Ayahs 37:114–122114۔ 122۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان احسانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جو اس نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہم السلام) پر کئے اول یہ کہ ان دونوں کو نبوت عطا کی دوسرے یہ کہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم کرتے تھے۔ کہ ان کے لڑکوں کو مار ڈالتے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کو نجات دی۔ اور مدد کی کہ یہ ان پر غالب ہوگئے۔ اور ان کی زمین اور مال سب کچھ ان کے ہاتھ لگا۔ اور ان کی آنکھوں کے رو برو ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر توراۃ شریف کو اتارا۔ اور بتائی ان کو راہ سیدھی اور پچھلی خلقت میں ان کا یہ ذکر خیر رکھا کہ سب ایماندار ان پر سلام بھیجتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ نیکی کرنے والوں کو۔ پھر فرمایا۔ موسیٰ و ہارون (علیہم السلام) ہمارے ایمان والے بندوں میں سے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کی چوتھی پشت کے دادا ہیں۔ ایک جگہ گزر چکا ہے۔ کہ اسرائیل یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ اس لئے یعقوب (علیہ السلام) کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کی مصر کی سکونت کے سبب سے بنی اسرائیل کا قیام مصر میں ہوا۔ فرعون کے زمانہ میں بنی اسرائیل سے محنت مزدوری کے ذلیل کام لئے جاتے تھے۔ پھر بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کی ذلت اس سبب سے شروع ہوئی کہ فرعون نے بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ آتی ہوئی خواب میں دیکھی۔ اور یہ بھی دیکھا کہ اس آگ سے فرعونی قبطی قوم کے سب گھر جلادیئے۔ اور بنی اسرائیل کا محلہ اس آگ سے بالکل بچ گیا۔ اس وقت کے نجومیوں نے خواب کی تعبیر یہ بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے سبب سے فرعونی سلطنت کو زوال ہوجاوے گا۔ اسی واسطے فرعون نے اپنے نزدیک موسیٰ (علیہ السلام) کو دنیا میں نہ رکھنے کے لئے بنی اسرائیل کے سب لڑکوں کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ مگر تقدیر الٰہی کو کون روک سکتا ہے۔ اگرچہ حضرت موسیٰ کے شبہ میں بنی اسرائیل کے ہزاروں لڑکے قتل ہوئے۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) آخر پیدا ہو کر فرعون ہی کے گھر میں پلے۔ اور ان ہی کے سبب سے فرعون کو صدمہ پہنچا۔ حاصل کلام یہ ہے۔ کہ فرعون کے اسی سخت حکم کو بڑی گھبراہٹ فرمایا۔ کیونکہ آنکھوں کے سامنے اولاد کا قتل ہونا بڑی گھبراہٹ ہے۔ فرعون اور اس کے لشکر کے غرق ہونے کا قصہ جو کئی جگہ گزر چکا ہے۔ وہ قصہ آیت ونصرنہم فکانواھم الغلبین کی گویا تفسیر ہے۔ سیدھی راہ سے مقصد شرک سے بچنا اور وحدانیت الٰہی پر قائم رہنا ہے۔ جو سب شریعتوں کا جزاعظم ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں مالک ؓ بن صعصعہ کی بڑی حدیث ہے جس میں یہ کہ معراج کی رات ہارون (علیہ السلام) کی پانچویں آسمان پر اور موسیٰ (علیہ السلام) کی چھٹے آسمان پر نبی آخر الزماں ﷺ کی ملاقات ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے مرتبہ میں اللہ تعالیٰ نے جو فرق رکھا ہے۔ اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب حدیث الاسراء الخ ص 548 ج 1۔ )
Ayahs 37:123–124123۔ 124۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں امام بخاری نے بغیر سند کے معلق طور پر حضرت عبد ؓ اللہ بن مسعود اور عبد ؓ اللہ بن عباس کا یہ قول بیان کیا ہے کہ حضرت الیاس اور حضرت ادریس ایک ہی پیغمبر کا نام ہے حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے اس قول کو تو معہ سند کے ابن جریر نے اپنی تفسیر میں ضحاک سے روایت کیا ہے جس کی سند ضعیف ہے اور حضرت عبد ؓ بن مسعود کے اس قول کو عبدبن حمید نے اپنی مسند میں اور ابن 3 ؎ ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں روایت کیا ہے۔ اس کی سند اگرچہ درجہ کی ہے لیکن یہ روایت اس صحیح روایت کی مخالف ہے۔ جس کو ابن حبان 1 ؎ نے صحیح قرار دیا ہے جو حضرت ابو ؓ ذر کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ حضرت ادریس نے پہلے پہل قلم سے لکھنا دنیا میں ایجاد کیا ہے۔ اور وہ نبی رسول ہیں۔ اس صحیح روایت سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ کہ ادریس (علیہ السلام) اور الیاس (علیہ السلام) ایک پیغمبر کا نام نہیں ہے۔ کس لئے کہ حضرت الیاس بنی اسرائیل میں سے ہیں اور قلم سے بنی اسرائیل سے پہلے ہی دنیا میں جاری تھا۔ چناچہ حضرت یعقوب نے حضرت یوسف کو عزیز مصر خیال کر کے جو خط لکھا ہے۔ اس خط کو اکثر مفسروں نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ اس واسطے یہی قول صحیح ہے کہ حضرت الیاس بنی اسرائیل میں کے جدا نبی ہیں۔ اور حضرت ادریس حضرت شیث کے بیٹے اور حضرت آدم کے پوتے ہیں۔ اور یہ حضرت نوح سے پہلے کے انبیا میں جدا نبی ہیں۔ بعضے مفسروں نے الیاسین کی تفسیر آل محمد ﷺ کی جو کی ہے۔ اس قول کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ضعیف قرار دیا ہے۔ صحیح قول یہی ہے کہ جس طرح حضرت ادریس کا نام میں اور یسین بھی آیا ہے۔ اسی طرح الیاس اور الیاسین دونوں حضرت الیاس کے نام ہیں۔ بیہقی اور مستدرک حاکم میں انس ؓ بن مالک سے روایت 2 ؎ ہے کہ الیاس اور آخر الزمان ﷺ کی ملاقات ہوئی ہے۔ اور دونوں نے مل کر ایک دفعہ کھانا بھی کھایا ہے۔ اگرچہ حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ لیکن ذہبی نے اس کو جھوٹی حدیث قرار دیا ہے۔ جس کو محدثین موضوع کہتے ہیں جو علما اس بات کے قائل ہیں کہ الیاس بنی اسرائیل میں کے نبی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں کا بعلبک بستی کا بادشاہ اور اس کی رعایا بت پرست ہوگئے تھے۔ اور ان ہی کی ہدایت کے لئے الیاس (علیہ السلام) نبی ہوئے اور ان لوگوں کی بت پرستی کے سبب سے ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا ہے۔
(2 ؎ صحیح بخاری باب دان الیاس لمن المرسلین ص 470 ج 1۔ )
(3 ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ص 19 ج 4۔ )
(1 ؎ فتح الباری ص 226 ج 3)
(2 ؎ بحوالہ تفسیر الدرالمنثور ص 268 ج 5۔ )
Ayahs 37:125–132125۔ 132۔ حسن بصری (رح) کے قول کے موافق ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ کنعانی قوم کے ایک ظالم بادشاہ کا جب انتقال ہوگیا تو اس کی بی بی نے اپنے خاوند کی شکل کی ایک مورت بنائی۔ اور ان کا نام بعل رکھا۔ کہ بعل عربی میں عورت کے خاوند کو بھی کہتے ہیں۔ اس کے بعد اس عورت کا دوسرا نکاح ایک اسرائیلی بادشاہ سے ہوگیا۔ اور اس عورت نے اپنے دوسرے خاوند کو بہکا کر اس بعل بت کی پوجا عام طور پر لوگوں میں جاری کروا دی۔ ان ہی لوگوں کے سمجھانے کے لئے الیاس (علیہ السلام) نے وہ نصیحت کی ہے۔ جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ حاصل نصیحت یہ ہے۔ کہ اے لوگو جس اللہ نے تم کو اور تمہارے بڑوں کو پیدا کیا۔ اس کا شکریہ کیا یہی ہے کہ تم اس کی عبادت کو چھوڑ کر اس بعل بت کی پوجا کرتے ہو۔ اب آگے فرمایا کہ ان لوگوں نے الیاس (علیہ السلام) کی نصیحت کو نہیں مانا۔ اس لئے دین و دنیا کے عذاب میں پکڑے گئے۔ حسن (رح) بصری کی تفسیر کے موافق دنیا کا عذاب تو یہ ہوا کہ ان لوگوں میں تین برس کا سخت قحط پڑا۔ اور عقبے میں جو سب مشرکوں کا حال ہوگا۔ وہی مصیبت ان لوگوں پر آوے گی۔ چناچہ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں گھس جاوے تو گھس جاوے لیکن ایسے مشرک لوگ جنت میں کسی طرح نہیں جاسکتے۔ اب اس عذاب میں سے ان لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا۔ جو الیاس (علیہ السلام) کی نصیحت کو مان کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوگئے تھے۔ فرمایا الیاس (علیہ السلام) اللہ کے کامل الایمان بندے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ ذکر خیر دنیا میں جاری رکھا۔ کہ ہر ایمان دار شخص ان کے نام کے ساتھ (علیہ السلام) کہتا اور لکھتا ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سب نیک بندوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ دیتا ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت اوپر گزر چیا ہے۔ کہ نیک لوگوں کا ذکر خیر آسمان و زمین میں کیونکر اور کن باتوں سے پھیل جاتا ہے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث گزر چکی ہے کہ پہلے تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے۔ اور جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو عذاب میں پکڑ لیتا ہے۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ بعل بت کے پوجنے والے لوگوں کو پہلے مہلت دی گئی اور اس مہلت کے زمانہ میں الیاس (علیہ السلام) نے ان کو پوری نصیحت کی اس نصیحت کے بعد بھی جو لوگ شرک سے باز نہ آئے تو وہ دین و دنیا کے وبال میں پھنس گئے۔ اور جو لوگ اس نصیحت کے پابند ہوگئے وہ وبال سے بچ گئے۔ اور ذکر خیر کے ساتھ اللہ کے کلام میں ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
(1 ؎ دیکھیں تفسیر ہذا ص 12۔ )
(2 ؎ تفسیر ہذا ص 12۔ )
Ayahs 37:133–138133۔ 138۔ حضرت الیاس کے قصہ کے بعد یہ لوط (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا۔ یہ قصہ سورة الاعراف سورة ہود سورة شعراء اور سورة النمل میں گزر چکا ہے۔ حاصل اس قصہ کا یہی ہے کہ ان لوگوں نے لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کی عادت نکالی تھی۔ ملک شام کے شہروں میں ایک بستی سدوم سے وہاں یہ لوگ رہتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ابراہیم کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) جب ملک عراق سے ملک شام کو آئے تو سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لئے نبی مقرر ہوئے ایک مدت تک لوط (علیہ السلام) نے طرح طرح کی نصیحت سے ان لوگوں کو راہ راست پر لانا چاہا۔ مگر یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے آخر اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کی بستی کو الٹ دیا اب وہاں بدبو دار پانی کا ایک چشمہ ہے جو کسی کام نہیں آتا ملک شام کے سفر کے وقت قریش کا گزر اس الٹی ہوئی جگہ پر سے ہوا کرتا تھا اسی واسطے فرمایا کہ اس جگہ کو دیکھ کر کیا یہ عبرت حاصل کرنے کی سمجھ ان لوگوں میں نہیں ہے کہ نافرمان لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے صحیح بخاری 3 ؎ کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث اوپر گزرچکی ہے کہ نافرمان لوگوں کو پہلے اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے۔ جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو پھر ان کو سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے۔ ان آیتوں میں قوم لوط اور قریش دونوں قوموں کا جو ذکر ہے۔ یہ حدیث دونوں کی حالت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ میں قوم لوط (علیہ السلام) نے اور قریش کو نبی آخر الزمان ﷺ نے ہر طرح سے سمجھایا۔ لیکن یہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے تو قوم لوط کا انجام تو اوپر ابھی گزرا کہ ان کی بستی الٹ گئی۔ اور قریش کا انجام صحیح بخاری 1 ؎ کی انس ؓ بن مالک کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ کہ بدر کی لڑائی میں ان میں کے بڑے بڑے نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوئے جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا۔ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پا لیا۔ لوط (علیہ السلام) کی بی بی قوم کے لوگوں سے ملی ہوئی تھی۔ اس لئے وہ بھی عذاب میں پکڑی گئی۔ جس کو نجات والوں میں سے الگ کرکے ایک بڑھیا فرمایا۔
(3 ؎ تفسیر ہذا ص 12۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب قتل ابی جھل ص 566 ج 2)
Ayahs 37:139–148139۔ 148۔ یہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سورة الانبیا میں بھی گزر چکا ہے۔ تفسیر سدی تفسیر ابن ابی 2 ؎ حاتم مسند بزار اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ عبد اللہ بن مسعود کی صحیح روایت سے جو بیان کیا گیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ موصل شہر کی سر زمین میں نینویٰ بستی ہے۔ وہاں کے لوگوں کی ہدایت کے واسطے حضرت یونس نبی ہوئے تھے جب وہاں کے لوگوں نے حضرت یونس کی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت یونس نے ان لوگوں کو عذاب الٰہی کے نازل ہونے کی خبر سنائی۔ اور خود اس بستی کے باہر چلے گئے۔ جب نینوا کے لوگوں نے کچھ کچھ آثار عذاب الٰہی کے دیکھے تو جنگل میں جا کر بہت روئے اور گڑگڑاتے اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر رحم فرما کر ان پر عذاب نازل نہیں فرمایا۔ جب حضرت یونس کو معلوم ہوا۔ کہ وقت مقررہ پر عذاب نہیں آیا تو اس شریعت میں یہ حکم تھا کہ جھوٹ بولنے والے شخص کو مار ڈالا کرتے تھے۔ اس لئے حضرت یونس نے اپنے دل میں سوچھا کہ جس قوم کے نزدیک میں جھوٹا اور واجب القتل ٹھہر چکا ہوں۔ اس قوم کی سرحد میں بھی رہنا مناسب نہیں ہے۔ یہ سوچ کر بدوں مرضی اور حکم اللہ تعالیٰ کے اس بستی سے بہت دور جانا چاہا اور دریا پر جا کر کشتی میں بیٹھے۔ کشتی دریا میں چلنے سے اٹک گئی۔ جب قرعہ ڈالا کہ کس شخص کے سبب سے کشتی نہیں چلتی تو تین دفعہ حضرت یونس کا نام نکلا۔ اس لئے یونس (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا اور اللہ کے حکم سے ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا جب وہ مچھلی دریا کی تہ میں بیٹھی تو کنکروں کے تسبیح کی آواز حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ میں آئی اور انہوں نے بھی لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ پڑھنا شروع کیا۔ اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ اگر یونس (علیہ السلام) راحت کے وقت اللہ کی عبادت میں نہ لگے رہتے اور اب تکلیف کے وقت مچھلی کے پیٹ میں اللہ کی تسبیح نہ کرتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے اس میں علمائے مفسرین نے اختلاف کیا ہے کہ حضرت یونس مچھلی کے پیٹ میں کتنے روز رہے تفسیر سدی تفسیر کلبی ‘ تفسیر مقاتل بن سلیمان تینوں تفسروں 3 ؎ میں بالاتفاق حضرت عبداللہ بن مسعود کے قول کے موافق یہی ہے۔ کہ حضرت یونس چالیس روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ اس میں بھی علما نے اختلاف کیا ہے۔ کہ حضرت یونس پہلے سے نبی تھے یا مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد نبی ہوئے۔ قوی قول یہی ہے کہ مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے حضرت یونس نبی تھے۔ کیونکہ آیتوں میں کشتی میں جانے کے وقت ان کو نبی فرمایا ہے۔ حدیث کی شرح کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس خیال سے کہ حضرت یونس کا قصہ سن کر لوگوں کے دل میں حضرت یونس کی طرف سے کوئی برا خیال لوگوں کے دل میں پیدا نہ ہوجاوے۔ اور لوگ حضرت یونس کو حقیر نہ جانیں۔ آنحضرت ﷺ نے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں فرمایا کہ کوئی شخص مجھ کو یہ نہ کہے کہ میں یونس سے بہتر ہوں حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے۔ کہ نینوا بستی کے لوگوں کی ہدایت کے لئے یونس (علیہ السلام) کو رسول بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ جو عذاب کا وعدہ ٹل جانے سے گھبرا کر ایک بھری ہوئی کشتی میں سفر کی نیت سے جا بیٹھے اور جب وہ کشتی اٹک گئی اور کشتی والوں نے قرعہ ڈالا اور کشتی کے اٹک جانے کا یہ حال دریافت کیا۔ کہ کشتی کسی شخص کے سبب اٹکی ہے تو قرعہ میں یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کے صحیح قول کے موافق مدحضین کے معنی مقروعین کے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قرعہ میں یونس (علیہ السلام) کا نام نکلا۔ جس کے سبب سے انہوں نے اپنے آپ کو دریا میں ڈالا دیا اور ان کے خطا وار ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ان کو ایک مچھلی نے نگل لیا۔ پھر فرمایا اس تکلیف سے پہلے راحت کے زمانہ میں اگر یونس (علیہ السلام) ذکر الٰہی میں نہ لگے رہتے تو فقط تکلیف کے وقت ذکر الٰہی ان کو قیامت تک کچھ فائدہ نہ دیتا کیونکہ تکلیف کے وقت تو فرعون نے بھی اللہ کو یاد کیا تھا۔ یہ تفسیر قتادہ کے قول کے موافق ہے۔ ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ کی معتبر روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ تکلیف کے وقت اس کی دعاجلدی قبول ہو تو وہ شخص راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولے۔ اس حدیث سے قتادہ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ غرض اس قول کے موافق یونس (علیہ السلام) راحت کے زمانہ میں ذکر الٰہی میں لگے رہتے تھے اور تکلیف کے وقت بھی انہوں نے وہ دعا کی جس کا ذکر اوپر گزرا۔ اس لئے اللہ کے حکم سے اس مچھلی نے دریا کے کنارہ پر ان کو اگل دیا اور مچھلی کے پیٹ کی گرمی کے سبب سے ان کی حالت بامنروں کی سی ہوگئی۔ بدن پر کے بال اور ناخن اڑ گئے کھال بالکل پتلی ہوگئی۔ عراء اس میدان کو کہتے ہیں جہاں کسی درخت یا مکان کا سایہ نہ ہو۔ اس لئے وہاں اللہ تعالیٰ نے کدو کی بیل پیدا کردی کہ اس کے پتوں کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔ ترجمہ میں عراء کے معنی چٹپل میدان کے جو لکھے ہیں۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس میدان میں کسی طرح کا سایہ نہ تھا۔ ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ جب تک یونس (علیہ السلام) میں پھرنے چلنے کی طاقت نہیں آئی۔ اس وقت تک اللہ کے حکم سے ایک پہاڑی بکری صبح و شام ان کی دودھ پلا جاتی ہر ایک نبی کی امت کی ابتدا میں ایک تعداد ہوتی ہے۔ اور پھر نئے بچے پیدا ہو کر جب نبی کی نصیحت سننے کے قابل ہوجاتے ہیں تو وہ تعداد بڑھ جاتی ہے اسی مطلب کو مائۃ الف او یزیدون سے فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) کے نبی ہو کر جانے کے وقت تو ان کی امت کی تعداد لاکھ آدمیوں کی تھی۔ مگر آئندہ زیادتی کی گنجائش تھی جس طرح مثلاً صلح حدیبیہ کے وقت اللہ کے رسول کے ساتھی صحابہ کی تعداد چودہ سو کے قریب تھی۔ مگر اس میں زیاتی کی گنجائش تھی۔ جو فتح مکہ کے سفر تک دس ہزار تک پہنچ گئی۔ پھر فرمایا کہ دوسری دفعہ یونس (علیہ السلام) کے نینوا بستی میں آنے کے بعد وہاں کے لوگ راہ راست پر آگئے اور اللہ تعالیٰ نے موت کے وقت مقررہ تک ان کو امن امان میں رکھا۔ ہاں موت کے بعد ہر ایک کے عملوں کے موافق جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا۔ معتبر سند سے امام احمد ترمذی 1 ؎ نسائی اور مستدرک حاکم میں سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے یونس (علیہ السلام) کی اس دعا کو اسم اعظم فرمایا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ اسم اعظم وہ ہے۔ جس کے پڑھنے کے بعد جو دعا مانگی جاوے وہ قبول ہوتی ہے۔
(2 ؎ بحوالہ تفسیر الدرالمنثور ص 288 ج 5۔ )
(3 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 289 ج 5)
(1 ؎ صحیح بخاری باب وان یونس لمن المرسلین ص 485 ج 1)
(1 ؎ جامع ترمذی کتاب الدعوات ص 210 ج 2۔ )