Ayahs 41:1–81۔ 8۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکر یہ بھی پیش کریں یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام دنیا کی پیدائش کا اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور ان پڑھ رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھ دار شخص کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آسکتی ہے کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار کوئی پڑھا لکھا آدمی بھی اس طرح کی غیب کبی باتیں بغیر آسمانی مدد کے ہرگز نہیں بتلا سکتا ہے پھر فرمایا اس قرآن کی نصیحت پر عمل کرنے والوں کو عقبیٰ کی بہبودی اور نہ عمل کرنے والوں کو عقبیٰ کی خرابی ‘ اگرچہ اس قرآن میں اچھی طرح جتلادی گئی ہے مگر ان مشرکین مکہ میں سے اکثر لوگ قرآن کی نصیحت کے سننے سے اکڑتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ قرآن کی نصیحت کے سمجھنے سے ہمارے دل گویا ایک غلاف میں ہیں اسی طرح اس نصیحت کے سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں اور ہم میں اور تم میں ایک آڑ ہے کہ ہم تم کو نصیحت کرتے ہوئے گویا آنکھوں سے دیکھتے بھی نہیں اس لئے تم اپنے ڈھنگ پر رہو اور ہم اپنے ڈھنگ پر ہیں صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون دوزخ میں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی قرار پائے ہیں ان کی نظروں میں برے کام اچھے معلوم ہوں گے۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھے طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پا چکے تھے وہ مرتے دم تک بری باتوں کو اچھا سمجھتے اور اللہ کے رسول سے ایسی ہی گستاخی کی باتیں کرتے رہے جن باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ ہاں ان میں کے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جنتی ٹھہر چکے تھے وہ فتح کے مکہ تک راہ راست پر آگئے اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں کی باتوں کے جواب میں تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ تم خوب جانتے ہو کہ میں بھی تم جیسا آدمی ہوں اور چالیس برس تک تم لوگوں میں رہا کبھی میں نے تم کو کوئی نصیحت نہیں کی۔ اب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھ کو اپنا رسول بنا کر قرآن کے ذریعہ سے یہ حکم دیا ہے کہ خالص اللہ کی عبادت کرنے اور مرتے دم تک اس پر قائم رہنے اور شرک کے زمانہ کے گناہوں کی معافی چاہنے کی تم لوگوں کو نصیحت کروں اور اللہ کا یہ حکم بھی تم کو سنا دوں کہ جو لوگ مرتے دم تک مشرک رہیں گے اور شرک کی گندگی سے اپنے دل کو ستھرا نہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کے منکر ہوں گے ان کے لئے عقبیٰ میں بڑی خرابی ہے اور جو لوگ قرآن کی نصیحت کے موافق عقبیٰ پر یقین لائیں گے اور نیک کاموں میں لگے رہیں گے ان کو ہر ایک نیکی کا دس سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ بدلہ دیا جائے گا چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ اور مسلم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے حدیث قدسی اس باب میں ایک جگہ گزر چکی ہے یہ حدیث قدسی اور سورة البقر میں آیت گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے نیکی کے اجر میں بیشمار افزائش کا وعدہ فرمایا ہے وہ آیت اجر غیر ممنون کی گویا تفسیر ہے۔ زکوٰۃ کے ادا کرنے سے شریعت کے موافق مال پاک ہوجاتا ہے۔ انہی معنوں کی بنا پر حضرت عبد اللہ بن عباس 2 ؎ کے صحیح قول کے موافق ان مکی آیتوں میں زکوٰۃ کے معنی یہی ہیں کہ اللہ کی وحدانیت کا آدمی قائل ہوجائے اور شرک کی گندگی سے دل کو ستھرا رکھے حاصل کلام یہ ہے کہ مکی آیتوں میں لفظ زکوٰۃ کی تفسیر فرض زکوٰۃ سے اکثر سلف نے اسی سبب سے نہیں کی کہ ان کے نزدیک ہجرت کے بعد 8 ہجری میں زکوٰۃ فرض ہوئی ہے اس لئے مکی آیتوں میں ان کے نزدیک فرض زکوٰۃ کا ذکر نہیں آسکتا مسند امام احمد نسائی صحیح ابن خزیمہ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں قیس بن سعد سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ زکوٰۃ کے فرض ہونے سے پہلے آنحضرت ﷺ صدقہ فطر کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے زکوٰۃ کے فرض ہونے کے بعد پھر آپ نے صدقہ فطر کی تاکید چھوڑ دی۔ یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ ایک راوی ابو عمار غریب بن حمید کوفی کو بعض علما نے جو ضعیف قرار دیا تھا اس کو امام احمد اور ابن معین نے تسلیم نہیں کیا اسی واسطے تقریب میں اس کو ثقہ لکھا ہے جو علما اس بات کے قائل ہیں کہ زکوٰۃ ہجرت کے بعد فرض ہوئی ہے اس حدیث سے ان کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کا حکم رمضان کے روزوں اور صدقہ فطر کے بعد ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ رمضان کے روزے ہجرت کے بعد فرض ہوئے ہیں۔
(3 ؎ صحیح بخاری باب وکان امرا اللہ قدر امقدورا ص 977 ج 2)
(1 ؎ صحیح مسلم باب تجاوز اللہ تعالیٰ عن حدیث النفس الخ ص 78 ج 1 و بخاری شریف کتاب الرقاق باب من ھم بحسنۃ اوسیئۃ ص 960 ج 2)
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 92 ج 4)
Ayahs 41:9–129۔ 12۔ ان آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین اور پہاڑ اور جو کچھ زمین میں پیداوار کی چیزیں ہیں پہلے چار روز میں یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے اور پھر دور و زمین آسمان پیدا کئے گئے اور دالنازعات کی آیت ولارض بعد ذلک دحھا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کے پیدا ہونے کے بعد زمین پھیلائی گئی ہے اسی واسطے اکثر مفسرین نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک آیت سے زمین کا آسمان سے پہلے پیدا کرنا معلوم ہوتا ہے اور دوسری آیت سے آسمان کے بعد پھر طرح طرح سے اس اعتراض کا جواب بھی دیا ہے اور یہ اعتراض کچھ آج کل کا نیا اعتراض نہیں ہے کیونکہ صحیح بخاری 1 ؎ میں (1 ؎ بخاری شریف تفسیر سورة حم السجدۃ ص 712 ج 2) سعید بن جبیر سے اور مستدرک حاکم میں عکرمہ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ فرقہ خارجیہ کے سرگروہ ایک شخص نافعبن ارزق نے حضرت عبد اللہ بن عباس سے قرآن شریف کی چند آیتوں کے اختلاف کو مکہ میں اعتراض کے طور پر پوچھا تھا اور حضرت عبد اللہ بن عباس نے نافع بن ارزق کو حضرت عبد اللہ بن عباس نے یہی دیا ہے کہ زمین کا پیدا ہونا آسمان سے مقدم ہے اور زمین کا پھیلایا جانا آسمان کی پیدائش کے بعد ہے اس لئے دونوں آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ ایک آیت میں زمین کی پیدائش کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں زمین کے پھیلانے کا ذکر ہے حضرت عبد اللہ بن عباس کے اس جواب کو حافظ ابن حجر نے اور علما نے قابل اعتماد ٹھہرایا ہے اور صحیح بخاری کی اس روایت کے برخلاف تفسیر عبد الرازق وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے اور روایتیں جو ہیں ان کو حافظ ابن حجر اور علما نے ضعیف قرار دیا ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم اور نسانئی میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی جو (2 ؎ صحیح مسلم باب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار ص 371 ج 2) ایک حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کا ہاتھ پکڑ کر ہفتہ اتوار ہر ایک دن کا نام لے کر زمین پہاڑ درخت چوپائے ہر ایک چیز کی پیدائش کی تفصیل بتائی ہے امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اس حدیث پر اعتراض کیا ہے اور یہ بات ثابت کی ہے کہ یہ مرفوع حدیث نہیں ہے بلکہ کعب احبار کا قول ہے معتبر علما نے امام بخاری کے اس اعتراض کو صحیح قرار دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس صاحب قدرت اور صاحب علم نے اپنی قدرت اور اپنے علم سے دو دن میں آسمان اور چار دن میں زمین اور اس میں کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ جس میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر یہ لوگ اس کی تعظیم میں دوسروں کو جو شریک کرتے ہیں یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے کیونکہ جو زمین اللہ تعالیٰ نے دو دن میں پیدا کی اسی کی مٹی لے کر ان سب کے باپ آدم (علیہ السلام) کو اس سے بنایا جن کی نسل سے سب اولاد آدم کو پیدا کیا اور جو آسمان اللہ تعالیٰ نے دو دن میں پیدا کئے ان آسمانوں میں کے فرشتے بھی اس نے پیدا کئے اب جن نیک لوگوں کی یا فرشتوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ زمین اور آسمان کی اللہ کی مخلوقات میں سے ہیں ان لوگوں کو اتنی سمجھ نہیں کہ خالق کی تعظیم میں مخلوق کو شریک کرنا کتنی بڑی غلطی کی بات ہے پھر فرمایا اس صاحب قدرت نے زمین میں پہاڑوں کی بوجھل میخیں ٹھونک دیں جس سے زمین خوب جم گئی اور یہ پہاڑوں کی میخیں زمین کے اوپر کے رخ سے اس لئے ٹھونکی گئیں کہ ان کا بڑا حصہ بڑا باہر نکلا رہے جس سے دریا اور ندیاں ان میں سے جاری ہوں اور سورج کی شعاع ان پر پڑ کر ان میں طرح طرح کے جواہرات پیدا ہوتے رہیں اور زمین کی پیداوار میں یہ برکت رکھی کہ ایک اناج کے دانے سے ہزاروں دانے اور ایک میوہ کی گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوتے رہیں یہی انسان کی خوراکیں ہیں جن کا زمین سے نکلنا ٹھہرایا گیا ہے بیہقی کی اسماء وصفات اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے آسمان اور زمین کی پیدائش کا حال پوچھا تھا اسی واسطے آسمان و زمین کی پیدائش کے ذکر میں سواء للسائلین فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان آیتوں میں آسمان و زمین کی پیدائش کا حال پوچھنے والوں کا پورا جواب ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے زمین کی پیدائش کے ذکر کے بعد فرمایا پھر وہ صاحب قدرت پانی کی بھاپ سے آسمان کے پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوا اور اس پانی کی بھاپ اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں سے جو کام لینا ہے اس کو تم دونوں یا تو خوشی سے منظور کرو نہیں تو تمہیں مجبور کیا جائے گا ان دونوں نے خوشی سے اللہ کا حکم منظور کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پانی کی بھاپ سے سات آسمان دو دن میں بنائے اور ہر ایک آسمان میں فرشتے دریا جو کچھ پیدا کرنا تھا اس کے پیدا ہوجانے کا حکم دیا اول آسمان کی رونق اور شیاطین کو آسمان کی خبروں سے باز رکھنے کے لئے تارے پیدا کئے۔ صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ جو شخص ظلم سے کسی دوسرے شخص کی بالشت بھر زمین بھی دبا لے گا تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا اتنا ہی ٹکڑا لے کر اس شخص کی گردن میں اس کا طوق ڈال دیا جائے گا اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات ہیں ترمذی 2 ؎ اور مسند امام احمد کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک اور اسی طرح ایک زمین سے دوسری زمین تک پانسو برس کی راہ کا فاصلہ ہے مسند احمد اور ترمذی 3 ؎ میں ابورزین عقیلی سے روایت ہے کہ سب چیزوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے پانی کو پیدا کیا پھر عرش معلی کو پھر اور مخلوقات کو ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب اثم من ظلم شیئا من الارض ص 331 ج 1)
(2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الحدید ص 185 ج 2)
(3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ھود ص 160)
Ayahs 41:13–2113۔ 21۔ اوپر آسمان اور زمین اور چند چیزوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو یہ سمجھایا تھا کہ جب ان چیزوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے تو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ان آیتوں میں فرمایا اگر یہ لوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو بھی ٹال دیں اور شرک سے باز نہ آئیں تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دیا جائے کہ میں تم کو قوم عاد اور قوم ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی ان کا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس رسول بھیجے گئے اور رسولوں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی نصیحت بھی کی مگر جس طرح کی بےٹھکانے کی باتیں اللہ کے رسول سے تم لوگ کرتے ہو کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہئے ایسی باتیں ان قوموں نے اللہ کے رسولوں سے کیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سخت آندھی کے عذاب سے قوم عاد کو اور سخت چیخ اور زلزلہ کے عذاب سے قوم ثمود کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا اگر انہی قوموں کے قدم بقدم تم لوگ بھی چلتے رہے اور شرک سے باز نہ آئے تو ایک دن یہی انجام تمہارا بھی ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ بدر کی لڑائی کے وقت جو کچھ اس وعدہ کا ظہور ہوا صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی روایت سے اس کا ذکر کئی جگہ اوپر گزر چکا ہے۔ ملک شام اور یمن کے سفر میں قریش کا گزر قوم عاد اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیوں پر سے اکثر ہوا کرتا تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں فقط ان دو قوموں کا نام لیا۔ صحیح بخاری 2 ؎ کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ابر کو دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کے چہرے پر پریشانی چھا جاتی تھی اور آپ گھر کے اندر اور باہر پریشان پھرا کرتے تھے جب اس ابر میں سے مینہ برسنے لگتا تھا تو آپ کی وہ پریشانی رفع ہوجاتی تھی اور آپ یہ فرمایا کرتے تھے کہ قوم عاد پر آندھی کا عذاب ابر کی صورت میں آیا تھا اس لئے ابر کو دیکھ کر مجھ کو وہ عذاب یاد آتا ہے اور میں پریشان ہوجاتا ہوں۔ ثمود کے قصے میں صحیح بخاری 3 ؎ کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمر کی روایتیں گزر چکی ہیں کہ تبوک کے سفر کے وقت جب اللہ کے رسول ﷺ کا گزر قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستی پر سے ہوا تو آپ خوف زدہ ہوگئے اور صحابہ سے فرمایا کہ جب تک یہ بستی آنکھوں کے سامنے رہے تو عذاب الٰہی کو یاد کرکے ڈرنا اور رونا چاہئے ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ پچھلی قوموں کے عذاب کا حال جب ایماندار شخص کو یاد آئے تو اس کو عذاب الٰہی سے ڈرنا اور عبرت پکڑنی چاہئے آخر کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کے عذاب کے وقت اپنے انصاف کو موافق اپنے رسولوں اور ان کے ساتھ کے ایماندار پرہیز گار لوگوں کو اس عذاب سے بچا دیا اور باقی کے لوگوں کو ہلاک کردیا۔ رسولوں کے جھٹلانے والے لوگ یہ جو کہتے تھے کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب سورة الانعام میں جو دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا تو انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لئے اگر آسمان پر سے کوئی فرشتہ بھی رسول بنا کر بھیجا جائے گا تو ضرور وہ انسان کی صورت میں ہوگا جس سے ان لوگوں کو یہی بےٹھکانے کی باتیں باقی رہے گی۔ یہ جو فرمایا تھا کہ بہ نسبت دنیا کے عذاب کے ایسے لوگوں کا آخرت کا عذاب بڑی رسوائی کا ہوگا آگے اس کا ذکر فرمایا کہ رسوا کرنے کے لئے ایسے لوگوں کی جماعت بندی سب اہل محشر کے سامنے کی جائے گی اور ان میں کے جو لوگ اپنی بد اعمالی کے منکر ہوں گے ان کے کان آنکھ اور ہاتھ پیروں سے ان کی بداعمال کی گواہی دلوائی جا کر ان کو رسوا کیا جائے گا اس ہاتھ پیر کان آنکھ کی گواہی کی انس بن مالک کی حدیث صحیح 1 ؎ مسلم اور نسانی کے حوالہ سے اوپر بھی گزر چکی ہے اور آگے کی آیت کی تفسیر میں بھی آتی ہے۔ قوم عاد اور ثمود کا قصہ سورة الاعراف سورة ہود اور سورة الشعرا میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ قوم عاد کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ بڑے قد آور شہ زور تھے قرآن شریف میں کئی جگہ ان کی شہ زوری کا ذکر ہے اس قوم کے لوگوں کو نمود کی عادتیں بنانے کا بڑا شوق تھا بےفائدہ عمارتیں بنانے آپس کے ظلم و زیادتی اور بت پرستی سے ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو جب روکا اور عذاب الٰہی سے ڈرایا تو ان لوگوں نے سرکشی سے یہ جواب دیا کہ جس عذاب سے تم ہم کو ڈراتے ہو اس سے ہم نہیں ڈرتے اگر کوئی آفت آئی تو ہم اپنی شہ زوری کے سبب سے اس کو رفع دفع کردیں گے اسی کا جواب اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں دیا ہے کہ جس صاحب قدرت نے ان کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت اور قوت ان لوگوں کی قوت سے بڑھ کر ہے ان لوگوں کے یہ غرور کے کلمے اللہ تعالیٰ کو اچھے نہیں معلوم ہوئے۔ اس لئے سات راتیں اور آٹھ دن تک سخت آندھی چکی جس سے یہ قوم بالکل ہلاک ہوگئی ان ہی آٹھ دن کو مصیبت کے دن فرمایا قوم ثمود کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ صالح (علیہ السلام) نے جب ان لوگوں کو بت پرستی عیش و آرام کی غفلت اور سرکش لوگوں کی عادتوں سے منع کیا تو ان لوگوں نے صالح علیہ اسلام پر جادو کا اثر بتایا اور صالح (علیہ السلام) سے اونٹنی کے معجزہ کی فرمائش کی اور صالح (علیہ السلام) نے وہ معجزہ دکھایا جس کا پورا قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے اسی کو فرمایا کہ ان لوگوں کی فرمائش کے موافق ان کو اونٹنی کا معجزہ دکھایا جا کر راہ راست پر آنے کا راستہ بتایا گیا لیکن ان لوگوں کو کفر و شرک کا اندھے پنے کا راستہ اچھا لگا اور اونٹنی کا معجزہ دیکھ کر بھی انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی فرمانبرداری قبول نہیں کی اور ان میں کے سرکش لوگوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا جس کے سبب سے ان لوگوں پر اس طرح عذاب آیا کہ آسمان سے ایک سخت آواز آئی اور زمین میں زلزلہ آیا جس کے صدمہ سے ان لوگوں کے کلیجے پھٹ گئے۔
Ayah 41:2222۔ صحیحین ترمذی 2 ؎ اور مسند امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے (2 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة حم السجدۃ باب قولہ و ماکنتم تسترون الایۃ ص 712 ج 2) ان آیتوں کے شان نزول کا حاصل یہ ہے کہ کچھ لوگ قریش کے ثقیف قبیلہ کے حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کر رہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا نہیں تو نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں صحیح 1 ؎ مسلم (1 ؎ دیکھئے صفحہ گزشتہ۔ ) اور نسائی میں حضرت انس سے جو روایت ہے اس میں اس بات کی تفسیر ہے کہ کس وقت یہ مشرکوں اور گناہ گاروں کے ہاتھ اور پیر اور اعضاء گواہی دیں گے حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ کو ہنسی آئی اور اپنے صحابہ سے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ خدا سے جھگڑیں گے۔ اس پر مجھ کو ہنسی آئی ہے بعضے گناہ گار خدا تعالیٰ سے کہیں گے کہ یا اللہ ہم اپنے بھروسے کے گواہ چاہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر خاموشی کی مہر لگا کر ان کے اعضاء سے گواہی دلوا دے گا۔ جب وہ لوگ اپنے اعضاء پر خفا ہوں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہاری پرورش کرتے تھے تم نے ہمارے مخالف گواہی کیوں دی اس کا جواب اعضاء یہ دیں گے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہے۔ حاصل اس جواب کا یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان اور انسان کے اعضاء سب کو پیدا کیا ہے اس نے ہم سے یہ گواہی دلوائی ہے۔ اگر گناہوں میں آدمی کے ہاتھ اور پیروں کا دخل ضرور ہوتا ہے۔ اسی واسطے مسند امام 2 ؎ احمد نسائی (2 ؎ تفسیر الدر المنثورص 62 ج 5) مستدرک حاکم بیہقی تفسیر عبد الرزاق و تفسیر ابن ابی حاتم میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کے ہاتھ کی ہتھیلی اور پیر کی ران سب سے پہلے گواہی دے گی اگرچہ بعضے علماء نے لکھا ہے کہ اعضاء کی گواہی دینا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان اعضا میں ایک حالت اس طرح کی ضیدا کر دے گا جس سے گناہوں کا حاصل ظاہر ہوجائے گا لیکن صحیح قول یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان اعضاء میں گویائی پیدا کرے گا کیونکہ زبان کے گوشت اور اعضاء گوشت میں کچھ فرق نہیں ہے تو جس اللہ نے زبان کے گوشت میں گویائی دی ہے اس کو اور اعضاء کے گوشت میں بھی گویائی پیدا کرنے کی قدرت پر ہر مسلمان کو ایمان لانا چاہئے پھر صریح آیت کی تاویل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ حشر کے انکار کے سبب سے گناہ کرتے وقت تم لوگ ہاتھ پیروں کی گواہی کا خوف نہیں کرتے تھے کیونکہ حشر اور ہاتھ اور پیروں کی گواہی کے تم پورے منکر تھے گناہوں کے وقت تمہارا پردہ تو اس اعتقاد سے تھا کہ پردے کی باتیں اللہ کے علم سے باہر ہیں۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 66 ج 2)
(2 ؎ صحیح بخاری کتاب التفسیر باب قولہ فلمارا وہ عارضا الایت ص 715 ج 2)
(3 ؎ صحیح بخاری باب قول اللہ والی ثمود اخاھم صالحا۔ ص 478 ج 1)
(1 ؎ صحیح مسلم فی بیان ان الاعضاء منطقۃ شاھدۃ یوم القیمۃ۔ ص 409 ج 2)
Ayahs 41:23–2523۔ 25۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ پردہ کی باتوں کو مشرک لوگ اللہ کے علم سے باہر گمان کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے اس گمان نے ان کو ہلاکت اور ٹوٹے میں ڈالا کیونکہ اسی گمان کے سبب سے ان لوگوں کو کثرت گناہوں کی جرأت بڑھ گئی گناہ کرتے رہے اور اسی گمان میں رہے کہ ان کے بہت سے گناہ اللہ کے علم سے باہر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ غیب دان ان کے اس گمان کو جھوٹا کر کے ان کے سب گناہ ان کو جتلا دے گا اور ان کی سزا دوزخ کی آگ قرار پائے گی اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم اس آگ کی مصیبت پر صبر کرو یا جھوٹے عذر پیش کرکے غل شور مچاؤ کسی طرح اب اس آگ سے تم کو نجات نہیں کیونکہ یہ دوزخ کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے ایسے لوگوں کا گھر قرار پایا ہے سورة الزخرف میں آئے گا کہ جو لوگ یاد الٰہی سے غافل رہتے ہیں شیطان ان پر ایسا مسلط ہوجاتا ہے کہ ایک دم ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور نیک کاموں سے ہمیشہ ان کو روکتا رہتا ہے اور برے کاموں کو ایسی اچھی صورت میں ان کو دکھلاتا ہے کہ برے کاموں کی برائی ان پر ظاہر نہیں ہونے دیتا مثلاً بت پرستی جیسے برے کام کو اس اچھے بھیس میں دکھاتا ہے کہ یہ بہت اچھے لوگوں کی مورتیں ہیں جو کوئی ان مورتوں کی پوجا کرے گا تو وہ اچھے لوگ ہر طرح ان کی مدد کریں گے۔ ترمذی 1 ؎ صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں حارث اشعری کی حدیث کو آخری آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جیسے لوگوں کا ذکر آیت میں ہے وہ بتوں کی پوجا میں لگ کر یاد الٰہی سے دور رہتے ہیں اس لئے شیطان ان پر مسلط ہوگئے جو ان کو ہر وقت دنیا کی باتوں کی طرف رغبت اور عقبیٰ کی باتوں سے نفرت دلاتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس طرح کے پچھلے جنات اور آدمیوں میں ان کا شمار بھی دوزخیوں میں ہوگیا اور جنت میں ایسے لوگوں کے لئے جو ٹھکانے بنائے گئے تھے ان کو ہاتھ سے کھو دینے کا انہوں نے نقصان اٹھایا۔ ابن 2 ؎ ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے جنت اور دوزخ دونوں جگہ ٹھکانا بنایا ہے اب جو لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پائیں گے ان کے جنت میں کے خالی پڑے ہوئے محل اور باغ جنتیوں کو مل جائیں گے یہ حدیث انہم کا نوا خسرین کی گویا تفسیر ہے۔ صحیح 3 ؎ مسلم کے حوالہ سے جابر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا شیطان خود تو اپنا تخت سمندر میں بچھا کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے شیاطینوں کو لوگوں کے بہکانے کے لئے بھیج دیتا ہے ان شیطانوں کے بہکانے سے جو آدمی خود بھی بہکتے اور دوسروں کو بھی بہکاتے ہیں ان کو سورة الانعام میں شیطان الانس فرمایا ہے جابر کی حدیث اور سورة انعام کا شیاطین الانس کا ذکر قدخلت من تبلہم من الجن والانس کی گویا تفسیر ہے جس میں پچھلے زمانے کے بہکنے بہکانے والے جنات اور انسان سب داخل ہیں۔
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء مثل الصلاۃ والصیام الخ ص 191 ج 2)
(2 ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجنہ)
(3 ؎ صحیح مسلم باب تحریش الشیطان و بعثہ سرایاہ الخ۔ ص 376 ج 2)
Ayahs 41:26–3226۔ 32۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ حضرت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھتے تھے تو مشرک لوگ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے اور سورة لقمان میں گزر چکا ہے کہ نضر بن حارث ایک شخص نے رستم و اسفندیار وغیرہ کے قصوں کی کتابیں خرید رکھیں تھیں۔ جب آنحضرت ﷺ قرآن شریف پڑھتے تھے تو نضر بن 1 ؎ حارث وہ قصے لوگوں کو سنا کر قرآن شریف کے سننے سے روکا کرتا تھا صحیحین 2 ؎ وغیرہ میں حضرت مسعود کی حدیث مشہور ہے کہ ابوجہل وغیرہ مشرکوں نے مل کر اونٹ کی اوجھڑی نماز پڑھتے وقت آنحضرت ﷺ کی پیٹھ پر ڈال دی تھی غرض اسی طرح کی بہیودہ باتیں آنحضرت ﷺ کے نماز اور قرآن شریف پڑھنے کے وقت مشرک لوگ اس غرض سے کرتے تھے کہ لوگ قرآن شریف سننے نہ پائیں اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرما کر فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو سخت عذاب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے سے رکنا یا روکنا خدا کا دشمن بننے کی نشانی ہے اب بھی کسی ایسے کام میں لگنا یا کسی دوسرے کو لگانا جس سے قرآن شریف کے مشغلے میں حرج ہوا اس آیت کے حکم میں داخل ہے جن لوگوں کے بہکانے سے دوزخی لوگوں نے برے کام کئے ہیں دوزخ میں جانے کے بعد یہ لوگ کہیں گے یا اللہ ان بہکانے والوں کو ہمیں دکھا تاکہ ہم ان کو دوزخ کے نیچے کے درجہ میں دھکا دے کر ڈال دیں آگے اللہ تعالیٰ نے ان خدا کے دشمن لوگوں کے مقابلے میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو خدا کو اپنا معبود جانتے ہیں اور پھر اس پر ثابت قدم رہتے ہیں صحیح 3 ؎ مسلم ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت مجھ کو اسلام کی کوئی ایسی بتا بتلا دیجئے کہ پھر مجھ کو پوچھنے کی ضرورت باقی نہ رہے آپ نے اس آیت کے لفظ فرمادیئے کہ اللہ کو اپنا معبود جان اور اس پر قائم رہ حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے دل سے اللہ کو معبود مان کر اور زبان سے اللہ کے معبود ہونے کا اقرار کرکے اس پر ثابت قدم رہنے کا یہ مطلب ہے کہ جو باتیں اللہ تعالیٰ نے فرض کیں ہیں ان کو آدمی ادا کرتا رہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی یہ تفسیر ان اہل سنت کے قول کے موافق ہے جو عمل نیک کو ایمان کے کامل ہونے کی شرط قرار دیتے ہیں مسند امام احمد 4 ؎ اور ابودائود 5 ؎ کے حوالہ سے براء بن عازب کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ نیک لوگوں کی قبض روح کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور نیک لوگوں کو اللہ کی رضا مندی کی اور مغفرت کی خوش خبری سناتے ہیں۔ مسند امام 6 ؎ احمد میں حضرت عائشہ سے صحیح روایت ہے کہ قبر کے سوال و جواب کے بعد اللہ کے فرشتے نیک لوگوں کو ان کا جنت کا ٹھکانا دکھا کر یہ خوش خبری سنا دیتے ہیں کہ قیامت کے دن اسی ٹھکانے میں رہنے اور بسنے کے لئے تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا آیتوں میں نیک لوگوں کے پاس فرشتوں کے اترنے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں اس کی گویا تفسیر ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ قبض روح کے وقت اور قبر میں دفن کرنے کے بعد اللہ کے فرشتے نیک لوگوں کے پاس آتے ہیں اور ان کو طرح طرح کی خوش خبری سنا کر جنت کا ٹھکانا بھی ان کو دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں تمہاری زندگی میں بھی تمہارے نیک عمل لکھنے کے لئے اللہ کے فرشتے تمہارے رفیق تھے اور اب بھی تمہارے رفیق ہیں اور جنت کا ٹھکانہ تمہیں دکھاتے ہیں جس میں اللہ غفور الرحیم نے مہمانوں کی خاطر داری کی طرح تمہارے لئے سب کچھ تیار رکھا ہے۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور 159 ج 5)
(2 ؎ بخاری شریف باب ذکر مالقی النبی ﷺ و اصحابہ من المشرکین ص 543 ج 1۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب جامع اوصاف الاسلام ص 48 ج 1۔ )
(4 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب فیمایقال عند من حضرہ الموت ص 142۔ ) (5 ؎ ابودائود باب فی المسالۃ لی القبر و عذاب القبر۔ ص 6 ج 2)
(6 ؎ الترغیب والترہیب ص 698 ج 4
Ayah 41:3333۔ اول درجہ میں تو یہ آیت انبیاء کی شان میں ہے جن کے سبب سے دنیا میں نیک کام کرنے کی اور برائی سے بچنے کی بنیاد قائم ہوئی اور جن کی ذات کو خاص اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے کہ وہ نیک راستے پر امت کے لوگوں کو لگائیں۔ دوم درجہ میں امت کے وہ علما اور نیت لوگ ہیں جو انبیاء کی فرمانبرداری کے سبب سے خود نیک راستے پر لگے اور دوسروں کو بھی نیک راستے کی رغبت دلاتے ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ میں حضرت 1 ؎ عائشہ سے اور بعضی اور کتابوں میں اور صحابہ سے یہ جو روایتیں ہیں کہ یہ آیت موذنوں کی شان میں نازل ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ موذن لوگ نماز جیسے نیک کام کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلاتے ہیں اسی واسطے موذنوں کی شان میں بھی یہ آیت صادق آتی ہے یہ مطلب اس روایت کا نہیں ہے کہ موذنوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کیونکہ یہ آیت تو مکی ہے اور صحیحین 2 ؎ کی حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر کی روایت سے اور ترمذی ابودائود و ابن ماجہ اور دارمی کی حضرت عبد اللہ ؓ بن زید کی روایت سے یہ بات صحیح طور سے ثابت ہوچکی ہے کہ ہجرت کے برس ڈیڑھ برس بعد عبد اللہ بن زید نے اور حضرت عمر نے جب اذان کے لفظ خواب میں ایک شخص کو کہتے ہوئے سنے اس وقت سے آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا اور اسی وقت سے اذان شریعت محمدی میں قائم ہوئی پھر اس مکی آیت کا موذنوں کی شان میں نازل ہونا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے لیکن اوپر کئی جگہ بیان ہوچکا ہے کہ صحابہ کا یہ طریقہ تھا کہ جس کسی حالت پر کسی آیت کا مطلب صادق آیا کرتا تھا تو اس کو وہ شان نزول کہا کرتے تھے اور اسی طریقہ اور عادت کے موافق حضرت عائشہ اور بعضے صحابہ نے یہ فرمایا ہے کہ آیت موذنوں کی شان میں نازل ہوئی طبرانی دارقطنی مسند بزار تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں جو بعضی روایتیں ہیں کہ معراج کی رات نماز کے حکم کے ساتھ ہی حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کو اذان سکھائی ان روایتوں میں سے کوئی روایت صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر جن لوگوں کا ذکر تھا کہ وہ خالص اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود ٹھہرا پھر مرتے دم تک اس پر قائم رہتے ہیں۔ ان میں اس گروہ کا بڑا درجہ ہے جو خود بھی نیک راستے پر ہیں اور دوسروں کو بھی وعظ نصیحت کرکے نیک راستے پر لگاتے ہیں۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کو نیک راستے سے لگاتا ہے اس کو اپنے ذاتی عملوں کے اجر کے سوا اس قدر اجر اور ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا یہ حدیث ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ۔ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو دہرا اجر ملے گا اس لئے یہ بڑے درجہ اور رتبے کے لوگ ہیں۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 100۔ 101 ج 4 و تفسیر الدر المنثور ص 364 ج 5)
(2 ؎ صحیح مسلم باب بدا الاذان ص 164 ج 1)
(1 ؎ صحیح مسلم باب من سن سنۃ حسنۃ اوسیئۃ الخ۔ ص 341 ج 2)
Ayahs 41:34–3634۔ 36۔ اوپر وعظ و نصیحت کا ذکر تھا اور وعظ و نصیحت میں مخالف لوگ بدگوئی اور بدی سے پیش آنے لگتے ہیں اس واسطے ان آیتوں میں فرمایا کہ ایسے موقع پر بدگوئی کے بدلہ میں بدگوئی کا کرنا تو برابر کا مقابلہ ہے ہاں ایسے موقع پر اگر بدی کے مقابلہ میں صبر سے کام لے جا کر بدی کرنے والے سے نیکی کی جائے گی تو نیکی اور بدی برابر کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ نیکی سے دشمن رشتہ داروں کی سی الفت کا برتاؤ کرنے لگتا ہے مگر بدی کے مقابلہ میں نیکی سے پیش آنا ہر شخص کا کام نہیں ہے جن کو اللہ ایسی برداشت دیتا ہے وہی ایسی ہمت کرتے ہیں پھر فرمایا کبھی ایسے موقع پر شیطانی وسوسے سے بےاختیار غصہ آجائے تو اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے کہ اللہ انسان کی ہر التجا کو سنتا اور انسان کے دل کی ہر حالت کو خوب جانتا ہے وہ پناہ الٰہی کی التجا کو سن کر فوراً دل کے اس جوش کو رفع فرمائے گا۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ایماندار آدمی کی نشانی یہ ہے کہ وہ یا تو منہ سے نیک بات نکالے یا چپکا رہے۔ صحیح بخاری 3 ؎ اور مسلم میں سلیمان بن صرد سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک شخص کو غصہ میں بھر ہوا دیکھ کر یہ فرمایا کہ یہ شخص اگر اعوذ باللہ من الشیطن الرحیم کہے تو ابھی اس کا غصہ جاتا رہے بدگوئی کے مقابلہ میں نیک بات منہ سے نکالنے اور غصہ کے وقت اللہ سے پناہ مانگنے کا ذکر جو آیتوں میں ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ بدگوئی کے مقابلہ میں یا تو آدمی نیک بات منہ سے نکالے نہیں تو بدگوئی کا مقابلہ بدگوئی سے نہ کرے بلکہ چپکا ہوجائے اور غصے کے وقت اللہ سے پناہ مانگے کہ اس سے فوراً غصہ جاتا رہتا ہے جس سلیمان بن صرد بن الجون کی روایت اوپر گزری یہ خزاعہ قبیلہ کے صحابہ میں ہیں یہ کوفہ میں بہت رہے ہیں۔
(2 ؎ صحیح بخاری باب من کان یومن باللہ و الیوم الرخر فلا بوذ جارہ ص 889 ج 2)
(3 ؎ صحیح بخاری باب الحذرمن الغضب ص 903 ج 2)
Ayahs 41:37–3837۔ 38۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن کی نصیحت سننے کے وقت سرکشی سے اپنے آپ کو بڑا بتاتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنی قدرت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ شاید یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور شرک سے باز آئیں اس خالق صاحب قدرت نے انسان کے آرام کے لئے رات کو پیدا کیا کہ رات کو انسان آرام پا کر دوسرے دن پھر کام دھندے کے قابل ہوجائے وہ قادر مطلق رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر اس میں سے صبح کے اجالے کو نکالتا ہے تاکہ دن کے اجالے میں ہر ایک آدمی اپنا کام دھندا کرے سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات اور مختلف موسم اسی نے پیدا کئے سورج اور چاند کی منزلیں اور چال اس حساب سے رکھیں جس سے مہہنے اور سال کا حساب معلوم ہوتا ہے لیکن بعضے لوگ ان قدرت کی نشانیوں کے پیدا کرنے والے کی شکر گزاری نہیں کرتے اور اس کی تعظیم کو چھوڑ کر کوئی سورج کی پوجا کرتا ہے اور کوئی چاند کی اور یہ کہتے ہیں کہ ان تاروں کو دنیا کے انتظام میں بڑا دخل ہے ان کے نام کے بتوں کی جو کوئی پوجا کرے گا اس کی یہ تارے ضرور مدد کریں گے ان لوگوں نے سورج کے نام کا جو بت بنایا ہے اس کے چڑھاوے کی چیزیں الگ مقرر کر رکھی ہیں اور چاند کے نام کا جو بت بنایا ہے اس کی الگ یہ نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ مثلاً سورج چاند کے پیچھے اللہ تعالیٰ نے گہن کا عیب جو لگا دیا ہے ان میں اسی عیب کے دور کردینے کی قدرت تو ہے نہیں پھر یہ اپنے پوجھا کرنے والوں کی مدد کرنے کی قدرت کہاں سے لائیں گے اب آگے فرمایا عبادت اللہ ہی کو زیبا ہے جس نے رات دن سورج چاند سب چیزوں کو پیدا کیا پھر فرمایا اگر اس فہمائش کے بعد یہ لوگ خالص اللہ کی عبادت سے مکڑائیں اور غرور کریں تو اللہ کو ان کی عبادت کی کچھ پروا نہیں آسمان پر اللہ کے فرشتے رات دن اس کی عبادت کو موجود ہیں جو کسی وقت عبادت سے نہیں تھکتے صحیح بخاری اور ترمذی 1 ؎ کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا آسمان پر چار انگل بھی جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی فرشتہ عبادت الٰہی میں مصروف نہ ہو آیتوں میں یہ جو ذکر تھا کہ اگر یہ مشرک خالص اللہ کی عبادت سے مکڑائی کریں گے تو آسمان پر اللہ کے فرشتے اللہ کی عبادت میں مصروف ہیں جو کبھی تھکتے نہیں یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس سے آسمان پر اللہ کے فرشتوں کی بہت بڑی جماعت کا عبادت الٰہی میں لگے رہنے کا حال اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ ان لوگوں کو شرک سے باز آنے اور خالص اللہ کی عبادت کرنے کی نصیحت جو کی جاتی ہے وہ ان ہی لوگوں کی آخرت کی بہبودی کے لئے ہے ورنہ اللہ کو ان کی عبادت کی کچھ پروا نہیں رہی یہ بات لوگ آخرت کی سزا و جزا کے منکر ہیں ان کے اس انکار کی غلطی ان کو بارہا جتلا دی گئی ہے کہ یہ لوگ دنیا میں جو کام کرتے ہیں اس کا نتیجہ ضرور سوچ لیتے ہیں مثلاً کھیتی کرتے ہیں اناج کے ہاتھ آنے کے لئے باغ لگاتے ہیں میوہ کھانے کے لئے پھر یہ لوگ کون سے عقل اور تجربے سے یہ بات کہتے ہیں کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد جزا و سزا کا فیصلہ کچھ نہ ہوگا اور دنیا کے پیدا کرنے کا اتنا بڑا کام بےنتیجہ اور بےفائدہ رہ جائے گا۔ یہ سجدہ حضرت عبد اللہ ؓ بن 1 ؎ عباس کے قول کے موافق لایسئمون پر ہے اور حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود کے قول کے موافق ان کنتم ایاہ تعبدون پر۔
(3 ؎ صحیح بخاری باب الحذرمن الغضب ص 903 ج 2)
(1 ؎ جامع ترمذی باب قول النبی ﷺ لوتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا۔ ص 66 ج 2)
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 266 ج 5)
Ayah 41:3939۔ آسمان پر کی قدرت کی نشانیوں کے بعد یہ زمین پر کی قدرت کی نشانیوں کا ذکر ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے مینہ برسنے سے پہلے زمین کیسی سوکھی پڑی ہوتی ہے پھر مینہ برستے ہی اس میں کس طرح کی سرسبزی آجاتی ہے دوسرے صور سے پہلے اسی طرح ایک مینہ برسے گا جس کی ثاثیر سے مرے ہوئے لوگوں کے سب جسم تیار ہوجائیں گے اور ان جسموں میں روحیں پھونک دی جائیں گی حاصل کلام یہ ہے کہ ان منکرین حشر کے نزدیک حشر بڑی چیز ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے ہر سال کی کھیتی اور حشر کا ایک سا حال ہے صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی جس میں کھیتی کی مشابہت دی جا کر دوسرے صور سے پہلے مینہ کے برسنے اور جسموں کے تیار ہوجانے کا ذکر تفصیل سے ہے یہی حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسی مشابہت کے سبب سے قرآن میں کئی جگہ کھیتی کے ذکر کے ساتھ حشر کا ذکر آیا ہے۔
(2 ؎ صحیح مسلم باب مابین النفختین ص 406 ج 2)