43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 43:36–41

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے۔

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور یہ (شیطان) ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے راستے پر ہیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا ! تو برا ساتھی ہے

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو ؟ یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہو ؟ اور جو صریح گمراہی میں ہو اسے (راہ پر لاسکتے ہو) ؟

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

36۔ 41۔ صحیح 5 ؎ مسلم اور ترمذی میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات ہے فرشتہ ہر وقت نیک کام کی صلاح دیتا رہتا ہے اور شیطان برے کام کی صلاح دیتا رہتا ہے صحیح 1 ؎ بخاری میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت آدمی اللہ تعالیٰ کی کچھ یاد اور ذکر الٰہی کرتا ہے تو آدمی کے ساتھ جو شیطان رہتا ہے وہ آدمی کی ہم نشینی سے الگ ہوجاتا ہے اور جب آدمی یاد الٰہی سے غافل ہوجاتا ہے تو وہ شیطان پھر آ کر آدمی کی ہم نشینی کو مستعد ہوجاتا ہے اور طرح طرح کے وسوسے آدمی کے دل میں ڈالنے شروع کردیتا ہے ان صحیح حدیثوں سے معلوم ہوا کہ ہر آدمی کے ساتھ جو شیطان ہے وہ سوا یاد الٰہی کے وقت میں آدمی کی ہم نشینی سے جدا نہیں رہتا اب ان صحیح حدیثوں کے موافق آیت کی تفسیر یہ ہوئی کہ جو لوگ یاد الٰہی سے غافل ہیں ان کے ساتھ کا شیطان کبھی ان کی ہم نشینی سے الگ نہیں ہوتا اور ہمیشہ ایسے لوگوں کے دل میں برے کاموں کے وسوسے ڈالتا رہتا ہے اور نیک کاموں سے روکتا رہتا ہے اسی واسطے باوجود اللہ کے رسول کی ہر وقت کی نصیحت اور ہر روز اللہ کا کلام نازل ہونے کے یہ مکہ کے مشرک لوگ نیک راستہ پر نہیں آتے کیونکہ یاد الٰہی اور نصیحت الٰہی سے دور رہنے کے سبب سیان کے شیاطین ان پر ایسے غالب ہوگئے ہیں کہ ایک دم ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے اور نصیحت الٰہی سننے کی ان کو مہلت نہیں دیتے حاصل کلام یہ ہے کہ جو لوگ کبھی یاد الٰہی اور کبھی دنیا کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں ان کو فرشتے اور شیاطین دونوں کی ہم نشینی کا موقع حاصل رہتا ہے اور جو جو لوگ ہمیشہ یاد الٰہی سے غافل اور بیخبر رہتے ہیں شیاطنی کسی وقت انکا پیچھا نہیں چھوڑتے اور ہمیشہ کے لئے خدا کی طرف سے شیطان ان کا ہم نشین قرار دیا جاتا ہے کس لئے کہ فرشتہ کی ہم نشینی کا کوئی موقع ہی ایسے لوگوں کے لئے باقی نہیں رہتا تفسیر عبد الرزاق میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے بد لوگ جب قبروں سے اٹھیں گے اس وقت بھی ان کے شیاطین ان کے ساتھ ہوں گے پھر جب دونوں دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو ایک دوسرے سی بیزاری ظاہر کریں گے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے پھر فرمایا شیاطین کے غلبہ کے سبب سے یہ لوگ بہرے اور اندھے ہو رہے ہیں نہ کچھ سنتے ہیں نہ کچھ دیکھتے ہیں پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تمہاری موجودگی میں جو لوگ ان میں سے راہ راست پر نہ آئے تو بہت جلد اس غفلت کا بدلہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے لے گا ذرا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے چناچہ مثلاً مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھی اللہ کے رسول ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت میں مارے گئے اسی طرح اہل دمشق بصرہ وغیرہ حضرت عمر ؓ کی خلافت میں اسلام کے تابع ہوگئے جن کی تفصیل کیفیت تاریخ کی کتابوں میں ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرنے کا غم قوم کے لوگوں کے دل میں بہت تھا شیطان نے قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی شکل کے بت بنا کر رکھ لئے جائیں تاکہ ان بتوں کی نگاہ کے سامنے رہنے سے ان نیک لوگوں کی جدائی کا رنج کچھ کم ہوجائے۔ قوم کے لوگوں نے اس وسوسہ کے موافق عمل کیا اور پھر چند پشت کے بعد شیطان نے ان بتوں کی پوجا دنیا میں پھیلا دی۔ ویحسبون انھم مھتدون کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان برے کام کا وسوسہ اس ڈھنگ سے لوگوں کے دل میں ڈالتا ہے کہ اس کام کی برائی لوگوں کو نظر نہیں آتی عربی کے محاورہ میں ایک چیز کو دوسری چیز کا تابع ٹھہرا کر بولتے ہیں مثلاً والد اور والدہ کو ملا کر والدین کہتے ہیں بعد المشرقین اس محاورہ کے موافق مشرق اور مغرب کو کہا گیا ہے بہکنے والے اور بہکانے والے دونوں ایک جگہ دوزخ میں رہیں گے اس لئے فرمایا کہ آج کے دن کی بیزاری اور بعدا لمشرقین کی تمنا سے کچھ فائدہ نہیں۔ (5 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب ذکر اللہ والتقرب الیہ الفصل الثالث ص 195۔ ) (1 ؎ تفسیر الدر المنثورص 17 ج 6 و تفسیر ابن کثیر ص 128 ج 4۔ )
Ayahs 43:42–45

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

یا (تمہاری زندگی ہی میں) تمہیں وہ (عذاب) دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو ! ) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو کیا ہم نے (خدائے) رحمن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کہ عبادت کی جائے

42۔ 45۔ اللہ پاک نے اس سے پہلے کی آیت میں پیغمبر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ یا تمہاری وفات کے بعد ضرور ہم کافروں پر عذاب نازل کریں گے اور بدلہ لیں گے اور یا تمہاری حیات میں وہ عذاب جس کا ہم نے وعدہ کیا ہے دکھا دیں گے دونوں باتوں پر ہم قدرت رکھتے ہیں اوپر کی آیت کے وعدہ کا جو کچھ ظہور صحابہ کے زمانہ میں ہوا اس کا مختصر ذکر تو اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ بدر کی فتح سے لے کر اللہ کے رسول کی حیات تک جو فتوحات ہوئیں وہ قصے اس دوسرے وعدہ کے ظہور کی گویا تفسیر ہیں اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے تم کسی کے جھٹلانے کی کچھ پرواہ نہ کرو اور قرآن کی نصیحت پر مضبوطی سے قائم رہو اب تو یہ قریش قرآن کو جھٹلاتے ہیں پھر اسی قوم میں ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کی پیروی کے سبب سے بڑی عزت حاصل کریں گے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت سے لے کر عباسیہ خلافت کے عروج کے زمانہ تک اس وعدہ کا ظہورا ہوا تاریخ الخلفا کے دیکھنے سے اس کا حال معلوم ہوسکتا ہے پھر جس قدر قرآن کی پیروی قوم سے اٹھتی گئی اسی قدر عزت بھی گھٹتی گئی اسی واسطے فرمایا جن لوگوں نے قرآن کی پیروی میں خلل ڈالا ان سے قیامت کے دن اس کی پوچھ ہوگی قریش کو یہ عزت اسی سبب سے حاصل ہوئی کہ اللہ کے رسول اسی قوم میں سے ہوئے جس سے قرآن شریف قریش کی زبان میں نازل ہوا مشرکین مکہ کہتے تھے کہ کسی پچھلے دین میں خالص ایک اللہ کی عبادت ہم نے تو نہیں سنی چناچہ سورة ص میں اس کا ذکر گزرچکا ہے ان لوگوں کے قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ ان لوگوں نے خالص ایک اللہ کی عبادت کسی پچھلے دین میں ان مشرکوں کی بت پرستی کا بھی کہیں کچھ پتہ ہے آگے اسی ذکر کو سچا کرنے کے لئے فرعون کے قصہ کا حوالہ دیا تاکہ قریش کو معلوم ہوجائے کہ پچھلے زمانہ میں خالص ایک اللہ کی عبادت کے انکار سے فرعون اور اس کی قوم کا کیا انجام ہوا مطلب یہ ہے اگر یہ لوگ بھی اسی انکار پر اڑے رہے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس انکار پر بڑے بڑے اڑے رہنے والوں کا جو انجام بدر کی لڑائی کے وقت ہوا۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی انس ؓ بن مالک کی حدیث کے حوالہ سے اس کا تذکرہ کئی جگہ گزر چکا ہے۔ (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 169۔ )
Ayahs 43:46–56

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

جب ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اے جادوگر ! اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بیشک ہم ہدایت یاب ہوں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

سو جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں ؟ ) کیا تم نہیں دیکھتے

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

بیشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اتارے گئے ؟ یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی اور انہوں نے اس کی بات مان لی بیشک وہ نافرمان لوگ تھے

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور سب کو ڈبو کر چھوڑا

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنادیا

46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون کے پاس لاکھوں فوج تھی اور حکومت اور ثروت ایسی تھی کہ جس کا دنیا میں شہرہ تھا اس حکومت اس ثروت پر ایک دم میں پانی پھر گیا اور نہایت ذلت اور خرابی سے سب کے سب غرق ہوگئے قریش کے پاس نہ فوج ہے نہ ان کی وہ حکومت نہ وہ ثروت پھر یہ کس برتے پر اللہ تعالیٰ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں۔ بہت قریب زمانہ گزرا کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان لوگ باوجود اس ثروت اور حکومت کے جو اس طرح ذلت اور خواری سے نیست اور نابود ہوگئے ان کا خیال یاد کرکے قریش کو ذرا خواب غفلت سے بیدار ہونا چاہئے چناچہ اسی فائدہ کے لئے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے غرق ہوجانے کا ذکر فرما کر اخیر کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فجعلنھم سلفا و مثلا للاخرین حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے جس طرح قریش کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے اسی طرح فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اور جس طرح قریش تمہاری نصیحت کو مسخرا پن میں اڑاتے ہیں اسی طرح فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کو مسخرا پن میں اڑایا۔ قحط پیداوار کا نقصان طوفان ٹڈیاں مینڈکوں کی طرح طرح کی آفتوں میں اگرچہ فرعون اور اس کی قوم کو پکڑا گیا لیکن ہر آفت کے وقت فرمانبرداری کا عہد کرکے آفت کے ٹل جانے کے بعد وہ لوگ اپنے عہد پر قائم نہ رہے فرعون نے اپنی فارغ البالی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تنگ دستی جتا کر اپنی قوم کو یہ دھوکا دیا کہ ایسا تنگ دست شخص اللہ کا رسول نہیں ہوسکتا ان لوگوں کی ایسی باتوں پر جب اللہ تعالیٰ کو غصہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو دریائے قلزم میں ڈبو کر ہلاک کردیا جس کے ڈوبنے کا قصہ اوروں کے لئے عبرت کی نشانی ہے صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو راہ راست پر آنے کی مہلت دیتا ہے جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ راہ راست پر نہیں آتے تو پھر ان کو بالکل برباد کردیتا ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو پوری مہلت دی اور اس مہلت کے زمانہ میں چھوٹے چھوٹے عذاب بھیج کر ان لوگوں کو ڈرایا لیکن جب یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو ایک دفعہ ہی ان کو بڑے عذاب میں پکڑ لیا اور دریائے قلزم میں ڈبو کر سب کو ہلاک کردیا۔ (1 ؎ صحیح بخاری شریف باب وکذلک اخذربک اذا اخذ القرے الایۃ ص 678 ج 2۔ )
Ayahs 43:57–61

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چلا اٹھے

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ عیسیٰ میرے سامنے انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو (اپنی قدرت کا) نمونہ بنادیا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور وہ قیامت کی نشانی ہیں تو (کہہ دو کہ لوگو ! ) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو یہی سیدھا راستہ ہے

57۔ 60۔ مسند امام احمد 2 ؎ اور طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز سورة الانبیا کی آیت انکم و ما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیں وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبد اللہ ؓ بن زبعری ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ کو نبی اور ہمارے بتوں سے ضرور اچھا گنتے ہوں گے اس لئے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ کا ہوگا عبد اللہ ؓ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب خوش ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے ان بندوں میں ہیں جن پر اللہ نے اپنا فضل کیا ہے یہ مشرک جن شیاطینوں کی پوجا کرتے ہیں وہ شیاطین مشرکوں کی پوجا سے خوش ہیں اور جو لوگ حضرت عیسیٰ کی پوجا کرتے ہیں حضرت عیسیٰ ان کی صورت سے بیزار ہیں اس لئے ان مشرکوں نے حضرت عیسیٰ کی مثال شیاطینوں سے جو ملائی ہے وہ بالکل غلط ہے ان آیتوں میں یہ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ قیامت کی ایک نشانی ہیں اس کی تفسیر بعض مفسروں نے اگرچہ یہ قرار دی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو جو زندہ کرتے تھے یہ ان کا معجزہ ایک قیامت کی نشانی تھا کیونکہ جس طرح وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے اسی طرح قیامت کے دن مردے زندہ ہوں گے لیکن صحیح تفسیر وہی ہے جس کا ذکر صحیحین 1 ؎ وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے زمین پر آئیں گے اور دجال کو قتل کریں گے اسی واسطے ان کو قیامت کی نشانی فرمایا ہے۔ اس شان نزول کی حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت کی سند میں ایک راوی عاصم ؓ بن بہدلہ کو اگرچہ نسائی دار قطنی وغیرہ نے ضعیف کہا ہے لیکن امام احمد ابو زرعہ نے عاصم کو ثقہ قرار دیا ہے اور ابو حاتم نے بھی ان عاصم کو معتبر ٹھہرایا ہے سات قاری جو مشہور ہیں ان میں یہ ایک عاصم بھی ہیں۔ امام احمد (رح) ان ہی عاصم کی قرأت کے موافق قرآن شریف پڑھا کرتے تھے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یہ شان نزول کی روایت معتبر ہے۔ یہ عبد اللہ ؓ بن زبعری قریش کے مشہور شاعروں میں ہیں اسلام لانے سے پہلے اسلام کی اکثر ہجو کیا کرتے تھے لیکن فتح مکہ کے بعد اسلام میں داخل ہوگئے سورة الانبیا کی آیت میں خاص مشرکین مکہ کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا تھا کہ تم اور تمہارے بت قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن قرار دیئے جائیں گے آیت کے اس مضمون میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو شامل کرنا زبردستی کا ایک جھگڑا تھا اسی واسطے عبد اللہ بن زبعری اور ان کے ساتھیوں کو جھگڑالو فرمایا۔ مشرکین مکہ فرشتوں کی مورتوں کو پوجنے کا بڑا فخر کرتے تھے اس کے جواب میں فرمایا کہ آسمان پر رہنے سے فرشتے معبود نہیں ہوسکتے۔ اگر اللہ چاہے تو بنی آدم کی طرح فرشتوں کو زمین پر بسا دیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو قیامت کی نشانی فرما کر فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ ان دن کی آفتوں سے بچنے کے لئے خالص اللہ کی عبادت کا سیدھا راستہ جو تم لوگوں کو بتایا جاتا ہے وہ راستہ چلو کیونکہ قیامت کے آنے میں تم لوگوں کو شیطان نے دھوکہ دے رکھا ہے۔ اس دھوکے سے قیامت کا آنا ٹل نہیں سکتا اصلی قیامت تو اپنے وقت پر آئے گی لیکن جس طرح تمہارے بڑے بوڑھے مرگئے اسی طرح تم بھی مر جاؤگے اور مرنے کے باتھ ہی تم میں سے ہر شخص کی قیامت کا نتیجہ اس کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ جس نتیجہ کو دیکھ کر پھر پچھتانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ مسند امام 1 ؎ احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ منکر نکیر کے سوال کے بعد اچھے لوگوں کو جنت کا اور برے لوگوں کو دوزخ کا ٹھکانا دکھا کر فرشتے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں رہنے کے لئے ہر شخص کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا اس حیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی ہر شخص کا قیامت کا نتیجہ اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 20 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب نزول عیسیٰ بن مریم الخ ص 87 ج 1۔ ) (1 ؎ الترغیب و الترہیب باب الترغیب فی زیارۃ الرجال القبور الخ ص 698 ج 4۔ )
Ayahs 43:62–67

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور (کہیں) شیطان تم کو (اس سے) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے

وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 43:63 in the Quran reader

اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:64 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 43:65 in the Quran reader

پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 43:66 in the Quran reader

یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ Open ayah 43:67 in the Quran reader

(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار

62۔ 67۔ اوپر عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمین پر آنے کو قیامت کی نشانی فرما کر یہ فرمایا تھا کہ قیامت ایک دن ضرور آنے والی ہے ان آیتوں میں فرمایا آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ تو تمام بنی آدم کو معلوم ہوچکا ہے کہ شیطان بنی آدم کا قدیمی کھلا کھلا دشمن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے رو برو قسم کھاچکا ہے کہ جہاں تک اس سے ہو سکے گا وہ ہر طرح بنی آدم کو نیک راستہ سے روکے گا۔ مسند امام 2 ؎ احمد اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو شیطان بنی آدم کو ہر طرح سے بہکانے اور نیک راستہ سے روکنے کی قسم کھاچکا ہے۔ یہ حدیث گویا اس بات کی تفسیر ہے کہ شیطان بنی آدم کا ایسا کھلا دشمن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو قسم کھا کر وہ اس دشمنی کا اقرار کرچکا ہے اب بنی آدم میں سے جو شخص اپنے ایسے بڑے دشمن کو دشمن نہ سمجھے اور اس دشمن کے کہنے میں آجائے وہ بڑا نادان ہے اسی واسطے فرمایا ہر شخص کو خوب ہوشیار رہنا چاہئے کہ شیطان اسکو نیک راستہ سے نہ روکے۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں یونانی حکیموں کا بڑا زور تھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مردہ کے زندہ کرنے کا اور مادر زاد اندھے کے اور کوڑھی کے اچھے کرنے کا معجزہ دیا جس سے اس وقت کے یونانی حکیم حیران ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ان ہی معجزات کو نشانیاں فرمایا۔ تفسیر سدی میں جو سلف کے قول ہیں ان کے موافق یہاں حکمت کے معنی نبوت 3 ؎ کے ہیں۔ تورات کے بعض احکام میں یہود نے جو اختلاف ڈال رکھا تھا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس اختلاف کو رفع کردیا تھا مثلاً ہفتہ کے دن کی تعظیم میں جو یہود کا اختلاف تھا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو رفع کرکے دن کی بہت سی تعظیم باتوں کو کم کردیا۔ چناچہ انجیل یوحنا کے پانچویں باب میں لکھا ہے کہ اس اختلاف کے رفع کردینے پر یہود عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن ہوگئے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہود کے بہت سے اختلاف جو رفع کئے ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے اب آگے عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی جو نصتحن کی ہے اس کا ذکر ہے اور یہ ذکر ہے کہ بنی اسرائیل میں سے یہود تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت اور انجیل کے بالکل منکر ہوگئے اور نصاریٰ نے ایک دا کے کئی خدا ٹھہرا دیئے اور ایک انجیل کی کئی انجیلیں بنا دیں پھر فرمایا ایسے لوگوں کو قیامت کے دن کا انتظار کرنا چاہئے کہ اس دن یہ لوگ اپنے اعمال کا خمیازہ بھگت لیں گے قیامت کے انتظار کا یہ مطلب ہے کہ قیامت سے پہلے جو لوگ مرجائیں گے ان کی قیامت تو مرنے کے ساتھ ہی گویا قائم ہوجائے گی کیونکہ مرنے کے ساتھ ہی جنت کے قابل شخص کو جنت کا اور دوزخ کے قابل شخص کو دوزخ کا ٹھکانہ دکھا کر فرشتے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانہ میں رہنے کے لئے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ چناچہ مسند 1 ؎ امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی صحیح حدیث اس مضمون کی اوپر گزر چکی ہے۔ علاوہ ان کے آخری زمانہ میں وہ لوگ ہوں گے جو صور کی آواز سن کر مرجائیں گے جن کا ذکر صحیح 2 ؎ مسلم کی عبد اللہ بن عمر کی روایت سے ایک جگہ گزر چکا ہے غرض موت کا وقت یا صور کا وقت کسی کو معلوم نہیں اس واسطے فرمایا کہ قیامت نے خبری میں اچانک آجائے گی اب آگے قیامت کے دن کی نفسانفسی کا ذکر فرما کر کہ اس دن خدا سے ڈرنے والی قوم کے سوا اور سب قوموں کی آقس کی دوستی دشمنی سے بدل جائے گی اب دنیا میں تو بہکنے والے اور بہکانے والے آپس میں دوست بنے ہوئے ہیں قیامت کے دن جس طرح یہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ اس کا ذکر سورة ابراہیم سورة صبا اور سورة حم السجدہ میں گزر چکا ہے صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں ابو سعید ؓ خدری کی ایک بہت بڑی حدیث شفاعت کے باب میں ہے جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز روزہ کے ساتھی مسلمان دوست اپنے گناہ گار دوستوں کو بڑی گہری شفاعت کے بعد عذاب دوزخ سے نجات دلوائیں گے جن سورتوں کی آیتوں کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے ان آیتوں اور ابو سعید ؓ خدری کی اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ قیامت کے دن خدا سے ڈرنے والے لوگوں کے سوا اور سب لوگوں کی دوستی دشمنی سے بدل جائے گی۔ (2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب الاستغفار والتوبۃ الفصل الثانی ص 204۔ ) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا صفحہ گزشتہ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب ذکر الدجال ص 403 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح باب اثبات رویۃ المومنین بھم الخ ص 103 ج 1۔ )
Ayahs 43:68–73

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 43:68 in the Quran reader

(کہ باہم دوست ہی رہیں گے) میرے بندو ! آج تمہیں نہ تو کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہو گے

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 43:69 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرماں بردار ہوگئے

اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ Open ayah 43:70 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (و احترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 43:71 in the Quran reader

ان پر سونے کی پرچوں اور پیالیوں کا دور چلے گا اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے

وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 43:72 in the Quran reader

اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دئیے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے

لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 43:73 in the Quran reader

وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے

68۔ 73۔ قتادہ کا قول ہے کہ قیامت کے دن نیک لوگوں سے فرشتے پکار پکار کر یہ کہیں گے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ اسے ایماندار بندوں تم آج کے دن ہر طرح کے ڈر اور غم سے بچے ہوئے ہو تم اپنی نیک بیبیوں کو ساتھ لے کر جنت میں چلے جاؤ پھر جنتیوں کی نعمتوں کا ذکر فرمایا کہ وہاں سونے کے برتنوں میں کھانے کی چیزیں اور سونے کے آب خوروں میں پینے کی چیزیں لے کر خدمت گار حاضر اور کثرت سے طرح طرح کے میوے موجود ہوں گے اور ہر طرح کا راحت و آرام کا سامان مہیا ہوگا۔ ابن 1 ؎ ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے واسطے ایک مکان جنت میں اور ایک دوزخ میں بنایا ہے قیامت کے دن جو لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پائیں گے ان کے جنت میں کے خالی مکانوں کا وارث اہل جنت کو ٹھہرایا جائے گا۔ آیتوں میں جنت کے جن مکانوں کو میراث کے طور پر فرمایا ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اچھے نیک عمل لوگوں کو ان کے ذاتی مکانوں کے علاوہ ان خالی مکانوں کا بھی وارث ٹھہرایا جائے گا۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد جنت اور دوزخ کے مابین میں موت کو ذبح کیا جا کر اہل جنت سے فرشتے پکار کر کہہ دیں گے کہ اب تم موت سے نہ ڈرو اور راحت سے ہمیشہ جنت میں زندگی بسر کرو یہ حدیث وانتم فیھا خلدون کی گویا تفسیر ہے صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نیک لوگوں کے لئے جنت میں جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کان سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ قرآن اور حدیث کے ذریعہ سے جنت کی جو نعمتیں کانوں سے سنی گئی ہیں ان کے علاوہ جنت کی اور نعمتیں ایسی بھی ہیں جو اب تک کانوں سے نہیں سنی گئی ہیں۔ (1 ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجنۃ ص 332۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 382 ج 2۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری با ماجاء فی صفۃ الجنۃ ص 460 ج 1۔ )