39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 39:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو خدا کی عبادت کرو (یعنی) اسکی عبادت کو (شرک سے) خالص کر کے

1۔ 2 حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ سورة مکی ہے مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے یہ اللہ کا کلام نہیں ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ یہ قرآن اللہ زبردست صاحب حکمت کا نازل کیا ہوا ہے زبردست تو وہ ایسا ہے کہ قرآن سے پہلے کے اس کے احکام کو جن پہلی قوموں نے نہیں مانا۔ ان کو طرح طرح کے عذابوں سے اس نے ہلاک کردیا صاحب حکمت وہ ایسا ہے کہ مرنے کے بعد نیک و بد جو انجام ہونے والا تھا اس نے اپنے کلام میں وہ سب انسان کو جتلا دیا۔ تاکہ کسی کو اس انجام سے انجان پنے کا عذر باقی نہ رہے۔ اب دوسری آیت میں حضرت ﷺ کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے فرمایا۔ اے رسول اللہ کے جس قرآن کے نازل کرنے کا ذکر پہلی آیت میں ہے۔ وہ قرآن اللہ تعالیٰ نے تم پر نازل فرمایا ہے۔ منکر قرآن یہ جو کہت ہیں۔ کہ قرآن خود تم نے بنا لیا ہے وہ جھوٹے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کو یہ تو معلوم ہے کہ تم ان پڑھ ہو۔ اور باتیں اس قرآن میں ایسی ہیں۔ کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار اہل کتاب بھی بغیر آسمانی وحی کی مدد کے ان باتوں سے ناواقف تھے۔ تو اب اس بات میں شک و شبہ کرنے کا کسی عقل مند کو کیا موقع باقی رہا۔ کہ یہ قرآن کتاب آسمانی ہے۔ اور محمد ﷺ پر جب یہ آسمانی کتاب نازل ہوئی۔ تو وہ بلاشک اللہ کے سچے رسول ہیں حق کے معنی انصاف کے ہیں۔ جس اللہ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا۔ کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں تو یہ عین انصاف ہے کہ اس کی تعظیم میں کسی دوسرے کو شریک نہ کیا جاوے حق کی تفسیر خالص عبادت الٰہی سے فرما کر تعجب کے طور پر پھر مشرکوں کا ذکر فرمایا۔ تاکہ معلوم ہوجاوے کہ جو لوگ اپنے اور اپنی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں بلاسبب دوسروں کو شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے معاذ ؓ بن جبل کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اللہ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کریں۔ جن بندوں نے اللہ کا یہ حق پورا پورا ادا کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ان بندوں کو دوزخ کے عذاب سے بچاوے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیتوں میں خالص دل کی عبادت کا جو حکم ہے حدیث کے موافق۔ وہ بندوں پر اللہ کا ایک حق ہے۔ جس کے پورا پورا ادا ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بندوں کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ اللہ کے اس حق کے ادا کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے بچاوے آیتوں میں خالص عبادت الٰہی کے ساتھ مشرکوں کا جو ذکر ہے۔ اس کا مطلب اس صحیح حدیث کے موافق یہ ہے۔ کہ مشرک لوگ اللہ کے حق میں خلل ڈالتے ہیں۔ اس لئے وہ دوزخ کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جہل۔ ص 566 ج 1) (1 ؎ صحیح مسلم مع نودی باب الدللہ علی من مات علی التوحید دخلہ الجنۃ قطعاً ص 44 ج 1 و صحیح بخاری باب من خص بالعلم قوما دون قوم وایضاً ج 2 ص 962 باب من جاھد نفسہ فی طاعۃ اللہ)
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا) ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کر دے گا بیشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا

3۔ تفسیر قتادہ تفسیر سدی اور تفسیر زید بن اسلم 2 ؎ میں اس آیت کی تفسیریوں کی گئی ہے کہ مشرکین مکہ حشر اور قیامت کے تو قائل نہیں تھے لیکن انہوں نے فرشتوں کے نام کے اور پچھلے زمانہ کے کچھ نیک لوگوں کے نام کے بت جو بنا رکھتے تھے ان کو وہ لوگ اس اعتقاد سے پوجتے تھے کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے اگر ان مشرکوں پر کوئی مصیبت آوے گی۔ تو وہ فرشتے اور نیک لوگ جن کو وہ پوچتے ہیں اللہ کی درگاہ میں اس کی سفارش کرکے وہ مصیبت ٹال دیں گے۔ یہاں اس سورة میں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے اس غلط خیال کا مختصر یہ جواب دیا کہ جس اختلاف میں یہ مشرک پڑے ہیں ان کا فیصلہ قیامت کے دن ہوجاوے گا مگر ان مشرکوں کے قیامت کے قائل نہ ہونے کے سب سے سورة احقاف میں اللہ تعالیٰ نے ان کے غلط خیال کا جواب دنیا کی حالت کو جتلا کردیا ہے۔ جس جواب کا حاصل یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر پھر یہ فرمایا ہے کہ اگر یہ بت پرست لوگ اپنے اعتقاد میں سچے ہیں کہ جن کی مورتوں کو یہ پوجتے ہیں اور کہتے ہیں۔ کہ مصیبت کے وقت ان مورتوں کی اصل صورتیں ان کی سفارشی بنیں گی تو پچھلے زمانہ کے بت پرستوں پر جو طرح طرح کے عذاب نازل ہوئے اس وقت ان سفارشیوں نے سفارش کر کے اللہ کے عذاب کی مصیبت کو کیوں نہیں ٹالا۔ اس جواب کو سورة احقاف میں اللہ تعالیٰ نے ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ فلو لا نصرھم الذین اتخذوامن دون اللہ قربانا الھۃ حاصل کلام یہ ہے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حشر اور قیامت کو جگہ جگہ اس طرح ثابت فرما دیا ہے جس سے منکرین حشر بالکل لاجواب ہوگئے۔ اور منکرین حشر کے جو اعتراض تھے ان کی کچھ بنیاد باقی نہ رہی۔ اس واسطے مشرکوں کا وہ غلط خیال جو اوپر گزرا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے کہیں قرآن شریف میں شریعت کے موافق قسم کھا کردیا ہے کہ حشر اور قیامت کا آنا برحق ہے۔ اور اس دن ان بت پرستوں کے بت کچھ کام نہ آویں گے۔ بلکہ وہ اور ان کے بت دونوں دوزخ میں جھونکے جاویں گے۔ اور کہیں ان منکرین حشر کی سمجھ کے موافق عقلی جواب دیا ہے۔ کہ اگر ان بتوں کو کچھ قدرت تھی تو حضرت نوح سے لے کر حضرت موسیٰ تک کے پچھلے بت پرست لوگ طرح طرح کے عذاب الٰہی سے جو غارت ہوگئے۔ ان بتوں نے ان کی سفارش اور مدد کیوں نہیں کی۔ اوپر گزر چکا ہے کہ سفارش کرنا تو درکنار فرشتے اور نیک لوگ قیامت کے دن ان اپنے پوجنے والے مشرکوں سے بڑی بیزاری ظاہر کریں گے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ وہ فرشتے اور نیک لوگ جن کی مورتوں کی یہ مشرک پوجا کرتے ہیں مصیبت کے وقت نہ دنیا میں اپنی پوجا کرنے والوں کے کچھ کام آئے نہ قیامت کے دن کچھ کام آسکتے ہیں۔ صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم کے سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے۔ اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے عبد ؓ اللہ بن مسعود ؓ کی مکہ کے قحط کی حدیث گزر چکی ہے۔ کہ اس قحط کے وقت مشرکین مکہ نے اپنے بتوں سے بہت التجا کی۔ مگر مینہ نہیں برسا۔ ان حدیثوں کو آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے قحط کے وقت جب مشرکین مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے تو ان مشرکوں کی سمجھ میں یہ بات آجانے کے قابل تھی۔ کہ ان بتوں کو اللہ کے کارخانہ میں کچھ دخل نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پا چکے تھے وہ مرتے دم تک اپنے اس اعتقاد پر جمے رہے۔ جن کا ذکر آیت کے اس ٹکڑے میں ہے اور قیامت کے دن کا فیصلہ اوپر گزر چکا ہے۔ خفگی کے طور پر فرشتوں سے اور نیک لوگوں سے پوچھا جاوے گا۔ کہ یہ مشرک لوگ تمہارے کہنے سے تمہاری مورتوں کی پوجا کرتے تھے جب فرشتے اور نیک لوگ اس شرک سے بیزاری ظاہر کریں گے۔ اور یہ مشرک اپنے جھوٹے معبودوں کے سامنے ذلیل ہو چکیں گے تو پھر ان مشرکوں کو ہمیشہ کے لئے دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ (2 ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثرشج ص 45 ج 4) (1 ؎ صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔ ص 977 ج 2) (2 ؎ صحیح بخاری قولہ یغشی الناس ھذا عذاب الیم ص 714 ج 2)
Ayahs 39:4–5

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر خدا کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا وہ پاک ہے وہی تو خدا یکتا (اور) غالب ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے (اور) وہی رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو بس میں کر رکھا ہے سب ایک وقت مقرر تک چلتے رہیں گے دیکھو وہی غالب (اور) بخشنے والا ہے

4۔ 5۔ اوپر ذکر تھا کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ دوزخی قرار پا چکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے جھوٹے منکر لوگوں کو زبردستی راہ راست پر لانا نہیں چاہتا۔ کیونکہ دنیا کو اس نے نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کیا ہے زبردستی میں وہ امتحان کی حالت باقی نہیں رہتی۔ جھوٹ تو ان مشرکوں کا یہ ہے کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہہ کر یہ لوگ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہراتے ہیں اور ناشکری ان لوگوں کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا لیکن یہ لوگ اللہ کی تعظیم اور عبادت میں بلا سبب دوسروں کو شریک کرتے ہیں آگے فرمایا آسمان و زمین اور جو چیز آسمان و زمین میں ہے سب اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے پھر خالق کو اپنی مخلوقات میں سے کسی کو اولاد بنانے کے لئے چننا اور اپنے برابر ٹھہرانا مناسب نہیں ہے کیونکہ وہ خالق تو اپنی ذات سے اکیلا ہے اور سب پر اس کی حکومت اور اس کا دباؤ ہے جب رات کا اندھیرا پھیلتا ہے تو دن کا اجالا اس طرح سمٹ جاتا ہے جس طرح کسی چیز کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور یہی حال دن کے اجالے کا ہے یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل کا یہی مطلب ہے سورج دن کی نشانی ہے اور چاند رات کی اس لئے دن اور رات کے ذکر کے ساتھ سورج اور چاند کا ذکر فرمایا زبردست وہ ایسا ہے کہ پہلی جن قوموں نے اس کی نافرمانی کی ان کو اس نے طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا بخشش کی صفت اس میں ایسی ہے کہ فرمانبردار لوگوں کی پچھلی سب خطاؤں کے معاف کرنے کا وعدہ ہے صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے عمرو بن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کا عہد کرلیوے تو اس کی نافرمانی کے زمانہ کے سب گناہ اس طرح مٹ جاتے ہیں۔ جس طرح کوئی عمارت گر پڑتی ہے۔ اور پھر اس کا نام و نشان باقی نہیں رہتا۔ پچھلی قوموں کی بربادی کے سب قصے اور یہ حدیث ھو العزیز الغفار کی گویا تفسیر ہیں۔ (1 ؎ صحیح مسلم باب کون الاسلام یھدم ماکان قبلہ وکذا الحج والھجرۃ ص 76 ج 1)
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا ہے پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چار پایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں (پہلے) ایک طرح پھر دوسری طرح تین اندھیروں میں بناتا ہے یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

6۔ اوپر مشرکین مکہ کے شرک کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں ان کے قائل کرنے کے لئے فرمایا کہ ان مشرکین کے ان کے بڑوں کو سب بنی آدم کے باپ ماں آدم اور حوا کو اور ان کی ضرورتوں کے لئے چوپایوں کے آٹھ نر مادہ کو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی شریک نہ تھا پھر جو کوئی اپنے خالق اور آسمان اور زمین کے بادشاہ کی تعظیم اور عبادت میں بلاسبب دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ وہ راہ رست سے پھرا ہوا ہے صحیح 1 ؎ ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ حوا (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اور پسلی کی ہڈی کی طرح ہر عورت کے مزاج میں ایک کجی ہے جو کوئی اس کجی کو جھیل کر عورت کے ساتھ نرمی سے گزارے گا تو گزر ہوجائے گی۔ ورنہ گزر مشکل ہے حضرت عبداللہ بن عباس 2 ؎ عبد اللہ بن مسعود اور صحابہ کی ایک جماعت کا یہ قول ہے کہ پہلے تن تنہا آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رہنے کا حکم ہوتا تھا۔ ایک دن آدم (علیہ السلام) جب سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں ان کی بائیں پسلی سے اللہ تعالیٰ نے حوا (علیہ السلام) کو پیدا کردیا۔ یہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث اور صحابہ کے قول ثم جعل منھا زوجھا کی گویا تفسیر ہیں۔ ترمذی 3 ؎ وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی صحیح صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے بنی آدم کی روحوں کو نکالا۔ اور پھر جنتی اور دوزخیوں کی روحوں کو الگ الگ کیا۔ اس حدیث کے موافق صحابہ کی ایک جماعت کا قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے جنت میں جانے اور حوا (علیہا السلام) کی جسمانی پیدائش سے پہلے تمام بنی آدم کی روحیں آدم (علیہ السلام) کی پیش میں پیدا کی جا چکی تھیں۔ اس لئے پہلے خلقکم من نفس واحدۃ فرما کر پھر حوا (علیہا السلام) کی جسمانی پیدائش کا ذکر فرمایا صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نطفہ چایس دن تک رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور ہڈیاں اسی گوشت سے بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے اور پتلا تیار ہوجاتا ہے غرض چار ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس پتلے میں جان پڑجاتی ہے۔ قد افلح المومنون میں اس کی تفصیل زیادہ گزر چکی ہے عبد اللہ بن مسعود کی یہ حدیث اور قد افلح المومنون میں کی تفصیل خلقا من بعد خلق کی گویا تفسیر ہے حضرت عبد اللہ بن عباس 5 ؎ کے قول کے موافق تین اندھیروں میں ایک اندھیرا ماں کے پیٹ کا اور دوسرا رحم کا اور تیسرا اس جھلی کا جو بچے کے ساتھ نکلتی ہے۔ بھیڑ ‘ بکری ‘ اونٹ اور گائے کے اٹھ نر مادہ کا ذکر سورة الانعام میں گزر چکا ہے۔ صحیح مسلم 6 ؎ میں حضرت ابوذر ؓ کی روایت سے ایک بہت بڑی حدیث قدسی سے اس میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تفسیر فرماتی ہے حاصل اس حدیث کے ایک ٹکڑے کا یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سارا جہان اگر متقی ہوجائے تو اس سے اللہ کو نفع نہیں پہنچتا۔ اور اگر سارا جہان نافرمان ہوجاوے تو اس سے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔ جیسا جو عمل کرے گا وہ لکھا جاتا ہے کہ اگر نیک عمل ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے عمل کی حیثیت سے بڑھ کر جزا دیوے گا اگر عمل بد ہے تو عمل بد کی حیثیت کے موافق سزا ہوگی یا معاف بھی ہوجائے گا آدمی رات دن گناہوں میں گرفتار ہے۔ اس کو چاہئے کہ جب موقع پاوے اللہ کی جناب میں توبہ استغفار کرے اللہ تعالیٰ بخشے والا ہے۔ بغیرہدایت اور توفیق الٰہی کے آدمی گمراہی میں پڑا ہوا ہے اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی التجا کرے اللہ تعالیٰ اس کو نیک راستہ پر لگا دے گا۔ اس حدیث کے لفظوں سے معلوم ہوا کہ نہ اللہ تعالیٰ کو نیک کام کی حیثیت سے بڑھ کر جزا دینے میں کچھ دریغ ہے نہ بدی کے بخش دینے میں کچھ دریغ ہے۔ نہ سارے جہان کے نیک ہوجانے سے اس کو کچھ نفع ہے نہ سارے جہان کے بد بن جانے سے کچھ ضرر ہے۔ یہی تفسیر اس آیت کی ہے اور اسی اپنی بےپرواہی کے کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے یہ اس آیت میں فرمایا ہے۔ کہ اگر سب لوگ اللہ کے منکر ہوجاویں تو اللہ کو ان کے منکر ہونے کی کچھ پروا نہیں خدا کی بادشاہی دنیا کے بادشاہوں کی بادشاہی جیسی نہیں۔ کہ ان کی بادشاہی کو فوج یا رعیت کے منحرف اور باغی ہوجانے سے ضرر پہنچ جاتا ہے۔ وہ ایسا زبردست بادشاہ ہے کہ کسی کے منحرف ہوجانے سے اس کی بادشاہت میں کچھ خلل نہیں پڑتا۔ اس واسطے کسی کے منکر اور منحرف ہوجانے کی اس کو ذرا بھی پروا نہیں۔ اس آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے کفر کو پسند نہیں کرتا۔ مذہب اہل سنت کے موافق اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو لوگ نیک راہ پر آنے کے قابل ٹھہر چکے ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ ہر طرح نیک کام سے لگا دیتا ہے۔ اس صورت میں بندوں سے مراد آیت میں عام بندے نہیں ہیں۔ بلکہ جو بندے راہ راست پر آویں وہی بندے مراد ہیں۔ امام المفسرین عبد اللہ ؓ بن عباس ؓ اور مفسرین سلف نے آیت کے یہی معنی کئے ہیں۔ تفسر ابن جریر 1 ؎ وغیرہ میں صحیح سند اس معنی کی حضرت عبد اللہ بن عباس تک پہنچی ہے۔ فرقہ اہل سنت اور فرقہ معتزلہ میں جو چند مسئلوں میں بحث ہے۔ ان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے معتزلی لوگ یہ کہتے ہیں کہ برا کام اللہ کے ارادہ سے نہیں ہوتا۔ اور اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ خدا کی خدائی میں بغیر ارادہ خدا کے کچھ نہیں ہوسکتا لیکن خدا کا ارادہ اور چیز ہے اور ایک چیز پسند کر کے خدا تعالیٰ کا اس کے کرنے کا حکم دینا یہ اور چیز ہے۔ ہر چیز خدا کے ارادہ سے پیدا ہوئی ہے مگر کفر شرک بدعت اور برے کاموں سے خدا نے منع کیا ہے اور نیک کاموں کے کرنے کا خدا نے امر فرمایا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کا امر بجا لاوے گا اس سے خدا تعالیٰ خوش ہوگا اور اس کو جزا دیوے گا اور جو شخص ان کاموں کو کرے گا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ نے شریعت محمدی ﷺ میں یہ تفصیل فرمائی ہے کہ اگر وہ منع کیا ہوا کام شرک ہے تو اس کو خدا تعالیٰ بغیر توبہ کے ہرگز نہ بخشے گا اور سوا شرک کے اور گناہوں کا گناہ گار بغیر توبہ کے مرجاوے گا تو ایسے شخص کی بخشش اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب مداراۃ مع النساء ص 779 ج 2) (2 ؎ تفسیر ہذا جلد اول تفسیر سورة بقرہ ص۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الاعراف ص 155 ج 2) (4 ؎ بخاری شریف کتاب القدر ص 976 ج 2) (5 ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ص 46 ج 4) (6 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 318 باب تحریم الظلم کتاب البر والصلۃ والادب) (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ج 5 ص 323 تفسیر الایۃ المذکورۃ عن تفسیر ابن جرید و ابن المنذر و ابن ابی حاتم و البیہقی فی الاسماء و الصفات)
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپرواہ ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے

7۔ مشرکین مکہ کے بعضے لوگ اپنے جان پہچان والے مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم اپنے باپ داد کے دین کو چھوڑ کر اسلام پر قائم نہ رہو اپنے قدیمی دین پر آجاؤ اگر اسلام سچا ہوا اور ہمارا کہنا مان لینے کے سبب سے تم قیامت کے دن گناہ گار ٹھہرے تو تمہارے گناہ ہم اٹھا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة العنکبوت میں بھی فرمایا کہ یہ مشرک جھوٹے ہیں۔ قیامت کے دن کوئی کسی کے گناہوں کا بوجھ نہ اٹھاوے گا۔ اور کئی جگہ قرآن شریف میں اسی مطلب کو مختصر طور پر ادا فرمایا۔ یہ آیت بھی ان ہی آیتوں میں سے ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے۔ کہ قیامت کے دن نہ تو کوئی گناہ اللہ تعالیٰ سے چھپ سکتا ہے۔ کیونکہ اس کو انسان کے دل تک کا حال معلوم ہے اور نہ ایک شخص کے گناہوں کی سزا دوسرے کو دی جاوے گی۔ بلکہ ہر شخص کو اس گناہوں کے موافق سزا ہوگی ‘ یہ ذکر تو بہکنے والوں کا ہوا بہکانے والوں کا ذکر سورة العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ بہکانے کو دہری سزا دی جاوے گی ایک خود بہکنے کی اور دوسری اوروں کو بہکانے کی۔ بہکنا اور بہکانا دونوں کام ان لوگوں کے ذاتی گناہ ہیں۔ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کو کسی دوسرے کے گناہ کی سزا دی گئی۔ اس تفسیر کے بعد ان آیتوں میں اور سورة العنکبوت کی آیتوں میں کچھ اختلاف باقی نہیں رہتا۔ صحیح مسلم کے والہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو شخص دین میں کوئی نیک راستہ نکالے گا تو جتنے آدمی اس نیک راستہ کے سبب سے نیک راستہ پر لگیں گے۔ ان سب کے اجر کے برابر اس نیک راستہ نکالنے والے کو بھی اجر ملے گا۔ اور یہی حال برے رستہ کا ہے اس حدیث کو اور سورة العنکبوت کی آیتوں کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جس طرح مشرکین مکہ زبان سے بہکانے کی باتیں نکال کر مسلمانوں بہکاتے تھے۔ برا راستہ نکالنے والے کا بھی وہی حکم ہے۔ خواہ وہ برا راستہ نکالنے کے بعد زبان سے کسی کو بہکاوے یا نہ بہکاوے۔ اس حدیث کے موافق ایسے شخص کا برار استہ نکالنا ہی زبانی بہکانے کے برابر ہے۔ 1 ؎ صحیح مسلم ج 2 ص 348 باب من سن سنۃ حسنۃ او سیئۃ و من دعا الی ھدی ارضلاۃ من کتاب العلم۔ )
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اسکی طرف دل سے رجوع کرتا ہے پھر جب وہ اسکو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے راستہ سے گمراہ کرے کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے پھر تو تو دوزخیوں میں ہوگا

8۔ سورة العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ جب یہ مشرک لوگ کشتی میں سوار ہوتے اور دریا کے جوش کے سبب سے کشتی کے ڈوب جانے کا خوف ہوتا تو ایسے وقت پر اپنے بتوں کو بالکل بھول جاتے اور خالص اللہ سے ہی ڈوب جانے کی مصیبت کے ٹل جانے کی التجا کرتے اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی تو پھر ترک میں گرفتار ہوجاتے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سورة العنکبوت کی آیتوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اگرچہ ان لوگوں کے دل اس بات کو جانتے تھے کہ مصیبت کے وقت سوا اللہ کے اور کسی میں مصیبت کو راحت میں بدل دینے کی قدرت نہیں۔ لیکن راحت کے وقت یہ لوگ اس بات پر قائم نہیں رہتے بلکہ مصیبت کے وقت خالص اللہ سے مصیبت کے ٹل جانے کی جو التجا کرتے ہیں۔ راحت کے وقت اس حالت کو یاد ہی نہیں رکھتے اب آگے فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ دنیا کی زندگی تھوڑے دن کی ہے۔ اس میں جو ان کا جی چاہے کر لیویں ‘ پھر مرنے کے ساتھ ہی ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ مسند 2 ؎ امام احمد کے حوالہ سے عائشہ کی حدیث گزر چکی ہے۔ کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد نیک شخص کے مردہ کو جنت میں اس کا ٹھکانہ اور بد شخص کے مردہ کو دوزخ کا ٹھکانہ اللہ کے فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں جانے اور رہنے کے لئے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ ابوداؤد 1 ؎ اور مسند امام احمد میں براء بن عازب کی صحیح حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ نیک شخص کا مردہ جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ کر قیامت کے جلدی قائم ہو جان کی دعا مانگتا رہتا ہے۔ اور بد شخص کا مردہ دوزخ میں اپنا ٹھکانا دیکھ کر عذاب قبر کو ہلکا جانتا ہے اس لئے اس کی التجا یہ ہوتی ہے کہ قیامت جلدی سے قائم نہ ہو۔ حدیثیں تمتع بکفرک قلیلا کی گویا تفسیر ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ یہ مشرک لوگ دوزخ میں تو قیامت کے دن جھونکے جاویں گے مگر ان کو اپنے دوزخی ہونے کا انجام مرنے کے ساتھ ہی معلوم ہوجاوے گا۔ اور ایسے لوگوں کا دوزخ کا ٹھکانا ہر وقت گویا ان کی آنکھوں کے سامنے رہے گا۔ اس لئے کہ ان کی التجا یہ ہوگی کہ قیامت جلدی سے قائم نہ ہو۔ (2 ؎ الترغیب ص 688 ج 4 باب فیما وردنی عذاب القبر و تعلیمہ ولھذا معنی شاھد عند مسلم 2 ص 315 باب عرض مقعد المیت من الجنۃ والنار۔ ) (1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ فیما یقال عند من حضرہ الموت ص 142)
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں

9۔ مشرکین مکہ حشر کے قائل نہیں تھے۔ اس لئے وہ یہ کہتے تھے کہ جینا اور مرنا فقط یہی دنیا کی زندگی اور موت ہے۔ عمر پوری ہوجانے کے بعد جب آدمی مر کر خاک ہوگیا تو پھر کچھ بھی نہیں۔ سورة الجاثیہ میں مشرکوں کے اس قول کی زیادہ تفصیل آوے گی۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے قول کا جواب کئی طرح سے قرآن شریف میں دیا ہے۔ اس آیت میں مشرکوں کے اس قول کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح یہ مشرک کہتے ہیں۔ مرنے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں۔ اگر ایسا ہو تو جو لوگ ہر وقت اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں۔ اور اس کے اجر کی اللہ سے توقع رکھتے ہیں۔ اور دنیا میں ان کا یہ کام اس لئے پورا نہیں ہوا کہ اس طرح کے اکثر لوگوں کی زندگی بھی کچھ خوشحالی سے نہیں گزری۔ اسی طرح جو لوگ اللہ کی خالص عبادت کے منکر ہیں۔ اللہ کے کلام اور اللہ کے رسول کا جھٹلانا ان کا رات دن کا مشغلہ ہے۔ اور دنیا میں بھی اس کی زندگی خوشحالی سے گزرتی ہے۔ اب ان دونوں گروہ کو ایک حالت پر چھوڑ دینا تو ایسی بےانصافی ہے۔ کہ خود یہ لوگ بھی فرمانبردار اور نافرمان غلاموں کے حق میں اس کو جائز نہیں رکھتے پھر اللہ تعالیٰ کے انصاف پر یہ دھبہ کیوں لگاتے ہیں کہ اس کی بارگاہ میں نہ فرمانبرداری کا کچھ ثمرہ ہے۔ نہ نافرمانی کی کچھ پرسش اس لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اسی ارادہ سے پیدا کیا ہے۔ کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد ایک دوسرا جہاں نیک و بد کی جزا و سزا کا پیدا کیا جاوے۔ جو لوگ اس کے منکر ہیں وہ بڑے نادان ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ دنیا میں جو کام کرتے ہیں اس کا نتیجہ دل میں سوچ لیتے ہیں۔ مثلاً تجارت کرتے ہیں فائدہ حاصل کرنے کے لئے کھیتی کرتے ہیں اناج ہاتھ آنے کو باغ لگاتے ہیں میوہ کھانے کے لئے پھر کیا ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے کا اتنا بڑا کام یوں ہی بلا نتیجہ کیا ہے۔ ان مشرکوں کے قول کے موافق جس طرح اہل دنیا مر کر خاک میں مل جاویں گے۔ تو کیا دنیا کے پیدا کرنے کا نتیجہ بھی خاک میں مل جاوے گا نہیں نہیں مرنے کے بعد جیسا دنیا کے پیدا کرنے کا نتیجہ ان کی آنکھوں کے سامنے آوے گا۔ تو اس وقت یہ لوگ اپنی اس نادانی پر بہت پچھتاویں گے۔ مگر وہ بےوقت کا پچھتانا کچھ ان کے کام نہ آوے گا۔ صحیح مسلم 2 ؎ ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس طرح کے منکر حشر لوگ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو وہ نعمتیں یاد دلاوے گا جو انہیں دنیا میں دی گئی تھیں بعد اس کے اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے پوچھے گا کہ جس اللہ نے یہ سب نعمتیں پیدا کی تھیں۔ اس کے رو برو کھڑے ہو کر حساب و کتاب کا بھی تمہارے دل میں کبھی خیال گزرا تھا۔ وہ لوگ کہیں گے کہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماوے گا کہ جس طرح تم لوگوں نے میرے سامنے کھڑے ہونے کو دنیا میں بھلا دیا۔ اس طرح آج میں نے بھی تم کو رحمت کی یاد سے بھلا دیا اور نظر رحمت سے دور ڈال دیا۔ اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنی نظر رحمت سے دور ڈال دیوے گا اس کا سوا دوزخ کے اور کہاں ٹھکانا ہے یہ حدیث منکرین حشر کے انجام کی گویا تفسیر ہے۔ (2 ؎ صحیح مسلم فصد فی بیان ان الاعضاء منطقۃ شاھدۃ یوم القیمۃ ص 409 ج 2)
Ayahs 39:10–16

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور خدا کی زمین کشادہ ہے جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بیشمار ثواب ملے گا

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ سے ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت کو خالص کر کے اسکی بندگی کروں

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ میں سب سے اول مسلمان بنوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے دین کو (شرک سے) خالص کر کے اس کی عبادت کرتا ہوں

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تو تم اس کے سوا جس کی چاہو پرستش کرو کہہ دو نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا دیکھو یہی صریح نقصان ہے

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے (اس کے) فرش ہوں گے یہ وہ (عذاب) ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو اے میرے بندو مجھ سے ڈرتے رہو

10۔ 16۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر فرما کر اب ایمانداروں کا ذکر فرمایا جو علما یہ کہتے ہیں۔ کہ اس مکی سورة میں ان آیتوں میں سے پہلی آیت قل یعباد مدنی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ اس آیت میں ہجرت کا ذکر ہے اور ہجرت اللہ کے رسول ﷺ کے مدینہ میں آنے اور قرآن کا مدنی حصہ کا نازل ہونا شروع ہونے کے بعد فرض ہوئی ہے۔ لیکن جو علما اس آیت کو مدنی نہیں قراردیتے۔ وہ اس ہجرت کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ نے جب مسلمانوں کو بہت ستانا شروع کیا تو نبوت کے پانچ برس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے اسی آدمی کے قریب مکہ سے حبشہ کو چلے گئے تھے۔ اسی کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مدینہ کی ہجرت کے بعد یہ لوگ پھر حبشہ سے مدینہ کو چلے آئے۔ اسی واسطے ان لوگوں کو دو ہجرتوں والا کہا جاتا ہے۔ مدینہ کی ہجرت حبشہ کی ہجرت کے چھ ساڑھے چھ برس کے بعد ہے اللہ کے رسول دین کے جو احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں ان کے دلی یقین اور زبانی اقرار کو ایمان کہتے ہیں اب ایمان کے ساتھ تقویٰ بھی ضرور ہے شریعت میں جن کاموں کے کرنے کا حکم ہے ان کے کرنے کو اور جن باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنے کو تقویٰ کہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے خوف سے ہونا چاہئے کیونکہ دنیا کو دکھاوے کی کوئی بات بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ایمان کیساتھ تقویٰ کا ذکر فرمانے کی یہی تفسیر ہے جو بیان کی گئی چناچہ صحیح 1 ؎ مسلم میں سفیان ؓ بن عبد اللہ تقفی سے روایت ہے جس میں سفیان کہتے ہیں میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا۔ حضرت اسلام میں مجھ کو کوئی ایسی بات بتلا دیجئے کہ پھر مجھ کو کسی بات کے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے آپ نے فرمایا۔ جن باتوں کے ماننے کا شریعت میں حکم ہے اور ان کے ماننے کا زبان سے اقرار کر اور پھر اس اپنے اقراد پر قائم رہ یہ سفیان بن عبد اللہ طائف کے رہنے والے صحابہ میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ان سے کوئی روایت نہیں۔ حضرت عمر ؓ کی خلافت میں یہ سفیان بن عبد اللہ طائف کے حاکم بھی رہے ہیں۔ اقرار پر قائم رہنے کا یہی مطلب ہے کہ شریعت میں جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے۔ ان کو کرنا اور مناہی کے حکم کی باتوں سے بچنا چاہئے۔ یعبادی الذین امنوا اتقوا ربکم کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ اب آگے فرمایا جو لوگ دنیا میں اس طرح کے نیک کاموں کے پابند ہوں گے۔ عقبے میں ان کی جزا جنت ہے۔ جہاں ہر طرح کا ہمیشہ کا آرام ہے پھر فرمایا۔ جس سر زمین میں مخالفوں کے ستانے کے سبب سے نیک کاموں کے کرنے کا موقع نہ ملے تو ایماندار شخص کو چاہئے کہ ایسی جگہ نہ رہے۔ اللہ کی سر زمین کچھ تنگ نہیں کشادہ ہے کہیں دوسری امن کی جگہ میں جا رہے پھر فرمایا جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے اپنے وطن اور رشتہ داروں کے چھوڑنے کی تکلیف پر صبر کرے گا۔ اس کو قیامت کے دن بےحساب اجر ملے گا۔ دین کی جو باتیں امت میں پھیلتی ہیں ان میں اللہ کے رسول امت کے لوگوں کے گویا استاد ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر قرآن شریف میں اسی طرح جگہ جگہ توحید کی تاکید فرمائی ہے جس طرح آگے کی آیتوں میں ہے تاکہ اللہ کے رسول بھی اسی طرح امت کے لوگوں میں توحید کو تاکید سے پھیلاویں مستدرک حاکم کے حوالہ سے نعمان بن بشیر کی صحیح حدیث 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اکثر وعظ کہنے میں ایسے مصروف ہوتے تھے کہ آپ کی چادر کاندھے پر سے اتر کر گر پڑتی تھی اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے توحید اور دین کے احکام اپنے رسول پر نازل فرمائے اسی تاکید سے اللہ کے رسول نے وہ احکام لوگوں کو پہنچا دیئے۔ ابن ماجہ 2 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے ایک گھر جنت میں اور ایک دوزخ میں بنایا ہے جو لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں جائیں گے ان کے جنت میں خالی گھر جنتیوں کو مل جائیں گے۔ یہ حدیث خسروا انفسھم و اھلیھم کی گویا تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جان کو دوزخ کے ہاتھ اور جنت کے مکان اور حوروں کو دوسروں کے ہاتھ ہار بیٹھے۔ دوزخ کے اوپر کے درجہ میں جو دوزخی ہوں گے۔ ان کے پائوں کے نیچے کا آگ کا ٹکڑا دوزخ کے نیچے کے درجہ پر بادل کی طرح چھایا ہوا ہوگا۔ اس واسطے نیچے کے آگ کے ٹکڑے کو بھی بادل فرمایا آخر کو فرمایا دوزخ کا عذاب انسان کی برداشت سے باہر ہے اس لئے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور یہ فرماتا ہے کہ اے بندوں اللہ کے عذاب سے ڈرو۔ (1 ؎ صحیح مسلم مع نودی باب جامع اوصاف الاسلام۔ ص 48 ج 1) (1 ؎ بحوالہ مشکوۃ شریف فی صفۃ النارواھلھا الفصل الثانی ص 504) (2 ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجنۃ ص 332)
Ayahs 39:17–21

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا تو ان کے لئے بشارت ہے تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے ؟

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (یہ) خدا کا وعدہ ہے خدا وعدے کے خلاف نہیں کرتا

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کتا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہو گئی ہے) پھر اسے چورا چورا کردیتا ہے بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے

17۔ 18۔ اگرچہ تفسیر زید بن اسلم اور تفسیر ابن 1 ؎ ابی حاتم میں لکھا ہے کہ ابی ذر غفاری (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدرالمنثورص 324 ج 5) اور سلیمان فارسی اور زید بن عمرو بن نفیل ان تین شخصوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے اس بات کو صحیح ٹھہرایا ہے 2 ؎ کہ آنحضرت ﷺ کے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 48 ج 4) زمانہ میں یا صحابہ کے یا حال کے زمانہ میں غرض کسی زمانہ میں جو کوئی بت پرستی سے بچا اور توحید اختیار کی اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت صادق آتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے قابل اور صاحب ہدایت اور صاحب عقل ان ہی لوگوں کو ٹھہرایا ہے جو دین کی بات کو سن کر اس کے موافق عمل بھی کرتے ہیں کیونکہ علم بغیر عمل کے آدمی کو کچھ مفید نہیں بلکہ اور وبال کا سبب ہے دارمی میں حضرت ابودرد 1 ؓ سے روایت 3 ؎ ہے کہ (3 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف کتاب العلم الفصل الثالث ص 37) اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت برا وہ شخص ہے جو دین کا کوئی مسئلہ جانے اور اس کے موافق عمل کرکے اپنے عمل سے کچھ نفع نہ اٹھاوے صحیح 4 ؎ مسلم ترمذی اور نسائی میں زید بن ؓ ارقم (4 ؎ صحیح مسلم باب فی الادیۃ ص 350 ج 2) سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے علم سے پناہ مانگی ہے جو عمل کا نفع نہ دیوے زید بن ؓ ارقم کی روایت سے ابو دردا ؓ کی اس روایت کو تقویت ہوجاتی ہے اچھے لوگوں کی خوشخبری کا ذکر جو اس آیت میں ہے حدیث شریف میں اس خوشخبری کے موقعہ بہت سے بیان فرمائے گئے مثلاً قبض روح کے وقت فرشتوں کا اچھے لوگوں کو جنت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خوشخبری کا دین جس کا ذکر ابن ماجہ 5 ؎ اور صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ (5 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب اثبات عذاب القبر) کی صحیح روایت سے آیا ہے یا منکر نکیر کے سوال و جواب اور قبروں سے اٹھنے کے وقت جس کا ذکر چند صحیح حدیثوں میں آیا ہے اور اس آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ وہ لوگ بات کو سن کر بہتر بات کی پیروی کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے مثلاً بدلہ لینا اور معاف کرنے کے دونوں حکموں میں سے معاف کرنے کے حکم کی پیروی کرنا کہ اس میں خدا کی خوشنودی زیادہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو یہ بڑی آروز تھی کہ قریش سب مسلمان ہوجاویں اس لئے قریش کی سرکشی کے سبب سے جب آپ کی اس آروز کے خلاف کوئی بات قریش کی جانب سے ظہور میں آتی تھی تو آپ کو اس کا بڑا رنج ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر آپ کی یہ تسکین فرمائی کہ بعضے لوگ قریش میں ایسے ہیں کہ علم ازلی الٰہی میں وہ جہنمی قرار پا چکے ہیں ان لوگوں کے لئے یہ کوشش کہ وہ سب اسلام لاویں اور دوزخ کی آگ سے بچیں ‘ ایک بےفائدہ کوشش ہے وہاں جن لوگوں کی ہدایت علم ازلی میں ٹھہر چکی ہے وہ تمہاری تھوڑی سی کوشش میں خود راہ راست پر آ جاویں گے اور آخر کو اس کا ٹھکانا جھروکے والے باغوں میں ہوگا جن میں طرح طرح کی نہریں جاری ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی خلاف نہیں ہوسکتا ابوجہل اور اس طرح کے اور لوگ جو باوجود کوشش کے اسلام نہیں لاتے ان کے اسلام نہ لانے پر کچھ رنج نہیں کرنا چاہئے یہ لوگ علم الٰہی میں جہنمی قرار پا چکے ہیں صحیح ؎ 1(1 ؎ صحیح مسلم باب حجاج آدم و موسیٰ ص 335 ج 2) مسلم کی حضرت عبد اللہ ؓ بن عمرو بن العاص کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں نیک و بد ہونے والا تھا وہ سب اللہ تعالیٰ نے تو لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اس صورت میں ایک دفعہ تو حضرت آدم کے پیدا ہونے سے پہلے ہی دوزخی اور جہنمی لوگ الگ الگ ہوچکے ہیں پھر جب حضرت آدم پیدا ہوچکے تو اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو حضرت آدم کی پشت سے نکال کر یہ فرما دیا ہے کہ ان میں اس قدر لوگ جنتی ہیں اور اس قدر دوزخی جس کی تفصیل موطا ترمذی 2 ؎ اور ابو دائود میں حضرت عمر کی صحیح روایت (2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 11) سے آئی ہے اور حضرت 3 ؎ علی ؓ کی صحیحین کی روایت میں ہے کہ ہر شخص کا ٹھکانا جنت ‘(3 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 4) دوزخ جو کچھ ہے وہ پہلے ہی لکھا جا چکا ہے صحابہ نے یہ حال سن کر کہا تھا کہ کیا حضرت ہم لوگ تقدیر پر بھروسہ کرکے عمل چھوڑ سکتے ہیں آپ نے فرمایا تم لوگ عمل کئے جائو جو شخص جس ٹھکانہ کے لئے پیدا ہوا ہے خودبخود وہ ویسا ہی عمل کرتا ہے۔ صحیح 4 ؎ مسلم میں حضرت عائشہ ؓ (4 ؎ صحیح مسلم باب معنی کل مولودیولد علی الفطرۃ الخ۔ ص 337 ج 2) کی حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اہل جنت اور اہل دوزخ الگ الگ کئے گئے ہیں اور ہر ایک مقام کے لئے ایک گروہ پیدا کیا گیا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ پہلے پہل اللہ کے رسول ﷺ کے دل میں وہ آرزو تھی جس کا ذکر اوپر گزرا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں اور اسی قسم کی بہت سی آیتوں سے اپنے علم غیب کا حال آپ کو سمجھا دیا۔ تو آپ نے بھی بہت سی حدیثوں کے ذریعہ سے وہ مطلب صحابہ کو سمجھا دیا تاکہ سلسلہ بسلسلہ یہ مطلب امت میں پھیل جاوے ان فی ذلک لذکرے لاولی الالباب اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں قدرت الٰہی کے منکر اور دوزخی قرار پا چکے ہیں۔ ان کا تو کچھ ذکر نہیں۔ مگر جو لوگ علم الٰہی میں اس قابل ٹھہرے ہیں کہ ان کو عقبیٰ کی بہبودی کی عقل ہے۔ وہ دین کی نصیحت کو سنتے اور سمجھتے ہیں اور ان کا اس بات پر یقین ہے کہ جو صاحب قدرت دنیا کی زمین میں طرح طرح کے چشمے جاری کردینے پر پورا قادر ہے۔ جنت کی زمین میں طرح طرح کی نہروں کا جاری کردینا بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ ان آیتوں میں جنت کی نہروں کے ذکر کے عبد مینہ کے برسانے اور اس سے چشموں کے جاری کردینے کا جو تذکرہ ہے اوپر کی تفسیر سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
Ayahs 39:22–23

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے ؟ ) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

22۔ 23 معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی 1 ؎ اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان اور جنات کو پیدا کیا تو سب خواہش نفسانی اور طرح طرح کی حرص اور ہوا کے اندھیرے میں پھنسے ہوئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک نور پیدا کیا۔ انسان اور جنات میں سے جس کسی کو اس نور میں سے جس قدر حصہ دنیا میں پیدا ہوجانے کے بعد ملا اسی قدر اس نے دین کے راستہ کو اختیار کیا۔ اور جو شخص وہاں اس عالم ارواح کے نور کے حصہ سے محروم رہا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بھی اس کو راہ راست پر آنا نصیب نہیں ہوا صحیح بخاری 2 ؎ کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم غیب کے موافق پہلے ہی جو کچھ لکھا جانا تھا وہ لوح محفوظ میں لکھا جا کر اب قلم خشک ہوگیا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق جس کو لوح محفوظ میں نیک لکھ لیا تھا۔ اس نے اس نور کا حصہ پایا اور دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بھی وہ شخص نیک کاموں کی طرف مائل ہوا اور جو شخص اللہ کے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں بد لکھا گیا۔ وہ عالم ارواح کے نور سے بھی محروم رہا اور دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بھی اس کے دل میں نیک کام کی رغبت پیدا نہیں ہوئی۔ اسی حدیث کے مطلب کے موافق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ جس کسی نے اللہ کے رسول کی نصیحت کو مان لیا اور اسلام کی باتوں پر عمل کرنے کے لئے اس کا دل کھل گیا۔ اس کو اللہ کی طرف سے ایک ازلی روشنی ملی ہوئی ہے۔ اور جو شخص اس ازلی روشنی سے وہاں محروم رہا اس کا دل اس ازلی اندھیرے کے سبب سے دنیا میں سخت ہے ‘ اللہ کے رسول کی نصیحت سے اس کا دل ذرا نہیں پسیجتا پھر فرمایا ایسے سخت دل لوگوں کی بڑی خرابی ہے اور وہ بالکل بہکے ہوئے ہیں۔ ترمذی 3 ؎ اور مسند امام احمد میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ایک دوسری صحیح حدیث ہے ‘ اس میں بھی اس ازلی روشنی کا ذکر ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ وقت اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور حضرت آدم کی پشت سے ان کی سب اولاد کو جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی۔ چیونٹیوں کی طرح نکالا تو ہر ایک انسان کی پیشانی پر ایک طرح کا نور تھا اس حدیث میں جس نور کا ذکر ہے یہ فطرت اسلام کا نور ہے۔ جس کا ذکر صحیحین 4 ؎ کی حدیث میں آیا ہے کہ جو بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے وہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور نصرانی بنا لیتے ہیں اس نور میں سب انسان شریک ہیں اس نور میں اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی اثر رکھا ہے کہ پیدا ہونے سے زبان کے کھلنے تک بچہ فطرت اسلام پر رہتا ہے پھر بڑی عمر میں نیک ہوجاتا ہے یا بد بڑی عمر میں جو نیک رہتا ہے اور اسی حالت پر ثابت قدم رہ کر مرتا ہے یہ نور ہدایت کا اثر ہے اور یہ نور وہی ہے۔ جس کا ذکر پہلی حدیث میں ہے غرض فطرت کا نور الگ ہے اور ہدایت پانے کا الگ ہے فطرت کے نور میں حضرت آدم نے اپنی اولاد کو ازل میں جب دیکھا ہے تو سب کی پیشانی کو نورانی پایا جس کا ذکر ترمذی کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث میں اوپر گزرا اور ہدایت کے نور میں حضرت آدم نے اپنی اولاد میں بعضوں کو نورانی بعضوں کو کوئلہ کی طرح کا سیاہ روز ازل میں دیکھا ہے اور ان کے دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا ہے کہ یہ نورانی چہرہ کے لوگ جنتیوں کا گروہ ہے اور سیاہ رو لوگ دوزخی ہیں اس کا ذکر حضرت ابو دردا کی روایت سے مسند امام احمد 1 ؎ میں ہے۔ یہ حدیث بھی اوپر گزرا وپر گزر چکی ہے اور اس حدیث کی سند بھی معتبر ہے اس آیت میں نیک کاموں کے لئے دل کے کھل جانے کا جو ذکر ہے نوادر الاصول حکیم ترمذی اور تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں ناقابل اعتراض سند سے عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ عمر سے جو روایتیں 2 ؎ ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے اس دل کے کھل جانے کی یہ نشانی فرمائی ہے کہ اس دل کے کھل جانے کے بعد آدمی کو دین کے کاموں کا ایک شوق پیدا ہوجاتا ہے اور دنیا سے ایک طرح کی نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ سخت دل لوگوں کے ذکر کے بعد آگے نرم دل لوگوں کا ذکر فرمایا کہ کلام الٰہی سن کر عذاب کی آیتوں سے ان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ڈر کے مارے کانپ جاتے ہیں اور قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کرنے کو ان کا دل ان کا جسم دونوں تیار ہوجاتے ہیں۔ پھر فرمایا جو لوگ اللہ کے علم غیب میں نیک قرار پا چکے ہیں ان کو اللہ اسی طرح راہ راست پر لاتا ہے اور جو لوگ اللہ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے ہیں۔ ان کو کوئی راہ راست پر نہیں لاسکتا اکثر سلف کے نزدیک کتابا متشابھا۔ کا یہ مطلب ہے کہ فصاحت میں غیب کی سچی خبروں میں قرآن کی آیتیں ملی جلی ہیں اور مثانی کا یہ مطلب ہے کہ سمجھانے کے لئے قرآن میں ایک ہی مضمون کو دبوار بیان کیا گیا ہے صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ اس حدیث کو آخری آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ قرآن شریف مینہ کے پانی کی طرح عام لوگوں کے فائدہ اور ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے لیکن جس طرح اچھی زمین کو مینہ کے پانی سے فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح قرآن کی نصیحت سے فقط انہی لوگوں کو فائدہ پہنچا جو جو دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے تھے اور جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پا چکے تھے ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اسی طرح رائیگاں گئی جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ (1 ؎ جامع ترمذی ابواب الایمان ص 104 ج 2) (2 ؎ صحیح بخاری باب جف القلم علی علم اللہ۔ ص 976 ج 2) (3 ؎ جامع الترمذی ج 2 ص 104 باب افتراق ھذہ الامۃ وایضا فی تفسیر سورة الاعراف ج 2 ص 156) (4 ؎ بخاری ج 2 ص 976 کتاب القدر باب اللہ اعلم بما کانوا عاملین۔ صحیح مسلم ج 2 ص 336 کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ الخ) (1 ؎ مرعاۃ المفاتیح ج 1 ص 126 باب الایمان بالقدر قال المبار کفوری شارح المشکوۃ رواہ احمد (441 ج 6) واخرجہ ایضا البزار و الطبرانی قال الھیثمی 185 ج 7 ورجالہ رجال الصحیح) (2 ؎ تفسیر الدر المنثور تفسیر الایۃ المذکورۃ ج 5 ص 325) (3 ؎ صحیح البخاری ج 1 ص 18 باب فضل من علم و علم و صحیح مسلم ج 2 ص 247 کتاب الفضائل باب مثل ما بعث النبی ﷺ من الھدی والعلم)
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو ؟ ) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اسکے مزے چکھو

24۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک سے اور معتبر سند سے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے اور نسائی ہیں ابوذر ؓ سے جو روایتیں ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے فرشتے نافرمان لوگوں کو ان کے منہ کے بل گھسیٹیں گے اور ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیں گے۔ جس سے پہلے پہل ان کے منہ کو دوزخ کی آگ جھلس دے گی۔ آیت میں منہ سے عذاب کے روکنے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جس نے منہ کے بل گھسیٹے جانے اور اوندھے منہ آگ میں ڈالے جانے سے اپنے آپ کو بچا کر جنت میں داخل ہونے کی سرخروی حاصل کی وہ بہتر ہے یا جو اس عذاب میں گرفتار ہوا وہ بہتر ہے۔ پھر فرمایا کہ نافرمان لوگ جب اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے تو ان کو ذلیل کرنے کے لئے فرشتے ان سے یہ کہیں گے کہ تم لوگ دنیا میں جیسے کام کرتے تھے ان کی سزا میں اب یہ دوزخ کا عذاب چھکو۔ (1 ؎ صحیح البخاری ج 2 صد 966 ابواب کیف الحشر صیح مسلم ج 2 ص 374 ابواب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار باب فی الکفار واخرج الترمذی عن بھذ بن حکیم عن ابید عن جدہ مرفوعا… وتجرون علی وجھوھکم ثم ثم قال الترمذی ونی الباب عن ابی ہریرۃ ھذا حدیث حسن الترمذی ج 2 باب ماجاء فی شان الحشر ص 78۔ )
Ayahs 39:25–26

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی تکذیب کی تھی تو ان پر عذاب ایسی جگہ سے آگیا کہ ان کو خبر ہی نہ تھی

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر ان کو خدا نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش یہ سمجھ رکھتے

25۔ 26۔ اوپر قریش کے سخت دل اور قابل دوزخ لوگوں کا ذکر تھا۔ اس لئے فرمایا کہ ان سے پہلے بھی ایسے لوگ گزر چکے ہیں جنہوں نے سخت دلی سے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور ایسے لوگوں کا آخر انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت کا عذاب سمجھ دار کے لئے بہت سخت ہے کہ وہاں طرح طرح کے عذاب ہے اور موت نہیں ہے صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث اور صحیح بخاری و ترمذی کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا آخرت کے عذاب کا پورا حال اگر میں لوگوں کے سامنے بیان کر دوں تو لوگ گھر بار چھوڑ کر جنگل کو نکل جائیں اور سوا رات دن کے رونے کے اور کچھ کام ان سے نہ ہو سکے۔ صحیح 3 ؎ بخاری مسلم وغیرہ کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث بھی اوپر گزر چکی ہے۔ کہ جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ذبح کردیا جائے گا۔ یہ حدیثیں ولعذاب اب الاخرۃ اکبر کی گویا تفسیر ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اس عذاب کی سختی بیان سے باہر ہے اور پھر مر کر بھی اس سختی سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔ (2 ؎ جامع الترمذی ج 2 ص 66 ماجاء فی قول النبی ﷺ تو تعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا من ابواب الزھد و بخاری ج 2 ص 960 باب قول النبی ﷺ تو تعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا من کتاب الرقاق۔ ) (3 ؎ بخاری ج 2 ص 969 حدیث ابوہریرہ و ابن عمر باب یدخد الجنۃ سبعون الفابغیر حساب و مسلم ج 2 ص 380 کتاب الجنۃ وصف تھا و نعیمھا حدیث ابی سعید و ابی ہریرہ و لیس فیہ ذکر الذبح و ایضالیس فیہ ذکر اھل الناروج 2 ص 382 باب جھنم اعاذنا اللہ منھا حدیث ابی سعید)
Ayahs 39:27–28

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے لئے) اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کیں ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

(یہ) قرآن عربی (ہے) جس میں کوئی عیب (اور اختلاف) نہیں تاکہ وہ ڈر مانیں

27۔ 28۔ مطلب یہ ہے کہ شرک کی برائیوں اور توحید کی خوبیوں کی مثالیں قرآن شریف میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے بیان کردی گئی ہیں مثلاً سورة الرعد میں جو مثال اسی باب میں بیان فرمائی اس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں یا کسی اور سے مدد چاہتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جس طرح کوئی پیاسا آدمی پانی سے دور کھڑا ہو کر اس امید میں رہے کہ پانی خود بخود اس کے منہ میں آجائے گا انجام اس بجا امید کا یہی ہوگا کہ پانی خود بخود کسی کے منہ تک آنے کی قدرت نہیں رکھتا اس لئے وہ شخص پیاسا ہی رہے گا اب جس طرح پانی میں کسی کے منہ تک آنے کی قدرت نہیں یہی حال مشرکوں کی پوجا کی مورتوں اور مورتوں کی اصل صورتوں کا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے کسی کارخانہ میں کچھ دخل نہیں۔ اس لئے بغیر مرضی الٰہی کے وہ کسی کو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے۔ اسی مثال میں فرمایا لا دعوۃ الحق جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی سبب سے وہ انسان کی ہر ایک ضرورت سے واقف اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔ اسی واسطے ہر شخص کو چاہئے کہ خالص دل سے اس کو اپنا معبود جانے اور اس سے اپنی ہر ایک ضرورت کے رفع ہونے کی التجا کرے۔ اس طرح کی مثالیں قرآن شریف میں اور بھی بہت ہیں۔ جو جگہ جگہ گزر چکی ہیں قریش کو مکہ کے قحط کے وقت اس طرح کی مثالوں کا تجربہ ہوچکا ہے کہ ان کے بتوں سے دفع قحط میں کچھ مدد نہ ملی آخر اللہ کے رسول کی دعا سے مینہ برسا۔ صحیح بخاری 1 ؎ وغیرہ کے حوالہ سے عبد اللہ ؓ بن مسعود کی حدیث مکہ کے قحط کے باب میں ایک جگہ گزر چکی ہے۔ آگے فرمایا کہ یہ لوگ عرب ہیں اس لئے جس قرآن میں یہ مثالیں ہیں وہ ان کی زبان کے صاف صاف لفظوں تارا گیا ہے تاکہ یہ لوگ ان مثالوں کو سمجھ کر اللہ سے ڈریں اور شرک سے باز آئیں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ صحیح بخاری 3 ؎ ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ قرآن میں سمجھ دار کے لئے مثالیں تھیں۔ زبان بھی خاص قریش کی تھی لیکن میں کے جو لوگ علم الٰہی میں دوزخی قرار پا چکے تھے ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔ (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 52) (2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 63) (3 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 4)