Ayahs 38:1–71۔ 7۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم مسند عبد بن حمید بہیقی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھل بلی سی پڑگئی تھی۔ اس لئے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابو طالب کے پاس گئی اور ابو طالب سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ابوطالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا۔ کہ اے میرے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کہ میں قوم کے لوگوں سے ایسی ایک بات چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس کو پورا کر لیویں تو تمام ملک عرب و عجم ان کا فرماں بردار ہوجاوے۔ ان لوگوں نے جب آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ آخر وہ کیا بات ہے ‘ ذرا کہو تو سہی ‘ تو آپ نے ان کے رو برو کلمہ توحید پڑھا کلمہ توحید سن کر سب اجعل الاٰلھۃ الھا واحدا اور وماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ کہتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ ترمذی اور حاکم نے اس شان نزول کی حدیث کو صحیح کہا ہے۔ مجلس سے اٹھتے وقت جو لفظ ان مشرکوں نے کہے ان کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے اپنے بڑوں سے یہ نہیں سنا کہ ان بتوں کو چھوڑ کر خاص اللہ کی عبادت کی جاوے اس واسطے اس نصیحت کو ہم ایک بنائی ہوئی بات جان کر اپنے ٹھاکروں کی پوجا پر ہم تو جمے ہوئے ہیں۔ مکہ کے قحط کے وقت ان ٹھاکروں کی بےبسی کا حال جو معلوم ہوا۔ اس سے یہ لوگ اپنے بڑوں کی اور اپنی غلطی کو سمجھ سکتے تھے۔ چناچہ کئی بار یہ بات ان کو جتلائی گئی ہے۔ اس لئے ان آیتوں میں ان لفظوں کا کچھ جواب نہیں فرمایا۔ ص حروف مقطعات میں سے ہے جن کی تفسیر سورة بقر میں گزر چکی ہے۔ باقی کی آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اس قرآن صاحب نصیحت کی قسم ہے کہ ان مشرکین مکہ کا قرآن جھٹلانا مال داری کے غرور اور سرکشی کے سبب سے ہے۔ نہیں تو یہ لوگ اللہ کے رسول کو بچپنے سے جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے کہیں جا کر کچھ پڑھا نہیں بالکل ان پڑھ ہیں پھر ان پڑھ آدمی اس طرح کا کلام کیونکر بنا سکتا ہے جس کی فصاحت انسان کی طاقت سے باہر ہو پچھلے انبیاء اور امتوں کے قصے اس میں ایسے ہوں کہ جن کو سوائے اہل کتاب کے کوئی نہیں جانتا۔ غیب کی خبریں اس میں ایسی سچی ہوں کہ جس طرح آنکھوں سے دیکھ کر چیز کو کوئی بیان کرتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے۔ کہ ان پڑھ نبی پر یہ قرآن اترا ہے۔ اور باتیں اس قرآن میں وہ ہیں کہ ان پڑھ آدمی تو درکنار اہل کتاب بھی بغیر آسمانی کتابوں کی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلا سکتے پھر اب اس بات کو کون جھٹلا سکتا ہے۔ کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ کلام الٰہی نازل ہوا ہے۔ وہ اللہ کے رسول ہیں اس واسطے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ ہر ایک نبی کی امت کے ایمان لانے کے موافق ہر نبی کو معجزہ دیا گیا ہے۔ اور مجھ کو اور معجزوں کے علاوہ قرآن کا ایک معجزہ ایسا دیا گیا ہے۔ جس سے مجھ کو امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے سب امتوں سے زیادہ ہوں گے۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح کی سمجھ میں آجانے کی باتوں کے سمجھانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ کلام الٰہی اور اللہ کے رسول کے جھٹلانے سے باز نہ آویں گے تو ان سے پہلے کے ایسے لوگوں کا جو انجام ہوا وہی ان کا ہوگا صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ کہ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا۔ جس میں بڑے بڑے کلام الٰہی اور اللہ کے رسول کے جھٹلانے والے بڑی ذلت سے مارے گئے۔ اور مرتے ہی عقبٰے کے عذاب میں گرفتار ہوگئے۔ جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو اللہ کے وعدہ کو تم نے سچا پا لیا۔ پھر فرمایا یہ لوگ اللہ کے رسول کو جھوٹا اور جادوگر قرار دے کر یہ جو کہتے ہیں۔ کہ اللہ کا کلام انسان پر نہیں اتر سکتا۔ قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو اس کو کوئی فرشتہ ہمارے پاس لاتا۔ اس کا جواب ان کو کئی جگہ سمجھا دیا گیا ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا ان کی طاقت سے باہر ہے۔ اس لئے کوئی فرشتہ بھی ان کے پاس قرآن لے کر آتا۔ تو ضرور انسان کی صورت میں آتا۔ باقی آیتوں کا مطلب وہی ہے۔ جو شان نزول میں بیان کیا گیا۔
(1 ؎ جامع ترمذی شریف تفسیر سورة ص ‘ ص 178 ج 2)
(1 ؎ صحیح بخاری باب کیف نزل الوحی ص 744 ج 2)
(2 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا جلد ہذا ص 22)
Ayahs 38:8–158۔ 15۔ قرآن شریف کے جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین مکہ ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ یا عمرو بن مسعود ایسے مال دار شخص پر نازل ہوتا۔ ان مال دار شخصوں کو چھوڑ کر محمد ؓ جیسے تنگ دست پر کلام الٰہی کا اترنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ جب تک ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کے طور پر کوئی آفت ان پر نہیں آتی۔ اس وقت تک یہ لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں ایسی ہی شک و شبہ کی باتیں کرتے رہیں گے۔ ہاں جب کوئی آفت آسمانی ان پر آجاوے تو ان کا یہ سب شک و شبہ جاتا رہے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی روایت گزر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی میں جب مشرکین مکہ کے بڑے بڑے منکر قرآن مارے گئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا۔ کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکشوں کا شک و شبہ ایسا بےوقت رفع ہوا کہ اس سے ان لوگوں نے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی رحمت کے خزانے کچھ ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہیں کہ آسمان پر چڑھ کر یہ لوگ جس کو چاہیں نبوت دے دیں۔ جس طرح ان سے پہلے لوگ قوم نوح سے لے کر فرعون تک ایسی سرکشی کی باتوں کے وبال میں پکڑے گئے۔ ایک دن یہی حال ان کا ہونے والا ہے۔ اور پھر دوسرے صور کی آواز سے ان کو دوبارہ زندہ کیا جا کر ان کی بداعمالی کی پوری سزا ان کو دی جاوے۔ ما لھا من فراق اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح نفیری بجانے والے بیچ میں دم لے کر نفیری بجاتے ہیں۔ صور کے پھونکنے میں اتنی مہلت بھی نہ ہوگی۔ بلکہ ایک دم میں صور پھونک دیا جاوے گا۔ اور فوراً یہ منکرین حشر دوبارہ زندہ کئے جا کر حساب و کتاب کے لئے حاضر کردیئے جائیں گے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی حدیث بدر کی لڑائی کے قصہ میں گزر چکی ہے کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے سردار مشرکین مکہ کے جو مارے گئے ان کے نام پہلے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اور اللہ کے رسول نے صحابہ کو بتلا دیئے تھے اس روایت میں انس 3 ؎ بن مالک قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے جتنے لوگوں کے نام اور جس جس جگہ پر ان کی لاشوں کا پڑا رہنا ایک رات پہلے سے فرمایا تھا۔ صبح کو لڑائی کے ختم ہوجانے کے بعد وہی حال ہم لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ان آیتوں میں جو ذکر ہے کہ قوم لوح سے لے کر فرعون تک جتھے جس طرح برباد اور تباہ ہوچکے ان مشرکین مکہ کا جتھا بھی ایک دن اسی طرح برباد اور تباہ ہوجاوے گا حضرت عمر ؓ اور انس بن مالک کی یہ روایتیں۔ گویا اس کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ ان آیتوں کے وعدہ کے ظہور کا وقت جب آگیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک رات پہلے اسے اپنے رسول کو اور اللہ کے رسول نے معجزہ کے طور پر صحابہ کو جتلا دیا اور صبح کو وہی حال صحابہ نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ متعبر سند کی عقبہ ؓ بن عامر 4 ؎ کی حدیث ایک جگہ سے گزر چکی ہے کہ پہلے صور کی آواز سے لوگ ایسے جلی ہلاک ہوجاویں گے۔ کہ جس شخص کے ہاتھ میں نوالہ ہوگا۔ وہ منہ تک نہ جاسکے گا کہ وہ شخص ہلاک ہوجائے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے۔ کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب جسم تیار ہوجا ویں گے اور پھر دوسرے صور کی آواز سے ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی۔ ان آیتوں میں صور کا جو ذکر ہے ان حدیثوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
(1 ؎ تفسیر ہذا ص 22)
(3 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب غزوہ بدر ص 102 ج 2)
(4 ؎ الترغیب والترھیب فصل فی النفخ فی الصور الخ۔ ص 727 ج 4 صحیح البخاری ج 2 ص 963 باب بعد باب قول النبی ﷺ بعثت نا والساعۃ کھاتین۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب مابین النفختین ص 407 ج 2)
Ayahs 38:16–1716۔ 17 تفسیرابو العالیہ تفسیر سدی 2 ؎ تفسیر ضحاک اور تفسیر کلبی میں جو شان نزول اس آیت کی چند روایتوں سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے۔ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے جب یہ سنا کہ قیامت کے دن دائیں اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جاویں گے اور جو لوگ جنت میں جاویں گے اور جو لوگ جنت میں جاویں گے۔ ان کو بڑی بڑی نعمتیں ملیں گی۔ تو مسخرا پن سے وہ مشرک یہ کہتے تھے۔ کہ وہ جنت کی نعمتیں دنیا میں ہی ہم آنکھوں سے دیکھ لیویں تو شاید ہم کو کچھ یقین آوے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرما دیا۔ کہ اے رسول اللہ کے ان نادانوں کی ایسی باتوں پر صبر کرنا چاہئے۔ وقت پر اپنے کئے کو خود یہ لوگ بھگت لیویں گے۔ بعضے مفسروں نے لکھا ہے۔ کہ جہاد کے حکم سے آیت کا ٹکڑا اصبر علی مایقولون منسوخ ہے مگر صحیح قول یہی ہے۔ کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے اب آگے آنحضرت کا دل بہلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤود کے قصہ کا ذکر فرمایا قط کے معنی لکھے ہوئے کاغذ کے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس اور سعید بن جبیر کے قول کے موافق آیت کا وہی مطلب ہے جس کا ذکر اوپر گزرا کہ وہ لوگ مسخرا پن سے سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال کا آجانا۔ اور اس کے ذریعہ سے جنت کی نعمتوں کو یا الٹے ہاتھ میں نامہ اعمال آن کر دوزخ کے عذاب کو دنیا میں ہی دیکھ لینا چاہتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب کرکے فرمایا۔ کہ ان لوگوں کے مسخرا پن پر صبر کیا جاوے۔ صحیح سند سے ترمذی 3 ؎ ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں سفیان ؓ بن عبد اللہ ثقفی سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی زبان کو انگلیوں میں پکڑ کر یہ فرمایا کہ یہ زبان بھی آدمی کے حق میں بڑے خوف کی چیز ہے۔ اس حدیث کو آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ بت پرستی کے وبال کے علاوہ مشرکین مکہ اس وبال میں بھی قیامت کے دن پکڑے جاویں گے۔ کہ مسخرا پن کے طور پر ایسی باتیں منہ سے نکالتے تھے جس کا ذکر آیت کے اس ٹکڑے میں ہے۔
(2 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 297 ج 5۔ )
(3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ۔ ص 100 ج 2)
Ayahs 38:18–2318۔ 24۔ ذالاید کے معنی صاحب قوت حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی قوت عبادت الٰہی میں بڑھی ہوئی تھی اس لئے ان کو صاحب قوت فرمایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں عبد ؓ اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے (1 ؎ صحیح بخاری باب من نام عند السحر ص 152 ج 1) رسول ﷺ نے فرمایا۔ دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ اور ایک دن کھانا کھایا کرتے تھے۔ اسی طرح آدھی رات سویا کرتے تھے۔ اور آدھی رات عبادت کیا کرتے تھے۔ اس حدیث سے عبد ؓ اللہ بن عباس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہوے۔ نیک کاموں میں جو لگا اور برے کاموں سے بچتا رہے اس کو اواب کہتے ہیں۔ دائود (علیہ السلام) جب صبح شام ذکر الٰہی کرتے تھے۔ ان کے ساتھ پہاڑ اور جانور بھی ذکر الٰہی کیا کرتے تھے۔ اور دائود (علیہ السلام) پہاڑوں اور جانوروں کے ذکر الٰہی کا مطلب سمجھتے تھے۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے دائود (علیہ السلام) کی سلطنت کو قوت دی۔ سورة بقر میں یہ قصہ گزر چکا ہے۔ کہ دائود (علیہ السلام) نے مدد الٰہی سے جالوت بادشاہ کو کیوں کر قتل کیا۔ اور طالوت بادشاہ کے انتقال کے بعد بادشاہت اور حضرت شمویل کی وفات کے بعد نبوت یہ سب کچھ دائود (علیہ السلام) کے خاندان میں کس طرح آیا اسی مدد غیبی کو سلطنت کی قوت فرمایا یہاں حکمت کے معنی نبوت کے ہیں اور فصل خطاب کے معنی مقدمات کے فیصلہ کرنے کی پوری سمجھ۔ فارسی اور اردو فائدہ میں یہ قصہ لکھا ہے کہ ایک عورت پر دائود (علیہ السلام) کی نظر پڑگئی جس سے نکاح کرنے کا خیال ان کے جی میں جم گیا اس عورت کا خاوند دائود (علیہ السلام) کے لشکر میں تھا اس کو تابوت سکینہ کے آگے رہنے پر تعینات کیا یہ بڑے معرکہ کی تعیناتی تھی اس لئے وہ شہید ہوگیا اس کے بعد دائود (علیہ السلام) نے اسکی بی بی سے نکاح کرلیا یہ قصہ مصنف ابن 2 ؎ ابی شبیہ تفسیر ان ابی حاتم اور مستدرک حاکم میں ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح بھی کہا ہے لیکن حافظ ابن کثیر نے اس قصہ کی روایت کو بنی اسرائیل کی روایتوں میں شمار کر کے یہی فیصلہ کیا ہے۔ کہ قرآن شریف میں اسی قدر قصہ ہے کہ دائود (علیہ السلام) نے اس عورت کے خاوند سے یہ خواہش کی کہ وہ اپنی بی بی کو طلاق دے دے۔ اس سے زیادہ کوئی بات قرآن شریف یا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہوتی۔ تابوت سکینہ کا قصہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے ان آیتوں میں جو قصہ ہے اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ ایک رات کو خلاف عادت دائود (علیہ السلام) کے عبادت خانہ میں دو شخص دیوار کود کر آگئے۔ تفسیر مقاتل میں ہے کہ یہ جبرئیل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) تھے جو آدمی کی شکل میں آئے تھے ان دونوں شخصوں کے بےوقت دیوار کود کر آنے دائود (علیہ السلام) پریشان ہوگئے۔ ان دونوں شخصوں نے دائود (علیہ السلام) سے کہا پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ہم تو اہل مقدمہ ہیں۔ ایک مقدمہ کے فیصلہ کے لئے تمہارے پاس آئے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ فیصلہ روداد مقدمہ کے موافق صحیح ہونا چاہئے۔ مقدمہ کی رو داد یہ ہے کہ اس میرے دینی بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے۔ لیکن یہ میرا دینی بھائی یہ کہتا ہے کہ میں اپنی وہ ایک دنبی بھی اس کے حوالہ کر دوں اور میرے اس دینی بھائی کی بات چیت ایسی زبردست ہے کہ میں اس کی بات کو ٹال نہیں سکتا۔ مقدمہ کی یہ روداد سن کر دائو (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کیا کہ جو شخص ننانوے دنبیاں رکھ کر پھر اپنے دینی بھائی کے پاس ایک دنبی بھی نہیں دیکھ سکتا وہ بڑی ناانصافی کرتا ہے۔ اس فیصلہ کے دائود (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ ایک معاملہ میں جہاں چند شخص شریک ہوتے ہیں وہاں اکثر شریک لوگ آپس میں ایسی ہی زیادتیاں کرتے رہتے ہیں۔ تھوڑے بندے اللہ کے ایسے ہیں جو اس طرح کی زیادتیوں سے بچتے رہتے ہیں۔
(2 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 300 ج 5)
Ayahs 38:24–2524۔ 25۔ فارسی اور اردو کے فائدہ میں جو قصہ حضرت دائودہ کا شاہ ولی اللہ علیہ رحمۃ اور شاہ عبد القادر علیہ رحمۃ نے بیان کیا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا اسی قصہ پر قاضی عیاض اور امام فخر الدین رازی وغیرہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس طرح کے قصے انبیا کی شان سے بعید ہے۔ اس اعتراض سے بچنے کی غرض سے حافظ ابن کثیر نے اس قصہ کو اپنی تفسیر میں ذکر نہیں کیا۔ لیکن یہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس قصہ کو ابن 1 ؎ ابی شیبہ نے مصنف میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور حاکم نے مستدرک میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس وغیرہ سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اس 2 ؎ روایت کو صحیح کہا ہے۔ اس قدر محدثین کی روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس قصہ کی اصل ضرور ہے اور خود قرآن شریف سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ کہ اس قصہ کی اصل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ بیرونی مثال سن کر حضرت دائود نے جان لیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانچا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیرونی مثال سے پہلے کوئی بات ایسی تھی۔ جس سے اس مثال کو دائود (علیہ السلام) نے سن کر اپنے قصہ کا خلاصہ اس مثال سے پہچان لیا۔ حافظ ابن کثیر 3 ؎ نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ اس قصہ کی سند میں یزید بن ابان رقاشی ضعیف ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اسماء الرجال کی کتابوں کے مصنف تین طرح کے لوگ ہیں۔ بعضے سخت ہیں بعضے نرم ہیں بعضے معتدل ہیں امام احمد ابن عدی ان معتدل لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص سختی سے کسی اچھے راوی کو ضعیف اور ضعیف راوی کو اچھا بتلا دیوے تو یہ تینوں صاحب اس کی اصلاح کردیتے ہیں۔ اب امام احمد نے جب یہ فیصلہ کردیا کہ شعبہ کا یہ قول جو مشہور ہے کہ یزید بن ابان کی روایت لینے سے بدکاری کا کرنا بہتر ہے۔ یہ قول شعبہ کا یزید بن ابان کے حق میں غلط مشہور ہے۔ بلکہ دراصل یہ قول شعبہ کا ابان عیاش کے حق میں ہے اور ابن عدی نے یہ فیصلہ کردیا کہ یزید بن ابان رقاشی کی روایت میں کچھ اندیشہ نہیں ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ سخت روایت میں باقی نہیں رہا۔ جس قدر ضعف اصلاح سے پہلے مشہور تھا۔ اسی واسطے ترمذی اور ابن ماجہ نے یزید بن ابان کو اپنے راویوں میں داخل کیا ہے۔ جب دائود (علیہ السلام) اپنے فیصلہ کا مطلب ان اہل مقدمہ دونوں شخصوں کو سنا چکے تو ان کے خیال میں یہ بات آئی کہ اس مقدمہ کی صورت ان ہی کے حال کے موافق ہے کیوں کہ ان کی ننانویں بیبیاں تھیں اور اس اور یا نام کے شخص کی ایک ہی بی بی تھی جس سے دائود (علیہ السلام) نکاح کرنا چاہتے تھے۔ جب دائود (علیہ السلام) نے مقدمہ کی روداد کو اپنے اوپر صادق پایا۔ اور سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک جانچ تھی تو فوراً سجدہ میں گر پڑے اور توبہ اور استفغار کرنے لگے صحیح بخاری 1 ؎۔ ابو دائود ‘ و ترمذی ‘ نسائی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے وخر راکعا و اناب پر اللہ کے رسول ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ معتبر سند سے ابو 2 ؎ دائود صحیح ابن خزیمیہ صیح ابن حبان مسدرک حاکم وغیرہ میں ابو سعید خدری سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ ایک دفعہ اللہ کے رسول ﷺ نے سورة ص پڑھی اور یہ سجدہ ادا کر کے صحابہ سے فرمایا میں نے تم لوگوں کو سجدہ کے لئے تیار دیکھ کر سجدہ کیا۔ ورنہ یہ سجدہ دائود (علیہ السلام) کی توبہ کا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ پہلی حدیث کے موافق امام ابو حینیفہ رحمۃ اللہ اس سجدہ کو سنت کہتے ہیں اور دوسری حدیث کے موافق امام شافعی رحمۃ اللہ اس سجدہ کو سنت نہیں کہتے۔ اب آگے فرمایا۔ دائود (علیہ السلام) بار گاہ الٰہی میں صاحب مرتبہ لوگوں میں سے تھے اس لئے خالص دل سے انہوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس چوک کو معاف کردیا صحیح 3 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے غفور رحیمی کی صفت ایسی پیاری ہے کہ اگر زمین پر موجود لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ اور ایسی خلقت کو پیدا کرتا کہ وہ لوگ گناہ کر کے خالص دل سے توبہ کرتے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی غفور رحیمی کی صفت کے موافق ان کی توبہ قبول کرتا۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ دائود (علیہ السلام) نے اپنے مرتبہ کے موافق توبہ کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی غفور رحیمی کی صفت تو ایسی عام ہے کہ ہر گناہ گار شخص جب اپنے رتبہ کے موافق خالص دل سے توبہ کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما دے گا۔ دائود (علیہ السلام) نے ایک تدبیر سے اس عورت کے ساتھ نکاح کرنا چاہا تھا مگر پیغمبروں کا درجہ بہت بڑا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو بھیجا۔ تاکہ دائود (علیہ السلام) آگاہ ہوجاویں کہ دنیا کی مباح چیزوں میں ایسی تدبیر پیغمبروں کی شان کے برخلاف ہے۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 300۔ )
(2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 300)
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 31 ج 4)
(1 ؎ صحیح بخاری باب سجدہ ص۔ ص 146 ج 1)
(2 ؎ ابو دائود باب السجود فی ص پارہ 8 ص ج 1)
(3 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب سقوط الذنوب بالا ستغفار والتوبۃ ص 355 ج 1)
Ayahs 38:26–2926۔ 29۔ اوپر گزر چکا ہے کہ طالوت بادشاہ کے انتقال کے بعد بادشاہت اور شمویل (علیہ السلام) نبی کی وفات کے بعد نبوت یہ دونوں نعمتیں اللہ تعالیٰ نے دائود (علیہ السلام) کو عطا فرمائیں۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے دائود اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیا اور بادشاہوں کا تم کو نائب اس لئے ملک میں مقرر کیا ہے۔ کہ بغیر دل کی چاہ کے لگائو کے خالص حکم الٰہی کے موافق نبوت اور حکومت کو چلائو اور دل کی چاہ کے لگائو سے تم کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ دل کی چاہ آدمی کو حکم الٰہی کی فرمانبرداری سے دور ڈال دیتی ہے۔ اور حکم الٰہی کی فرمانبرداری سے دور پڑجانا ایسے لوگوں کا کام ہے جو قیامت کے حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کو بھولے ہوئے ہیں۔ اور اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے۔ یہ اتنا بڑا کارخانہ اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ نہیں کیا بلکہ اسی فائدہ کے لئے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے۔ کہ اس جہان کے ختم ہوجانے کے بعد نیکی کی جزا و بدی کی سزا کے لئے ایک دوسرا جہان پیدا کیا جاوے۔ کیونکہ سب کی آنکھوں کے سامنے بہت سے نیک لوگ دنیا میں تنگ دستی سے اور بد لوگ خوشحالی سے گزر کرتے ہیں۔ یہ اس لئے ہے حکمت الٰہی کے موافق نیکی کی جزا اور بدی کی سزا کے لئے دوسرا جہان مقرر ہے کیونکہ نیک و بد کو ہمیشہ ایک حال میں رکھنا انصاف الٰہی کے بالکل برخلاف ہے۔ اب قریش کو تنبیہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ یہ سراپا عقبیٰ کی بہبودی کی نصیحت کا قرآن اے رسول اللہ کے اللہ نے تم پر اس لئے نازل فرمایا ہے کہ جو لوگ عقل سلیم رکھتے ہیں وہ اس سے یہ نصیحت حاصل کریں کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد دنیا کے نیک و بد کی جزا و سزا کا فیصلہ ضرور ہونے والا ہے۔ کیونکہ بغیر اس کے دنیا کا پیدا کرنا بالکل بےٹھکانے ٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے صحیح سند سے ابی 1 ؎ دائود نسائی ابن ماجہ اور صحیح ابن حباب میں آنحضرت کے پروردہ ابو عبد الرحمن سفینہ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ نبوت کی خلافت میرے بعد تیس برس تک رہے گی بعد اس کے بادشاہ لوگ ہوں گے۔ یہ تیس برس خلفائے اربعہ کی خلافت کے زمانہ اور حضرت امام حسن ؓ کی چھ مہینے کی خلافت کو ملا کر پورے ہوجاتے ہیں۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے اور اس حدیث سے اللہ کے رسول ﷺ کا بڑا معجزہ نکلتا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلافت اور نبوت چلانے کے لئے ان آیتوں میں جو نصیحت دائود (علیہ السلام) کو کی تھی جب تک اس امت کے خلفا میں اس نصیحت کا اثر رہا اس وقت تک اس امت میں بھی خلافت چلی پھر بعد اس کے دنیوی بادشاہت کا طریقہ جاری ہوگیا۔ چناچہ حضرت معاویہ نے جب اپنی زندگی میں اپنے بیٹے یزید کی خلافت کی بیعت شام اور مدینہ کے لوگوں سے لی تو عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق نے اعتراض کیا۔ کہ یہ طریقہ کسریٰ اور قیصر بادشاہوں کا ہے خلفائے نبوت کا یہ طریقہ نہیں ہے اور حدیث کے موافق معجزہ کا حاصل یہ ہے کہ پیشن گوئی کے طور پر اللہ کے رسول ﷺ نے خلافت و نبوت کی جو مدت قرار دی تھی بالکل اسی کے موافق ظہور ہوا۔ یہ ابو عبد الرحمن سفینہ آنحضرت ﷺ کے پروردہ ہیں ان کا نام مہران ہے ایک دفعہ انہوں نے سفر سامان بہت سا لے لیا تھا اس دن سے ان کا لقب سفینہ ہوگیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کشتی پر سامان لادتے ہیں اسی طرح انہوں نے اپنے اوپر سامان لاد لیا قریش کے بارہ خلفا کی جابر بن سمرہ کی حدیث بہت صحیح 1 ؎ ہے لیکن وہ حدیث خلافت نبوت اور بادشاہت کو ملا ہے کیونکہ تیس برس میں قریش کے بارہ خلیفہ نہیں ہوئے یہ قریش میں کے بارہ خلفاء کی تعداد خلفائے بنی امیہ کے خلیفہ ولید بن یزید بن عبد الملک پر ختم ہوجاتی ہے اس کے بعد پھر طرح طرح کے جھگڑے شروع ہوگئے جن کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں ہے۔
(1 ؎ بحوالہ مشکوۃ شریف کا ب الفتن فیما تکون منھا الی قیام الساعۃ ص 463)
(1 ؎ بحوالہ مشکوۃ شریف باب مناقب قریش ص 550 و ابودائود باب المھدی ص ج 2)
Ayahs 38:30–3330۔ 33۔ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن جریر اور تفسیر 2 ؎ ابن منذر میں حضرت علی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ دریائی گھوڑے تھے جن کے دیکھنے کے شغل میں سلیمان (علیہ السلام) کی عصر کی نماز کو دیر ہوگئی اوسط 3 ؎ طبرانی میں ابی بن کعب سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا عصر کی نماز میں دیر ہوجانے کے رنج سے سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی پنڈلیاں کاٹ ڈالیں اور پھر ان کو ذبح کر ڈالا۔ دین الٰہی کے جوش میں سلیمان (علیہ السلام) کا یہ کام ایسا ہی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کے بال پکڑ کر کھینچے تھے۔ ابی بن کعب کی حدیث جو اوپر بیان کی گئی اس کی سند میں سعید بن بشیر راوی ہے۔ جس کو بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ اور عبد الرحمن بن ابراہیم نے سعید بن بشیر کو ثقہ قرار دیا ہے۔ شعبہ اس فن میں امیر المومنین مشہور ہیں اور عبد الرحمن رحیم دمشق کے علما میں ہیں کہ امام احمد اور ابن معین ان کو اپنے سے بہتر شمار کرتے اور ان کی مجلس میں شاگردوں کی شان سے بیٹھا کرتے تھے اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث کی سند معتبر ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر دائود (علیہ السلام) کی خلافت کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اس خلافت نبوت اور نیابت بادشاہت کو اللہ تعالیٰ نے فقط دائود (علیہ السلام) پر ختم نہیں کیا۔ بلکہ ان کی اولاد میں سلیمان (علیہ السلام) کو بھی وہی مرتبہ عنایت فرمایا۔ کہ وہ نبی بھی ہوئے۔ بادشاہ بھی ہوئے اور باوجود بادشاہت کے وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے مرضی کے کاموں میں لگے رہے۔ اب آگے ان کے جوش دینی اور مرضی الٰہی کے کاموں کی امنگ کی مثال میں وہی دریائی گھوڑوں کا قصہ بیان فرمایا جس کا ذکر حضرت علی ؓ اور ابی بن کعب کی روایتوں کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے۔ اگر حافظ ابو جعفر 1 ؎ ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن عباس کے قول کے حوالہ سے مسحا بالسوق والاعناق کی یہ تفسیر کی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کو دوبارہ اپنے سامنے منگوا کر ان کو پیار کیا۔ لیکن جب ابی بن کعب کی معتبر روایت میں خود صاحب وحی ﷺ نے آیت کے ٹکڑے کی یہ تفسیر فرما دی ہے جو اوپر بیان کی گئی تو اب اس کے مقابل میں اور کوئی دوسری تفسیر صحیح نہیں قرار پا سکتی۔ اسی واسطے عماد الدین حافظ ابن کثیر نے حافظ ابو جعفر ابن جریر کے پیار کرنے کی تفسیر کو پسند نہیں کیا۔ صحیح سند سے ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ سے اور معتبر سند سے طبرانی اور بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس 2 ؎ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو نبی آخر الزمان ﷺ کی مرضی پر رکھا تھا کہ اگر آپ دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کی طرح نبوت اور بادشاہت دونوں چیزوں کو پسند کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کو دونوں چیزیں عطا فرما دے گا۔ لیکن آپ نے خالص نبوت کو پسند کیا۔ ان حدیثوں کو اوپر کی آیتوں اور ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ نے اپنی تمام عمر تنگ دستی سے جو گزاری وہ آپ کی مرضی کے موافق ایک بات تھی ورنہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ بادشاہت کی درخواست کو بھی ان کی مرضی پر منحصر رکھا تھا۔
(2 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 309 ج 5۔ )
(3 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 309 ج 5۔ )
(1 ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ص 34 ج 4۔ )
(2 ؎ بحوالہ الترغیب والترہیب ابواب الزھد ص 360‘ 361 ج 4)
Ayahs 38:34–4034۔ 40۔ والقینا علی کرسید جسدا کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کے سردار دین کی لڑائی میں کچھ پہلو تہی کرنے لگے تھے اس پر سلیمان (علیہ السلام) نے خفا ہو کر یہ قسم کھائی کہ ایک رات اپنی سو بیبیوں سے صحبت کریں گے جس سے سو لڑکے ان کی اولاد میں لشکر کے سردار پیدا ہوجاویں گے اس قسم کے کھانے کے وقت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لئے ان کی ایک بی بی کے پیٹ سے ادھورا بچہ پیدا ہوا جس کو سلیمان کے دکھانے کے لئے ان کے تخت پر رکھ دیا گیا جس کو دیکھ کر سلیمان (علیہ السلام) نے انشاء اللہ کے بھول جانے پر توبہ استغفار کی یہ تفسیر صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ کے چند صحابیوں کی روایتوں کے موافق نہایت صحیح تفسیر ہے۔ دوسری تفسیر وہی ہے جو شاہ عبد القادر صاحب کے اردو فائدہ میں ہے کہ صخرنام کے ایک جن نے دھوکا دے کر سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی حضرت سلیمان کی ایک خادمہ عورت سے لے لی اور وہ انگوٹھی پہن کر سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں بادشاہت کرنے لگا۔ قتادہ کے قول کے موافق چالیس دن تک یہی حال رہا۔ اس چلہ میں صخر جن کے خوف سے سلیمان (علیہ السلام) بستی سے نکل گئے اور ایک گائوں میں چھپ کر رہنے لگے۔ پھر یہ انگوٹھی صخر جن کی انگلی میں سے نکل کر دریا میں جا پڑی اور مچھلی اس کو نکل گئی جو مچھلی پھر سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ لگی اور اس کے پیٹ میں سے وہ انگوٹھی نکلی اور سلیمان (علیہ السلام) پہلے کی طرح پھر وہ انگوٹھی پہن کر بادشاہ ہوگئے۔ اگرچہ اس دوسری تفسیر کو بعضے علما نے یہود کی روایتوں میں شمار کرکے ناقابل اعتبار ٹھہرایا ہے لیکن حاکم 1 ؎ نے اس روایت کو حضرت عبد اللہ بن عباس سے نقل کر کے صحیح قرار دیا ہے اور یہ روایت نسائی 2 ؎ میں بھی ہے جس کی سند معتبر ہے ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اصول حدیث کے قاعدہ کے موافق صحیح بخاری و مسلم کی روایتوں کو ترجیح دی۔ جا کر صحیح تفسیر وہی ٹھہرے گی۔ جو پہلے بیان کی گئی اسی واسطے حافظ عماد الدی 3 ؎ ابن کثیر نے دوسری تفسیر کو پسند نہیں کیا اور شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ نے بھی اپنے فارسی کے فائدہ میں اس دوسری تفسیر کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن اگر دونوں قصوں کے مجموعہ کو آیتوں کے مطلب میں داخل سمجھا جائے تو دونوں روایتوں میں کچھ اختلاف باقی نہیں رہتا۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) قسم کے وقت انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے گرفت کے طور پر ان کی جانچ کی اب پہلی تفسیر کی بنیاد پر وہ جانچ یہ تھی کہ سو لڑکوں کے پیدا ہونے کی امید کی جگہ ایک لڑکا ادھورا پیدا ہوا تھا۔ اور دوسری تفسیر کی بنا پر وہ جانچ یہ تھی۔ کہ چالیس دن تک بادشاہت ضبط ہوگئی۔ پھر جب اس جانچ کے بعد سلیمان (علیہ السلام) نے ایسی بادشاہت کے عطا ہونے کی دعا کی جس کی کوئی دوسری مثال دنیا میں نہ پائی جاوے تو اللہ تعالیٰ نے ہوا اور جنات کو ان کا فرمانبردار کردیا۔ وہ ہوا ظاہر میں تو نرم تھی آندھی نہیں تھی۔ لیکن تاثیر میں ایسی تیز تھی کہ رات دن میں اس کے سبب سے دو مہینہ کا راستہ طے ہوجاتا تھا۔ چناچہ سورة السبا میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ اسی واسطے یہاں تو اس ہوا کو نرم فرمایا اور سورة الانبیا میں تیز ہوا فرمایا۔ غرض اوپر کی تفسیر کے موافق ان آیتوں میں اور سورة الانبیا کی آیتوں میں کچھ مخالف نہیں ہے یہ تو ہوا کا کام ہوا۔ جنات جو تعینات تھے وہ کچھ تو عمارتوں کے بنانے کا کام کرتے تھے اور کچھ غوطے لگا کر سمندر میں سے موتی نکالتے تھے اور کچھ اور کام کرتے تھے۔ جن کاموں کا ذکر سورة السبا میں گزر چکا ہے جو جنات سرکشی کرتے تھے ان کو بیڑیاں ڈال کر قید کردیا جاتا تھا۔ آخر کو فرمایا سلیمان (علیہ السلام) بارگاہ الٰہی میں صاحب مرتبہ تھے۔ اس لئے اتنی بڑی بادشاہت ان کو عطا کی جا کر یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ اس بادشاہت کے کاموں میں وہ جس طرح چاہیں تصرف کریں کہ بات میں ان سے کسی طرح کی پرسش نہ ہوگی صحیح سند سے مسند امام 4 ؎ احمد میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ دو ایماندار شخصوں میں دوستی تھی جن میں ایک خوشحال تھا۔ اور دوسرا تنگ دست قیامت کے دن وہ تنگ دست شخص پہلے سے جنت میں جا کر وہاں اپنے دوست کو نہ پاوے گا تو بہت پریشان ہوگا پھر کچھ عرصہ کے بعد جب وہ مال دار شخص بھی جنت میں داخل ہوجاوے گا۔ تو وہ تنگ دست شخص اپنی پریشانی کا حال اس مال دار دوستے سے بیان کرے گا وہ مال دار شخص کہے گا۔ مال داری کے حساب و کتاب نے مجھ کو اتنے عرصہ تک روک رکھا تھا۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ اتنی بڑی بادشاہت کے عطا فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو حساب و کتاب کے جھگڑے سے جو بچا دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا جس احسان کا حال اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
(3 ؎ صحیح بخاری باب قول الرجل لا طوفن اللیلۃ علی نساء ص 788 ج 2)
(1 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 309‘ 310)
(2 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 309‘ 310)
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 36 ج 4)
(4 ؎ الترغیب والترہیب باب الترغیب فی الفقر الخ ص 240 ج 4)