44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 44:37–50

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

بھلا یہ اچھے ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے ان (سب کو ہلاک کردیا بیشک وہ گنہگار تھے

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے انکو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ان کو ہم نے تدبیر سے پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن ان سب (کے اٹھنے) کا وقت ہے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

مگر جس پر خدا مہربانی کرے وہ تو غالب اور مہربان ہے

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

بلاشبہ تھوہر کا درخت

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

گنہگار کا کھانا ہے

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

جیسے پگھلا ہوا تانبا پیٹوں میں (اس طرح) کھولے گا

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

جس طرح گرم پانی کھولتا ہے

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

(حکم دیا جائے گا کہ) اس کو پکڑ لو اور کھینچتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ لے جاؤ

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی انڈیل دو (کہ عذاب پر) عذاب (ہو)

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

(اب) مزہ چکھ تو بڑی عزت والا (اور) سردار ہے

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

یہ وہی (دوزخ) ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے

37۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کو برا فرمایا خاص تبع کو برا نہیں فرمایا معتبر سند سے مسند 1 ؎ امام احمد اور طبرانی میں سہل ؓ بن سعد سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تبع کو برا نہ کہو تبع مسلمان ہوگیا تھا اور نیک آدمی تھا 2 ؎ عبد الرزاق وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو معلوم نہیں تبع ملعون شخص تھا یا اچھا ‘ اس روایت پر دارقطنی اور علما نے اعتراض کیا ہے حاصل یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے پہلی قومیں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں اگر یہ قریش ان کے سے کام کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا ‘ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کی ضرورت کے لئے زمین و آسمان سب کچھ پیدا اب اگر انسان پیدا ہو کر یوں ہی مرجائے اور کسی نیک و بد کام کی جزا و سزا نہ ہو تو زمین اور آسمان اور مابین زمین و آسمان کے جو کچھ ہے سب کا پیدا کرنا بےفائدہ ہوگا اس واسطے منکرین حشر کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا ہے کہ زمین و آسمان اور تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ ے کھیل کے طور پر بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے نہایت انصاف کی بنیاد پر دنیا کو اس فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے کہ جو کوئی دنیا میں ایک نیکی کرے تو اس کو دس سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا اس سے بھی بڑھ کر بدلا دیا جائے اور بدی کی سزا کی مقدار کچھ نہ بڑھائی جائے جتنی بدی ہو اتنی ہی سزا پر کفایت کی جائے دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد دوسرا جہان پیدا کیا جائے اور اس جہان میں یہ جزا و سزا کا تمام دنیا کے لوگوں کا فیصلہ ایک ہی دفعہ کردیا جائے لیکن اکثر لوگ اس فائدہ کو نہیں سمجھتے اس لئے کچھ لوگ تو اس دوسرے جہان کے منکر ہیں اور کچھ اس سے غافل ہیں۔ مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد جینا سچ ہے تو ہمارے بڑوں میں سے کسی کو زندہ کیا جا کر ہم سے ملا دیا جائے آگے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ یہ وہی جواب ہے جس کا خلاصہ اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ نیک و بد کے جزا و سزا کے فیصلہ کے لئے ان مشرکوں کو ان کے بڑوں کو اور تمام دنیا کو وقت مقررہ پر قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر فرمایا قیامت کا دن وہ دن ہے کہ بغیر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اس دن کوئی رفیق کسی کی کچھ رفاقت اور مدد نہیں کرسکتا پھر فرمایا نافرمانوں سے بدلہ لینے میں زبردست وہ ایسا ہے کہ اس کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا صاحب رحمت وہ ایسا ہے کہ اس دن شرک سے کم درجہ کے بہت سے لوگوں کے بغیر توبہ کے گناہ وہ معاف فرما دے گا ‘ اوپر قیامت کو فیصلہ کا دن فرما کر اب اس دن کے فیصلہ کا نتیجہ بیان فرمایا کہ دوزخ والے جب بھوکے ہوں گے تو دوزخ میں سینڈھ کی صورت کا ایک درخت جو پیدا کیا گیا ہے اس کا پھل ان دوزخیوں کو کھلایا جائے گا جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کھولتا ہوا ہوگا مختصر طور پر فقطہ دوزخیوں کے کھانے کا ذکر ہے سورة والصافات میں گزر چکا ہے کہ سینڈھ کے پھل کے کھلانے کے بعد کھولتا ہوا پانی بھی پلایا جائے گا اسی واسطے یہاں فرمایا کہ دوزخیوں کے پیٹ میں جس طرح وہ کھولتا ہوا پانی کھولے گا اسی طرح یہ سینڈھ کا پھل کھولے گا ‘ ترمذی 1 ؎ نسائی ابن ماجہ وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اس سینڈھ کے پھل کے عرق کا ایک قطرہ اگر دنیا میں آپڑے تو دنیا بھر کی زندگی خراب اور برباد ہوجائے ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ مسند 2 ؎ امام احمد ترمذی اور مستدرک حاکم میں ابی امامہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو کھولتا ہوا پانی دوزخیوں کو پلایا جائے گا وہ ایسا کھولتا ہوا ہوگا کہ جب وہ پانی دوزخیوں کے منہ کے پاس لایا جائے گا تو ان کے منہ کی کھال اتر پڑے گی اور جب ان کو وہ پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی ‘ حاکم نے اس حدیث کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے ‘ ان حدیثوں سے سینڈھ کے پھل اور کھولتے پانی کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے سینڈھ کا پھل کھلانے اور کھولتا ہوا پانی پلانے کے لئے فرشتے دوزخیوں کو دوزخ کے کنارہ پر لے آئیں گے اس لئے پانی پلانے کے بعد ان فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان دوزخیوں کو پکڑ کر دوزخ کے کنارہ پر بیچ دوزخ دھکیل دو اور کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا تھا وہی ان کے سر پر ڈالو۔ ترمذی 3 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب وہ کھولتا ہوا پانی دوزخیوں کے سر پر ڈالا جائے گا تو ان کے پیٹ کی انتڑیاں اور سر سے پاؤں تک کی سب کھال جل جائے گی ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے حشر کے منکر جو دنیا میں بڑے عزت دار کہلاتے ہیں دوزخ کے عذاب کے وقت ان کو ذلیل کرنے کیلئے فرشتے یہ کہیں گے کہ دنیا میں تو تم بڑے عزت دار مشہور تھے لیکن آج اس ذلت کے عذاب کا مزا چکھو یہ وہی عذاب ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلاتے تھے اور اس کے سچے ہونے میں شک اور شبہ کی باتیں نکالتے تھے کہ دوزخ کی آگ میں درخت کیونکر ہوگا اور مر کر پھر کس طرح زندہ ہوں گے مستدرک حاکم اور 4 ؎ بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن عالی خاندانی کچھ کام نہ آئے گی بلکہ اس دن ہر شخص کی پرہیز گاری کام آئے گی اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ عالی خاندان نافرمان لوگوں کی کچھ عزت اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ قوم تبع بلقیس کی قوم کو کہتے ہیں کیونکہ اس قوم کے ہر ایک بادشاہ کا لقب تبع ہوا کرتا تھا یہ وہی قوم ہے جس کے پانی کے بند میں گھونس نے سوراخ کردیا تھا اور پانی کے ریلہ سے یہ لوگ تباہ ہوگئے ان کی تباہی کا پورا قصہ سورة السبا میں گزر چکا ہے قوم سبا اور قوم تبع ایک ہی قوم کا نام ہے “ شاہ صاحب نے اردو فائدہ میں جو قصہ لکھا ہے کہ تبع نے سچا دین آزمانے کے لئے بتوں کے پوجاریوں سے کہا کہ تم بھی آگ جلا کر اس آگ میں گھس جاؤ اور یہود کے دو عالم بھی توراۃ لے کر اس آگ میں گھس جائیں جو سچا ہوگا اس کو آگ سے کچھ صدمہ نہیں پہنچے گا آخر قوم تبع کے بت پرست لوگوں کو اس آگ سے صدمہ پہنچا اور یہود کے عالموں کو کچھ صدمہ نہ پہنچا یہ قصہ عکرمہ نے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے قول کے حوالہ سے نقل کیا 1 ؎ ہے۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں سچے اور جھوٹے کو اس آگ کے طریقہ سے آزمایا کرتے تھے اور یہ بھی ہے کہ آزمائش کے بعد تبع کی قوم نے شریعت موسوی کی پیروی اختیار کرلی ‘ تبع کی زندگی تک یہ لوگ اسی حالت پر رہے اور تبع کے انتقال کے بعد پھر بت پرست بن گئے اور پانی کے ریلہ کا عذاب آ کر برباد ہوگئے اس تبع کا نام اسعد اور کنیت ابوکرب ہے اللہ کے رسول ﷺ کے نبی ہونے کے زمانہ سے سات سو برس پہلے اس تبع نے وفات پائی اور بہ نسبت اور یمن کے بادشاہوں کے جو تبع کہلاتے تھے اس تبع نے یمن کی بادشاہت بہت عرصہ تک کی ہے اس تبع کی بادشاہت کا زمانہ تین سو چھبیس برس کا بتایا جاتا ہے۔
Ayahs 44:51–57

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

(یعنی) باغوں اور چشموں میں

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

حریر کا باریک اور دبیز لباس پہن کر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

(وہاں) اس طرح (کا حال ہوگا) اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی سفید رنگ کی عورتوں سے ان کے جوڑے لگائیں گے

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

وہاں خاطر جمع سے ہر قسم کے میوے منگوائیں گے (اور کھائیں گے)

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

(اور) پہلی دفعہ مرنے کے سوا (کہ مرچکے تھے) موت کا مزا نہیں چکھیں گے اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے یہی تو بڑی کامیابی ہے

51۔ 57۔ اس سے پہلے کی آیتوں میں خدا تعالیٰ جب بد لوگوں کا حال بیان فرما چکا تو اب نیک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ بیشک جو لوگ پرہیز گار ہیں اور خدا سے ڈر کر دنیا میں گناہوں سے بچتے اور نیک کام کرتے ہیں وہ آخرت میں امن والی جگہ میں ہوں گے مراد اس سے جنت ہے کہ نہ اس میں موت ہوگی اور نہ کسی طرح کی بیماری ہوگی چین سے بےخوف رہیں گے باغوں کے اندر ریشمی باریک اور کپڑے چمک دارپہنیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ایک کی دوسرے کی طرف پیٹھ نہ ہوگی باہم ان کے محبت و سرور زیادہ ہوگا ‘ کذلک اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا اچھا معاملہ کرتے ہیں ہم پرہیز گاروں کے ساتھ ‘ پھر فرمایا بیاہ دیا ہم نے ان کو گورے رنگ کی بڑی آنکھوں والی عورتوں سے اور فصل بےفصل کے جس طرح کے میووں کو ان کا جی چاہے گا وہ ان کو وہاں ملیں گے اور جس طرح دنیا کے میووں سے کبھی بیماری کا خوف ہوتا ہے یہ بات وہاں نہ ہوگی سوا دنیا کے ایک دفعہ کی موت کے پھر کبھی ان کو موت نہ آئے گی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچائے گا ‘ آخر کو فرمایا یہی بڑی مراد ہے جس کے لئے ان لوگوں نے دنیا میں نیک عمل کئے اور برے کاموں سے بچے تھے ‘ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جنت کی عورتوں کے دوپٹے کی قیمت تمام دنیا کے مال و متاع سے بڑھ کر ہوگی۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں ابوسعید ؓ خدری اور ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں جنتی لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے کبھی ان کو موت نہ آئے گی ہمیشہ تندرست رہیں گے کبھی کوئی بیمار نہ ہوگا جوان رہیں گے کبھی بوڑھے نہ ہوں گے۔ صحیح بخاری و مسلم 3 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو نعمتیں جنت میں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل پر اس کا خیال گزر سکتا ہے۔ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے عبد ؓ اللہ بن عمر کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ بعض گناہ گار لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس طرح دنیا میں تمہارے ان گناہوں کو ظاہر کرکے تم کو رسوا نہیں کیا گیا اسی طرح آج بھی تمہارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں آیتوں میں جنت کے آرام اور چین کی جگہ ہونے کا دوزخ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچنے کا جنت میں داخل ہونے سے بڑی مراد کے ملنے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص 972 ج 3۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص 380 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ص 378 ج 2۔ ) (4 ؎ بخاری شریف باب ستر المومن علیٰ نفسہ ص 896 ج 2 و صحیح مسلم باب قبول توبۃ القاتل الخ ص 36 ج 2۔ )
Ayahs 44:58–59

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

ہم نے اس (قرآن) کو تمہاری زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

پس تم بھی انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

58۔ 59۔ سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے کہ ہر ایک نبی کو اللہ تعالیٰ نے جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے اس نبی کو وحی بھی اسی زبان میں بھیجی ہے جو زبان اس قوم کی بول چال میں جاری تھی تاکہ وحی کے ذریعہ سے جو احکام اللہ تعالیٰ کے نازل ہوں وہ ہر وقت کے نبی اپنی قوم کو جلدی سے سمجھا دیں اور پھر ترجمہ اور تفسیر کے ذریعہ سے احکام غیر قوم کے لوگوں کو بھی پہنچ جائیں۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت اگرچہ جن و انسان تمام مخلوقات کے ہدایت کے لئے ہے لیکن اور انبیاء کے دستور کے موافق قریش کی زبان میں قرآن کی نصیحت سے جلدی واقف ہوجائیں اور پھر ان کے ذریعہ سے قرآن کی نصیحت غیر قوم کے لوگوں کو بھی پہنچ جائے اسی حکمت کی صراحت میں اللہ تعالیٰ نے سورة انعام میں فرمایا ہے : واوحی الی ھذا القران لانذرکم بدومن بلغ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی اصلی زبان سے اہل عرب کو اور قرآن کے ترجمہ اور تفسیر سے غیر قوموں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرانے کے لئے یہ قرآن مجھ پر نازل ہوا ہے اس سورة انعام کی آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے نجاشی قیصر روم اور کسریٰ کو ہدایت کے خط لکھے ہیں۔ چناچہ تفسیر 5 ؎ ابو الشیخ اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت انس ؓ کی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت غالب ہے اس حکمت الٰہی سے تیتیس برس کے زمانہ نزول میں بھی قرآن شریف کی نصیحت کا اثر ملک عرب میں وہ ہوا کہ بہت سے آدمی مسلمان ہوگئے اور آیت کے اس ٹکڑے لانذرکم بہ کا عمل ہوگیا ہے اور دوسرے ٹکڑے ومن بلغ کے عمل پر طرح طرح کی تفسیریں اور ترجمہ ہو کر یہ ہدایت کا اثر جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا یہ عام قاعدہ ہے کہ شہر اور اطراف شہر کے قصبیات کی زبان میں کسی قدر فرق ہوا کرتا ہے اب اس صورت میں مثلاً ایک شخص پانی پت کے رہنے والے کو یوں مجبور کیا جائے کہ وہ دہلی کی زبان بولے تو اس شخص کو ایک طرح کی دقت اور تکلیف ہوگی اس تکلیف کے رفع کرنے کی غرض سے قرآن شریف کے قریش کی زبان میں نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے اپنی امت پر قرآن شریف کے آسان ہوجانے کی خواہش اللہ تعالیٰ سے کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی خواہش کو قبول فرما کر سات طرح سے قرآن کے لفظوں کا پڑھنا جائز فرما دیا۔ چناچہ صحیح 1 ؎ مسلم میں حضرت ابی بن ؓ کعب سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پہلے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو ایک ہی طرح سے قرآن شریف کے پڑھنے کا حکم دیا تھا میں نے اللہ تعالیٰ سے خواہش کی کہ میری امت کو قرآن شریف آسان ہوجائے میری اس خواہش پر سات طرح قرآن شریف کا پڑھنا جائز ہوگیا صحاح میں بہت سی حدیثیں قرآن شریف کے ساتھ طرح پڑھنے کے باب میں علما نے گن کر یہ بات نکالی ہے کہ اکیس صحابہ سے اس باب میں روایتیں ہیں اسی واسطے بعض علما نے اس باب کی روایت کے متواتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے مگر مابعد کے علما نے ان حدیثوں کے معنوں میں اختلاف کرکے چالیس قول باہمی اختلاف کی وجہ سے ان حدیثوں کے معنوں میں قائم کردیئے ہیں۔ لیکن صحیحین 2 ؎ میں جو حضرت عمر ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ہشام بن حکیم صحابی کو سورة فرقان اس طرح کی قرأت سے پڑھتے ہوئے دیکھا جو قرأت آنحضرت ﷺ سے حضرت عمر ؓ نے کبھی نہیں سنی تھی تو یہ حال دیکھ کر حضرت عمر ؓ کو غصہ آگیا اور حضرت عمر ؓ ہشام بن حکیم کی چادر کا کونا پکڑ کے کھینچتے ہوئے ان کو آنحضرت ﷺ کے پاس لائے آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر اور ہشام دونوں کی قرأتیں سن کر دونوں قرأتوں کو صحیح قرار دیا اور فرمایا کہ جس کو جس طرح سے آسان معلوم ہوا اسی طرح سے قرآن شریف پڑھے آخر سات طرح سے قرآن شریف نازل ہوا ہے اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ سات طرح کے قرآن شریف کے نازل ہونے کا حکم قرأت سے متعلق ہے اس کے سوا جو معنی ان حدیثوں کے علما نے بیان کئے ہیں وہ اس صحیح حدیث کے مخالف ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اس خواہش کے قبول ہونے کے بعد مکہ کے اطراف کے رہنے والے لوگ اپنی زبان اور بول چال کے موافق قرآن شریف کی تلاوت کرنے لگے اور عرب کی سب قوموں میں قرآن شریف کا مطلب جلدی پھیل گیا اور قریش کے سوا اور قوموں کے بہت صحابہ قرآن شریف کے مفسر ہوئے اور پھر صحابہ سے وہ علم تابعین اور تبع تابعین اور یہاں تک لوگوں میں بذریعہ تفسیر اور ترجموں کے آیا اور قیامت تک یہی سلسلہ جاری رہے گا غرض جو کچھ آج تک ہوا اور قیامت تک ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا ظہور اور اسی آیت کی تفسیر ہے صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے فقط قریش کی زبان کے موافق قرآن پڑھا جاتا ہے ہجرت کے بعد جب مختلف قبیلوں کے لوگ اسلام میں داخل ہوئے تو ان لوگوں کی زبان پر قریش کی زبان کے بعض لفظ نہیں چڑھتے تھے مثلاً ہذیل قبیلہ کے لوگ حتی کو عتی کہتے تھے حتیٰ ان کی زبان پر نہیں چڑھتا تھا اس مشکل کے آسان ہوجانے کے لئے قرآن شریف کے بعض لفظوں کو سات طرح تک پڑھنے کا حکم ہوا حاصل کلام یہ ہے کہ ابی بن کعب کی حدیث جو اوپر گزری اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سارا قرآن سات طرح پڑھا جاتا ہے بلکہ اس حدیث کا وہی مطلب ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ قرآن شریف کے بعض لفظوں کو سات طرح سے پڑھا جاتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے متفرق لکھی ہوئی آیتوں سے حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ میں جو قرآن جمع ہوا اس میں قرآن شریف کے بعض لفظ سات طرح تک کے تھے سارے قرآن کے لفظ سات طرح کے نہیں تھے۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ میں انس ؓ بن مالک کی جو روایت ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ کا جمع کیا ہوا ایک قرآن حضرت حفصہ کے پاس تھا جس کو حضرت عثمان نے مصحف عثمانی جمع کرنے کے وقت حضرت حفصہ سے منگوا لیا تھا اگر سارا قرآن سات طرح پڑھا جاتا تو حضرت ابوبکرصدیق کے جمع کئے ہوئے سات قرآن جدا جدا ہوتے آسانی کے لحاظ سے قرآن شریف کے بعض لفظوں کو سات طرح تک پڑھنے کا جو حکم ہوا تھا ان لفظوں میں سے کچھ لفظوں کو عبد اللہ بن مسعود نے اختیار کرلیا تھا یہ عبد اللہ بن مسعود کی قرأت مشہور تھی اسی طرح کچھ لفظ ابو موسیٰ اشعری نے اور کچھ ابی بن کعب نے یہ قرأتیں ان کے نام سے مشہورتھیں ‘ حضرت عثمان کی خلافت تک ان ہی مختلف قرأتوں میں قرآن شریف پڑھا جاتا تھا حضرت عثمان کی خلافت میں اسی اختلاف قرأت کے سبب سے جب مسلمانوں میں جھگڑے ہونے لگے تو حضرت عثمان نے اس باب میں صحابہ سے مشورہ کیا اور مشورہ کے بعد تمام صابہ کی یہ صلاح قرار پائی کہ زبان قریش کے موافق پہلے قرآن وں سے ایک قرآن کی نقل کی جا کر اس کی چند نقلیں جگہ جگہ بھیج دی جائیں اور اسی ایک قرأت کا لوگوں کو پابند کیا جائے کیونکہ پہلے پہل اسی محاورہ کے موافق قرآن نازل ہوا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ کی عمر کے آخر رمضان میں جبرئیل (علیہ السلام) نے اسی کے موافق اللہ کے رسول ﷺ سے قرآن کا دور کیا ہے ‘ حضرت عثمان نے اس مشورہ کے موافق مصحف عثمانی تیار کرایا تھا اور اس کی نقلیں جگہ جگہ بھیج دی اور پہلے قرآن تلف کردیئے گئے ‘ اگرچہ مصحف عثمانی اور اس کی نقلوں میں رسم خط کی قرار داد تھی لیکن اس وقت تک لفظوں پر زبر زبر کا رواج نہیں تھا کیونکہ یہ رواج تو بنی امیہ کے چھٹے خلیفہ عبد الملک کے عہد میں ہوا ہے۔ اس واسطے مصحف عثمان کی جو نقلیں جگہ جگہ روانہ کی گئی تھیں رسم خط کی پابندی سے صرف نحو کے قواعد کے موافق ان نقلوں میں جو لفظ کئی طرح پڑھا جاسکتا تھا اس کو کسی بستی والوں نے ایک طرح پڑھا اور دوسری بستی والوں نے دوسری طرح اسی کا نام وہ سات قرأتیں ہیں جو حال میں نافع حمزہ ابو عمر و عاصم کسائی کے نام سے مشہور ہیں اسی بنا پر یہ قول بہت صحیح ہے کہ ان حال کی سات قرأتوں میں حضرت ابوبکر صدیق والے قرآن کی ساتوں قرأتیں پوری نہیں ہیں کیونکہ یہ حال کی ساتوں قرأتیں مصحف عثمانی کے رسم خط کی پابندی سے پیدا ہوئی ہیں اور یہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ مصحف عثمانی میں حضرت ابوبکر صدیق والے قرآن کی قرأتوں کو چھوڑ دیا گیا ہے پھر مصحف عثمانی کی بنا پر جو عاصم وغیرہ کی قرأتیں پیدا ہوئی ہیں ان میں مصحف عثمانی سے پہلے کی قرأتیں پوری کیونکر آسکتی ہیں ‘ آیتوں میں قرآن کے آسان کئے جانے کا جو ذکر ہے اس قصہ کو اس کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس سے قرآن کی تلاوت میں جو جو آسانیاں علماء امت نے کردی ہیں اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے احسن الفوائد کے مقدمہ اور اس تفسیر کے مقدمہ میں اس قصہ کی تفصیل زیادہ ہے ‘ اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے اسلام کے غلبہ اور مخالف اسلام لوگوں کے مخلوب ہونے کا جو اللہ کا وعدہ ہے اس کے تم بھی منتظر رہو اور مخالف اسلام لوگ بھی منتظر رہیں وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ کے وعدہ کا ضرور ظہور ہوگا ‘ پہلا ظہور تو اس وعدہ کا بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے مخالف اسلام اسی لڑائی میں بڑی ذلت سے دنیا میں مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پا لیا چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی روایت اس باب میں کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ دوسرا ظہور اس وعدہ کا فتح مکہ کے وقت ہوا کہ جن بتوں کی حمایت میں مشرکین مکہ کو اسلام سے مخالفت تھی فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کر ان بتوں کو زمین پر گرا دیا اور اہل مکہ میں سے کوئی شخص ان بتوں کے ذلت کو نہ روک سکا ‘ اب باب میں بھی صحیح بخاری 2 ؎ کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود کی اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایتیں کئی جگہ گزر چکی ہیں۔ حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ سورة مکی 3 ؎ ہے مگر ایک آیت کو وہ مدنی کہتے ہیں جس کا ذکر آگے آتا ہے اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس سورت کے شروع کی آیتیں مکی ہوں وہ ساری سورت مکی کہلاتی ہے۔ (5 ؎ تفسیر فح القدر ص 101 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب ان القران انزل علی سبعۃ احرف الخ ص 273 ج 1۔ ) (2 ؎ صحیح بخایر باب انزل القران علی سبعۃ احرف الخ ص 747 ج 2۔ و صحیح مسلم باب بیان ان القران الخ ص 273 ج 1۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب انزل القران علی سبعۃ احرف الخ ص 273 ج 1۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب جمع القران ص 746 ج 2۔ ) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 169۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب وقل جاء الحق وزھق الباطل ص 686 ج 2 و صحیح مسلم باب فتح مکہ ص 103 ج 2۔ ) (3 ؎ تفسیر فتح القدر ص 1 ج 5۔ )