعد اس پر عذاب آگیا ‘ اب آگے بنی اسرائیل کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توراۃ کے علم کے لئے پسند کیا جس کے سبب سے ان کو اس زمانہ کے لوگوں پر فضیلت تھی اس زمانہ کے مشرک عمالقہ قوم کے لوگ پارسی لوگ سب یہود کو اہل کتاب جانتے اور ان کی عزت کرتے تھے ‘ سورة بقر میں گزر چکا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے مابین میں ایک ہزار نو سو پچیس برس تک کتاب تو وہی توراۃ رہی مگر زکریا (علیہ السلام) دائود (علیہ السلام) سلیمان (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل میں کے اور نبی اللہ تعالیٰ نے توراۃ کے احکام قائم رکھنے کے لئے بھیجے اور قوم عمالقہ میں کے بادشاہ جالوت کی شکست کے بعد بادشاہت بھی دائود (علیہ السلام) کے خاندان میں آگئی انہی باتوں کو شکر گزاری اور ناشکر گزاری کے جانچنے کی نشانیاں فرمایا ‘ اس سے قریش کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ یہود جب تک شکر گزاری کے طور پر توراۃ کو مانتے رہے ان کی سب طرح کی عزت قائم رہے گی اور جب انہوں نے توراۃ کے برخلاف کچھ باتیں نکال لیں اور بنی اسرائیل کے جن انبیاء نے یہود کو ان باتوں سے روکا اور ان کو توراۃ کا پابند کرنا چاہا تو ان انبیاء کے ساتھ یہود نے طرح طرح کی بدسلوکیاں کیں جس کی سزا میں یہود کی وہ عزت و راحت سب خاک میں گئی اگر قریش بھی قرآن کے برخلاف باتوں پر جمے رہیں گے اور اللہ کے رسول سے بدسلوکی کریں گے تو ان کا بھی یہی نتیجہ ہوگا ‘ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے فتح بدر اور فتح مکہ کے وقت اسی وعدہ کا جو ظہور ہوا اس کا ذکر صحیح روایتوں کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے اب آگے مشرکین مکہ کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ حشر کے منکر ہیں اللہ کے رسول اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد جینا سچ ہے تو ہمارے بڑوں میں سے کسی کو زندہ کیا جا کر ہم سے اس کو ملا دو مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے آگے کی آیتوں میں دیا جس کا حاصل یہ ہے کہ نیک و بد کی جزا و سزا کے فیصلہ کے لئے ان مشرکوں کو اور ان کے بڑوں کے وقت مقررہ پر قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا قیامت سے پہلے دوبارہ زندہ کرنے کا ذکر قرآن میں کہیں نہیں ہے اس لئے ان لوگوں کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے کہ مرنے کے بعد جینا سچ ہے تو ان کے بڑوں کو قیامت سے پہلے زندہ کیا جائے۔