43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 43:1–10

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

کتاب روشن کی قسم

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر رفتہ رفتہ تیئس سال تک اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوتا رہا جس بات پر قسم کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمد رسول ﷺ نے اپنی طرف سے نہیں بنایا کیونکہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی پڑھا ہوا شخص بھی بغیر غیبی مدد کے وہ باتیں نہیں بتا سکتا اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لئے قرآن کو اونچا اور محکم فرمایا آگے مشرکین مکہ کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ تم لوگوں کے جھٹلانے کے سبب سے قرآن کی آیتوں کا نازل ہونا بند نہیں ہوسکتا کیونکہ علم الٰہی میں جو لوگ راہ راست پر آنے کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ انہیں آیتوں کی نصیحت سے راہ پر آجائیں گے رہے ان آیتوں کو مسخرا پن میں اڑانے والے پہلے ایسے لوگ حال کے لوگوں سے قوت اور ثروت میں بڑھ کر پہلے انبیاء کے زمانہ میں بھی تھے جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے جن کے قصے ان لوگوں کو عبرت کے لئے سنائے جا چکے ہیں اگر یہ لوگ ان کے ڈھنک پر رہے تو اخیر یہی انجام ان کا ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی انس ؓ بن مالک کی حدیث اس انجام کے ذکر میں کئی جگہ اوپر گزر چکی ہے پھر فرمایا اے رسول اللہ کے اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ صاحب قدرت اور صاحب علم نے پیدا کیا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی کہ زمین کو اس نے اونچا نیچا نہیں بنایا تاکہ لوگوں کو چلنے پھرنے میں تکلیف نہ ہو بلکہ اس کو بچھونے کی طرح برابر بنایا اسی طرح زمین کاہلنا بند کرنے کے لئے اس میں پہاڑ جو ٹھونکے تو اس حکمت سے کہ ان پہاڑوں میں گھاٹیاں رکھیں تاکہ لوگوں کو ایک سہر سے دوسرے شہر کو جانے میں کچھ دشواری نہ پیش آئے۔ (3 ؎ فتح القدیر ص 460 ج 5۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 566 ج 2۔ )
Ayahs 43:11–12

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا اسی طرح تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کیے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

11۔ 12۔ دنیا کی ضرورت کے موافق ہر برس موسم برات میں اللہ تعالیٰ مینہ برساتا ہے جب کبھی ضرورت سے کم مینہ برستا ہے تو قحط پڑجاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ برستا ہے تو اس سے بھی ہر طرح کی پیداوار کو نقصان پہنچ جاتا ہے اسی واسطے فرمایا کہ اندازہ کے موافق اللہ تعالیٰ ہمیشہ مینہ برساتا ہے حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مینہ کے معمولی اندازہ میں فرق پڑ کر دنیا میں رزق کی تنگی لوگوں کے گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے۔ چناچہ موطا میں 2 ؎ حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ بدکاری کے وبال سے عام وبا آتی ہے اور کم تولنے کے وبال سے قحط پڑتا ہے اور مسند امام 3 ؎ احمد کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ مینہ برسنے میں زیادہ کڑک اور چمک بھی لوگوں کے گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے صحیحین 4 ؎ کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی ہی حدیث بھی اوپر گزر چکی ہے کہ جس طرح اب مینہ سے اناج پیدا ہوتا ہے اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ برسے گا جس سے لوگوں کے جسم بن کر تیارہوں گے اسی واسطے اللہ تعالیٰ کھیتی کو جگہ جگہ قرآن شریف میں حشر کے ساتھ تشبیہ دے کر ذکر فرمایا ہے اب آگے انسان چوپایہ ہر ایک چیز کے جوڑوں کے پیدا کرنے اور کشتی کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا کہ جو کوئی ان چوپایوں یا کشتی پر سوار ہو تو اس کو چاہئے کہ اللہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرے اور اس کی نعمت کا شکریہ یہی ہے کہ آدمی خالص دل سے اس کی عبادت کرے۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے معاذ ؓ بن جبل کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اس حق کے ادا ہونے کے بعد بندوں کا حق اللہ پر یہ ہوگا کہ وہ اپنے بندوں کو دوزخ کے عذاب سے بچائے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو برت کر جو اس کی شکر گزاری کا حق اور اس حق کی ادائی کا جو طریقہ بندوں پر واجب ہے اس کی تفسیر اور اس کے نتیجہ کی تفسیر اس حدیث سے یہ سب کچھ اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ (2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب فی تغیر الناس الفص الثالث ص 459۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 505 ج 2۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم باب مابین النفختین ص 406 ج 2 و صحیح بخاری تفسیر سورة زمر ص 711 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ ص 44 ج 1)
Ayahs 43:13–15

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب ان پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے

13۔ 15۔ صحیح 2 ؎ مسلم ابو داؤود ترمذی نسائی مستدرک حاکم اور تفسر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جس وقت سفر کے ارادہ سے سوار ہوا کرتے تھے تو یہ آیت پڑھا کرتے تھے قرطبی 3 ؎ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خشکی میں چوپایوں پر سوار ہونے کے وقت یہ آیت اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں بسم اللہ مجریھا و مرساھا۔ کشتی پر سوار ہونے کے وقت سکھائیں چوپائے اور کشتی کی سواری خوفناک چیز ہے اور کبھی کبھی یہی سواری آدمی کے ہلاک ہوجانے کا سبب پڑجاتی ہے۔ اب شرعی تعلیم کے موافق جو شخص خشکی یا تری کی سواری کے وقت ان آیتوں کو پڑھے گا تو گویا موت کے سبب کے وقت بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہ شمار کیا جائے گا بعض مفسروں نے سوار ہونے کے وقت ان آیتوں کا مطلب دل میں تصور کرنا کافی بتایا ہے لیکن صحیح طریقہ یہی ہے کہ ان آیتوں کو زبان سے پڑھنا اور ان کے مطلب کو دل میں خیال کرنا چاہئے حضرت عبد 4 ؎ اللہ ؓ بن عباس کے صحیح قول کے موافق وما کنا لہ مقرنین کی تفسیریہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے چوپایوں اور کشتی کو ہمارے قابو میں کردیا ہے ورنہ ہم میں ہرگز یہ طاقت نہیں تھی کہ ہم ان چیزوں کو قابو کرسکتے وانا الی ربنا لمنقلبون کی تفسیر حافظ ابو جعفر 5 ؎ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں وہی قرار دی ہے جو معنی شاہ صاحب نے اردو فائدہ میں لکھے ہیں کہ دنیا کے سفر سے آخرت کے سفر کا دھیان کرنا چاہئے کہ اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو انسان پر یہ احسانات کئے کہ انسان کو اور اس کی ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا لیکن انسان ایسا ناشکر ہے کہ اس نے بجائے ان نعمتوں کی شکر گزاری کے یہ ناشکری کی کہ بغیر کسی سند کے اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرایا۔ (2 ؎ تفسیر فتح القدیر ص 535 ج 2۔ ) (3 ؎ تفسیر طبری ص 54 پارہ 25۔ ) (4 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 14 ج 6۔ ) (5 ؎ تفسیر طبری ص 54 پارہ 25۔ )
Ayahs 43:16–30

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دے دئیے

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے ؟

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا، کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ؟ عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے باز پرس کی جائے گی

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع رہیں

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور انکے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچا

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے پاتے میں پلے اور کام پڑے پر جس کے منہ سے پوری بات بھی نہ نکل سکے ایسی چیز کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو۔ تفسیر قتادہ 1 ؎ میں عورتوں کی یہ ایک جبلی بات بیان کی گئی ہے کہ عورت جب کسی کو الزام لگانے کی غرض سے کوئی بات کہتی ہے تو اس طرح کی الٹی تقریر کرتی ہے کہ جس سے خود اسی پر الزام آتا ہے آخر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان پر موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن شریف سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے ان پر اتاری ہے بلکہ اپنے بڑوں سے جو کچھ انہوں نے سنا ہے وہی کہتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے اپنے بڑوں کو کرتے دیکھا ہے وہی کرتے ہیں اس واسطے سوا اس کے یہ لوگ اور کچھ جواب ہی نہیں دے سکتے کہ ہم اپنے بڑوں کی چال چلن پر ہیں اور یہ بات کچھ نہیں ہے جب سے دنیا میں شرک پھیلا ہے اور بت پرستی کی رسم پڑی ہے پچھلے لوگ بھی یہی کہتے آئے ہیں کہ بت پرستی اللہ کے ارادہ کے موافق نہ ہوتی تو ہم اور ہمارے بڑے اس بت پرستی پر کیوں جمے رہتے اور یہی کہہ کر اللہ کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے ہیں اور جس طرح اب ان مشرکوں کو سمجھایا جاتا ہے اسی طرح ان کو بھی طرح طرح سے سمجھایا گیا کہ بت پرستی اللہ کو ناپسند نہ ہوتی تو مثلاً قوم ثمود سے پہلے قوم نوح اور قوم عاد پر عذاب کیوں آتا اور جب وہ سمجھانے سے نہ مانے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کا ان سے بدلہ لے لیا اور طرح طرح کے عذابوں سے ان کو غارت کردیا اگر یہ لوگ سمجھانے سے نہ مانیں گے تو اخیر یہی انجام انکا ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس وعدے کا جو ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت سے اس کا ذکرجگہ جگہ گزر چکا ہے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرما کر یوں ان مشرکوں کو قائل کیا کہ یہ مشرک اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتاتے ہیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا بڑا گنتے ہیں کیا ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اس بت پرستی کے سبب سے حضرت ابراہیم اپنے باپ اپنی ساری قوم کے دشمن ہوگئے اگر یہ مشرک اپنے بڑوں کی چال پر چلتے ہیں تو اپنے بڑوں کے بڑے حضرت ابراہیم کی چال پر کیوں نہیں چلتے پھر فرمایا بات یہ ہے کہ عمرو بن لحی کے زمانہ سے جو دین ابراہیم و اسمعیل (علیہما السلام) بگڑا اور مکہ میں بت پرستی کی رسم پھیلی اس وقت سے نبی آخر الزمان کے عہد تک اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اور ان کی چند پشتوں کو باوجود بت پرستی کے اس حکمت سے ان کے حال پر چھوڑ رکھا تھا کہ نبی آخر الزمان کی ہدایت سے یہ مکہ کے لوگ اپنے قدیم بزرگوں کی طرح ملت ابراہیمی پر قائم ہوجائیں اور چند پشت سے انہوں نے خانہ خدا میں بت پرستی جو پھیلا رکھی ہے وہ دور ہوجائے لیکن ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اللہ کے کلام کو جادو اور اللہ کے رسول کو جادوگر بتاتے ہیں عمرو بن لحی جس کا ذکر اس آیت کی تفسیر میں آیا ہے یہ وہی شخص ہے جس کو صحیح حدیثوں میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اسی شخص نے ملت ابراہیمی کو بگاڑا اس نے شام کے ملک سے اور جدہ سے بت لا کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی اسی کو دوزخ میں آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ وہ آگ میں جل رہا تھا اور اپنی انتڑیاں آگ میں کھینچے کھینچے پھرتا تھا۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے روایتیں ہیں ان میں یہ ذکر تفصیل سے ہے کہ عمرو بن لحی کو اللہ کے رسول ﷺ نے دوزخ میں جلتے اپنی انتڑیاں آگ میں کھینچے کھینچے پھرتے ہوئے دیکھا اسی ذکر میں آپ نے یہ بھی فرمایا یہ وہی شخص ہے جس نے ملت ابراہیمی کو بگاڑا اور مکہ میں بت پرستی پھیلائی۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 15 ج 6۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 566 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة مائدۃ ص 2665۔ )
Ayahs 43:31–35

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں ؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور (خوب) تجمل و آرائش (کر دیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

31۔ 35۔ جب قریش ان باتوں میں بالکل لاجواب ہوگئے کہ جس طریقے پر وہ تھے وہ طریقہ ملت ابراہیمی کے سرتاپا مخالف ہے عمرو بن لحی کے زمانہ سے بت پرستی اور بتوں کے نام پر جانوروں کا چھوڑنا یہ سب کفر کی رسمیں جاری ہو کر ملت ابراہیمی کی کوئی بات ان لوگوں میں باقی نہیں رہی تو لاجواب اور قائل ہونے کے بعد قریش نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ہم لوگ مالدار اور عزت دار ہیں اس واسطے کسی مالدار شخص کو جیسا کہ مثلاً مکہ میں ولید ؓ بن مغیرہ اور طائف میں عمروہ ؓ بن مسعود ہے ایسے لوگوں کو ہم اپنا سرگروہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے یہ قرآن جو محمد ﷺ پر اترتا ہے ولید یا عروہ جیسے کسی مالدار شخص پر نازل ہوتا تو خوب ہوتا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کئی طرح دیا ہے ایک تو یہ کہ ان لوگوں کو کس نے مختار بنایا ہے جو یہ اللہ کی رحمت کے حصے اپنی غرض کے موافق لگا رہے ہیں۔ اللہ نے اپنی حکمت کے موافق جس شخص کو نبوت کے قابل پایا اس کو نبوت عطا کی ان لوگوں کو اللہ کی حکمت میں کیا دخل ہے جو یہ لوگ اپنی رائے لگاتے ہیں دوسرا جواب یہ کہ دنیا میں کسی کو مالدار کو کسی کو مفلس کردینا جس طرح خدا کے ہاتھ ہے انسان کی تدبیر کو اس میں کچھ دخل نہیں ہزاروں اہل تدبیر اور اہل ہنر روٹی سے محتاج ہیں اور ہزاروں بےعقل اور بےہنر مالدار ہیں اسی طرح یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے کہ جس کو چاہے وہ نبی قرار دے اور جس کو چاہے امت بندوں کو اللہ کی حکمت کا پورا علم ہے نہ ان کو اللہ کی حکمت میں کچھ دخل دینے کا حق حاصل ہے تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی مالداری کو بڑی چیز خیال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی مالداری ایسی حقیر چیز ہے کہ کافروں کو زیادہ حق مالدار دیکھ کر دین دار لوگوں کے بچل جانے کا نتیجہ پیش نظر نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کافروں کا گھر بار سونے چاندی سے بھر دیتا لیکن نہ دنیا کو قیام ہے نہ اس کی مالداری کو اس واسطے نافرمان لوگوں کو جو کچھ دیا گیا ہے چھوڑ جانے کے لئے وہی بہت ہے ‘ غرض محض دنیا کا انتظام چلنے کے لئے کسی کو اللہ نے روپیہ پیسہ دیا ہے اور کسی کو روپیہ پیسے کا حاجت مند کیا ہے تاکہ ایک کا کام دوسرے سے چلتا رہے ورنہ دنیا کی مالداری اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی عزت کی چیز نہیں ہے۔ دنیا کی حقارت کا ذکر جو ان آیتوں میں ہے اس کی تفسیر چند صحیح حدیثوں میں ہے چناچہ ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ میں سہل ؓ بن سعد سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کی قدر و منزلت اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ ملتا ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم کی روایت سے جابر کی حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک مری ہوئی بکری کو آنحضرت ﷺ نے ایک کوڑے پر پڑے ہوئے دیکھ کر صحابہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی قدر اور منزلت اس مری ہوئی بکری سے بھی کم ہے۔ صحیح ابن 3 ؎ حبان طبرانی اور مستدرک حاکم میں ابو سعید ؓ خدری رافع بن خدریج اور ابی قتادہ سے معتبر روایتیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ دین دار شخص کو دنیا سے ایسا بچاتا ہے جس طرح بیمار کو دنیا میں لوگ پانی اور کھانے کے استعمال سے بچاتے اور روکتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ جب دنیا کی چند روزہ مالداری اور تنگ دستی کے انتظام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے تو نبوت کے انتظام کو جو اللہ کی ایک خاص رحمت کا انتظام ہے ان لوگوں کے اختیار میں کیونکر رکھا جاسکتا ہے کیونکہ نبوت کی پیروی کے طفیل سے نیک لوگوں کو جنت جو ملنے والی ہے اس کی تھوڑی سی جگہ بھی تمام دنیا سے بہتر ہے۔ چناچہ صحیح 4 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جس قدر جگہ میں گھوڑے کا کوڑا رکھا جاتا ہے جنت کی اتیل جگہ بھی تمام دنیا سے بہتر ہے۔ (1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف کتاب الرقاق الفصل الثانی ص 441۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ج 2 ص 407۔ ) (3 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب فضل الفقراء الخ الفصل الثانی ص 448۔ ) (4 ؎ صحیح بخاری باب صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ ص 461 ج 1۔ )