Ayahs 42:36–4336۔ 43۔ دنیا کی کسی چیز کو قیام نہیں جتنی دنیا کی راحت کی چیزیں ہیں ان کے پیچھے ایک مصیبت لگی ہوئی ہے زندگی کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے صحت کے پیچھے بیماری فراغت کے پیچھے تنگ دستی خوشی کے پیچھے رنج جوانی کے پیچھے بڑھاپا لگا ہوا ہے عقبیٰ کی جتنی راحت کی چیزیں ہیں ان کو ہمیشگی اور قیام ہے وہاں کی جوانی کو بڑھاپا نہیں صحت کو بیماری نہیں خوشی کو رنج نہیں دنیا کی ناپائیدار چیزوں میں اس طرح انسان کو گرفتار نہیں ہونا چاہئے جس سے عقبیٰ کی ہمیشہ کی راحت میں خلل پڑجائے اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے اور عقبیٰ میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ہمیشہ کے لئے راحت کی چیزیں ہیں یہ قرآن کی آیتوں میں جھگڑے نکالنے والوں کو سمجھایا گیا ہے کہ چند روزہ زندگی اور مالداری کے غرور میں ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے۔ صحیح بخاری 1 ؎ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر کی حدیث مشہور ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ بن عمر کے دونوں بازو پکڑ کے بہت بڑی نصیحت کی ہے اس نصیحت کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ زندگی کے زمانہ میں ایسا کام کرنا چاہئے جو موت کے بعد کام آئے اور بیماری کے زمانہ میں آدمی کی طاقت گھٹ جاتی ہے اور نیک کام کرنے کا موقع اس کو کم ملتا ہے اس واسطے صحت کے زمامنہ کو غنیمت جان کر آدمی کو چاہئے کہ جو نیک کام کرنا ہو وہ صحت کے زمانہ میں کرلیں اور موت کے بعد آدمی کا نیک عمل بند ہوجاتا ہے اس لئے زندگی کے زمانہ کے اکثر حصہ زندگی کو نیک کاموں میں صرف کرنا چاہئے۔ مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو ایک روایت ہے وہ بھی آنحضرت ﷺ نے اسی طرح نصیحت کی ہے غرض یہ آیت اور دنیا کی مذمت کی جو آیتیں قرآن شریف میں اور ہیں ان حدیثوں کو اور اسی قسم کی اور حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر سمجھنا چاہئے جس تفسیر کا حاصل مطلب یہی ہے کہ دنیا کی جس چیز یا جس شغل سے دین میں خلل پڑے وہ قابل مذمت ہے کیونکہ ناپائیدار چیز کی حرص میں پائیدار چیز کو ہاتھ سے دینا قابل مذمت بات ہے وہاں دنیا کی جس چیز یا مشغلہ سے دین کا نفع آدمی کو حاصل ہو تو یہ ایک بڑے نفع کی تجارت ہے کس لئے کہ ناپائیدار چیز کے عوض میں پائیدار چیز کا حاصل ہونا سراپا نفع کی بات ہے۔ اب آگے فرمایا کہ یہ عقبیٰ کا ہمیشہ کا عیش ان لوگوں کے لئے ہے جو ایماندار ہیں اور اپنے ہر کام کا بھروسہ اللہ پر رکھتے ہیں اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں احکام الٰہی کو مانتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ دیتے رہتے ہیں اور غصہ کے وقت یا تو درگزر کرتے ہیں یا اگر بدلہ لیتے ہیں تو بدلہ کی حد سے نہیں گزرتے علما کا مشہور قول کبیرہ کے باب 1 ؎ میں یہ ہے کہ جس گناہ پر شریعت میں عذاب کا (1 ؎ مرعاۃ المفاتیح جلد اول باب الکبائر ص 73۔ ) وعدہ آیا ہے یا لعنت آئی ہے یا قرآن یا حدیث میں جتلایا ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے وہ کبیرہ گناہ ہے اور یہی کبیرہ گناہ اکبر الکبائر ہوجاتا ہے جب کہ شریعت کا عذاب کا وعدہ اور سخت ہوجائے مثلاً مطلق زنا کبیرہ گناہ ہے اور پڑوس کی عورت کے ساتھ اکبر الکبائر ہے کہ اس پر عذاب کا وعدہ سخت ہے اور اسی اکبر الکبائر کبیرہ گناہ کو فاحشہ بھی کہتے ہیں اگرچہ ایک قول یہ بھی ہے کہ جس گناہ پر حد شرعی ہے وہ کبیرہ گناہ ہے لیکن اس قول پر علما نے یہ اعتراض کیا ہے کہ جھوٹی قسم کھانے پر اور جھوٹی گواہی دینے پر حد شرعی نہیں ہے حالانکہ صحیح حدیثوں میں ایٓا ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہیں کبھی صغیرہ گناہ کبیرہ ہوجاتے ہیں جس طرح نصاب سے کم مال کی چوری صغیرہ گناہ ہے اگر یہی چوری ایسے شخص کے گھر میں کی جائے کہ جس کے پاس سوا اس کے مال کے اور مال نہ ہو تو یہ چوری کبیرہ گناہ ہے کیونکہ اس چوری سے مال والے کا دب بہت دکھے گا معتبر سند سے شعب الایمان 2 ؎ بیہقی میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو ہر کام میں مشورہ لے کر کام کرنے کی ترغیب دلائی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ مشورہ لے کر کام کرنے سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے آیتوں میں مشورہ لے کر کام کرنے والوں کی جو تعریف ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپس کا مشورہ اللہ کی رحمت کا سبب ہے اب یہ ظاہر بات ہے کہ جس کام میں اللہ کی رحمت شامل حال ہوگی اس کا انجام ضرور اچھا ہوگا۔ صحیح 3 ؎ مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص بدلہ لینے کی جگہ معافی سے کام لے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی عزت بڑھا دے گا۔ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا غصہ کے وقت اپنے دل کو قابو میں رکھنا بڑی جوانمردی کا کام ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بدلا لینے کے وقت دل کو قابو میں رکھ کر جو شخص معافی سے کام لے گا تو وہ بڑا صاحب ہمت ہے اور نتیجہ اس عالی ہمتی کا یہ ہے کہ اس ظاہری ہتک کے معاوضہ میں اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی عزت کو لوگوں کی نظروں میں بڑھا دے گا۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب قول النبی ﷺ کن فی الدنیا کانک غریب ص 949 ج 2۔ )
(2 ؎ الترغیب والترہیب ص 464 ج 4۔ )
(2 ؎ فتح القدیر ص 362 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب استحباب العفور التواضح ص 321 ج 2)
(4 ؎ صحیح بخاری باب الحذر من الخضب ص 903 ج 2۔ )
Ayahs 42:44–5044۔ 50۔ اوپر اچھے لوگوں کی عادتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا یہ اچھی عادتوں کے وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پا چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں وہ اپنے ارادہ سے تو اچھی عادتوں کو اختیار نہیں کرتے اور مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا اللہ کو منظور نہیں ہے اس واسطے مرتے دم تک ایسے لوگ اپنی بد عاتوں پر رہیں گے اور قیامت کے دن ان لوگوں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ میدان حشر میں جب جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ جہنم کی ستر ہزار نکیلیں اونٹ کی سی ہوں گی اور ہر ہر نکیل پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے اور ان نکیلوں کو کھینچ رہے ہوں گے جس کی صراحت صحیح 1 ؎ مسلم میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود کی روایت سے آئی ہے غرض جہنم کو اس حالت میں دیکھ کر وہ لوگ بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی پروانگی مل جائے تاکہ وہ دوبارہ دنیا میں جا کر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور جس طرح یہ اللہ اور اللہ کے رسول کے نافرمان لوگ جہنم کو دیکھ کر دنیا میں دوبارہ آنے کی تمنا اور آرزو کریں گے اسی طرح موت کے وقت عذاب کے فرشتوں کو خوفناک حالت میں دیکھ کر بھی یہی آرزو کریں گے جس کا ذکر قد افلح المومنون میں گزرا کہ حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمال صالحا جس مطلب یہ ہے کہ موت کے وقت ایسے لوگوں کو جب عذاب کے فرشتے نظرآئیں گے تو وہ دنیا میں رہ جانے اور نیک عمل کرنے کی تمنا ظاہر کریں گے بعض مفسروں نے اس آیت کی تفسیر میں موت کے وقت کی تمنا کا جو ذکر کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے صحیح تفسیر یہی ہے کہ موت کے وقت کی تمنا قد افلح المومنون کی آیت سے متعلق ہے اور حشر کے وقت کی تمنا اس آیت سے متعلق ہے یہ تو ان نافرمان لوگوں کی دو دفعہ کی تمنا دنیا میں دوبارہ آنے اور نیک عمل کرنے کی ہوئی جب یہ بد لوگ اپنے بدعملوں کی سزا بھگتنے کے لئے دوزخ میں جا پڑیں گے اور عذاب دوزخ کی تکلیف برداشت نہ کرسکتے گے تو تیسری دفعہ پھر بھی خواہش اور تمنا کریں گے جس کا ذکر سورة فاطر میں گزرا کہ ہھم یطخون فیھا ربنا اخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنانعمل۔ اور میدان حشر میں نیک لوگ جب ان نافرمان لوگوں کا حال دیکھیں گے کہ یہ نافرمان لوگ دوزخ کو کن انکھیوں سے دیکھ کر پھر دوبارہ دنیا میں جانے اور نیک عمل کرنے کی آرزو کر رہے ہیں تو اس وقت نیک لوگ ان نافرمان لوگوں کو قائل کرنے کے طور پر کہیں گے کہ جو وقت نیک عمل کرنے کا تھا وہ تم نافرمان لوگوں نے ہاتھ سے کھو دیا اور سرکشی کے سبب سے دنیا میں ایسی تجارت کی جس کے سبب سے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو ٹوٹے میں ڈالا یہاں گھر والوں میں مشرکوں کی نابالغ اولاد داخل نہیں ہے کیونکہ امام نووی 1 ؎ نے بڑی تحقیق کے بعد قرآن اور حدیث سے یہی بات صحیح ثابت کی ہے کہ مشرکوں کی نابالغ اولاد جنت میں جائے گی اور جن حدیثوں میں اولاد مشرکین کا دوزخ میں جانے کا ذکر ہے ان روایتوں کو ضعیف قرار دیا ہے یہ جو ایک بات مشہور ہے کہ مشرکوں کی نابالغ اولاد اہل جنت کی خادم اور خدمت گار بنائی جائے گی۔ یہ روایت مسند بزار اور مسند ابو یعلی موصلی اور طبرانی 2 ؎ وغیرہ میں ہے لیکن کوئی روایت ضعف سے خالی نہیں ہے اب نافرمان لوگوں کا عقبیٰ کا بےکسی کا حال ذکر فرما کر پھر فرمایا ہے کہ گمراہی کے سبب سے ان نافرمان لوگوں نے دنیا میں بتوں یا پیروں کو یا قبروں کو غرض جس کسی کو سوا اللہ کے اپنا حمایتی قرار دے رکھا ہے وہ کوئی ان کی بےکسی کے وقت کام نہ آئے گا اور عذاب الٰہی سے کوئی ان کو بچا نہ سکے گا پھر نصیحت کے طور پر فرمایا کہ اس بےکسی کے وقت کے آنے سے پہلے یہ نافرمان لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری قبول کرلیں تو ابھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا ہے جب وقت ہاتھ سے جاتا رہے گا تو پھر پچھتانا کچھ کام نہ آئے گا پھر فرمایا کہ اے رسول اللہ کے اس نصیحت کے بعد بھی اگر یہ نافرمان لوگ نہ مانیں تو تمہارا کام فقط اتنا ہی ہے کہ تم ان کو اللہ کی نصیحت پہنچا دو پھر اگر یہ نہ مانیں گے تو اللہ ان سے سمجھ لے گا۔ بعض مفسروں نے اس آیت کو جہاد کے حکم سے منسوخ قراردیا ہے لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جہاد کے حکم سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہے پھر فرمایا کہ ان نافرمان لوگوں کے اللہ کی نصیحت نہ ماننے کا بڑا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں کسی قدر فراغت دے رکھی ہے اور یہ انسان کی جبلی عادت ہے کہ فراغت کے وقت بجائے اللہ کے شکر کے اترانے لگتا ہے اور تکلیف کے وقت اللہ کی تمام نعمتوں کو بھول کر بجائے خدا سے ڈرنے کے خدا کی ناشکری کرنے لگتا ہے پھر فرمایا کہ زمین اور آسمان سب ملک اللہ کا ہے کسی کی ناشکری اور نافرمانی سے اللہ کے ملک میں کوئی فتور نہیں پڑتا جس طرح دنیا کے بادشاہوں کا حال ہے کہ رعیت اور ملازموں کے نافرمان ہوجانے سے ان کی بادشاہت میں فتور پڑجاتا ہے خدا کی بادشاہت ایسی نہیں ہے خدا ایسا زبردست بادشاہ ہے کہ اس کو کسی نافرمانی اور ناشکری اور مخالفت کی کچھ پورا نہیں ہے جس طرح اس کی حکومت غریب لوگوں پر ہے ویسی ہی بادشاہوں پر ہے بڑے بڑے بادشاہوں میں سے جس کو چاہے بےاولاد رکھے جس کو چاہے بجائے لڑکے کے لڑکی دے کسی کا اس پر کچھ روز اور بس نہیں چل سکتا۔ صحیح بخاری و مسلم 3 ؎ کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھا لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل پیدا ہوئے ہیں ان کو نافرمانی کے کام اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ان کاموں کے چھوڑنے کے لئے کسی کی کوئی نصیحت ان لوگوں کے دل میں کچھ اثر پیدا نہیں کرتی۔ ابن ماجہ 1 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے ایک مقام جنت میں اور ایک دوزخ میں پیدا کیا ہے جو لوگ قیامت کے دن ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پائیں گے ان کے جنت میں کے خالی مکانات اہل جنت کو مل جائیں گے۔ صحیح 2 ؎ مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو لوگ اپنی مالداری کے غرور میں مرتے دم تک نافرمانی میں گرفتار رہے قیامت کے دن جب ان کو دوزخ میں جھونکا جائے گا تو پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ جس مالداری کے غرور نے تم کو اس عذاب میں پھنسایا وہ مالداری تم کو کچھ یاد ہے وہ لوگ قسم کھا کر کہیں گے کہ اس عذاب کے آگے دنیا کی وہ مالداری ہم کو کچھ یاد نہیں ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیتوں میں جن لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ لوگ دوزخ کا عذاب دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی پروانگی مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جا کر نیک کام کریں اور دوزخ کے عذاب سے نجات پائیں یہ وہی لوگ ہیں جو حضرت علی ؓ کی حدیث کے موافق اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی قرار پا چکے تھے ایسے لوگوں کے ٹوٹے کا ذکر جو آیتوں میں ہے یہ وہی ٹوٹا ہے جس کا ذکر ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ ان لوگوں کے جنت کے مقامات دوسروں کے قبضہ میں چلے جائیں گے راحت کے وقت ایسے لوگوں کی ناشکری کا ذکر جو آیتوں میں ہے۔ انس بن مالک کی حدیث سے اس راحت کا انجام اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ دوزخ کے عذاب کے آگے وہ راحت ان لوگوں کو بالکل یاد بھی نہ رہے گی۔ ومالھم من نکیر کی تفسیر میں نکیر کے معنی مجاہد نے مددگار 3 ؎ اور حمایتی کے لئے ہیں اس تفسیر میں ایک جگہ ذکر کردیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے شاگردوں میں مجاہد کے قول کا بڑا اعتبار ہے اسی واسطے فارسی کے ترجمہ میں یہی قول لیا گیا ہے۔ اردو کے لفظی ترجمہ میں ابن جریر کا اور مرادی ترجمہ میں سدی کا قول اختیار کیا گیا ہے۔ الوپ ہوجانا اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کی آفتوں سے کوئی چھپ کر نہیں بچ سکتا الوپ انجن اس سرمہ کو کہتے ہیں جس کے لگانے سے آدمی لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجاتا ہے۔ اس مرادی ترجمہ کا مطلب یہ ہے کہ محشر کی زمین میں کسی پہاڑ یا مکان کی آڑ نہ ہوگی کہ الوپ انجن لگانے والے شخص کی طرح کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے غائب ہوجائے مرادی ترجمہ کا یہ مطلب صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی سہل ؓ بن سعد کی حدیث کے موافق ہے کیونکہ اس حدیث کا مطلب بھی یہ ہے کہ محشر کی زمین میں کسی پہاڑ یا مکان کی آڑ نہ ہوگی۔
(1 ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا۔ ص 381 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نووی کتاب القدر ص 337 ج 2۔ )
(2 ؎ طبرانی اوسط ص 113 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔ صد 977 ج 2۔ )
(1 ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجنۃ ص 332 )
(2 ؎ صحح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2۔ )
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 12 ج 6۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار۔ ص 371 ج 2 و صحیح بخاری باب یقبض اللہ الارض ص 965 ج 2۔
Ayahs 42:51–5351۔ 53۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہود آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لئے اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ہم کلام ہوتے اگرچہ یہ آیت مکی ہے لیکن مدینہ میں ہجرت سے پہلے جب آنحضرت کی نبوت کا شہرہ ہوا اس وقت یہود حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے ان کے اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے جس طرح سورة نسا کی مدنی آیت میں دیا ہے کہ انا اوحینا الیک کما او حینا الی نوح والنبیین من بعدہ الایۃ اسی طرح اس مکی آیت میں جواب دیا ہے حاصل جواب کا یہ ہے کہ بلا پردہ کی آڑ کے تو نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور نہ کسی بشر کی طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا کی آنکھوں سے دیکھ سکے ہاں پچھلے تمام انبیاء میں جو وحی کا طریقہ تھا کہ خواب میں کوئی بات معلوم ہوجاتی تھی یا غیب سے ایک بات جاگتے میں دل میں پڑجاتی تھی یا آڑ میں سے اللہ تعالیٰ سے باتیں ہوجاتی تھیں یا فرشتہ آ کر اللہ کا حکم پہنچا جاتا تھا یہ سب طریقے وحی کے ان نبی میں بھی موجود ہیں شب معراج میں ان نبی سے اور اللہ سے باتیں بھی ہوئیں سچے خواب بھی ان کو ہوتے ہیں غیب سب باتیں بھی ان کے دل میں پڑتی ہیں ہر روز اللہ کے فرشتہ بھی ان کے پاس اللہ کے حکم لے کر آتا ہے پھر ان کی نبوت سے انکار کیونکر ہوسکتا ہے پھر آگے اسی جواب کی تائید میں فرمایا کہ ان پڑھ نبی کو پچھلے انبیا کی طرح سب احکام شریعت کا معلوم ہوجانا یہ تائید غیبی اور اللہ کی وحی نہیں تو پھر کیا ہے صحیح بخاری 2 ؎ میں عبد اللہ ؓ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس کی روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ہاتھوں میں دو سونے کے کڑے دیکھے پھر خواب میں ہی آپ کو یہ جتلایا گیا کہ ان دونوں کڑوں کو پھونک ماری جائے آپ نے جب پھونک ماری تو وہ دونوں کڑے اڑ گئے اس خواب کی تعبیر آپ نے یہ فرمائی کہ یہ دونوں کڑے اسود عنسی اور مسیلمہ دو شخص ہیں جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ اسود عنسی اللہ کے رسول کی حایت میں مارا گیا اور مسیلمہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت میں مارا گیا۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں حضرت عائشہ کی حدیث ہے جس میں بغیر واسطے فرشتہ کے اور فرشتہ کے واسطے سے جو اللہ کے رسول ﷺ کو وحی آتی تھی ان قسموں کا ذکر تفصیل سے ہے صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں ابوذر کی معراج کی حدیث ہے جس میں پردہ کے پیچھے سے پچاس نمازوں کی بابت میں اللہ کے رسول اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے باتیں کرکے پچاس نمازوں میں سے 45 معاف کرائیں اور پانچ باقی رہیں اس پر جو ذکر تھا کہ ان آیتوں میں وحی کے جن طریقوں کا تذکرہ ہے وہ سب طریقے اللہ کے رسول ﷺ میں موجود تھے اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
(2 ؎ صحیح بخاری باب اذا طار الشیء فی المنام ص 1041 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ص 2 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب الا سراء برسول اللہ ﷺ ص 92 ج 1۔ و صحیح بخاری باب کفل فرضت الصلاۃ ص 50 ج 1۔ )