Ayahs 50:41–4441۔ 44۔ اوپر فرمایا تھا کہ اگر یہ اہل مکہ اپنی سرکشی کی باتوں سے باز نہ آئیں تو صبر سکون سے کام لیا جائے ان آیتوں میں فرمایا کہ اے نبی اللہ کے تمہارے صبر سکون کے بعد اگر اللہ کی حکمت یوں ہی مقیض ہوئی کہ تمہارے مخالفوں میں کے کچھ لوگ دنیا کے عذاب سے بچ گئے اور اسی حالت مخالفت میں وہ مرگئے تو ان کے مواخذہ کا وقت مقررہ دوسرے صور کی آواز ہے۔ جب دوسرے صور کی آواز سنو تو پھر جو کچھ ان مخالفوں پر گزرے گی ‘ وہ سب آنکھوں کے سامنے آجائے گی۔ اس دوسرے صور کی آواز سے سب لوگ جی اٹھیں گے اور قبروں سے نکل کر میدان محشر کو جانے شروع ہوجائیں گے۔ قبر کے عذاب کے علاوہ اس عذاب سے بڑھ کر جو سختیاں نافرمان لوگوں پر شروع ہوں گی ان کی ابتداء دوسرے صور کی آواز ہے اس لئے اسی کو نافرمان لوگوں کے مواخذہ کا وقت مقرر فرمایا۔ نافرمان لوگوں کو میدان محشر میں پسینے کی دوزخ اور سورج کی گرمی وغیرہ کی ایسی تکلیف ہوگی کہ وہ اس تکلیف سے گھبرا کر دوزخ میں جانا پسند کریں گے۔ چناچہ مستدرک 1 ؎ حاکم میں عبد اللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں اس کا ذکر ہے۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ صحیح 2 ؎ مسلم میں انس بن مالک اور ابوہریرہ ؓ سے اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے دوسرے صور کی آواز سے آپ ﷺ کا مزار مبارک شق ہوگا۔ اور آپ مزار سے باہر تشریف لائیں گے۔ اس لئے خاص طور پر آپ کو اس آواز کے سننے کا ارشاد ان آیتوں میں فرمایا کہ آپ ﷺ سے پہلے اس آواز کو کوئی نہ سنے گا۔ اکثر مفسرین نے مکان قریب کی تفسیر بیت المقدس کے اس پتھر سے کی ہے جو زمین سے بارہ میل کے قریب اونچا اور آسمان سے اسی قدر قریب ہے ان کا قول ہے کہ اس پتھر پر کھڑے ہو کر حضرت اسرافیل صور پھونکیں 3 ؎ گے اوپر گزر چکا ہے کہ صورت سے پہلے ایک مینہ 4 ؎ برسے گا جس سے سب جسم بن کر تیار ہوجائیں گے پھر صور پھونکنے سے روحوں کا تعلق ان جسموں سے اسی طرح ہوجائے گا جس طرح اب ماں کے پیٹ میں بچہ کا جسم تیار ہوجانے کے بعد ہوجاتا ہے صحیح بخاری ‘ مسلم ‘ نسائی ‘ ابو داؤود اور موطا میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حال یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انسان کا سب جسم مٹی کھا جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا باقی رہے گا ‘ اسی ٹکڑے سے حشر کے دن انسان کا جسم تیار ہوگا۔ اس حدیث کیے ایک ٹکڑے میں صور سے پہلے اس مینہ کا ذکر ہے جس کا حال اوپر گزرا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کا کٹڑا مینہ کے برسنے کے بعد وہی کام دے گا جو اب ہر چیز کا بیج کام دیتا ہے آگے فرمایا کہ حشر کی جن باتوں کو آج یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں صور کی آواز سنتے ہی ان باتوں کا برحق ہونا ان کو معلوم ہوجائے گا۔ کیونکہ وہی دن قبروں سے نکلنے کا ہے۔ پھر حشر کی دلیل کے طور پر فرمایا کہ انسان کا نیست سے ہست ہونا اور پھر پوری عمر ہوجانے کے بعد اس کا مرجانا یہ تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس سے یہ نکلنا ہے کہ مرنے کے بعد جزا و سزا کے لئے انسان کو پھر جلایا جائے گا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے سے لگے۔ اور جس نے پانی سے رحم جیسی تنگ جگہ میں انسان کا پتلا بنا کر اس میں روح پھونک دی اس کو خاک سے انسان کا دوبارہ پتلا بنانا کچھ مشکل ہے نہ اسے پتلے میں روح کا پھونکنا کچھ مشکل ہے چناچہ صور کی آواز سے ہی جب فوراً قبروں سے نکل کر ٹڈیوں کی طرح میدان محشر کی طرف یہ لوگ دوڑیں گے تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ جس کام کو یہ لوگ مشکل سمجھتے تھے وہ اس صاحب قدرت کے نزدیک کس قدر آسان تھا۔ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم کو ‘ قرآن کو ‘ حشر کی باتوں کو جس طرح یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں وہ ہم کو سب معلوم ہے تم ان پر کچھ زبردستی مت کرو وقت مقررہ پر ہم خود ان سے سمجھ لیں گے۔
) 1 ؎ الترغیب والترہیب باب فی الحشر وغیرہ ص 748 ج 4۔ (
(2 ؎ صحیح مسلم باب فضائل موسیٰ (علیہ السلام) ص 267 ج 2۔ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 230 ج 4۔ ) (4 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 3۔ )
(5 ؎ صحیح بخاری باب تولہ و نفخ فی الصور (سورۃ الزمر) ص 711 ج 2۔ )
Ayah 50:4545۔ شریعت میں جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان باتو کو معروف کہتے ہیں اور جن باتوں کی شریعت میں ممانعت ہے ان باتوں کو منکر کہتے ہیں صاحب شریعت انبیاء کا یہی کام ہے کہ وہ شریعت کی معروف باتوں کے کرنے اور منکر باتوں سے بچنے کو امت کے لوگوں میں پھیلاتے ہیں اور شریعت میں اللہ کی مرضی اور نامرضی کی جو باتیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ظاہر فرما دی ہیں۔ اسی واسطے فرمایا کہ جن لوگوں کے دل میں حشر اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے اور عقبیٰ کی باتوں کا خوف ہے اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کو قرآن کی آیتوں کے مضمون کے موافق نصیحت کر دینی چاہئے تاکہ تم کو نصیحت کرنے کا اور امت کے جو لوگ نصحیت مانیں ان کو نصیحت کے ماننے کا اجر عقبیٰ میں حاصل ہو۔ اب انبیاء کے بعد امت میں جن علماء نے انبیاء کے اس طریقہ کو اختیار کیا ہے کہ لوگوں کو وعظ نصیحت کرکے شریعت کی معروف باتوں کو لوگوں میں پھیلاتے اور منکر باتوں کو لوگوں سے چھڑواتے ہیں اور خود اپنی ذات سے شریعت کے پابند ہیں ایسے علماء کو صاحب شریعت ﷺ نے انبیاء کا وارث فرمایا ہے۔ ترمذی 1 ؎‘ مسند امام احمد ‘ ابو داؤود ‘ ابن ماجہ ‘ دارمی میں حضرت ابو داؤود کی ایک بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں کیونکہ انبیاء نے اپنی وفات کے وقت کچھ روپیہ پہ سے دنیا میں نہیں چھوڑا ہے جس نے یہ علم شریعت دنیا کی چیزوں میں سے پایا وہی انبیاء کا وارث ہے اور اس نے بھ یدنیا میں گویا ایک بڑی دولت پائی۔ اگرچہ ترمذی نے اس حدیث کی سند میں کلام کیا ہے لیکن اس کے بعض طریقے صحیح ہیں۔ صحیح مسلم 2 ؎ میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے جو شخص کوئی ایسی بات دیکھے جس کی شریعت میں ممانعت ہے تو ہاتھ سے زبان سے دل سے جس طرح ہو سکے اس کو مٹا دے۔ دل سے اس بری بات کا مٹانا یہ ہے کہ دل سے اس بری بات کو برا جانے اور خود بروں میں شریک نہ ہو او یہ ایمان داری کا ایک ادنیٰ درجہ ہے اور جو لوگ فقط ریا کاری کی نیت سے علم دین پڑھتے ہیں کہ جاہل لوگ ان کو بڑا عالم کہیں ‘ یا جو علم دین پڑھ کر اوروں کو تو نصیحت کرتے ہیں اور خود عمل نہیں کرتے۔ وہ انبیاء کے وارثوں میں داخل نہیں ہیں بلکہ صحیح حدیثوں میں ان کے حق میں سخت وعید۔