39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 39:63

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں اور جنہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

63۔ مجاہد و قتادہ کا قول 4 ؎ ہے کہ مقالید زبان فارسی میں کنجیوں کو کہتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے بھی اس کی تفسیر مفاتیحھا فرمایا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں آسمان و زمین کے خزانوں کی کنجیاں میں جو لوگ قرآن کی نصیحت کے منکر ہیں وہ بہت بڑا نقصان اٹھائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ان خزانوں کے بہت بڑے حصہ سے وہ محروم ہیں ابن ماجہ ؎ 1 ؎ کے حوالہ کی ابوہریرہ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے ایک ٹھکانہ جنت میں اور ایک دوزخ میں پیدا کیا ہے جو شخص اپنے شرک کے سبب سے ہمیشہ کے لئے دوزخی قرار پائے گا اس کو سوا دوزخ کے عذاب کی تکلیف کے یہ بڑا نقصان پہنچے گا کہ اس کا جنت کا ٹھکانا کسی جنتی شخص کو مل جائے گا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خزانوں میں سے جو نعمتیں دنیا میں پیدا کی ہیں وہ تو ہمیشہ رہنے والی نہیں اور جو نعمتیں ان خزانوں میں کی ہمیشہ رہنے والی ہیں وہ قرآن کے منکر لوگوں سے چھینی جا کر دوسروں کو مل جائیں گی اس سبب سے یہ لوگ بڑے ٹوٹے میں ہیں۔ (4 ؎ التفسیر الدر المنثور ج 5 ص 333۔ ) (1 ؎ روی ھذا المعنی فی ابن کثیر ج 4 ص 60 بسند احمد و النسائی۔ )
Ayahs 39:64–66

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے نادانو ! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیر خدا کی پرستش کرنے لگوں

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ خدا ہی کی عبادت کرو اور شکر گزاروں میں ہو

64۔ 66۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا تمہارا جھگڑا یہی ہے کہ تم ہمارے بتوں کو نہیں مانتے اگر چاہو تو یہ جھگڑا یوں مٹ سکتا ہے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کرلیا کریں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اور سورة قد یایھا الکفرون کی آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان نادانوں سے کہہ دو کہ مجھ کو اور مجھ سے پہلے سب انبیا کو اللہ تعالیٰ نے یہی جتلایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی جو کوئی کسی کی عبادت کرے گا تو اس کی سب عبادت رائیگاں ہے۔ کیونکہ جس کی تعظیم کی جائے وہ صاحب تعظیم کی شان کے موافق ہونی چاہئے۔ اللہ کی شان اس سے بہت دور ہے کہ اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک کیا جائے اس لئے مشرک لوگ نہ اللہ تعالیٰ کی شان کو پہچانتے ہیں نہ ان کی عبادت اللہ کی عبادت کہلا سکتی ہے یہی سبب ہے کہ مشرکوں کی سب عبادت بالکل رائیگاں ہے۔ غرض جس اللہ نے پیدا کرنے کا احسان کیا اور سوا پیدا کرنے کے اور بےگنتی احسانات میرے اوپر کئے ہیں ان احسانات کی شکر گزاری کے طور پر خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مجھ کو اور سب انبیا کو حکم ہے جس حکم کے برخلاف میں تم لوگوں کی خواہش کسی طرح پوری نہیں کرسکتا۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شبعہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ تہجد کی نماز اس قدر دیر تک پڑھتے تھے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے ہیں۔ پھر آپ عبادت میں اس قدر کوشش کیوں کرتے ہیں آپ نے جواب دیا کہ کیا میں اللہ تعالیٰ کے احسانات کی شکر گزاری میں کوتاہی کروں۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کی شکر گزاری یہی ہے کہ خالص دل سے اس کی عبادت کی جائے۔ مشرکوں کی عبادت میں یہ بات نہیں ہوتی اس لئے ان کی سب عبادت رائگاں ہے۔ (2 ؎ مشکوٰۃ المصابیح ج 1 ص 109 باب التحریض علی قیام اللیل و صحیح مسلم باب اکثار العمل و الاجتھاد فی العبادۃ ص 377 ج 2۔ )
Ayahs 39:67–70

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اسکے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے اور وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالیشان ہے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بیہوش ہو کر گرپڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور (اعمال کی) کتاب (کھول کر) رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور جس شخص نے جو عمل کیا ہوگا اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اسکو سب کی خبر ہے

67۔ 70۔ ترمذی 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ایک یہودی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس بات میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان و زمین اور پہاڑوں کے سوا تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اور زمین پر ایک انگلی پر اور آسمان ایک انگلی پر اور پہاڑ ایک انگلی پر رکھے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہی آیت نازل فرمائی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح بتلایا ہے لیکن صحیح بخاری 2 ؎ اور مسلم نسائی ابن ماجہ مسند امام (2 ؎ صحیح بخاری باب ما قدروا اللہ حق قدرہ ص 711 ج 2۔ ) احمد اور خود ترمذی کی ایک روایت میں اس قصہ کے بعد آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ ذکر ہے کہ اس قصہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی مگر جب کہ ترمذی کی شان نزول کی روایت بھی صحیح ہوچکی ہے تو دونوں طرح کی روایتوں میں یوں مطابقت ہوسکتی ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کی عادت تھی کہ جو آیت اترا کرتی تھی اسی وقت آپ اس کو پڑھا کرتے تھے اسی طرح نازل ہوتے ہی اس آیت کو بھی آپ نے پڑھا ہوگا ‘ جن صحابہ نے فقط آپ کی تلاوت کی حالت کو دیکھا انہوں نے وہی حالت روایت کی اور جن صحابہ نے آیت کے نازل ہونے کا موقع بھی دیکھا ‘ انہوں نے آیت کے نازل ہونے کا ذکر بھی اپنی روایت میں کیا ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت سے آخر رکوع تک اللہ تعالیٰ نے حشر کے متعلق چند باتوں کا ذکر فرمایا ہے اب مقصد اس سے محض قریش کو شرک سے ڈرانا اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کا بٹھانا ہے اس واسطے ترتیب سے اور حشر کی باتوں کا ذکر ان آیتوں میں نہیں فرمایا صحیح حدیثوں میں اس مختص ذکر کی تفصیل اور ترتیب یوں آئی ہے کہ پہلا صور پھونکا جا کر جب تمام دنیا ویران ہوجائے گی اس ویرانی کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور تمام مخلوقات کو اپنی انگلیوں پر لے کر یہ فرمائے گا کہ آج وہ بادشاہت کے دعوے کرنے والے کہاں گئے اس وقت کوئی جواب دینے والا موجود نہ ہوگا اس لئے خود پھر فرمائے گا کہ سب ملک اللہ کا ہے پھر دوسرا صور پھونکا جا کر لوگ قبروں سے اٹھیں گے اور نئی زمین جو پیدا ہوگی اس پر میدان محشر میں سب جمع ہوں گے گرمی اور پسینہ سے گھبرا کر سب انبیا کے پاس جلد حساب و کتاب شروع ہونے کی شفاعت کی درخواست کریں گے اور سوا آنحضرت ﷺ کے کسی نبی کی جرأت اس شفاعت کی نہ ہوگی آخر کار آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ اس نئی زمین پر لوگوں کے حساب و کتاب کے لئے تجلی فرمائے گا اس کا ذکر آیتوں میں ہے کہ اللہ کے نور سے زمین روشن ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کا نور زمین کو مٹھی میں لینے کا اور زمین پر تجلی فرمانے کا اور اللہ تعلایٰ کے ہاتھ کا ذکر ان آیتوں اور حدیثوں میں جو ہے اس باب میں صحیح مذہب وہی ہے جو صحابہ اور تابعین نے اختیار کیا ہے کہ جس قدر قرآن اور حدیث میں آیا ہے اس پر ایمان لانا چاہئے اور ان باتوں کا تفصیلی علم خدا کو سونپنا چاہئے اور طرح طرح کی تاویلیں کرکے صحابہ اور تابعین سے مخالفت نہ پیدا کرنی چاہئے۔ شاہ صاحت نے اپنے فائدہ میں یہ جو لکھا ہے کہ اللہ کا دایاں ہاتھ کہئے اور بایاں نہ کہئے یہ صحیح 1 ؎ مسلم کی عبد اللہ بن عمر (1 ؎ یہ حدیث مسلم میں نہیں مل سکی البتہ ترمذی شریف میں موجود ہے دیکھیں ترمذی ص 195 ج 2۔ ) کی حدیث کا مضمون ہے کیونکہ اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مخلوقات کے بائیں ہاتھ میں ذرا کمزوری ہوتی ہے اللہ کی ذات اس نقصان کی صفت سے پاک ہے مخلوقات کو مٹھی میں لینے کی مثال سے مشرکین مکہ کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ جب تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے ایسی حقیر ہے کہ اس کی مٹھی میں آسکتی ہے تو مخلوقات میں کسی کو اس کا شریک کیونکر ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر سے جو (2 ؎ بخاری شریف باب ونفخ فی الصور الایۃ ص 711 ج 2۔ ) روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ صور دو دفعہ پھونکا جائے گا پہلے صور سے تمام دنیا اجڑ جائے گی اور دوسرے صور سے سب دنیا کے لوگ زندہ ہو قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے یہ پہلا صور جب پھونکا جائے گا تو اس وقت دنیا میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ کیونکہ صحیح 3 ؎ مسلم میں عبد اللہ بن عمر کی جو روایت ہے اس (3 ؎ صحیح مسلم باب ذکر الدجال ص 403 ج 2۔ ) میں یہ بھی ہے کہ پہلے صور سے پہلے شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا آئے گی جس کے اثر سے ایسے سب لوگ مار جائیں گے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔ جو علما یہ کہتے ہیں کہ صورتین دفعہ پھونکا جائے گا وہ اس ٹھنڈی ہوا کو پہلا صور شمار کرتے ہیں۔ دونوں صور کے مابین میں چالیس برس کی مدت جو مشہور ہے اس باب میں کوئی حدیث تو نہیں ہے مگر اکثر صحابہ کا قول یہی ہے۔ اس تفسیر میں یہ بات گزر چکی ہے کہ ایسی باتوں میں صحابہ کا قول حدیث نبوی کے برابر ہوتا ہے کیونکہ ایسی غیب کی باتیں صحابہ عقل نہیں کہہ سکتے۔ الامن شاء اللہ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول یہی ہے کہ پہلے صور کے بعد جبرئیل ( علیہ السلام) میکائیل ( علیہ السلام) اسرافیل ( علیہ السلام) اور ملک الموت یہ چار فرشتے باقی رہیں گے پھر اللہ کے حکم سے یہ بھی مرجائیں گے۔ اگرچہ بعض روایتوں میں الامن شاء اللہ کی تفسیر شہیدوں کو ٹھہرایا گیا ہے لیکن وہ روایتیں ضعف سے خالی نہیں علاوہ ضعف کے اس تفسیر پر حافظ ابو جعفر ابن جریر نے یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ جب آیت کا یہ مطلب ہے کہ جن مخلوقات نے پہلے صور تک موت کا مزہ نہیں چکھا ہے پہلے صور سے وہ ساری مخلوقات مرجائے گی ہاں جن کو اللہ تعالیٰ زندہ رکھنا چاہے گا وہ نہ مریں گے۔ شہید لوگ شہادت کے وقت موت کا مزہ چکھ چکے ہیں اس واسطے وہ آیت کے مطلب میں داخل نہیں ہوسکتے۔ مسند بزار 4 ؎ اور طبرانی کے حوالہ (4 ؎ الترغیب و الترہیب باب اترہیب من الریاء ص 65 ج 1۔ ) سے انس ؓ بن مالک کی صحیح حدیث ایک جگہ سے گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن سربمہر لوگوں کے نامہ اعمال حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو پیش ہوں گے یہ حدیث ووضع الکتاب کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کتاب سے مقصود ہر شخص کا نامہ اعمال ہے صحیح بخاری 1 ؎ ترمذی وغیرہ میں جو چند صحابہ کی روایتیں ہیں ان (1 ؎ صحیح بخاری باب قولہ وکذلک جعلنکم امۃ وسطا الایۃ ص 644 ج 2۔ ) کا حاصل یہ ہے کہ جب نافرمان امتوں کے لوگ اپنے رسولوں کو جھٹلائیں گے اور یہ کہیں گے کہ یا اللہ ہم کو کسی رسول نے تیرا حکم نہیں پہنچایا تو اس پر اللہ تعالیٰ ان رسولوں سے فرمائے گا کہ تمہارے پاس اللہ کا پیغام پہنچا دینے کی کوئی گواہی ہے وہ رسول امت محمدیہ ﷺ کو اپنا گواہ قرار دیں گے۔ امت محمدیہ ؓ کے لوگ کہیں گے یا اللہ تو نے نبی آخر الزمان ﷺ پر جو قرآن اتارا تھا اس میں پہلے نبیوں اور پہلی امتوں کا سب ذکر ہے جس سے ہم گواہی دیتے ہیں کہ تیرے رسول سچے ہیں۔ یہ روایتیں وجی بالنبیین و الشھداء کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گواہ سے مقصود امت محمدیہ ﷺ ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم (2 ؎ صحیح مسلم تحریم الظلم ص 319 ج 2۔ ) اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے۔ یہ حدیث وقضی بینھم بالحق وھم لایظمون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا اس لئے اس کا فیصلہ انصاف کے موافق ہوگا صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ ؓ بن عباس کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی (3 ؎ صحیح مسلم باب بیان تجاوز اللہ تعالیٰ عن حدیث النفس الخ ص 78 ج 1 و بخاری شریف کتاب الرقاق باب من ھم بحسنۃ اوسیئۃ ص 960 ج 2۔ ) ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو نیکیوں کے برابر اور بعض نیکیوں کا بدلہ اس سے بھی زیادہ دیا جائے گا اور بدیوں کی سزا میں کچھ زیادتی نہ کی جائے گی ووفیت کل نفس ماعملت کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ صحیح 4 ؎ مسلم کے حوالہ سے (4 ؎ صحیح مسلم حجاج ادم و موسیٰ ص 345 ج 2۔ ) عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث میں جو کچھ ہونے والا تھا دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ‘ یہ حدیث وھو اعلم بھا یفعلون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نامہ اعمال کا لکھا جانا گواہی شاہدی یہ سب لوگوں کے قائل کرنے کے لئے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔
Ayahs 39:71–73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور کافروں کو گروہ گروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اسکے پاس جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے ؟ کہیں گے کیوں نہیں لیکن کافروں کے حق میں عذاب کا حکم متحقق ہوچکا تھا

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ

71۔ 73۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے اس نئی زمین پر جو اس وقت پیدا ہوگی لوگوں کے حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا اور زمین اللہ کے نور سے روشن ہوجائے گی اس حساب و کتاب کے بعد جو نتیجہ نکلے گا اس آیت سے آخر سورة تک اب اس کا ذکر ہے کہ جنتی لوگ جنت میں اور دوزخی لوگ دوزخ میں بھیج دیئے جائیں گے جس طرح میدان محشر میں آنحضرت ﷺ کی شفاعت سے لوگوں کا حساب و کتاب شروع ہوگا اسی طرح ابوہریرہ ؓ کی حدیث صحیح 5 ؎ مسلم میں ہے کہ جنتی لوگوں کی جنت میں جانے کی شفاعت بھی پہلے آپ ہی شروع کریں گے اور سب سے پہلے جنت کا دروازہ بھی آپ ہی کھلوا دیں گے چناچہ صحیح مسلم 6 ؎ کی انس ؓ بن مالک کی روایت میں ہے کہ سب سے پہلے میں ہی جنت کے دروازہ کی کنڈی کھٹکھٹاؤں گا انبیا میں آپ کی عزت اور آپ کا رتبہ بڑھانے کے لئے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہوگا کہ نبی آخر الزمان سے پہلے کوئی جنت کا دروازہ کھلوائے تو نہ کھولنا چناچہ معتبر سند سے مسند امام 1 ؎ احمد میں حضرت انس ؓ کی روایت ہے جسکا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب میں جنت کا دروازہ کھلواؤں گا تو خازن پوچھے گا تم کون ہو جب میں اپنا نام لوں گا تو خازن کہے گا مجھ کو یہی اللہ کا حکم تھا کہ تم سے پہلے کوئی جنت کا دروازہ کھلوئے تو نہ کھولوں یہ تو صحیحین 2 ؎ کی حدیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جس دروازے سے روزے دار لوگ داخل ہوں گے اس دروازہ کا نام ریان ہے لیکن جنتوں کی تعداد بعضے مفسروں نے سات ہی بتلائی ہے۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ جنت کی نعمتوں کی پوری تفصیل سوا خدا کے کسی کو معلوم نہیں ہوسکتی پل صراط پر گزرنے کے بعد جنتی لوگ ایک اونچی جگہ پر دوزخ اور جنت کے بیچ میں ٹھہرائے جائیں گے اور دنیا میں جس کسی نے کسی پر زیادتی کی ہوگی اس کا بدلہ لیا جائے گا پھر جنت میں داخل ہونے کا حکم ہوگا کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی۔ جس میں اسی صفیں امت محمدیہ ﷺ کی ہوں گی کل درجے ایک سو ہیں اور ایک درجہ سے دوسرے درجہ تک سو برس کے رستہ کا فاصلہ ہے۔ فردوس اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔ اس کے اوپر عرش معلیٰ ہے آنحضرت ﷺ 3 ؎ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے فردوس کی خواہش کرنی چاہئے ایک روز آنحضرت ﷺ نے فرمایا 4 ؎ جنت کے نیچے کے درجے والے لوگوں کو اوپر والے لوگ اس طرح نظر آئیں گے جس طرح دور سے تارا نظر آتا ہے صحابہ نے پوچھا کیا حضرت اوپر کے درجے میں انبیا رہیں گے۔ آپ نے فرمایا انبیا اور فرمانبردار لوگ بھی اسی اوپر کے درجہ میں رہیں گے۔ معتبر سند سے ترمذی 5 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قبروں سے اٹھتے ہی جنتی لوگوں کو سواریاں مل جائیں گی جن پر وہ سوار ہو کر میدان محشر کو جائیں گے۔ ان آیتوں میں اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کے ساتھ ہانکنے کا جو لفظ ہے اس کا مطلب اس حدیث کے موافق یہ ہے کہ اہل دوزخ تو خود ہانکے جائیں گے اور اہل جنت کی سواریوں کے جانوروں کو ہانکا جائے گا۔ اہل دوزخ کے ذکر میں بغیر واؤ کے فتحت ابوابھا اور اہل جنت کے ذکر میں واؤ بڑھا کر وفتحت ابوابھا جو فرمایا اس کی تفسیر میں بعضے مفسروں کا قول ہے کہ اس حالیہ واؤ کے بڑھ جانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ جنتی لوگ جنت کے دروازوں پر اس حالت میں پہنچیں گے کہ جنت کے دروازے ان کے پہنچنے سے پہلے ہی کھلے ہوئے ہوں گے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث جو اپور گزری کہ نبی آخر الزمان ﷺ سب سے پہلے جنت کے دروازے کھلوائیں گے اس صحیح حدیث سے اوپر کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے۔ اس لئے یہی تفسیر قوی ہے جب دوزخی دوزخ میں جائیں گے تو ان کو قائل کرنے کے لئے فرشتے یہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے احکام لے کر رسول نہیں آئے اور اس دن کی آفت سے انہوں نے تم کو نہیں ڈرایا دوزخی لوگ جواب دیں گے کہ ہاں رسول تو اللہ کے احکام لے کر آئے اور انہوں نے اس دن کی آفت سے ہم کو ڈرایا لیکن ہم نے ان کا کہنا نہیں مانا اور شیطان کا کہنا ہر بات میں مانتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے شیطان کو یہ پہلے ہی جتلا دیا تھا کہ جو اس کا کہنا مانے گا وہ جہنم میں جھونکا جائے گا اسی ارشاد کے موافق آج ہم اس آفت میں پکڑے گئے اللہ کے فرشتے دوزخیوں کی یہ بات سن کر کہیں گے کہ دنیا کے عیش و آرام کے غرور میں جب تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کا کہنا نہیں مانا تو جاؤ اب ہمیشہ دوزخ میں پڑے جلتے رہو اہل جنت جب جنت کے دروازے پر جائیں گے تو اللہ کے فرشتے ان سے سلام علیک کریں گے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم پر ہر طرح کی برائی سے سلامتی بخشے پھر کہیں گے تم لوگ دنیا میں نیک راہ پر تھے اس لئے اب جاؤ اور جنت میں ہمیشہ رہو۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جب اہل جنت جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں جا چکیں گے تو جنت اور دوزخ کے درمیان میں موت کو ذبح کیا جا کر یہ کہہ دیا جائے گا کہ اب جو جہاں ہے ہمیشہ وہیں رہے گا۔ خلدین فیھا اور فادخلوھا خلدین کی گویا تفسیر ہے۔ (5 ؎ صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ ص 112 ج 1۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة زمر ص 179 ج 2۔ ) (6 ؎ صحح مسلم باب اثبات الشفاعۃ ص 112 ج 1۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 65 ج 4۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری صفۃ ابواب الجنۃ ص 461 ج 1۔ ) (3 ؎ مشکوٰۃ کتاب الجہاد ص 329 و ترمذی ابواب صفۃ الجنۃ ص 89 ج 2۔ ) (4 ؎ صحیح مسلم باب الجنۃ و نعیمھا ص 378 ج 2۔ ) (5 ؎ جامع ترمذی ابواب التفسیر تفسیر سورة بنی اسرائیل ص 164 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص 969 ج 2۔
Ayahs 39:74–75

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اپنے وعدے کو ہم سے سچا کردیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنادیا ہم بہشت میں جس مکان میں چاہیں رہیں تو (اچھے) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا باندھے ہوئے ہیں (اور) اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو سارے جہان کا مالک ہے

74۔ 75۔ جب اہل جنت فرشتوں سے جنت میں ہمیشہ رہنے کی خوشخبری سنیں گے اور جنت کی نعمتیں دیکھیں گے تو اس وقت اس طرح اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں گے جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ سب تعریف اس خدا کو ہے جس نے سچا کیا ہم سے وعدہ اپنا جو دنیا میں رسولوں کی معرفت کیا تھا اور اس وعدہ کے موافق ہم کو جنت میں وہ نعمتیں عنایت کیں کہ جو نہ ہم نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کبھی ہمارے دل میں ان کا خیال گزرا صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جنتی لوگوں کو جنت میں وہ نعمتیں ملیں گی کہ جو نہ انہوں نے کبھی آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کبھی ان کے دل پر ان کا خیال گزرا۔ ابن ماجہ 3 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی ایک اور صحیح حدیث گزر چکی ہے کہ ہر شخص کا ایک ٹھکانہ جنت میں اور ایک دوزخ میں پیدا کیا گیا ہے لیکن جو لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخی ٹھہریں گے اور ان کے جنت کے ٹھکانے خالی رہ جائیں گے آخر کو جنتی لوگ ان لاوارث ٹھکانوں کے بھی وارث بن جائیں گے۔ ان حدیثوں کو پہلی آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد جنتی لوگ اس لئے بےاختیار اللہ تعالیٰ کا شکریہ زبان پر لائیں گے کہ ان کی امید سے بڑھ کر ان کو جنت میں نعمتیں نظر آئیں گی اسی واسطے وہ اپنی نیکیوں کے اجر کو اچھا اجر بتلائیں گے اور جنت کے مکانوں اور باغوں کا وارث اپنے آپ کو اس لئے ٹھہرائیں گے کہ لاوارث مکانات اور باغوں کا بھی ان کو وارث بنا دیا جائے گا کہ تفریح کے طور پر جہاں جن کا جی چاہے وہاں رہیں۔ اسی تفریح کے مطلب کو جنتی لوگ نتبوامن الجنتہ حدیث نشاء کے لفظوں سے ادا کریں گے۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہراکر فرمایا کہ جنتی لوگ جنت کی نعمتیں دیکھ کر ادھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر رہے ہیں اور نیک و بد کا انصاف سے جو فیصلہ ہوجائے اس فیصلہ کو دیکھ کر اللہ کے فرشتے ادھر عرش معلیٰ کے گردا گرد کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کریں گے اے رسول اللہ قیامت کے دن جہاں اور نئی باتیں تمہارے دیکھنے میں آئیں گی وہاں اللہ تعالیٰ کے دربار کا یہ موقع اس دن دیکھنے کے قابل ہوگا سورة بقر میں گزر چکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین پر بنی آدم کے پیدا کرنے کا ارادہ فرشتوں سے ظاہر کیا تو فرشتوں نے عرض کیا تھا کہ بنی آدم کے پیدا ہونے سے خون ریزی اور طرح طرح کے فساد کا اندیشہ ہے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ دیا تھا کہ بنی آدم کے پیدا کرنے میں جو حکمت ہے وہ مجھ کو خوب معلوم ہے تم کو معلوم نہیں اب نیک و بد کے فیصلہ کے بعد جو قیامت کے دن انبیاء صدیق شہید اور نیک لوگوں کی جماعتیں جنت میں جائیں گی تو بنی آدم کے پیدا کرنے کی حکمت الٰہی اچھی طرح فرشتوں کو معلوم ہوجائیں گی اس لئے بےساختہ ان کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا آئے گی۔ (2 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ ص 460 ج 1۔ ) (3 ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجۃ ص 332۔ )