Ayahs 37:75–8275۔ 82۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جس طرح قریش اللہ کے رسول کی نصیحت نہیں مانتے اور شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوتے ہیں۔ اسی طرح قریش سے پہلے بھی بہت قومیں بہک چکی ہیں۔ اور اللہ کے رسولوں کی نصیحت کے نہ ماننے وہ قومیں ہلاک ہوچکی ہیں۔ اب اس آیت سے آخر سورة تک اس ارشاد کی تائید میں حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت اسمعیل حضرت موسیٰ حضرت ہارون حضرت الیاس ‘ حضرت لوط حضرت یونس کے سات قصے ذکر فرمائے۔ ان میں سے یہ پہلا قصہ حضرت نوح سب سے پہلے صاحب شریعت نبی کا ہے مدت تک حضرت نوح نے اپنی قوم کو سمجھایا۔ جب ان لوگوں نے حضرت نوح کی نصیحت کو نہ مانا۔ اس وقت حضرت نوح نے اکتا کر رب انی مغلوب فانتصر اور رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا یہ دعائیں مانگی۔ جن دعاؤں کا مطلب یہ ہے۔ کہ یا اللہ اب میں قوم کے لوگوں کی سرکشی سے عاجز آگیا۔ اس لئے ان سے ایسا بدلہ لے کہ ان کا ایک گھر بھی زمین پر باقی نہ رہے۔ آخر اللہ کے رسول کی بد دعا کے اثر سے وہ قوم غرق ہو کر ہلاک ہوگئی۔ حضرت نوح کی اسی بد دعا کرنے کا اور اللہ تعالیٰ کا اس میں اثر دینے کا ذکر اس آیت میں ہے۔ قریش کو اور ساری امت کو گویا یہ نصیحت اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ کہ اللہ کے رسول کی بددعا انجام اچھا نہیں۔ اللہ کے رسول کی ناخوشی اور اللہ کے رسول کی بددعا سے امت کے ہر شخص کو بچنا چاہئے۔ معتبر سند سے مسند امام احمدمسند بزار مسند ابی یعلے اور مستدرک حاکم میں ابو سعید ؓ خدری سے روایت 1 ؎ ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یا تو اس کے مقصد کو پورا کردیتا ہے اور اگر علم الٰہی میں وہ مقصد پورا ہونے کے قابل نہ ہو تو اس شخص کے سر سے کوئی بلا ٹل جاتی ہے یا عقبے میں اس دعا کا اجر اس کو مل جاوے گا۔ یہ حدیث فلنعم المجیبون کی گویا تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ بارگاہ الٰہی میں کسی کی دعا رائیگاں نہیں جاتی۔ صحیح سند سے مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ طبرانی مستدرک حاکم میں سمرہ ؓ بن جنب سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ طوفان کے بعد سام حام اور یافث نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے جو طوفان سے بچے۔ ان کی نسل سے تمام دنیا چلی ‘ یہ حدیث وجعلنا ذریتہ ھم البقین کی گویا تفسیر ہے نوح (علیہ السلام) کے بعد جو آسمانی کتابیں نازل ہوئیں ان میں نوح (علیہ السلام) کا ذکرخیر سے وہی وترکنا علیہ فی الاخرین کی گویا تفسیر ہے۔ اب آگے اس ذکر خیر کی یہ تفسیر فرمائی کہ ہر ایماندار شخص ان کے نام کے ساتھ (علیہ السلام) کا لفظ بولتا ہے۔ صحیح بخاری 3 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ہے کہ جو شخص فرض عبادت کے بعد نفل عبادت میں لگا رہتا ہے اس کو بارگاہ الٰہی میں ایک قربت حاصل ہوجاتی ہے۔ صحیح بخاری 4 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری حدیث میں ہے کہ جس شخص کو بارگاہ الٰہی میں قربت حاصل ہوجاتی ہے۔ تو اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) اس خبر کو آسمان و زمین میں پکار کر کہہ دیتے ہیں جس سے آسمان و زمین میں اس شخص کا ذکر خیر جاری ہوجاتا ہے۔ ان حدیثوں سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ نیک لوگوں کا ذکر خیر کیونکر اور کن باتوں سے ہر جگہ پھیل جاتا ہے۔ پھر فرمایا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ کے ایمان دار لوگوں کو طوفان کی آفت سے بچا کر ان کے مخالفوں کو طوفان کے عذاب سے ہلاک کردیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ حضرت نوح کی طرح کامل الایمان اور خالص دل سے عبادت کرنے والے بندہ کو اس کی نیکیوں کا بدلہ دیتا ہے۔ صحیح بخاری 5 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ کہ پہلے تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو ایسے سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے۔ جس سے وہ بچ نہیں سکتے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ قوم نوح کے نافرمان لوگوں کو ساڑھے نو سو برس تک مہلت دی گئی۔ اور اس مہلت کے زمانہ میں اللہ کے رسول نوح (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے ہر طرح ان لوگوں سمجھاتے رہے۔ لیکن یہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے۔ اور اللہ کے رسول کو یہاں تک تنگ کیا کہ آخر اللہ کے رسول نے ان لوگوں کے حق میں بددعا کی جس کا نتیجہ یہ ہوا۔ کہ طوفان کے عذاب سے یہ سب نافرمان ہلاک ہوگئے۔ ان آیتوں میں محسنین کا لفظ جو آیا ہے۔ اس کی تفسیر صحیح مسلم 1 ؎ کی حضرت عمر ؓ کی حدیث کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکی ہے۔ کہ احسان اس طرح کے خالص دل کی عبادت کو کہنے ہیں۔ کہ عبادت کے وقت آدمی یہ سمجھے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ مرتبہ آدمی کو مسیر نہ آوے تو اتنا ضرور سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہا ہے۔
(1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف کتاب الدعوات الفصل الثالث ص 196۔ )
(2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة صافات ص 177 ج 2)
(3 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف کتاب الدعوات فی الذکرو التقرب الیہ۔ ص 197۔ )
(4 ؎ بخاری شریف باب کلام الرب مع جبرئیل الخ۔ ص 1115 ج 2۔ )
(5 ؎ بخاری شریف با قولہ و کذلک اخذربک اذا اجذ القریٰ ص 678 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی کتاب الایمان ص 27 ج 1۔ )
Ayahs 37:83–9583۔ 95۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے من شیعۃ کی تفسیر میں من اھل دینہ 2 ؎ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین والوں میں سے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو حنیف اور ملت ابراہیمی کو حنیفی کہتے ہیں۔ حنیف کے معنی ایک طرف کا ہوجانا حضرت ابراہیم نے شرک سے بیزار ہو کر اپنے وطن کو، باپ کو اور قوم کو چھوڑا اور اللہ کی وحدانیت کو ہاتھ سے نہ دیا۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا یہ لقب ہو۔ حضرت ابراہیم اور نبی آخر الزمان ﷺ کا قصہ ملتا جلتا ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم کی طرح نبی آخر الزمان ﷺ کو بھی توحید کی حفاظت میں وطن کو قوم کو سب کو چھوڑنا پڑا۔ اور پھر جس طرح ہجرت کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا بول بالا ہوا۔ وہی حال ہجرت کے بعد نبی آخر الزمان ﷺ کا ہے۔ قلب سلیم کا بھی وہی مطلب ہے جو حنیف کا ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کا دل شرک کے دھبہ سے بالکل پاک صاف تھا صحیح بخاری 3 ؎ میں نعمان ؓ بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ آدمی کے بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جس کو دل کہتے ہیں۔ اگر وہ درست ہے تو آدمی کے سب کام درست ہیں۔ نہیں تو کچھ بھی نہیں مطلب یہ ہے۔ کہ شریعت میں نیک عمل کا ثواب نیت پر موقوف ہے اور نیت دلی ارادہ کا نام ہے۔ اس واسطے جس شخص کا دلی ارادہ درست نہیں۔ اس کا کوئی نیک عمل بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں جس طرح مثلاً آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے منافق دکھاوے کے لئے سب نیک عمل کرتے تھے۔ لیکن ان کے دل میں کھوٹ تھی۔ اس لئے قرآن شریف میں جگہ جگہ ان کی مذمت آئی ہے۔ غرض شریعت میں قلب سلیم کی جس قدر ضرورت ہے۔ اس کا حال اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا قصہ مختصر طور پر بیان فرمایا ہے۔ سورة الانبیاء میں اس قصہ کی زیادہ تفصیل گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر اور قوم کے لوگوں کے رو برو بت پرستی کی مذمت بیان کی جب ان لوگوں پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دبی ہوئی آواز سے یہ قسم کھائی کہ کبھی موقعہ پا کر میں ان بتوں کا پورا علاج کروں گا۔ اب سال بھر میں ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا۔ جس میں بستی کے سب لوگ جاتے تھے اور میلہ میں جاتے وقت کچھ کھانا پکا کر بت خانہ میں رکھ جاتے تھے۔ اور میلہ میں سے پلٹ کر جب آیا کرتے تو وہ کھانا کھالیتے۔ اس قصہ کے سال جب یہ لوگ جانے لگتے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر کرکے بستی میں رہ گئے اور ان لوگوں کے بستی کے باہر چلے جانے کے بعد بت خانہ کو اکیلا پا کر بت خانہ میں گئے۔ اور بتوں کے سامنے کہاں دھرا ہوا دیکھ کر پہلے تو دل لگی کے طور پر بتوں سے یہ کہا کہ تم یہ کھانا کیوں نہیں کھاتے۔ جب بتوں نے اس کا جواب کچھ نہیں دیا۔ تو پھر ان بتوں سے یہ کہا کہ تم بولتے کیوں نہیں۔ اس کے بعد سب میں بڑے بت کو تو ثابت چھوڑ دیا۔ اور باقی سب چھوٹے بتوں کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ جب یہ لوگ میلہ سے پلٹ کر آئے۔ اور بت خانہ میں عادت کے موافق کھانا لینے گئے تو بتوں کو ٹوٹا ہوا پا کر آپس میں چرچا کرنے لگے۔ کہ یہ کام کس نے کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے جب دبی ہوئی آواز سے وہ قسم کھائی تھی جس کا ذکر اوپر گزرا تو ان میں کے بعضے لوگوں نے حضرت ابراہیم کی وہ آواز سن لی تھی۔ اس واسطے ان لوگوں نے اس کام کا شبہ حضرت ابراہیم کی نسبت ظاہر کیا۔ اس پر ان لوگوں نے اس کی فریاد نمرود سے کی اور حضرت ابراہیم جب نمرود کے سامنے بلائے گئے تو انہوں نے یہ کہا کہ تم لوگ بڑے بت کے ساتھ ملا کر ان چھوٹے بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اس لئے بڑے بت نے اس بات کو ناپسند کیا۔ اور چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالا۔ اگر یہ بت کچھ بات کرسکتے ہیں تو ان سے پوچھ لیا جاوے۔ کہ ان کو کس نے توڑ ڈالا حضرت ابراہیم کی اس بات سے جب وہ لوگ قائل ہوئے۔ تو حضرت ابراہیم نے ان کو یوں بھی قائل کیا۔ کہ تم لوگ اپنے ہاتھ کے تراشے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہو۔ یہ کون سی عقل کی بات ہے اب آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قلب سلیم کا بیان ہے۔ کہ انہوں نے شرک کی دلی بیزاری کے سبب سے اپنے باپ اور قوم کے لوگوں سے بت پرستی پر جھگڑا کیا اور کہا کہ اللہ نے تم کو تمہاری ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا پھر تم نے اس کو چھوڑ کر یہ جھوٹے معبود تراش رکھے ہیں۔ اس شرک کی حالت میں اگر تم مرگئے۔ تو اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ اسی جھگڑے کے بعد ان لوگوں کا میلہ میں جانے کا وقت آگیا۔ اور ان لوگوں نے حضرت ابراہیم کو بھی میلے میں چلنے کو کہا۔ لیکن ان نجومی لوگوں کی زبان بند کرنے کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے تاروں کی طرف نگاہ کر کے بیمار ہوجانے کا عذر کیا۔ اور میلہ میں نہیں گئے۔ اب آگے وہی قصہ ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ کہ ان لوگوں کے میلے میں چلے جانے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) بت خانہ میں گئے اور ان لوگوں کے بتوں کو توڑ ڈالا اور بتوں کے توڑنے کا حال پوچھنے کے وقت ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ تم اپنے ہاتھ کے تراشے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہو۔ جو عقل سے بالکل بعید ہے۔ نجومی وہ فرقہ ہے جو تاروں میں برائی اور بھلائی پہنچانے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ قدیمی فلسفی لوگوں کا بھی یہی اعتقاد تھا۔ صحیح بخاری میں زید بن ؓ خالد جہنی سے اور صحیح مسلم 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ تاروں میں کسی مستقل تاثیر کا اعتقاد رکھنا شرک ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی عمر میں دینی ضرورت سے یہ تین باتیں ایسی کی ہیں۔ جو ظاہر میں جھوٹ کی صورت کی ہیں ایک تو تاروں کو دیکھ کر انہوں نے بیماری کا عذر کیا۔ دوسرے انہوں نے یہ کہا کہ بڑے بت نے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالا۔ تیسرے انہوں نے ایک ظالم بادشاہ کے خوف سے اپنی بیوی سارہ کو اپنی بہن ظاہر کیا۔ یہ حدیث انی سقیم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ بات مناہی کے جھوٹ میں داخل نہیں ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے وطن سے ہجرت کرکے ملک شام کو جا رہے تھے تو راستے میں ایک ظالم بادشاہ کی بستی ملی جو خوبصورت عورتوں کو بدکاری کی غرض سے پکڑوا لیا تھا۔ اور خوبصورت عورت کا شوہر ہو تو اسے قتل کرا دیتا تھا۔ خوبصورتی کے سبب سے جب اس ظالم بادشاہ کے آدمیوں نے حضرت سارہ کو پکڑا تو قتل کے صدمہ سے بچنے کے لئے ابراہیم نے اپنی بی بی کو اپنی دینی بہن ظاہر کیا۔ پورا قصہ یہ ہے کہ جب حضرت سارہ اس ظالم بادشاہ کے گھر پہنچیں اور اس نے بد ارادہ کیا تو وہ بےہوش ہو کر گر پڑا۔ اور اس نے حضرت سارہ سے تندرست ہوجانے کی دعا مانگنے کو کہا۔ جب ان کی دعا سے وہ ظالم اچھا ہوگیا تو اس نے حضرت سارہ کو چھوڑ دیا۔ اور حضرت ہاجرہ کو ان کی خدمت کے لئے دیا۔ ابوہریرہ ؓ کی جس روایت کا ذکر اوپر گزرا اس میں یہ قصہ تفصیل سے ہے۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 12 ج 4‘ صحیح مسلم مع شرح نودی باب اخذالحلال و ترک الشبھات ص 28 ج 2۔ )
(3 ؎ بخاری شریف کتاب الایمان فصل من استبراء لدنیہ ص 13 ج 1۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب بیان کفر من قال مطرنا بنو کذا۔ ص 59 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح بخاری باب قول اللہ عز و جل و اتخذا للہ ابراھیم خلیلا الخ۔ ص 473 ج 1۔ )
Ayahs 37:96–10196۔ 101 فرقہ قدریہ معتزلہ اور اہل سنت میں جس طرح اور چند مسئلوں میں بحث ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی بڑی بحث کا ہے۔ فرقہ قدریہ کا یہ مذہب ہے کہ بندہ جو کچھ کام کرتا ہے۔ وہ خود بندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ کام بندہ میں پیدا نہیں کئے۔ اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ بندہ کی ذات اور سب اچھے برے بندہ کے کام اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ لیکن برے کام جب بندہ کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ناخوش ہوتا ہے۔ اور اچھے کام کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی بحث ایک ایسی بڑی بحث ہے۔ کہ امام بخاری اور علم نے اس باب میں بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ یہ آیت بھی علمائے اہل سنت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے کیونکہ اس آیت سے بندہ کا اور بندے کے ہر ایک کام کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے پیدا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ صحیح سند سے رسالہ افعال عباد میں امام بخاری نے حذیفہ ؓ کی حدیث نقل کی ہے 1 ؎ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کام والے اور اس کے ہر ایک کام کو پیدا کیا ہے۔ یہ حدیث آیت کے ٹکڑے واللہ خلقکم و ماتعملون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ ان بت پرستوں کی ذات اور اس ذات میں بت تراشی کی کاری گری یہ سب کچھ اللہ کا پیدا کیا ہے۔ اور اس کی مخلوق ہے۔ پھر ان بت پرستوں کو اتنی سمجھ نہیں۔ کہ مثلاً جس پتھر کے انہوں نے بت تراشے ہیں۔ بت تراشی سے پہلے تو وہ پتھر اللہ کی مخلوق میں داخل تھا۔ اب اس پتھر کی مورت بن گئی۔ تو اس میں یہ فوقیت کہاں سے آگئی۔ کہ اس کو مخلوقات کے دائرہ سے نکال کر خالق کا شریک ٹھہرایا جاوے۔ رہی یہ بات کہ جن اصلی صورتوں کی یہ مورتیں ہیں۔ ان کو خالق کا شریک ٹھہرا کر ان کی مورتوں کی تعظیم کی جاتی ہے تو یہ بات بھی غلط ہے۔ کیونکہ یہ سارے بت پرست جمع ہوجاویں۔ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی دوسرے کی پیدا کی ہوئی ادنیٰ سی چیز بھی نہیں دکھا سکتے۔ اس واسطے پہلے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یوں قائل کیا کہ تم لوگ اپنے ہاتھ سے تراشے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہو۔ جو عقل کے خلاف ہے۔ پھر یوں قائل کیا کہ مخلوق کو مخلوق کی عبادت زیبا نہیں ہے۔ اس کے بعد اب وہی قصہ ہے جو سورة انبیاء میں گزرا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کی باتوں سے نمردو اور اس کے دربار کے لوگ لاجواب ہوگئے۔ تو ان لوگوں نے یہ صلاح نکالی کہ تنور کی طرح کا ایک مکان بنا کر اس میں خوب آگ جلائی جاوے۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس اس میں ڈالا جاوے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو ٹھنڈا کردیا جس سے اللہ کے رسول ابراہیم (علیہ السلام) کے مخالفوں کو بڑی شرمندگی ہوئی۔ اب ابراہیم (علیہ السلام) نے الہام الٰہی کے موافق ملک شام کی طرف ہجرت کی۔ اور ملک شام میں پہنچ کر نیک بیٹے کے عطا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اور اس دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ حضرت اسماعیل کو تحمل والا اس لئے فرمایا کہ وہ اپنے صبر و تحمل سے اللہ کے نام پر ذبح ہوجانے کے لئے خوشی سے تیار ہوگئے۔ جس کا قصہ آگے آتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ حصر کے دن سب لوگ قبروں سے ننگے اٹھ کر محشر کے میدان کو جاویں گے۔ صحیح بخاری و مسلم 2 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ حشر کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑے پہنائے جاویں گے۔ ان حدیثوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ نمرود نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کرکے آگ میں ڈالا تھا۔ اس کا بدلہ یہ ہوگا۔ کہ حشر کے دن ساری مخلوقات سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑے پہنائے جاویں گے۔
(1 ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ص 13 ج 4۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم مع نودی باب فناء الدنیا وبیان الحشر یوم القیمۃ ص 384 ج 2 و صحیح بخاری باب قولہ کما بدانا اول خلق نعیدہ ص 693 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم مع نودی باب فناء الدنیا وبیان الحشر یوم القیمۃ ص 384 ج 2 و صحیح بخاری باب قولہ کما بدانا اول خلق نعیدہ ص 693 ج 2۔ )
Ayahs 37:102–113102۔ 113۔ قرآن شریف کے مضمون کے موافق صحیح تفسیر اس آیت کی یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کے یہ بیٹے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ بعضے تفسیروں میں کچھ روایتوں کے حوالہ سے یہ جو لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کے نام پر ذبح ہونے کا قصہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہے ان روایتوں میں سے کوئی روایت درجہ صحت کو نہیں پہنچتی۔ کس لئے کہ ان روایتوں میں بعض روایتیں ضعیف ہیں اور کچھ ایسی ہیں کہ یہود کی غلط بیانی کے سبب سے اس مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو کر وہی روایتیں بنی اسرائیل کی روایتیں مسلمانوں میں بھی پھیل گئی ہیں۔ کہ یہ قصہ حضرت اسحاق کی شان میں ہے۔ ورنہ قرآن شریف کا مطلب تو یہی ہے۔ کہ یہ قصہ حضرت اسماعیل کی شان میں ہے۔ کس واسطے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے ایک بیٹے کا ذکر فرما کر پھر آگے کی آیت میں حضرت اسحاق کا ذکر جدا فرمایا ہے۔ علاوہ اس کے توراۃ کے حصہ سفر التکوین کے باب 22 میں ہے۔ کہ حضرت ابراہیم کو اکلوتے بیٹے کی قربانی کا حکم تھا۔ اس صورت میں اکلوتے بیٹے حضرت ابراہیم کے حضرت اسحاق کی پیدائش سے پہلے حضرت اسماعیل ہوسکتے ہیں۔ حضرت اسقحق کو کسی طرح اکلوتا بیٹا ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ حاصل کلام یہ ہے۔ کہ توراۃ کی عبارتوں میں اگرچہ یہود نے بہت رد و بدل کیا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ توراۃ میں اسی طرح ہے۔ جس طرح قرآن میں ہے۔ غرض حافظ ابو جعفر ابن جریر نے جس قدر دلیلوں سے اس آیت کے قصہ کو حضرت اسحاق کی شان میں ہونا ثابت کیا تھا۔ ان سب دلیلوں پر اعتراض کر کے حافظ ابن کثیر نے ان سب دلیلوں کو ضعیف کردیا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے۔ کہ مسند امام احمد اور طبرانی میں اس قصہ کی روایت جو حضرت عبد اللہ بن عباس سے ہے۔ اس میں اسماعیل (علیہ السلام) کا نام 1 ؎ ہے۔ اور اس کی سند اھی ہے حضرت اسحاق کا نام مسندامام احمد اور طبرانی کی جن روایتوں میں ہے۔ ان کی سند میں عطاء بن السائب ہے جس کے حافظہ میں آخر کو فتور پڑگیا تھا۔ اس واسطے ان آیتوں کی صحیح تفسیر یہی ہے۔ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اثر سے اسماعیل (علیہ السلام) بڑے ہو کر جب اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا۔ جس کا تذکرہ ان آیتوں میں ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات ڈال دی تھی۔ کہ انبیا کا خواب اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس کے موافق عمل کیجئے ! اللہ نے چاہا تو آپ اس معاملہ میں مجھ کو پابند صبر پاویں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اوندہا اس لئے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت اسماعیل (علیہ السلام) کا چہرہ دیکھ کر جوش محبت کے سبب سے اللہ کے حکم کی تعمیل میں کچھ خلل نہ پڑے۔ جب اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی قربانی پر بالکل تیار پایا۔ تو اسماعیل (علیہ السلام) کے بدلہ میں ایک دنبہ قربانی کے لئے بھیج دیا۔ اور غیب سے ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ آواز آئی کہ اے ابراہیم تم نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔ پھر فرمایا۔ کہ اگرچہ ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں یہ بڑی جانچ تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نیک لوگوں سے ویسا ہی برتاؤ برتتا ہے۔ جو برتاؤ اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ برتا۔ کہ ان کے اکلوتے بیٹے کو بھی قربانی سے بچا دیا۔ اور ایک اور بیٹے کی خوش خبری ان کو سنا دی۔ اور جانچ میں پورا اترنے سے ان کا ذکر خیر دنیا میں پھیلا دیا کہ ہر ایماندار آدمی ان پر سلام بھیجتا ہے۔ پھر فرمایا علم الٰہی کے موافق ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں قیامت تک اچھی بری طرح کے لوگ ہوں گے۔ بنی اسرائیل میں جو خرابیاں پیش آئیں۔ اور قیامت تک پیش آویں گی۔ یہ ان کی غیب گوئی کا قرآن شریف میں ایک معجزہ ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ اسماعیل اور ان کی ماں ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑ کر ملک شام کو جانے لگے۔ تو ہاجرہ نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ کام آپ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا۔ کہ ہاں یہ سن کر ہاجرہ نے کہا تو اچھا اب ہماری نگہبانی اللہ کے ہاتھ ہے۔ مطلب یہ ہے۔ کہ جب حضرت ہاجرہ کے پیٹ سے اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوگئے۔ تو اسماعیل (علیہ السلام) کو دیکھ کر سارہ اپنی بےاولادی پر بڑا رنج کیا کرتی تھیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی ماں ہاجرہ کو سارہ کی نگاہ سے دور کردیا۔ سلف میں سے جو علما قربانی کا قصہ اسماعیل (علیہ السلام) کی شان میں بتلاتے ہیں۔ اس حدیث سے ان کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے جب اللہ نے سارہ کے حال پر یہ نظر رحمت فرمائی کہ ان کا رنج دور ہوجانے کی نظر سے اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی ماں ہاجرہ کو جنگل میں چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ اب اسحاق (علیہ السلام) کی قربانی کا حکم دے کر سارہ کو بےاولاد کردینا۔ اور اسماعیل (علیہ السلام) کو زندہ رکھ کر سارہ کے رنج کو پہلے سے اور بڑھا دینا۔ اللہ تعالیٰ کی اس نظر رحمت سی بہت بعید ہے۔ جس کا ذکر عبد ؓ اللہ بن عباس کی حدیث میں ہے۔ علاوہ اس کے سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ کہ سارہ کو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی خوش خبری ساتھ کے ساتھ دی گئی تھی۔ پھر قربانی کا حکم اسحاق (علیہ السلام) کی شان میں ہوتا تو سارہ کو یہ شبہ ضرور پڑتا۔ کہ سورة ہود کی ظاہر خوش خری کے برخلاف ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قربانی کا خواب سچا نہیں ہے حالانکہ سارہ کے اس شبہ کا ذکر کہیں قرآن شریف میں نہیں ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت جو اوپر گزری ہے۔ اس میں یہ بھی ہے۔ کہ ابراہیم (علیہ السلام) ۔ اسماعیل (علیہ السلام) کو ان کی ماں ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں جب چھوڑ کر گئے۔ تو اس وقت اسماعیل دودھ پیتے تھے۔ اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) مکہ کو اتنے عرصہ میں آئے کہ ہاجرہ کا انتقال اور اسماعیل (علیہ السلام) کا نکاح ہوچکا تھا۔ حدیث کے ان لفظوں سے بعضے علما کو یہ شبہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ جب اسماعیل (علیہ السلام) کی پوری جوانی سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کا مکہ کو آنا ثابت نہیں ہوتا۔ تو آٹھ سات برس کی عمر کا قربانی کا قصہ بھی اسماعیل (علیہ السلام) کی شان میں نہیں ہے۔ اس شبہ کا جواب حافظ بن حجرہ نے فتح الباری میں یہ دیا ہے۔ کہ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی یہ حدیث مختصر ہے۔ حضرت علی ؓ اور بعضے اور اصحاب کی صحیح روایتوں میں اس بات کا صاف تذکرہ ہے۔ کہ اسماعیل (علیہ السلام) کی پوری جوانی سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) بارہا ملک شام سے مکہ کو آیا کرتے تھے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 15 ج 5۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب یزفون النسلان فی المشی ص 474 ج 1)