40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 40:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب و دانا کی طرف سے ہے

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے اس کے سواء کوئی معبود نہیں اسی کی طرف پھر کر جانا ہے

1۔ 3۔ سورتوں کے شروع کے لفظ متشابہات میں سے ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے چناچہ اس کی تفصیل سورة بقر میں گزر چکی ہے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے اس کے جواب میں جگہ جگہ فرمایا کہ ان پڑھ نبی پر یہ قرآن اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ ان پڑھ شخص تو درکنار اہل کتاب بھی بغیر آسمانی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلا سکتے ہیں۔ اس لئے اب کسی کو اس میں شک کرنے کا موقع باقی نہیں رہا کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اور معجزوں کے علاوہ اللہ کے رسول ﷺ کو قرآن کا ایک ایسا معجزہ دیا گیا ہے جس کا اثر قیامت تک باقی رہے گا جس اثر سے اتنے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوں گے کہ قیامت کے دن اور امتوں سے آپ کی امت کے نیک لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔ اس ضعف اسلام کے زمانہ میں بھی فقط قرآن کے اثر سے غیر قوم کے لوگوں میں اسلام کا سلسلہ جاری ہے اس لئے یہ سلسلہ حدیث کی پیشن گوئی کا گویا ظہور ہے اور یہ حدیث قرآن کے کلام الٰہی ہونے کی قویا تفسیر ہے۔ پھر فرمایا ان سیدھی سیدھی باتوں کے سمجھانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ اللہ کے رسول اور قرآن کی مخالفت سے باز نہ آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے سرکش لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسا زبردست ہے کہ اس نے بہت سی پچھلی سرکش قوموں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا جن کے قصے گھڑی گھڑی ان لوگوں کو اس لئے سنا دیئے گئے کہ اگر یہ لوگ ان کے قدم بقدم چلیں گے تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا صاحب علم وہ ایسا ہے کہ اس سے کوئی بات ان لوگوں کی پوشیدہ نہیں ہے پھر فرمایا جو کوئی قرآن کی نصیحت کو مان کر پچھلی سرکشی سے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرنے اور اس کے پچھلے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے نہیں تو اس کا عتاب بہت سخت اور اس کی قدرت بہت بڑی ہے اس کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ پھر فرمایا جو صفتیں بیان کی گئیں جب وہ مخلوقات میں سے کسی میں نہیں پائی جاتیں تو لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے جس کے رو برو حساب و کتاب اور نیک و بد کی جزا و سزا کے لئے سب کو حاضر ہونا ہے صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی (1 ؎ صحیح مسم باب سقوط الذنوب بالاستغفار و التوبہ ص 354 ج 2۔ ) ہے جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنی غفور رحیمی کی صفت ایسی پیاری ہے اگر دنیا کے موجودہ لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ ایسے لوگ پیدا کرتا جو گناہ کر کے توبہ استغفار کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرکے ان کے گناہوں کو معاف کرتا یہ حدیث غافر الذنب و قابل التوب کی گویا تفسیر ہے۔ اسی طرح صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث اور بخاری وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو کچھ عذاب الٰہی کا حال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ میں بیان کروں تو لوگ گھر بار بال بچے چھوڑ کر جنگل کو نکل جائیں اور سوا رونے کے دوسرا کوئی کام نہ کریں یہ حدیثیں شدید العقاب کی گویا تفسیر ہیں پچھلی امتوں کے طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوجانے کے جتنے قصے گزرے وہ سب ذی الطول کی گویا تفسیر ہیں کیونکہ ان قصوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ جس کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ بعضے سلف نے ذی الطول کے معنی صاحب فضل و کرم کے کئے ہیں اس صورت میں شدید العقاب ذی الطول کا یہ مطلب ہوگا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے اسی طرح اس کا فضل و کرم بھی بڑا ہے کہ وہ گناہ گاروں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب کیف نزل الوحی ص 744 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری کتاب الرقاق ص 960 ج 2۔ )
Ayahs 40:4–9

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور امتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بےہودہ (شبہات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا ؟

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اسکے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومنوں کیلئے بخشش مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ سے بچا لے

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو انکے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور انکی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی بیشک تو غالب حکمت والا ہے

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور انکو عذابوں سے بچائے رکھ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بیشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے

4۔ 9۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی 3 ؎ حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ حارث بن قیس سہیمی وغیرہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے آکر جھگڑا کیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے باب میں طرح طرح کی بےادبی کے لفظ منہ سے نکالا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام سے مخالفت کر کے ابھی تک جو کسی وبال اور عذاب الٰہی میں نہیں پکڑے گئے اور چین سے شہر بشہر تندرستی اور آرام سے گزر کر رہے ہیں اے نبی اللہ کے ان لوگوں کے اس حال پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے ان کا کفر تو اللہ کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے مگر اللہ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے وقت آتے ہی حضرت نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک جو اللہ کے رسولوں کے مخالف لوگوں کا انجام ہوا وہی ان لوگوں کا انجام ہوگا اللہ کے کلام میں ایک تو جھگڑا ان کافر لوگوں کا یہ تھا کہ اللہ کے کلام کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے یہ صریح کفر ہے لیکن کلام الٰہی اللہ کا کلام مان کر اس طرح جھگڑا اور فساد ان میں نکالنا جس سے کوئی فتنہ پیدا ہو یا کوئی بدعت رواج پکڑے یہ بھی عذاب الٰہی آجانے کی بات ہے صحیح مسلم 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے جس کا یہ حاصل ہے کہ ایک روز دو صحابیوں کو آنحضرت ﷺ نے قرآن کی ایک آیت کے مطلب میں اختلاف کرتے اور جھگڑتے دیکھا یہ حال دیکھ کر نہایت غصہ سے آپ نے فرمایا کہ پچھلی امتیں اس طرح کے اختلاف اور جھگڑے سے غارت ہوگئیں۔ امام نووی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ کسی حق بات کے معلوم کرنے کی نیت سے یا صحیح مسئلہ کے دریافت ہوجانے کی غرض سے اختلاف ہو تو شریعت میں اس کی اجازت ہے اور اگر لوگوں کو شک و شبہ اور فتنہ میں ڈالنے کے طور پر یا بدعت کے رواج دینے کے طور پر اختلاف ہو تو حرام ہے اور اسی طرح کے اختلاف نے اہل کتاب کو ہلاک کیا سورة الشعراء میں گزر چکا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم نے پتھروں سے کچل ڈالنے کا ارادہ کیا تھا سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ قریش نے خاتم الانبیا ﷺ کو قید کرنے یا شہید کر ڈالنے کا قصد کیا تھا۔ مخالف لوگوں کی ان ہی باتوں کو و ھمت کل امۃ برسولھم لیا خدوہ فرمایا مطلب یہ ہے کہ ہر امت کے مخالف لوگ رسولوں کو ایذا کے ہمیشہ درپے رہے اور چاہتے رہے کہ رسولوں کو پکڑ کر جس طرح کی ایذائیں پہنچائی جائیں اس میں کوتاہی نہ کی جائے اب آگے اللہ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ کے رسول کے حکم میں خلاف شریعت کوئی جھگڑا اور اختلاف نہیں کرتے اور اللہ کی مرضی کے موافق اللہ کے حکم پر ایمان لاتے ہیں ان لوگوں کا یہ رتبہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرش اٹھانے والے اور عرش کے پاس حاضر رہنے والے مقرب فرشتے ایسے لوگوں کے حق میں رات دن مغفرت کی دعا اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں۔ صحیح 2 ؎ مسلم حضرت ابو درد ؓ اسے اور ترمذی اور ابودائود میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ انسان دوسرے انسان کے حق میں پیٹھ پیچھے دعا کرے تو اس دعا کو اللہ قبول فرماتا ہے اب یہ ظاہر بات ہے کہ فرشتوں کی پیٹھ پیچھے کی یہ دعا جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور فرشتے جو عرش معلیٰ کے پاس رہنے والے مقرب فرشتے ہیں ان کی دعا کس قدر مقبول ہونے کا درجہ رکھتی ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے کلام میں طرح طرح کی حجتیں نکالتے ہیں اللہ کی وحدانیت کو نہیں مانتے اور اللہ کے رسول کی ایذا کے درپے ہیں وہ چند روز دنیا کی خوشحالی کو برت لیں بعد اس کے قوم نوح عاد ثمود قوم لوط اور رسولوں کے مخالف لوگوں کا جو انجام ہوا وہی ان کا ہوگا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ شیطان اور اس کی پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن دوزخ میں جھونکا جائے گا۔ پھر فرشتوں کی دعا ذکر فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ دنیا میں جو لوگ ہماری طرح تیری توحید پر قائم ہیں ان کے گناہ معاف فرما کر انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا کیونکہ تیری رحمت بہت بڑی ہے کہ اپنی رحمت سے تو جس کو چاہے دوزخ کے عذاب سے بچا سکتا ہے اور تیرا علم ایسا وسیع ہے کہ نیکوں اور بدون کا دلی ارادہ تک تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے اس لئے جن نیک لوگوں کے رشتہ داروں کے دل میں تیری وحدانیت تو ہو مگر نیک عملوں کے حساب سے ان کو جنت کا اعلیٰ درجہ نہ مل سکتا ہو تو ان سب کو جنت کا اعلیٰ درجہ عنایت فرما تاکہ سب رشتہ دار جنت کا اعلیٰ درجہ پا کر خوش ہوں کیونکہ تو بڑا زبردست ہے جو چاہے وہ کرسکتا ہے اور تیری حکمت ایسی بڑی ہے کہ تو نے اپنی حکمت اور تدبیر سے ایک کام کا سبب دوسرے کام کو ٹھہرا رکھا ہے مثلاً گناہ گاروں کی بخشش کا سبب تو نے شفاعت کو ٹھہرایا ہے اس واسطے کم نیک عمل رشتہ داروں کے حق میں ہماری شفاعت ہے کہ ان کو بھی جنت کا اعلیٰ درجہ اس طرح عنایت فرما کہ ان کے کچھ گناہ دوزخ کی سزا کے قابل ہوں تو اس سزا سے بالکل ان کو بچا دے کیونکہ قیامت کے دن سزا سے بالکل بچ کر جنت میں داخل ہوجانا تیری رحمت کے آگے تو کچھ بھی نہیں مگر گناہ گاروں کے حق میں یہ بہت بڑی کامیابی کی صورت ہے۔ طبرانی 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ قیامت دن بعضے جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور بی بی بچوں کا حال فرشتوں سے پوچھیں گے وہ سب کہاں ہیں فرشتے کہیں گے ان کے اعمال اس قابل نہ تھے کہ اس درجہ کی جنت میں داخل ہوتے جہاں تم ہو یہ جنتی لوگ اللہ سے دعا کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک جگہ اعلیٰ درجہ کی جنت میں اکٹھا کر دے گا۔ طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الرحمن بن غزوان ضعیف ہے لیکن یہ روایت مسند بزار میں بھی ہے اور مسند بزار کی سند میں یہ راوی نہیں ہے اس لئے ایک روایت سے دوسری کو تقویت ہوجاتی ہے صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ ؓ بن عمر کی حدیث ایک جگہ گزر کی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعضے گنا گاروں کو ان کے گناہ یاد لائے گا جب وہ لوگ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کے وہ گناہ معاف فرما دے گا۔ جنت کا درجہ بڑھ جانے کی اور بغیر سزا کے جنت میں داخل ہوجانے کی فرشتوں کی جو دعا ان آیتوں میں ہے یہ حدیثیں اس کی تفسیر ہیں کیونکہ اس دعا کے مضمون کے موافق قیامت کے دن جو عمل ہوگا اس کا حال ان حدیثوں سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے۔ (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 346 ج 5۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم کتاب العلم ص 339 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب فضل الدعاء للمسلمین بظھر الخیب ص 351 ج 2۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 72 ج 4۔ ) (2 ؎ مسلم شریف باب سحۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ الخ ص 360 ج 2)
Ayahs 40:10–13

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے ؟

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اتارتا ہے اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

10۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ جو لوگ شیطان کی پیروی کریں گے ان سے اور شیطان سے دوزخ کو بھرا جائے گا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آ کر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہر کریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے۔ ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر ان کو قائل کرنے کے لئے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بیزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی سے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بیزار تھا۔ یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی اس بیزاری کا نتجیہ ہے اب یہ عذاب کسی طرح نہیں ٹل سکتا۔ فرشتوں کی یہ جھڑکی سن کر دوزخی لوگ اللہ سے عرض کریں گے یا اللہ تو موت دے چکا ہم کو دو دفعہ اور زندگی دے چکا دو دفعہ پیدا ہونے سے پہلے ہم بالکل بےجان تھے تو نے ہم کو پیدا کیا پھر ہم جاندار ہوئے پھر عمر پوری ہوجانے کے بعد تو نے ہم کو بےجان کیا اور حساب و کتاب اور سزا و جزا کے لئے دوبارہ زندہ کیا اس لئے حشر کے انکار کے جرم کا اور باقی سب جرموں کا اب ہم کو اقرار ہے اگر دوبارہ ہم کو دنیا میں بھیج دیا جائے تو ہم حشر کے اقرار پر قائم رہیں گے اور حشر کے سامان کے لئے نیک کام کریں گے اس کا جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ملے گا کہ پہلی دفعہ جو تم لوگوں کو پیدا کیا تو تمہارا دنیا میں یہ حال تھا کہ خالص اللہ کا نام لینے سے تم کو نفرت تھی اور بتوں پر تمہارا ایمان تھا اب اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ اگر تم کو دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تو تم وہی کرو گے جو پہلی دفعہ کر کے آئے اس واسطے تم کو دوبارہ دنیا میں بھیجنا لاحاصل ہے بلکہ اللہ بلند مرتبہ اور بزرگ کا تمہارے حق میں یہی حکم ہے کہ جو کچھ تم کر کے آئے ہو اس کی سزا بھگتو اب آگے فرمایا ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے اللہ کی قدرت کی ایسی بہت سی نشانیاں ہیں جن سے یہ حشر کا یقین کرسکتے ہیں مثلاً ایک مینہ کی نشانی ایسی ہے جو حشر کے یقین کے لئے کافی ہے کیونکہ پہلے سال کے اناج کے ہرے دانے اور ہر ایک میوہ کی تازی گٹھلیاں دوسرے سال تک سوکھ کر بالکل مردہ ہوجاتی ہیں جن کو مردہ کی طرح یہ لوگ بیج ڈالنے کے وقت زمین میں دفن کرتے ہیں پھر جو صاحت قدرت آسمان پر سے مینہ برسا کر ان مردہ دانوں سے ہزاروں ہرے دانے اور ان سوکھی گٹھلیوں سے ہزاروں تر و تازہ میوے سال بہ سال پیدا کرتا ہے اس کی قدرت سے یہ کیا بعید ہے کہ ایک مینہ کی تاثیر سے ان کے پتلے تیار ہوجائیں اور جس طرح ماں کے پیٹ میں ان کے پتلوں میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح ان پتلوں میں روح پھونک دی جائے رہی یہ بات کہ مرنے کے بعد جنگل اور دریا میں ان کی خاک جو رواں دواں ہوجائے گی وہ کیونکر جمع ہوگی تو اس کا جواب بھی ان کو سمجھا دیا گیا ہے کہ وہ خاک جہاں جہاں جائے گی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق اس کا سب پتہ اور نشان پہلے ہی سے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے سب جسم تیار ہوجائیں اس کے بعد ان جسموں میں دوسرے صور سے روحیں پھونک دی جائیں گی جس کا ذکر سورة 1 ؎ الزمر میں گزرا حاصل کلام یہ ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ حشر کو کھیتی کی مثال سے جو سمجھایا گیا ہے اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے آخر کو فرمایا کہ ان مثالوں کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں فرمانبردار ٹھہر چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نافرمان قرار پا چکے ہیں ان کو ان مثالوں سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیریں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مرنے کے بعد تو نافرمان لوگ دنیا میں دوبارہ آنے اور نیک کام کرنے کی آرزو ظاہر کریں گے مگر اب جب تک وہ لوگ دنیا میں ہیں تو نیک کاموں کی نصیحت ان کے حق میں ایسی رائیگاں ہیں جیسے بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ (1 ؎ تفسیرہذا جلد ہذا ص 83۔ ) (2 ؎ بخاری شریف باب فضل من علم و علم ص 18 ج 1۔ )
Ayahs 40:14–20

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو خدا کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی، آج کس کی بادشاہت ہے ؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی، بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہیں ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے، بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

14۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے جھگڑے اللہ کے حکم کے ماننے میں نکالتے تھے پھر فرمایا تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں سے وہی لوگ نصیحت پاسکتے ہیں جن کا دل خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رجوع اور مائل ہے اب ان آیتوں میں ان ہی صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت کئے جائو اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرو صحیح و مسلم 1 ؎ ابوداو ود و نسائی میں حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ہمیشہ فرضوں کے بعد کلمہ توحید پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے یا اللہ ہم سوا تیرے کسی کی عبادت نہیں کرتے اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ کافر لوگ ناخوش ہوں تو ہوں حقیقت میں خالص دین اور خالص عبادت اللہ ہی کا حق ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے انبیا کا جن کے سبب سے خالص عبادت الٰہی کی ہدایت لوگوں کو ہوتی ہے اور خالص عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک رتبہ کے موافق قیامت کے دن بلند فرمائے گا۔ قتادہ 2 ؎ کے قول کے موافق یہاں روح کے معنی وحی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کسی کو نبوت کے قابل پاتا ہے اس کو نبی مقرر کر کے بذریعہ وحی کے اپنے نبی پر اس لئے احکام بھیجتا ہے کہ وہ اللہ کے نبی لوگوں کو قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرا دیں اسی واسطے صحیحین 3 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری اور امت کے لوگوں کی مثال ایسی ہے جس طرح کوئی شخص آگ جلائے اور آگ کی روشنی کے گرد کیڑے پتنگے جمع ہو کر اس آگ میں گرنا اور جلنا چاہیں اور وہ آگ جلانے والا شخص ہرچند ان کیڑوں پتنگوں کو روکے مگر وہ نہ مانیں اور آخر آگ میں گر کر جل جائیں اسی طرح امت کے لوگوں کو کمر پکڑ پکڑ کر میں عذاب الٰہی کی آگ سے ان کو روکتا ہوں مگر وہ نہیں مانتے اور آگ میں گرنے کے کام کرتے ہیں۔ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم میں سہل ؓ بن سعد کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس دوسری نئی زمین پر لوگ حشر کے میدان میں کھڑے کئے جائیں گے اس زمین پر نہ کسی مکان اور پہاڑ کی کچھ علامت ہوگی نہ اور کچھ آڑ ہوں گی بلکہ صاف میدان چٹیل ہوگا اسی واسطے آگے کی آیت کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حشر کے دن جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو ان کی کوئی چیز اللہ سے چھپی نہ رہے گی اور اس دن نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک ہوگا اور برائی کی سزا میں کچھ زیادتی نہ ہوگی اس واسطے فرمایا اس دن کچھ ظلم نہ ہوگا۔ صحیح و مسلم 5 ؎ کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔ اس حدیث سے لاظلم الیوم کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ عذاب کی دہشت سے لوگوں کے دل ٹھکانے نہ رہیں گے اسی کو اذا القلوب لدی الحناجر فرمایا۔ صحیح بخاری 6 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اور ترمذی ابن ماجہ میں عوف بن مالک کی روایت سے ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا شفاعت اہل کلمہ گناہ گاروں کے لئے ہوگی اسی واسطے مشرکوں کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کا قیامت کے دن نہ کوئی دوست ہوگا نہ شفاعت کرنے والا ہوگا یہ جو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کی چوری کو جانتا ہے اس آنکھ کی چوری کی تفسیر آنکھ کے اشارہ سے بات کرنے کی بڑی صحیح تفسیر ہے کیونکہ ابو داؤود 1 ؎ اور نسائی کی مرفوع روایت میں یہ تفسیر آچکی ہے۔ سوا اس تفسیر کے اور تفسیرین جو مفسروں نے بیان کی ہیں وہ مرفوع حدیث سے کم درجہ کی ہیں اس مرفوع حدیث کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ ؓ بن سرح کے قتل کا حکم آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے بعد دیا مگر عبد اللہ نے آنکھ بچا کر آنحضرت سے بیعت کا ارادہ کیا جب آنحضرت ﷺ نے عبد اللہ کی بیعت کا حال سنا تو صحابہ سے فرمایا کہ جب عبد اللہ بیعت کے ارادہ سے آرہا تھا تو تم میں سے کسی نے اس کو روک لیا ہوتا صحابہ نے عرض کیا کہ اگر آپ ہم کو اشارہ سے فرما دیتے تو ہم لوگ عبد اللہ کو آپ تک آنے سے ضرور روک دیتے آپ نے اس وقت یہی آیت میں کا کلمہ فرمایا کہ اللہ کے رسول کو خائنۃ الاعین جائز نہیں ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ مشرک لوگ تو بغیر بتوں کی تعظیم کے کبھی خوش نہیں رہ سکتے اس لئے ہر ایماندار کو چاہئے کہ وہ خالص اللہ کی عبادت میں لگا رہے اور ان مشرکوں کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرے۔ درجات کے معنی اگر مخلوقات کے مرتبوں کے لئے جائیں گے تو حاصل مطلب وہی ہوگا جو اوپر بیان کیا گیا کہ خالص دل سے اللہ کی عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک کے رتبہ کے موافق قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بلند فرمائے گا اور درجات کے معنی اگر اللہ تعالیٰ کی صفات کے لئے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے صفات میں بہت بالا تر ہے اس واسطے کوئی اس کا شریک نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن تفسیر سورة المجادلہ کی آیت یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات کے موافق ہے کیونکہ جو مطلب اس تفسیر کا ہے وہی مطلب اس آیت کا ہے اس واسطے یہی تفسیر قوی معلوم ہوتی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور بندوں کی ملاقات ہوگی اس واسطے اس کو ملاقات کا دن فرمایا۔ آخر کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی بات کو سنتا ہر ایک کے کام کو دیکھتا ہے اس واسطے قیامت کے دن نیک و بد کا وہی انصاف سے فیصلہ کرے گا جن نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں وہ قیامت کے دن ان مشرکوں سے بیزار ہوجائیں گے اور یہ بت تو بالکل بت ہی ہیں نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان نہ ان میں نیک و بد کے سمجھنے کی عقل اس لئے یہاں دنیا میں یہ مشرک لوگ اپنے بتوں کو مان لیں قیامت کے دن تو ان مشرکوں کا پورا فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہوگا۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب استحباب الذکر بعد الصلوۃ وصفۃ ص 218 ج 1۔ ) (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 348 ج 5۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم باب مثل ما بعث النبی ﷺ الخ ص 348 ج 2۔ ) (4 ؎ صحیح بخاری باب یقض اللہ الارض ص 565 ج 2۔ ) (5 ؎ صحیح مسلم باب تحریم الظلم ص 319 ج 2۔ ) (6 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی الحوض و الشفاعۃ ص 489۔ ) (1 ؎ ابو دائود کتاب الحدود باب الحکم فیمن ارتد۔ ص 9۔ )
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ اس نے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا، وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا

21۔ اوپر کھیتی کی مثال سے قریش کو حشر کا یقین ہونا اس لئے سمجھایا گیا تھا کہ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے اور عمر بھر کے حساب اور کتاب کا خوف ہوگا وہ اللہ کے رسول کے جھٹلانے اور نافرمانی کی باتوں کی کبھی جرأت نہ کرے گا اب قریش کو یہ بات یاد دلائی کہ ملک شام اور ملک یمن کے سفر میں ان لوگوں کو پچھلی ان قوموں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں جو لوگ ان سے قوت اور ثروت میں ہر طرح بڑھ کر تھے لیکن نافرمانی کے جرم میں جب پکڑے گئے تو وہ ان کی قوت اور ثروت کچھ کام نہ آئی اور بہت سے اپنی ثروت کی نشانیاں چھوڑ کر آخر ہلاک ہوگئے۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی انجانی کا عذر باقی نہ رکھنا بہت پسند ہے اسی واسطے اس نے آسمانی احکام دے کر رسول بھیجے۔ صحیح 2 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح سے لے کر قوم فرعون تک پچھلی جتنی قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئیں ان کو اللہ تعالیٰ نے انجانی کی حالت میں ظلم کے طور پر ہلاک نہیں کیا کیونکہ انجانی کے عذر کو رفع کردینا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور ظلم کو اس نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک قوم کی ہدایت کے لئے آسمانی احکام دے کر رسول بھیجے لیکن جب ان لوگوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی سزا میں ان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اور اللہ کے عذاب سے ان لوگوں کی قوت ثروت کوئی چیز انہیں بچا نہ سکی۔ (1 ؎ صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول النبی ﷺ شخص اغیر من اللہ ص 1103 ج 2۔ ) (2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 94۔ )
Ayahs 40:22–28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے، سو خدا نے ان کو پکڑلیا بیشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلا لے، مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو (نہ) بدل دے یا ملک میں فساد (نہ پیدا) کردے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے ؟ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا، اور اگر وہ سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا، بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہو

22۔ 28۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو عقبیٰ کے خوف کی باتوں سے ڈرایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور نیک و بد کا ذرا ذرا حساب ہوگا اور جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور اپنے بتوں سے شفاعت کی توقع رکھتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے وہاں مشرکوں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا پھر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے بہت لوگ ان سے پہلے ہلاک ہوچکے ہیں جن کا حال انہوں نے ملک شام و یمن کے سفر میں سنا ہوگا اور جو کچھ عمارتیں ان پچھلے لوگوں کی باقی رہ گئی ہیں ان کے دیکھنے سے ان کو معلوم ہوا ہوگا کہ وہ لوگ ان سے دنیا کی ثروت میں بڑھ کر تھے ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ان پچھلے لوگوں کی طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہونا فقط اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب تھا اور ان پچھلے لوگوں میں سب سے آخر فرعون کی قوم جو ہلاک ہوئی تھی اس کا قصہ بھی مثال کے طور پر ذکر فرما دیا یہ اوپر گزر چکا ہے کہ پچھلے زمانہ کی کسی تاریخی بات کو یاد دلا کر مشابہت کے طور پر موجودہ زمانہ کی کسی بات کے انجام کو ذہن نشین کرنا کسی مطلب کے ثابت کرنے کے لئے ایک بڑا عمدہ طریقہ ہے اسی مطلب کے لئے قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے لوگوں کے قصے ذکر فرمائے گئے ہیں اگرچہ قارون بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن توراۃ کے زکوٰۃ کے حکم پر موسیٰ کی نبوت کا منکر ہو کر ان کو جادوگر کہنے لگا تھا 1 ؎۔ اکثر علمائے مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون نے نجومیوں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کا حال سن کر ایک دفعہ حضرت موسیٰ کی پیدائی سے پہلے بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کئے جانے کا حکم دیا تھا اور حضرت موسیٰ کے پیدا ہوجانے کے بعد جب فرعون کی قوم کے لوگوں نے یہ شکایت کی تھی کہ بنی اسرائیل میں کے بڑی عمر کے لوگ آخر اپنی موت سے مرجاویں گے اور ان کے لڑکے قتل کردیئے جائیں گے تو بنی اسرائیل کی نسل منقطع ہوجائے گی اور محنت مزدوری کا کام جو بنی اسرائیل کے ذمہ ہے اس میں بڑا فتور پڑجائے گا اس شکایت پر فرعون نے وہ حکم ملتوی کردیا تھا اب حضرت موسیٰ کے نبی ہو کر مصر آنے کے بعد پھر وہ حکم جاری کردیا تھا پہلی دفعہ یہ حکم فرعون نے اس غرض سے دیا تھا کہ حضرت موسیٰ دنیا میں پیدا ہو کر جینے اور پلنے نہ پائیں اور دوسری دفعہ یہ حکم اس غرض سے دیا تھا کہ بنی اسرائیل پر ایک طرح کا رعب قائم رہے اور بنی اسرائیل کی جماعت بھی زیادہ بڑھنے نہ پائے لیکن تقدیر الٰہی کے موافق جو کچھ ہونا تھا وہ آخر ظہور میں آیا جب فرعون حضرت موسیٰ کے مقابلے سے عاجز آیا تو اس نے اپنی قوم کے سرداروں سے یہ مشورہ لیا تھا کہ حضرت موسیٰ کو قتل کر ڈالے اس مشورہ کے وقت اس پوشیدہ ایماندار قبطی کو جوش آیا اور اس نے قوم کو وہ نصیحت کی جس کا ذکر آگے آتا ہے بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ یہ پوشیدہ ایماندار بنی اسرائیل میں کا ایک شخص تھا یہ قول قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہے کیونکہ آگے کی آیتوں میں اس ایماندار شخص نے فرعون اور اس کی قوم کو نصیحت جو کی ہے تو اس میں میری قوم میری قوم کہہ کہہ کر نصیحت کی ہے بنی اسرائیل میں کوئی شخص قبطی لوگوں کو میری قوم میری قوم کیونکر کہہ سکتا تھا علاوہ اس کے جب فرعون خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل پر آمادہ تھا تو ایسی حالت میں بیر اسرائیل کا کوئی شخص اگر جرأت کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے باب میں فرعون کو اتنی بڑی نصیحت کرتا تو فرعون ضرور اس کو سزا دیتا اسی واسطے امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس 2 ؎ نے یہی تفسیر کی ہے کہ وہ ایماندار شخص قبطی تھا اور قوم قبطی میں سے یہ تین شخص حضرت موسیٰ پر ایمان لائے تھے ایک یہ شخص اور ایک فرعون کی بی بی اور ایک وہ شخص جس کا ذکر سورة قصص میں گزرا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک قبطی کا خون ہوگیا اور قبطی لوگوں نے حضرت موسیٰ کے قتل کا مشورہ کیا تو اس نے حضرت موسیٰ کو اس مشورہ کی خبر اور مصر سے کہیں چلے جانے کی صلاح دی تھی۔ فرعون کی قوم کو قبطی قوم کہتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے ارادہ کو فرعون نے جب ظاہر کیا تو غرور سے یہ بھی کہا کہ جس اللہ کی مدد کا موسیٰ کو دعویٰ ہے وہ اپنے اللہ کو مدد کے لئے اور قتل سے بچا دینے کے لئے بلائے اور قوم کے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ موسیٰ کا زندہ چھوڑ دینے میں مجھ کو یہ خوف ہے کہ وہ تمہارے قدیمی دین کو بدلنے اور نئے دنی کے پھیلانے میں ایک فساد برپا کر دے گا صحیح بخاری 1 ؎ اور مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ سے گزر چکی ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی قرار پا چکے ہیں ان کو دوزخیوں کے سے کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اگرچہ فرعون تمام ملک مصر کے جادوگروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں پیش کرکے عاجز ہوچکا تھا لیکن پھر بھی اس کو یہی بات اچھی معلوم ہوتی تھی کہ وہ ملعون موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر اور ان کے معجزہ کو جادو کہے اور شریعت موسوی کی باتوں کو خرابی اور فساد کی باتیں بتلائے۔ فرعون کے اس ارادہ کا حال سن کر موسیٰ (علیہ السلام) نے منکر حشر لوگوں کی ایذا سے اس لئے اللہ کی پناہ مانگی کہ جن لوگوں کے دل میں ایک دن اللہ کے رو برو کھڑے ہونے کا خوف ہے وہ اس طرح قتل ناحق کے درپے نہیں ہوتے اس قبطی دیندار شخص کی نصیحت کا حاصل یہ ہے کہ اے قوم کے لوگوں کیا تم ایسے شخص کے قتل ناحق کے درپے ہو کر جو اللہ کو معبود اور اپنے آپ کو اللہ کا رسول بتلاتا ہے اور اپنے رسول ہونے کی نشانیاں بھی اس نے تم لوگوں کو دکھا دیں۔ یہ ایک ہی نشانی کیا کم ہے کہ تم لوگ اس کو جادوگر کہتے ہو اور تمہارے بڑے بڑے جادوگر اس کے مقابلہ سے عاجز اور خلاف عادت باتوں کو تائید غیبی بتلاتے ہیں اس پر بھی میں کہتا ہوں کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں ہے تو خدا پر جھوٹ باندھنا کچھ چھوٹی بات نہیں ہے ایک دن ضرور اس پر وبال پڑے گا مگر یہ تو کہو کہ اگر وہ سچا ہے تو سچے شخص نے جس عذاب سے تم کو ڈرایا ہے اس کا کیا انجام ہوگا کیونکہ ایسے حد سے بڑھ جانے والے لوگ بار گاہ الٰہی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں جو سچوں کو جھوٹا ٹھہرا کر ضد سے انہیں قتل کر ڈالیں یہ میں نے مانا کہ آج ملک مصر کی حکومت تمہارے ہاتھ میں ہے جس کو تم چاہو قتل کرسکتے ہو لیکن قتل ناحق کے سبب سے کوئی آسمانی آفت ہم پر آگئی تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے وقت پر ہماری مدد کو کون کھڑا ہوگا بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کا ذکر سورة القصص میں موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے ساتھ ہے اور یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے ساتھ اس سے یہ قول بہت صحیح معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کا حکم فرعون نے دو دفعہ دیا تھا۔ ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ کی معتبر حدیث ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص راحت کے وقت اللہ کو یاد رکھے گا اور اس کی بارگاہ میں ہر طرح کی دعا اور التجا کرتا رہے گا تو سختی کے وقت کی اس کی التجا کو اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا۔ اس حدیث کو فرعون کے قصے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فرعون راحت کے وقت تو خدا کا منکر رہا اور ڈوبنے کی سختی کے وقت اپنے ایمان کے قبول ہوجانے کی التجا بارگاہ الٰہی میں پیش کی اس لئے اس حدیث کے موافق اس التجا کا قبول ہونا عادت الٰہی کے برخلاف ٹھہرا۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 136 ج 5۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 77 ج 4۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب کان امر اللہ قدرا مقدورا۔ ص 977 ج 2۔ ) (2 ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب الدعواث فی طریق الدعاء ص 195۔ )
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے قوم ! آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اسکے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا ؟ فرعون نے کہا میں تمہیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

29۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو شرک کے چھوڑنے اور توحید کے اختیار کرنے کا طریقہ لوگوں کو بتلاتے تھے اس کو تو فرعون نے اوپر کی آیتوں میں فسادی طریقہ بتلایا اور جس دہر یہ طریقہ پر آپ تھا کہ اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا اور لوگوں کو بت پرستی سکھاتا تھا اس طریقہ کو اس نے کہا کہ یہی بھلائی کی راہ ہے یہ باتیں فرعون کی کچھ اس سبب سے نہیں تھیں کہ فرعون یا اس کی قوم کو خدا کی خدائی یا حضرت موسیٰ کی نبوت کا کسی طرح یقین نہ آیا ہو بلکہ متواتر معجزے دیکھ کر فرعون اور اس کی قوم کے دلوں میں یہ بات یقینی طور پر آچکی تھی کہ جو باتیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ظہور میں آتی ہیں وہ باتیں بڑے بڑے جادوگروں سے جب نہیں ہوسکتیں ہیں تو بلاشک بغیر تائید غیبی کے وہ باتیں نہیں ہیں لیکن نخوت اور تکبر کے سبب سے وہ لوگ حضرت موسیٰ کی باتوں کو فساد کی باتیں بتلاتے تھے چناچہ سورة النمل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وجحدوا بھاوا استیقنتھا انفسھم ظلما و علوا جس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کو اگرچہ تائید غیبی جان گئے تھے مگر سرکشی اور نخوت کی راہ سے ان کو نہیں مانتے تھے اسی واسطے فرعون نے جب ڈوبتے وقت خدا کی خدائی کا اقرار کیا تو حضرت جبرئیل نے اس کے منہ میں مٹی بھر دی کہ عمر بھر تو جان بوجھ کر خدا کا منکر رہا اب بےوقت خدا کی خدائی کا اقرار کرنے سے کیا ہوتا ہے یہ قصہ سورة یونس میں گزر چکا ہے معتبر سند سے مسند امام احمد 1 ؎ اور طبرانی کبیر میں ابوامامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت ایمان کی نشانی کیا ہے آپ نے فرمایا جب تجھ کو نیکی اچھی معلوم ہونے لگے اور برائی بری نظر آنے لگے اس وقت جان لیجیو کہ تو مسلمان ہے اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بڑا عام قاعدہ بتلایا کیونکہ برائی میں کفر شرک بدعت اور تمام گناہ سب داخل ہیں اب جو لوگ ایسے ہیں کہ کفر اور شرک کی باتیں بھی ان کو اچھی معلوم ہوتی ہیں جس طرح فرعون اپنے دہریہ طریقہ کو بھلائی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی توحید کے طریقہ کو فساد بتلاتا تھا تو یہ درجہ تو کفر کا ہے اب بعد اس درجہ کے اس عام قاعدہ سے آدمی کو اپنا حال جانچنا چاہئے جس قدر شرعی برائی کا خوف اس کے دل سے اٹھ گیا اسی قدر اس کے ایمان میں خلل ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب الایمان الفصل الثالث ص۔ )
Ayahs 40:30–35

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے میری قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور امتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

(یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے میدان سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذابِ ) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا، اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا، اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے، اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے

30۔ 35۔ اس ایماندار شخص کی نصیحت کے بیچ میں وہ بات فرعون نے کہہ دی تھی جس کا ذکر اوپر کی آیت میں تھا اب پھر اس ایماندار شخص کی نصیحت کا سلسلہ شروع ہوا اس ایماندار شخص نے اپنی اس نصیحت میں یہ جو کہا کہ مصر کے لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد یوں کہتے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیچھے اللہ تعالیٰ اور کوئی پیغمبر نہ بھیجے گا اس سے یہ مطلب اس ایماندار شخص کا نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیغمبری کے مصر کے لوگ قائل تھے کیونکہ انہی آیتوں میں ہے فماز لتم فی شک مما جاء کم بہ جس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کے دھوکے طرح تم یوسف (علیہ السلام) کے معجزوں سے بھی دھوکے میں رہے اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہیں کہ مصر کے لوگ اب جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد اپنی عقل سے یوں کہنے لگے کہ اب کوئی شخص ! اللہ تعالیٰ ایسا نہ بھیجے گا جو حضرت یوسف کی طرح اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہے مصر کے لوگوں نے محض اپنی عقل سے جو یہ ایک بات غیب کی منہ سے نکالی کہ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف کے بعد کوئی پیغمبر نہ بھیجے گا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو گمراہ اور حد سے گزر جانے والا فرمایا غیب کی اور دین کی باتوں میں محض عقل سے کوئی بات منہ سے نکالنی بڑی اندیشہ کی بات ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم میں جندب بن عبد اللہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک شخص نے ایک شخص کو قسم کھا کر یہ کہہ دیا تھا کہ خدا تجھ کو نہ بخشے گا خدا تعالیٰ نے محض اتنی بات پر کہ اس قسم کھانے والے شخص نے ایک غیب کی بات اللہ تعالیٰ کے حق میں کیوں منہ سے نکالی اس قسم کھانے والا شخص کے نیک عمل اکارت کردیئے اور جس شخص کے باب میں اس شخص نے قسم کھائی تھی اس کی مغفرت فرما دی یہ تو غیب کی بات بغیر جانے بوجھے منہ سے نکالنے کا انجام ہوا اسی طرح دین میں کسی چیز کو بغیر شرعی دلیل کے اپنی طرف سے حلال یا حرام ٹھہرانے کا انجام بھی برا ہے اسی واسطے آنحضرت ﷺ نے صحیح بخاری 2 ؎ کی حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت میں فرمایا کہ جو کوئی شخص اسلام کے پھیل جانے کے بعد اسلام سے پہلے کی جاہلیت کے زمانے کی باتوں کو رواج دے گا اس شخص سے بڑھ کر خدا کے نزدیک کوئی برا نہیں پچھلی قوموں میں سے ہر ایک قوم کو ایک دن عذاب کے آنے کا جو پیش آیا ہے اسی کو یوم الاحزاب کہا گیا ہے مطلب یہ ہے مجھ کو اندیشہ ہے کہ ان فرقوں کے عذاب کے دنوں میں کا کوئی دن کہیں قبطی قوم کے سامنے نہ آجائے قوم لوط کی ہلاکت کا قصہ والذین من بعلھم کی گویا تفسیر ہے کیونکہ قوم لوط کی ہلاکت ثمود کے بعد ہے صحیح مسلم 1 ؎ کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔ یہ حدیث وما اللہ یزید ظلما للعباد کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس لئے وہ اپنے بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ یوم التناد کی تفسیر اکثر سلف نے قیامت کے دن کی صحیح قرار دی ہے کیونکہ اس دن کی ہانک پکار سب دنوں سے زیادہ ہے حساب و کتاب کے بعد حساب و کتاب کے مقام کی طرف سے پیٹھ پھیر کر پل صراط پر گزرنے کے لئے سب لوگ جو دوڑیں گے اسی مطلب کو یوم تولون مدبرین سے ادا فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق جس کو لوح محفوظ میں گمراہ لکھ دیا کوئی اس کو راہ راست پر نہیں لاسکتا اسی مطلب کو ومن یضلل الہ فمالہ من ھاد سے ادا فرمایا گیا ہے۔ سورة الانبیا میں گزر چکا ہے۔ وجعلنا ھم ائمۃ یھدون بامرنا اور سورة التغابن میں آئے گا۔ ومن یومن باللہ یھد قلبہ ان دونوں آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ہدایت کے لئے جو احکام اللہ تعالیٰ نے انبیا کی معرفت بھیجے ہیں اللہ کے علم غیب میں جو لوگ نیک ٹھہر چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دل میں ایک توفیق پیدا کردیتا ہے جس سے وہ لوگ ان احکام کی پابندی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اسی طرح جو لوگ اللہ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں نہ وہ احکام الٰہی کی پابندی کی طرف مائل ہوتے ہیں نہ ان کے دل میں وہ توفیق پیدا ہوتی ہے بلکہ ایسے لوگوں کو اللہ ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اس لئے ایسے لوگوں کو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا حاصل کلام یہ ہے کہ سورة الانبیا اور سورة التغابن کی دونوں آیتوں کا مطلب آیت ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد کے ساتھ ملایا جائے تو اس آیت کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ آگے فرمایا کہ جو لوگ احکام الٰہی کی پابندی میں بغیر کسی سند کے جھگڑے نکالتے ہیں اللہ ‘ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار سب ان بےسند جھگڑا کرنے والوں سے بیزار ہیں اور کثرت گناہوں کے سبب سے ان بےسند جھگڑا کرنے والوں کے دلوں پر زنگ کی مہر لگ گئی ہے جس سے کوئی نیک بات ان کے دلوں پر اثر نہیں کرتی ترمذی 2 ؎ نسائی ابن ماجہ وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرنے سے آدمی کے دل پر زنگ چھا جاتا ہے۔ یہ حدیث کذلک یطبع اللہ علی عل قلب متکبر جبار۔ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے سرکش لوگوں کے دلوں پر زنگ چھا جاتا ہے اس لئے وہ احکام الٰہی کی پابندی میں بےسند جھگڑے نکالنے لگتے ہیں۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب النھی عن تقنیط الانسان من رحمۃ اللہ۔ ص 329 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری کتاب الدیات باب من طلب دم امرء مسلم بغیر حق ص 1016 ج 2۔ ) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 94۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة المطففین ص 191 ج 2۔ )
Ayahs 40:36–37

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بنوا تاکہ میں اس پر چڑھ کر راستوں پر پہنچ جاؤں

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کو اسکے اعمالِ بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ راستے سے روک دیا گیا تھا، اور فرعون کی تدبیر تو بیکار تھی

36۔ 37۔ ایمان دار قبطی کی نصیحت کے بیچ میں فرعون نے پہلی بات جو کہی تھی اسکا ذکر تو اوپر گزرا اس نصیحت کے بیچ میں فرعون کی دوسری بات ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ دہریہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کو آنکھ سے نہیں دیکھا اس لئے ہم اس کی ہستی کے قائل نہیں علمائے پابند شریعت نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جس عقل کے بھروسہ پر تم لوگوں نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے کی ہستی کا انکار کیا ہے اس عقل کو تم نے آنکھوں سے کب دیکھا ہے جو تم عقل کی ہستی کے قائل ہو اگر یہ کہتے ہو کہ عقل کی نشانیاں دیکھ کر ہم نے عقل کا اقرار کیا ہے تو پھر یہ بتلاؤ کہ اس نشانیوں والی عقل کو اور خود تم کو کس نے پیدا کیا ہے کیا یہ سب کچھ اپنے پیدا کرنے والی کی ہستی کی نشانیاں نہیں ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے انکار میں تو فرعون دہریہ تھا مگر اس ملعون میں یہ بات دہریوں سے زیادہ تھی کہ یہ اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا۔ تفسیر بیضاوی میں لکھا ہے کہ فرعون خدا کی ہستی کا منکر نہیں تھا کیونکہ اگر وہ خدا کی ہستی کا منکر ہوتا تو پھر خدا کے دیکھنے کے لئے یہ منار کیوں بنواتا لیکن سورة الشعرا میں گزر چکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا تو فرعون نے صاف کہہ دیا تھا کہ فرعون کے سوا اگر دوسرا خدا تم قرار دو گے تو تم کو قید کردیا جائے گا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملعون خدا کی ہستی کا اس قدر منکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نام لینے کو بھی قید کردینے کے قابل جرم گنتا تھا اس کی زیادہ تفصیل سورة القصص میں گزر چکی ہے اور اہل تاریخ کے قول کے حوالہ سے سورة القصص میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ ہامان نے جب یہ منار بنا کر تیار کردیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا پر مار کر اس کو گرا دیا جس کے نیچے فرعون کی قوم کے بہت سے آدمی دب کر مرگئے قتادہ 1 ؎ کا قول ہے کہ پکی اینٹوں کا بنانا پہلے پہل فرعون نے ہی نکالا ہے۔ تفسیر سدی میں اسباب السموت کے معنی آسمان کے راستوں 2 ؎ کے لئے ہیں۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جب اس ایماندار قبطی نے فرعون کو موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے روکا اور قتل ناحق پر اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو فرعون نے اپنی قوم کو بہکانے کے لئے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ موسیٰ نے اپنے خدا کا ہونا جو کہا ہے میں تو موسیٰ کی اس بات کو جھوٹ جانتا ہوں پھر میں خدا کے عذاب سے کو نکر ڈرسکتا ہوں اس پر حکم دیتا ہوں کہ پکی اینٹوں کی ایک منار اونچی بنائی جائے تاکہ شاید میں آسمان کا راستہ ڈھونڈھ لوں اور موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں۔ شیطان نے جس طرح بت پرستی دنیا میں پھیلائی حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح بخاری 3 ؎ کی روایت سے اس کا ذکر ایک جگہ گزر چکا ہے کہ قوم نوح میں کے کچھ نیک آدمی مرگئے جن کی آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا صدمہ قوم کے لوگوں کو بہت تھا شیطان نے پہلے تو قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی شکل کے بت بنا کر رکھ لئے جائیں تاکہ ان کی آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج کچھ کم ہوجائے پھر قوم کے لوگوں کی چند پشت کے بعد بت پرستی کا رواج دنیا میں پھیلا دیا۔ برے کاموں کو بھلے کر کے دکھانے اور نیک راہ سے روکنے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسی طرح کے شیطانی دھوکے میں آ کر فرعون نے اپنے آپ کو خدا کہلوایا اور بت پرستی پھیلائی اور شریعت موسوی کی باتوں کو خرابی کی باتیں بتلاتا تھا اور اپنے ان سب برے کاموں کو اچھا جانتا تھا۔ حضرت موسیٰ کے زندہ نہ رہنے کے داؤ کے لئے فرعون نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لڑکے قتل کرائے حضرت موسیٰ پر غالب آنے کے داؤ کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور جادو گروں کا مقابلہ کرایا آسمان پر چڑھنے کے لئے مینار کے بنانے کا حکم دیا مگر کسی داؤ میں اس کو کچھ کامیابی حاصل نہیں ہوئی اسی واسطے فرمایا فرعون کا جو داؤ تھا وہ مرنے کھپنے کا تھا۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثر ص 351 ج 5۔ ) (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 351 ج 5۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری باب وداولا سواعا و لایخوث و یعوق و نسرا ص 732 ج 2۔ )