Ayahs 41:40–4340۔ 43۔ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہم بہرے ہیں قرآن کی آیتیں ہم نہیں سن سکتے اور اوپر سے دل سے کچھ بہروں کی طرح سن بھی لیں تو ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اس واسطے آیتوں کا مطلب نہیں سمجھتے۔ ان آیتوں میں ان ہی لوگوں کو فرمایا کہ جو لوگ قرآن کو سیٹیاں اور تالیاں بجا بجا کر نہیں سنتے اور کہتے ہیں کہ ہم بہرے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف پڑے ہوئے ہیں ایسی ٹیڑھی باتیں کرنے والوں کا حال اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ سرکشی سے ایسی ٹیڑھی باتیں کرکے جو شخص قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پائے گا ان کے نزدیک وہ بہتر ہے یا جو قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کرکے اپنے آپ کو اس دن کی آفتوں سے بچائے گا وہ بہتر ہے۔ اتنی بات کو خوب سمجھ کر جو ان کا جی چاہے وہ کریں اللہ ان کے سب کاموں کو دیکھتا ہے وقت مقررہ آنے پر ان میں سے سرکش اپنی سزا کو پہنچ جائیں گے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا جو ظہور ہوا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی حدیث کے حوالہ سے کئی جگہ اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ ان میں سے ایسی ٹیڑھی باتیں کرنے والے بہت سے سرکش اس لڑائی میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوئے۔ جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کا وعدہ سچا پا لیا۔ صحیح 2 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے لوگوں کے رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں فرشتے پیش کردیتے ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف سے سزا و جزا کا فیصلہ اپنے علم غیب پر نہیں رکھا بلکہ اس علم کے دنیوی ظہور پر رکھا ہے اس ظہور کے ملاحظہ کے واسطے لوگوں کے عملوں کے ملاحظہ کا جو انتظام اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ دو وقت اعمال ناموں کا ملاحظہ فرمایا جاتا ہے اس کا حال ابو موسیٰ اشعری کی اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے اس لئے یہ حدیث انہ بما تعملون بصیر کی گویا تفسیر ہے۔ اب آگے فرمایا کہ جو لوگ قرآن کی نصیحت کے سمجھنے میں ٹیڑھی باتیں کرتے ہیں اور قرآن کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے کلام الٰہی ہونے کے منکر ہیں یہ ان لوگوں کی نادانی ہے کیونکہ یہ تو ان لوگوں کے سامنے کی بات ہے کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر نازل ہوا ہے اور باتیں اس میں ایسے علم غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار بڑے بڑے اہل کتاب بھی بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلا سکتے کیونکہ یہ قرآن ایسے صاحب حکمت کا کلام ہے جس کے سب کام تعریف کے قابل ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی فرمائی کہ یہ لوگ قرآن کو جادو اور تم کو جادوگر جو کہتے ہیں اور قرآن کی نصیحت پر چلنے کے جواب میں ٹیڑھی باتیں کرتے ہیں اس کا کچھ خیال نہیں کرنا چاہئے کس لئے کہ یہ بات کچھ نئی نہیں ہے پہلے رسولوں سے بھی لوگ ایسی ہی باتیں کرتے آئے ہیں اور اللہ کے علم غیب میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ رفتہ رفتہ راہ راست پر آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کے پچھلے گناہوں کو معاف فرمائے گا اور جو اس حالت پر مرجائے گا اس کو سخت عذاب کیا جائے گا کیونکہ بار گاہ الٰہی میں معافی اور گرفت دونوں چیزیں ہیں لیکن وقت مقررہ پر ہر چیز کا برتاؤ ہوتا ہے اس امت میں سے ابوجہل اور ابوسفیان کی حالت کو مثال کے طور پر پیش نظر رکھا جائے تو یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق بدر کی لڑائی میں ابوجہل کا انجام کیا ہوا کہ مرتے ہی عذاب میں گرفتار ہوگیا اور اللہ کے رسول نے اس کے ساتھیوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے عذاب کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم کی انس بن مالک کی حدیث کے حوالہ سے یہ قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے کہ ابوسفیان نے پہلے تو ابوجہل کی طرح اسلام کی بہت مخالفت کی پھر فتح مکہ پر اسلام قبول کیا اور اسلام کے قبول کرتے ہی ان کا گھر دارالامن ٹھہرا کہ عام امن سے پہلے فتح مکہ کے وقت جو ان کے گھر میں آگیا وہ امن میں رہا صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے غصہ کا پورا حال لوگوں کو معلوم ہوجائے تو نیک لوگوں کے دل میں بھی جنت کی آرزو کم ہوجائے اسی طرح اس کی مغفرت کا پورا حال لوگوں کو معلوم ہوجائے تو نافرمان لوگوں کے دل میں بھی جنت کی آرزو پیدا ہوجائے یہ حدیث ان ربک لذو مغفرۃ وذوعقاب الیم کی گویا تفسیر ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب قتل الی جھل ص 566 ج 2)
(2 ؎ صحیح مسلم باب معنی قولہ ولقد راہ نزلۃ۔ ص 99 ج 1)
(1 ؎ دیکھئے صفحہ گزشتہ)
(2 ؎ صحیح مسلم باب سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ الخ۔ ص 356 ج 2)
Ayah 41:4444۔ تفسیر مدارک میں لکھا ہے کہ اس آیت سے امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ قرآن شریف کی کسی آیت کے فارسی ترجمہ کو کوئی شخص نماز میں قرأت قرآن کی جگہ پڑھے تو اس شخص کی نماز ہوجائے گی کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی مضمون جو عربی زبان میں ہے اگر فارسی زبان میں نازل ہوتا تو اس کا نام بھی قرآن ہوتا لیکن ہدایہ اور فتح القدیر میں مذہب حنفی کی اسی روایت کو معتبر قرار دیا ہے کہ آخر میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے اپنے اس قول سے رجوع کیا اور امام ابوحنیفہ (رح) نے ابو یوسف رحمۃ اللہ کے اس قول سے اتفاق کرلیا کہ نماز میں خاص قرآن کے لفظوں کی قرأت ضرور ہے اس صورت میں امام ابوحنیفہ ؓ کا پہلا قول اب مذہب حنفی کا مسئلہ باقی نہیں رہا۔ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ ابو سعید ؓ خدری عبد اللہ مسعود کی حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے ہر حرف پر دس نیکیوں کا ثواب ہے لیکن جس شخص کی زبان پر قرآن شریف کے لفظ نہ چڑھیں اور وہ شخص محنت سے ان لفظوں کو زبان پر چڑھائے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔ ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف کے لفظوں پر جس ثواب کا وعدہ ان حدیثوں میں ہے وہ ثواب قرآن شریف کے ترجمہ کے لفظوں پر نہیں مل سکتا اسی واسطے محنت سے قرآن شریف کے لفظوں کو زبان پر چڑھانے کا دوہرا ثواب ہے شروع سورة میں فرمایا تھا قرانا عرب یا لقوم یعلمون جس کا مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ کی زبان عربی تھی اس لئے قرآن بھی اس زبان میں اتارا گیا تاکہ ان لوگوں کو قرآن کے سمجھنے میں کچھ دشواری نہ ہو اس آیت میں اس دشواری کی تفسیر فرمائی کہ اگر سوا عربی کے کسی اور زبان میں قرآن اتارا جاتا تو یہ لوگ عذر کرتے کہ غیر زبان کی باتوں کی تفصیل جب تک ہماری زبان میں نہ کی جائے تو ہم ان باتوں کو کیونکر سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن کے ان کی زبان میں نازل ہونے کے سبب سے ان لوگوں کو اس کے سمجھنے میں کچھ دشواری تو نہیں ہے اس پر بھی یہ لوگ اس کے سمجھنے میں ٹیڑھی باتیں جو کرتے ہیں یہ ان کی سرکشی ہے جس کی سزا وقت مقررہ پر یہ بھگتیں گے اس وعدہ کا ظہوربدر کی لڑائی کے وقت جو ہوا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر کئی جگہ اوپر گزر چکا ہے اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان ٹیڑھی باتیں کرنے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب میں فرمانبردار ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں یہ قرآن راہ راست کا رہنما اور نادانی کے فرض سے شفا بخشنے والا ہے ہاں جو لوگ اللہ کے علم غیب میں نافرمان قرار پا چکے ہیں ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں اس واسطے نہ وہ اس قرآن کی نصیحت کو سن سکتے ہیں نہ اس کی خوبیوں کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ ان کو قریب سے بھی قرآن کی نصیحت کا سنانا ان کے حق میں ایسی دور کی ایک آواز ہے جو نہ ان کو سنائی دیتی ہے نہ یہ اس کا کچھ مطلب سمجھ سکتے ہیں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے ایک ٹھکانہ جنت میں اور ایک دوزخ میں پیدا کردیا ہے مگر اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر یہ بھی لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنتے میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ‘ اب دنیا میں ہونے کے بعد ہر شخص اسی کے موافق کام کرتا ہے اور وہی کام اس کو آسان معلوم ہوتے ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ؓ اشعری کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں ان کو قرآن کی نصیحت سے ایسا ہی فائدہ پہنچتا ہے جس طرح اچھی زمین کو مینہ کے پانی سے فائدہ ہوتا ہے اور جو لوگ اللہ کے علم غیب میں بدقرار پا چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی رائیگان ہے جس طرح بری زمین پر مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔
(4 ؎ صحیح مسلم باب فضیلۃ حافظ القران ص 269 ج 1)
(1 ؎ دیکھئے گزشتہ صفحات)
(2 ؎ صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدرا مقدورا ص 977 ج 2)
(3 ؎ صحیح بخاری باب فضل من علم وعلم ص 18 ج 1)
Ayahs 41:45–4845۔ 47۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتوں کے سننے اور ان کے مطلب کے سمجھنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کرتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تورات اور یہود کی پھوٹ اور ٹیڑھی باتوں کا ذکر فرمایا تاکہ اللہ کے رسول ﷺ کی تسلی ہوجائے کہ مشرکین مکہ کی یہ حالت کچھ نئی نہیں ہے یہود کی بھی یہی حالت ہے سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ جب یہود نے تورات کے موافق عمل کرنے میں ٹیڑھی ٹیڑھی باتیں کیں تو ان کو ڈرایا گیا کہ ان پر طور پہاڑ پٹخ دیا جائے گا اس ڈر سے انہوں نے وہ ٹیڑھی باتیں چھوڑیں یہود کی ایسی اور مثالیں بھی قرآن شریف میں ہیں صحیح 1 ؎ بخاری میں عبد اللہ بن مسعود سے اور صحیح 2 ؎ مسلم میں رافع بن خدیج سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حنین کی غنیمت کا مال جب اللہ کے رسول ﷺ تقسیم کر رہے تھے تو ایک شخص نے کہا یہ تقسیم انصاف کے موافق نہیں ہے آپ نے جس وقت یہ بات سنی تو فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحمت کرے کہ وہ اس سے زیادہ ستائے گئے ہیں۔ ان روایتوں سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ یہود نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہاں تک ستایا ہے آگے فرمایا کہ اگر کارخانہ الٰہی میں ہر کام کا وقت مقرر نہ ہوتا تو ان قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے والوں پر اب تک کوئی آفت ضرور آجاتی ‘ پھر فرمایا ان مشرکوں کے پاس شرک کی کوئی سند نہیں ہے اس واسطے یہ لوگ ایسے ناپائیدار شک اور دھوکہ کی حالت میں ہیں کہ کوئی بات ان کی پختہ طور پر نہیں راحت کے وقت مشرک بن جاتے ہیں اور مصیبت کے وقت خالص اللہ سے مصیبت کے ٹل جانے کی التجا کرتے ہیں سورة عنکبوت میں ان مشرکوں کی یہ حالت گزر چکی ہے کہ کشتی کی سواری کے وقت کشتی کے ڈوب جانے کے خوف سے اپنے بتوں کو یہ لوگ بھول جاتے اور خالص اللہ سے مدد چاہنے لگتے تھے۔ پھر فرمایا ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے جو کوئی ان میں سے راہ راست پر آ کر نیک کام کرے گا تو اچھے سے اچھا نیکی کا بدلہ اس کو ملے گا اور جو کوئی بدی کی حالت پر مرجائے گا تو سزا پائے گا کیونکہ گا رگاہ الٰہی میں کچھ ظلم نہیں ہے بلکہ ہر ایک فیصلہ انصاف کا ہے۔ صحیح 3 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس حدیث سے وما ربک بظلام للعبید کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جہاں مشرکین مکہ کی اور مسخراپن کی باتیں تھیں وہاں مسخراپن کے طور پر یہ لوگ اکثر قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے کہ جس قیامت کے دن کی سزا سے ڈرایا جاتا ہے آخر وہ کب آئے گی مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ قیامت کے آنے کا وقت میووں کا درختوں کے غلافوں میں نکلنے کا وقت عورت کے حاملہ ہونے اور بچہ کے پیدا ہونے کا وقت یہ اللہ تعالیٰ کی علم غیب کی باتیں ہیں اس لئے اللہ کے رسول سے گھڑی گھڑی قیامت کے آنے کا وقت پوچھنا بےفائدہ ہے پھر فرمایا کہ وہ تمہارے جھوٹے معبود کہاں ہیں ان کو بلاؤ کہ تم کو دوزخ کے عذاب سے بچائیں تو ان لوگوں کو سوائے اس کے اور کوئی صورت عذاب سے رہائی کی نظر نہ آئے گی کہ یہ لوگ شرک سے بیزاری ظاہر کریں گے اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بالکل بھول جائیں گے مگر اس وقت کی یہ باتیں ان لوگوں کے کچھ کام نہ آئیں مسند امام 1 ؎ احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد اچھے شخص کو جنت کا ٹھکانا اور برے شخص کو دوزخ کا ٹھکانہ اللہ کے فرشتے دکھا کر یہ کہتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں رہنے کے لئے تجھ کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا ابودائود مسند امام 2 ؎ احمد کے حوالہ سے براء بن العازب کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ہر شخص دوزخ میں اپنا ٹھکانہ دیکھ کر ایسے ڈر جاتا ہے کہ قیامت کے نہ آنے کی ہمیشہ دعا مانگتا رہتا ہے۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ مشرکین مکہ دنیا میں تو مسخراپن سے قیامت کے آنے کی جلدی کرتے ہیں دنیا کی تھوڑی سی زندگی کے بعد مرنے کے ساتھ ہی قیامت کا نتیجہ ان کی آنکھوں کے سامنے آگیا اور اس نتیجہ سے ایسے ڈر گئے کہ اب قیامت کے نہ آنے کی دعا مانگ رہے ہوں گے اور قیامت تک مانگتے رہیں گے۔
(1 ؎ صحیح بخاری ص 483 ج 1 باب حدیث الخضر مع موسیٰ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب اعطاء المولفۃ الخ ص 339 ج 1)
(3 ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص 319 ج 2)
(1 ؎ و 2 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد ہذا ص 132)
Ayahs 41:49–5149۔ 51۔ منکر حشر لوگوں کی مذمت کے طور پر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حرص اور بےصبری کی مذمت فرمائی ہے قابل مذمت بےصبری شریعت میں دو طرح کی ہے ایک تو سختی اور مصیبت کے وقت بےصبر ہوجانا اور خدا کی درگاہ سے مصیبت کے بعد راحت کی توقع نہ رکھنا دوسرے فراخ دستی کے وقت جو چیزیں شرع میں منع ہیں ان سے بچنے میں صبر نہ کرنا اور فراخ دستی کے نشہ میں بےصبری سے ان کو کر بیٹھنا اس واسطے حرص کی مذمت کے ساتھ دونوں طرح کی بےصبری کی مذمت ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے ان دونوں موقعوں پر صبر کرنے کے اجر میں اور بےصبری کی اور حرص کی مذمت میں بہت سی حدیثیں جن کو ان آیتوں کی تفسیر کہنا چاہئے چناچہ حرص کی مذمت میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے صحیحین 3 ؎ میں حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ انسان کو دو جنگل بھی مال کے برے ہوئے مل جائیں تو انسان کی حرص کم نہ ہوگی اور تیسرے جنگل کی تلاش میں رہے گا اور جب تک قبر کی مٹی انسان کے پیٹ میں نہ بھرے گی انسان کا پیٹ ہرگز نہ بھرے گا۔ صحیحین 4 ؎ میں دوسری روایت حضرت انس ؓ سے ہے جس کا حاصل یہ ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس قدر انسان بڈھا ہوتا جاتا ہے اسی قدر مال اور عمر کی اس کی حرص بڑھتی جاتی ہے مصیبت کے وقت صبر کرنے کی مدح میں حضرت عائشہ سے صحیح بخاری 5 ؎ میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شہر میں وبا ہو اور انسان صبر کرکے اسی شہر میں بیٹھا رہے تو اس صبر کے سبب سے اس کو شہیدوں کا درجہ ملے گا اور مصیبت کے وقت بےصبری کی مذمت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے صحیحین میں روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص مصیبتیں کے وقت گریبان پھاڑے یا منہ پیٹے اور زمانہ جاہلیت کی بےصبری کی باتیں کرے تو وہ پورا مسلمان نہیں 1 ؎ فراغت کے وقت خلاف شرع باتوں میں پڑھانے سے صبر کرکے شرع میں جو باتیں منع ہیں ان سے بچنے کو تقویٰ کہتے ہیں اور متقیوں کی مدح اور ان کے اجر کے ذکر میں اس قدر کثرت سے آیتیں اور حدیثیں ہیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا اسی طرح فراغت کے وقت بےصبری کرکے شرع کی مناہی میں پڑجانے کی مذمت میں بھی بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے انما اموالکم و اولادکم فتنۃ جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں مال اور اولاد کی خوشحالی آدمی کے حق میں بڑی آزمائش کی چیز ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ اور مسلم میں ابو سعید ؓ خدری کی روایت سے جو حدیث ہے اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کی فراغت اور فراغت کے بعد راہ راست پر قائم نہ رہنے کا بڑا خوف ہے حرص اور دونوں طرح کی بےصبری کی مذمت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ مشرک لوگ حشر کے منکر ہیں ان کے ہر کام کا دارومدار دنیا کی زندگی اور دنیا کی خوبی پر ہے اس لئے ان کا ہر ایک شخص دنیا کی خوبی کے مانگنے سے کبھی نہیں تھکتا اور حشر کے انکار کے سبب سے ان کو صبر کے اجر کا یقین نہیں اس واسطے سختی کے وقت ایسے لوگوں سے صبر بھی نہیں ہوسکتا بلکہ سختی کے وقت ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے بالکل ناامید ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کو اگر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے تکلیف کے بعد کچھ راحت عنایت فرماتا ہے تو نادانی سے دنیا کی حالت پر عقبیٰ کی حالت کو قیاس کرکے کہنے لگتے ہیں کہ اول تو ہمیں عقبیٰ کا یقین نہیں اور اگر مسلمانوں کے کہنے موافق قیامت قائم ہوئی تو جس طرح غریب مسلمانوں کی نسبت ہم لوگ دنیا میں خوشحال ہی یہی حال ہمارا عقبیٰ میں بھی ہوگا پھر فرمایا یہ قیاس ان لوگوں کا بالکل غلط ہے جب قیامت کے دن ان کی بداعمالی کی سزا ان کو دی جائے گی اس وقت ان کو اپنی اس غلطی کا حال کھل جائے گا پھر فرمایا یہ لوگ شکر اور صبر کے اجر کو نہیں جانتے اس واسطے شکر کے موقع پر اللہ تعالیٰ کو بالکل بھول جاتے ہیں اور صبر کے موقع پر گھبرا کر رفع تکلیف کے لئے چوڑی چوڑی دعا مانگتے ہیں صحیح مسلم 3 ؎ کے حوالہ سے صہیب رومی کی حدیث گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ایماندار شخص کی نشانی یہ ہے کہ وہ تکلیف کے وقت صبر کرتا ہے اور راحت کے وقت اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب جو کہ آیتوں میں مذمت کے طور پر مشرکوں کی جن عادتوں کا ذکر ہے ایماندار شخص میں کوئی عادت ان عادتوں میں سے نہیں ہونی چاہئے بلکہ ایمان دار شخص کو تکلیف کے وقت صبر کرنا چاہئے اور راحت کے وقت شکر۔
(3 ؎ صحیح بخاری باب مایتقی من فتنۃ المال ص 952 ج 2۔ )
(4 ؎ بخاری شریف باب من بلغ ستین سنۃ الخ۔ ص 950 ج 2۔ )
(5 ؎ بخاری شریف باب اجرا الصابر فی الطاعون ص 853 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب لیس منامن ضرب الخدود ص 173 ج 2۔ و صحیح مسلم باب تحریم ضرب الخدود ص 70 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب مایحذر من زھرۃ الدنیا۔ ص 951 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب فی احادیث متفرقۃ ص 413 ج 2۔ )
Ayahs 41:52–5452۔ 53۔ اوپر جن قرآن کے جھٹلانے والوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں بھی ان ہی لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ یہ بات ان لوگوں کو پہلے سمجھا دی گئی تھی کہ یہ قرآن ان پڑھ رسول پر اتار گیا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار کوئی اہل کتاب بھی وہ باتیں بغیر آسمانی کتاب کی مدد کے زبان پر نہیں لاسکتا ان آیتوں میں پہلی فہمائش کے سلسلہ میں مختصر طور پر یہ ارشاد ہے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر پہلے کی فہمائش کی موافق یہ قرآن اللہ کا کلام ہو اور تم لوگ اس کے جھٹلانے کے درپے رہے تو پھر تم سے بڑھ کر بہکا ہوا اور حق کا دشمن کون ہوسکتا ہے پھر فرمایا میں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی وہ نشانیاں ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لائے گا جس سے یہ لوگ اچھی طرح جان لیں گے کہ جو باتیں ان لوگوں کو سمجھائی جاتی تھیں وہ بالکل آنکھوں کے سامنے آگئیں مجاہد 1 ؎ اور سدی نے افاق کی تفسیر مکہ کے گرد و نواح کی بستیوں کی فتح کو اور وفی انفسہم کی تفسیر فتح مکہ کو قرار دیا ہے۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اسی قول کو قوی ٹھہرایا ہے۔ اس قول کے موافق قدرت کی نشانیوں کی تفسیر فتح مکہ اور مکہ کی گرد و نواح کی بستیوں کی فتح ہے پھر فرمایا کہ ان قدرت کی نشانیوں کا ظہور تو اپنے وقت پر ضرور ہوگا کیونکہ آسمان و زمین میں کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے اس واسطے اپنے علم کے موافق اس عالم الغیب نے جو وعدہ کیا ہے وہ کبھی ٹلنے والا نہیں لیکن اس وعدہ کے ظہور سے پہلے کیا ان لوگوں کے لئے اللہ کی یہ گواہی کافی نہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور غیب سے اس دین کی ہر وقت جو مدد کی جاتی ہے وہ اللہ کی گواہی کا پورا ثبوت ہے ‘ اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے فتح مکہ کے وعدہ کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا سبب کھڑا کردیا کہ جو انسان کی سمجھ سے بالکل باہر تھا کیونکہ 6 ھ میں دس برس تک لڑائی کے بند رہنے کا وہ صلح نامہ جب مرتب ہوچکا تھا جس کو صلح حدیبیہ کا صلح نامہ کہتے ہیں تو کسی کی سمجھ میں بات نہیں آتی تھی کہ شرائط صلح کے برخلاف 8 ھ میں مکہ پر چڑھائی ہو کر مکہ فتح ہوجائیگا اس حدیبیہ کی صلح میں قبیلہ بنو بکر قریش کی پناہ میں رہا تھا اور قبیلہ خزاعہ آنحضرت ﷺ کی پناہ میں اب قبیلہ بنو بکر اور خزاعہ میں لڑائی ہوئی اور قریش نے شرائط صلح کے برخلاف قبیلہ بنو بکر کی مدد کی اس لئے قبیلہ خزاعہ کی امداد کے طور پر اللہ کے رسول ﷺ نے مکہ پر چڑھائی کی اور ایسی خاطر خواہ فتح ہوئی کہ جن بتوں کے لئے مشرکین مکہ جان دینے کو تیار رہتے تھے فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے ان بتوں کو اپنے ہاتھ کی لکڑی مار کر گرا دیا اور کوئی مشرک بتوں کی حمایت کو نہ کھڑا ہوا چناچہ صحیح بخاری 2 ؎ کی عبد اللہ بن مسعود اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ 3 ؎ کی روایتوں کا حوالہ سے یہ قصہ اوپر گزر چکا ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے اس لئے کہ آیتوں میں فتح مکہ اور اسلام کے غلبہ کا جو وعدہ تھا اس کا ظہور ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے فتح مکہ کے بعد حنین وغیرہ مکہ کی اطراف کی بستیاں بھی فتح ہوگئیں جس کی تفصیل حدیث کی کتابوں میں ہے مسند امام 4 ؎ احمد کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس کی معتبر روایت اوپر گزر چکی ہے کہ اس فتح کا اثر شیطان پر ایسا پڑا کہ اس نے اپنے شیاطینوں کو جمع کیا اور رو کر یہ کہا کہ اب امت محمدیہ سے بت پرستی کی امید جاتی رہی۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کا اور قیامت کے برحق ہونے کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا ہے کہ مشرک لوگ جو شرک سے باز نہیں آتے اور طرح طرح کے معجزے دیکھنے کے بعد بھی اے رسول اللہ کے تم کو اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں اس کا بڑا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زیست کو ہی اپنا مدار سمجھتے ہیں اور مرنے کے بعد نیک بد کے حساب و کتاب کے ہونے کا اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا ان کے دل میں یقین نہیں ہے مگر جس دن قیامت قائم ہو کر یہ لوگ عذاب میں گرفتار ہوں گے تو خود قیامت کے یقین نہ کرنے کا مزہ چکھ لیں گے ملاقات پروردگار کا لفظ قیامت کے دن ہر آدمی کو خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑا ہونا اور خدا کو منہ دکھانا جو ہوگا اس معنی میں کہیں تو قرآن شریف میں آیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے قدخسر الذین کذبوابلقاء اللہ اور کہیں موت کے معنی میں آیا ہے جیسا کہ فرمایا من کان یرجو لقاء اللہ فان اجل اللہ لات اسی واسطے صحیحین 1 ؎ مسند امام احمد اور نسائی وغیرہ میں عبادہ بن صامت اور صحابہ سے روایتیں ہیں جس کا یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے دم چراتا ہے اللہ تعالیٰ بھی ایسے شخص کے اپنے رو برو آنے کو اچھا نہیں جانتا اس حدیث کو جب صحابہ نے سنا تو صحابہ کو اس حدیث کا مضمون سخت معلوم ہوا اور صحابہ نے عرض کیا کہ حضرت ہم میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو موت سے دم نہ چراتا ہو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس حدیث میں ملاقات کے معنی موت کے نہیں ہیں بلکہ قیامت کے دن اللہ کو منہ دکھانے کے ہیں جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور خدا کو منہ دکھانے سے ڈر کر عمر بھر نیک کام کرتے ہیں موت کے وقت فرشتے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ان سے خوش ہونے کی اور جنت کی طرح طرح کی نعمتوں کی خوش خبریاں دیتے ہیں یہ خوش خبری سن کر ان نیک لوگوں کو اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا ایک شوق پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کو اپنے رو برو بلانا پسند فرماتا ہے اور فرشتے ان کی روح کو قبض کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے رو برو لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ منکر نکیر کے سوال و جواب کے لئے خوشی سے ان کی روحوں میں قبر میں واپس کرنے کا حکم فرماتا ہے اور جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور آخرت سے غافل ہونے کے سبب سے عمر بھر برائیوں میں گرفتار رہتے ہیں موت کے وقت فرشتے ان کو طرح طرح کے عذاب اور اللہ تعالیٰ کے غصہ سے ڈراتے ہیں اس لئے ایسے لوگ خدا کو منہ دکھانے سے دم چراتے ہیں اور خدا تعالیٰ بھی ان کو اپنے سامنے بلانا پسند نہیں فرماتا اس لئے ایسے لوگوں کی روح کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور اول آسمان سے ہی ان کی روح قبر میں منکر نکیر کے سوال و جواب کے لئے واپس کئے جانے کا حکم غصہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو ان لوگوں کا ذکر ہوا جو زبان سے بھی آخرت کا اقرار نہیں کرتے اور ان کے دل میں بھی آخرت کا یقین نہیں جو لوگ فقط زبان سے تو عاقبت کا اقرار کرتے ہیں مگر ایسے کام نہیں کرتے جن سے ان کی عقبیٰ پاک ہو اس طرح کے لوگوں سے بھی اللہ تعالیٰ بہت ناخوش ہے چناچہ سورة صف میں کمال ناخوشی سے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے یوں نصیحت فرمائی ہے یایھا الذین امنوا لم تقولون ما لاتفعلون کبر مقتا عنداللہ ان تقولوا ما لا تفعلون جس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان دار آدمی کو ایسی بات زبان سے نہیں کہنی چاہئے جس پر اس کا عمل نہ ہو کیونکہ ایسی باتوں سے اللہ تعالیٰ بہت بیزار ہے خلیفہ عمر بن عبد العزیز نے ایک روز اپنی خلافت کے زمانہ میں ممبر پر چڑھ کر بغداد کے لوگوں کو یہ نظیحت کی کہ جو لوگ عقبیٰ کے بالکل منکر ہیں ان کا تو کچھ ذکر ہی نہیں وہ صریح کافر ہیں لیکن افسوس تو ان لوگوں کی کم عقلی پر ہے کہ زبان سے عقبیٰ کا اقرار کرتے ہیں اور پھر عقبیٰ کے بندوست غافل ہیں یہی مطلب سورة صف کی آیت کا ہے۔ معتبر سند سے ترمذی 2 ؎ اور ابن ماجہ کی شداد بن اوس کی روایت جو اوپر گزر چکی ہے جس کا
حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں عقل مند وہ شخص ہے جو اپنے نفس پر قادر ہو کر زندگی میں کچھ ایسا کر جائے جو موت کے بعد اس کے کام آئے اور کم عقل وہ شخص ہے جو عمر بھر نفس کا فرمانبردار رہے اور موت کے بعد اللہ تعالیٰ سے طرح طرح کی آرزوئیں دل میں رکھے اس روایت سے خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے کلام کی پوری تصدیق ہوتی ہے۔ الا الہ بکل شی محیط۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے اس واسطے جو لوگ اللہ تعالیٰ کو منہ دکھانے سے ڈر کر عمر بھر نیک کام کرتے ہیں اور جو لوگ اللہ کو منہ دکھانے کے منکر یا اس سے غافل ہیں ان سب کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے قیامت کے دن ہر ایک کا فیصلہ انصاف سے کردیا جائے گا۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ لوگوں کے رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوجاتے ہیں اس حدیث کو آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف کے موافق جزا سزا کا فیصلہ اپنے علم غیب پر نہیں رکھا بلکہ جزا و سزا کا فیصلہ ان عملوں پر رکھا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دنیا میں لوگ رہے ہیں اسی واسطے رات دن کے لوگوں کے عمل اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوتے ہیں قیامت کے دن اسی ملاحظہ کے موافق جزا و سزا کا فیصلہ ہوجائے گا۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر 105 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری این رکز النبی ﷺ الرایۃ یوم الفتح ص 614 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم باب فتح مکہ ص 104 ج 2۔ )
(4 ؎ صحیح مسلم میں اس کے ہم معنی روایت موجود ہے دیکھئے صحیح مسلم باب تحریش الشیطان الخ ص 376 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاء ہ ص 963 ج 2۔ )
2 ؎ بحوالہ مشکوۃٰ شریف باب استحباب والعمر للطاعۃ الفصل اثانی ص 451)
(1 ؎ صحیح مسلم باب معنی قولہ ولقد راہ نزلۃ اخری ص 99 ج 1۔ )