Ayahs 43:74–8074۔ 80۔ اوپر اہل جنت کا ذکر تھا ان آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرمایا یہ وہ منکر شریعت لوگ ہیں جو سب شفاعتوں کے بعد ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے کیونکہ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی شفاعت کی حدیث جو ایک جگہ گزر چکی ہے اس میں ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا سورة النسا میں گزر چکا ہے کہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے لوگوں کی پہلی کھال جب جل جائے گی تو اسی وقت ان کی دوسری کھال پیدا ہوجائے گی ان آیتوں میں عذاب کے ہلکے نہ ہونے کا جو ذکر ہے سورة النساء کی آیتوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے ان آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر ظلم سے عذاب نہیں کیا بلکہ ان کے اعمال کی سزا میں ان کو یہ عذاب کیا گیا ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے مستدرک 2 ؎ حاکم بیہقی کی بعث و نشور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے کہ جب یہ دوزخی لوگ دوزخ کے داروغہ سے یہ التجا کریں گے کہ مالک ان لوگوں کی موت کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرے تو ہزار برس تک ان لوگوں کی التجا کا کچھ جواب نہ ملے گا پھر ہزار برس کے بعد یہ جواب ملے گا کہ دنیا میں تم لوگوں نے اللہ کے حکموں کو جھٹلایا اس لئے اب یہی تمہاری سزا ہے کہ تم ہمیشہ اسی عذاب میں گرفتار رہو گے۔ حاکم نے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی اس روایت کو صحیح کہا ہے مشرکین کا یہ اعتقاد تھا کہ بھید کے طور پر اسلام کی مخالفت میں جو باتیں کی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ ان باتوں کی نہیں سنتا اس کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی بھید کی باتیں اور مشہورے سب سنتا ہے اسی واسطے یہ لوگ بھید کے مشورہ کے بعد جو بات ٹھہراتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی تدبیر سے اسی بات کو مٹا دیتا ہے۔ مثلاً بھید کے مشورہ کے بعد ان لوگوں نے مکہ کے مسافروں کے ذریعہ سے اسلام کو ترقی دی۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم وغیرہ میں عباد ؓ بن الصامت سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل مدینہ میں سے قبیلہ خزرج کے کچھ لوگ حج کے ارادہ سے مکہ کو آئے اور منیٰ پہاڑ کی گھاٹی میں انہوں نے اسلام کی بیعت کی اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں میں سے بارہ شخص چودہری اسلام کے پھیلانے کے لئے مقرر کئے ان چودہریوں کو نقیب کہتے ہیں۔ اس بیعت کے کرنے والے اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے مددگار ہیں عبادہ ؓ بن الصامت بھی ان بارہ چودہریوں میں سے ہیں۔ ان چودہریوں نے مدینہ اور اطراف مدینہ میں بڑی کوشش سے اسلام پھیلایا ہجرت سے پہلے دو ہزار کے قریب مسلمان نظر آنے لگے حاصل کلام یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جن مسافرین مکہ کو اسلام سے روکنا چاہا تھا اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے منصوبہ کو بگاڑ کر انہیں مسافرین مکہ کے ذریعہ سے جس طرح اسلام کو ترقی دی اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
(1 ؎ صحیح ملمر باب تحریم الظلم ص 319 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر فتح القدیر ص 552 ج 4۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب وفود الانصار الی النبی ﷺ وبیعۃ العقبۃ ص 550 ج 1۔ )
Ayahs 43:81–8481۔ 84۔ علاوہ ان فرشتوں کے جو ہر آدمی کے ساتھ ہر طرح کی آفت سے حفاظت کرنے کے لئے مقرر ہیں جن کا ذکر سورة رعد میں گزر چکا ہے۔ یہ دو فرشتے نیکی اور بدی لکھنے کی غرض سے ہر شخص کے ساتھ تعینات ہیں۔ صحیحین 1 ؎ کی اور حدیث کی کتابوں میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو ایک حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی کے دل میں جو وسوسہ آتا ہے جب تک اس وسوسہ کے موافق آدمی کوئی بات منہ سے نہ نکالے یا ہاتھ پیر سے کوئی کام نہ کرے تو وسوسہ معاف ہے اس صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سوا دل کے وسوسہ کے اور جو کچھ زبان سے نکلے یا ہاتھ پیروں سے کیا جائے وہ سب لکھا جاتا ہے بعض مفسروں نے حضرت عبد اللہ بن عباس 2 ؎ سے ایک روایت بیان کی ہے کہ سوا ان باتوں اور کاموں کے جن سے ثواب اور عذاب متعلق ہے اور عام باتیں دنیا کے کام کی نامہ اعمال میں نہیں لکھی جاتیں لیکن علی بن طلحہ کی سند سے صحیح قول حضرت عبد اللہ بن عباس کا یہی 3 ؎ ہے کہ پہلے سب کچھ لکھا جاتا ہے اور پھر عذاب وثواب کے قابل باتیں اور کام چھانٹ لئے جاتے ہیں مسند برار 4 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پاخانہ کے وقت اور ناپاکی کے وقت یہ کراماً کا بتیں فرشتے انسان سے ذرا سرک کر الگ ہوجاتے ہیں نہیں تو ہر حالت میں آدمی کے ساتھ رہتے ہیں اور سارے دن کا نامہ اعمال جو لکھ کر یہ فرشتے لے جاتے ہیں اگر اس نامہ اعمال میں کہیں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ اس دن کے سب گناہ معاف کردیتا ہے اگرچہ بعض علما نے لکھا ہے کہ دل کا وسوسہ جب تک محض وسوسہ ہے تو معاف ہے لیکن اس وسوسہ پر جب دل مضبوط ہوجائے تو اس کو عزم کہتے ہیں اور دل کے عزم پر شریعت میں مواخذہ ہے لیکن صحیح مذہب یہ ہے کہ دل کا عزم اگر ان مسئلوں کے خاص دل سے اعتقاد کے طور پر متعلق ہیں مثلاً دل میں خدا کی وحدانیت کا یقین کرنا آنحضرت کی رسالت کا یقین کرنا ان مسئلوں کا دلی شک بلا شک قابل مواخذہ ہے کیونکہ کفر و شرک کا اعتقاد اسی کا نام ہے ہاں فقط ہاتھ پیروں کے یا زبان کے متعلق جو مسئلے ہیں ان میں ہر طرح کا دل کا وسوسہ صحیح حدیثوں کی رو سے معاف ہے ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اگر اللہ کے اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں اس اولاد کو پوجتا صحیح معنی اس کے یہی ہیں کہ جب میں اللہ کا رسول ہو کر سوا اللہ کے کسی کی عبادت نہیں کرتا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنے کی وحی مجھ کو نہیں آئی تو اس سے معلوم ہوگیا کہ اللہ کا کوئی شریک اور اولاد نہیں ہے پھر تم لوگ بغیر سند کے اللہ کا شریک اور اللہ کی اولاد کیونکر ٹھہراتے ہو۔ اب آگے فرمایا کہ اللہ ان مشرکوں سے پاک ہے اور ایسا صاحب تخت بادشاہ ہے کہ آسمان و زمین میں اسی کی بادشاہت ہے نہ کوئی اسکا ولی عہد ہے نہ وزیر پھر اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ سزا کا وقت مقررہ آنے تک ان مشرکوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں ہے پھر فرمایا اگرچہ یہ مشرک آسمان پر رہنے کے سبب سے فرشتوں کی یہاں تک عزت کرتے ہیں کہ فرشتوں کی مورتوں کی پوجا کرتے ہیں لیکن اللہ کی وہ شان ہے کہ آسمان و زمین میں اس کے سوا کوئی دوسرا بندگی کے قابل نہیں ہے کیونکہ وہ سب کا خالق ہے اور سب اس کی مخلوق اس کی حکمت اور اس کا علم ایسیوسیع ہیں کہ کسی انتظام میں وہ اولاد کی مدد کا محتاج نہیں۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب تجاوز اللہ عن حدیث النفس الخ ص 78 ج 1۔ )
(2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 103 ج 6 و تفسیر ابن کثیر ص 224 ج 4۔ )
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 103 ج 6 و تفسیر ابن کثیر ص 224 ج 4۔ )
(4 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 323 ج 5۔ )
Ayahs 43:85–8985۔ 89۔ مشرکین مکہ کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو کوئی ان مورتوں کی پوجا کرے گا تو جن فرشتوں کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرنے والوں کی سفارش کریں گے۔ یہ مشرک لوگ قیامت کے توقائل نہیں تھے اس لئے اس سفارش کا مطلب ان لوگوں کے نزدیک یہ تھا کہ دنیا کی بہبودی کے باب میں فرشتے ان لوگوں کی سفارش کریں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح زمین میں اللہ کی مخلوقات ہے اسی طرح آسمان پر فرشتے ہیں کیونکہ آسمان و زمین دونوں میں اللہ کا ہی راج ہے اور اس کے حکم کے آگے سب عاجز اور بےاختیار ہیں اس واسطے ایسی بےاختیار مخلوقات میں سے نہ کسی کو اس کی عبادت میں شریک ٹھہرایا جاسکتا ہے نہ اس کی بغیر مرضی کوئی کسی کی سفارش کرسکتا ہے سورة الانبیا میں گزر چکا ہے کہ فرشتے رات دن اللہ کی عبادت سے کبھی نہیں تھکتے۔ معتبر سند کی ابوذر کی روایت ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول۔ ﷺ نے فرمایا سارے آسمانوں میں کہیں چار انگل کی جگہ بھی ایسی خالی نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ عبادت الٰہی میں مصروف نہ ہو سورة انبیاء کی آیتوں اور ابوذر کی اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ سارے آسمانوں کے فرشتوں کا ہر وقت کا مشغلہ جب خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے تو وہ ان مشرکوں کے شرک کو کب پسند کرسکتے ہیں چناچہ سورة السبا میں گزرا کہ جن فرشتوں کی مورتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں قیامت کے دن وہ فرشتے ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجائیں گے اسی واسطے فرمایا کہ بارگاہ الٰہی میں سفارش تو وہ کرسکتا ہے کہ جس کے دل میں اللہ کی وحدانیت کا یقین اور زبان پر اس وحدانیت کا اقرار ہو ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہیں پھر ان مشرکوں کی سفارش کون کرے گا اس کو یہ مشرک کسی سند سے بیان کریں اور یہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں قیامت کے آنے کا جو وقت ٹھہر چکا ہے اس وقت قیامت ضرور آنے والی ہے اور اس دن اس شرک کی جواب دہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو ضرور حاضر ہونا پڑے گا اور سوا پچھاتے کے اس دن ان لوگوں کو اور کچھ کام نہ ہوگا لیکن وہ بےوقت کا پچھتاوا ان لوگوں کے کچھ کام نہ آئے گا پھر اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا اے رسول اللہ کے اگر تم ان لوگوں سے پوچھو گے کہ تم لوگوں کو کس نے پیدا کیا تو سوا اس کے ان کے پاس اور کچھ جواب نہیں کہ یہ لوگ اللہ کو اپنا خالق بتائیں گے اس کے بعد اپنے خالق کو چھوڑ کر غیروں کو معبود ٹھہرانے کا ان کے پاس کچھ جواب نہیں ہے۔ وقیلہ یا رب ان ھو لاء قوم لا یومنون مفسروں نے اس کے دو مطلب بیان کئے ایک تو یہ کہ وقیلہ میں داؤقسم کا لیا جائے اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے شکایت کے طور پر یہ جو کہا کہ اے رب یہ لوگ باوجود ہر وقت کی نصیحت کے کسی طرح راہ راست پر نہیں آتے اللہ کے رسول کا یہ قول ایسا سچا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی قول کی قسم کھا کر اس کی صداقت کو جتلاتا ہے۔ آیت کا یہ مطلب تفسیر 1 ؎ مدارک کے موافق ہے اور شاہ صاحب نے اپنے مرادی ترجمہ میں اسی تفیر کو لیا ہے۔ مشہور سات قرأتوں میں عاصم بن بہدلہ کی قرأت بھی یہ ہے۔ قرأت کے باب میں ان عاصم بن بہدلہ کے قول کا بڑا اعتبار ہے اوپر گزر چکا ہے کہ حدیث کے باب میں اگرچہ بعض علما نے ان عاصم کو ضعیف کہا ہے لیکن امام احمد اور ابوزرعہ نے ان عاصم کو ثقہ اور ابوحاتم نے معتبر قرار دیا ہے۔ دوسرا مطلب آیت کا یہ ہے کہ وقیلہ کو انا لا نسمع سرھم و نجواھم سے متعلق کیا جائے۔ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ان مشرکوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بھید اور مشوروں اور اپنے رسول کی شکایت کو نہیں سنتا وہ سب کچھ سنتا ہے لیکن اس کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے اس نے وقت مقررہ کے آنے تک ان سرکش لوگوں کو مہلت عطا کرکے اپنے رسول کو درگزر کا حکم دیا ہے مہلت کے زمانہ میں اگر اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو وقت مقررہ پر اپنی اسی سرکشی کا نتیجہ اچھی طرح معلوم کرلیں گے۔ یہ مطلب تفسیر ابن جریر کے موافق ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو ایسے عذاب میں پکڑ لیتا ہے جس سے وہ پھر بچ نہیں سکتے اسی طرح صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکش نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرنے کے ساتھ ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت کے موافق چودہ پندرہ برس تک اہل مکہ کو مہلت دی لیکن جب مہلت کے زمانہ میں مشرکین مکہ کے سرکش لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو بدر کی لڑائی کے وقت دنیا و آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے جدا ہوتے وقت سلام کا برتاؤ کیا تھا جس کا ذکر سورة مریم میں گزرا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنے رسول ﷺ کو سلام کے برتاؤکا حکم دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب باوجود رات دن کی نصیحت کے اے قوم کے سرکش لوگو تم اپنی عادتوں سے باز نہیں آئے تو تم کو اور تمہاری عادتوں کو سلام ہے تم جانو اور تمہاری عادتیں اب آخر وہ وقت آنے والا ہے کہ تم لوگ اپنی ان بدعادتوں کا نتیجہ معلوم کرلو گے۔ اگرچہ بعض مفسروں نے جہاد کے حکم سے آیت کے ٹکڑے فاصفح عنہم کو منسوخ قرار دیا ہے لیکن اس تفسیر میں ایک جگہ یہ بیان کردیا گیا ہے کہ جہاد کے حکم سے در گزر کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔
(1 ؎ ترمذی شریف باب لو تعلمون ما اعلم الخ ص 66 ج 2۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 137 ج 4۔ )
(2 ؎ بخاری شریف باب وکذلک اخذربک اذا اخذ القرے ص 678 ج 2۔ )
(3 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 169۔ )