Ayahs 37:149–157149۔ 157۔ اوپر پہلے کے انبیاء اور ان کی نافرمان امتوں کا ذکر فرما کر تنبیہ کے طور پر قریش کی ایک نافرمانی کا یوں ذکر فرمایا۔ کہ اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے پوچھو کہ تم لوگ اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں جو کہتے ہو۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے تو کیا اس وقت تم نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں۔ پھر فرمایا جب یہ بات نہیں ہے تو یہ ان لوگوں کا ایک جھوٹ ہے کہ یہ لوگ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرا کر اللہ کے لئے بیٹیاں اور اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں۔ ان کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ یہ لوگ کیا بکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو بات یہ لوگ منہ سے نکالتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ نہیں ہے تو اس کے سچ ہونے کی کوئی سند ان کے پاس ہو تو اس کو پیش کریں۔ مطلب یہ ہے کہ جس اللہ نے ان کو ان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ یہ لوگ نادانی سے اس کی عبادت میں اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کو شریک کرتے ہیں۔ اور پھر بھی اپنے آپ کو بڑا عقل مند کہتے ہیں حالانکہ ان کی عقل مندی کا یہ حال ہے کہ بلاسند اللہ کے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے ہیں۔ اور ان کی مورتیں بنا کر ان مورتوں کے عورتوں کے مناۃ اور لاۃ نام رکھتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ سورة سبا میں گزر چکا ہے کہ قیامت کے دن فرشتوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا۔ کہ یہ لوگ کیا تمہاری مورتوں کی پوجا کرتے تھے۔ فرشتے جواب دیں گے۔ کہ شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ جو کچھ کرتے تھے وہ شیطان کی پوجا تھی۔ ہم تو ان لوگوں کے شرک سے بیزار اور اللہ کو ایسے شرک سے پاک ذات جانتے ہیں۔ سورة سبا کی آیتوں کو ان آیتوں کے ساتھ ملایا جاوے۔ تو یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ مشرکین مکہ میں کے جن لوگوں نے فرشتوں کی مورتوں کی پوجا عرب میں پھیلائی تھی۔ قیامت کے دن فرشتے ان کی صورت سے بیزار ہوجاویں گے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزرچکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ کون شخص دنیا میں پیدا ہونے کے بعد دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص جنت میں جانے کے قابل۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین میں جو لوگ علم الٰہی کے موافق دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ٹھہر چکے تھے۔ انہوں نے مرتے دم ایسی ہی باتیں کیں۔ جیسی باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور پھر اسی حال میں مر کر دوزخ کا ایندھن قرار پائے۔ اسی طرح جو لوگ علم الٰہی میں جنت کے قابل قرار پا چکے تھے۔ وہ کچھ عرصہ تک اسی گمراہی کی باتوں میں لگے رہے۔ پھر اس طرح راہ راست پر آئے کہ فتح مکہ کے دن مکہ کے ہر گلی کوچہ بلکہ تمام جزیرہ عرب میں پورا اسلام یہاں تک پھیل گیا کہ مثلاً انصار میں قبیلہ اوس خزرج کے لوگ جو مناۃ بت کی تعظیم میں مشہور تھے۔ آخر کو بت پرستی کے دشمن اور اسلام کے ایسے مددگار بن گئے کہ انصار کی محبت ایمان کی نشانی ٹھہر گئی چناچہ صحیح بخاری 2 ؎ کی انس ؓ بن مالک کی روایت میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ یا تو تمام اہل عرب میں اسی مناۃ بت کی بڑی تعظیم تھی یا فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول کے حکم سے جب حضرت علی ؓ نے اس بت کو توڑا تو اہل عرب میں سے کسی نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ نہیں پکڑا۔
(1 ؎ تفسیر ہذا ص 4۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب علامۃ الایمان حب الانصار ص 7 ج 1)
Ayahs 37:158–163158۔ 163۔ شعب الایمان بیہقی تفسیر سدی تفسیر کلبی تفسیر مقاتل وغیرہ میں قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ ایک روز حضرت ابوبکر صدیق اور کچھ مشرک لوگوں سے اس باب میں بحث ہوئی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اگر فرشتے اللہ کی بیٹاں ہیں۔ تو ان بیٹیوں کی ماں کون ہے قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے جواب دیا کہ جنوں کے سرداروں کی بیٹیوں سے نعوذ باللہ من ذلک اللہ تعالیٰ نے شادی کی اور اس شادی کے سبب سے یہ لڑکیاں پیدا ہوئیں جن کو فرشتے کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اور فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے پوچھو کہ یہ لوگ اس طرح کی بیہودہ باتیں جو اللہ تعالیٰ کی شان میں منہ سے نکالتے ہیں ان کے پاس ان باتوں کے سچے ہونے کی کوئی سند ہو تو پیش کریں۔ پھر فرمایا کہ جنات خود جانتے ہیں کہ ان مشرکوں کی یہ بیہودہ باتیں جھوٹی ہیں اور اس جھوٹ کے سبب سے یہ مشرک لوگ عذاب الٰہی میں پکڑے جاویں گے۔ پھر عذاب کے ذکر میں سے نیک لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا اور آخر کو فرمایا۔ کہ یہ لوگ ایسی گمراہی کی باتوں سے ان ہی لوگوں کو بہکا سکتے ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں جنت میں جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں اور ان کو گمراہی کی باتوں سے کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث جو گزر چکی ہے وہی حدیث ان آیتوں کی بھی گویا تفسیر ہے۔ حاصل اس تفسیر کا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔
(1 ؎ تفسیر ہذا ص 4۔ )
Ayahs 37:164–166164۔ 166 تفسیر قرطبی اور تفسیر مقاتل 2 ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ معراج کی رات جب آنحضرت ﷺ مقام سدرۃ المنتہیٰ تک جبرئیل کے ساتھ پہنچے تو اس مقام پر پہنچ کر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آگے جانے سے رکے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے کہا کہ ایسے مقام پر مجھ کو تنہا چھوڑتے ہو حضرت جبرئیل نے ان تینوں آیتوں کے مضمون کے موافق جواب دیا۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے قائل کرنے کو ان تین آیتوں میں نازل فرمایا کہ یہ ظالم مشرک فرشتوں کو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور ان مورتوں کی پوجا کر کے مورتوں والے فرشتوں کو اپنا سفارشی قرار دیتے ہیں۔ ان کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ کی جناب میں تمام فرشتوں کا تو کیا ذکر ہے مقرب فرشتوں کا یہ حال ہے۔ کہ جو جگہ خدا تعالیٰ نے ان کے لئے حد ٹھہرا دی ہے اس سے حد سے ایک قدم آگے وہ جنبش نہیں کرسکتے اس تفسیر قرطبی کا نام جامع احکام القرآن ہے اور قرطبی کا نام محمد بن احمد ہے۔ یہ بڑی تفسیر ہے اور علما نے اس تفسیر کو مختصر بھی کیا ہے اس شان نزول کی تائید اور صحیح حدیثوں سے بھی ہوتی ہے جن حدیثوں کا حاصل یہ ہے۔ کہ آسمان پر ملائکہ کے لئے خاص خاص جگہ اور خاص خاص تعداد مقرر ہے۔ چناچہ معتبر سند سے ترمذی 2 ؎ اور ابن ماجہ میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آسمان پر کہیں چار انگل کی جگہ ایسی نہیں ہے۔ جہاں کوئی فرشتہ سجدہ میں نہ پڑا ہو صحیح مسلم 3 ؎ اور نسائی اور ابن ماجہ میں ابوذر ؓ اور جابر ؓ بن سمرہ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے کہا کہ جس طرح فرشتے اللہ تعالیٰ کے رو برو برابر صفیں باندھتے ہیں۔ تم بھی نماز میں اسی طرح برابر صفیں باندھا کرو اور صحیح روایتوں میں رکوع کی حالت کا بھی ذکر آیا ہے۔ سورة الانبیا میں گزر چکا ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف کوئی کام نہیں کرتے۔ توراۃ انبیاء کا یہ مضمون گویا ان آیتوں کی اور اوپر کی آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ مشرکوں کی نجات کو جب اللہ تعالیٰ نے سورة الاعراف میں اس طرح ناممکن فرما دیا ہے جس طرح سوئی کے ناکے میں اونٹ کا گھس جانا ناممکن ہے۔ تو پھر اللہ کے فرشتے حکم الٰہی کے برخلاف ان مشرکوں کی نہ سفارش کرسکتے ہیں نہ اپنی حد سے بڑھ کر ان مشرکوں کی اور کوئی مدد کرسکتے ہیں۔
(2 ؎ تفسیرہذا ص 1۔ )
(3 ؎ مسلم شریف مع نودی باب النھی عن رفع البصرالی السماء فی الصلوۃ ص 181 ج 1)
Ayahs 37:167–179167۔ 179۔ اور مشرکین مکہ کی گمراہی کی باتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں ان مشرکین کو یوں قائل کیا۔ کہ اہل کتاب کو دیکھ کر پہلے تو یہ لوگ حرص کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی آسمانی کتاب لے کر آوے اور قسمیں کھا کر یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ان میں کوئی نبی آیا تو یہ لوگ اللہ کے خالص بندے بن جائیں گے پھر فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حرص کو پورا کردیا تو یہ لوگ اللہ کے کلام کو جھٹلانے لگے۔ لیکن اس میں انہوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ اس کا انجام انہی کے حق میں جو کچھ ہوگا وہ ان کو معلوم ہوگا۔ اس وعدہ کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوا کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے اسلام کی مخالف بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عقبے کے عذاب میں گرفتار ہوگئے۔ جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا۔ کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا لیا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے بدر کی لڑائی کا یہ قصہ کئی جگہ اوپر گزر چکا ہے۔ پھر فرمایا ان لوگوں کی خرابی اور بربادی کا وقت جب تک آوے اس وقت تک بھی ان لوگوں کی مخالف سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی مدد کرے گا۔ جس سے دین الٰہی کا لشکر ہمیشہ غالب رہے گا۔ اور آگے فرمایا۔ اب تو یہ لوگ عذاب کی جلدی کرتے ہیں۔ لیکن جب عذاب ان کے سر پر آجاوے گا۔ تو ان کو اس جلدی کی حقیقت کھل جاوے گی اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس لئے اسے رسول اللہ کے کچھ گھبرانا نہیں چاہئے۔ تھوڑے دنوں تک وقت مقرر کا انتظام کرنا چاہئے۔ تفسیر سدی 2 ؎ میں وقت مقررہ کی تفسیر بدر کی لڑائی قرار دی ہے۔ اور حافظ ابو جعفر بن جریر نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اوپر کی صحیح بخاری و مسلم کی انس بن مالک کی روایت میں مشرکوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر عذاب الٰہی کے وعدہ کو جو یاد دلایا اس سے سدی کے قول اور حافظ ابو جعفر ابن جریر کی ترجیح دونوں کی تائید ہوتی ہے۔
(1 ؎ دیکھئے تفسیر ہذا ص 22)
(2 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور 294 ج 5)
Ayahs 37:180–182180۔ 182۔ طبرانی نے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت 3 ؎ سے بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نماز سے فراغت کا حاصل کرنا صحابہ کو اس سے معلوم ہوجاتا تھا کہ نماز کے بعد آپ اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور حضرت زید ؓ زرقی سے طبرانی میں روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرضوں کے بعد تین دفعہ اس آیت کو پڑھنا ثواب ہے۔ طبرانی میں عبد اللہ بن ارقم 4 ؎ کی بہی اس مضمون کی ایک حدیث ہے ان روایتوں میں ایک روایت کو دوسرے سے تقویت ہوجاتی ہے مفسرین نے لکھا ہے کہ اس سورة میں مشرکوں کو اس بےہودہ گوئی کا ذکر تھا جو مشرک لوگ اللہ کی شان میں کہتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو اس پاکی کی آیت پر ختم فرمایا ہے۔
(3 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 295 ج 5)
(4 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 295 ج 5)