39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 39:29–31

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں (مختلف المزاج اور) بدخو ایک آدمی خاص ایک شخص کا (غلام) ہے بھلا دونوں کی حالت برابر ہے ؟ (نہیں) الحمد للہ بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ تم بھی مرجاؤ گے اور یہ بھی مرجائیں گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جھگڑو گے (اور جھگڑا فیصل کردیا جائے گا )

29۔ 31 شرک کی برائی اور توحید کی خوبی کی جس طرح ایک مثال اوپر گزری اس طرح کی یہ دوسری مثال ہے عرب میں غلاموں کا بہت دستور ہے۔ اس دستور کے موافق کسی غلام کا ایک آقا ہے اور کسی کے کئی آقا ہیں۔ پچھلی صورت میں آقا تو جدا جھگڑے رہتے ہیں مثلاً کوئی غلام کو بازار میں بھیج کر خریدو فروخت کی خدمت چاہتا ہے اور کوئی غلام سے گھر کا کام لینا چاہتا ہے غلام جدا کش مکش میں رہتا ہے کہ ایک آقا کی خدمت کرے تو دوسرا ناراض ہوجاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں 1 ؎ کہ یہ مثال مشرک اور صاحب توحید کے باب میں ہے کہ کیونکہ جو شخص ایک آقا کا غلام ہے اس کا آقا اس کی خبر گیری کرتا ہے اور وہ اپنے آقا کی دل سے خدمت بجا لاتا ہے یہی حال صاحب توحید ہے کہ وہ اپنے مالک حقیقی کا فرمانبرداری کرتا ہے اور وہ مالک حقیقی اس کو رزق دیتا ہے۔ اور جو شخص کئی آقاؤں کی غلامی کی کش مکش میں ہے اس کا حال مشرک کا ہے کہ جھوٹے مالکوں کی فرمانبرداری کے سبب سے مالک حقیقی اس سے ناخوش ہے اور ظاہر میں اگرچہ مشرک شیطان کے بہکانے سے اس مالک حقیقی کی فرمانبرداری میں غیروں کو شریک کرتے ہیں مگر ان کے دل جانتے ہیں کہ مصیبت کے وقت سوا اس مالک حقیقی کے اور کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ اس واسطے مصیبت کے وقت یہ لوگ خالص اللہ ہی سے مصیبت ٹل جانے کی التجا کرتے ہیں چناچہ کشتی کی سواری اور ڈوبنے کی خوف کے وقت ان لوگوں کی جو حالت ہوتی ہے اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ الحمد اللہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذات پاک میں جو خوبی ہے اس کو نافرمانوں کے دل بھی جانتے ہیں بل اکثرھم لایعلمون اس کا مطلب یہ ہے کہ مصیبت کے وقت اگرچہ اللہ تعالیٰ کی خوبی کو ان لوگوں کے دل جانتے ہیں مگر راحت کے وقت شیطان کے بہکانے سے ان میں سے اکثر لوگ اس حالت پر قائم نہیں رہتے عرب میں شاعر بہت ہوتے ہیں اور عرب لوگ جن شاعروں کو اپنا مخالف سمجھتے تھے ان شاعروں کی موت کی تمنا کیا کرتے تھے قریش بھی اللہ کے رسول ﷺ کو شاعر خیال کر کے آپ کی وفات کی تمنا کیا کرتے تھے اسکا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ موت سے تو کوئی بچنے والا نہیں لیکن بہکانے والوں کے بہکانے سے اب یہ لوگ اللہ کے رسول کو شاعر بتلاتے رہے ہیں قیامت کے دن جب یہ بہکنے والے اور بہکانے والے اللہ تعالیٰ کے رو برو جھگڑیں گے اور ایک دوسرے کو لعن طعن کرے گا اس وقت اصل حال کھل جائے گا ان مشرکوں کا اپنے بہکانے والوں اور سب بہکانے والوں کے سرگروہ شیطان سے قیامت کے دن جو جھگڑا ہوگا کا ذکر سورة ابراہیم اور سورة سبا میں گزر چکا ہے وہی آیتیں ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصون کی تفسیر میں ہے صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے۔ کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے۔ اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل۔ اس حدیث کو پہلی آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت میں جو مثال بیان کی گئی وہ ہر وقت قریش کی آنکھوں کے سامنے تھی کیونکہ قوم کے لوگوں میں سینکڑوں غلام ان دونوں قسموں کے موجود تھے۔ جن کا ذکر آیت میں ہے اس واسطے جو حالت دونوں قسموں کے غلاموں کی آیت میں ہے۔ وہ قریش میں ہر شخص خوب جانتا تھا اور جس بات کے جتلانے کے لئے یہ مثال بیان کی گئی تھی مکہ کے قحط کے وقت وہ بات بھی ظہور میں آچکی تھی۔ کہ اس قحط میں ان بت پرستوں کے بت کچھ کام نہ آئے یہ سب کچھ تو تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ان میں سے جو لوگ دوزخ میں جھونکنے کے قابل قرار پا چکے تھے ان کو نہ آیت کی مثال نے کچھ ہوشیار کیا نہ مکہ کے قحط کے تجربہ نے۔ آخر انجام یہ ہوا کہ بدر کی لڑائی کے وقت وہ شرک کی حالت میں مارے گئے۔ اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے۔ جس عذاب کے جتانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی روایت سے یہ قصہ اوپر گزر چکا ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 52 ج 4) (2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 4) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 22)
Ayahs 39:32–34

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بولے اور سچی بات جب اس کے پاس پہنچ جائے تو اسے جھٹلائے کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ؟

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

وہ جو چاہیں گے ان کے لئے انکے پروردگار کے پاس (موجود) ہے نیکوکاروں کا یہی بدلہ ہے

32۔ 34۔ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرنا اور اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرانا یا بتوں کے نام پر جانور چھوڑ کر ان کو حرام قرار دینا بھی اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ و کذب بالصدق اس کا مطلب قرآن کو جھٹلانا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے پھر فرمایا کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے والوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے پھر فرمایا اللہ کے رسول جو اللہ کا کلام لوگوں کی ہدایت کے لئے لائے اور امت میں کے وہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ جنہوں نے اللہ کے کلام کو دل سے سچا جان کر اس کی نصیحت کے موافق عمل کیا۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہ اسی وقت موجود ہوجاوے گی آخر کو فرمایا خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ایسا ہی بدلہ دیوے گا کہ جو نعمت وہ چاہیں وہ ان کو ملے حاصل کلام یہ ہے کہ پہلی آیت میں اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے والوں کا ذکر مذمت کے طور پر فرما کر ان کا انجام بتلایا اور آخر کی دونوں آیتوں میں نیک لوگوں کا ذکر تعریف کے طور پر فرما کر ان کا انجام جتلایا صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی حدیث گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمن کی بیان فرمائی ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح مینہ کا پانی عام فائدہ کے لئے برستا ہے اسی طرح اگرچہ قرآن کی نصیحت سب کے فائدہ کے لئے تھی لیکن جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اسی طرح جن لوگوں کا ذکر پہلی آیت میں ہے اس کے حق میں قرآن کی نصیحت رائیگاں گئی۔ اور اچھی زمین میں جس طرح مینہ کے پانی کا اچھا ظہور ہوتا ہے جن لوگوں کا ذکر آخر کی دونوں آیتوں میں ہے ان کے حق میں قرآن کی نصیحت کا وہی ظہور ہوا۔ (2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 23)
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ خدا ان سے برائیوں کو جو انہوں نے کیں دور کر دے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے انکو بدلہ دے

35۔ برائی جو شامت نفس کے سبب کی وجہ سے آدمی کو ہوجاتی ہے اس کے دور کرنے کی چند صورتیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں ایک تو توبہ ہے صحیحین 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس وقت آدمی گناہ کرے اور پھر اپنے گناہ کا اقرار کرے۔ اور شرماوے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ اور اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے جب تک قیامت کے قریب آفتاب مغرب کی طرف سے نکلے گا۔ اس وقت تک دنیا میں جو گناہ گار لوگ ہوں گے ان کی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ صحیح مسلم 2 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مغرب کی طرف سے آفتاب نکلنے سے پہلے جو شخص توبہ کرے اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے یہ تو عام دنیا بھر کے گنہگاروں کی توبہ قبول ہونے کا وقت ہے۔ اس عام وقت کے اندر خاص خاص گناہ گار لوگ موت کے وقت روح کے حلقوں میں آجانے سے ایک خراٹا جو لگتا ہے اس خراٹے سے پہلے اگر توبہ کر لیویں گے تو ان کی توبہ قبول ہوجائے گی ترمذی 3 ؎ اور ابن ماجہ کی عبد ؓ اللہ بن عمر ؓ کی روایت میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ ترمذی نے اس حدیث کو معتبر قرار دیا ہے صحیح مسلم 4 ؎ میں ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ آفتاب کے مغرب سے نکلنے تک رات دن میں دو دفعہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہ گار رات کو اور رات کا گناہ گار دن کو توبہ کرے تو فوراً اس کی توبہ قبول ہوجاوے۔ ماسوا توبہ کے چند نیک عمل بھی ایسے ہیں کہ ان سے گناہ دور ہوجاتے ہیں چناچہ سورة ہود کی آیت ان الحسنات یذھبن السیت میں اس کی تفسیر گزر کی ہے۔ اور صحیحین 5 ؎ کے حوالہ سے اس آیت کی شان نزول بھی گزر چکی ہے کہ ایک شخص نے صحبت سے کم درجہ کی کچھ بےہودہ باتیں ایک عورت سے کی تھیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے پانچوں نمازوں کا ذکر فرما کر یہ فرمایا۔ کہ نیک کاموں کے طفیل سے برائیاں جاتی رہتی ہیں اور رمضان کے روزوں اور شب قدر کے جاگنے کو حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیحین 6 کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس سے رمضان سے پہلے کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح صحیح مسلم کی 7 ؎ ابوقتادہ کی روایت میں آپ نے فرمایا کہ عرفہ کے دن کے روزے سے دو برس کے اور عاشورہ کے دن کے روزے سے برس دن کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اسی طرح صحیحین 8 ؎ کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں حج کو آپ نے فرمایا ہے۔ کہ جس کا حج قبول ہوجاوے وہ شخص گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہوجاتا ہے جس طرح آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح حدیث شریف میں اور بھی نیک کاموں کا ذکر ہے۔ اب توبہ اور نیک کاموں سے جو گناہ معاف ہوجاتے ہیں ان کے علاوہ کچھ گناہ اگر بعضے لوگوں کے نامہ اعمال میں باقی رہ جاویں گے۔ اور اللہ کو ان لوگوں کا بخشنا منظور ہوگا۔ تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیوے گا چناچہ صحیح مسلم 1 ؎ میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کا قیامت کے دن کا حال بیان فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے کبیرہ گناہ اس کے نامہ اعمال سے الگ کرکے فقط صغیرہ گناہ جو اس شخص نے دنیا میں کئے تھے وہ اس کو دکھلا دے گا۔ جب وہ شخص ان گناہوں کا اقرار کرے گا تو اللہ تعالیٰ حکم دیوے گا کہ اس کے ہر گناہ کے بدلہ میں نیکی بدل دی جاوے۔ یہ حکم سن کر وہ شخص کہے گا یا اللہ میں نے تو سوا ان صغیرہ گناہوں کے بڑے بڑے گناہ بھی دنیا میں کئے تھے وہ کہاں ہیں۔ اس شخص کا یہ بیان ذکر کر کے آپ کو ہنسی آئی اور خوب ہنسے۔ اور حدیثوں میں بھی اس طرح گناہوں کے نیکیوں کے ساتھ بدل جانے کا ذکر آیا ہے یہ تو گناہوں کے دور ہوجانے کا ذکر ہوا۔ نیک عملوں کے بدلہ میں بہتر چیز کے دینے کا تذکرہ جو اس آیت میں ہے اس کا ذکر اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیحین کی روایت 2 ؎ میں گزر چکا ہے کہ دس درجہ سے لے کر سات سو تک ایک نیکی کا ثواب ملے گا اور بعضی حدیثوں میں اس سے بھی زیادہ کا ذکر ایٓا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جن نیک لوگوں کا ذکر اوپر کی آخری دو آیتوں میں ہے ان کی نیکیوں کا ثواب بڑھا کر اور ان کے گناہوں کو معاف فرما کر اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کرے گا۔ تاکہ جنت میں ان کو عالی مقام ملے اور گناہوں کے معاف ہوجانے کے سبب سے وہ بالکل دوزخ سے دور رہیں۔ (1 ؎ بحوالہ مشکوۃ شریف ص 203 با الاستغفار والتوبۃ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب التوبۃ ص 346 ج 2۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی ابواب الدعوات ص 215 ج 2 وسنن ابن ماجۃ باب ذکر التوبۃ ص 324۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم باب قبول اتوابۃ فی الذنوب الخ ص 358 ج 2۔ ) (5 ؎ صحیح مسلم باب قول اللہ تعالیٰ ان الحسنت یذھبن السیات ص 258 ج 2۔ ) (6 ؎ صحیح بخاری باب قیام رمضان من الایمان ص 10 ج 1۔ ) (7 ؎ صحیح مسلم باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام الخ ص 368 ج 1۔ ) (8 ؎ صحیح بخاری باب فضل الحج المبرور ص 206 ج 1۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ و اخراج الموحدین من النار ص 106 ج 1۔ ) (2 ؎ صحیح مسلم باب بیان تجاوز اللہ تعالیٰ عن حدیث النفس و الخواطر الخ ص 78 ج 1۔ )
Ayahs 39:36–37

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ اور یہ تم کو ان لوگوں سے جو اس کے سوا ہیں (یعنی خدا سے) ڈراتے ہیں اور جس کو خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو خدا ہدایت دے اسکو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا خدا غالب (اور) بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟

36۔ 37۔ جن آیتوں میں مشرکین مکہ کے بتوں کی مذمت ہوتی تھی ان آیتوں کو سن کر یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول ﷺ کو اپنے ٹھاکروں کی طرف ڈراتے تھے کہ ان مشرکوں کے ٹھاکر آپ کو کوئی نقصان پہنچا دیویں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر ارشاد فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول کی حمایت کے لئے کافی ہے بغیر مرضی اللہ کی کسی کی کیا مجال ہے جو اللہ کے رسول کو کچھ نقصان پہنچا سکے۔ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکوں کو اپنے ٹھاکروں کی بےبسی معلوم ہوچکی ہے اس پر بھی یہ لوگ اپنے ٹھاکروں کو صاحب اختیار جو گنتے ہیں اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کے علم غیب میں یہ لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں کیونکہ جو لوگ اللہ کے علم غیب میں راہ راست پر آنے والے ٹھہرے ہیں۔ وہ ایسی نادانی کی باتیں منہ سے نہیں نکالتے پھر فرمایا یہ تو اپنے ٹھاکروں سے ڈراتے ہی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے کارخانہ میں ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کا وقت آجاوے گا تو وہ ایسا زبردست بدلہ لینے والا ہے کہ اس کے بدلہ لینے کے وقت ان کا کوئی ٹھاکر ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت اس طرح کے بدلہ لینے کی آیتوں کا ظہور ہوا کہ ان مشرکین مکہ کے بڑے بڑے بتوں کے حامی و مددگار اس لڑائی میں مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا۔ کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے بدلہ لینے کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ (3 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 22۔ )
Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے کہو کہ بھلا دیکھو تو جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو اگر خدا مجھ کو کوئی تکلیف پہچانی چاہے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ؟ یا اگر مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو وہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں ؟ کہہ دو کہ مجھے خدا ہی کافی ہے بھروسا رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں

38۔ صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا رنج قوم کے لوگوں کو بہت تھا شیطان نے موقعہ پا کر قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی صورت کے بت بنا کر نگاہ کے رو برو رکھ لئے جاویں۔ تو ان نیک لوگوں کے آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج کچھ کم ہوجاوے گا۔ قوم کے لوگوں نے اس شیطانی وسوسہ کے موافق عمل کیا۔ اور پھر رفتہ رفتہ اس ملعون نے اس وسوسہ سے جہان میں یہ بات پھیلائی کہ جو کوئی نیک لوگوں کی مورتوں کو پوجے گا تو یہ نیک لوگ بارگاہ الٰہی میں اس کی شفاعت کریں گے۔ اسی واسطے مشرک لوگ پشت در پشت بتوں کو شفعائنا عند اللہ کہتے چلے آئے اور خالق اور رزاق اللہ کو ہی سمجھتے رہے۔ مشرکوں کی اس بات پر انہیں یوں قائل کیا گیا ہے۔ کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ مخلوقات کے پیدا کرنے میں جب ان بتوں کا کچھ دخل نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی تکلیف کو ٹال دینے یا راحت کو تکلیف سے بدل دینے میں نہ ان کو کچھ دخل ہے۔ نہ ان کے نقصان پہنچانے سے میں کچھ ڈرتا ہوں۔ مجھ کو تو فقط اللہ ہی کافی ہے جس پر سب کا بھروسہ ہے اور جس کے اختیار میں ساری مخلوقات کا نفع اور نقصان ہے۔ مسند امام احمد اور 2 ؎ ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے صحیح روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تمام مخلوقات کسی شخص کو کچھ نفع یا نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو بغیر مرضی الٰہی کے نہ کسی کو کوئی نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان۔ یہ حدیث اللہ پر بھروسہ رکھنے کی گویا تفسیر ہے اس تفسیر میں یہ بات ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا عالم اسباب میں ظاہری اسباب کو کام میں لا کر ان اسباب کی تاثیر کو اللہ پر سونپنا شریعت میں بھی معنی اللہ پر بھرسہ رکھنے کے ہیں۔ یہ معنی نہیں ہیں کہ ظاہری اسباب کو آدمی بالکل کام میں نہ لاوے چناچہ آنحضرت ﷺ کے سامنے صحابہ تجارت زراعت سب کچھ کرتے تھے اور اپنا اصل بھروسہ اللہ پر رکھتے تھے اور خود اللہ کے رسول ﷺ نے عبد ؓ اللہ بن عمر کی روایت میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے نیز کے ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ رکھا ہے۔ عبد اللہ بن عمر کی یہ حدیث مسند امام احمد 3 ؎ میں ہے اور اس کی سند کے ایک راوی عبد الرحمد بن ثابت بن ثوبان کو اگرچہ بعضے علما نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن معین نے ان عبد الرحمن کو معتبر اور ابوحاتم نے ثقہ کہا ہے علاوہ اس کے مصنف ابن ابی شیبہ میں بعضی مرسل روایتیں معتبر سند کی ایسی ہیں۔ جس سے اس روایت کو تقویت ہوجاتی ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة نوح ص 742 ج 2۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی ابواب الزھد ص 87 ج 2۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 315 ج 4۔ )
Ayahs 39:39–41

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میری قوم ! تم اپنی جگہ پر عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو جو شخص ہدایت پاتا ہے تو اپنے (بھلے) کے لئے اور جو گمراہ ہوتا ہے اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور (اے پیغمبر ﷺ تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو

39۔ 41۔ اوپر یہ ذکر تھا کہ ہر کام میں آدمی کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے اب ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں تو اللہ پر بھروسہ رکھ کر تم کو نصیحت کرے جاؤں گا تم اگر میری نصیحت کو نہیں مانتے تو جو کچھ تم کر رہے وہ کرو اب آگے تمہیں اس کا خمیازہ دنیا اور آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سردار دنیا میں نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ آئندہ کی خرابی کا وعدہ قریش سے جن آیتوں میں تھا انس ؓ بن مالک کی یہ حدیث گویا ان سب کی تفسیر ہے اسی کے موافق ان آیتوں میں عذاب دنیا اور عذاب آخرت کا جو وعدہ ہے یہی حدیث اس کے ظہور کی بھی تفسیر ہے کیونکہ اس حدیث سے عذاب یخزیہ و یحل علیہ عذاب مقیم۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دین کی وہ سچی باتیں تم پر نازل فرمائی ہیں کہ جس نے ان پر عمل کیا وہ بھلائی کو پہنچا اور جو اس راستہ سے بہکا وہ خرابی میں پڑگیا اور اے رسول اللہ کے ان بہکنے والوں کی گمراہی کا کچھ الزام تمہارے ذمہ نہیں ہے کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے نتیجہ کا ظہور ہے جو ضرور ہو کررہے گا صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے آدمی دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل یہ حدیث وما انت علیھم بوکیل کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول کا کام فقط نصیحت کا کردینا ہے رہا اس نصیحت کا نتیجہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ہے اس کی ذمہ داری اللہ کے رسول پر نہیں ہے مثلاً اللہ کے رسول کی نصیحت کے اثر سے سارے قریش الام کے تابع کیوں نہ ہوئے اس کا کچھ الزام اللہ کے رسول پر نہیں ہے۔ (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 22۔ ) (2 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 4۔ )
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں انکی روحیں سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کر چکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

42۔ شاہ صاحب نے اپنے اردو فائدہ میں یہ جو لکھا ہے کہ نیند میں جو جان کھینچتی ہے یہ جان وہ ہے جس کو ہوش کہتے ہیں اور ایک جان جس سے سانس چلتا ہے اور نبضیں اچھلتی ہیں اور کھانا ہضم ہوتا ہے وہ دوسری ہے وہ موت سے پہلے نہیں کھینچتی مفسرین میں سے یہ قول ابراہیم بن سری زجاج کا ہے قشیری اور بعضے اور مفسروں نے اس قول پر اعتراض کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ آیت کے مضمون سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ نیند اور موت کے وقت ایک ہی چیز ہے جو کھچنتی ہے۔ اگر نیند کی حالت میں وہ کھنچ کر پھر جسم میں نہ آئے تو مردہ ہے اور اگر پھر جسم میں آگئی تو زندہ ہے صحیحین 1 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی وسنے کے وقت کی دعا کی بڑی ایک حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اگر سونے کی حالت میں جان جو جسم سے الگ ہوتی ہے اس کو تو روک رکھے تو اس جان پر اپنا رحم کر اور اگر وہ جان پھر جسم میں آئے تو اس کو نیک کام کرنے کی توفیق عنایت فرما اسی طرح صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں برائ بن العازب سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا سوتے وقت یوں کہنا چاہئے یا اللہ اپنی جان تجھ کو سونپتا ہوں اس صحیح حدیثوں سے قشیری کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے کہ ایک ہی جان ہے جو نیند میں کھنچ جاتی ہے اور پھر جسم میں وہ نہ آئے تو آدمی مردہ ہوجاتا ہے رہی یہ بات کہ سوتے آدمی اور مردہ میں تو فرق ہے سوتے آدمی کی نبضیں چلتی رہتی ہیں سانس چلتا رہتا ہے کھانا ہوتا ہے سوتے وقت جان کنی کی تکلیف آدمی کو نہیں ہوتی موت اور نیند کے جان کے کھنچنے میں کیا فرق ہے اس کا جواب حضرت علی ؓ نے یہ دیا ہے کہ نیند کے وقت روح کا تعلق جسم سے موت کے وقت کی طرح بالکل الگ نہیں ہوتا بلکہ جس طرح آفتاب آسمان پر ہے اس کی شعاع زمین پر ہے نیند کی حالت کی جسم اور روح کی جدائی اسی طرح کی ہے اور موت کے وقت جسم اور روح کی جدائی ایسی ہے جس طرح قیامت میں آفتاب کا نور آفتاب کے جرم سے بالکل الگ کردیا جائے گا حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے اس باب میں مختلف روایتیں ہیں تفسیر ابراہیم میں منذر اور تفسیر ابن 3 ؎ ابی حاتم میں جو حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے اس کا حاصل یہ کہ انسان کے بدن میں روح اور نفس دو چیزیں ہیں سونے کی حالت میں روح بدن میں رہتی ہے اور نفس نکل جاتا ہے مسند عبد بن حمید 4 ؎ میں جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک ہی چیز جس کو روح کہتے ہیں انسان کے بدن میں ہے اور مرنے کے وقت وہی جسم سے نکل جاتی ہے اور خواب میں مردوں کی روح سے ملتی ہے اور بات چیت کرتی ہے مسند عبد بن حمید کی روایت اوپر کی صحیح حدیثوں کے موافق ہے اس واسطے یہی قول صحیح ہے۔ بعضے متکلمین نے کہا ہے ہر نبی کے جسم میں پانچ روحیں ہوتی ہیں اور ہر مومن کی جسم میں تین روحیں لیکن یہ قول دلیل شرعی کا محتاج ہے۔ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون اس کا مطلب یہ ہے کہ نیند میں جان کا جسم سے الگ ہوجانا اور جاگنے کے وقت پر اس کا جسم میں آجانا دھیان کرنے والوں کے لئے حشر کے ایک ایسی بڑی نشانی ہے جو بہت سی نشانیوں کے برابر ہے صحیح بخاری 5 ؎ میں حذیفہ ؓ بن الیمان ہے اور صحیح مسلم میں براء بن العازب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سوتے سے اٹھ کر یہ فرمایا کرتے تھے سب تعریف اسی اللہ کے لئے شایان ہے جس نے ہم کو نیند کی مردنی سے جس طرح زندہ کیا اسی طرح وہ ہم کو قبروں سے اٹھائے گا۔ ان روایتوں کو آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ نیند کی حالت میں جان کا جسم سے الگ ہوجانا اور جاگنے کی حالت میں اس کا پھر جسم میں آجانا حشر کا پورا نمونہ ہے۔ (1 ؎ بخاری شریف باب التچوذ والقراء ۃ عند النوم ص 935 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب مایقول اذا نام ص 934 ج 2۔ ) (3 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 329 ج 5۔ ) (4 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 329 ج 5۔ ) (5 ؎ صحیح بخاری باب مایقول اذا نام۔ ص 934 ج 2۔ )
Ayahs 39:43–44

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا انہوں نے خدا کے سوا اور سفارشی بنا لئے ہیں ؟ کہو کہ خواہ کسی چیز کا اختیار بھی نہ رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے ہی ہوں

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

کہہ دو کہ سفارش تو سب خدا ہی کے اختیار میں ہے اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

43۔ 44۔ صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں بعضے نیک لوگ جب مرگئے اور ان کے مرجانے کا قوم کے لوگوں کو رنج ہوا تو پہلے پہل شیطان نے قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی صورتوں کے بت بنا کر آنکھوں کے سامنے رکھ لئے جائیں تو ان نیک لوگوں کے آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج کچھ کم ہوجائے گا پھر ان لوگوں کی نسل میں رفتہ رفتہ اس وسوسہ شیطانی نے ان بتوں کی پوجا اس وسوسہ سے پھیلا دی کہ جو کوئی نیک لوگوں کی مورتوں کو پوجے گا تو یہ نیک لوگ بارگاہ الٰہی میں اس کی شفاعت کریں گے غرض اس وسوسہ شیطانی کا جو اثر قدیم سے بت پرستوں میں چلا آتا تھا اسی کے موافق قریش بھی یہ کہتے تھے کہ جن بتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں یہ نیک لوگوں کی مورتیں ہیں اور ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ جو کوئی ان نیک لوگوں کی مورتوں کو پوجے گا تو یہ نیک لوگ بار گاہ الٰہی میں اس کی شفاعت کریں گے۔ ان مشرکوں کی اس بات کا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں دیا تھا کہ نیک لوگوں کی شفاعت تو درکنار قیامت کے دن وہ نیک لوگ اللہ کو گواہ قرار دے کر اس پوجا سے اپنی بیزاری اور برأت ظاہر کریں گے یہاں جو مشرکوں کی اس بات کا جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مورتوں کی اصل صورتوں والے تو اس شفاعت سے بیزار اور یہ پتھر کی مورتیں بےجان ناسمجھ بالکل بےبس ہیں اس لئے یہ فقط ایک شیطانی وسوسہ ہے جس نے ان لوگوں کو اس بےٹھکانے شفاعت کے دھوکے میں ڈال رکھا ہے صحیح بخاری 2 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ آزر کی نجات کے لئے اللہ تعالیٰ کی جناب میں سفارش کریں گے مگر بارگاہ الٰہی میں ان کی سفارش منظور نہ ہوگی۔ اس حدیث کو آخر کی آیۃ کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن جب سب مخلوقات اللہ تعالیٰ کے رو برو حاضر ہوگی تو شفاعت کا منظور کرنا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہوگا یہاں تک کہ برخلاف مرضی الٰہی کے ابراہیم (علیہ السلام) آزر کی نجات کی شفاعت کریں گے جو منظور نہ ہوگی۔ (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة نوح ص 732 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا ص 473 ج 1۔ )
Ayahs 39:45–46

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

کہو کہ اے خدا (اے) آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں فیصلہ کرے گا

45۔ 46۔ مشرکین مکہ جو کہتے تھے کہ ہم نیک لوگوں کی مورتوں کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ وہ نیک لوگ بار گاہ الٰہی میں سفارش کریں گے ان مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں دیا تھا جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ نیک لوگ بجائے سفارش کے ان مشرکوں کے شرک سے اپنی بیزاری ظاہر کریں گے دوسرا جواب اس بات کا ان آیتوں میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی جن آیتوں میں اکیلے اللہ کا نام آئے تو ان آیتوں کو سن کر ان اللہ کے سامنے کھڑے ہونے والے منکروں کے دل میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب ان کے بتوں کا نام آئے تو ان کے دل خوش ہوجاتے ہیں یہ سفارش کی امید کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ مشرکوں کا طریقہ ہے جن مشرکوں کے حق میں اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں نہیں جاسکتا اسی طرح مشرک کی نجات بھی نہیں ہوسکتی اسی واسطے ابراہیم علیہ اسلام اپنے باپ آزر کی سفارش کریں گے اور وہ منظور نہ ہوگی ان مشرکین کی حالت تو آزر سے بھی بدتر ہے کہ ان کی سفارش کو تو کوئی کھڑا بھی نہ ہوگا بلکہ جن سے ان کو سفارش کی امید ہے وہ بجائے سفارش کے ان سے بیزاری ظاہر کریں گے۔ اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے اگر اس فہمائش کے بعد بھی یہ لوگ اپنے جھوٹے جھگڑوں کی باتوں سے باز نہ آئیں تو تم ان کا فیصلہ اللہ پر سونپ دو اس نے آسمان و زمین سب کچھ پیدا کیا ہے اس لئے آسمان و زمین کی کوئی ظاہر و باطن حالت اس کے علم سے باہر نہیں ہے وہ اپنے علم کے موافق وقت مقررہ پر ان کے سب چھوٹے بڑے جھگڑوں کا جب فیصلہ کر دے گا تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی قیامت کے دن ایسے لوگوں کا جو فیصلہ ہوگا اس کی تفصیل سورة الحاقہ میں آئے گی جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ جب اپنے اعمال ناموں میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو بہت پچھتائیں گے اور یہ بےوقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا آخر ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیا جائے گا اور زنجیروں میں ان کی جماعت کو پرویا جا کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ مسند امام احمد 2 ؎ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ کی معتبر روایتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ ان زنجیروں میں سے ہر ایک زنجیر کی لمبائی چالیس برس کے راستہ کے فاصلہ کی برابر ہوگی سورة الانبیا میں گزر چکا ہے کہ ان لوگوں کو ذلیل کرنے کے لئے ان کے ان بتوں کو بھی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جن کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ مسند امام احمد ترمذی 3 ؎ نسائی اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایت سورة ص میں گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو طالب کی بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ اور قریش ابو طالب کے گھر پر جمع ہوئے اور اس مجلس میں اللہ کے رسول ﷺ سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر بڑی نفرت کے ساتھ قریش وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے یہ قصہ اس بات کی تفسیر ہے کہ اکیلے اللہ کے ذکر کو سن کر ان لوگوں کے دل میں ایک نفرت پیدا ہوجاتی تھی۔ سورة النجم کی تفسیر میں صحیح بخاری 4 ؎ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت آئے گی۔ کہ سورة النجم کے ختم پر جب اللہ کے رسول ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ کے ساتھ مشرکین مکہ نے بھی سجدہ کیا مشرکین مکہ کے سجدہ کرنے کا سبب جو تفسیر ابن جریر ابن 1 ؎ ابی حاتم وغیرہ میں چند روایتوں سے بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب مکہ میں سورة النجم نازل ہوئی اور اس سورة کی آیت افرء یتم الات و العزی و مناۃ الثالثہ الاخرے کو اللہ کے رسول نے پڑھا تو شیطان نے مشرکین مکہ کے کانوں میں کچھ ایسے لفظ پھونک دیئے جن سے ان بتوں کی تعریف نکلتی تھی اس واسطے ختم سورة پر جب اللہ کے رسول ﷺ نے سجدہ کیا تو اپنے بتوں کی تعریف کی خوشی میں مشرکین مکہ نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا کے بعد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے شیطان کی شرارت کا حال کھول دیا یہ قصہ اس بات کی تفسیر ہے کہ مشرکین مکہ اپنے بتوں کی تعریف سن کر بہت خوش ہوتے تھے۔ محی الدین 2 ؎ ابن عربی قاضی عیاض وغیرہ نے اگرچہ اس قصہ کو غلط ٹھہرایا ہے لیکن سورة الحج میں گزر چکا ہے 3 ؎ اور سورة النجم میں آئے گا کہ اس مرسل روایت کے تین طریقے صحیح ہیں جس سے ایک روایت کو دوسری روایت سے تقویت ہوجاتی ہے بغیر ذکر صحابی کے تابعی کی روایت کو مرسل کہتے ہیں۔ مفسرین کی بڑی جماعت کا ہی مذہب ہے کہ تفسیر کے باب میں تابعیوں کا قول صحابہ کے قول کے برابر ہے اور صحابہ کا قول حدیث نبوی کے برابر ہے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے عقلی تفسیر کی ممانعت جو فرمائی ہے اس ممانعت سے صحابہ اور تابعین بیخبر نہیں ہیں اس لئے اس باب میں صحابہ جو کچھ کہتے ہیں وہ اللہ کے رسول سے سن کر کہتے ہیں۔ اس قاعدہ کے موافق تفسیر کے باب میں صحیح مرسل روایت کا جو اعتبار کیا جاسکتا ہے وہ ظاہر ہے اس واسطے امام بخاری نے صحیح بخاری کتاب التفسیر میں مجاہد کے قول کا جگہ جگہ اعتبار کیا ہے۔ مجاہدین جبیر حضرت عبد اللہ بن عباس کے نامی شاگرد اور ثقہ تابعی ہیں صحیح مسلم کے حوالہ 4 ؎ سے ابوہریرہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ایک ایک منکر حشر کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے رو برو کھڑا کرکے دنیا کی طرح طرح کی نعمتیں یاد دلائے گا اور یہ منکر حشر شخص ان نعمتوں کا جب اقرار کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس اللہ نے وہ سب نعمتیں پیدا کی تھیں کبھی تیرے دل میں یہ خیال بھی آیا تھا کہ ان نعمتوں کے حساب و کتاب کے لئے ایک دن تجھ کو اس کے رو برو کھڑا ہونا پڑے گا وہ منکر حشر شخص کہے گا نہیں یہ خیال تو میرے دل میں کبھی نہیں آیا اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس طرح تو نے دنیا میں میرے رو برو کھڑا ہونے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح بھولی ہوئی چیز کے طور پر آج میں بھی تجھ کو اپنی نظر رحمت سے دور ڈال دیتا ہوں۔ آیتوں میں لایومنون بالاخرۃ جو فرمایا یہ حدیث اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انتظام الٰہی میں جب حشر اور قیامت کا قائم ہونا ٹھہر چکا ہے تو ان منکرین حشر کے انکار حشر سے کچھ نہیں ہوسکتا بلکہ انتظام الٰہی کے موافق ناگہانی طور پر ایک دن اللہ کے رو برو ان لوگوں کو کھڑا ہونا پڑے گا اور حشر کے انکار کا جرم ان لوگوں کو اللہ کی رحمت سے دور ڈال دے گا جس کا نتیجہ وہی ہوگا جو سورة الحاقہ کے حوالہ سے اوپر گزرا۔ صحیح مسلم 5 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب تہجد کی نماز کے لئے اٹھا کرتے تھے تو آخری آیت کے لفظوں کو دعا میں شریک کرلیا کرتے تھے۔ (2 ؎ جامع ترمذی ابواب صفۃ جھنم ص 96 ج 2۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ص ‘ ص 178 ج 2۔ ) (4 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة النجم ص 731 ج 2۔ ) (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 366‘ 367 ج 4۔ ) (2 ؎ اس بحث کی تفصیل کے لئے دیکھیں تفسیرہذا جلد 4 ص 285 سورة حج۔ ) (3 ؎ اس بحث کی تفصیل کے لئے دیکھیں تفسیرہذا جلد 4 ص 285 سورة حج۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم فصل فی بیان ان الاعضاء منطقتہ شاھدۃ یوم القیمۃ ص 409 ج 2۔ ) (5 ؎ صحیح ملم باب صلوٰۃ النبی ﷺ و دعائہ باللیل ص 363 ج 1۔ )
Ayahs 39:47–48

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب (مال و متاع) ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی قدر اور ہو تو قیامت کے روز برے عذاب (سے) مخلصی پانے کے بدلے میں دے دیں اور ان پر خدا کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا انکو خیال بھی نہ تھا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا

47۔ 48۔ حشر کے منکر لوگوں کے حق میں قیامت کو جو فیصلہ ہوگا اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس عذاب کا ذکر ہے جو اس فیصلہ کا موافق ان لوگوں کو بھگتنا پڑے گا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس عذاب کو یہ لوگ دنیا میں مسخرا پن سمجھتے تھے قیامت کے دن وہ عذاب ہوگا کہ ان کا وہم و گمان بھی دنیا میں یہاں تک نہیں پہنچتا تھا کہ ان کے لئے ایسا سخت عذاب آخرت میں تیار رکھا گیا ہے۔ اس عذاب کی سختی سے بےتاب ہو کر ان میں کا ہر شخص یہ آروز کرے گا کہ اگر اس کے پاس تمام دنیا کے مال و اسباب سے دوگنا مال و اسباب ہوتا تو اس کو جرمانہ کے طور پر داخل کر کے اس عذاب سے نجات حاصل کرلیتا۔ مگر اس دن تو سوائے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اعتقاد کے اور کوئی چیز عذاب سے بچانے والی نظر نہ آئے گی۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس بن مالک سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول نے فرمایا قیامت کے دن کم سے کم دوزخ کے عذاب والے شخص سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ اگر تیرے پاس تمام دنیا کا مال و اسباب ہو تو اس کو معاوضہ میں دے کر اس عذاب سے نجات حاصل کرے گا وہ شخص کہے گا کہ ہاں اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا جب تو دنیا میں پیدا نہیں ہوا تھا اسی وقت تجھ کو شرک سے منع کیا گیا تھا جب تو دنیا میں اس مناہی کو ٹال گیا تو اب تیری نجات کی کوئی صورت نہیں یہ شرک کی منہی وہی عالم ارواح کی ہے جس کا ذکر مسند امام 2 ؎ احمد مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس اور ابی بن کعب کی معتبر روایتوں میں ہے جس کا ذکر سورة الاعراف میں تفصیل سے گزر چکا ہے صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ذرہ برابر ایمان والا شخص بھی قیامت کے دن دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہوگا۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس دن سوا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اعتقاد کے اور کوئی چیز کچھ کام نہ آئے گی کیونکہ ذرہ برابر توحید سے جو کام نکلے گا وہ تمام دنیا کے مال و اسباب سے نہ نکل سکے گا۔ (3 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص 970 ج 2۔ )
Ayahs 39:49–52

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے ہے یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے نہیں بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ کام بھی نہ آیا

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

ان پر انکے اعمال کے وبال پڑگئے اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں ان پر ان کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے اور وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور تنگ کرتا ہے ؟ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

49۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان مشرکوں کے دل میں ایک نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب ان کے بتوں کا اچھا ذکر ان کے کانوں تک پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ عادت شیطان کے بہکانے سے ہے کیونکہ ان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح سے بسی ہوئی ہے کہ تکلیف کے وقت سوا اللہ کے ان کے بت کچھ کام نہیں آتے اس واسطے تکلیف کے وقت خالص اللہ ہی سے یہ لوگ رفع تکلیف کی التجا کرتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی ناشکری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان کی وہ تکلیف رفع کردیتا ہے تو کبھی اس رفع تکلیف کو اپنی تدبیروں کے اثر سے اور کبھی اپنی عزت اور شرافت سے سمجھنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو بالکل بھول جاتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احسانات اس آزمائش کے لئے ہیں کہ کون شخص اس کے احسانات کا شکر ادا کرتا ہے اور کون شخص ناشکری میں پکڑا جاتا ہے اور یہ خوب یاد رہے کہ ان سے پہلے بھی ایسے ناشکرے لوگ گزر چکے ہیں جنہوں نے اپنی ناشکری کی سزا بھگت لی اور اب بھی وہی عادت الٰہی جاری ہے اس عادت الٰہی کے موافق جب ان لوگوں کی سزا کا وقت آجائے گا تو یہ لوگ کہیں بھاگ کر اللہ کو تھکا نہیں سکتے یہ تو ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ دنیا میں بہت سے نافرمان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے خوشحالی دے رکھی ہے اور بہت سے فرماں بردار لوگوں کو تنگ دستی اس لئے یہ خیال بھی ان لوگوں کا غلط ہے کہ ان کی عزت اور شرافت کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان کی ہر ایک تکلیف کو راحت سے بدل دیتا ہے پھر آخر کو فرمایا ایسی باتوں کو وہی سمجھتے ہیں جو اللہ کی قدرت کے قائل ہیں یہ قدرت الٰہی کے منکر لوگ ایسی باتوں کو کیا سمجھ سکتے ہیں صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم کے حوالہ سے عمر ؓ بن عوف انصاری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کے لوگوں کی تنگ دستی کا کچھ اندیشہ نہیں ہے اندیشہ تو یہ ہے کہ خوشحالی کی ناشکری میں پہلی امتوں کی طرح کہیں یہ لوگ بھی ہلاک نہ ہوجائیں اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احسانات اس آزمائش کے لئے ہیں کہ کتنے آدمی اس کے احسانات کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور کتنے آدمی ناشکری کے وبال میں پکڑے جاتے ہیں۔ (1 ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ص 407 ج 2۔ )
Ayahs 39:53–58

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ میری طرف سے لوگوں سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اسکے فرمانبردار ہوجاؤ (ورنہ) پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اس نہایت اچھی (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی ہے پیروی کرو

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

کہ (مبادا اس وقت) کوئی متنفس کہنے لگے کہ (ہائے ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے کہ اگر مجھے پھر ایک دفعہ دنیا میں جانا ہو تو میں نیکوکاروں میں ہوجاؤں

53۔ 58۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے اکثر مفسر تو یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک اور کفر بھی داخل ہے اور جس رحمت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے حامل نہیں ہوسکتی کیونکہ ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ کفر اور شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا اور بعضے مفسر یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک و کفر داخل نہیں ہے اس لئے جس رحمت کا ذکر اس آیت میں ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ صحیح مسلم ابودائود اور نسائی میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جس دین کی آپ ہم لوگوں کو رغبت دلاتے ہیں وہ دین تو اچھا ہے مگر جو ہم نے آج تک کیا ہے اس کی پکڑ نہ ہو تو ہم کو اس دین کے قبول کرنے میں کچھ عذر نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اس صحیح شان نزول سے معلوم ہوا کہ مشرکین کے مباحثہ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں کفر و شرک داخل ہے اور جس رحمت کا ذکر اس آیت میں ہے وہ کفر و شرک والے شخص کو بدون توبہ کے ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی ہاں یغفر مادون ذالک لمن یشاء کے وعدہ کے موافق سوا کفر اور شرک کے اور سب کبیرہ گناہ اللہ تعالیٰ چاہے تو معاف کرسکتا ہے اس میں کسی کو اختلاف بھی نہیں اس شان نزول کا بعضے مفسروں نے یہ جواب جو دیا ہے کہ شان نزول ہمیشہ خاص ہوا کرتی ہے اور آیت کا حکم عام ہوا کرتا ہے یہ جواب اس موقع پر صحیح نہیں ہے کیونکہ آیت کا حکم عام ہونے کے یہ معنی ہیں کہ جن لوگوں کے حق میں یہ آیت اتری ہے وہ لوگ اور قیامت تک کے اس قسم کے اور سب لوگ آیت کے حکم میں شریک ہیں یہ معنی عام کے کیوں کر ہوسکتے ہیں کہ جن لوگوں کے حق میں آیت اتری ہے خود ان کو آیت کے حکم میں سے خارج کردیا جائے غرض صحیح شان نزول سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ مشرکوں کے مباحثہ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے تو کسی طرح یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک و کفر داخل نہیں ہے اور جب یہ نہیں کہا جاسکتا تو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ آیت میں تو بہ کی قید نہیں ہے اور علاوہ اس شان نزول کے اور حدیثوں سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں جو زیادتی کا ذکر ہے اس میں شرک داخل ہے چناچہ معتبر سند سے اوسط طبرانی اور مسند امام احمد 2 ؎ میں آنحضرت ﷺ کے پروردہ ثوبان کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ آیت قل یعبادی الذین اسرفوا۔ تمام دنیا سے زیادہ مجھ کو عزیز ہے کسی شخص نے پوچھا حضرت اس آیت کے حکم میں مشرک لوگ بھی شریک ہیں تو آنحضرت ﷺ نے تین دفعہ فرمایا کہ ہاں شریک ہیں اب خود صاحب وحی ﷺ کی تفسیر سے یہ معلوم ہوگیا کہ آیت کے حکم میں مشرک شریک ہیں اور آیت ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ سے یہ مفسر یہ کہتے ہیں کہ شرک بدون توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا تو اوپر مفسروں کا جو اختلاف تھا وہ بالکل رفع ہوگیا کیونکہ ثوبان کی معتبر روایت کے موافق جب یہ معلوم ہوگیا کہ پہلی آیت میں جس زیادتی کا ذکر ہے اس میں شرک بھی شریک اور آیت ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ۔ سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا تو اب آیت میں توبہ کی قید لگانے نہ لگانے کا جو اختلاف تھا اس کا کوئی موقع باقی نہیں رہا۔ حاصل مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی غفور رحیمی کی صفت کے آگے کسی گناہ کی اگرچہ حقیقت نہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا اس لئے ہر مشرک کو عذاب کے آجانے کی بےبسی سے پہلے شرک کو چھوڑنا اور اس سے آئندہ کے لئے توبہ کرنی چاہئے اور شرک سے کم گناہوں کی معافی کی توقع بغیر توبہ کے بھی اللہ کی ذات سے رکھنی چاہے ہاں جو مشرک شرک کی حالت میں بغیر توبہ کے مرجائے گا اور قیامت کے دن یہ افسوس کرے گا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں کیوں کوتاہی کی اور دین کی باتوں کو مسخرا پن کیوں سمجھتا رہا یا یہ افسوس کرے گا کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو بھی دنیا میں راہ راست پر آجانے اور نیک کام کرنے کی توفیق دیتا تو کیا اچھا ہوتا یا نیک کام کرنے کے لئے افسوس کے طور پر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی تمنا کرے گا تو بےوقت کا افسوس کسی کے کچھ وہاں کام نہ آئے گا۔ جو علما پہلی آیت میں توبہ کی قید نہیں لگاتے وہ یہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں کی شان میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں وہ لوگ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی شان نزول کی روایت کے موافق شرک سے توبہ کرنے کو تو خود تیار تھے مگر اور گناہوں کی شرمندگی سے اپنے ارادہ پر نہیں جمتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں ان کو اور گناہوں کی معافی کی خوش خبری سنا کر وانیبوا الی ربکم و اسلمو الہ سے انہیں شرک سے توبہ کرنے اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی طرف رغبت دلائی صحیح مسلم 1 ؎ کے حوالہ سے عمرو بن العاص کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی آدمی کے پچھلے گناہ اس طرح مٹ جاتے ہیں جس طرح کوئی عمارت گر پڑتی ہے جس سے اس کا نام نشان کچھ باقی نہیں رہتا۔ جو علما آخری قول کے قائل ہیں ان کی تفسیر کی تائید اس حدیث سے ہوسکتی ہے اس تائید کا خلاصہ یہ ہے کہ اے میرے بندوں اسلام کے ارادہ پر جم جاؤ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتے ہی شرک سے کم رتبہ کے سب گناہ خود بخود اللہ کی رحمت سے مٹ جائیں گے اب نتیجہ اختلاف کا فقط اس قدر باقی ہے کہ دوسری آیت میں توبہ کا خاص حکم ہے اس لئے پہلی آیت میں توبہ کی قید ضروری نہیں ہے توبہ کے قبول ہونے کے لئے آئندہ گناہ سے باز رہنے کا اور نیک کام کرنے کا ارادہ ضرور ہے جس طرح فرعون نے ڈوبتے وقت توبہ کی یا جیسے موت کے وقت عذاب کے فرشتوں کے نظر آجانے کے بعد اب کوئی توبہ کرے تو ایسی بےبسی کے وقت توبہ قبول نہیں۔ چناچہ سورة النساء میں اس باب میں جو روایتیں ہیں وہ گزر چکی ہیں اس واسطے فرمایا کہ عذاب کی حالت سر پر آجانے سے پہلے توبہ کی جائے۔ قرآن میں جس کام کے کرنے کا حکم ہے اس کو کرنا اور مناہی کے کام سے بچنا آدمی کی بہتری کی بات ہے بچنے کام کو کوئی شخص کرنے لگے تو یہ بہتری کی بات نہیں اسی کو فرمایا چلو بہتر بات پر جو تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتری ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب قولہ یعبادی الذین اسر فوا علی انفسھم الایۃ ص 710 ج 2۔ ) (2 ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ص 58 ج 4۔ ) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 53۔ )
Ayahs 39:59–62

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

(خدا فرمائے گا) کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی ہیں مگر تو نے ان کو جھٹلایا اور شیخی میں آگیا اور تو کافر بن گیا

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے کیا غرور کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ نہیں ہے ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور جو پرہیزگار ہیں انکی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا انکو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ وہ غمناک ہوں گے

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگران ہے

59۔ 62۔ مسند 2 ؎ امام احمد اور نسائی میں مرفوع اور موقوف روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اور جنت کی طرح طرح کی نعمتوں پر نظر ڈالیں گے اور فرشتوں سے سنیں گے کہ جنت میں ان دوزخیوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے مکان بنائے تھے اور ٹھکانہ مقرر کیا تھا لیکن دنیا میں ان لوگوں نے جنت میں جانے کے قابل کام نہیں کئے اس واسطے وہ ٹھکانے ان سے چھن کر دوسروں کو مل گئے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپر گزرا مثلاً کبھی کہیں گے کیا اچھا ہوتا کہ آج کو ہم لوگ بھی پرہیز گاروں میں ہوتے کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتا جو ہم لوگوں کو پھر دیا میں جانے کی اجازت مل جاتی اور ہم اب کی دفعہ دنیا میں جا کر نیک کام کرتے اور پھر عقبے میں آن کر ان نیک کاموں کے اجر میں جنت پاتے ان دوزخیوں کی ان حسرت کی باتوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ اب حسرت کا کیا موقع ہے دنیا میں رہنے کا موقع بھی تم کو ملا اللہ کے رسول اور اللہ کے رسول کی معرفت اللہ کا کلام تمہاری ہدایت کے لئے سب کچھ دنیا میں آیا لیکن تم لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے اور دنیا کے عیش و آرام کے غرور میں کلام الٰہی کو جھٹلاتے رہے۔ اس واسطے آج اپنے کئے کو تمہیں بھگتنا پڑا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ ہر شخص کے لئے دوزخ اور جنت دونوں جگہ میں مکان بنائے گئے ہیں مرنے کے بعد جیسے جس کے عمل ہوں گے ویسا ہی اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت انس بن مالک کی بہت بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑا کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت مسلمان شخص منکر نکیر کے جواب میں پورا اترتا ہے تو اللہ کا فرشتہ دوزخ اور جنت دونوں جگہ کے ٹھکانے اس کو دکھا کر کہتا ہے کہ نیک عمل کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو دوزخ کے ٹھکانے سے محفوظ رکھا اور اس کی جگہ یہ جنت کا ٹھکانہ تجھ کو عنایت ہوا اور دوسری حدیث ابوہریرہ ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 3 ؎ میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر ایک شخص کے جنت میں جانے سے پہلے اس شخص کا دوزخ کا ٹھکانہ اسے دکھلا دیا جائے گا تاکہ جنت کے ٹھکانے کی قدر اور شکر گزاری اس شخص کے دل میں زیادہ ہوجائے۔ ابو دائود و مسند 4 ؎ امام احمد اور ابن ماجہ میں اور بھی اس قسم کی روایتیں ہیں جس طرح اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے یہ جان لیا تھا کہ دنیا میں پیدا ہو کر اتنے شخص اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے کام کریں گے اور جنت میں داخل ہوں گے اور اتنے شخص اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور دوزخ میں جائیں گے اسی طرح اللہ تعالیٰ کو یہ بات بھی معلوم ہے کہ اگرچہ یہ دوزخی لوگ دوزخ کے عذاب سے اکتا کر یہ کہہ رہے ہیں کہ دوبارہ ان کو دنیا میں بھیجا جائے تو یہ لوگ نیک کام کریں گے لیکن اگر ان کو دوبارہ دنیا میں بھیجا بھی جائے تو وہی نافرمانی کریں گے جو انہوں نے پہلی دفعہ کی ہے یہاں مختصر طور پر اللہ تعالیٰ نے ان دوزخیوں کی بات کا جواب دیا ہے سورة الانعام میں یہ جواب تفصیل سے دیا ہے اور فرمایا ہے کہ علم ازلی الٰہی کے موافق دوزخیوں کا یہ قول جھوٹا ہے بلکہ علم ازلی الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ اگر دوبارہ دنیا پیدا ہو اور یہ لوگ دوبارہ دنیا میں بھیجے جائیں تو ان لوگوں سے وہی نافرمانی ظہور میں آئے گی جو پہلی دفعہ ظہور میں آئی اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا شر کی میں گرفتار جن لوگوں نے دنیا میں اللہ پر جھوٹ باندھا ہے کہ اپنی طرف سے اللہ کے جھوٹے شریک قرار دیئے ہیں۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کی وہ مذمت کی حالت دیکھنے کے قابل ہوگی کہ جب ان کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جا کر ان کو دوزخی ٹھہرایا جائے گا تو ان کے چہروں پر سیاہی چھا جائے گی اسی طرح ان لوگوں کی حالت بھی دیکھنے کے قابل ہے جنہوں نے خدا کا خوب دل میں رکھا اور نیک کاموں میں تا بمقدور لگے رہے کہ ان کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیئے جا کر ان کے سروں پر موتیوں کے تاج رکھے جائیں گے اور ان کو جنت میں داخل ہونے اور اس دن کی ہر طرح کی برائی سے امن میں رہنے کی خوشخبری دی جائے گی جس خوشی سے ان کے چہروں پر رونق آجائے گی۔ ترمذی 1 ؎ صحیح ابن حبان وغیرہابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں یہ نامہ اعمال کی تقسیم کا حال سے ہے۔ اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہا ہے۔ لیکن ابن حبان کی سند اچھی ہے اور مسند بزار میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی ایک روایت بھی اسی مضمون کی ہے جس کو بزار نے صحیح کہا ہے ان آیتوں میں نافرمان لوگوں کے چہروں پر سیاہی کے چھا جانے کا اور فرمانبرداروں کے ہر طرح کی برائی اور رنج اور غم سے امن میں رہنے کا جو ذکر ہے یہ حدیثیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ آیتوں میں جس حالت کا ذکر ہے وہ حالت نامہ اعمال کے تقسیم کے وقت کی ہے ابو دائود 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں حضرت عائشہ کی روایت سے قیامت کے تین مشکل مقاموں کا جو ذکر آیا ہے۔ ان میں ایک تو یہی نامہ اعمال کی تقسیم کا مقام ہے دوسرا عملوں کے تولے جانے کا اور تیسرا پل صراط پر گزرنے کا۔ حضرت عائشہ کی یہ حدیث حسن ؓ بصری کی روایت سے ہے۔ اگرچہ بعضے علما کو یہ شبہ ہے کہ حسن بصری کی ملاقات حضرت عائشہ سے ہوتی ہے یا نہیں لیکن صاحب جامع الاصول نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ حسن بصری کی ملاقات حضرت عائشہ سے ہوئی ہے ہاں اس بات میں شبہ ہے کہ حسن بصری نے کوئی حدیث حضرت عائشہ سے سنی ہے یا نہیں۔ اس شبہ کی صورت میں امام مسلم کی شرط پر یہ حدیث صحیح ہے چناچہ اس کی تفصیل ایک جگہ اس تفسیر میں گزر چکی ہے کہ امام مسلم کے نزدیک تابعی اور صحابی کا ایک زمانہ میں موجود ہونا صحت روایت کے لئے کافی ہے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے سب مخلوقات کو پیدا کیا۔ اس لئے ہر طرح کا انتظام اسی کے اختیار میں ہے ان بت پرستوں کے بتوں کو نہ کسی چیز کے پیدا کرنے میں کچھ دخل ہے نہ کسی کے نفع میں ان کا کچھ اختیار چل سکتا ہے چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکوں کو اس کا حال اچھی طرح معلوم ہوچکا ہے۔ اس پر بھی یہ لوگ اللہ کی تعظیم اور عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں تو قیامت کے دن ان کو اپنی اس نادانی پر وہی حسرت اور افسوس کی باتیں کرنی پڑیں گی جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث مکہ کے قحط کے باب میں اوپر گزر چکی ہے کہ قریش کی سرکشی جب بہت بڑھ گئی تو اللہ کے رسول ﷺ نے بددعا کی جس کے اثر سے مکہ میں سخت قحط پڑا۔ اس قحط کے زمانہ میں مشرکین مکہ نے اپنے بتوں سے بہت کچھ التجا کی مگر کچھ نہ ہوا آخر کار رسول ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا۔ (2 ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ص 60 ج 4۔ ) (1 ؎ تفسیر ہذا ص 4۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی عذاب القبر ص 183 ج 1۔ ) (3 ؎ بخاری شریف باب صفۃ الجنۃ والنار ص 972 ج 2۔ ) (4 ؎ مشکوٰۃ شریف باب القدر ملاحظہ فرمایئے ) (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی العرض ص 78 ج 2۔ ) (2 ؎ مشکوٰۃ شریف فی الحساب والقصاص والمیزان ص 486) (3 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 52۔