Ayahs 40:69–7869۔ 78۔ مشرکین مکہ یوں تو سارے قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے لیکن حشر اور قیامت کا ذکر جن آیتوں میں ہوتا تھا یا جن آیتوں میں شرک کی مذمت ہوتی تھی خاص کر ایسی آیتوں میں یہ لوگ بڑا جھگڑا کیا کرتے تھے اللہ نے اوپر کی آیتوں میں انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا تاکہ ان مشرکوں کی سمجھ میں آجائے کہ حضرت آدم کی پیدائش تو حشر کے نمونہ کے طور پر ہے کہ خاک کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں پھر روح پھونک دی گئی اور اولاد آدم کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتلانے کے لئے حشر کے نمونہ سے بھی مشکل طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہ مٹی کے اثر سے طرح طرح کے اناج اور ترکاریاں اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ چیزیں انسان کی غذا ہوتی ہیں اور اس غذا سے نطفہ اور نطفہ سے انسان پیدا ہوتا ہے اب یہ آسانی سے سمجھ میں آجانے کی بات ہے کہ حشر کے نمونہ کے طور پر حضرت آدم (علیہ السلام) کی اور اس نمونہ سے بھی مشکل طور پر حضرت آدم کی اولاد کی پیدائش جب ہوچکی ہے تو حشر کے یقین لانے میں وہ کون سی بات مشکل رہ گئی جو ان مشرکوں کی سمجھ میں نہیں آتی اسی طرح جب انسان کو اور انسان کی ضرورت کی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو پھر اس کی تعظیم میں دوسروں کو شریک ٹھہرانے کا کیا حق ہے۔ اس تفصیل سے سمجھانے کے بعد بھی کسی بات کا سمجھ میں نہ آنا تعجب کی بات ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تعجب کے طور پر اپنے رسول سے فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ کے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ باوجود اس طرح تفصیل سے سمجھانے کے بھی یہ مشرک لوگ کس طرح کی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالے جاتے ہیں پھر فرمایا کہ ابھی ان مشرکوں کو اس ہٹ دھرمی کے جھگڑوں کا انجام کچھ نہیں معلوم ہوتا جس وقت اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کے جرم میں ان لوگوں کو مجرموں کی طرح طوق اور زنجیر میں جکڑ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا اس وقت ان کو اس ہٹ دھرمی کی سب حقیقت کھل جائے گی پھر فرمایا کہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر یہ لوگ آج اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کل قیامت کے دن جب یہ مشرک اللہ کے رو برو کھڑے ہوں گے تو ان بتوں کے معبود بنانے سے صاف منکر ہوجائیں گے اور ان کا وہ انکار کچھ کام نہ آئے گا اور دوزخ میں ان کو جتلایا جائے گا کہ دنیا میں ہٹ دھرمی اور ناحق طور پر جو تم اتراتے تھے اور اللہ کی آیتوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے آج یہ اسی کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑا پھر اپنے رسول کو ارشاد فرمایا۔ ان مشرکوں کے بیجا جھگڑے پر صبر کرنا چاہئے کیونکہ ان مشرکوں پر ان کے بیجا جھگڑوں کا وبال اللہ کے وعدہ کے موافق دنیا میں پڑنے والا ہے فقط وقت مقررہ آنے کی دیر ہے وقت مقررہ آتے ہی یہ مشرک زیر ہوجائیں گے اور اللہ کے رسول کا بول بالا ہوگا اور اگر دنیا کے وبال سے بعضے لوگ ان میں سے بچ گئے اور کفر کی حالت میں مرگئے تو وہ عاقبت کے عذاب میں پکڑے جائیں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے بہت سے مشرک تو آنحضرت کے رو برو ہی زیر ہوگئے پھر صحابہ کے زمانہ میں بہت سے ملک فتح ہوئے اور جو لوگ حالت کفر پر رہے وہ دین و دنیا میں ذلیل ہوئے چناچہ بدر کی لڑائی میں ان مشرکوں میں کے بڑے بڑے سرکش جو حالت کفر پر مارے گئے ان کا دنیا و دین کا انجام صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی روایت سے اوپر گزر چکا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتانے کے لئے اللہ کے رسول نے ان مشرکوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پا لیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے پچھلے نبیوں اور رسولوں کا تذکرہ فرما کر آنحضرت کی تسکین فرمائی کہ ہمیشہ سے اللہ کے نبی اور رسول ہوتے اور منکر لوگ ان سے جھگڑا کرتے آئے ہیں اور وقت مقررہ آنے کے ساتھ ہی اس طرح کا فیصلہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے جس سے منکروں کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور بعضے پچھلے نبی اور رسولوں کا حال تو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں مثال کے طور پر جگہ جگہ ذکر فرمایا ہے اور کتنے نبی اور رسولوں کا حال ذکر بھی نہیں فرمایا مسند امام 2 ؎ احمد صحیح ابن حبان مستدرک حاکم وغیرہ ابوذر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار گزرے ہیں جن میں تین سو پندرہ رسول ہوئے ہیں اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام کو اکثر علما نے ضعیف قرار دیا ہے اسی سبب سے ابن جوزی نے اسے موضوع لکھا ہے لیکن طبرانی اور ابن حبان نے ابراہمی بن ہشام کو ثقہ کہا ہے اسی واسطے جلال الدین سیوطی نے اس حدیث کے موضوع ہونے کو تسلیم نہیں کیا۔ بنائی ہوئی جھوٹی حدیث کو موضوع کہتے ہیں۔ مسند امام احمد کی سند میں یہ ابراہیم بن ہشام نہیں ہے لیکن مسند امام احمد کی روایتوں میں تین سو سے کچھ اوپر دس اور تین سو پندرہ رسولوں کا ذکر ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کا ذکر نہیں ہے اس مضمون کی ایک حدیث تفسیر ابن ابی حاتم میں ابو امامہ کی روایت سے بھی ہے لیکن اس کی سند میں علی بن یزید قاسم بن عبد الرحمن معن بن رفاعہ یہ تین راوی ضعیف ہیں اوسط طبرانی میں حضرت 1 ؎ علی سے روایت ہے کہ سوا ایک غلام حبشی نبی کے اور نبیوں کا حال اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بتلا دیا ہے اس حدیث کی سند میں جابر جعفی ہے جس کو اکثر علما نے ضعیف قرار دیا ہے آخر کو فرمایا کہ یہ مشرکین مکہ طرح طرح کے معجزوں کی فرمائش اور مسخرا پن کے طور پر عذاب کی جلدی جو کرتے ہیں تو ان کو جواب دیا جائے کہ معجزے رسولوں کے اختیار میں نہیں ہیں جو معجزہ ظاہر ہوتا ہے وہ اللہ کے حکم سے ظاہر ہوتا ہے اور عذاب کا وقت مقررہ جب آجائے گا تو اس عذاب کی جلدی کرنے والوں کو جو نقصان پہنچے گا وہ ان کو معلوم ہوجائے گا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا جو کچھ ظہور ہوا۔ صحیح بخاری و مسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 566 ج 2۔ )
(2 ؎ مشکوٰۃ شریف باب فی ذکر الانبیاء (علیہم السلام) ص 511۔ )
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 357 ج 5۔
Ayahs 40:79–8079۔ 80۔ اوپر انسان اور انسان کی بعضی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا ذکر تھا اس تذکرہ میں فرمایا اللہ وہ ہے جس نے تمہارے فائدہ کے واسطے گائے اونٹ بکری یہ سب جانور پیدا کئے ان میں سے کسی پر سوار ہوتے ہو اور کسی کا گوشت کھاتے ہو اونٹ پر سوار بھی ہوتے ہیں اور اس کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور دودھ بھی پیتے ہیں اور اس پر بوجھ لاد کر دور دور شہروں میں سفر کرتے ہیں مجاہد اور قتادہ 2 ؎ نے کہا کہ لادے پھرتے ہیں بوجھ ایک شہر سے طرف دوسرے شہر کی طرف یہ اونٹ کا حال ہے اور گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اور بیلوں سے کھیتی کرتے ہیں اور بکری کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اور پھر ان سب کے بال کاٹے جاتے ہیں ان سے برتنے کی چیزیں بنائی جاتی ہیں ان کی کھال طرح طرح کے کام میں لائی جاتی ہے جیسا کہ سورة الانعام اور سورة النحل میں اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے اسی واسطے اس جگہ اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر یہ حال بیان کیا اور فرمایا کہ واسطے تمہارے اور نفع ہیں مثلاً جیسے گھی اور پنیر وغیرہ خشکی کے سفر میں اونٹوں سے اور دریا کے سفر میں کشتیوں سے کام لیا جاتا ہے اس واسطے اونٹ کے ذکر کے ساتھ کشتی کا ذکر بھی فرمایا سورة المائدہ میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے بعضے جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑ کر ان پر سوار ہونے اور بوجھ لادنے کو حرام ٹھہرا رکھا تھا اسی طرح بعضے جانوروں کے گوشت کو وہ لوگ حرام جانتے تھے صحیح بخاری 3 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ پہلے پہل یہ رسم ایک شخص عمرو بن لحی نے نکالی اب بعد اس کے مشرکین مکہ اسی رسم کے پابند تھے۔ سورة المائدہ کی آیتوں اور ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ جانور ان لوگوں کی راحت کے لئے پیدا کئے لیکن عمرو بن لحی نے شیطان کے بہکان سے اور باقی کے مشرکوں نے عمرو بن لحی کی رسم کی پابندی کے سبب سے اس رحت میں خلل ڈال کر بعضے جانوروں کی سواری اور بار برداری کو اور بعضے جانوروں کے گوشت کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں زبردستی بتوں کو شریک ٹھہرایا۔
(2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 358 ج 5۔ )
(3 ؎ صحیح بخاری باب قصۃ خزاعۃ ص 499 ج 1۔ )
Ayahs 40:81–8581۔ 85۔ اللہ نے انسان کی پیدائش انسان کی ضرورت کے کھیتی کے بوجھ لادنے کے سواری کے جانوروں کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لئے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخر یہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کریں گے خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں کہ سوا اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کسی اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکے تو پھر جن بتوں کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں ان بتوں کو اللہ کی عبادت میں شریک کرنے کا کونسا حق حاصل ہے پھر فرمایا کہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ نشانی بھی عبرت کی نظر سے دیکھنے کے قابل ہے کہ پہلے لوگوں کی عمارتیں دیکھ کر سمجھیں کہ ان عمارتوں کی حیثیت سے وہ پچھلے لوگ قوت میں مال و متاع میں حال کے لوگوں سے بڑھ کر تھے لیکن اللہ اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کے سبب سے جب ان کے تباہ اور برباد ہونے کا وقت آگیا تو ان کی قوت ان کی مال داری ان کے کچھ کام نہ آئی اسی طرح اگر یہ لوگ بھی سمجھانے سے نہ مانیں گے اور اللہ کے رسول کی نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا پھر فرمایا کہ اب تو یہ لوگ پچھلے لوگوں کی طرح اپنی رسموں کے پابند ہیں اور اللہ کے رسول کی نصیحت کو مسخرا پن میں اڑا دیتے ہیں۔ لیکن معلوم رہے کہ نصیحت کے سمجھنے کے وقت جب ہی تک ہے کہ غیب کی باتوں پر بغیر دیکھے آدمی ایمان لائے جب اللہ کا عذاب آجائے گا پھر نہ مشرک کا ایمان قبول ہوگا نہ گناہ گاروں کی توبہ قبول ہوگی اوپر گزر چکا ہے کہ عذاب الٰہی کے آنے کے بعد غرق ہوتے وقت فرعون ایمان لایا اور قبول نہ ہوا اور ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ کی یہ حدیث بھی حضرت عبد اللہ بن عمر کی اوپر گزر چکی ہے کہ روح کے حلقوم میں پہنچنے اور موت کے فرشتوں کے نظر آنے سے پہلے مشرک کے اسلام اور گناہ گار کی توبہ کے قبول ہونے کا وقت مقرر ہے۔ ترمذی 1 ؎ اور مسند امام احمد وغیرہ کی روایتوں سے یہ بھی اوپر بیان ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب جب آفتاب مغرب کی طرف سے نکلے گا تو پھر توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا بیہقی نے کتاب بعث و نشور میں اور ابولیث سمر قندی نے اپنی تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ مغرب سے آفتاب نکلنے کے بعد ایک سو تیس برس دنیا قائم رہے گی اور جن لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آفتاب مغرب سے نکلے گا ان کے جیتے جی ان کا اسلام اور ان کی توبہ قبول نہ ہوگی ان لوگوں کی جو اولاد اس زمانہ کے بعد پیدا ہوگی۔ جس زمانہ میں آفتاب کے مغرب سے نکلنے کی شہرت تھی تو اس شہرت کے مٹ جانے کے بعد ان نئی پیدائش کے لوگوں کا اسلام اور ان کی توبہ قبول ہوجائے گی۔ لیکن اور علما نے اس قول کو ضعیف اور بہت سے صحیح آثار کے مخالف قرار دیا ہے۔ چناچہ طبرانی اور مسند عبد بن حمید وغیرہ میں جو آثار ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آفتاب کے مغرب سے نکلتے ہی شیطان یہ کہے گا کہ یا اللہ تو جس کو حکم فرمائے میں سجدہ کرتا ہوں اور پھر اس روز سے نیک عمل کا نامہ اعمال میں لکھا جانا بند ہوجائے گا اور کراماً کاتبیں نامہ اعمال کے کاغذ لپیٹ کر آسمان پر لے جائیں گے اور اسی روز سے توبہ کا دروزاہ بند ہو کر قیامت تک نہ کھلے گا اب یہ ظاہر بات ہے کہ آفتاب کے مغرب سے نکلنے کے بعد بھی کوئی زمانہ نیک عمل کرنے کا ہوتا تو شیطان نیک لوگوں کے بہکانے سے سورج کے مغرب سے نکلتے ہی ناامید کیوں ہوجاتا اور نیک عمل کا لکھا جانا بند ہو کر فرشتے آسمان پر کیوں چلے جاتے اور توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کیوں بند ہوجاتا اگرچہ یہ آثار صحابہ کے قول ہیں لیکن یہ قاعدہ محدثین کا مشہور ہے کہ اس طرح کی غیب کی باتیں جو صحابہ کی ہیں وہ حدیث نبوی کے حکم میں ہوا کرتی ہیں کس لئے کہ اس طرح غیب کی باتیں بغیر وحی کے نہیں معلوم ہوسکتی ہیں اسی واسطے ایسے ابواب میں صحابہ جو کچھ روایتیں بیان کرتے ہیں وہ آنحضرت ﷺ سے سن کر روایت کرتے ہیں اب آگے فرمایا کہ دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے مجبوری کے وقت یہ امتحان کی حالت باقی نہیں رہتی اس لئے انتظام الٰہی میں کسی کا مجبور کا ایمان یا مجبوری کی توبہ قبول ہونے کے قابل نہیں ہے اسی واسطے پچھلے لوگوں نے مجبور کے وقت فرمانبرداری کا اقرار کیا ہے لیکن ان کے اس بےوقت کے اقرار نے ان کو آخرت کی خرابی سے کچھ نہ بچایا۔
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی فضل التوبۃ والا ستغفار ص 215 ج 2۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الانعام ص 155 ج 2۔ )