38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 38:41–43

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(ہم نے کہا زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں )

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اہل (و عیال) اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی

41۔ 43۔ بعضے علما کا قول ہے کہ ایوب (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سلیمان (علیہ السلام) کے بعد نبی آئے ہیں۔ قرآن شریف کی اس سورة میں اور سورة الانبیاء میں ایوب (علیہ السلام) کا قصہ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد ہے۔ اس سے اس قول کی تائید بھی ہوتی ہے۔ لیکن ابن عساکر میں ہے کہ ایوب (علیہ السلام) لوط (علیہ السلام) کے نواسے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے انبیا میں ہیں۔ ایوب (علیہ السلام) بہت صاحب اولاد اور صاحب مال تھے۔ ترمذی 1 ؎ اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے۔ اس عادت الٰہی کے موافق ایوب (علیہ السلام) کی یہ آمازئش ہوئی کہ ان کی اولاد سب مرگئی سارا مال برباد ہوگیا۔ خود ایسے بیمار ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے۔ بستی کے لوگوں نے بستی سے باہر ایک کونے میں ان کو ڈال دیا۔ سو ان کی بی بی کے اور کوئی ان کا ساتھ دینے والا نہ رہا۔ تیرہ یا اٹھارہ برس تک یہی حال رہا۔ ایوب (علیہ السلام) کا صبر اس لئے مشہور ہے کہ وہ اس سخت آزمائش میں گھبرائے نہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ ان کی بی بی کا نام رحمت 2 ؎ تھا۔ اور وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بیٹی یا پوتی تھیں۔ صحیح سند سے مسند بزار مستدرک حاکم صحیح ابن حبان 3 ؎ میں انس بن مالک سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے ایک دوست کی زبان سے ایک دن جب یہ کلمہ نکلا کہ ایوب (علیہ السلام) سے کوئی ایسا بڑا گناہ ہوا ہے جو تیرہ یا اٹھارہ برس کی تکلیف میں بھی معاف نہیں ہوا تو یہ کلمہ سن کر ایوب (علیہ السلام) نے وہ دعا کی۔ جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس کے بعد ایوب (علیہ السلام) کو خواب میں یہ حکم ہوا کہ زمین میں لات مارو انہوں نے جب لات ماری تو زمین میں دو چشمے پیدا ہوگئے۔ انہوں نے ایک چشمہ کا پانی پیا اور دوسرے چشمہ کے پانی سے نہا لئے اور فوراً اچھے ہوگئے۔ ایوب 4 ؎ (علیہ السلام) کی بی بی بستی میں جا کر محنت مزوری کیا کرتی تھیں اور کچھ کھانا لے کر خود بھی کھاتی تھیں۔ ایوب (علیہ السلام) کو بھی کھلایا کرتی تھیں جس دن ایوب (علیہ السلام) اچھے ہوگئے۔ اس دن جب وہ کھانا لے کر آئیں تو انہوں نے ایوب (علیہ السلام) کو نہیں پہچانا اور ایوب (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہاں ایک بیمار شخص جو پڑا رہتا تھا۔ اس کا کچھ حال تم کو معلوم ہے کیا اس کو بھیڑیا تو نہیں لے گیا۔ ایوب (علیہ السلام) نے جواب دیا وہ بیمار میں ہی ہوں اللہ تعالیٰ نے میرے صبر کا اجر مجھ دیا کہ مجھے بالکل تندرست کردیا تفسیر ضحاک 5 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو جوان کردیا اور ان سے 23 بچے ہوئے صحیح بخاری 6 ؎ اور صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے اچھے ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر سونے کی ٹڈیوں کا مینہ برسایا جس سے ایوب (علیہ السلام) مال دار ہوگئے۔ آخر کو فرمایا امت محمدیہ کے ایماندار عقل مند لوگوں کو مشرکین مکہ کے ستانے پر صفر کرنا اور صبر کے اجر کی امید اس قصہ سے پیدا کرنی چاہئے۔ اگرچہ ایوب (علیہ السلام) کی مدت میں سلف کا اختلاف ہے لیکن تیرہ برس کی مدت کی انس ؓ بن مالک کی روایت کو ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے نیک عملوں کی کثرت دیکھ کر شیطان کو ایوب (علیہ السلام) سے ایک طرح کی دشمنی ہوگئی تھی اس لئے شیطان نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ مجھ کو ایوب (علیہ السلام) کی اولاد کی ہلاکت اور مال کی بربادی اور صحت جسمانی کی خرابی پر مسلط کیا جاوے تو میں دیکھوں کہ اس آزمائش کے بعد بھی ایوب (علیہ السلام) اپنے نیک عملوں پر قائم رہتے ہیں یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو آزمائش کے سبب سے ایوب (علیہ السلام) کا درجہ بڑھانا منظور تھا۔ اس واسطے ایوب (علیہ السلام) نے انی مسنی الشیطن کہا۔ لیکن حافظ ابن کثیر وغیرہ نے اس قول کو ضعیف ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ انبیا پر شیطان کا اس طرح کا تسلط اللہ کی شان سے بعید ہے۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت ان عبادی لیس لک علیھم سلٰطن سے حافظ ابن کثیر کے اعتراض کی پوری تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ اس آیت کا مطلب بھی وہی ہے جو حافظ ابن کثیر کے اعتراض کا مطلب ہے اس واسطے آیت کی تفسیر ان ہی علمائے سلف کے قول کے موافق صحیح معلوم ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مال داری کے زمانہ میں شیطانی وسوسہ سے ایوب (علیہ السلام) مال داری کی حالت کو ذرا اچھا جاننے لگے تھے اس پر ان کو یہ تکلیف پہنچی اور اسی شیطانی وسوسہ کو انہوں نے تکلیف کا سبب ٹھہرا کر انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب کہا صحیح بخاری 2 ؎ اور موطا میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس کسی کو اللہ تعالیٰ عقبے میں بڑا درجہ دینا چاہتا ہے۔ اس کو دنیا میں طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کرکے ان مصیبتوں پر صبر کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ جس سے اس صبر کے اجر میں وہ شخص عقبے میں بڑا درجہ پانے کا مستحق ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کو ایوب (علیہ السلام) کے قصہ کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے حال پر اللہ تعالیٰ کی بڑی مہربانی تھی کہ اس نے دنیا میں ان کو طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کر کے صبر کی توفیق دی۔ جس سے ان کے عقبے میں رتبہ بڑھا اب کسی دیندار آدمی پر کوئی دنیوی تکلیف گزرے تو اسے توفیق صبر کی دعا مانگنی چاہئے اور ثابت قدم رہ کر اس تکلیف سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ اس تکلیف کی حالت پر صبر کرنے سے عقبے میں بڑا ثواب ملے گا۔ چناچہ طبرانی کبیر کے حوالہ 3 ؎ سے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کی صحیح حدیث ایک جگہ سے گزر چکی ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جب مصیبتوں پر صبر کرنے والے لوگوں کو صبر کا اجر امید سے بڑھ کر ملے گا تو بےصبرے لوگ یہ کہیں گے کہ دنیا میں کوئی ہماری بوٹیاں قینچی سے کترتا اور ہم اس تکلیف پر صبر کرتے تو اچھا ہوتا کہ آج ہم بھی بڑے اجر کے مستحق ٹھہرتے۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے

44۔ اگرچہ علماء مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ حضرت ایوب اپنی اس بیماری میں اپنی بی بی سے کس بات پر خفا ہوگئے تھے جس خفگی میں انہوں نے اپنی بی بی کو اپنے تندرست ہوجانے کے بعد سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی لیکن صحیح سبب حضرت ایوب ؓ کی خفگی کا وہی ہے جس کی صراحت حدیث میں آئی ہے چناچہ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں چند روایتیں ہیں حضرت ایوب ؓ کی بیماری کے زمانہ میں شیطان ایک حکیم کا بھیس بدل کر ایک صندوق دواؤں کا سر راہ بیٹھا حضرت ایوب کی بی بی نے جو ایک روز اس فریبی حکیم کو دیکھا تو اس سے حضرت ایوب کا حال کہا۔ شیطان نے جواب دیا کہ اس شرط سے میں اس بیمار کا علاج کرتا ہوں کہ اگر میرے علاج سے اس بیمار کو صحت ہوگئی تو تم یہ جاننا کہ اس صحت میں خدا کی قدرت کا کچھ دخل نہ تھا۔ خاص میرے ہی علاج نے اس بیمار کو اچھا کیا۔ حضرت ایوب کی بی بی نے جب اس حکیم کا ذکر حضرت ایوب سے کیا تو انہوں نے نے اس مشرک کی بات چیت پر غصہ ہو کر وہ قسم کھائی اب اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ جس طرح قسم کے اتارنے کا ذکر قرآن شریف میں ہے یہ صورت قسم اتارنے کی حضرت ایوب کے ساتھ مخصوص تھی یا شریعت محمدیہ میں بھی یہ حکم باقی ہے صحیح مذہب اس باب میں امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا معلوم ہوتا ہے کہ قسم کے وقت کوئی خاص لکڑی قسم کھانے والا شخص اپنی نیت میں نہ ٹھہراوے تو اب بھی یہ حکم باقی ہے کیونکہ ان دونوں مذہبوں کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو طبرانی نے ابی امامہ ؓ بن سہل سے روایت 1 ؎ کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ بنی سعدہ میں ایک لونڈی کو زنا کا حمل تھا۔ آپ نے دریافت کے بعد سو تنکوں کی ایک جھاڑو مارنے کا حکم دیا۔ یہ حدیث چند سندوں سے آئی ہے۔ اس لئے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت ہوجاتی ہے حضرت ایوب کا صبر مشہور ہے اور ان کے صبر کی صداقت اس سے ہوتی ہے۔ کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایوب بہت اچھے بندے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تکلیف کے وقت صبر کرنے والا اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والا پایا۔ (1 ؎ جامع الترمذی باب فی الصبر علی البلاء من ابواب الزھد عن سعد ص 75 ج 2) (2 ؎ تفسیر الدرالمنثور ج 5 ص 317 بحوالہ ابن عساکر قول وہب) (3 ؎ فتح الباری ص 247 ج 3 کتاب الانبیاء) (4 ؎ احمد فی الذھد ذکرہ السیوطی فی الدر المنثور ج۔ ص 316) (5 ؎ فتح الباری 317 ج 3) (6 ؎ بخاری کتاب الغسل باب من اغتسل عریانا ص 32 ج 1) (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 310 ج 5۔ ) (2 ؎ بحوالہ الترغیب والترہیب باب الترغیب فی الصبر ص 526 ج 4) (3 ؎ الترغیب و الترہیب ص 525 ج 4۔ ) (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ج 5 ص 317)
Ayahs 38:45–47

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت والے اور آنکھوں والے تھے

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور نیک لوگوں میں سے تھے

45۔ 47۔ اوپر ایوب (علیہ السلام) کا قصہ اس لئے فرمایا تھا کہ اگر اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے ساتھ مسلمان مشرکین مکہ کی ایذا دہی پر صبر کریں گے تو ان کا انجام بھی اچھا ہوگا۔ اسی مطلب کے لئے اب ابراہیم۔ ‘ اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کا نام یاد دلایا کہ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر لوگوں کی ہدایت اور عقبے کی نصیحت کے لئے چنا تھا۔ انہوں نے بھی دنیا میں بڑی بڑی مصیبتیں جھیلیں اور صبر کیا۔ اے رسول اللہ کے تم اور تمہارے ساتھ کے مسلمان صبر سے کام لیویں گے تو وقت مقررہ آنے پر ان مشرکوں کی ساری سرکشی خاک مل جاوے گی۔ اور جس چنی ہوئی بات کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور نسل ابراہیمی کو چھانٹا ہے وہ بات بھی اللہ کی وحدانیت کا پھیلانا اور شرک کا مٹانا ہے جس کا ظہور مکہ اور تمام جزیرہ عرب میں اللہ تعالیٰ کے ارادہ ازلی کے موافق جلد ہوجاوے گا اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے مشرکین مکہ جن بتوں کی حمایت میں اللہ کے رسول اور ان کے ساتھ کے مسلمانوں کو طرح طرح سے ایذا دیتے تھے آخر فتح کے وقت اللہ کے رسول نے لکڑیاں مار مار کر ان بتوں کو گرا دیا۔ اور کسی مشرک کو اللہ کے رسول کا ہاتھ پکڑنے کی جرأت نہ ہوئی۔ فتح مکہ کے وقت کا یہ قصہ صحیح بخاری 2 ؎ کی عبد ؓ اللہ بن مسعود اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایتوں کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکا ہے یہی روایتیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں کیونکہ آیتوں میں ابراہیم۔ ‘ اسحق۔ ‘ اور یعقوب (علیہ السلام) کا نام لیکر جس انجام کو اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا تھا۔ اس انجام کا ظہور ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ سے گزر چکی جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ کی وحدانیت کا پھیلانا سب انبیا کے دین میں ہمیشہ سے رہا ہے۔ ہر زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے نماز روزہ کے احکام شریعت میں بدلتے رہتے ہیں۔ ابراہیم۔ ‘ اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ توحید کو چنی ہوئی بات جس کو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس بات کی نصیحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور نسل ابراہیمی کو چھانٹا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پچھلے سب انبیا کی شریعتوں میں سے چنی ہوئی ایک بات ہے۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کو ایک یہ تنبیہ بھی ہے۔ کہ یہ لوگ بنی اسماعیل میں ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں لیکن ابراہیم (علیہ السلام) اور نسل ابراہیمی کو جس چنی ہوئی بات کے لئے اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا اس کے مٹانے کے یہ لوگ درپے ہیں۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) دونوں کا طریقہ ان لوگوں کی بت پرستی کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہے۔ اور عمرو بن لحی سے پہلے اس بت پرستی کے طریقہ کا نام و نشان تک مکہ میں نہیں تھا۔ یہ عمرو بن لحی وہی شخص ہے جس نے پہلے پہل ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی ہے اس عمرو بن لحی کا پورا قصہ ایک جگہ گزر چکا 2 ؎ ہے اولی الا ید والابصار اس کا مطلب عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں میں تھے اس لئے ان کے ہاتھ پیروں کی عبادت ان کے دلوں کا نور ایمانی سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق تھا۔ (2 ؎ صحیح بخاری غزوۃ الفتح ص 614 ج 2 و صحح 5 مسلم باب فتح مکہ ص 103 ج 2) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد 2 ص 103۔ ) (2 ؎ تفسیرابن کثیر ص 191 ج 3 )
Ayah 38:48

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو اور وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

48۔ بعضے مفسروں نے لکھا ہے کہ الیسع حضرت الیاس کو کہتے ہیں لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کس لئے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس اور الیسع کا الگ الگ ذکر فرمایا ہے۔ اور بعضے مفسروں نے یہ لکھا کہ الیسع خضر کو کہتے ہیں یہ قول بھی کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں ہوتا صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے جس کو شاہ عبد القادر صاحب نے اپنے فائدہ میں بیان کیا ہے کہ الیسع حضرت الیاس کے خلفیہ تھے یہ قول حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس اور وہب بن منبہ تابعی کا ہے یہ وہب بن منبہ حسن بصری کے رتبہ کے ثقہ تابعیون میں ہیں ذوالکفل کے نبی ہونے اور نہ ہونے میں صحابہ کے زمانہ سے اختلاف ہے یہاں تک کہ حضرت ابوموسیٰ 3 ؎ اشعری منبر پر وعظ کی طرح بیان کیا کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں ذوالکفل ایک نیک شخص تھے نبی نہیں تھے مسند امام احمد 4 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ بنی اسرائیل میں کفل ایک شخص بڑا گناہ گار تھا ایک روز اس نے ایک عورت کو ساٹھ اشرفیاں بدکاری کرنے کے وعدہ پر دیں جب الکفل نے اس عورت سے بدکاری کرنی چاہی تو وہ عورت رونے لگی۔ الکفل نے اس عورت سے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے بیان کیا کہ ایسا برا کام کبھی عمر بھر میں نے نہیں کیا۔ اس پر ذو الکفل نے بھی اللہ تعالیٰ سے عہد کرلیا کہ کبھی عمر بھر گناہ نہ کرے گا اور اسی رات کو ذا الکفل کا انتقال ہوگیا۔ صبح کو بنی اسرائیل کے لوگوں نے دیکھا کہ ذو الکفل کے دروازہ پر یہ لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ذو الکفل کی مغفرت فرما دی حافظ ابن کثیر نے مسند امام احمد کی اس روایت کو نقل کر کے یہ کہا ہے کہ صحاح ستہ کے کسی مصنف نے اس حدیث کو نہیں لیا لیکن ترمذی کے ابواب صفۃ القیمۃ میں یہ روایت موجودہ 3 ؎ ہے اور ترمذی نے۔ (4 ؎ ایضاً ) اس حدیث کو حسن کہا 5 ؎ ہے۔ مسند امام احمد اور ترمذی کے لفظوں میں کسی قدر فرق ہے (5 ؎ ایضاً ) ۔ اس لئے شاید حافظ ابن کثیرکا مطلب یہ ہے کہ مسند امام احمد کے لفظوں سے یہ حدیث صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نہیں سورة الانبیا میں اللہ تعالیٰ نے ذو الکفل کا ذکر انبیا کے ساتھ فرمایا ہے اس واسطے مفسرین نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں کے ذو الکفل اور شخص ہیں اور یہ ذو الکفل قرآن شریف کے مضمون کے موافق بنی ہیں۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی ایک بہت بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے۔ کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی ماں ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑ گئے۔ اس وقت اسماعیل (علیہ السلام) دودھ پیتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی ماں ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑ گئے۔ اس وقت اسماعیل (علیہ السلام) دودھ پیتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) ہاجرہ کو یہاں چھوڑتے وقت ایک مشک میں پانی جو رکھ گئے تھے جب وہ پانی ختم ہوچکا اور ہاجرہ اپنے دودھ پیتے بچہ کی پیاس سے بہت پریشاں ہوئیں تو آخر جبرئیل (علیہ السلام) نے زمزم کے مقام پر اپنا پر مارا جس سے زمزم کا چشمہ نکلا۔ اور اس پانی کے سبب سے قبیلہ جرہم کے لوگ اس مکہ کے میدان میں آباد ہوئے۔ اور جوان ہوجانے کے بعد اس قبیلہ میں ایک عورت سے اسماعیل (علیہ السلام) کا نکاح ہوا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس جرہم قبیلہ کے لوگوں کی بولی بگڑی ہوئی عربی زبان میں تھی اسماعیل (علیہ السلام) نے اس قبیلہ کے لوگوں سے عربی زبان سیکھی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اسماعیل (علیہ السلام) کی بولی فصیح عربی میں کردی۔ یہ جرہم بن قحطان قبیلہ سام بن نوح کی نسل میں سے ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اس قبیلہ جرہم کے اسماعیل (علیہ السلام) نبی تھے اور اسماعیل (علیہ السلام) کی ہدایت کے موافق عمرو بن لحی کے زمانہ تک یہ لوگ ملت ابراہیمی پر قائم تھے پہلے پہل عمرو بن لحی نے ملت ابراہمی 2 ؎ کو بگاڑا اور مکہ میں بت پرستی پھیلائی۔ عمرو بن لحی کا قصہ اوپر گزر چکا ہے اور صحیح روایتوں کے حوالہ سے یہ بھی گزر چکا ہے۔ کہ اس عمرو بن لحی نے پہلے پہل مکہ سے ملت ابراہیم کو مٹایا ہے قریش یہ جو کہتے تھے۔ کہ یہ بت پرستی ہمارے بڑوں کا طریقہ ہے اسماعیل (علیہ السلام) کا نام لے کر قریش کو یوں قائل کیا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو بنی اسماعیل کہتے ہیں۔ حالانکہ عمرو بن لحی سے پہلے اصل بنی اسماعیل کا طریقہ یہ نہیں تھا۔ بلکہ وہ تو ملت ابراہیم پر تھے پھر جس طریقہ پر خود اسماعیل (علیہ السلام) اور کئی پشت تک کے بنی اسماعیل نہیں تھے۔ وہ طریقہ بنی اسماعیل کا کیونکر ہوسکتا ہے۔ ھذا ذکر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن شریف میں پہلے انبیا اور پہلی امتوں کے قصے ہیں۔ ان سے لوگوں کو نصیحت کرنی چاہئے تاکہ نیکی اور بدی کا انجام لوگوں کی سمجھ میں آوے۔ اور خاص کر قریش کو اسماعیل (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ نصیحت پکڑنی چاہئے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو بنی اسماعیل کہتے ہیں۔ اور انہوں نے حضرت اسماعیل اور پہلے کے بنی اسماعیل کے طریقہ کو چھوڑ رکھا ہے۔ (3 ؎ ایضاً و الترغیب و الترہیب کتاب التوبۃ والزھد ص 177 ج 4) (4 ؎ جامع ترمذی ابواب صفۃ القیمۃ ص 85 ج 2) (1 ؎ صحیح بخاری باب قول اللہ عز و جل و اتخذاللہ ابراھیم خلیلا ص 47 ج 1) (2 ؎ تفسیرہذا جلد ہذا 42)
Ayahs 38:49–64

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کیلئے تو عمدہ مقام ہے

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور (کھانے پینے کے لئے) بہت سے میوے اور شراب منگواتے رہیں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی (اور) ہم عمر (عورتیں) ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ چیزیں ہیں جن کا حساب کے دن کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ (نعمتیں تو فرماں برداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

(یعنی) دوزخ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرام گاہ ہے

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ (ہے) اب اس کے مزے چکھیں

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی طرح کے اور بہت سے (عذاب ہوں گے)

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

کہیں گے کہ بلکہ تم ہی کو خوشی نہ ہو تم ہی یہ (بلا) ہمارے سامنے لائے سو (یہ) برا ٹھکانا ہے

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے پروردگار جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے اس کو دوزخ میں دونا عذاب دے

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بروں میں شمار کرتے تھے

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں ؟

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بیشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے

49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا۔ جس طرح دنیا میں لوگ اپنے گھروں کو پہنچانتے ہیں اس سے زیادہ جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے وقت اپنے گھروں کو پہچانیں گے۔ اور بغیر کسی سے پوچھنے کے لئے اپنے اپنے گھروں میں چلے جائیں گے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن جنت کے محلوں کے درازوے بھی کھلے ہوں گے اور جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے وقت اپنے اپنے ٹھکانے کو پہچان بھی لیویں گے اس واسطے بغیر کسی کشمکش کے ہر ایک جنتی اپنے محل میں چلا آوے گا۔ اسماعیل بن ابی رافع اور محمد بن یزید بن ابی زیاد یہ دو راوی اس حدیث کی سند میں اگرچہ ایسے ہیں۔ کہ ان کو بعضے علما نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن اسماعیل بن ابی رافع کو امام بخاری نے ثقہ کہا ہے۔ اور محمد بن یزید کی روایتوں کو ترمذی نے صحیح ٹھہرایا ہے۔ اس لئے یہ حدیث معتبر ہے قصرت الطرف اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے خاوند کے سوا وہ کسی غیر مرد کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔ جنتی لوگ جب جنت میں طرح طرح کی نعمتوں سے خوش ہوں گے تو ان سے یہ کہا جائے گا۔ یہ وہی نعمتیں ہیں جن کا وعدہ تم سے دنیا میں اللہ کے رسولوں نے کیا تھا۔ قیامت کے دن ہر ایک نیکی بدی کا حساب ہو کر فیصلہ ہوگا اس لئے اس کو یوم الحساب فرمایا۔ جنت میں ہر فصل کا میوہ ہر وقت ملے گا اور جس پیڑ میں سے کوئی میوہ توڑا جائے گا۔ اسی وقت وہ میوہ پھر پیدا ہوجائے گا اس لئے فرمایا وہاں کی دی ہوئی روزی ہمیشہ رہے گی۔ کبھی بگڑنے کی نہیں ھذا کا اشارہ جنت کی نعمتوں کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کا یہ مختصر سا ذکر ہے ان نعمتوں کا تفصیلی حال نیک لوگوں کو اسی وقت معلوم ہوگا جب وہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو ؓ ہریرہ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اہل جنت کے واسطے وہ نعمتیں جنت میں پیدا کی گئی ہیں۔ جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھی نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل میں ان کا تصور گزر سکتا ہے اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ جنت کی نعمتوں کے ذکر کی جو آیتیں اور حدیثیں سنی گئی ہیں۔ وہ جنت کی نعمتوں کی مختصر حال کی ہیں کیونکہ جنت کی بہت سی نعمتیں ایسی ہیں کہ وہ اب تک کانوں سے نہیں سنی گئیں۔ اہل جنت کے ذکر کے بعد آگے اہل دوزخ کا ذکر فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں نافرمانی کی۔ مرنے کے بعد ان کے لئے برا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جس میں یہ لوگ جھونکے جائیں گے۔ کھولتا ہوا پانی اور پیپ یہ چیزیں ان کو پلائی جائیں گی۔ یہاں فقط ان ہی چیزوں کا ذکر ہے جو دوزخیوں کو پلائی جاویں گی سورة الصافات میں گزر چکا 1 ؎ ہے کہ پہلے سینڈھ کا پھل ان لوگوں کو کھلایا جا کر اس کے اوپر یہ پیپ کا ملا ہوا کھولتا پانی پلایا جائے گا۔ اس لئے کھانے کا ذکر و اخر من شکلہ ازواج فرما کر بیان کو مختصر کردیا غساق کی تفسیر حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس نے اس پیپ کی فرمائی ہے جو اہل دوزخ کے جسموں میں سے جاری ہوگی۔ ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں ابو سعید خدری سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ اس پیپ کا ایک ڈول بھی زمین پر آن پڑے تو بدبو کے سبب سے تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوجاوے۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور منذری نے اس کی صحت کی تائید کی ہے۔ سورة محمد ﷺ میں آوے گا کہ جب یہ کھولتا ہوا پانی دوزخیوں کو پلایا جاوے گا تو ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی ترمذی 3 ؎ نسائی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ سینڈھ کے عرق کا ایک قطرہ بھی زمین پر آن پڑے تو اہل دنیا کی زیست تلخ ہوجاوے۔ دوزخ میں جا کر بہکنے والے بہکانے والوں پر اور بہکانے والے بہکنے والوں پر لعن طعن جو کریں گے۔ آگے ان کا ذکر ہے یہ ذکر سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ مشرکین مکہ کے مال دار لوگ تنگ دست مسلمان کو حقیر سمجھتے تھے اور ہمیشہ ان سے مسخرا پن کیا کرتے تھے۔ جب یہ مال دار مشرک دوزخ میں جھونکے جانے کے بعد ان تنگ دست مسلمانوں کو وہاں نہ پاویں گے۔ تو یہ باتیں کریں گے کہ یا تو ہماری نگاہ کا قصور ہے کہ وہ تنگ دست مسلمان یہاں ہم کو نظر نہیں آتے۔ یا ہمارا مسخر پن بےجا تھا وہ لوگ اچھے تھے۔ جنت میں چلے گئے ‘ بہکنے والے اور بہکانے والے آپس میں لعن طعن کی باتیں کریں گے۔ اسی کو دوزخیوں کا آپس کا جھگڑا فرمایا۔ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک سے اور صحیح بخاری و ترمذی وغیرہ میں ابوذر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ سے فرمایا مجھ کو دوزخ کے عذاب کا حال جو کچھ معلوم ہے۔ اگر وہ تفصیل وار تم سے کہہ دوں تو تم اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر جنگل میں نکل جائو اور سوا رونے کے اور تم کچھ نہ کرسکو۔ ان روایتوں کو آخری آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ جس طرح جنت کی نعمتوں کی پوری تفسیر علمائے امت کی حد علم سے باہر ہے۔ وہی حال دوزخ کے عذاب کا ہے کہ یہ پورا حال اللہ کے رسول نے علماء امت کو نہیں بتلایا۔ اس لئے شریعت محمدی ؓ میں جو کچھ یہ حال ہے وہ جنت کے حال کی طرح مختصر طور پر ہے۔ (1 ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی وصف نساء اھدالجنۃ۔ ص 990 ج 4) (2 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقہ ص 460 ج 1) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 10) (2 ؎ ترمذی شریف باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار۔ ص 95 ج 2) (3 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 10) (4 ؎ صحیح بخاری باب لوتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا ص 960 ج 2‘ ترمذی شریف باب لوتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا۔ ص 61 ج 2)
Ayahs 38:65–68

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

کہہ دو کہ یہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے

65۔ 68۔ اوپر دوزخ کے عذاب کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں جو انسان کی برداشت سے باہر ہے اور اس عذاب سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تعظیم میں کسی دوسرے کو ہرگز شریک نہ کیا جاوے۔ کیونکہ وہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ ساری مخلوقات اس کی قدرت کے آگے عاجز اور اس کی قدرت کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کا وہی مالک ہے۔ زبردست وہ ایسا ہے کہ پچھلی بڑی بڑی قوموں کو اس نے اس شرک کے جرم میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔ اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا۔ گناہوں کے بخشنے والا وہ ایسا ہے کہ سوا شرک کے اور جس گناہ کا گناہ گار بغیر توبہ کے مرجاوے گا تو اس نے اس کے گناہوں کے بخش دینے کا وعدہ فرمایا۔ پچھلی قوموں کی ہلاکت کے جتنے قصے گزر چکے وہ اللہ کے زبردست ہونے کی تفسیر ہیں۔ اسی طرح متعبر سند سے ترمذی 1 ؎ میں انس ؓ بن مالک سے حدیث قدسی کی روایت ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس شخص کے نامہ اعمال میں شرک نہ ہوگا۔ اس کے گناہ اگر اتنے بھی ہوں جس سے زمین بھر جاوے تو اللہ تعالیٰ کو ان کے بخش دینے میں کچھ دریغ نہ ہوگا۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے صاحب بخشش ہونے کی گویا تفسیر ہے۔ اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے۔ کہ جس قرآن شریف کے تم دنیا میں منکر ہو اس قرآن شریف کی قدر تم کو اس وقت معلوم ہوگی جب کہ قیامت کے دن قرآن شریف کی نصیحت پر چلنے والوں کو بڑے بڑے رتبے دیئے جاویں گے۔ اور قرآن شریف کے منکروں کو طرح طرح کے عذاب بھگتنا پڑے گا۔ سورة الفرقان میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن قرآن شریف اور رسول کے جھٹلانے والے اپنے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھاویں گے اور کہیں گے کہ افسوس ہم نے دنیا میں اللہ کے رسول کی نصیحت پر کیوں نہیں عمل کیا۔ سورة الفرقان کی وہ آیتیں آخری آیت کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اب تو یہ مشرک لوگ قرآن شریف کو جھٹلاتے ہیں مگر قیامت کے دن اس جھٹلانے پر بہت پچھتاویں گے اور بےوقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔ (1 ؎ جامع ترمذی کتاب الدعوات۔ باب الاستغفار والتوبۃ ص 216 ج 2)
Ayahs 38:69–70

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

میری طرف تو یہی وحی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

69۔ 70۔ ترمزی 2 ؎ مسند امام احمد مسند عبد بن حمید وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور معاذ (رح) بن حبل کی معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ آج کی رات اللہ تعالیٰ کو میں نے خواب میں دیکھا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ اے محمد ﷺ تم کو کچھ معلوم ہے کہ یہ آسمان پر فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ مجھ کو معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں شانوں کے بیچ میں رکھا۔ جس کی خنکی میرے سینہ تک پہنچی اور اس اثر سے تمام زمین و آسمان کا حال مجھ پر کھل گیا اور پھر میں نے بتلا دیا۔ کہ جاڑے کے موسم میں وضو کرنے اور مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنے کے اور جماعت کے لئے قدم اٹھانے کے ثواب کے لکھنے کے باب میں یہ فرشتے جھگڑ رہے ہیں کہ ان نیک کاموں کا ثواب کس قدر لکھا جاوے۔ بعضے مفسروں نے ان روایتوں کو اس آیت کی تفسیر قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ فرشتوں کے جس جھگڑے کا ذکر ان روایتوں میں ہے۔ وہی فرشتوں کا جھگڑا اس آیت میں مختصر طور پر ہے۔ لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے یہ فیصلہ کردیا ہے 3 ؎ کہ اس آیت میں فرشتوں کا وہ جھگڑا مراد ہے جو حضرت آدم کے پیدا کرنے کی صورت میں حضرت حضرت آدم کی اولاد زمین پر طرح طرح کے فساد برپا کرے گی اور جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے آگے کی آیتوں میں حضرت آدم کی پیدائش کے قصہ کو ذکر فرمایا ہے تو قرآن شریف کی تفسیر قرآن شریف کی آگے کی آیتوں کو قرار دینا اصول تفسیر کے موافق ہے اوپر کی روایتوں کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں جو قصہ ہے وہ آنخضرت کے ایک خواب کا قصہ ہے اسی واسطے محدثین کے نزدیک یہ حدیث خواب کی حدیث کے نام سے مشہور ہے ‘ بعضے علما نے اس قصہ کو بیداری کی حالت کا قصہ قرار دیا ہے وہ صحیح 1 ؎ مسلم کی حضرت ابوذر ؓ کی صحیح حدیث کے مخالف ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بیداری کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں قرآن شریف کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان منکر قرآن مشرکوں کو یوں قائل کرو کہ پچھلے انبیا اور امتوں کے زمین پر کے صحیح قصوں سے اگر تم قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تو بھلا یہ بتلاؤ کہ آسمان پر فرشتوں کا قصہ زمین پر کیوں آگیا۔ یہ تو تم ثابت نہیں کرسکتے کہ اہل کتاب میں کے کسی شخص سے میں نے یہ قصے سیکھ لئے ہیں اس واسطے تم کو اس بات کے مان لینے میں ہٹ دھرمی نہ کرنی چاہئے۔ مجھ کو تو یہی حکم ہے کہ قرآن کو جھٹلانے کے وبال سے میں تم لوگوں کو ڈرا دوں اگر اس ڈر کو تم لوگ نہ مانو گے تو اپنی اس ہٹ دھرمی سے ایسے وقت پچھتاؤ گے کہ اس وقت کا پچھتانا تمہارے کچھ کام نہ آوے گا سورة فرقان کی آیتوں کے حوالہ سے ایسے لوگوں کے بےوقت پچھتانے کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ وہی آیتیں آخری آیت کی گویا تفسیر ہیں۔ (2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ص ص 178 ج 2۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 42۔ ج 4) (1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب معنی قولہ عز و جل و لقدراہ نزلۃ اخراے الخ ص 97 ج 1)