Ayahs 42:1–6سورة الشورے مکیۃ
1۔ 6 حم عسق حروف مقطعات میں سے ہے سورة آل عمران کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ حروف مقطعات آیات متشابہات کی قسم میں سے ہیں کیونکہ ان کے معنوں سے کوئی حرام و حلال کا حکم متعلق نہیں ہے اس لئے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق اس طرح کی سب آیتیں متشابہات میں داخل ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی حدیث سورة آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تفسیر سے علماء امت کو منع فرمایا ہے اس واسطے صحابہ اور تابعین کا زمانہ اسی طریقہ پر گزرا ہے کہ وہ متشابہ آیتوں کی تفسیر کے درپے نہ ہوتے تھے بلکہ ان کی تفسیر کو اللہ تعالیٰ کے علم پر سونپا کرتے تھے یہ تفسیر سلف کے اقوال کے موافق لکھی گئی ہے اس لئے متشابہ آیتوں کی تفسیر میں وہی طریقہ اس تفسیر میں برتا گیا ہے کذلک کا یہ تو مطلب ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور شرک کی مذمت کی جو باتیں قرآن میں ہیں وہی باتیں پچھلے انبیاء پر اتری ہیں یا مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہئے اسی کے جواب میں فرمایا کہ جس طرح ہمیشہ سے انسان رسول ہوتے آئے ہیں اسی طرح یہ انسان رسول ہیں کسی امت کی ہدایت کے لئے فرشتہ نہیں آیا کیونکہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے پھر فرمایا اس فہمائش کے بعد بھی اگر لوگ اپنی بےٹھکانے کی باتوں سے باز نہ آئیں گے اور کلام الٰہی کو جھٹلائے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسا زبردست ہے کہ اس نے پچھلی بہت سی قوموں کو طرح طرح کے عذاب سے ہلاک کردیا اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا۔ صاحب حکمت وہ ایسا ہے ہے کہ اس نے ہر وقت کی ضرورت کے موافق احکام نازل فرمائے ہیں۔ پچھلی قوموں کے طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کے جتنے قصے گزرے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے زبردست ہونے کی گویا تفسیر ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا مسئلہ تو ہر نبی کی نبوت کے زمانہ میں یکساں رہا ہے ہاں حلال و حرام کے مسئلے ہر وقت کی ضرورت کے موافق بدلتے رہے ہیں یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے صاحب حکمت ہونے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت کا مسئلہ بڑا تاکید کا مسئلہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اس کی تاکید تو ہر نبی کے زمانہ میں رکھی اور باقی کے مسئلوں کو اپنی حکمت کے موافق ہر وقت کی ضرورت کی حالت پر رکھا ہے۔ پھر فرمایا آسمان و زمین کا مالک جب کہ وہی وحدہ لا شریک ہے اور سب پر اسی کا حکم جاری ہے تر پھر کس استحقاق سے یہ مشرک لوگ غیروں کو اس کی تعظیم میں شریک کرتے ہیں یہاں تو آسمان کے پھٹ پڑنے کا ذکر مختصر طور پر فرمایا سورة مریم میں فرمایا ہے کہ یہ شرک ایسی وبال کی چیز ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں تو یہ ہوسکتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ سورة مریم کی آیتیں گویا ان آیتوں کی تفسیر ہیں اس سے آسمان کے پھٹ جانے کا سبب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم 3 ؎ کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اس لئے اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں جو لوگ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ گار نہیں۔ مشرک کے شرک سے آسمان اور فرشتے جو خوف کرتے ہیں یہ حدیث اس کی گویا تفسیر ہے جس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ شرک کے برابر اس دنیا میں کوئی گناہ نہیں اس لئے شرک بڑے خوف کی چیز ہے سورة المومن میں فرشتوں کی دعائے مغفرت ایمانداروں کے لئے ہے اور یہاں تمام زمین والوں کے لئے مطلب اس سے یہ ہے کہ تمام اہل زمین میں جو مشرک ہیں ان کے حق میں اللہ کے فرشتے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ لوگ آئندہ شرک سے باز آئیں اور ایمانداروں کے حق میں ان کی دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمائے حاصل یہ ہے کہ شرک اللہ تعالیٰ کے غصہ کی چیز ہے اس لئے اس کے خوف سے جس طرح آسمان پھٹ جانے کے قریب ہوجاتے ہیں اسی طرح اللہ کے فرشتے مشرکوں کے حق میں شرک سے بچنے کی دعا کرنے لگتے ہیں کیونکہ مشرکین کو تو اپنا انجام نظر نہیں آتا اور فرشتوں کو ان کا انجام نظر آتا ہے۔ آگے فرمایا جو کوئی شرک سے آئندہ توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے عمرو بن العاص کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اسلام کے سبب سے پچھلے سب گناہوں کی بنیاد اکھڑ جاتی ہے۔ جو شخص شرک سے توبہ کرے اس کے پچھلے گناہوں کو معاف ہوجانے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے پھر فرمایا اس فہمائش کے بعد بھی جو لوگ شرک سے باز نہ آئیں گے تو ایسے لوگوں کے سب کام اللہ کی نظر میں ہیں وقت مقررہ پر وہ ان کے عملوں کی ان کو سزا دے گا اور ایسے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی قرار پا چکے ہیں اس لئے اے رسول اللہ کے ان کو راہ راست پر لانے کے تم ذمہ دار نہیں ہو پھر فرمایا جس طرح پچھلے رسولوں پر ان ہی کی قوموں کی زبان میں احکام نازل کئے گئے اسی طرح اے رسول اللہ کے تمہاری قوم کی عربی زبان میں یہ قرآن نازل کیا گیا ہے تاکہ تم اس قرآن کے موافق مکہ اور اطراف مکہ کے نافرمان لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤ۔
(3 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة ال عمران ص 652 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب ما ذکرنی الاتاب مریم ص 489 ج 1 و صحیح مسلم باب فضائل عیسیٰ (علیہ السلام) ص 365 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة فرقان باب والذین لاید عون مع اللہ اخر الایتص 701 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب کون ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ اقبح الذنوب الخ ص 63 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب کون الاسلام یھدم ماقبلہ وکذا الحج والھجرۃ ص 76 ج 1۔ )
Ayah 42:77۔ حشر کے دن کو اکھٹے کرنے کا دن اس لئے فرمایا کہ اس دن حضرت آدم سے لے کر قیامت تک جو انسان روئے زمین پر ہیں وہ سب حساب و کتاب کے لئے شام کے ملک کے میدان میں ایک جگہ اکھٹے کئے جائیں گے چناچہ سورة ہود میں فرمایا ذلک یوم مجموع لہ الناس اور بیہقی کی اسماء بنت 2 ؎ یزید کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس اور صحابہ کی روایتوں میں یہ بھی صراحت آئی ہے کہ وہ میدان شام کے ملک میں ہوگا اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر اتنا ہی فرمایا ہے کہ یہ سب لوگ اکھٹے ہوں گے اور ان میں سے ایک گروہ بہشت میں جائے گا اور ایک دوزخ میں سورة ہود میں اس کی تفصیل فرمائی ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں بد ٹھہر چکے ہیں اور دنیا میں آ کر انہوں نے کام بھی برے کئے وہ دوزخ میں جائیں گے اور جو لوگ علم الٰہی میں نیک ٹھہر چکے ہیں اور دنیا میں آ کر انہوں نے کام بھی نیک کئے وہ جنت میں جائیں گے اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو لوگ نیک اور بد قرار پائے تھے اس کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بھی بتلا دی تھی چناچہ ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت مشہور ہے جس کو ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک روز مسجد نبوی میں حجرہ سے باہر تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں آپ نے صحابہ سے پوچھا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ میرے ہاتھوں میں کیا ہے صحابہ نے عرض کیا نہیں ہم کو تو معلوم نہیں آپ نے فرمایا میرے دائیں ہاتھ میں جو کتاب ہے اس میں سب جنتی لوگوں کے نام ہیں اور بائیں ہاتھ میں جو کتاب ہے اس میں سب دوزخی لوگوں کے نام ہیں صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت جب جنتی اور دوزخی پہلے ہی سے ٹھہر چکے ہیں تو پھر عمل کی کیا ضرورت ہے آپ نے فرمایا تم عمل کئے جائو جو جنتی ہے اس کا خاتمہ خود ہی اچھی حالت پر ہوگا یہ فرما کر وہ دونوں کتابیں پھینک دیں اور یہی آیت پڑھی فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر۔ یہاں تو وہ ذکر ہے کہ حشر کے میدان سے ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک دوزخ میں اور آیتوں اور حدیثوں سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ پھر دوزخ میں جانے کے بعد فقط اہل شرک ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا اس طرح کے سب گناہ گار پھر دوزخ سے نجات پائیں گے اور جنت میں داخل ہوں گے چناچہ اس باب میں صحیح بخاری 2 ؎ اور مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جن لوگوں کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ لوگ دوزخ سے نکل کر آخر کو جنت میں جائیں گے۔
(2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب فی الحساب والقصاص والمیزان الفصل الثالث ص 487۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء ان اللہ کتب کتابالا ھل الجنۃ واھل النار۔ ص 45 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النار ص 104 ج 1۔
Ayahs 42:8–128۔ 12۔ اکثر علما کے نزدیک مشیت اور ارادے کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ ارادہ علم کا تابع ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہر ایک کام کا انجام جان لیا جاتا ہے پھر اس کام کا ارادہ کیا جاتا ہے مثلاً کھیتی کرنے اور باغ لگانے سے پہلے یہ انجام سوچ لیا جاتا ہے کہ جس زمین میں کھیتی یا باغ کا ارادہ ہے اس زمین میں کھیتی اور باغ کی پیداوار ہوجائے گی تو پھر اس زمین میں کھیتی کے کرنے کا یا باغ کے لگانے کا ارادہ کیا جاتا ہے اس بنا پر پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرمان بردار بنا کر تمام مخلوقات کو نیک کردیتا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نافرمان قرار پا چکے ہیں اپنے اس علم کے برخلاف کسی کو مجبور کرکے راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کے ارادہ میں نہیں ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کو نیک توفیق دے کر اپنی رحمت میں داخل کرنا چاہتا ہے جو اس کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں اور یہ نافرمان لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور کہتے ہیں کہ اول تو ہم حشر کے قائل نہیں اور اگر ایسا ہوا تو جن بتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ ہم کو اس دن کے عذاب سے بچا لیں گے ان مشرکوں کی اب بات کے جواب میں یہاں مختصر طور پر اتنا ہی فرمایا کہ اس دن اللہ کی مرضی کے برخلاف کوئی کسی کا رفیق اور مددگار نہ ہوگا اور جگہ اس کی تفصیل گزر چکی ہے کہ جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں حشر کے دن وہ فرشتے اور نیک لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجائیں گے۔ پھر فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ بتوں کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں دنیا میں تو مکہ کے قحط کے وقت ان لوگوں کو بتوں کا حال معلوم ہوگیا کہ انہوں نے اپنے بتوں سے بہت کچھ التجا کی اور ایک بوند پانی نہ پڑا حشر کے دن جب ان کی آنکھوں کے سامنے مرے ہوئے لوگ زندہ ہوجائیں گے تو ان لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ کوئی چیز اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہے اور جب ان کے جھوٹے معبود اس دن ان لوگوں سے بیزاری ظاہر کریں گے تو ان کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اس دن سوا اللہ تعالیٰ کے اور کوئی کسی کا مددگار نہیں ہے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی یہ تسلی فرمائی ہے کہ اگر یہ مشرک لوگ تمہاری نصیحت کو نہیں مانتے تو اس کا کچھ رنج نہ کرنا چاہئے بلکہ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہ ہوگا۔ پھر مشرکین مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ تم لوگ جھگڑے کی باتیں جو کر رہے ہو کہ تمہارا طریقہ اچھا ہے اور دین اسلام اچھا نہیں تو اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے وقت مقررہ پر وہ اس کا فیصلہ کر دے گا پھر اپنے رسول کو ارشاد فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں نے تو ہر طرح سے اپنا بھروسہ اللہ ہی پر کیا اور سب کو چھوڑ کر اس کی طرف میں رجوع ہوا۔ اب آگے منکرین قدرت الٰہی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں یاد دلائیں کہ اس صاحب قدرت نے آسمان زمین مرد عورت نر مادہ چوپاؤں کو پیدا کیا اور پھر انسان اور چوپاؤں کی نسل بڑھائی اب جب ان باتوں اس جیسا کوئی نہیں تو لائق تعظیم بھی وہی وحدہ لا شریک ٹھہرتا ہے کیونکہ وہ ہر ایک کی التجا کو سنتا اور ہر ایک کے عمل کو دیکھتا ہے کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں اپنے علم کے موافق اس نے کسی کو خوشحال کیا ہے اور کسی کو تنگدست تاکہ خوشحال لوگوں کو تنگدست لوگوں کے کام کاج کی ضرورت رہے اور تنگدست لوگوں کو خوشحال لوگوں کے روپے پیسے کی اور اسی طرح سے دنیا کا انتظام قائم رہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی وہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں جو لوگ نافرمان لکھے جا چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اللہ کی قدرت کی سب نشانیاں اسی رائیگاں ہیں جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اور تبارک الذے میں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس علم غیب کا امتحان کے طور پر ظہور ہوجائے کسی کو مجبور کرکے راہ راست پر لانے میں یہ امتحان کی حالت باقی نہ رہتی اس لئے اپنے علم غیب کے برخلاف مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا نہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے نہ مجبوری کی حالت کی کوئی نیکی اس کی بارگاہ میں مقبول ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 499 ج 4)
(2 ؎ صحیح مسلم باب حجاج ادم و موسیٰ (علیہما السلام) ص 335 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدر امقدورا۔ ص 977 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب فضل من علم و علم ص 18 ج 1۔ )
Ayahs 42:13–1513۔ 15۔ اگرچہ انبیائے اولوالعزم کی تعداد میں علماء مفسرین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس اور ان کے مشہور شاگرد مجاہد کا قول یہی ہے کہ اولوالعزم یہی پانچ نبی ہیں جن کے نام اس آیت میں اور سورة احزاب میں آئے ہیں اوپر یہ تو گزر چکا ہے کہ تفسیر کے باب میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول صحابہ میں اور مجاہد کا قول تابعیوں میں بڑا معتبر ہے اس لئے یہی قول اختلاف کے رفع کرنے کے لئے کافی ہے اولوالعزم کے معنی صاحب ہمت کے ہیں ان انبیا کے زمانہ میں بت پرستی کا زور تھا اس لئے ان انبیاء کو بت پرستوں سے بڑی ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑا اسی واسطے ان پانچ نبیوں کو اولوالعزم کہتے ہیں وصیت کے طور پر جس سات کا حکم اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو فرمایا ہے اللہ کی وحدانیت کا قائم رکھنا ہے چناچہ سورة انبیاء میں فرمایا ہے وما ارسلنا من قبلک رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا عبدون جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر رسول کو اللہ کی وحدانیت کے قائم رکھنے کا حکم دیا گیا اسی توحید کو اس آیت میں دین فرمایا ہے کیونکہ توحید اصل دین ہے اسی واسطے جس کے دل میں قیامت کے دن ذرہ برابر بھی توحید ہوگی وہ آخر کو نجات پائے گا چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید ؓ خدری کی حدیث اس باب میں ایک جگہ گزر چکی ہے اسی توحید کا عالم ارواح میں سب مخلوق سے اقرار لیا گیا ہے اور انبیاء سے بھی عہد لیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو توحید سکھائیں اور سب نبی اور ان کی امتیں توحید پر اس طرح قائم رہیں کہ ایک نبی دوسرے نبی کی تصدیق کرے اور اگر پہلا نبی دوسرے نبی کے زمانہ کو نہ پائے تو پہلے نبی کی امت میں سے جو لوگ دوسرے نبی کے زمانہ میں باقی ہوں وہ دوسرے نبی کی تصدیق اور تائید کریں اسی عہد اور اقرار کے موافق اللہ نے اپنے رسول سے فرمایا اہل کتاب سے یوں کہو تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولا شرک بہ شیئا جس کا حاصل یہ ہے کہ اے اہل کتاب آؤ ہم تم اس سیدھی بات پر قائم ہوجائیں کہ خالص اللہ کی عبادت کریں اور شرک سے بچیں ملت ابراہیمی کی یہ توحید مشرکین مکہ نے ایک مدت دراز سے ضائع کردی تھی اور بت پرستی میں پڑگئے تھے اور بت پرستی ان کے دلوں میں جم گئی تھی اسی واسطے فرمایا کہ اے نبی اللہ کے جس بات کی رغبت تم ان مشرکوں کو دلاتے ہو اس کا اختیار کرنا ان پر بڑا شاق ہے لیکن جو لوگ اللہ کے علم و ارادہ میں نیک ٹھہر چکے ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نیک راستہ سے لگا دیتا ہے پھر فرمایا کہ محض ضد سے یہ لوگ توحید کے راستہ پر نہیں آتے ورنہ ان کو قرآن کی باتوں سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے بتوں کو کوئی حق اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا نہیں ہے پھر فرمایا کہ اللہ کی درگاہ میں ہر کام وقت مقرر ہے نہیں تو شرک اس طرح اللہ کو ناپسند ہے کہ ابھی ان مشرکوں پر عذاب آجاتا آگے کی آیتوں کی تفسیر ذرا قصہ طلب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وصیت الٰہی کے طور پر جو حکم اوپر کی آیتوں میں تھا وہ قوم نوح سے لے کر قوم فرعون تک کسی قوم نے اس کے موافق عمل نہیں کیا جس کی سزا میں وہ سب قومیں طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوگئیں اور ان کی ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب وراثت کے طور پر تورات علمائے یہود کو ملی تو انہوں نے تورات کے ماننے میں طرح طرح کے شک اور شب ہے نکالے آپس میں پھوٹ ڈال کر چند فرقے ہوگئے ایک تورات کی چند توراتیں بن گئیں اور وہ بھی اس طر کہ ایک فرقہ دوسرے فرقہ کی تورات کو نہیں مانتا مثلاً فرقہ سامریہ باقی کے فرقوں کی تورات کو نہیں مانتا اور یہی حال باقی کے فرقوں کا ہے۔ عیسائی فرقوں کے آپس کے اختلاف کا اور ان کی انجیلوں کے اخلاف کا ذکر اس تفسیر میں ایک جگہ تفصیل سے کیا گیا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اسی اختلاف کو فرمایا یہ ایسا اختلاف ہے جس نے یہود و نصارا کو بےچین کر رکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں ایک فرقہ دوسرے فرقہ کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا اے رسول اللہ کے وصیت کے طور پر جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیا کو اور تم کو دیا ہے تم اس کی پابندی کی لوگوں کو نصیحت کرو اور مشرکین مکہ نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر اور اہل کتاب نے اپنی کاتبوں میں اختلاف ڈال کر جو ایجادی باتیں نکال رکھی ہیں ان پر نہ چلو اور ان لوگوں سے اتنی ہی بات کہہ دو کہ اصلی ابراہیمی صحیفوں اور تورات و انجیل کو ہم مانتے ہیں کہ یہی ہمارے دین میں انصاف کی ہے نہ ہم مشرکین مکہ کی طرح ہیں جو اصل ملت ابراہیمی کو نہیں مانتے نہ یہود کی طرح جو انجیل اور قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے نہ نصاریٰ کی طرح ہیں جو قرآن کے کلام الٰہی ہونے کے قائل نہیں ہیں اللہ ہمارا اور تمہارا مالک ہے اس کے رو برو سب جمع ہو کر ایک دن حاضر ہوجائیں گے اور اس دن ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہوں گے اور تمہارے عمل تمہارے ساتھ۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دین سب انبیا کا ہمیشہ سے ایک ہے فقط حرام حلال کے احکام ضرورت کے موافق ہر نبی کے زمانہ میں بدلتے رہے ہیں وصیت الٰہی کے طور پر جس حکم کے سب انبیاء کے زمانہ میں قائم رہنے کا ذکر آیتوں میں ہے اس کا مطالب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر نبی کے زمانہ میں شریعت بدلتی رہی ہے اور دین ہمیشہ سے سب انبیاء کا ایک ہے دین طریقہ عبادت کو کہتے ہیں اور حرام حلال کے احکام کو شریعت کہتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تاکید ہر ایک نبی کے زمانہ میں رہی ہے۔ مستدرک 2 ؎ حاکم کے حوالہ سے نعمان ؓ بن بشیر کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب لوگوں کو نصیحت کیا کرتے تھے تو آپ کی چادر اتر کر پیروں میں آپڑتی تھی۔ ان آیتوں میں اللہ کے رسول کو جو حکم تھا کہ تم لوگوں کو نصیحت کرو اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اس حکم کی تعمیل کس قدر کوشش سے کیا کرتے تھے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب تفاضل اھل الا یمان فی الاعمال ص 8 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب واذکر فی الکتاب مریم الایۃ ص 489 ج 1 و مسلم شریف باب فضائل عیسیٰ (علیہ السلام) ص 265 ج 2۔ )
(2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب صفۃ النار واھلھا الفصل الثانی ص 504۔
Ayahs 42:16–2216۔ 22۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو اللہ کی وحدانیت کے پھیلانے کا دیا ہے اے رسول اللہ کے اس کے موافق لوگوں کو نصیحت کرو ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ اس نصیحت کے وقت اللہ کے حکم پر جھگڑا ڈالتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے بھائی بندوں اور قوم میں سے جس کسی نے اس نصیحت کو غور سے سنا وہ راہ راست پر آگیا اس لئے ایسے ضدی لوگوں کا جھگڑا کچھ التفات کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے شخص کو آگ کی جوتیاں پہنا دی جائیں گی جس سے اس شخص کا بھیجا کھل جائے گا اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جن لوگوں کے حق میں اس دن اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب کا وعدہ فرمایا ہے ان کا کیا حال ہوگا۔ معتبر سند سے بیہقی وغیرہ میں عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے کہ جس طرح نماز روزہ اور سب عبادتیں آسمانی کتابوں میں کے ذریعہ سے بندوں پر اللہ کی امانتیں ہیں اسی طرح ترازو کے ذریعہ سے پورا تولنا بھی اللہ کی ایک امانت ہے اس قول سے قرآن کے ساتھ ترازو کے ذکر کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ جس طرح ترازو سے ہر چیز کی تول معلوم ہوجاتی ہے اسی طرح قرآن سے حق بات معلوم ہوجاتی ہے اس پر بھی قرآن کی آیتوں میں جو لوگ جھگڑا نکالتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں۔ جب اللہ کے رسول اپنی نصیحت میں قیامت کا ذکر کرتے تھے تو مشرکین مکہ اس میں زیادہ جھگڑتے اور یہ کہتے تھے کہ آخر قیامت کب آئے گی اسی کے جواب میں فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے اس لئے یہ لوگ مسخرا پن کے طور پر گھڑی گھڑی قیامت کے آنے کا حال پوچھتے ہیں جن لوگوں کے دل میں قیامت کے آنے کا یقین ہے وہ تو قیامت کے آنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم نہیں کہ ان کا خاتمہ کیسا اور اس خاتمہ کے موافق ان کا انجام قیامت کے دن کیا ہوگا۔ پھر فرمایا قیامت کے آنے کا وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اس واسطے اے رسول اللہ کے تم کو کیا خبر ہے کہ شاید قیامت کا آنا قریب ہو یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں جو قیامت کے منکر اور مسخرا پن کے طور پر اس کے آنے کا وقت گھڑی گھڑی تم سے پوچھتے ہیں کیونکہ اصلی قیامت کے آنے اور تمام دنیا کے اجڑ جانے کا ان لوگوں کو کیا انتظار ہے ان میں سے جو کوئی مرے گا اس کی قیامت تو مرتے ہی اس کے سامنے آجائے گی اور جب ان کے بڑے مرگئے تو یہ لوگ بھی ایک دن ضروری مریں گے۔ مسند امام 1 ؎ احمد اور ابو دائود کے حوالہ سے حضرت عائشہ اور براء بن العازب کی صحیح حدیثیں ایک جگہ گزر چکی ہیں کہ منکر نکیر کے سوال اور مردہ کے جواب کے بعد نیک لوگوں کو جنت کا اور بد لوگوں کو دوزخ کا ٹھکانا دکھا کر فرشتے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں رہنے کے لئے قیامت کے دن تم لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا نیک لوگ اپنے جنت کے ٹھکانے کو دیکھ کر ایسے خوش ہوتے ہیں کہ قیامت کے جلدی قائم ہونے کی ہر وقت دعا مانگتے رہتے ہیں اور بد لوگ اپنے دوزخ کے ٹھکانے کو دیکھ کر ایسے خوف زدہ ہوجاتے ہیں کہ وہ قیامت کے جلدی نہ قائم ہونے کی ہر وقت التجا کرتے ہیں۔ آیتوں میں یہ جو ذکر تھا کہ یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں جو مسخرا پن سے اصلی قیامت کے آنے کا وقت گھڑی گھڑی پوچھتے ہیں اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ان لوگوں کو اپنی گمراہی کے سبب سے اصلی قیامت کی کیا جلدی ہے ان کی قیامت تو ان کے مرتے ہی اس طرح ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی کہ پھر اصلی قیامت کے جلدی قائم نہ ہونے کی ان کو التجا کرنی پڑے گی۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون بردبار ہوسکتا ہے لوگ شرک کرتے ہیں اور وہ ان کے رزق ان کی صحت کے انتظام میں خلل نہیں ڈالتا۔ آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے کہ اس نے فرمانبردار نافرمان سب کے رزق کا انتظام برقرار رکھا ہے ورنہ وہ ایسا زور آور زبردست ہے کہ پچھلی امتوں کی طرح حال کے نافرمان لوگوں کو ایک دم میں ہلاک کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ اب آگے فرمایا یہ اللہ کے احکام کو جھٹلاتے ہیں عقبیٰ کی جزا و سزا کو مسخرا پن میں اڑا دیتے ہیں اس لئے اپنے خیال میں یہ لوگ جو نیک کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ سب اکارت ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں تو اس نیک کام کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک اور اس سے بھی زیادہ مقرر ہے جو نیک کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف شیطان نے ان لوگوں کے لئے جو ایک راہ ڈال دی جس کو یہ لوگ اپنا دین سمجھتے ہیں اور اسی غلط راہ کے کاموں کو یہ لوگ نیک کام جانتے ہیں۔ ایسے کاموں کا بارگاہ الٰہی سے کچھ اجر ملنا تو درکنار وہ کام تو اس قابل ہیں کہ اگر بارگاہ الٰہی میں عذاب کا وقت مقرر نہ ہوتا تو اب تک کسی قسم کا عذاب آ کر یہ لوگ ہلاک ہوگئے ہوتے لیکن مصلحت الٰہی کے موافق بعض ایسے لوگوں کو دنیا میں کوئی عذاب نہ بھی آتا تو عقبیٰ میں ایسے لوگوں کے لئے جو سخت عذاب اور فرمانبردار لوگوں کے لئے جو جنت کی نعمتیں ہیں وہ دیکھنے کے قابل ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم اور ترمذی 1 ؎ کے حوالہ سے انس بن مالک اور ابوذر کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں جن میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوزخ کے عذاب کا پورا حال جو مجھ کو معلوم ہے اگر اس کو میں بیان کر دوں تو لوگ گھر بار چھوڑ کر جنگل کو نکل جائیں اور سوا رونے کے اور کچھ کام نہ کریں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کی حدیث قدسی بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیک بندوں کے لئے جو جو نعمتیں جنت میں پیدا کی گئی ہیں نہ وہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ ان حدیثوں سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ دوزخ کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کی پوری تفسیر انسان کی طاقت سے باہر ہے۔
(2 ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2 و صحیح بخاری باب الصبر والاذی ص 901 ج 2۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی باب قول النبی ﷺ لو تعلمون ما اعلم الخ ص 66 ج 2 و الرقاق باب لو تعلمون ما اعلم الخ ص 96 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری ماجاء صفۃ الجنۃ الخ ص 460 ج 1۔ )
Ayah 42:2323۔ فارسی اور اردو فائدہ میں جو شان نزول اس آیت کی اور ترجموں میں جو معنی آیت کے بیان کئے گئے ہیں یہ شان نزول اور معنی اس روایت کے موافق ہیں جو صیحہ بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے ہیں اور یہی شان نزول اور معنی نہایت صحیح ہیں کیونکہ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں دوسری روایت حضرت عبد 1 ؎ اللہ بن عباس کی سعید بن جبیر کے حوالہ سے جو ذکر کی ہے اور اس روایت کے موافق معنی آیت کے یہ ٹھہرے ہیں کہ اس آیت میں قریش کو آنحضرت ﷺ سے قرابت داری کی دوستی قائم رکھنے اور ایذا نہ پہنچانے کا حکم نہیں ہے بلکہ یہ آیت اہل بیت کی شان میں ہے اور عام مسلمانوں کو اس آیت میں اہل بیت سے محبت رکھنے کا حکم ہے اس دوسری روایت کو خود حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس نے غلط ٹھہرایا ہے چناچہ صحیح بخاری 2 ؎ میں اس کا قصہ موجود ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک مجلس میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور سعید ؓ بن جبیر دونوں موجود تھے اس وقت ایک شخص نے اس آیت کے معنی پوچھے سعید ؓ بن جبیر نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے بولنے سے پہلے وہی شان نزول اور معنی بیان کئے جس کو ابن جریر اور ابن ابی حاتم وغیرہ نے سعید ؓ بن جبیر کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کا قول بیان کیا ہے اس پر حضرت عبد اللہ بن عباس نے خفگی کے طور پر سعید ؓ بن جبیر سے کہا کہ تم قرآن شریف کی تفسیر بہت جلدی کرتے ہو پھر وہی معنی اس شخص کو بتائے جو صحیح بخاری کے حوالہ سے اوپر ذکر کئے گئے۔ امام بخاری کے اس قصہ کے بیان کرنے سے معلوم ہوا کہ اس دوسری روایت کو حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کا قول قرار دینا بالکل غلط ہے کیونکہ خود عبد اللہ بن عباس اس قول کو غلط ٹھہرا چکے ہیں۔ علاوہ اس کے اس دوسری روایت کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع کو نسائی دار قطنی وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے بلکہ نسائی نے قیس بن ربیع کو ناقابل روایت قرار دیا ہے آیت قل ما اسئلکم علیہ من اجر سے بعض مفسروں نے الا المودۃ فی القربی کو منسوخ جو قرار دیا وہ قول بھی ضعیف ہے ضحیح قول یہی ہے کہ قرابت داری کی محبت نہ اجر میں داخل ہے نہ آیت کا یہ ٹکڑا کسی دوسری آیت سے منسوخ ہے محبت الہ بیت کی صحیح روایتیں آیت انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھلالبیت کی تفسر میں بیان ہوچکی ہیں۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر تم لوگ مجھ کو اللہ کا رسول نہیں جانتے تو رشتہ داری کا خیال سے ہی میرے ساتھ بدی نہ کرو قرآن کے موافق نصیحت کرنے پر میں تم سے مزدوری تو نہیں مانگتا جس کے بوجھ سے گھبرا کر تم رشتہ داری کے حق کو بھی بھول گئے۔ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہر نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک اور زیادہ نیک نیتی کے کام کا بدلہ اس سے بھی بڑھ کر دفتر الٰہی میں لکھا جاتا ہے۔ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمر کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن جب بعض گناہ گار اللہ تعالیٰ کے رو برو اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس طرح دنیا میں ان گناہوں کو میں نے لوگوں پر ظاہر کرکے تم کو رسوا نہیں کیا اسی طرح آج بھی میں تمہارے گناہوں کو معاف کرتا ہوں۔ آخر آیت میں بندوں کی محبت کا حق مان کر ان کی نیکیوں کا اجر بڑھانے اور ان کے گناہوں کی معافی کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں اس آیت میں یہ جتلایا گیا ہے کہ قریش میں کچھ لوگ تو وہ ہیں کہ حق قرابت کا یاس نہیں کرتے اور اللہ کے رسول کے ساتھ برائی سے پیش آتے ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ بےمزوری کے اللہ کے رسول کی نصیحت کو اللہ کا احسان گنتے ہیں اور اس نیحتپ کے موافق نیک کام کرکے اپنے عقبیٰ کے اجر کو بڑھانے اور گناہوں کو معاف ہوجانے کا سامان کرتے ہیں۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 112 ج 4۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة حم عسق ص 713 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب تجاوز اللہ تعالیٰ عن حدیث النفس الخ ص 78 ج 1۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری کتاب التوحید ص 1119 ج 2۔ )
Ayahs 42:24–2924۔ 29۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں خود بنا لیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو سورة بقر میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے ایسی باتیں نہیں بتاسکتا اس سے ہر ایک سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اسی بات کا یہاں یہ جواب دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو جھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور قرآن کی باتوں کو پھیلاتا ہے اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ اگر یہ اللہ کا کلام نہ ہوتا تو مخالفوں کی جو ٹی باتوں کو اللہ تعالیٰ نہ مٹاتا بلکہ محمد ﷺ کے دل پر مہر لگا کر ان کے دل کو اس طرح بند کردیتا کہ جو باتیں اب وہ قرآن کے نام سے لوگوں کو سناتے ہیں ان میں سے ایک بات بھی ان کے دل میں پیدا ہو کر ان کی زبان پر نہ آتی کس لئے کہ جو باتیں انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہیں زبان پر آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں پھر فرمایا کہ اگر اب بھی یہ لوگ اپنی باتوں سے توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرکے ان کے پچھلے گناہوں کو معاف کردیتا ہے پھر فرمایا کہ اس کو اپنے بندوں کے سب کام معلوم ہیں توبہ کی صورت میں اپنے علم کے موافق اسے پچھلے سب گناہوں کو معاف کردینا کچھ مشکل نہیں ہے اور توبہ کے بعد جو لوگ فرمانبردار بن کر نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں ان کی ہر ایک التجا وہ سنتا ہے اور ان کی التجا سے بڑھ کر اپنے فضل سے ان کو دیتا ہے ہاں جو لوگ دین کی باتوں کے منکر ہیں اگر وہ بغیر توبہ کے مرجائیں گے ان کو عقبیٰ میں سخت عذاب بھگتنا پڑے گا اور ویرزق مزیشاء جو فرمایا تھا اس کی تفسیر کے طور پر آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کا انجام خوب معلوم ہے اس لئے وہ ہر ایک کی مصلحت کو دیکھ کر رزق کا انتظام فرمایا ہے امیر غریب سب یکساں ہوجائیں تو کوئی کسی کی نہ سنے اور دنیا کے انتظام میں فتور پڑجائے اب جس طرح دنیا کا کام چل رہا ہے کہ امیر لوگوں کو غریبوں کے کام کاج سے مدد ملتی ہے اور غریبوں کو امیروں کے روپیہ پیسے سے امیروں اور غریبوں کے یکساں ہوجانے میں یہ انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔ سورة الزخرف میں اس مطلب کو ذرا تفصیل سے بیان فرمایا ہے وہی تفصیل آیت ولوبسط اللہ الرزق کی گویا تفسیر ہے اب آگے مینہ کے برسنے کا آسمان و زمین اور آسمان و زمین کی مخلوقات کے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر منکرین حشر کو یوں قائم کیا کہ جس صاحب قدرت نے پہلی دفعہ یہ سب کچھ پیدا کیا دوبارہ پیدا کرنا بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے کیونکہ ہر شخص کا عقلی تجربہ ہے کہ جو کام ایک دفعہ کیا جا چکا وہ دوسری دفعہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دنیا میں لوگ جو کام کرتے ہیں وہی کام ان کو اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کو جھٹلانے اور حشر کے انکار کی سزا میں جو لوگ مشرکین مکہ میں اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی ٹھہر چکے تھے ان کو اگرچہ ان آیتوں کی نصیحت کی طرح بہت سی آیتوں میں نصیحت کی گئی لیکن ان کے حق میں وہ نصیحت ایسی رائیگاں گئی جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اور آخر وہ لوگ جس حالت پر تھے مرتے دم تک اسی حالت پر رہے اور مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخی قرار پائے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب کان امر اللہ قدرا مقدورا ص 977 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب فضل من علم و علم ص 18 ج 1۔ )
Ayah 42:3030۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ یہ آیت خاص کافروں کی شان میں ہے اور معنی آیت کے ان مفسروں نے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ کافروں کے کفر اور مشرکوں کے شرک سے فوراً جو عذاب الٰہی نہیں آتا بلکہ ایک وقت مقررہ پر ان کی شامت اعمال سے کوئی مصیبت آتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں کے بہت سے برے کاموں کو درگزر فرما کر معاف فرما دیتا ہے لیکن یہ قول مرفوع تفسیر کے مخالف ہے کیونکہ مسند امام 3 ؎ احمد مستدرک حاکم مسند اسحاق بن راہویہ مسند ابو یعلی موصلی وغیرہ میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا مسلمانوں کے لئے قرآن شریف میں یہ آیت بڑی فضیلت کی آیت ہے کیونکہ میں نے آنحضرت ﷺ سے اس آیت کی تفسیر یوں سنی ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں جو کچھ دکھ درد پہنچتا ہے وہ دنیا میں ہی ان کے گناہوں کا بدلہ ہوجاتا ہے اور بہت سے گناہ اللہ تعالیٰ یونہی بغیر بدلہ کے معاف فرما دیتا ہے اگرچہ حضرت علی ؓ کی روایت کی سند میں ایک راوی ازہر ؓ بن راشد ضعیف ہے۔ لیکن صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں ابو سعید ؓ خدری اور ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں کہ ایماندار شخص کو ایک کانٹا چبھنے کی تکلیف ہو تو وہ بھی گناہوں کا کفارہ ہے ان روایتوں سے حضرت علی ؓ کی روایت کو تقویت ہوجاتی ہے غرض صحیح تفسیر آیت کی یہ ہے کہ آیت خاص کافروں کے حق میں نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے حق میں بھی یہ بڑی فضیلت کی آیت ہے مسند 2 ؎ امام احمد میں حضرت عائشہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آدمی کے جب گناہ بہت ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان گناہوں کے کفارہ کے طور پر اس شخص کو کسی رنج میں مبتلا کردیتا ہے اس حدیث کی سند کے ایک راوی لیث بن ابی سلیم کو اگرچہ بعض علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن معین نے معتبر قرار دیا ہے صحیح بخاری 3 ؎ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود کی حدیث مشہور ہے جس کا حاصل یہ ہے آنحضرت ﷺ کو ایک دفعہ بخار تھا حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود نے عرض کیا کہ حضرت آپ کو بڑا سخت بخار آیا کرتا ہے آپ نے فرمایا کہ مجھ کو دو آدمیوں کے بخار کے برابر ہمیشہ بخار آتا کرتا ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود نے کہا کہ آپ کو یہ شدت بخار کی اس لئے ہوا کرتی ہے کہ اجر زیادہ ملے آپ نے فرمایا کہ ہاں ہر مسلمان کو جب کوئی مرض یا کوئی رنج یا غم دنیا میں ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح خزاں کے موسم میں درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ صحیح 4 ؎ مسلم میں حضرت جابر ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بخار کو برا نہیں کہنا چاہئے انسان کے گناہ جھڑتے ہیں۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کو جانی مالی جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کے بعض گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے کیونکہ بنی آدم کے بہت سے گناہ بغیر کسی مواخذہ کے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔ سورة الفاطر میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ بنی آدم کے ہر ایک گناہ پر مواخذہ کرے تو ساری دنیا ویران ہوجائے۔ سورة الفاطر کی آیت ولویو اخذ اللہ الناس بما کسبوا کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے اگر گناہوں کے معاف ہوجانے اور بعض گناہوں پر مواخذہ کے طور پر مصیبت کے آنے کی حکمت اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے اور یہ بات بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس آخری زمانہ میں گناہوں کی کثرت ہے اس لئے طاعون وبا اور قحط کی بلا اکثر آتی ہے اگر لوگ پچھلے گناہوں سے توبہ کر کے آئندہ گناہوں سے باز آئیں گے تو ان بلاؤں سے امن میں رہنے کی پوری امید ہے۔
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 116 ج 4)
(1 ؎ صحیح بخاری کتاب المرضی ص 843 ج 2۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 116 ج 4۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب شدۃ المرض ص 843 ج 2۔ )
(4 ؎ صحیح مسلم باب ثواب المومن فیما یصیبہ من مرض الخ ص 319 ج 2۔ )
Ayahs 42:31–3531۔ 35۔ اوپر مصیبت کا ذکر تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی بھیجی ہوئی مصیبت کو کوئی ٹال نہیں سکتا زمین بھر میں کوئی بھاگ بھاگا پھرے جب بھی اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت سے باہر نہیں جاسکتا اور اللہ تعالیٰ کے دائرہ حکومت میں سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی کسی کا یار مددگار بن کر بھی اس مصیبت کو نہیں ٹال نہیں سکتا اب آگے منکرین قدرت کے قائل کرنے کے لئے فرمایا یہ پہاڑ کے پہاڑ کشتیاں پانی کو پھاڑ کر جو دریا میں پھرتی ہیں اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے جس سے پانی کی پیٹھ پر وہ کشتیاں ٹھہر جائیں یا کوئی مخالف ہوا چلا کر ان کو بالکل ڈبو دے لیکن اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے جس سے لوگوں کی اکثر بلائیں ایک وقت مقررہ تک ٹل جاتی ہیں مگر قرآن کی آیتوں میں جھوٹے جھگڑے نکالنے والے لوگ یہ خوب یاد رکھیں کہ جب ان کی سزا کا وقت مقررہ آجائے گا تو پھر ایسے لوگ بھاگ کر جانے کو کہیں جگہ نہ پائیں گے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت ان میں سے جن کی سزا کا وقت مقرر آگیا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت سے ان کی سزا کا حال کئی جگہ بیان کیا جا چکا ہے کہ دنیا میں بڑی ذلت سے یہ لوگ مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچایا پا لیا۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن ؓ شعبہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول ﷺ یہاں تک کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم ہوجاتا تھا بعض صحابہ نے آپ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے ہیں پھر آپ عبادت میں اس قدر تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں آپ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسانات جو کئے ہیں ان کی شکر گزاری میں کوتاہی کیونکر ہوسکتی ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کی شکرگزاری یہی ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کثرت سے کرے۔ عبادت میں تکلیفیں بھی پش آتی ہیں مثلاً جیسے جاڑے میں وضو کی تکلیف گرمی کے روزوں میں پیاس کی تکلیف اس واسطے عبادت کرنے والے شخص کو صاحب صبر بھی ہونا چاہئے تاکہ وہ ان تکلیفوں سے گھبرائے نہیں۔ اسی مطلب کے ادا کرنے کے لئے ان فی ذالک لایات لکل صبار شکور فرمایا جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ کشتیوں کے دریا میں چلنے سے اور اس طرح کی اور باتوں سے خالص اللہ کی عبادت کرنے والے لوگوں کو اللہ کی قدرت کی قدر ہوتی ہے جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں وہ سرے سے اللہ ہی کو نہیں پہنچاتے پھر ایسے لوگوں کو اس کی قدرت کی کیا قدر ہوسکتی ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 566 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب قیام النبی ﷺ الیل حتی ترم قد ماہ الخ ص 152 ج 1۔ )