Ayahs 51:38–4638۔ 46۔ اوپر قوم لوط کی ہلاکت اور اس قصہ سے عبرت پکڑنے کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون عاد وثمود۔ اور قوم نوح کے قصے جو چند سورتوں میں تفصیل سے گزر چکے ہیں یہ سب قصے عبرت کے قابل ہیں۔ پھر اس نے منہ موڑا اپنے زور پر۔ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی فرعون کو ہدایت نہیں ہوئی۔ اور اپنے لشکر اور اپنی بادشاہت کے ور پر اس نے اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت پر کچھ توجہ نہ کی۔ فرعون پر اولاہنا یہ پڑا کہ وہ دین و دنیا میں ملعون ٹھہرا۔ پھر فرمایا فرعون نے اللہ کے رسول کو جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ حالانکہ اس وقت کے بڑے بڑے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے معجزے دیکھ کر ان کو اللہ کا رسول کہا تو فرعون ان جادوگروں کو سزا دینے پر آمادہ ہوگیا۔ عقیم بانجھ عورت کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس ہوا میں کسی چیز کی پیداوار کا اثر خدا تعالیٰ نے نہیں رکھا تھا بلکہ وہ خاص عذاب کی ہوا تھی جس پر وہ ہوا گزرتی اس کو خاک سیاہ کردیتی تھی۔ زمین کی پیداوار جب سوکھ جاتی ہے تو رمیہ کہتے ہیں جب کہا ان کو بر تو ایک وقت تک ‘ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ اونٹنی کے پائوں کاٹ ڈالنے کے بعد ثمود کو تین دن کی مہلت عذاب کے آنے میں دی گئی تھی اسی کو یہاں ان لفظوں میں فرمایا۔
Ayahs 51:47–5147۔ 51۔ اور پچھلی قوموں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے ہلاک ہوئے ورنہ آسمان زمین دنیا کی تمام موجودات اس بات کے سمجھنے کے لئے سمجھ دار کو کافی ہے کہ جس نے انسان کو اور انسان کی تمام ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ پوری تعظیم اور عبادت اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم کی معاذ بن جبل کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں۔ اگر یہ حق بندوں نے ادا کردیا تو بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو اپنے عذاب سے بچائے۔ اس نصیحت کے بعد فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم اہل مکہ کو جتلا دو کہ اگر وہ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور بت پرستی چھوڑ کر خالص اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجائیں۔ ورنہ گھڑی گھڑی ان کو یہ بات سنا دو کہ میں کھلم کھلا اللہ کے عذاب سے تم لوگوں کو ڈرانے آیا ہوں صحیح 2 ؎ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری اور میری امت کے نافرمان لوگوں کی مثال ایسی ہے جس طرح ایک شخص آگ جلائے اور آگ کی روشنی سے جنگل کے کیڑے پتنگے اس آگ کے گرد جمع ہو کر اسی میں گرنا شروع کردیں اور ہرچند وہ شخص ان کیڑوں پتنگوں کو اس آگ میں گرنے سے روکے مگر وہ باز نہ آئیں اسی طرح میں نافرمان لوگوں کو کمر سے پکڑ پکڑ کر دوزخ کی آگ سے بچانا چاہتا ہوں مگر یہ لوگ باز نہیں آتے اس آیت یا اس قسم کی اور آیتوں میں آنحضرت ﷺ کو جو حکم ہے کہ آپ اللہ کے عذاب سے لوگوں کو ڈرائیں۔ اس حکم کی تعمیل میں جو کچھ کوشش اور تندہی آپ ﷺ نے فرمائی۔ یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری کتاب التوحید ص 1096 ج 2 و صحیح مسلم باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ ص 44 ج 1۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب شفقۃ ﷺ علیٰ امتہ الخ ص 248 ج 2۔ )
Ayahs 51:52–5552۔ 55۔ حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے صاحب شریعت نبیوں کا سلسلہ دنیا میں شروع ہو کر آنحضرت ﷺ پر وہ سلسلہ ختم ہوا۔ اور حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت لوط ‘ حضرت شعیب کو جس طرح ان کی قوموں نے اور حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کی قوم نے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے جھٹلایا اور دیوانہ جادوگر بتایا اس کا ذکر جگہ جگہ قرآن شریف میں گزر چکا ہے۔ اسی واسطے جب قریش نے آنحضرت ﷺ کو طرح طرح کی ایذا دی اور جھٹلایا اور جادوگر دیوانہ اور قرآن شریف اور معجزوں کو جادو کہنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وصیت کے طور پر جس طرح بڑے چھوٹوں کو ایک بات کہہ دیتے ہیں وہی حال ان نبیوں کے جھٹلانے والی قوموں کا ہے کہ ایک زبان ہو کر سب کے سب ایک ہی بات کہتے ہیں پھر فرمایا کہ وصیت تو ایک دوسرے کو کیا کریں گے ایک قوم عذاب الٰہی سے جب اجڑ چکی ہے جو اس کے بعد دوسری قوم پیدا ہوئی بلکہ ایک زبان ہو کر یہ سب کے سب اس لئے ایک ہی بات کہتے ہیں کہ یہ سرکش لوگ ہیں اور ان سب کا بہکانے والا شیطان ایک ہی ہے اس لئے وہ اگلے پچھلے سب کے کانوں میں ایک ہی بات پھونکتا ہے اور یہ سب ایک زبان ہو کر ایک ہی بات کہتے ہیں تو ہٹ آ ‘ ان کی طرف سے تجھ پر نہیں اولاہنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب باوجود ہر وقت کی نصیحت کے یہ لوگ راہ راست پر نہیں آتے تو اے رسول اللہ کے ان کی گمراہی کا تم پر کچھ الزام نہیں ہے اللہ کو معلوم ہے کہ تم نے ان کو پوری نصیحت کردی ‘ اب تم زیادہ ان کے درپے نہ ہو ‘ اللہ ان سے خود سمجھ لے گا۔ مفسرین 1 ؎ نے کہا کہ جب آیت کا یہ ٹکڑا نازل ہوا تو آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو بڑا رنج ہوا کیونکہ انہوں نے جانا شاید اب عذاب آئے گا لیکن آئندہ کی آیت میں وعظ نصیحت کا حکم نازل ہوجانے سے پھر سب کی تسکین ہوگئی۔ مسند 2 ؎ امام احمد کی حضرت ابوامامہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایمان دار آدمی کی نشانی یہ ہے کہ اس کو دین کی اور نصیحت کی بات اچھی معلوم ہوتی ہے اور جو باتیں دین میں منع ہیں ان سے اس کا دل گھبرانے لگتا ہے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ کے رسول کی نصیحت سے فائدہ ایمان والوں کو ہی ہے یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے کیونکہ جس چیز کو جو شخص اچھا جانے گا وہی اس سے فائدہ اٹھائے گا ایک شخص ایک چیز کو اچھا ہی نہیں جانتا تو وہ اس چیز کو کلام میں کیا لائے گا اور اس سے فائدہ کیا اٹھائے گا۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 116 ج 6۔ )
(2 ؎ مشکوٰۃ شریف کتاب الایمان فصل ثالث )
Ayahs 51:56–6056۔ 60۔ صحیح 1 ؎ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر بچہ ملت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر ماں باپ اگر برے ہوئے تو ان کی صحبت سے وہ بچہ بگڑ جاتا ہے۔ مسلم 2 ؎ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب تک بچہ بولنا سیکھتا ہے اس وقت تک اس کی حالت ملت اسلام پر ہونے کی قائم رہتی ہے۔ معنی اس حدیث کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مثلاً انسان کو جس طرح آنکھیں دیکھنے کے لئے اور کان سننے کے لئے دیئے ہیں اسی طرح ہر انسان کے دل میں حق بات کے قبول کرنے کی ایک صلاحیت رکھی ہے۔ اسی صلاحیت پر ہر بچہ ہوتا ہے اب جو لوگ علم ازلی الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں وہ اس صلاحیت کے سبب سے نیک راستہ سے لگ جاتے ہیں۔ اور جو لوگ علم الٰہی میں بدقرار پا چکے ہیں وہ اس صلاحیت کو کام میں نہیں لاتے اللہ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور طرح طرح کی نافرمانی کرتے ہیں اور اسی حال میں بغیر توبہ کے مرجاتے ہیں وہ علم الٰہی کے موافق اخیر کو دوزخی قرارپائیں گے۔ علم الٰہی کا نتیجہ کسی شخص کو دنیا میں معلوم نہیں اس لئے شریعت میں ہر شخص کو نیک کام کرنے اور برے کام سے بچنے کی تاکید ہے اب جو کوئی اس کے برخلاف عمل کرے گا وہ مواخذہ کے قابل ہے کیونکہ دنیا کے پیدا کئے جانے سے پہلے علم الٰہی میں یہی ٹھہرا تھا کہ دنیا کے پیدا کئے جانے کی صورت میں جب بعض لوگوں کو نیک و بد کا اختیار دے کر دنیا میں پیدا کیا جائے گا تو یہ لوگ باوجود اللہ کے رسولوں کی فہمایش کے بدی سے باز نہ آئیں گے اور آخر کو جہنم میں جائیں گے۔ اب جبکہ دنیا میں آنے کے بعد بعض لوگوں نے علم الٰہی کے نتیجہ کے موافق اعمال کئے تو اس نتیجہ کے موافق سزا بھی ان کو بھگتنی چاہئے۔ حاصل یہ کہ علم الٰہی اور تقدیر الٰہی میں بغیر برائی کرنے کے کسی کے ذمہ کوئی برائی نہیں لگائی گئی ہے بلکہ برائی کے ظہور میں آنے سے پہلے مثلاً یہ بات علم الٰہی میں تھی کہ فرعون اور ابوجہل کو آزادی دے کر دنیا میں پیدا کیا جائے گا تو یہ شریر النفس ایسی ایسی برائیاں کریں گے اور ان برائیوں کی سزا میں ان کا ٹھکانا اخیر کو دوزخ ہوگا۔ علم الٰہی کا یہی نتیجہ لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے اسی کا نام تقدیر الٰہی ہے دنیا میں نیک و بد عمل کی آزادی ہر ایک کو اس لئے دی گئی ہے کہ دنیا نیک و بد کے امتحان کی جگہ ہے۔ اگر اسی آزادی میں کچھ مجبور کا دخل ہوتا تو پھر امتحان باقی نہیں رہ سکتا تھا۔ اسی واسطے قیامت کی علامت کے ظاہر ہوجانے کے بعد ایک مجبوری کا وقت جب آجائے گا تو اس وقت کا ایمان اس وقت کی توبہ کچھ قبول نہیں ہے۔ 1 ؎ اس حدیث اور آیت وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون کا مطلب ایک ہے اس لئے یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنی عبادت کے ساتھ اپنی رزاقی کا ذکر جو فرمایا اس کی تفسیر ترمذی 2 ؎ ابن ماجہ صحیح ابن جان مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی میں یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص خالص دل سے میری عبادت میں لگا رہے گا میں اس کو روزی رزق سے تنگ حال نہ رکھوں گا۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ 3 ؎ اس مضمون کی ایک حدیث قدسی ابی امامہ کی روایت سے مستدرک 4 ؎ حاکم میں ہے اس کو بھی حاکم نے صحیح کہا ہے۔
عرب میں لوگوں کے پاس غلام بہت تھے وہ لوگ اپنے غلاموں کو یا تو کسی کمائی کے کام میں لگا کر اس آمدنی کو اپنے خرچ میں لاتے تھے یا ان غلاموں سے اپنے گھر کے کام کاج میں مدد لیتے تھے اسی واسطے فرمایا کہ ان دونوں باتوں میں سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کوئی بات نہیں چاہتا۔ وہ خود تمام عالم کا رازق ہے کسی کی کمائی کی اسے کیا پروا ہے۔ اسی طرح وہ ایسا صاحب قوت ہے کہ کسی کی مدد کا وہ اپنے کام میں محتاج نہیں۔ صحیح مسلم 5 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا اے شخص میں نے تجھ سے دنیا میں کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہیں دیا۔ میں نے تجھ سے پانی مانگا تو نے مجھ کو پانی نہیں دیا۔ میں بیمار پڑا تو میری خیریت پوچھنے کو نہیں آیا۔ وہ شخص کہے گا یا اللہ تو بھوک پیاس بیماری ‘ ان سب باتوں سے پاک ہے میں کس طرح تجھ کو کھانا پانی دیتا اور کیونکر تیری خیریت پوچھنے آتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ اس اپنے بندے کو سمجھائے گا کہ دنیا میں میرا فلانا بندہ بھوکا تھا تو نے اس کو کھانا نہیں دیا۔ اگر تو اس کو کھانا دیتا تو وہ کھانا گویا مجھ کو پہنچتا اور آج اس کا اجر تجھ کو پہنچ جاتا۔ پھر اسی طرح پیاسے اور بیمار کر ذکر فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی ذات تو سب ضرورتوں سے بےپرواہ ہے لیکن اس نے اپنی مخلوق ضرورتوں کے رفع کرنے کو وہ مرتبہ دیا ہے جس کا ذکر اس صحیح حدیث میں ہے ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس مرتبے کے حاصل کرنے کی جہاں تک ہو سکے کوشش کرے آخر سورة میں اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ لوگ عذاب کی جلدی گھڑی گھڑی کیا کرتے ہیں۔ پچھلی امتوں کے عذاب کا حال ان کو سنا دیا گیا اگر ان امتوں کی طرح یہ لوگ بھی نافرمانی سے باز نہ آئے تو ایک دن وہی خرابی ان کے نصیب میں ہے فقط وقت مقررہ آنے کی دیر ہے۔ ذنوب بڑے ڈول کو کہتے ہیں عرب کے ملک میں پانی کی قلت ہے اس واسطے قبیلہ کے کنویں میں سے ایک بڑا ڈول بھرا جاتا تھا اور وہ پانی آپس میں حسب حصہ رسد بانٹ لیتے تھے اسی سبب سے پھر رفتہ رفتہ ذنوب حصہ کے معنی میں بولا جانے لگا۔
(1 ؎ صحیح بخاری باب اللہ اعلم بما کانوا عاملین ص 976 ج 2۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم باب معنی کل مولود یولد علی الفطرۃ الخ ص 336 ج 2۔ )
(1 ؎ صحیح مسلم باب بیان الزمن الذی لایقبل فیہ الایمان ص 88 ج 1۔ )
(2 ؎ مشکوٰۃ شریف۔ باب فی النصائح ص 440 فصل ثانی و ترغیب ترہیب ‘ باب الترغیب فی العبادۃ ص 202 ج 4۔ )
(3 ؎ مشکوٰۃ شریف۔ باب فی النصائح ص 440 فصل ثانی و ترغیب ترہیب ‘ باب الترغیب فی العبادۃ ص 202 ج 4۔ ص 203) (4 ؎ مشکوٰۃ شریف۔ باب فی النصائح ص 440 فصل ثانی و ترغیب ترہیب ‘ باب الترغیب فی العبادۃ ص 202 ج 4۔ ص 201۔ )
(5 ؎ صحیح مسلم باب فضل عیادۃ المریض ص 318 ج 2۔ )