Ayahs 40:38–4538۔ 45۔ ایماندار قبطی کی نصیحت کا سلسلہ یہاں سے پھر شروع ہوا۔ سورة الاعراف 1 ؎ میں گزر چکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ٹڈیوں کی مینڈکوں کی غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخر ہر آفت کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی التجا کی گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا۔ اسی بات کو ایماندار قبطی نے قوم کے لوگوں کو سمجھایا ہے کہ سبیل الرشاد کہہ کر جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلا رہا ہے اس طریقہ میں ہرگز کچھ بھلائی نہیں ہے کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور پہنچتی ہاں جس طریقہ کی پابندی کی موسیٰ (علیہ السلام) نصیحت کرتے ہیں بھلائی کا طریقہ وہ ہے کہ اس کے طفیل سے تمہاری سب آفتیں رفع دفع ہوگئیں اور یہ طفیل ہوں ہوا کہ تم لوگوں نے ہر آفت کے ٹل جانے پر موسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ کے پابند ہوجانے کا عہد کیا تھا جس عہد پر آخر تم قائم نہیں رہے۔ سورة الزخرف میں آئے گا کہ اپنی قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی سے روکنے کے لئے فرعون نے اپنے آپ کو مصر کا بادشاہ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو تنگ دست اور بےعزت کہا۔ اس بات کو ایماندار قبطی نے قوم کے لوگوں کو یوں سمجھایا کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے فرعون جیسے بہت سے بادشاہ ہوئے اور مٹ گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلنے سے عقبیٰ کی جن راحتوں کا وعدہ ہے ان کو ہمیشگی ہے پھر اس ایماندار قبطی نے قوم کے لوگوں کو یہ سمجھایا کہ دہریہ لوگوں کے اعتقاد کے موافق حشر کا انکار کرنا بالکل عقل کے مخالف ہے کیونکہ اس بات کو ہر عقل مند جانتا ہے کہ دنیا میں جو کام کیا جاتا ہے اس کا کوئی نتیجہ ضرور سوچا جاتا ہے مثلاً کھیتی کی جاتی ہے اناج ہاتھ آجانے کے لئے باغ لگایا جاتا ہے میوہ کھانے کے لئے مکان بنایا جاتا ہے رہنے کے لئے اب دہریہ لوگوں کے اعتقاد کے موافق نیکی کی جزا اور بدی کی سزا کے لئے دوسرا جہان پیدا نہ ہو تو دنیا کے پیدا کرنے کا اتنا بڑا کام بےنتیجہ رہ جاتا ہے جو عقلی تجربہ کے برخلاف ہے اس لئے سزا جزا ضرور ہوگی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سزا و جزا کا یہ قاعدہ رکھا ہے کہ سزا جرم کی حیثیت کے موافق ہوگی اور جزا کا کچھ حساب نہیں ایک نیکی کا بدلہ دس گنے سے لے کر سات سو تک اور کچھ نیکیوں کا بدلہ اس سے بھی زیادہ ہوگا اس لئے جنت کی نعمتیں بھی حد و حساب سے باہر ہوں گی۔ اب اے قوم کے لوگو تم ہی ذرا غور کرو کہ جس طریقہ کی میں نصیحت کر رہا ہوں وہ طریقہ نجات کا ہے یا جس طریقہ کے تم درپے ہو وہ طریقہ نجات کا ہے کہ اپنی پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر پیدا کرنے والے کی ہستی کا انکار کیا جائے فرعون کو خدا ماناجائے جس کے خدا ٹھہرانے کی میرے پاس کچھ سند نہیں اور اللہ کے معبود ہونے کی سند تو تم کو معلوم ہے کہ وہ اپنی بادشاہت میں ایسا زبردست ہے کہ اس کی آفتوں کو سوا اس کے کوئی ٹال نہیں سکتا قصور معاف کرنے والا وہ ایسا ہے کہ ہر ایک آفت کے ٹل جانے پر تم نے اس کو معبود ٹھہرانے کا قرار کیا اور اس نے فقط اس اقرار پر تمہارے پچھلے قصوروں سے درگزر فرما کر ہر ایک آفت کو ٹال دیا غرض اب تک کے بیان سے جو حق بات ثابت ہوئی وہ یہی ہے کہ جس طریقہ کو فرعون نے بھلائی کا طریقہ بتلایا ہے اس طریقہ کی بھلائی کا دنیا اور آخرت میں کہیں پتا نہیں لگتا دنیا کی بھلائی کی نا امیدی کے حال تو تم کو دنیا کی آفتوں کے وقت معلوم ہوگیا اب تم اس پر خود غور کرلو کہ جو جھوٹا خدا دنیا کی آفتوں کے ٹالنے میں عاجز ٹھہرا اس سے کیا امید ہوسکتی ہے کہ جب ہم سب اللہ کے رو برو سزا و جز کے لئے حاضر ہوں گے اور نافرمان لوگوں کی سزا دوزخ کی آگ قرار پائے گی تو کیا اس عاجز خدا میں اس عذاب کے ٹال دینے کی طاقت پیدا ہوجائے گی اب تو اے قوم کے لوگو تم میری باتوں کو اوپرے دل سے سنتے ہو مگر آگے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے یاد کرو گے اس ایماندار شخص کی پیشن گوئی کے موافق ڈویتے وقت جب خو فرعون نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا تو اس کے ساتھیوں کو اس کی جھوٹی خدائی کا حال اچھی طرح کھل گیا۔ آخر کو اس ایماندار شخص نے اپنا انجام اللہ کو سونپا اور کہہ دیا کہ سب بندوں کا انجام اللہ ہی کو معلوم ہے تفسیر مقاتل 1 ؎ میں ہے کہ اس ایماندار شخص کی نصیحت سے غصہ ہو کر قوم کے لوگوں نے اس کو مار ڈالنا چاہا وہ بھاگ کر پہاڑوں میں جا جھپا فرعون نے اس کی گرفتاری کے لئے آدمی بھیجے لیکن وہ ان آدمیوں کو نظر نہیں آیا اسی کو آگے فرمایا کہ اس ایماندار شخص نے اپنے انجام کا بھروسہ اللہ پر رکھا تھا اور اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد کرتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اس ایماندار شخص کو قوم کے لوگوں کی برائی بچایا اور ایسی ایسی زیادتیوں کی سزا میں فرعون اور اس قوم کو ڈبو کر ہلاک کردیا۔ صحیح سند 1 ؎ سے ابن ماجہ میں ابوامامہ کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ظالم بادشاہ کے رو بروحق بات کا منہ سے نکالنا بڑے اجر کا کام ہے اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فرعون جیسے ظالم بادشاہ کے رو برو اس ایماندار شخص نے نصیحت کی باتیں جو منہ سے نکالی تو عقبیٰ میں اس کا بہت بڑا اجر اس شخص کو ملے گا۔
(1 ؎ تفسیر ہذا جلد 2 ص 286۔ )
(1 ؎ بحوالہ تفسیر جامع البیان حاشیہ بر آیت فوقاہ اللہ سیات مامکروا الا یۃ ص 239 ج 2۔ )
(1 ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب الامارۃ فی طاعۃ الامیر ص 322۔ )
Ayah 40:4646۔ عام مفسرین بلکہ تمام اہل سنت نے اس آیت سے عذاب قبر کو ثابت کیا ہے لیکن اس میں ایک اعتراض یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور جب اس آیت مکی سے عذاب قبر کا ثابت ہونا قرار دیا گیا تو ہجرت کے بعد مدینہ میں آنحضرت ﷺ نے بعضی روایتوں میں عذاب قبر سے انکار کیوں فرمایا ہے چناچہ مسند 2 ؎ امام احمد میں حضرت عائشہ کی صحیح حدیث جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک عورت یہودیہ حضرت عائشہ کے پاس آیا کرتی تھی اور حضرت عائشہ اس یہودیہ کو کبھی کچھ دیا کرتی تھیں تو وہ یہودیہ یہ دعا کرتی کہ خدا تعالیٰ تم کو عذاب قبر سے بچائے ایک دن حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ کیا قبر میں بھی لوگوں پر کچھ عذاب ہوگا آنحضرت نے فرمایا کہ نہیں کون کہتا ہے حضرت عائشہ نے اس یہودیہ کے دعا دینے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہود نے اس طرح کی جھوٹی باتیں بہت سی دین میں بنا لی ہیں سوا قیامت کے دن کے اور کوئی عذاب نہیں ہے جواب اس اعتراض کا حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر نے یہ دیا ہے کہ اس آیت سے کافروں کا عذاب قبر ثابت ہوا تھا گناہ گار اہل کلمہ کا عذاب قبر مدینہ میں آنحضرت ﷺ کی حیات کے آخری وقت میں وحی خفی کے ذریعہ سے پھر ثابت ہوا ہے۔ چناچہ صحیح 3 ؎ مسلم میں حضرت عائشہ کی جو روایت ہے اس میں یہ بھی ہے کہ جب عذاب قبر کے انکار کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت عائشہ سے عذاب قبر کی تصدیق کا ذکر کیا تو اس ذکر میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ گناہ گار اہل کلمہ کے عذاب قبر کا حال مجھ کو اب وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے اس حدیث سے حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر کے جواب کی پوری تائید ہوتی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اس یہودیہ کے حضرت عائشہ کو دعا دینے کے وقت تک اہل کلمہ کا عذاب قبر ثابت نہیں ہوا تھا اس واسطے آنحضرت ﷺ نے اس یہودیہ کے قول کا انکار فرمایا اس جواب کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ صحیح حدیثوں کے موافق یہ یہودیہ کا قصہ اس وقت گزرا جب آنحضرت کے زمانہ میں سورج گہن ہوا تھا چناچہ یہودیہ کی اس بات کا جواب دیتے ہی آپ سورج گہن کی نماز کو تشریف لے گئے اور پھر چند روز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا حکم آپ نے دیا اور یہ بھی صحیح حدیثوں میں ہے کہ سنہ دس ہجری میں جب حضرت ﷺ کے صاحبزادہ ابراہیم کا انتقال ہوا یہ سورج گہن اس وقت ہوا تھا غرض ان صحیح حدیثوں سے وہی مطلب ثابت ہوتا ہے کہ سنہ دس ہجری میں جو آخری زمانہ آنحضرت ﷺ کی حیات کا ہے پہلے آپ نے یہودیہ کے قول کا انکار فرمایا اور پھر یہ فرمایا کہ مجھ کو وحی کے ذریعہ سے بات معلوم ہوئی ہے کہ گناہ گار اہل کلمہ پر بھی عذاب قبر ہوگا اس لئے تم لوگ عذاب قبر سے پناہ مانگا کرو حاصل یہ ہے کہ فرعون جیسے کافروں کا عذاب قبر قرآن سے ثابت ہوا ہے اور گناہ گار اہل کلمہ کا عذاب قبر حدیث سے ایک اختلاف علما میں یہاں اور ہے وہ یہ ہے کہ عذاب قبر فقط روح پر ہوگا یا فقط جسم پر یا روح جسم دونوں پر بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر میں جو کافر مارے گئے اور آنحضرت ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ تم لوگوں نے خدا کا وعدہ سچا پایا اس سے یہ معلوم ہوا کہ خدا کے وعدہ کے موافق اس وقت ان لوگوں پر عذاب ہو رہا تھا لیکن وہ لاشیں سب صحابہ کے سامنے پڑی تھیں اور روح کا کوئی اثر ان لاشوں میں نہیں تھا اسی واسطے صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت آپ مرے ہوئے مردوں سے باتیں کرتے ہیں غرض اس قصہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فقط جسم میں خدا تعالیٰ عذاب کا درد بھگتنے کی ایک قوت پیدا دیتا ہے اور عذاب فقط جسم پر ہی ہوتا ہے روح کو اس سے کچھ تعلق نہیں ابن حزم اور ابن جیرہ کا مذہب یہ ہے کہ عذاب فقط روح پر ہوتا ہے جمہور اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ عذاب قبر جسم اور روح دونوں پر ہوتا ہے صحیح حدیثوں سے منکر نکیر کے سوال و جواب کے وقت روح کا مردہ کے جسم میں پھر آنا پایا جاتا ہے اور اس وقت کے عذاب کا ذکر جو کچھ حدیث میں آیا ہے مثلاً قبر کا بھیچنا دونوں کانوں کے بیچ میں فرشتہ کا گرز مارنا اس سے بھی روح اور جسم دونوں پر عذاب قبر کا ہونا معلوم ہوتا ہے بعضے مفسروں کو یہاں یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ منکر نکیر کے سوال کے وقت تو مردہ کو تازہ دفن کیا جاتا ہے جس کا جسم موجود ہوتا ہے اس موجودہ جسم سے روح کا تعلق سمجھ میں آتا ہے لیکن جن مرے ہوئے لوگوں کو دفن کرکے عرصہ گزر گیا جن کی ہڈیاں تک خاک ہوگئیں ان کی قبروں میں تو سوا خاک کے اور کچھ نہیں نظر آیا ایسی حالت میں روح کا تعلق کون سے جسم کے ساتھ ہوتا ہے اس کا جواب اور مفسروں نے یہ دیا ہے کہ دنیا کا انتظام چلنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان سے عذاب قبر کا حال اس لئے پوشیدہ رکھا ہے کہ معمولی فرشتوں کو بھی اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے چناچہ اس کا ذکر سورة الانعام میں گزر چکا ہے اب عذاب قبر کے خوفناک فرشتوں کو عذاب کرتے ہوئے جو کوئی دیکھتا وہ کسی طرح زندہ نہیں رہ سکتا تھا جس سے دنیا کے انتظام میں خلل پڑجاتا۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں انس ؓ بن مالک سے اور صحیح سند سے مسند امام 2 ؎ احمد اور ابودائود 3 ؎ میں براء بن العازب سے جو روایتیں ہیں ان میں یہ ذکر تفصیل سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب قبر کا حال انسان سے پوشیدہ رکھا ہے اب یہ بات اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کیا بعید ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کے چھوٹے سے ٹکڑے سے روح کا تعلق کرایا جاتا ہو اور عذاب قبر کے پوشیدہ رکھے جانے کی حکمت سے وہ ہڈی کا ٹکڑا انسان کو نظر نہ آتا ہو یہ ریڑھ کی ہڈی کا ٹکڑا وہی ہے جس کا ذکر صحیح بخاری 4 ؎ اور مسلم کی ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ اس کو مٹی نہیں کھاتی اور اسی سے قیامت کے دن مردہ کا سارا جسم تیار ہوجائے گا اس سے یہ بات بھی نکل سکتی ہے کہ جس طرح ہڈی کے ٹکڑے میں تمام جسم کے تیار ہوجانے کا مادہ رکھا گیا ہے اسی طرح روح کے تعلق کے بعد اس ہڈی کے ٹکڑے پر کا عذاب قبر تمام جسم پر کے عذاب کا کام دے تو کیا یہ قدرت الٰہی سے باہر ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا کی آنکھوں میں آخرت کی چیزوں کے دیکھنے کی طاقت نہیں ہے اس واسطے یہ ضروری نہیں ہے کہ مثلاً عذاب قبر جنت دوزخ یا آخرت کی اور چیزیں دنیا میں انسان کو نظر آجائیں گی اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی آنکھوں سے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا دیدار ضرور ہوجاتا۔ صحیح بخاری 1 ؎ ترمذی نسائی وغیرہ میں عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب کوئی ایسا شخص مرجاتا ہے جو قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے کے قابل ٹھہرا ہے تو اس کو صبح شام اس کا جنت کا ٹھکانا اور جو دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پایا اس کو صبح شام اس کا دوزخ کا ٹھکانہ دکھا کر فرشتے یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اس ٹھکانے میں جانے کے لئے ہر ایک شخص کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ حدیث بھی یہودیہ کے قصہ کے بعد کی ہے کیونکہ اس میں فرعون جیسے کافروں اور اہل کلمہ گناہ گاروں سب کو یہ جتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ہر قابل دوزخ شخص پر علاوہ اور عذاب قبر کے یہ عذاب قبر بھی ہوگا کہ صبح و شام اس کا دوزخ کا ٹھکانہ اسے دکھایا جائے گا صحیح 2 ؎ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشاب کی نجاست سے نہ بچنے اور غیبت سے اکثر عذاب قبر ہوگا اور یہ بھی صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ہر رات کو سورة الملک پڑھے گا وہ عذاب قبر سے محفوظ 3 ؎ رہے گا آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ قیامت سے پہلے تو فرعون اور اسکے ساتھیوں کو ان کا دوزخ کا ٹھکانا صبح و شام دکھایا جائے گا اور قیامت کے دن ان کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اس ٹھکانے میں جا کر ہمیشہ رہیں۔ براء بن العازب کی جس حدیث کا حوالہ اوپر گزرا اس میں یہ بھی ہے کہ دوزخ کے قابل لوگ قیامت سے پہلے قبر میں ہمیشہ یہ دعا مانگتے رہتے ہیں کہ یا اللہ قیامت قائم نہ ہو۔ اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ صبح شام دوزخ کا ٹھکانا دیکھ کر یہ لوگ قیامت کے دن اس ٹھکانے میں جانے سے ایسے خوف زدہ ہیں کہ عذاب قبر کو اس کے آگے غنیمت جانتے ہیں اور قیامت کے قائم نہ ہونے کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 81 ج 4۔ )
(3 ؎ صحیح مسم باب استحباب التعوذ من عذاب القبر۔ ص 217 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری ماجاء فی عذاب القبر۔ ص 184 ج 1۔ )
(2 ؎ الترغیب والترہیب باب ماجاء فی عذاب القبر و نعیمہ ص 687۔ )
(3 ؎ ابودائود باب فی المسالۃ فی القبر و عذاب القبر ص۔ )
(4 ؎ صحیح مسلم باب مابین النفختین ص 406 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب البیت یعرض علیہ مقعدہ بالغدوۃ والعشی ص 185 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری عذاب القبر من الغیبۃ والبول۔ ص 184 ج 1۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 395 ج 4۔ )
Ayahs 40:47–5047۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ دوزخیوں کے آپس میں جھگڑنے کی خبر دیتا ہے فرعون اور اس کی قوم بھی ان میں ہوگی تابعداری کرنے والے اپنے سرداروں سے اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہارے تابعدار تھے جس گمراہی کی طرف تم نے ہم کو بلایا ہم نے تمہارا کہا مانا اب اتنا کرو کہ کوئی حصہ عذاب کا ہم سے دفع کرو وہ جواب دیں گے ہم سب اس میں مبتلا ہیں ہم عذاب کا کوئی حصہ دفع نہیں کرسکتے اللہ فیصلہ کرچکا اپنے بندوں کے حق میں کہ ہر ایک کو بقدر اس کے گناہوں کے عذاب بانٹ دیا وہ اب کیسے کم ہوسکتا ہے اور جب دوزخیوں نے یہ بات معلوم کرلی کہ خدا تعالیٰ ان کی دعا کو نہ سنے گا تو خازنوں سے جو مانند درواغہ کے دوزخ پر تعینات ہوں گے دوزخی لوگ التجا کریں گے کہ تم اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ایک دن کا عذاب ہم سے کم کر دے خازن لوگ ان کو جواب دیں گے کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس دنیا میں خدا کے رسول معجزے اور دلیلیں لے کر کہیں گے کیوں نہ تب وہی فرشتے خازن ان سے کہیں گے تم خود دعا کرو ہم تمہارے لئے دعا نہیں کریں گے اور نہ ہم اس عذاب سے تمہاری رہائی چاہتے ہیں ہم تم سے بیزار ہیں اس قدر تم کو جتائے دیتے ہیں کہ تم دعا کرو یا نہ کرو دونوں یکساں ہیں کیونکہ کافروں کی دعا لائق قبول ہونے کے نہیں ہے بالکل بیکار ہے ترمذی 1 ؎ اور بیہقی میں ابو دردا سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہزار برت تک تو دوزخیوں کی التجا کا کوئی جواب مالک دوزخ کی طرف سے نہ ملے گا ہزار برس کے بعد یہ جواب ملے گا کہ تم لوگوں کو ہمیشہ دوزخ میں رہنا پڑے گا مالک کا یہ جواب سن کر یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ یا اللہ ہم پھر ایسی نافرمانی نہ کریں گے اب ہم کو اس عذاب سے نجات ہوجائے جواب یہ ملے گا دور رہو اللہ سے کوئی التجا نہ کرو اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرک لوگ اپنے بہکانے والے سرداروں سے مالک داروغہ دوزخ سے خود اللہ تعالیٰ سے تخفیف عذاب کی التجا کریں گے مگر کہیں سے کچھ مدد نہ ملے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ مشرک کی کسی طرح نجات نہیں ہاں کلمہ گو گناہ گاروں میں سے جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں جائے گا۔ چناچہ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث اس باب میں ایک جگہ گزر چکی ہے اگرچہ سوائے قطبہ بن عبد العزیز کے اعمش کے اور کسی شاگرد نے ترمذی کی اوپر والی حدیث کو مرفوع طور پر روایت نہیں کیا لیکن قطبہ معتبر تبع تابعیون میں ہے اس لئے اصول حدیث کے موافق اس طرح کی مرفوع روایت مقبول ہے۔ مرفوع روایت وہ ہے جس کی روایت کا سلسلہ اللہ کے رسول ﷺ تک برابر ہو۔
(1 ؎ جامع ترمذی باب فی طعام اھل النار ص 95 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ ص 104 ج 1۔ )
Ayahs 40:51–5251۔ 52۔ اس سورة میں کئی جگہ ذکر آیا کہ مشرک لوگ قرآن شریف کی آیتوں میں طرح طرح کے جھگڑے اور حجتیں نکالتے تھے اور آنحضرت ﷺ اور مسلمان لوگ ان کو حق بات سمجھاتے تھے تو نہیں مانتے تھے اس سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو ایک طرح کا رنج ہوتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی تسکین کے لئے فرمایا کہ گھبرانا نہیں چاہئے حق بات کا مددگار اللہ ہے ہمیشہ سے جس طرح اللہ نے اپنے پیغمبروں کے فرمانبرداروں کی مدد دی ہے اب بھی دین دنیا میں اللہ ان کی مدد کرے گا اور پھر اس مدد کے وعدہ کے بعد حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا ذکر مثال کے طور پر فرمایا تاکہ اس مثال سے سمجھ میں آجائے کہ حضرت موسیٰ کی نبوت کے شروع زمانہ میں بنی اسرائیل کس طرح سے فرعون کی زیادتی اور ظلم میں گرفتار تھے پھر اللہ کی مدد سے کتنا بڑا ان کا قوی دشمن ہلاک ہوا اور اس کا لاؤ لشکر بھی سب غارت ہوگیا اور بنی اسرائیل یا تو اس خواری اور ذلت میں پھنسے ہوئے تھے یا تمام ملک مصر اور ملک شام ان کے قبضہ میں آگیا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے جس طرح آنحضرت کی نبوت کے شروع زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ان مکی آیتوں میں وعدہ فرمایا تھا جب اللہ کی مدد کا وقت آگیا تو ہجرت کے بعد ہر طرح کے سب سامان اللہ کے مدد سے بنتے چلے گئے اور دن بدن نئے نئے ملک فتح ہو کر تمام مخالف ہلاک ہوگئے یہ تو اللہ کی دنیا کی مدد کا حال ہے آخرت کی مدد کا ذکر جو اس آیت میں ہے اس کی تفصیل حدیث شریف میں ہے قبض روح کے وقت سے جنت میں داخل ہونے کے زمانہ تک اپنے رسول کے فرمانبرداروں کی اللہ تعالیٰ طرح طرح کی مدد فرمائے گا مثلاً صحیح سند سے صحیح ابن حبان اور ابن 1 ؎ ماجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ اچھے لوگوں کی قبض روح کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور جان کنی کی سختی آسان ہونے کے لئے طرح طرح کی خوش خبری ان کو دیتے ہیں پھر دفن کرنے کے بعد منکر نکیر جب آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر اپنی رحمت سے کچھ خوف اور ہول کا اثر نہیں آنے دیتا تاکہ منکر نکیر کے سوال کا جواب اچھی طرح ہوش و حواس سے ادا ہوجائے۔ اسی طرح ترمذی 2 ؎ ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم کی عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی معتبر سند کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ بعضے اہل کلمہ گناہ گاروں کے وزن اعمال کے وقت اللہ تعالیٰ ایسی مدد فرمائے گا کہ ایک کلمہ توحید کے ثواب کے بوجھ سے ان لوگوں کے نیکی کے پلڑے کو بھاری کر دے گا۔ صحیحین 3 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے گناہ گار قیامت کے دن جب اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے تو اللہ تعالیٰ یہ فرما کر ان کے گناہوں کو معاف کر دے گا کہ جس طرح میں نے دنیا میں تم کو تمہارے گناہوں کے سبب سے رسوا نہیں کیا آج بھی میں تمہارے گناہوں کو معاف کرتا ہوں معتبر سند سے مسند 4 ؎ امام احمد اور صحیح ابن حبان میں ابوامامہ ؓ باہلی سے روایت ہے کہ ستر ہزار اہل اسلام امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے جنت میں داخل فرما دے گا اور ان میں ہر ہزار کے ساتھ اور ستر ہزار جنتی قرار پائیں گے پھر ملائکہ انبیا صلحا کی شفاعت کو اللہ تعالیٰ قبول فرما کر بہت سے گناہ گاروں کو عذاب دوزخ سے نجات بخشے گا۔ صحیحین 5 ؎ میں حضرت ابو سعید ؓ خدری کی شفاعت کی بہت بڑی حدیث ہے جس کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ سب کی شفاعت کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ملائکہ اور انبیا اور صلحا تو شفاعت کرچکے اب ارحم الراحمین کی باری ہے یہ فرما کر بےگنتی گناہ گاروں کو دوزخ میں سے نکال کر جنت میں داخل فرما دے گا اسی طرح اور بھی حدیثیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل کلمہ کی آخرت میں طرح طرح کی مشکل کے وقت مدد فرمائے گا۔ بعضے پیغمبروں کو اگر تقدیر الٰہی کے موافق مخالفوں نے شہید بھی کر ڈالا ہے تو اللہ تعالیٰ نے پھر مخالف لوگوں سے پورا بدلا لیا ہے۔ یحییٰ (علیہ السلام) کے شہید ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بخت نصر بابلی کو بنی اسرائیل پر مسلط کیا جو چھ لاکھ کے قریب فوج ساتھ لے کر بابل سے ملک شام کو آیا اور ہزارہا آدمی بنی اسرائیل کے قتل کر ڈالے اور ہزارہا آدمیوں کو قید کر کے بابل لے گیا۔ مسند امام احمد بخاری ترمذی 6 ؎ وغیرہ کی روایتوں کا ذکر سورة بقر میں گزر چکا ہے کہ جب نافرمان امتیں قیامت کے دن اپنے پیغمبروں کو جھٹلائیں گے اور کہیں گے کہ یا اللہ ہم کو تیرا حکم کسی پیغمبر نے نہیں پہنچایا تو قرآن کے حوالہ سے امت محمدیہ کے نیک لوگ پیغمبروں کے سچے ہونے کی گواہی ادا کریں گے اسی طرح صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں ہاتھ پیروں کی گواہی کا ذکر ہے قیامت کے دن کو گواہوں کے کھڑے ہونے کا دن جو فرمایا اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے اب ان گواہوں کے بعد منکروں کا کوئی عذر نہ سنا جائے گا اور رحمت الٰہی سے محروم کیا جا کر دوزخ میں ان کو جھونک دیا جائے گا گواہی کے ذکر کے بعد یہ اسی کا ذکر ہے۔
(1 ؎ مشکوۃ شریف باب فیما یقال عند من حضرہ الموت ص 141۔ )
(2 ؎ جامع ترمذی باب فیمن یموت وھو یشھدا ان لا الہ الا الہ ص 103 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب ستر المومن علی نفسہ ص 896 ج 2۔ )
(4 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی الحساب والقصاص والمیزان ص 486۔ )
(5 ؎ صحیح مسلم اثبات رویۃ المومنین فی الاخرۃ ربھم ص 103 ج 1۔ )
(6 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة البقرۃ ص 141 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم فصل فی بیان ان الاعضاء منطقۃ شاھدۃ ص 409 ج 2۔
Ayahs 40:53–5653۔ 56۔ اوپر کی آیت میں رسولوں اور ایمان والوں کی مدد کرنے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اس مدد کی ایک مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی بیان فرمائی اور فرمایا کہ بیشک دی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت ھدے سے مفراد توریت اور نبوت ہے جس طرح اس آیت میں فرمایا انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدے ونور اس کا مطلب یہ ہے کہ بیشک اتارا ہم نے توراۃ کو اس میں ہدایت اور نور ہے اور وارث کیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا بعد اس ذلت اور خواری کے کہ جس میں وہ مبتلا تھے فرعون کے تمام شہروں اور مال و زمین کا ان کو وارث بنایا اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کی کتاب و رسول (علیہ السلام) کی تابعداری پر صبر کیا اور جس کتاب کے وہ وارث کئے گئے اس میں ان کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل کامل عطا فرمائی ہے۔ کتاب سے مقصود یہاں توراۃ ہے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم پر فتح یاب کیا وعدہ الٰہی کے موافق وہی انجام تمہارا اور تمہارے ساتھ کے مسلمانوں کا ہوگا مشرکین مکہ میں کے جو لوگ قرآن کی آیتوں میں بغیر سند کے طرح طرح کے جھگڑے نکالتے ہیں اور اپنے اس غرور سے یہ چاہتے ہیں کہ دین حق پر ان کی بت پرستی غالب رہے یہ کبھی ہونا نہیں تم ان لوگوں کے بےسند جھگڑوں پر چند روز بھر کرو ان لوگوں کی ایذا سے اللہ کی پناہ چاہو اور شام اور صبح اللہ کی عبادت میں لگے رہو کہ اس کی نعمتوں کا یہی شکریہ ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بےسند جھگڑے سب سنتا ہے اور ان کے شرک کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے وقت مقررہ پر ان سب باتوں کا فیصلہ ہوجائے گا ان لوگوں کی ایذا پر صبر کرنے کے ساتھ امت کے نیک لوگوں کو توبہ استغفار کی عادت سکھانے کے لئے فرمایا کہ اکثر توبہ استغفار کرتے رہا کرو۔ صحیح بخاری 2 ؎ کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود کی اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے مشرکین مکہ کے بتوں کو ہاتھ کی لکڑی مار مار کر گرا دیا اور مکہ بھر میں کوئی حمایتی ان بتوں کی حمایت کو کھڑا نہ ہواں مسند امام 3 ؎ احمد کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی معتبر روایت بھی گزر چکی ہے کہ فتح مکہ کے بعد شیطان نے اپنے شیاطینوں کو جمع کیا اور آئندہ جزیرہ عرب کی بت پرستی سے مایوس ہو کر خوب رویا۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جن کا حاصل یہ ہے کہ ان آیتوں میں اسلام کے غلبہ کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا بدر کی لڑائی سے لے کر فتح مکہ تک اس کا پورا ظہور ہوگیا جس ظہور کا اثر شیطان پر بھی پڑا اور قرآن شریف کی آیتوں میں بےسند جھگڑا کرنے والے کچھ تو فتح مکہ مارے گئے اور باقی اسلام کے تابع ہوگئے۔
(2 ؎ صحیح بخاری این رکز النبی ﷺ الرایت یوم الفتح ص 614 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم میں اس کے ہم معنی روایت موجود ہے دیکھئے صحیح مسلم باب تحریش الشیطان ص 376 ج 2۔ )
Ayah 40:5757۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین کا اختلاف ہے بعضے مفسرین تو یہ کہتے ہیں کہ اوپر سے مشرکین مکہ کا ذکر چلا آتا ہے ان ہی مشرکین مکہ کی شان میں یہ آیت بھی ہے اور معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ یہ مشرک لوگ حشر کا کیوں انکار کرتے ہیں آسمان و زمین کی پیدائش کو دیکھ کر یہ لوگ خدا کی قدرت کو نہیں پہچانتے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی عقل اور سمجھ سے باہر آسمان اور زمین کو پیدا کردیا اسی طرح مرنے کے بعد انسان کو اللہ تعالیٰ پھر پیدا کر دے گا۔ جس اللہ نے سب مخلوقات کو پیدا کیا اس کے نزدیک بہ نسبت آسمان و زمین کے انسان کا پیدا کرنا ایک ادنیٰ چیز ہے۔ تفسیر ابن 1 ؎ حاتم وغیرہ میں رفیع بن مہران ابو العالیہ ریاحی کی روایت سے جو شان نزول ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے ایک روز دجال کے باب میں آنحضرت ﷺ سے جھگڑا کیا اور یہ کہا کہ دجال ہم لوگوں میں سے ہوگا اور دجال کی طرح طرح کی بڑائیاں بیان کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس صورت میں معنی اس آیت کے یہ ہوں گے کہ اللہ کی قدرت کی چند باتیں اگرچہ دجال میں ہوں گی مگر زمین و آسمان کی حالت سے اللہ کی بڑی قدرت ظاہر ہوتی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ آیت کے اس معنی کے موافق اکبر من خلق الناس میں الناس سے مقصود دجال ہوگا اور مطلب یہ قرار پاوے گا کہ جب دجال کے ماتھے پر کافر لکھا ہوگا تو اس کے خلاف عادت باتیں تعریف کے قابل نہیں ہیں۔ ان ابو العالیہ ریاحی کی روایت کی شان نزول کو بعض مفسروں نے ضعیف ٹھہرا کر نقل کیا ہے۔ لیکن جلال الدین 2 ؎ سیوطی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ یہ رفیع بن مہران ابو العالیہ بڑے جلیل القدر تابعی ہیں اور تفسیر میں دس صحابہ سے جو مشہور ہیں ان میں حضرت ابی بن کعب سے اکثر یہ ابوالعالیہ تفسیر کی باتیں روایت کرتے ہیں اور تفسیر کے باب میں ان کی روایت صحیح قرار پائی ہیں نماز میں ہنسنے سے نماز ٹوٹ جانے کے باپ میں جو ایک حدیث ان ابوالعالیہ کی روایت سے ہے جس پر امام شافعی علیہ الرحمۃ نے اعتراض کیا ہے اس اعتراض سے یہ مطلب نہیں نکل سکتا کہ ابوالعالیہ جیسے جلیل القدر تابعی کی سب روایتیں ضعیف ہیں غرض اس شان نزول کو بلاوجہ ضعیف نہیں کہا جاسکتا اس لئے صحیح قول یہ ہے کہ مکی آیت اگرچہ مشرکین مکہ کی شان میں ہے لیکن آیت ہر جھگڑنے والے کے حق میں صادق آتی ہے خواہ مشرکین مکہ ہوں یا یہود یا اور کوئی جھگڑنے والا فرقہ ہو اس شان نزول میں تو دجال کا ذکر مختصر طور پر ہے صحیح حدیثوں میں دجال کے ذکر کی بڑی تفصیل آئی ہے چناچہ سند سے ترمذی 3 ؎ میں عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پہلے صاحب شریعت بنی نوح (علیہ السلام) اور سب انبیا نے اگرچہ اپنی امتوں کو دجال سے ڈرایا ہے مگر یہ بات کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتلائی کہ دجال ایک آنکھ سے کا نڑا ہوگا۔ مختصر طور سے یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں بھی ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دجال کے پیدا ہونے کا مسئلہ سب انبیائے شریعت کا ایک اتفاقی مسئلہ ہے باوجود اس کے فرقہ خارجی جہیمی اور معتزلی کے بعض لوگوں نے جو دجال کے وجود کا انکار کیا ہے یہ بڑی غلطی ہے اگرچہ تفسیر معالم میں لکھا ہے کہ دجال دنیا میں چالیس برس ٹھہرے گا لیکن صحیح 2 ؎ مسلم میں نواس بن سمعان سے جور وایت ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دجال دنیا میں چالیس روز رہے گا دجال کے حال کی زیادہ تفصیل صحیح حدیثوں میں ہے کہ اس کے پیدا ہونے سے پہلے تین برس قحط پڑے گا لوگ اس قحط کے سبب سے بڑی تکلیف میں ہوں گے اس قحط کے بعد وہ پیدا ہوگا اور اس کے ساتھ ایک ڈھیر روٹیوں کا ہوگا اور ایک نہر پانی کی، خراسان کے ملک میں وہ پیدا ہوگا اصفہان کے ستر ہزار یہود کی فوج اس کے ساتھ ہوگی سوائے مکہ اور مدینہ کے روئے زمین پر اور کوئی جگہ اس کے پھرنے سے باقی نہ رہے گی مکہ اور مدینہ کے باہر فرشتے کھڑے ہوں گے اس کو مکہ اور مدینہ کے اندر نہیں جانے دیں گے مگر مدینہ میں اس وقت زلزلہ آئے گا جس کے سبب سے جو کوئی کافر اور منافق مدینہ میں ہوگا وہ باہر نکل کر دجال کے ساتھیوں میں مل جائے گا دجال کے ساتھ ایک چیز دوزخ کی صورت کی ہوگی اور ایک جنت کی صورت کی اور حقیقت میں اللہ کے حکم سے اس دوزخ میں جنت کی سی راحت ہوگی اور اس جنت میں دوزخ کی سی تکلیف ہوگی دجال کے ماتھے پر کافر لکھا ہوگا۔ ولکن اکثر الناس لایعلمون اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے بغیر کسی نمونہ کے آسمان زمین اور باقی کی سب چیزوں کو پیدا کردیا تو جو لوگ اپنے دوبارہ پیدا ہونے کے منکر ہیں وہ بڑے ناسمجھ ہیں کیونکہ سمجھ دار آدمی کا تجربہ تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جو کام ایک دفعہ ہو چکتا ہے تو پھر دوبارہ اس کا کرنا آسان ہوجاتا ہے صحیح بخاری 3 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ نے فرمایا کہ جب ایک دفعہ انسان کو پیدا کر کے اس کے دوبارہ پیدا کرنے کی خبر میں نے اپنے کلام پاک میں دی تھی تو انسان کو زیبا نہیں تھا کہ اس خبر کو جھٹلاتا کس لئے کہ ایسی موٹی بات کو جھٹلانا کسی سمجھ دار کام نہیں ہے۔ یہ حدیث ولکن اکثر الناس لا یعلمون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ جو کام ایک دفعہ ہو چکتا ہے تو ہر سمجھ دار آدمی کے تجربہ میں پھر دوبارہ اسی کام کا کیا جانا آسان ہوجاتا ہے اسی طرح اوپر کی روایتوں کے موافق جبکہ اور نبیوں کی طرح موسیٰ (علیہ السلام) یہود کے رو برو دجال کی مذمت کرچکے تو کچھ تو یہ مذمت پشت در پشت ان میں چلی آتی ہے تو فقط نبی آخر الزمان کی نبوت کو نہ ماننے کے ضد میں دجال کی تعریف کا کرنا یہود کی یہ بڑی نادانی ہے کہ یہ لوگ اپنے نبی کو بھی جھٹلاتے ہیں اور اس سے بیخبر ہیں۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 353 ج 5۔ )
(2 ؎ ایضاً )
(3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الدجال ص 56 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب ذکر الدجال ص 400 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب ذکر الدجال ص 400 ج 2۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة الاخلاص ص 744 ج 2۔ )
Ayahs 40:58–6058۔ 60۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ لوگوں کے دوسری بار پیدا کرنے سے آسمان اور زمین کا پیدا کرنا بغیر کسی نمونہ کے عقل کے نزدیک بہت بڑا ہے کیونکہ بڑی چیز کے بنانے میں چھوٹی چیز کے بنانے سے زیادہ قدرت درکار ہے مگر اللہ کے نزدیک چھوٹی بڑی چیز کے بنانے میں کچھ فرق نہیں حاصل یہ کہ جب تم اس کی ایسی ایسی بڑی چیزیں بنائی ہوئی رات دن دیکھ رہے ہو تو پھر کیوں دوسری بار پیدا ہونے کو دشوار جانتے ہو جو صاحب قدرت ایسی بڑی چیزوں کے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ انسان کے دوسری بار پیدا کرنے پر بطریق اولیٰ قادر ہے پھر کیوں اندھوں کی طرح قیامت سے انکار کرتے ہو اور جو لوگ اس بات کو جانتے ہیں وہ مانند آنکھوں والے شخص کے ہیں اسی واسطے فرمایا جس طرح اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں اسی طرح ایماندار نیک کردار اور کافر بدکار برابر نہیں کیونکہ ایماندار شخص آنکھوں والے شخص کی طرح اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کو پہچانتا ہے اور کافر اندھے کی طرح قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا پھر فرمایا یہ اہل مکہ کا اندھا پن اس لئے ہے کہ یہ اللہ کی دی ہوئی سمجھ سے کام نہیں لیتے اگر ذرا بھی سمجھ سے کام لیں تو بت پرستی حشر کے انکار اور ایسی اور نافرمانی کی باتوں کی برائی ان کی اچھی طرح سب کھل جائے پھر فرمایا کہ ان میں کے اکثر لوگ حشر کے منکر ہیں تو ہوں ان کے انکار سے انتظام الٰہی کچھ پلٹ نہیں سکتا بلکہ انتظام الٰہی کے موافق سزا و جزا کے لئے دوبارہ زندہ کرنے کی گھڑی ضرور آنے والی ہے کسی کے انکار سے سے اس کا آنا رک نہیں سکتا اس واسطے اللہ کا حکم سب بندوں کو یہی ہے کہ وہ خالص دل سے اللہ کی عبادت کریں جو کوئی اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا۔ تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے حضرت عبد اللہ بن عباس 1 ؎ کے صحیح قول کے موافق یہاں دعا کے معنی خالص دل کی عبادت کے ہیں آیت میں ایک جگہ ادعونی فرما کر پھر عبادتی جو فرمایا اس سے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے صحیح سند سے ترمذی 2 ؎ نسائی ابو دائود ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں نعمان ؓ بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے دعا کے معنی عبادت کے فرما کر پھر یہی آیت پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی تفسیر اللہ کے رسول کی تفسیر کے موافق ہے حاصل کلام یہ ہے کہ دعا کا لفظ اگرچہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کئی معنی میں فرمایا ہے لیکن جس طرح سورة یونس کی آیت ولاتدع من دون اللہ مالاینفعک ولایضرک میں دعا کے معنی عبادت کے ہیں وہی معنی یہاں ہیں ‘ دعا کے اصلی معنی طلب اور التجا کے ہیں اب ہر بدنی اور مالی عبادت میں آدمی کے دل میں یہ التجا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عبادت کو قبول اور اس کا ثواب عنایت فرمائے جس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی عبادت دعا سے خالی نہیں اسی واسطے اوپر کی نعمان ؓ بن بشیر کی حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا الدعاء ھوا العبادۃ جس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ کوئی عبادت دعا سے خالی نہیں ہے۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 355 ج 5۔ )
(2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة المومن ص 179۔ )
Ayahs 40:61–6661۔ 66۔ اوپر خالص اللہ کی عبادت کا حکم دے کر ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لئے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر ایک چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو پھر یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی خالص عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں اور اس کی تعظیم میں دوسروں کو کس استحقاق سے شریک کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان کی عادتوں کے لوگ ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور ان کا انجام جو کچھ ہوا وہ بھی ان کو کوئی دفعہ سنایا گیا ہے کہ آخر طرح طرح کے عذابوں سے وہ ہلاک ہوگئے اگر یہ لوگ ان کے قدم بہ قدم رہے تو یہی انجام ان کا ہونے والا ہے اس کے بعد دوسرے فضل اور احسان کا ذکر فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ مانند بچھونے کے کہ تم اس پر چلو پھرو، سو، بیٹھو، ہر ایک طرح کا آرام حاصل کرو پہاڑوں کی میخوں سے سے اس کو ایسا مضبوط جما دیا کہ ہل نہیں سکتی ورنہ تم کو اس پر رہنا مشکل ہوجاتا اور آسمان کو تمہارے لئے ایک چھت بنا دیا اور صورت بنائی تمہاری خوبصورت اور روزی دی تم کو پاکیزہ چیزیں کھانے پینے کی۔ پھر فرمایا یہ ہے اللہ رب تمہارا جس نے یہ سب چیزیں پیدا کیں اس لئے وہ بڑی برکت والا ہے اور وہی پالنے والا ہے کل جہان کے لوگوں کا صحیح بخاری 1 ؎ کی حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اوپر گزر چکا ہے کہ قوم نوح میں کچھ نیک لوگ مرگئے تھے دنیا میں بت پرستی ان ہی کی مورتوں سے پھیلی ہے غرض جن کی مورتوں کی پوجا کی جاتی ہے وہ تو مرگئے اور ان کی مورتیں بالکل بےجان ہیں اس لئے فرمایا لائق عبادت وہی اللہ ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا وہ مرے ہوئے نیک لوگ ان کی بےجان مورتیں کوئی اس قابل نہیں ہیں کہ اس اللہ جہان بھر کے زندہ رکھنے والے کی عبادت میں کسی کو شریک کیا جائے آگے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے جو سمجھانے کا حق تھا وہ تو ان لوگوں کو سمجھا دیا گیا اب تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ مجھ کو تو قرآن کے ذریعہ سے یہ حکم ہے کہ میں شرک سے بیزاری کر کے خالص اللہ کی فرمانبرداری اور عبادت میں لگا رہوں کیونکہ وہی سب کا مالک ہے اس لئے کسی کو اس کی عبادت میں شریک ٹھہرانے کا حق نہیں ہے صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اس حق کے ادا ہونے کے بعد یہ حق بندوں کا اللہ پر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو دوزخ کے عذاب سے بچائے۔ شرک سے بیزار اور خالص اللہ کی عبادت میں لگے رہنے کا ان آیتوں میں جو حکم ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو اور انسان کی ضرورت کی چیزوں کو جب اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو اس کی شکر گزاری کے طور پر اللہ کا یہ حق ہر شخص کے ذمہ ہے کہ اللہ کی عبادت میں کوئی شخص کسی دوسرے کو شریک نہ کرے جس شخص نے شکر گزاری کے طور پر اس حق کو پورا ادا کیا اس کا بارگاہ الٰہی میں یہ حق پیدا ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دوزخ سے بچائے۔ اور جس شخص نے اس حق الٰہی کی ادا کرنے میں کوتاہی کی اس نے اپنے حق کو ضائع کیا۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب وداو لا سوا عاو لا یغثو ویعوق ولسرا۔ ص 732 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب دعاء النبی ﷺ امتہ الی توحید اللہ الخ ص 1097 ج 2۔ )
Ayahs 40:67–6867۔ 68۔ یہاں انسان کی پیدائش کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر فرمایا ہے قد افلح المومنون اور بعضی اور آیتوں میں اور صحیح حدیثوں میں انسان کی پیدائش کی تفصیل میں خدا تعالیٰ کی قدرت کے اس قدر نمونے ہیں کہ اور مخلوقات کے سوا اگر انسان اپنی پیدائش کے حال کو نظر غور سے دیکھے تو خدا کی قدرت کا حشر کی باتوں کا پورا اس کو یقین ہوسکتا ہے اسی واسطے سورة والذریات میں اللہ تعالیٰ نے اور عجائبات قدرت کا ذکر فرما کر پھر فرمایا ہے کہ خود انسان کی پیدائش میں انسان کے غور کرنے اور خدا کی قدرت کے پہچاننے اور حشر اور قیامت کے یقین کرنے کے لئے بہت سی نشانیاں قدرت الٰہی کی ہیں حقیقت میں اگر غور کیا جائے تو فقط نطفہ کے رحم میں ٹھہرنے سے بچہ کے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے دن تک ہی وہ نشانیاں قدرت الٰہی کی ہیں کہ جن کا بیان انسان کی طاقت سے باہر ہے جس طرح مٹی کا خمیر اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے جسم کا پتلہ بنایا اسی طرح جس نطفہ سے اللہ تعالیٰ کو بچہ پیدا کرنا منظور ہوتا ہے تو رحم میں چالیس روز تک اس نطفہ کا فقط خمیر اٹھایا جاتا ہے پھر اس خمیر کا خون رحم میں بنتا ہے۔ اہل تشریح نے لکھا ہے کہ مرد کے نطفہ کو بچہ کی پیدائش میں فقط اتنا ہی دخل ہے کہ جس طرح دہی کے ضامن سے دودھ جم جاتا ہے۔ اسی طرح مرد کا نطفہ عورت کی منی کا ضامن ہے اور باقی پیدائش بچہ کے پتلے کی عورت کے حیض کے خون سے ہے اہل حدیث نے صحیح حدیثوں کے مضمون سے اہل تشریح کے اس قول کو ضعیف ٹھہرایا ہے اور اسی بات کو ثابت کیا ہے کہ عورت اور مرد کی منی سے مل کر خمیر اٹھتا ہے اور اس خمیر سے خون 1 ؎ بنتا ہے۔ اور اس خون کا گوشت بنتا ہے پھر اس گوشت سے ہڈیاں بنتی ہیں پھر ان ہڈیوں کے اپور اور گوشت کا غلاف چڑھایا جاتا ہے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر پھر اس پتلے میں اللہ کے حکم سے روح پھونکی جاتی ہے اللہ کے حکم سے عورت کے رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے وہ نطفہ سے خون اور خون سے گوشت بننے کے وقت اللہ کا حکم حاصل کرتا رہتا ہے اگر حکم ہوتا ہے تو پورا پتلا تیار ہوجاتا ہے ورنہ حمل ساقط ہوجاتا ہے گوشت سے جب پتلا بننے لگتا ہے تو وہ فرشتہ یہ بھی پوچھتا ہے کہ یا اللہ لڑکے کا پتلا تیار ہوگا یا لڑکی کا جس طرح اللہ کا حکم ہوتا ہے اس کے موافق وہ فرشتہ عمل کرتا ہے اسی وقت یہ چار باتیں بھی لکھی جاتی ہیں کہ اس بچہ کی عمر کتنی ہوگی ‘ کب تک کی دنیا میں زیست ہوگی ‘ رزق فراخی سے ملے گا یا تنگی سے ‘ حرام طریقہ سے کمائے گا یا حلال طریقہ سے ‘ تمام عمر عمل کیسے کرے گا اور پھر خاتمہ کس طرح کے عمل پر ہوگا اسی کو خط تقدیر کہتے ہیں اسی کے موافق مرنے کے وقت آدمی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اسی کے سبب سے شریعت میں خاتمہ کا ڈر رکھا گیا ہے۔ صحیح مسلم 1 ؎ ترمذی نسائی مسند امام احمد میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ خط تقدیر کے سبب سے بعضے نیک آدمی آخر عمر میں برے کام کرنے لگتے ہیں اور اسی حال میں مرجاتے ہیں اور دوزخی قرار پاتے ہیں اور بعضے بد آدمی اخیر عمر میں نیک کام کرتے ہیں اور اسی حال میں مر کر جتنی قرار پاتے ہیں اسی موقع پر صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ حضرت جب دار و مدار خط تقدیر اور خط تقدیر کے موافق خاتمہ پر ہے تو تمام عمر کے نیک عمل سے کیا فائدہ ہے آپ نے فرمایا تم نیک عمل کئے جائو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق جس کو جس انجام کے قابل پیدا کیا ہے وہ ویسا ہی اس سے کام لیتا ہے علما نے لکھا ہے کہ جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ تقدیر کا لکھا پلٹ جاتا ہے ان کی مراد بھی یہی خط تقدیر ہے کہ عمر بھر کراماً کاتبیں اور دنیا کے لوگوں کے نزدیک بعضے شخصوں کا ایک ڈھنگ رہتا ہے اسی پر سے فرشتے اور دنیا کے لوگ انجام کا ایک منصوبہ باندھ لیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق انجام عمر بھر کے ڈھنگ کے مخالف ہوتا ہے غرض علم ازلی الٰہی نہیں پلٹتا۔ ترمذی 2 ؎ ابودائود اور صحیح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی صحیح حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے تمام زمین کی مٹی لی ہے اسی سبب سے آدم ( علیہ السلام) کی اولاد میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی بدمزاج کوئی خوش مزاج حاصل کلام یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد اگرچہ اولاد آدم کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن اس نطفہ میں آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی کا دخل بھی چلا آتا ہے اسی واسطے مٹی سے پیدائش کے ذکر میں اولاد آدم کو بھی شریک کیا جا کر خلقکم من تراب فرمایا۔ اوپر ذکر تھا کہ ہر شخص پر اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ خالص اللہ کی عبادت کرے ان آیتوں میں فرمایا یہ حق اس واسطے ہے کہ اس نے ہر شخص کو پہلے مٹی سے بنایا پھر منی کی بوند سے پھر خون کی پھٹکی سے پھر اس یکے حکم سے بچہ پیدا ہو کر کوئی فقط جوانی تک پہنچا اور کوئی بڑھاپے تک جیا پھر مرا یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ہر شخص کی عمر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے اس لئے ایک نطفہ سے پیدا ہو کر سب یکساں عمر کو نہیں پہنچتے اب ان منکرین حشر کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جس صاحب قدرت نے انسان کی پہلی پیدائش میں اپنی یہ قدرت دکھائی اس کی قدرت کے آگے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ مٹی سے دوبارہ پتلا بنا کر اسی پتلے میں روح پھونک دے پھر فرمایا پہلی دفعہ کا جینا اور مرنا جو اللہ کے حکم سے ہے وہ تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے دوبارہ جینے کو یہ لوگ مشکل جانتے ہیں اللہ کے حکم کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں ہے کیونکہ جس کام کے ہوجانے کے لئے اس کا حکم ہو وہ فوراً ہوجاتا ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری ص 561 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم کتاب القدر ص 332 تا 334 ج 2)
(2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة بقرہ ص 140 ج 2۔ )