Ayahs 37:35–5035۔ 50۔ مکہ کے مشرکوں میں بہت دنوں سے شرک کی باتیں چلی آتی تھیں۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان سے جب توحید کی باتیں فرماتے تو کبھی مشرک لوگ یہ کہتے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ ہم تو اس طریقہ پر قائم رہویں گے اور جب کبھی آنحضرت ﷺ شرک اور ان مشرکوں کے بتوں کی مذمت کرتے تو وہ ظالم نہایت زیادتی سے اللہ تعالیٰ کے حق میں بےادبی کے کلمات کہنے کو مستعد ہوجاتے۔ صحیح سند کا حضرت عبد اللہ ؓ ابن عباس کی روایت سے ترمذی 2 ؎ نسائی وغیرہ میں ایک دفعہ کا یہ ایک قصہ ہے۔ کہ ابو طالب کی بیماری کے زمانہ میں ایک بڑی جماعت قریش کی ابو طالب کے پاس گئی اور آنحضرت ﷺ سے اس شکایت کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میں تو ایک بات ایسی ان لوگوں کو بتلاتا ہوں۔ جس کے اختیار کرنے کے سبب سے سب ملک عرب و عجم ان کا تابعدار ہوجاوے۔ جب ان جماعت کے لوگوں نے پوچھا کہ آخر وہ بات کیا ہے۔ بیان تو کرو تو آپ نے کلمہ توحید پڑھ کر سنایا ہے۔ یہ سنتے ہی بڑے تکبر سے اجعل الالھۃ الہ واحدا اور ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ کہتے ہوئے وہ سب لوگ اس مجلس میں سے اٹھ کر چلے گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ایک معبود کی عبادت کسی پچھلے دین میں نہیں سنی۔ غرض اسی طرح توحید کی باتیں سن کر نخوت اور تکبر سے پیش آنے کے مشرکین مکہ کے بہت سے قصے قرآن شریف اور حدیث شریف میں ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے وہی ذکر فرمایا ہے۔ کہ قیامت کے دن جب ان لوگوں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے۔ تو اس وقت ان کو یاد دلایا جاوے گا۔ کہ تم پر عذاب اسی سبب سے ہے کہ تم توحید کی باتیں اللہ کے رسول سے سن کر نخوت اور تکبر سے ان حق باتوں کو نہیں سنتے تھے۔ اور اللہ کے رسول کو شاعر اور دیوانہ بتلاتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ایک دیوانہ کے کہنے سے ہم اپنے باپ دادا کے زمانہ کے معبودوں کو چھوڑ دیویں گے۔ اب بیچ میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کا جواب دیا ہے کہ اللہ کے رسول شاعر اور دیوانہ نہیں بلکہ یہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ پھر جنت اور اہل جنت کا ذکر فرمایا ہے۔ تاکہ عقبیٰ کے منکروں کو جنت کا حال سن کر ایک طرح کی رغبت عقبیٰ کی پیدا ہو۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کی طرف پیٹھ کرے تو ذرا برا معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ جنت میں جنتی لوگ اس طرح جڑاؤ تختوں پر بیٹھیں گے کہ ایک کی پشت دوسرے کی طرف نہ ہوگی۔ دنیا کی شراب سے درد سر ہوتا ہے ‘ قے ہوتی ہے ‘ نشہ چڑھ کر عقل زائل ہوجاتی ہے ‘ کبھی قولنج کا درد پیدا ہوجاتا ہے۔ اس واسطے فرمایا کہ جنت کی شراب میں یہ کوئی بات نہ ہوگی۔ نہروں میں جس طرح پانی بہتا ہے۔ اس طرح جنت میں شراب اور دودھ اور شہد اور میٹھے پانی کی نہایت صاف نہریں ہوں گی۔ اس شراب کا رنگ ایسا ہوگا کہ جس کے دیکھنے سے رغبت آوے گی۔ یہ دودھ نہ کبھی جمے گا نہ کھٹا ہوگا۔ یہ شہد موم کے میل سے بالکل صاف ہوگا۔ جنت کی اور نعمتوں اور جنت کے میووں کا جو ان آیتوں میں ذکر ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ جنت کی نعمتیں وہ ہیں کہ نہ آنکھوں سے کسی نے دیکھیں اور نہ کانوں سے سنیں۔ نہ کسی کے دل میں ان نعمتوں کا تصور گزر سکتا ہے۔ اس لئے جنت کی نعمتوں کی تفصیل سوا خدا کے کون جان سکتا ہے۔ آیتوں میں جنت کی حوروں کا بھی ذکر ہے۔ حدیث شریف میں ترمذی 2 ؎ کی روایت سے آیا ہے حوروں کے جسم میں اس طرح کی چمک ہوگی۔ کہ ستر پوشاکوں میں سے ان کا جسم نظر آوے گا۔ ترمذی نے اس روایت کو عبد اللہ ؓ بن مسعود کا قول صحیح قررار دیا ہے۔ بخاری 3 ؎ کی ابوہریرہ کی روایت میں ہے ‘ کہ جنت کی حوروں کی پوشاک ایسی ہوگی کہ اس پوشاک میں سے ان کا ایک دوپٹہ دنیا بھر کی چیزوں سے بڑھ کر قیمت کا ہوگا۔ غرض جنت کی سب چیزیں ایسی ہیں۔ کہ خدا تعالیٰ اپنی رحمت سے جب جنت میں جانا نصیب کرے گا۔ اسی وقت ان چیزوں کی قدر معلوم ہوگی۔ اس واسطے صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں جتنی سی جگہ میں گھوڑے کا سوار اپنے گھوڑے کا کوڑا رکھتا ہے۔ جنت کی اتنی سی جگہ تمام دنیا سے بہتر ہے غول کے معنے خلاف طبیعت بات کے پیش آنے کے ہیں۔ اس لئے حاصل مطلب یہ ہے۔ کہ جنت کی شراب سے درد سر۔ قے۔ قولنج کوئی خلاف طبیعت بات پیش نہ آوے گی۔ عرب کے محاورہ میں نزف الرجل ایسے موقعہ پر بولتے ہیں۔ جب کوئی آدمی نشہ میں ہوجاتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ جنت کی شراب میں یہ بات نہ ہوگی۔ کہ کوئی جنتی مدہوش ہوجاوے۔ بیض مکنون اس کا یہ مطلب ہے کہ انڈے کے سخت چھلکے کے اندر کا نرم پوست جیسا آبدار ہوتا ہے۔ حوروں کا جسم ایسا آبدارہو گا۔
(2 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ص۔ ص 178 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ الخ ص 460 ج 1)
(2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ نساء اھل الجنۃ الخ ص 89 ج 2)
(3 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ شریف باب صفۃ الجنت واھلھا الفصل الاول ص 495)
(1 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنت الخ ص 461 ج 1)
Ayahs 37:51–6151۔ 61۔ تفسیر اسمعیل سدی اور تفسیر 2 ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں بنی اسرائیل کا ایک قصہ اس آیت کے متعلق جو لکھا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے۔ کہ کسی تجارت میں دو شخص ساجھی تھے۔ جس میں ایک شخص مشرک تھا اور ایک مسلمان تھا۔ یہ مسلمان شخص اکثر اپنے دین کے کاموں میں مصروف رہ کر تجارت کے کاموں سے بیخبر رہتا تھا۔ اس مشرک ساجھی نے اپنے اس مسلمان ساتھی کا یہ حال دیکھ کر اپنے ساجھے سے اس کو الگ کردیا۔ اس ساجھی کے الگ ہونے کے وقت دونوں شخصوں کے حصہ میں چار چار ہزار اشرفیاں آئیں۔ اس مشرک شخص نے تو اپنی اشرفیاں دنیا کے طرح طرح کے کاموں میں لگائیں اور مسلمان شخص نے رفتہ رفتہ وہ اپنی سب اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے اللہ کی راہ میں خیرات کر ڈالیں اور تنگ حال ہوگیا۔ ایک روز اس مشرک نے اس مسلمان کو تنگ دست دیکھ کر اس کے حال پر بڑا افسوس کیا۔ اور اس سے پوچھا کہ تیری اشرفیاں کہاں گئیں۔ پہلے تو اس مسلمان نے اپنی اشرفیوں کا حال اس مشرک سے چھپایا۔ لیکن جب اس مشرک شخص نے بہت کھود کھود کر پوچھا تو اس نے بیان کیا کہ وہ اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے میں نے اللہ کی راہ میں خرچ کردیں۔ اس مشرک غاقبت کے منکر نے عاقبت اور عاقبت کے اجر کا نام سن کر اس مسلمان کو بہت برا بھلا کہا۔ قیامت کے دن اس مسلمان کو جنت میں اور مشرک کو دوزخ میں جب اللہ تعالیٰ داخل فرمائے گا۔ تو یہ مسلمان شخص اپنے مشرک ساجھی کا عاقبت کا انکار کرنا۔ اور برا کہنا یاد کر کے جنت میں سے جھانک کر اس کو دیکھے گا اور طرح طرح کے عذاب میں گرفتار پا کر یہ کہے گا۔ کہ اگر دنیا میں تیرا کہنا میں مان لیتا تو آج میں بھی اس مصیبت میں گرفتار ہوتا حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے۔ کہ جنت کے مکانوں کی دیواروں میں کھڑکیاں ہوں گی جن میں سے اہل جنت اہل دوزخ کا حال دیکھ کر اپنے عیش و آرام کی بڑی قدر کریں گے۔ کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ دوسرے کی مصیبت دیکھ کر آدمی کو اپنے آرام کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ اس مسلمان جنتی شخص کے کلام میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ وہ شخص جنت کی نعمتوں کی قدر اور اپنی خوشی ظاہر کرنے کی باتوں میں یہ بھی کہے گا۔ کہ یہ بھی بڑی مراد پوری ہونے کی بات ہے۔ کہ جنتی لوگ سدا اسی عیش میں رہویں گے اور سوا دنیا میں ایک دفعہ کی موت کا مزا چکھ لینے کے۔ اب ہم کو کبھی موت نہیں آئے گی اس کی تفسیر حضرت عبد ؓ اللہ بن عمر ؓ کی صحیحین 1 ؎ کی روایت میں ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ جنتیوں کے جنت میں اور دو زخمیوں کے دوزخ میں داخل ہوجانے کے بعد جنت اور دوزخ کے مابین میں موت کو ذبح کردیا جاوے گا۔ اور پھر فرشتے پکار کر اہل جنت اور اہل دوزخ کو سناویں گے کہ اب جو جس حال میں ہے۔ ہمیشہ وہ اسی حال میں رہے گا۔ اب کسی کو موت نہیں۔ اس خبر کو سن کر اہل جنت اپنے عیش و آرام سے ہمیشہ رہنے کی بڑی خوشی کریں گے۔ اور اہل دوزخ اپنا عذاب میں ہمیشہ رہنے کا حال دیکھ کر بڑا رنج کریں گے۔ جس خوشی کا اس حدیث میں ذکر ہے۔ وہی خوشی ہے۔ جس کا تذکرہ اس جنتی شخص نے اپنی خوشی اور مراد پانے کی باتوں میں کیا ہے۔ غرض جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے نرالی ہیں۔ پھر یہ کتنی بڑی بات ہے۔ کہ وہ نعمتیں ہمیشہ رہویں گی نہ ان نعمتوں کو دکھ کا خلل ہے۔ نہ بیماری کا نہ موت کا کچھ کھٹکا۔ دنیا کی نعمتوں کو دکھ کا بیماری کا موت کا ہر طرح کا کھٹکا لگا ہوا ہے جس کے سبب سے یہ کہنا چاہئے کہ دنیا کی بادشاہت وزارت کوئی نعمت پائیدار نہیں۔ کیونکہ زبان حال سے دنیا کی ہر نعمت یہ پکار رہی ہے۔ کہ آج ہے کل نہیں۔ عاقبت میں اس کے برخلاف معاملہ ہے۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابو سعیدخدری سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ جنت کے لوگوں کو فرشتے ہر وقت پکار پکار کر سنا دیں گے۔ کہ جنت کی زندگانی کو موت نہیں اور جوانی کو بڑھاپا نہیں۔ صحت کو مرض نہیں۔ خوشی کو رنج نہیں۔ لمدینون اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ کیا مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد ہم پھر دوبارہ زندہ ہوں گے۔ اور ہماری نیکی بدی کا حساب و کتاب ہوگا۔ منکرین حشر کے اس عقلی اعتراض کا جواب عقلی طور پر اللہ تعالیٰ نے کئی آیتوں میں جو دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ خود دنیا کا موجودہ انتظام اس بات کو چاہتا ہے۔ کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد قیامت کی سخت ضرورت ہے۔ کیونکہ چھوٹے چھوٹے حاکم فرمانبردار اور نافرمان رعایا کو ایک حالت پر رکھنا ناانصافی جانتے ہیں۔ پھر اس احکم الحاکمین کے انصاف سے یہ بعید ہے کہ اس کی بارگاہ میں نہ نیکی کا کچھ ثمرہ ہو نہ بدی کی کچھ پرسش۔ دنیا کی حالت سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ کہ یہاں بہت سے نیک لوگ تنگ دست ہیں۔ اور بد لوگ خوش حال۔ اس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ کہ دنیا میں جزا و سزا کا موقعہ نہیں۔ بلکہ اس کے لئے ایک دوسرا جہان ہے۔ جس کا حال وحی کے ذریعہ سے انبیاء کو معلوم ہوا ہے۔ اور عقل بھی اس کا انکار نہیں کرسکتی۔ سورة جاثیہ میں اس عقلی جواب کی تفصیل زیادہ آوے گی۔
(2 ؎ بوالہ تفسیر الدر المنثور ص 75 ج 5 تفسیر ابن کثیر ص 9 ج 4)
(1 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص 382 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔ ص 238 ج 2۔ )
Ayahs 37:62–7462۔ 74۔ اوپر جنت کی نعمتوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا۔ کہ یہ جنت کی نعمتیں بہتر ہیں۔ یا دوزخیوں کی خوراک سینڈھ کا درخت بہتر ہے۔ ترمذی 1 ؎ نسانی ابن ماجہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس سے صحیح روایت ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اس دوزخ کے سینڈھ کے عرق کا ایک قطرہ بھی اگر زمین پر ٹپک پڑے تو تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوجاوے۔ اور اگر دنیا کے دریاؤں میں وہ قطرہ پڑجاوے۔ تو دریاؤں کا پانی بالکل بگڑ جاوے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا افسوس ہے۔ ان لوگوں کے حال پر جن کی خوراک یہ سینڈھ کا پھل ہوگا۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ وہ سینڈھ دنیا کے سینڈھ جیسا نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایسی بری بلا ہے۔ جس کی حالت حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر 2 ؎ ابن جریر میں قتادہ کا فول ہے کہ قرآن شریف میں جب سینڈھ کے درخت کا ذکر آیا تو مشرکین مکہ تعجب سے کہنے لگے۔ کہ سبز درخت دوزخ کی آگ میں کیوں کر ہوگا۔ اس پر فرمایا۔ یہ اللہ کی قدرت ہے۔ کہ دوزخ کے کنارہ پر نہیں۔ بلکہ بیچ دوزخ کی جڑ میں یہ درخت نکلے گا۔ اور منکروں کو اس خرابی میں ڈالے گا۔ کہ اس کے پھل پیٹ بھر کر ان کو کھانے پڑیں گے اور جب وہ پھل ان کے حلق میں پھنسیں گے۔ تو ایسا کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جاوے گا۔ کہ ان کی انتڑیاں نکل پڑیں گی۔ زقوم کے علاوہ دوزخیوں کو کبھی ایک کانٹوں دار گھاس بھی کھلائی جاوے گی۔ جس کا ذکر سورة الغاشیہ میں آوے گا۔ حاصل یہ ہے کہ دوزخ کے درجے الگ الگ ہیں۔ بعض درجوں میں دوزخیوں کی خوراک زقوم ہوگی۔ اور بعض میں کانٹوں دار گھاس عرب کے لوگ خوفناک چیز کو شیطان سے تشبیہ دیا کرتے ہیں۔ اس واسطے سینڈھ کے پھل کو شیطان کے سر سے مشابہت دی۔ مسند امام احمد ترمذی 3 ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم اور بیہقی میں ابوسعید ؓ خدری اور ابوہریرہ ؓ سے معتبر روایتیں ہیں، میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جب وہ کھولتا ہوا پانی دوزخیوں کے منہ کے پاس لایا جاوے گا۔ تو ان کے منہ کی کھال جل کر اتر جاوے گی۔ اور جب وہ پانی ان کو پلایا جاوے گا۔ تو کٹ کر انتڑیاں نکل پڑیں گی۔ اس کھولتے ہوئے پانی کو ملونی کا پانی جو فرمایا۔ اس کی تفسیر سورة ابراہیم میں گزر چکی ہے۔ کہ زیادہ بدمزہ کرنے کے لئے اس پانی میں پیپ بھی ملائی جائے گی۔ تفسیر عبد الرحمن بن زید میں ملونی کی یہ تفسیر کی گئی ہے۔ جو اوپر بیان کی گئی۔ یہ عبد الرحمن بن زید سفیان بن عیینہ کے مرتبہ کے تبع تابعین میں ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں ان سے روایتیں ہیں۔ حدیث کی روایت میں اگرچہ علما نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے۔ مگر تفسیر کے باب میں یہ اپنے باپ زید بن اسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اس تفسیر کے باب میں ان کے قول کا اعتبار ہے۔ کیونکہ ان کے باپ حسن بصری کے مرتبہ کے ثقہ تابعیوں میں ہیں۔ اکثر سلف کا قول ہے کہ یہ کھولتے پانی کا چشمہ دوزخ کے کنارہ پر ہے۔ وہاں فرشتے دوزخیوں کو پانی پلانے لاویں گے اور پھر دوزخ میں دھکیل دیویں گے ثم ان مرجعہم لا الی الحجیم۔ کا یہی مطلب ہے اب آگے فرمایا قریش کے اور پچھلی امتوں کے نافرمان لوگ اس واسطے عذاب میں پکڑے گئے۔ کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو نہ مانا اور سرکشی کر کے اپنے بڑوں کی لکیر کے فقیر رہے ہاں اللہ کے چنے ہوئے جن بندوں نے اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو مان لیا۔ وہ اس عذاب سے بچ کر جنت میں داخل ہوئے۔ ترمذی 1 ؎‘ ابو داؤد ‘ موطا مسند ‘ امام احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ آدم (علیہ السلام) کی پشت سے قیامت تک کی روحوں کو نکال کر عالم ارواح ہی میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا تھا۔ کہ اتنی روحوں کے بنی آدم دنیا میں پیدا ہونے کے بعد جنتیوں کے سے کام کریں گے اور اتنی روحوں کے بنی آدم دوزخیوں کے سے کام کریں گے۔ اگرچہ منذری نے اس حدیث کی سند پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس حدیث کو مسلم بن یسار نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے۔ حالانکہ مسلم بن بسار کو حضرت عمر ؓ کی ملاقات کا موقع نہیں ملا۔ اس واسطے اس حدیث کی سند پوری نہیں ہے۔ لیکن موطا مسند امام احمد اور مستدرک حاکم کی سند میں مسلم بن یسار نہیں ہے اور یہ سندیں پوری ہیں۔ اسی واسطے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ سب سندوں کے ملانے سے یہ حدیث معتبر ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ اگرچہ جنتی اور دوزخی عالم ارواح میں بھی اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق چنے جا چکے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف سے جزا و سزا کا دار و مدار دنیا کے پیدا ہونے کے بعد رکھا۔ جب اس علم غیب کا ظہور ہوگیا۔ تو اس کے موافق قیامت کے دن جزا و سزا کا فیصلہ کیا جاوے گا۔ یہ کئی جگہ گزر چکا ہے۔ کہ دنیا نیک و بد کے امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ اس لئے جو لوگ علم الٰہی میں دوزخ کے قابل ٹھہر چکے تھے۔ زبردستی ان کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف تھا۔ اس واسطے ان کو اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر چھوڑ دیا۔
(1 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء صفۃ شراب اھل النار ص 95 ج 2)
(2 ؎ ترمذی شریف باب مآجاء فی صفۃ شراب اھل النار ص 95 ج 2۔ )
(3 ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص 277 ج 5 تفسیر ابن کثیر ص 10 ج 4۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة اعراف ص 155 ج 2۔ )