Ayahs 52:35–4335۔ 43۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو خود پیدا کرلیا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں۔ ان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا۔ پھر یہ خودبخود کیونکر پیدا ہوگئے۔ اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں اور اللہ کے خالق رازق ہونے کے یہ لوگ قائل ہیں تو اللہ کے رسول ﷺ بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو۔ پھر فرمایا اللہ کے خالق و رازق ہونے کی شہادت میں تو آسمان و زمیان ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں انہوں نے یا ان کے جھوٹے معبودوں نے کوئی آسمان و زمین پیدا کیا ہو تو لائیں دکھلائی۔ اصل یہ ہے کہ ان کے جی میں عقبیٰ کا یقین نہیں ہے ورنہ اپنی عاقبت یہ ایسی خراب نہ کرتے۔ پھر فرمایا اللہ کے رسول کی بددعا سے ان پر رزق کی تنگی ہوئی اور سخت قحط پڑا وہ تو ان کو معلوم ہے ان کے یا ان کے جھوٹے معبودوں کے اختیار میں اللہ تعالیٰ کے خزانے تھے یا اللہ تعالیٰ کے انتظام کی داروغائی ان کو یا ان کے جھوٹے معبودوں کو تھی تو پھر انہوں نے اس قحط کو کیوں نہیں رفع کیا۔ جب ان کے جھوٹے معبودوں سے اتنا بھی نہ ہوسکا تو پھر ان کو اللہ کے شریک ٹھہرانے کا کیا حق ہے۔ صحیحین 1 ؎ میں عبد اللہ بن مسعود کی روایت سے اس قحط کے قصہ کا ذکر آیا ہے پھر فرمایا جس شرک کو انہوں نے حق اور ملت ابراہیمی ٹھہرا رکھا ہے اللہ نے جو اپنے رسول سے وحی بھیجی ہے اس میں تو اس کی جابجا مذمت ہے پھر ان کے پاس کوئی آسمان تک سیڑھی ہے جس سے آسمان پر چڑھ کر انہوں نے یہ جان لیا کہ جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ حق ہے اگر ایسا ہے تو اس کو ثابت کیا جائے ورنہ اللہ کے رسول کی نصیحت کو مان کر شرک کو چھوڑا جائے۔ پھر فرمایا ان لوگوں کو اپنی عقل پر یہاں تک بھروسہ ہے کہ اپنی عقلی باتوں سے آسمانی وحی کے مقابلہ کو مستعد ہیں۔ کیا عقل مند ایسے ہی ہوتے ہیں کہ اپنی اولاد میں جب بیٹی ہو تو اس کو برا سمجھتے ہیں اور اللہ کے فرشتوں کو یہ لوگ اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں پھر فرمایا کہ کیا اللہ کے رسول اللہ کا حکم سنانے پر ان لوگوں سے کچھ اجرت مانگتے ہیں کہ اس چٹی کے بوجھ سے یہ لوگ اللہ کا حکم سننے سے بھاگتے ہیں۔ پھر فرمایا کیا ان کے پاس لوح محفوظ ہے کہ اس میں سے اللہ کی مرضی کی باتیں یہ لکھ لیتے ہیں اور ان کو اپنا دین ٹھہراتے ہیں اور وحی آسمانی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے رسول پر جو دین کی باتیں اترتی ہیں ان کو نہیں مانتے پھر فرمایا کہ یہ لوگ جو اللہ کے رسول کی وفات کے منتظر ہیں تو کیا اللہ کے رسول کے ساتھ کوئی ایسا فریب کرنے والے ہیں جس سے اللہ کے رسول کو کچھ ضرر پہنچے گا۔ اگر ایسا کریں گے تو یہ بات ان لوگوں کو یاد رہے کہ ان کا وہ فریب ان پر ہی الٹ پڑے گا اللہ کے رسول کو کچھ ضرر اس سے نہ پہنچے گا یہ آیت قرآن شریف کے کلام الٰہی اور آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے کی دلیل ہے کیونکہ یہ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ قریش نے دارالندوہ میں جمع ہو کر آنحضرت ﷺ پر تلواروں سے وار کرنے کا فریب جو سوچا تھا وہ عین ہجرت کی رات کا مشورہ تھا۔ اور یہ آیت ہجرت سے پہلے کی مکی ہے۔ ہجرت کی رات کے بعد جو حصہ قرآن شریف کا نازل ہوا وہ مکی نہیں کہلاتا غرض ہجرت کی رات جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کی خبر اس مکی آیت میں پہلے سے ہی دی ہے جو ایک معجزہ ہے۔ سورة انفال میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قریش کے جتنے آدمی اس دارالندوہ کے مشورہ میں شریک تھے بدر کی لڑائی میں وہ سب مارے گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو فرمایا تھا کہ اللہ کے رسول کے مخالفوں کا فریب ان پر ہی الٹ پڑے گا۔ آخر کو ویسا ہی ہوا کہ بجائے اس کے کہ وہ مخالف لوگ اللہ کے رسول پر تلواروں کا حملہ کرتے خود ان ہی مخالفوں پر تلواروں کا حملہ ہو کر وہ سیدھے جہنم کو چلے گئے۔ پھر فرمایا کیا اللہ کے سوا ان لوگوں کا کوئی جھوٹا معبود ایسا ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے ان لوگوں کو چھڑائے پھر اخیر کو فرمایا اللہ کی شان ان سب شرک کی باتوں سے بالاتر ہے اور مشرک لوگ اپنی ان شرک کی باتوں کا خمیازہ ایک دن بھگتنے والے ہیں۔ صحیح 1 ؎ بخاری مسلم کی انس بن مالک کی حدیث اوپرگزر چکی ہے جس حاصل یہ ہے کہ جس دوزخی پر کم سے کم دوزخ کا عذاب ہوگا اس سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ اے شخص تیرے پاس ساری دنیا ہو تو اس کے بدلے میں دے کر اس عذاب سے نجات چاہے گا وہ کہے گا کہ ہاں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے بدنصیب تجھ سے تو دنیا میں یہ ایک چھوٹی سی بات چاہی گئی تھی کہ تو شرک نہ کیجئومگر تو نے نہ مانا اب اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی نجات نہیں ہوسکتی یہ حدیث اور اس قسم کی اور حدیثیں آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر ہیں کہ مشرک کو اللہ کے عذاب سے کوئی چیز نہیں چھڑا سکتی۔
Ayahs 52:44–4744۔ 47۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر قرآن اور یہ دین سچا ہے تو اللہ ہم پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسائے یا کوئی اور عذاب بھیج دے تاکہ اس دین کا سچا پن ہم کو معلوم ہوجائے اور سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ قریش میں کے چند آدمیوں نے کہا تھا کہ عذاب کے طور پر آسمان کا کوئی ٹکڑا بھی ہم پر گر پڑے تو بھی اس قرآن پر ایمان نہ لائیں گے غرض قریش کی ایسی ایسی باتوں کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے کہ ان لوگوں کی ڈھٹائی اب یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ قوم عاد یا قوم شعیب کی طرح آسمان پر کوئی عذاب کا بادل کا ٹکڑا بھی ان کو نظر آئے گا تو جب بھی انہیں عذاب کا یقین نہ آئے گا اور اس عذاب کے بادل کو جس طرح قوم عاد نے معمولی بادل بتایا تھا ویسا ہی یہ کہیں گے پھر فرمایا کہ جب ان لوگوں کی سرکشی اس درجے کو پہنچ گئی ہے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے۔ سمجھانے اور نصیحت کرنے کا موقع اب باقی نہیں رہا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے پھر ان کو ان کی سرکشی کی سزا مل جائے گی دنیا میں کچھ عذاب ان پر آئے گا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ عذاب آخرت میں گرفتار رہیں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے دنیا کا عذاب بدر کی لڑائی میں آیا کہ ستر آدمی بڑے بڑے سرکش قریش کی بڑی ذلت اور خواری سے اس لڑائی میں مارے گئے اور ستر قید ہوئے اور ہر ایک شخص کی آنکھیں تو اس قابل نہیں ہیں کہ وہ دنیا کی آنکھوں سے عذاب آخرت کو دنیا میں دیکھ سکے مگر اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو ان سرکشوں کے عذاب آخرت کا حال بھی دنیا میں دکھلا دیا۔ اسی واسطے آپ نے ان سرکشوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کا وعدہ سچا پا لیا۔ چناچہ مسند امام احمد صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس بن مالک کی روایت میں اس قصہ کا ذکر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی فرمائی کہ اگر ان لوگوں کی یہی سرکشی باقی رہی تو عذاب آخرت سے پہلے ان پر کوئی دنیا کا عذاب آجائے گا وقت مقررہ تک حکم الٰہی کا انتظار اور اس وقت تک صبر کرنا چاہئے بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا ظہورہوا۔ آنحضرت ﷺ کو پہلے سے اللہ تعالیٰ نے جتلا دیا تھا کہ اس بدر کی لڑائی میں قریش پر آفت آئی گی۔ چناچہ صحیح 2 ؎ مسلم میں انس بن مالک حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے جگہ بتا دی تھی کہ یہاں ابوجہل کی لاش پڑی ہوگی اور یہاں فلاں شخص کی۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ان مخالفوں سے تمہاری جان کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے۔ یہاں مکی سورة میں تو مختصر طور پر فرمایا پھر مدنی سورة سورة مائدہ میں صراحت سے فرمایا : واللہ یعصمک من الناس۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے فرما دیا تھا کہ میری جان کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کی ترمذی 3 ؎ اور مستدرک حاکم کی روایت میں اس کا ذکر ہے اگرچہ ترمذی نے اس کو غریب کہا ہے مگر حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ (
(2 ؎ صحیح مسلم۔ باب غزوہ بدر ص 102 ج 2۔ )
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 245 ج 4۔ )
Ayahs 52:48–4948۔ 49۔ ابوجعفر بن جریرنے کھڑے ہونے کی تفسیر سوتے سے اٹھنے کے وقت کی کی ہے اور اس تفسیر کی تائید ان صحیح حدیثوں سے ہوتی ہے جو صحاح 4 ؎ میں ہیں کہ آنحضرت ﷺ سوتے سے اٹھ کر اکثر اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو کوئی سوتے سے اٹھ کر اللہ کی توحید بیان کرے اور پھر دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا قبول فرماتا ہے۔ سفیان 5 ؎ ثوری اور سلف نے کھڑے ہونے کی تفسیر کسی مجلس سے اٹھنے کی کی ہے اور دعا کفارۃ المجلس کی حدیث جو ترمذی 6 ؎ وغیرہ میں ہے۔ اس تفسیر کی تائید میں پیش کی ہے جس کو ترمذی نے صحیح کہا ہے لیکن حقیقت میں بات یہ ہے کہ آیت کا مطلب عام ہے اور دونوں قسم کی حدیثیں آیت کی تفسیر قرار پا سکتی ہیں۔ رات کی تسبیح کی تفسیر اکثر مفسروں نے تہجد کی اور تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی تسبیح کی تفسیر صبح کی دو سنت رکعتوں کی کی ہے۔ صحیحین 7 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نفل نمازوں میں سب سے زیادہ آنحضرت ﷺ کو صبح کی دو سنتوں کا خیال رہتا تھا۔ فقہ حنبلی میں یہ لکھا ہے کہ یہ دونوں رکعتیں واجب ہیں۔ اس پر اور علماء نے صحاح کی اس حدیث کے مضمون کے موافق اعتراض کیا ہے جس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص کو آپ نے رات دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا اس شخص نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کوئی نماز نہ پڑھوں گا آپ نے فرمایا اس سے زیادہ نفلی نماز ہے جس کے پڑھنے نہ پڑھنے کا تجھ کو اختیار ہے اس حدیث سے علماء نے وتر کے واجب ہونے کے قول کو بھی ضعیف قرار دیا ہے۔
(5 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 245 ج 4۔ )
(6 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی القوم یجلسون ولایذکرون اللہ ص 196 ج 2۔ )
(7 ؎ صححش بخاری باب تعاھد رکعتی الفجر الخ ص 156 ج 1۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری باب فضل من تقار من اللیل فصلی ص 155 ج 1 و تفسیر ابن کثیر ص 245 ج 4۔ )