37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 37:1–5

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے صف باندھنے والوں کی پرا جما کر

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ڈانٹنے والوں کو جھڑک کر

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ذکر (یعنی قرآن) پڑھنے والوں کو (غور کر کر)

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

کہ تمہارا معبود ایک ہے

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان میں ہیں سب کا مالک ہے اور سورج کے طلوع ہونے کے مقامات کا بھی مالک ہے

1۔ 5۔ قتادہ کے قول کے موافق صافات وہ فرشتے ہیں جو صفیں باندھے ہوئے آسمان پر اللہ کا حکم سننے کو کھڑے ہوتے ہیں مجاہد کے قول کے موافق زاجرات وہ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ڈانٹتے اور ہانکتے ہیں۔ اور جو شیاطین حکم الٰہی کا مطلب سننے کو آسمان پر جاتے ہیں ان کو انگارے مارتے ہیں تالیات وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا حکم خود بھی پڑھتے ہیں اور فرشتوں کو بھی سناتے ہیں۔ ان تینوں قسم کے فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے اس بات پر قسم کھائی ہے کہ بیشک معبود تمہارا ایک اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو ان کے درمیان میں ہے اس کا بھی رب وہی ہے اور رب ہے مشرقوں کا، چاند سورج اور تاروں کے الگ الگ مشرق اور مغرب ہیں فقط مشرق کا ذکر کیا جس سے مغرب خود سمجھ میں آسکتا ہے۔ قتادہ کے قول کے موافق سورج اور چاند کے ایک سال میں تین سو ساٹھ مشرق اور مغرب ہں۔ 1 ؎(1 ؎ تفسیرالدر المنثورض۔ 271 ج 5) قرآن شریف میں جس طرح مثلاً آسمان و زمین کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے یہ جتلایا ہے کہ آسمان و زمین دونوں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں اسی طرح یہاں یہ جتلایا ہے کہ اگرچہ یہ مشرک لوگ شرارت سے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں۔ لیکن اصل میں فرشتے اللہ کی بہت بڑی مخلوق اور اس کی قدرت کی نشانی ہیں۔ جن کو طرح طرح کے کام اللہ تعالیٰ نے سپرد کر رکھے ہیں۔ صحیح مسلم 2 ؎ کے حوالہ (2 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب فی احادیث متفرقۃ ص 413 ج 2) سے حضرت عائشہ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ سب فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے جس میں حضرت (3 ؎ صحیح بخاری باب فضل ذکر اللہ تعالیٰ ص 948 ج) نے فرمایا فرشتوں کی ایک جماعت زمین پر ذکر الٰہی کی مجلسوں کی تلاش میں پھرتی رہتی ہے پھر تلاش کے بعد اس جماعت کے فرشتوں کو جہاں کہیں ذکر الٰہی کی کوئی مجلس نظر آتی ہے تو اس مجلس میں یہ فرشتے بھی شریک ہو کر ذکر الٰہی سنتے ہیں۔ معراج کے ذکر میں صحیح بخاری 4 ؎ کے حوالہ سے مالک بن صعصعہ کی حدیث گزر چکی ہے۔ جس میں حضرت ﷺ (4 ؎ صحیح بخاری باب ذکر الملئکۃ ص 455 ج 1) نے فرمایا کہ ہر روز بیت المعمور میں ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے جاتے ہیں جو پھر وہیں رہ جاتے ہیں۔ ترمذی 5 ؎ اور ابن ماجہ کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی معتبر روایت ایک (5 ؎ جامع ترمذی باب قوال النبی ﷺ لو تعلمون ما اعلم لضکتم قلیلا۔ ص 66 ج 2) جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آسمانوں پر چار اونگل کی جگہ ایسی نہیں ہے کہ جہاں اللہ کی عبادت کوئی فرشتہ نہ کر رہا ہو۔ اسی طرح کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں۔ جن میں مثلاً پہاڑوں پر جو فرشتے تعینات ہیں۔ ان کا اور جمعہ کی نماز کے ثواب لکھنے والے فرشتوں کا اور دوزخ پر جو فرشتے تعینات ہیں ان کا ذکر ہے۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت میں مثال کے طور پر فرشتوں کی خاص جماعت کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے ‘ ورنہ فرشتوں کی تعداد بےگنتی ہے اور آسمان و زمین میں طرح طرح کے کام ان کے سپرد ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی ایسی عظمت ہے کہ مثال کے طور پر ان میں سے بعضے فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو جتلایا ہے یہاں صافات ‘ تالیات ‘ زاجرات یہ تین صفتیں جو ذکر فرمائی ہیں ان میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں یا کسی اور چیز کی لیکن طبرانی تفسیر ابن ابی حاتم مستدرک حاکم میں عبد اللہ ؓ بن مسعود کا صحیح قول ہے کہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں۔ اس لئے اوپر جو تفسیر بیان کی گئی ہے وہی صحیح ہے اور اب اس صحیح تفسیر کے بعد کوئی اختلاف باقی نہیں رہا۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور الجزایخامس ص 271)
Ayahs 37:6–10

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر شیطان سرکش سے اس کی حفاظت کی

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

کہ اوپر کی مجلس کی طرف کان نہ لگا سکیں اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

(یعنی وہاں سے) نکال دینے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

ہاں جو کوئی (فرشتوں کی کسی بات کو) چوری سے جھپٹ لینا چاہے تو جلتا ہوا انگارہ ان کے پیچھے لگتا ہے

6۔ 10۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی ہے کہ اس نے آسمان میں تارے پیدا کرکے آسمان کی رونق بڑھائی پھر فرمایا چوری سے شیاطین آسمان پر کی کچھ باتیں سننے کو جو آجاتے ہیں۔ تو ان ہی تاروں میں سے آگ کے شعلے لے کر اللہ کے فرشتے ان شیاطینوں پر آگ کے انگارے برساتے ہیں تاکہ وہ شیاطین آسمان پر کی باتیں نہ سننے پاویں۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ ایک دن رسول ﷺ کے روبرو کاہن لوگوں کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ کاہن لوگ جھوٹے ہیں بعضے صحابہ نے عرض کیا کہ کاہنوں کی بعضی بعضی بات تو سچ نکلتی ہے آپ نے فرمایا کہ کبھی شیطان آسمان کی باتوں میں سے کوئی بات جو چرا لاتا ہے۔ وہ سچی نکل آتی ہے ورنہ اس ایک سچی بات کے ساتھ سینکڑوں جھوٹی باتیں ملا کر شیاطین کاہن لوگوں سے کہہ دیتے ہیں۔ اسلام سے پہلے کچھ لوگ ایسے تھے کہ مشرکوں کو کچھ آگے کی باتیں بتلا کر کمائی کرتے تھے ان لوگوں کو کاہن کہتے تھے۔ یہ کاہن لوگ شیاطین کے ناموں کے نذر نیاز کیا کرتے تھے اس نذر و نیاز کے لالچ سے شیاطین آسمان پر کی باتیں چوری سے سن آتے اور کاہنوں سے کہہ دیا کرتے تھے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں جو دخل ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ غیب کی باتیں چورانے والے شیاطینوں کے پیچھے آگ کے انگارے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اس پر بھی بچ بچا کر کوئی شیطان آسمان پر کی کبھی ایک آدھی بات سن آتا تھا۔ جس کو کاہنوں تک پہنچا دیتا۔ ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے صحیح روایت 3 ؎ ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں آسمان کی خبروں کے روکنے کا انتظام زیادہ ہوگیا تھا۔ تاکہ قرآن شریف کا کوئی مضمون اللہ کے رسول پر نازل ہونے سے پہلے چوری کے طور پر کاہنوں تک نہ پہنچ جائے صحیح 4 ؎ بخاری کے حوالہ سے قتادہ کا قول ایک جگہ گزر چکا ہے۔ کہ تارے اللہ تعالیٰ نے تین کاموں کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ایک تو آسمان کی رونق دوسرے ان تاروں میں سے شعلے لے کر آسمان کی باتیں سننے والے شیاطینوں پر اللہ کے فرشتے انگارے برساتے ہیں۔ تیسرے تاروں کے حساب سے مسافر لوگ راستہ کا حال معلوم کرتے ہیں۔ اس کے سوا تاروں میں جس کسی نے اور کوئی تاثیر خیال کی وہ غلطی پر ہے۔ قدیمی فلسفی اور نحوی لوگ تاروں میں ان تین باتوں کے سوا جن تاثیرات کے قائل ہیں۔ ان میں اعتقاد کا غلط ہونا قتادہ کے اس قول سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ (2 ؎ صحیح بخاری باب الکہانۃ ص 857 ج 2) (3 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ص 190 ج 2) (4 ؎ صحیح بخاری باب فی النجوم ص 154 ج 1)
Ayahs 37:11–23

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

تو ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا مشکل ہے یا جتنی خلقت ہم نے بنائی ہے ؟ ان کا انہیں ہم نے چپکتے ہوئے گارے سے بنایا ہے

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

ہاں تم تو تعجب کرتے ہو اور یہ تمسخر کرتے ہیں

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب ان کو نصیحت دی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹھٹھے کرتے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر اٹھائے جائیں گے ؟

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے باپ دادا بھی (جو) پہلے (ہو گزرے ہیں ؟ )

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہاں اور تم ذلیل ہو گے

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں گے ہائے شامت یہی جزا کا دن ہے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

کہا جائے گا ہاں فیصلے کا دن جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے یہی ہے

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے (سب کو) جمع کرلو

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

(یعنی جن کو) خدا کے سوا (پوجا کرتے تھے) پھر ان کو جہنم کے راستے پر چلا دو

11۔ 23 اوپر آسمان زمین اور ان دونوں میں کی تمام مخلوقات کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر سے ذرا پوچھو تو سہی کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنا مشکل تھا یا ان منکرین حشر کا دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے۔ ترمذی 1 ؎ ابو داؤود اور صحح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی یہ صحیح روایت ایک اور جگہ گزر چکی ہے۔ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے۔ اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج اس حدیث سے انا خلقنھم من طین لازب۔ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب بنی آدم کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن ان کے باپ آدم کے پتلے کی مٹی اس طرح لی گئی ہے جس میں سب بنی آدم کے پتلوں کی مٹی کی خاصیت رکھی گئی ہے پھر جس صاحب قدرت نے اس طرح کی عقل سے باہر خاصیت کا پتلا بنا کر اس میں روح پھونک دی اس کو ہر ایک مردہ کی مٹی سے پتلہ کا بنا دینا اور اس میں روح کا پھونک دینا کیا مشکل ہے۔ دنیا کے جنگل دریا ان لوگوں کے اختیار میں نہیں۔ اسی کو ہر ایک مردہ کی مٹی سے پتلہ کا بنا دینا اور اس میں روح کا پھونک دینا کیا مشکل ہے۔ دنیا کے جنگل دریا ان لوگوں کے اختیار میں نہیں۔ اسی سبب سے ان لوگوں کو مردہ کی رواں دواں مٹی کا جمع ہوجانا دشوار نظر آتا ہے اللہ کے اختیار و علم اور قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں سب کچھ اس کا پیدا کیا ہوا اور اس کے حکم کا تابع ہے اس لئے مردہ کی مٹی جہاں ہوگی۔ اس کے حکم سے فوراً جمع ہوجاوے گی۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید ؓ خدری کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں۔ کہ ایک شخص نے اپنی لاش کے جلا دینے اور آدھی مٹی کو دریا میں بہا دینے اور آدھی کو ہوا میں اڑا دینے کی وصیت کی تھی۔ اس شخص کے مرجانے کے بعد وصیت کے موافق عمل ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ سے اس شخص کی مٹی کے جمع ہونے کا حکم دیا۔ اور وہ مٹی جمع ہوئی۔ اور اس کا پتلہ بنایا گیا۔ اس حدیث سے مردہ کی رواں دواں مٹی کے جمع ہو جان کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ مٹی میں جب پانی ملایا جائے تو وہ چپکنے لگتی ہے۔ اسی واسطے آدمی (علیہ السلام) کے پتلہ کے گارے کو چپکتا ہوا گارا فرمایا۔ اب آگے فرمایا ان لوگوں کو حشر کا قائم ہونا تفصیل سے سمجھایا جاتا ہے۔ اور یہ لوگ نہیں مانتے ہیں۔ اس پر اے رسول اللہ کے تم کو ان لوگوں کے حال پر تعجب ہوتا ہے۔ لیکن تعجب کی کچھ بات نہیں ہے یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو بغیر سوچے سمجھے مسخرا پن کر کے اور معجزہ کو جادو بتلا کر ٹال دیتے ہیں۔ اس لئے ان کے دل پر قرآن کی نصیحت کا اور معجزہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ پھر فرمایا اپنی قدیمی عادت کے موافق یہ لوگ اپنے اور اپنے بڑوں کے دوبارہ زندہ ہوجانے کا انکار کریں تو ان سے فقط اتنا ہی کہہ دیا جائے کہ وہاں تم اور تمہارے بڑے حشر کے دن بڑی ذلت سے دوبارہ زندہ کئے جاؤگے۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ نافرمان لوگ جب قبروں سے اٹھیں گے تو فرشتے منہ کے بل گھسیٹ کر انہیں میدان محشر میں لے جاویں گے ان لوگوں کے ذلت سے دوبارہ زندہ ہونے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ پھر فرمایا کہ اب تو یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں مگر دوسرے صور کی آواز سنتے ہی دوبارہ زندہ ہو کر تعجب سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے گا۔ اور مل کر یہ کہنے لگیں گے کہ بڑی کمبختی یہ سزا و جزا کا دن تو آنکھوں کے سامنے آگیا۔ اللہ کے فرشتے اور اچھے لوگ ان نافرمانوں کو جواب دیویں گے کہ ہاں یہ وہی نیک و بد کے فیصلہ کا دن ہے۔ جس کو تم دنیا میں جھٹلاتے تھے۔ اس کے بعد حساب و کتاب ہو کر بت پرستوں سورج پر ستوں وغیرہ کی جماعتیں بنائی جا کر ان جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کے راستہ سے لگا دیا جاوے گا۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے صحیح قول کے موافق : احشر والدین ظلموا وازوجھم کی تیر۔ یہی ہے کہ ہر ایک قسم کے نافرمانوں کی الگ الگ جماعتیں بنائی جاویں گی۔ صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے۔ کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کرے گا۔ اور کون جنت میں داخل ہونے کے قابل۔ اس حدیث کی آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ علم الٰہی میں دوزخی ٹھہر چکے تھے وہ مرتے دم تک اییسی ہی باتیں کرتے رہے۔ جیسی باتوں کا ذکر آیتوں میں ہے اور جو لوگ علم الٰہی میں جنت کے قابل قرار پا چکے تھے۔ وہ آخر کو اس کثرت سے راہ رست پر آئے کہ مکہ کے ہر ایک گھر میں اسلام پھیل گیا۔ (1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة بقرہ ص 40 1 ج 2) (2 ؎ صحیح بخاری ص 495 ج 1۔ و ص 1118 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة فرقان ص 701 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری باب وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔ ص 977 ج 2۔ )
Ayahs 37:24–34

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ان کو ٹھہرائے رکھو کہ ان سے (کچھ) پوچھنا ہے

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ آج تو وہ فرماں بردار ہیں

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے سوال (وجواب) کریں گے

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس دائیں (اور بائیں) سے آتے تھے ؟

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ کہیں گے بلکہ تم ہی ایمان لانے والے نہ تھے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا بلکہ تم سرکش لوگ تھے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

ہم نے تم کو بھی گمراہ کیا (اور) ہم خود بھی گمراہ تھے

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

پس وہ اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں

24۔ 34۔ ترمذی 3 ؎ تاریخ بخاری مستدرک حاکم دارمی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو کوئی کسی کو برے کام کے راستہ پر لگاوے گا۔ اس کو اور برے راستہ لگنے والے ان دونوں کو قیامت کے دن خدا کے رو برو جواب دہی کرنی پڑے گی۔ یہ فرمانے کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ اگرچہ ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے۔ لیکن یہ روایت کئی طریق سے ہے۔ جس کے سبب سے ایک ایک سند کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح سند سے ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے دوسری حدیث ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ چار باتوں کی جواب دہی کے لئے ہر ایک شخص کو خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑا رہنا پڑے گا۔ ایک تو ہر شخص سے پوچھا جاوے گا۔ کہ اس نے اپنی عمر کس کس کام میں گزاری۔ دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا۔ تیری بات یہ کہ کس کس طریقہ سے دنیا میں مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ چوتھی بات یہ کہ خاص کر جوانی کی عمر کس کام میں صرف کی۔ ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ ابوبرزہ ؓ اسلمی کی روایت کے موافق چار باتوں کا بڑا حساب و کتاب تو جدا ہوگا۔ اور انس کی روایت کے موافق فقط ایک بات کا حساب جدا ہوگا۔ اب جن مفسروں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے۔ کہ حساب و کتاب کے اور دوزخ میں لے جانے کے حکم ہونے کے بعد بعضے لوگوں کو روکا جاوے گا اور وہ جواب دہی ہوگی جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ یہ تفسیر اس تفسیر کے موافق ہے جو خود صاحب وحی ﷺ نے انس کی روایت میں اس آیت کی تفسیر فرمائی ہے اور جن مفسروں نے ابوبرزہ ؓ کی روایت کو اس آیت کی تفسیر خیال کر کے اس آیت کی تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ ان لوگوں کو عقائد اور اعمال کے سوال و جواب اور حساب و کتاب کے لئے پل صراط پر گزرنے سے پہلے روکا اور ٹھہرایا جاوے گا۔ اول تو وہ تفسیر انس ؓ کی روایت کی مخالف ہے دوسری بات یہ ہے کہ قرآن شریف کا مطلب بھی اس پہلی تفسیر کے موافق ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو دوزخ میں لے جانے کا حکم دے کر پھر ان لوگوں کے کھڑا کئے جانے اور روکے جانے کا حکم دیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ بڑا حساب و کتاب ہوجانے اور دوزخ میں لے جانے کا حکم ہوجانے کے بعد ایک خاص جواب دہی کے لئے پل صراط پر گزرنے سے پہلے ان لوگوں کو روکا جاوے گا۔ علاوہ اس کے ترمذی کی ابوبرزہ ؓ کی روایت میں اس جواب دہی کا ذکر بھی تو نہیں ہے۔ جس جواب دہی کا ذکر آیت میں ہے۔ پھر جو باتیں اس حدیث میں ہیں۔ وہ بدوں کسی تعلق کے آیت کی تفسیر کیوں کر قرار پا سکتی ہیں۔ ہاں قرآن شریف کی جن آیتوں میں ان چار باتوں میں سے کسی بات کا ذکر ہے۔ ان آیتوں کی تفسیر اس حدیث کو قرار دیا جاوے تو آیت اور حدیث میں تعلق پیدا ہوسکتا ہے۔ بہت سی آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ دوزخ میں داخل ہونے کے بعد بہکنے والے لوگ اپنے بہکانے والوں کو برا کہویں گے اور وہ ان کو برا کہویں گے۔ جب برے لوگ پل صراط سے نہ گزر سکیں گے اور پل صراط پر سے کٹ کر دوزخ میں گر پڑیں گے وہ اس وقت کا ذکر ہے اس آیت میں جس برا بھلا کہنے کا ذکر ہے یہ ذکر پل صراط پر سے گزرنے سے پہلے کا ہے۔ جس وقت اچھے برے لوگ حساب و کتاب کے لئے خدا تعالیٰ کے رو برو ہوں گے۔ چناچہ آیت کے مطلب سے خود معلوم ہوتا ہے۔ کہ ان لوگوں کو دوزخ میں لے جانے کا حکم دے کر پھر فرشتوں سے اللہ تعالیٰ فرماوے گا۔ ان لوگوں کو کھڑا رکھو ان سے پوچھنا ہے۔ اور پھر دوزخ میں داخل ہوجانے کے بعد اس طرح کے مشرک لوگ خدا تعالیٰ کے رو برو نہ آسکیں گے۔ چناچہ سورة فد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ اس طرح مشرک لوگ دوزخ کے عذاب کی تکلیف سے تنگ آ کر ربنا غلیت علینا شقوتنا اور ربنا اخرجنا منھا۔ کہہ کہہ کر ایک مدت تک چلاویں گے۔ تو آخر اللہ تعالیٰ ان کو بغیر رو برو بلانے کے یہی جواب دے گا۔ اخسؤا فیھا ولا تکلمون۔ جس کا مطلب یہ ہے۔ کہ تم لوگ بات کرنے کے قابل نہیں ہو۔ اس لئے جس حالت میں ہو اسی حالت میں پڑے رہو۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کے راستہ سے لگا دینے کا حکم ہوگا۔ ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذرا ٹھہراؤ کچھ ان سے پوچھنا ہے۔ پھر ان سے یہ پوچھا جاوے گا۔ کہ جس عذاب کو دنیا میں تم لوگ جھٹلاتے تھے آج ایک دوسرے کی مدد کر کے تم اس عذاب کو کیوں نہیں ٹال دیتے۔ اب بہکنے والے اپنے بہکانے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہویں گے کہ تم ہی ہم کو بڑے زور شور سے ہر وقت بہکاتے رہتے تھے۔ یمین کے معنی عربی میں قوت کے ہیں تاتوننا عن الیمین کا مطلب یہ ہوا۔ کہ تم لوگ بڑے زور شور سے ہم کو نیک باتوں سے روکتے تھے۔ بہکانے والے جواب دیویں گے کہ تم پر ہمارا زیادہ زور نہیں چلتا تھا۔ تمہارے دل میں عقبی کی باتوں کا پورا بھروسہ نہیں تھا اس لئے تم ہمارے کہنے میں آ کر ہم جیسے ہوگئے۔ اب سوا اس کے کچھ علاج نہیں کہ ہم اور تم دونوں اس عذاب کو بھگتیں۔ آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو اسی طرح قائل و معقول کر کے سزا دیتا ہے۔ کیونکہ اس کی بارگاہ میں کسی پر ظلم نہیں ہے۔ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے۔ کہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ بارگاہ الٰہی میں ظلم نہیں ہے اس واسطے قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو پورا قائل کیا جا کر جرم کے موافق سزا دی جاوے گی۔ (3 ؎ ترمذی شریف تفسیر سورة صافات ص 177 ج 2۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی شان الحساب و القصاص ص 77 ج 2۔ ) (1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب تحریم الظلم (ص 319 ج 2)