52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 52:1

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

قسم ہے طور (کے رب ) کی

اور لکھی ہوئی کتاب کے رب کی قسم (و کتاب مسطور) 2 ؎ اس لکھی ہوئی کتاب سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین نے اس سے مراد اعمال نامہ لیا ہے ‘ بعض نے لوح محفوظ لکھا ہے اور بعض نے کتب سابقہ تورات و اناجیل مراد لی ہیں اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے۔ ہمارے خیال میں گزشتہ سورتوں اور آیتوں کے پیش نظر اس سے مراد قران کریم ہی لینا زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ سورة (ق والقرآن المجید) سے تقریباً تمام سورتوں کا ایک ہی موضوع چلا آ رہا ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ محقق ہے کہ جتنا قرآن کریم نازل ہوتا تھا ساتھ ساتھ نبی اعظم و آخر ﷺ لکھوا دیا کرتے تھے اور کتنے ہی صحابہ ؓ اس خدمت پر مامور کئے گئے تھے پھر ان میں سے جو بھی قریب اور وقت پر حاضر ہوتا وہ لکھ لیا کرتا تھا لہٰذا اس (کتاب مسطور) سے بھی قرآن کریم ہی مراد ہے تاہم ہم نے اوپر اشارہ کردیا ہے کہ ہمارے مفسرین نے اس سے جو جو کچھ سمجھا اور بیان کیا ہے اگر ان میں سے کوئی بات دل میں جمتی ہو تو بھی اس میں کوئی ایسی بات نہیں پھر جب قرآن کریم نے خود اس کی وضاحت نہیں کی ‘ ایسی کسی بات پر جزم لازم و ملزومم ضروری نہیں سمجھا گیا تو اس طرح کی وسعت کا ہونا نہ ہونے سے زیادہ بہتر ہے اور یہی صحیح ہے۔
Ayahs 52:2–3

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور لکھی ہوئی کتاب (کے رب ) کی

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

جو کشادہ اوراق میں ہے

اس کتاب کے رب کی قسم جو کشادہ اوراق میں ہے 3 ؎ (رق) کیا ہے ؟ (رق) اصل میں ہرن کی کھال کو کہا جاتا ہے اور قدیم زمانہ میں جس تحریر کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے اس کو ہرن کی کھال پر لکھا کرتے تھے تاکہ وہ دیر تک محفوظ رہ سکے اور یہ بھی کہ کاغذ اس وقت تک ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا پھر اس سے ہر اس چیز پر اس کا اطلاق ہونا شروع ہوگیا جس پر کچھ لکھا جائے اور اب جب کہ کاغذ ایجاد ہوگیا اور اس کا منشا بھی یہی ہے تو اب کاغذ اور اوراق کو (رق) کہا جانے لگا۔ اس لئے مفسرین میں سے بھی کسی نے کچھ اور کسی نے کچھ تحریر کیا ہے اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ وہی چیز ہے جس پر کچھ تحریر کیا جائے تاکہ وہ تحریر محفوظ رہے۔ چونکہ استعارتاً قرآن کریم نے اعمال نامہ پر بھی یہ لفظ یا اس طرح کے الفاظ تحریر کئے ہیں جیسے ارشاد فرمایا (و نخرج لہ یوم القیامۃ یلقاہ منشورا) (بنی اسرائیل : 13) ” اور ہم اس کے لئے قیامت کے دن ایک کتاب نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا “ اس نسبت سے اس کو اعمال نامہ بھی تحریر کیا گیا ہے اگرچہ اس جگہ مراد وہی قرآن کریم بھی لیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کو بحمد اللہ تحریر میں لا کر پھیلا دیا گیا ہے۔ اس لئے مفسرین نے بھی اس سے مختلف تحریرات ہی مراد لی ہیں خواہ وہ تورات ہے اور خواہ انجیل اور خواہ دوسری محفوظ رکھنے والی تحریرات اور ہمارے نزدیک پیلے آیت کی وضاحت کے طور پر اس سے قرآن کریم ہی مراد ہے جس کی نشر و اشاعت بحمد اللہ دنیا کی ہر آسمانی اور زمینی تحریرات سے زیادہ اہم اور خوبصورت انداز میں ہو رہی ہے اگرچہ زیادہ خوبصورتی کی بات اس کے مطابق اعمال کا ہونا ہی ہے اور یہی سمجھنا چاہئے اور یہی زیادہ خوبی کی بات ہے۔
Ayah 52:4

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور بیت معمور (کے رب ) کی

اور قسم ہے (بیت محمور) کے رب کی (والبینت المعمور) 4 ؎ (والبیت المعمور) کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ آسمان پر خواہ وہ تیسرا آسمان ہے ‘ چھٹا آسمان ہے یا ساتواں آسمان ہے کہ اس آسمان پر بیت اللہ کے محاذ پر فرشتوں کے لئے ایک عبادت گاہ تعمیر ہے جس میں ایک نماز میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور ایک بار جو اس میں داخل ہوتے ہیں ان کو دوبارہ داخل ہونے کا موقع نہیں ملتا۔ اسی کا نام (البیت المعمور) ہے۔ لغت میں اور کتب تفاسیر میں اس کو ” بیعت معمور “ اور کہیں ” بیعت المعمور “ اور کہیں قرآن کریم کے بیان کے مطابق (البیت المعمور) لکھا گیا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ عروۃ الوثقیٰ کے لئے العروۃ الوثقیٰ ہی کو صحیح اور عروۃ الوثقیٰ کو غلط کہنے والوں کی نظر پڑی ہے یا نہیں اور وہ اس میں کیا صحیح اور کیا غلط کہیں گے ؟ اس طرح تحریر کرنے والوں کو معلوم نہ ہوا یا وہ گرائمر سے واقف نہ تھے یا یہ کتابت کی غلطی ہے اور مصح حضرات نے اس طرف توجہ نہیں دی یا اس طرح تحریر کرنے والوں کے پیش نظر کیا تھا ہم نے محض مقتدین ہی کی تنقید کے لئے اس کا ذکر کیا ہے اور صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جن لوگوں کو گرائمر کا ہیضہ ہوتا ہے وہ اس طرح کی الٹی سیدھی کرتے رہتے ہیں اور اپنے علم کی نمود کی بنیاد ایسی ہی باتوں کو بناتے ہیں کہیں ابو الاعلیٰ پر اور کہیں غلام اللہ پر اور کہیں غزوہ الوثقیٰ پر ان کو اعتراض سوجھتا ہے تو ان میں میں میکھ نکال کر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ بہرحال بات ( بیت معمور) کی ہو رہی ہے اور مفسرین نے بھی اس میں بہت طول کلامی سے کام لی ا ہے۔ ہم نے صرف ماحصل بیان کیا ہے اور چونکہ گزشتہ آیتوں میں ہم نے قرآن کریم ہی کو ترجیح دی ہے اس لئے ہم اس جگہ بھی بیت اللہ ہی کو مراد لیتے ہیں کیونکہ اس کو قرآن کریم میں دوسری جگہ (بیعت العتیق) اور (بیت الحرام) یا صحیح تلفظ سے (البیت العتیق) اور (البیت الحرام) مراد لیا ہے اور یہی (البیت المعمور) یہی ہے۔ بہت پرانا اور پہلا گھر اور بہت حرمت والا گھر اور بہت ہی آباد گھر بیت اللہ یعنی کعبتہ اللہ ہی ہے اور جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے بحمد اللہ اس کا پہلا گھر ہونا ‘ حرمت والا گھر ہونا اور آباد گھر ہونا تسلیم کیا جائے گا اور جب اس دنیا کا نظام درہم برہم کردیا گیا تو عین ممکن ہے کہ اس کے محاذ پر آسمان ہی پر کوئی گھر آباد کر دیاجائے جو زیادہ عبادت گزاروں کی عبادت گاہ قرار پائے۔ لیکن دوسرے سیاروں میں بھی ایسے گھر آباد ہوں اور وہاں کی آبادی ان سے یہی عقیدت رکھتی ہو تو یہ بات بھی صحیح ہو سکتی ہے کہ دوسرے سیاروں میں آبادی کا پایا جانا اگرچہ اس وقت تک صحیح روشنی میں نہیں آیا تاہم عین ممکن ہے کہ آنے والے وقت میں کوئی اس طرح کی بات شہادت پیش کر دے لیکن اس سے جو انکشافات ہوں گے ان سے یہی لازم آئے گا کہ جس طرح بیت اللہ دنیا والوں کے لئے عبادت کا پہلا گھر ہے اسی طرح دوسرے سیارگان کے رہنے والوں کے لئے بھی کوئی عبادت گاہ بطور پہلا گھر موجود ہو۔ اگر آپ آسمان والے (البیت المعمور) کی وضاحت کو دیکھنا چاہیں تو فتح الباری ج 6 ص 220 طبع مصر اور معالم التنزیل امام بغوی ج 5 ص 13 طبع مصر 1332 ھ ملاحطہ کریں اور اگر ہمارے خیال سے متفق ہیں تو بیت اللہ کو اپنے عمرہ رمضان یا حج کے موقع پر دیکھنے کی کوشش کریں اور اس کی آبادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں کیونکہ یہ مشاہدہ کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 52:5

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت (کے رب ) کی

اور اونچی چھت کے رب کی رقسم (والسقف المرفوع) 5 ؎ (السقف المرفوع) کیا ہے ؟ اس سے مراد زیادہ تر مفسرین نے آسمان ہی لی ہے کہ بلند آسمان کو چھت کہا گیا ہے اور بعض نے اس سے مراد فرش عظیم بھی لی ہے جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس کے معنوں میں بھی وسعت بہرحال تسلیم ہے اور ہم اس سے بیت اللہ (البیت المعمور) ہی کی چھت مراد لیتے ہیں کہ اس کا ذکر پیچھے موجود ہے اور اس کی چھت ایک خاص اہتمام کے ساتھ نبی اعظم و آخر ﷺ کی اپنی زندگی میں نبوت سے پہلے ڈالی تھی جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے حجر اسود کے رکھنے کی ایک خاص ترتیب و ترکیب کی تھی اور یہ واقعہ بہت مشہور و معروف ہے تاہم آسمان کو چھت کہنے سے ہم کو کوئی انکار نہیں بلکہ ہم نے خود اس کی مکمل وضاحت سورة الانبیاء کی آیت 32 میں کردی ہے اس جگہ محض بیت اللہ کی نسبت سے اور (البیت المعمور) سے بیت اللہ سمجھنے سے اس کی چھت کو مراد لی ا ہے۔ اس کے معنوں میں وسعت موجود ہے جیسا کہ ہم اس وسعت کو بار بار تسلیم کر رہے ہیں اگر آپ کے دل کو اس جگہ بھی آسمان ہی کو مراد لینا زیادہ قرین قیاس یا بہتر معلوم ہوتا ہو تو زیادہ مفسرین کی حمایت آپ کو حاصل ہوجائے گی آپ اس کو مراد لے سکتے ہیں اور ہم کو اس میں بہرحال کوئی اعتراض نہیں۔ ہاں ! ہم نے اپنا مؤقف اور اپنی ترجیح کی وجہ بیان کردی ہے اور بعض مفسرین نے بھی اس سے بیت اللہ کی چھت مراد لی ہے۔
Ayah 52:6

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور ابلتے ہوئے سمندر (کے رب ) کی

6 ؎ (البحر المسجور) کیا ہے ؟ البحر دریا اور المسجور اسم مفعول واحد مزکر معنی بھرا ہوا ‘ لبریز۔ (مجاہد و کلبی (رح) ) بالکل خشک سوکھا ہوا۔ (حسن بصری رحمتہ اللہ ‘ قتادہ رحمتہ اللہ اور ابو العالیہ (رح)) شیریں اور شور مخلوط۔ (ربیع بن انس رحمتہ اللہ) تنور کی طرح سخت گرم۔ (محمد بن کعب قرظی ‘ ضحاک (رح)) مقاتل ہی کا قول ہے کہ ضحاک تو بتوسط نزال بن بسرہ سیدنا علی ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ (البحر المسجور) سے مراد وہ سمندر ہے جو عرش کے نیچے ہے قیامت کے قریب پہلا صور پھونکنے کے بعد جب جاندار مر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ چالیس روز تک اس سمندر سے بارش کرے گا جس کے باعث انسان قبروں سے سبزہ کی طرح اگ آئیں گے اس لئے اس سمندر کا نام بحر حیوان بھی ہے اور (سجر) خالص و درست کو کہتے ہیں اور سجوری ہلکے آدمی اور بیوقوف کا نام رکھا جاتا ہے اور لبالب بھرا ہوا دریا مجس میں سرد گرم ‘ میٹھا اور کھاری سب کچھ ملا کر ہم کو خبر دی گیا ہے اور ہر ایک کی الگ الگ نشاندہی کرائی گئی ہے وہ بحر بیکراں اور سمندر ہے جس کو کتاب اللہ اور قرآن کریم کہا جاتا ہے۔ جس کے اندر یہ سب بیان موجود ہیں اور یہ خیال ہمارا ہے معنوں کی وسعت کے لحاظ سے آپ استعارتاً یا اشارتاً ان میں سے کسی ایک مضمون کو دل میں جما سکتے ہیں اور ان سب کا رب ایک ہے اور ان سب کو شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ ان پر غور و فکر کر کے تم سمجھ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جس کا اس نے وعدہ دیا ہے ضرور آئے گا اور اس کا آنا لازم و ضروری قرار پایا ہے۔
Ayah 52:7

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا

بلاشبہ آپ ﷺ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا 7 ؎ یکے بعد دیگرے چھ قسموں سے بات کو موکد کر کے بیان کی اجا رہا ہے تاکہ وہ کسی شک و شبہ میں ملوث نہ سمجھی جائے اور اس پر یقین کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب قیامت کے روز واقع ہوگا اور ضرور ہوگا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ کافروں ‘ مشرکوں اور منافقوں کو اللہ تعالیٰ کا عذاب اپنی لپیٹ میں ضرور لے گا۔ جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے کہ بدر کے بعد مجھے مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجاتا کہ میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں آپ ﷺ سے بات چیت کروں میں جب آپ ﷺ کے پاس پہنچا تو اس وقت آپ ﷺ مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ کی آواز مسجد سے باہر آرہی تھی میں نے سنا کہ اس وقت آپ ﷺ نے سورة طور پڑھی (ان عذاب ربک لواقع) مالہ من دافع) پر پہنچے تو میرا دل خوف سے کانپ گیا تو میں نے اسی وقت مسلمان ہونے کا پکا عہد کرلیا۔
Ayah 52:8

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

جس کو کوئی ٹالنے والا نہیں

جب عذاب واقع ہوگا تو اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہو گا 8 ؎ یعنی ان لوگوں نے جو جو وسیلے ‘ واسطے بنا رکھے ہیں سب کے سب ٹوٹ جائیں گے اور کوئی واسطہ اور وسیلہ بھی اس وقت کام نہیں آئے گا۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہوگا خواہ یہ وہ عذاب ہے جو نافرمان قوموں کو ہلاک کرتا رہا جب کہ انہوں نے اپنے انبیاء کرام اور رسل عظام رحمتہ اللہ کی نافرمانیوں میں ساری حدود پھلانگ دیں اور خواہ یہ عذاب دوزخ کا عذاب ہے جو معاندین و مخالفین کے لئے لازم و ضروری قرار دیا گیا ہے ان دونوں ہی عذابوں کی نسبت اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف ہے اور لاریب ان کو کوئی شخص بھی ٹال نہیں سکتا۔
Ayah 52:9

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس روز آسمان بری طرح لرز رہا ہو گا

جس دن آسمان بری طرح لرزہ براندام ہوگا 9 ؎ (تمور) اور (مورا) کا ایک ہی مادہ ہے یعنی اور یہ دونوں لفظ اس مادہ کے فقط اس ایک ہی جگہ استعمال ہوئے ہیں (تمود) وہ پھٹتی ہے ‘ وہ پھٹ جائے گی ‘ وہ لرزتی ہے ‘ وہ لرزے گی ‘ وہ جنبش کرتی ہے ‘ وہ جنبش کرے گی ‘ وہ پھرتی ہے وہ پھرے گی۔ مور سے جس کے معنی پھرنے اور تیز چلنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب۔ مور کے معنی میں بھی بہت وسعت ہے اس لیے ترجمہ اور مفہوم میں بھی بہت وسعت رکھی گئی ہے جس روز آسمان حرکت کرے گا اور آسمان کے بعض اجزاء بعض میں درآمد برآمد ہوں گے ‘ آسمان تھرتھرانے لگا اور لغت میں یہ سب معنی موجود ہیں جیسے آنا ‘ جانا ‘ گھومنا ‘ پھرنا ‘ لرزنا ‘ تھرتھرانا۔ (القاموس)
Ayah 52:10

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ ادھر ادھر اڑنے لگیں گے

اس روز پہاڑ ادھر ادھر اڑنے لگیں گے 10 ؎ (تسیر) وہ چلتی ہے ‘ وہ چلے گی (سیر) سے جس کے معنی چلنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد مونث غائب (تسیر الجبال) پہاڑ اڑنے لگیں ۔ (تیسر) کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو سائر یعنی جو چلنے والے کے امرو اختیار اور ارادہ سے ہو جیسے (ھو الذی یسیر کم) وہی ہے جو تم کو چلاتا ہے اور دوسرے وہ جو بذریعہ قہر و تسخیر کے ہو جیسے کہ پہاڑوں کی تسخیر ہے یعنی پہاڑ چلائے جائیں گے یا روئی کے گالوں کی طرح اڑائے جائیں گے ‘ چلائے جائیں گے ‘ چلائے جانا اور اڑائے جائیں گے اڑائے جانا۔
Ayah 52:11

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

پھر اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے

پھر اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے 11 ؎ اس روز ان لوگو کے لئے بہت ہی خرابی ہوگی جو عذاب الٰہی کو جھٹلایا کرتے تھے خواہ یہ وہ عذاب ہے جو دنیا میں نافرمان قوموں کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور خواہ یہ وہ عذاب ہے جو قیامت کے روز مخالفین و و معاندین ‘ کافروں ‘ مشرکوں اور منافقوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے کیونکہ ان کو جب اس عذاب کی خبر دی گئی تو انہوں نے اس سے انکار کیا اور تسلیم کرنے کے لئے قطعاً تیار نہ ہوئے اور بیہودگیوں میں مشغول رہے۔ (مکذبین) ” جھوٹ قرار دینے والے “۔
Ayah 52:12

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو کھیل میں مصروف باتیں بناتے ہیں

جو کھیل کود میں مصروف ہیں اور مختلف طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ 12 ؎ (خوض) بیہودہ گوئی ‘ باتیں بنانا ‘ گھسنا خاص یا خوض کا مصدر ہے اصل میں خوض کے معنی پانی میں گھسنے کے ہیں اور بطور استعارہ سب کاموں میں گھسنے کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ امام راغب رحمتہ اللہ لکھتے ہیں کہ : ” یعنی خوض کے اصل معنی تو پانی میں گھسنا اور اس میں سے گزرنے کے ہیں اور بطور استعارہ کوئی کام شروع کرنے کو بھی کہتے ہیں لیکن قرآن کریم میں اکثر کسی ایسے کام میں شروع ہونے کے لئے استعمال ہوا ہے جو کام اللہ تعالیٰ کے نزدیک مذموم اور ناپسندیدہ ہے اور اس جگہ اس کا مفہوم کیا ہے ؟ اس کا مفہوم اس جگہ یہ ہے کہ کار قیامت ‘ حشر و نشر اور اسی طرح دوسرے اسلامی نظریات کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہیں لیکن سنجیدگی اور متانت سے نہیں اور نہ ہی سمجھنے کی غرض وغایت سے بلکہ محض دل لگی کے لئے اور وقت گزاری کے لئے تحقیق حق ان کے پیش نظر نہیں ہوتی بلکہ وہ محض استہزاء اور مذاق اڑانے کے لئے ایسا کرتے ہیں اور اس طرح چاریاری میں ہی ہی اور ہا ہا کے لئے کوئی بحث چھیڑ دیتے ہیں۔ اس جگہ بات تو کفار کی ہو رہی ہے لیکن اس وقت جو حالت مسلمانوں کی ہے وہ بھی من و عن یہی ہے اگر کوئی فرق ہے تو محض نام کا ہے ‘ کام میں ذرا بھر بھی فرق نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 52:13

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس روز وہ آتش دوزخ کی طرف دھکیل کرلے جائے جائیں گے

جس روز وہ آتش دوزخ کی طرف دھکیل کرلے جائے جائیں گے 13 ؎ (یدعون) جمع مذکر غائب مضارع مجہول اس کا اصل مادہ د ع ع ہے دع کے معنی ان کے دھکے دے کر ہنکایا جائے گا۔ اور دعا دع یدع کا مصدر ہے۔ دھکیلنا ‘ دھکے دینا یعنی ان کو دیکھے دے کر نکالا جائے گا ‘ دھکے دے کر نکالنا۔ یعنی جس روز ان کو دھکے دے کر دوزخ کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا اور یہ وہ صورت ہے کہ جب کوئی شخص کسی جگہ میں داخل ہونے کے لئے تیار نہ ہو تو اس کو دھکے دے کر اس مقام کی طرف لے جایا جائے اور نہایت سختی کے ساتھ وہاں لے جا کر کھڑا کردیا جائے اور وہ وہاں داخل ہونے اور کھڑا ہونے پر مجبور ہوجائے۔
Ayah 52:14

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

(کہا جائے گا) یہی وہ آگ ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ آگ ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔ 14 ؎ جب ان مخالفین و معاندین جو کفر ‘ شرک اور منافقت سے باز نہ آتے تھے قیامت کے روز ان کو ہنکا کر دوزخ کے کنارے لا کھڑا کی اجائے گا تو اس میں دھکیل کر یادھکیل دینے کے بعد کہا جائے گا کہ یہی وہ آگ ہے جس کو تم دنیاوی زندگی میں جھٹلایا کرتے تھے اور باوجود انباکء و رسل کے اس آگ سے ڈرانے کے تم اس کو تلسیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے اور بجائے اس کے کہ تم اس کو تسلیم کرتے تم نے انبیاء کرام اور سل عظام (علیہ السلام) کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔
Ayah 52:15

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

(بتاؤ ) کیا یہ جادو ہے ؟ کیا تم اسے دیکھ نہیں رہے ؟

اب تم بتائو کہ کیا یہ جادو ہے ‘ کیا تم اسے دیکھ نہیں رہے ؟ 15 ؎ اس وقت دنیا میں جب تم کو ہمارے نبیوں اور رسولوں نے اس آگ سے ڈرایا اور اس کے شعلوں سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تو تم ان کا مذاق اڑاتے رہے اور پھر مذاق ہی مذاق میں کبھی ان کو جادو گر قرار دیا اور کبھی سحر زدہ ‘ کبھی ان کو مجنون کہا اور کبھی کاہن و شاعر ہونے کا الزام لگایا اور اس طرح تم اپنی ضد پر آڑے رہے اور پھر مذاق ہی مذاق میں کبھی ان کو جادوگر قرار دیا اور کبھی سحر زدہ کبھی ان کو مجنون کہا اور کبھی کاہن و شاعر ہونے کا الزام لگایا اور اس طرح تم اپنی ضد پر ڑے رہے اب تم ہی بتائو کہ یہ آگ جو تمہارے سامنے ہے اور تم اس میں ڈالے جا رہے ہو کیا یہ جادو ہے یا تم سحر زدہ ہو رہے چونکہ اب تو تم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کیا اب بھی یقین آیا ہے یا نہیں ؟
Ayah 52:16

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

(اچھا) اس میں چلے جاؤ ، اب تم صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لیے برابر ہے ، تم کو محض تمہارے اعمال کا بدلہ مل رہا ہے

اچھا اس میں داخل ہو جائو اور تم صبر کرو یا نہ کرو بہرحال جو کچھ کرو تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہیۃ 16 ؎ بہرحال اب کیا نہیں ہے ‘ تم کیا تسلیم کرو اور کیا تسلیم نہ کرو اس بحث میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اب تم کو اس میں داخل ہونا ہے اس پر صبر کرو یا نہ کرو اگر تم صبر نہیں کرو گے تو کیا کرو گے ؟ جو بھی کرو گے تمہارے لئے برابر ہے کیونکہ تمہارے اعمال کا تم کو ضرور بدلہ دیا جائے گا اور کسی حال میں بھی تم اس سے بچ نہیں سکتے اگر تمہارے حق میں اس دوزخ کا فیصلہ ہوا ہے اور اس میں تم کو دھکیلا جا رہا ہے تو تمہارے ہی اعمال کا یہ بدلہ ہے تم پر کسی طرح کا ظلم و زیادتی نہیں کی جا رہی اور پھر تم کو یہ پہلے ہی بتا دیا گیا تھا اگر تم کو یقین نہیں آیا تھا تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے ؟ اچھا اب ان لوگوں کو بھی ذرا دیکھو جن کا نام سنتے ہی تم ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور ان کو طرح طرح کے ناموں سے تم یاد کیا کرتے تھے۔
Ayah 52:17

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ سے ڈرنے والے جنتوں اور نعمتوں میں ہوں گے

بلا شبہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے جنتوں اور نعمتوں میں ہوں گے 17 ۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ وہی ہیں جن کو تم بادی الرای اور رذیل لوگ خیال کیا کرتے تھے جن کے ساتھ مل کر بیٹھنا اور ان کی موجودگی میں بات کرنا اور ایک مجلس میں مل کر بیٹھنا تم پر شاق گزرتا تھا۔ جن کو دیکھتے ہی تمہارے چہروں پر بل پڑجاتے تھے اور تم ان کو دیکھ کر ناخوش ہوجاتے تھے ان کی غربت کے پیش نظر تم ان کو مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے نظریہ پر پھبتی کستے تھے اور کتنی بار تم نے ان سے محنت و مزدوری کرا کر ان کو کہا کہ تم روز جزا پر ایمان رکھتے ہو ؟ اور انہوں نے جب اثبات میں جواب دیا تو تم نے ایک بہت بڑا قہقہہ لگایا اور کہہ دیا کہ اچھا پھر اسی روز چل کر ہم سے مزدوری لے لینا۔ ہاں ! اگر اب نقد مزدوری چاہتے ہو تو آخرت کا انکار کردو لیکن انہوں نے تم سے مزدوری وصول کرنا چھوڑ دیا لیکن آخرت کا انکار نہ کیا۔ وہ دیکھو اور ان کو اچھی طرح پہچان لو کہ کیا وہ وہی ہیں ؟ ہاں ! لاریب وہی ہیں جو جنتوں میں سر و سیاحت کرتے اور جنت کی نعمتیں حاصل کرتے ہیں اور جو چاہتے ہیں ان کے سامنے حاضر کردیا جاتا ہے۔
Ayah 52:18

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

ان کے رب نے جو انہیں عطا کیا اس سے خوش ہوں گے اور ان کے رب نے ان کو جہنم سے بچا لیا

رب کریم نے جو انہیں عطا کیا اس پر وہ خوش ہیں اور بڑی خوشی یہ ہے کہ وہ جہنم سے بچ گئے۔ 18: فاکھین اسم فاعل جمع مذکر فاکھۃ واحد۔ محلی نے اس کا ترجمہ کیا ہے فاعیین۔ یعنی آرام پانے والے یا مزے اڑانے والے۔ صاوی نے اس کی تائید کے بعد یہ بھی لکھا ہے فکھین اور فاکھین دونوں کے معنی ہی مذاق اڑانے والے۔ اور اس طرح مفہوم یہ ہوگا کہ یہ وہی ہیں جن کا تم مذاق اڑایا کرتے تھے اور ان کو طرح طرح سے استہزا $ کا نشانہ بناتے تھے اب جب کہ ان کو اللہ نے جنت الفردوس میں داخل کردیا ہے تو گویا ان کی یہ حالت تمہارے لیے باعث مذاق ہوگئی ہے کہ جس مقام کے تم اپنے آپ کو اہل سمجھتے تھے اس کے اہل وہ ہوگئے ہیں اور جس مقام کا تم ان کو سمجھتے تھے وہ نتیجہ کے لحاظ سے تمہارے حصہ میں آیا ہے تو گویا ان کی اس حالت نے تم کو خود بخود مذاق بنا دیا ہے سچ ہے کہ تلک الایام نداولھا بین الناس۔ دنیا میں تم بڑے بنے بیٹھے تھے اور آخرت میں ان کو بڑا بنا دیا گیا ہے اور ساری رذالت تمہارے حصہ میں آگئی ہے اور اللہ نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا کر ان عالی شان باغات اور ان کے محلات میں لا بسایا ہے۔
Ayah 52:19

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

بڑے مزے سے کھاؤ پیو یہ تمہارے ان کاموں کا بدلہ ہے جو تم کرتے تھے

ان سے کہا گیا ہے کہ بڑے مزے سے رہو اور خوب کھاؤ پیو یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے : 19: ان لوگوں کو جنت میں داخل کرکے ان کے حصہ کی جنت کی نشاندہی کرا دی جائے گی اور ان کو کہا جائے گا کہ اس میں رہو ، خوب کھاؤ پیو اور عیش و مزہ کی زندگی گزارو اور اچھی طرح جان لو کہ تم کو یہاں سے کبھی نہیں نکالا جائے گا اور یہ بھی کہ جو کچھ تم کو دیا گیا ہے یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے یعنی یہ تمہارا حق ہے اس لیے اب جنت کے اس حصہ کا تم کو وارث بنا دیا گیا ہے اور حق کو بطور حق استعمال کرنے میں جو نشہ ہے وہ مانگے کی اور ادھار چیز میں کہاں ہے اس لیے ان کو کہا گیا ہے کہ یہ جنت جو تم کو دی گئی ہے یہ تمہارا حق تھا اور اس کو تم بطور حق استعمال کرو۔ اس میں یہ سبق بھی مخفی ہے کہ دینے والا دے کر احسان نہ جتائے لیکن لینے والا لے کر ضرور دینے والے کا شکریہ ادا کرے اور یہ عادت انہوں نے ماشاء اللہ دنیا میں اپنائی تھی جس کے باعث ان کی پذیرائی کی گئی اور ان کی وہ محنت قبول کی گئی جس کا صلہ ان کو اسی کے مطابق دیا گیا لیکن اہل جنت اس کو اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل ہی سمجھیں گے اور وہ دنیا سے بھی بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی توحید کی نغمہ سرائی کو الاپیں گے کیونکہ یہ بات ان کی فطرت میں داخل کردی گئی ہے۔
Ayah 52:20

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

وہ بچھے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور بڑی آنکھوں والی حوروں کو ہم ان کی بیویاں بنائیں گے

وہ بچھے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم عمر رانیاں ان کے ساتھ ہوں گی : 20: دنیوی زندگی میں انسان جس چیز کو انعام و اکرام اور لطف اندوز ہونے والی چیزیں سمجھتا ہے بلکہ جن سے لطف اندوز ہوتا ہے ان چیزوں کا ذکر جب اس کے سامنے کیا جاتا ہے تو اس کی خوشی کی انتہا نہیں ہوتی اور پھر جب وہ چیزیں اس کو مل جاتی ہیں اور وہ فی الواقع ان سے لطف اندوز ہوتا ہے تو اس وقت ان کی اصلیت کھل کر اس کے سامنے آجاتی ہے اور وہ گویا خواب سے نکل کر مشاہدہ میں آجاتا ہے اور یہی بات اس آخرت کی زندگی کی ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں جن چیزوں سے انسان لطف اندوز ہوتا ہے اگر ان چیزوں کے علاوہ اس کو کوئی چیز سمجھانا ہو تو وہ ہرگز ہرگز سمجھ نہیں سکتا اس لیے قرآن کریم نے انہی باتوں میں آخرت کی زندگی کے انعامات کا ذکر کیا ہے اور اس کی تفصیل کی ہے اور ہم نے اس کی وضاحت پیچھے سورة الصافات کی آیت 42 تا 50 اور سورة الدخان کی آیت 51 تا 57 میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔ زیر نظر آیت میں بھی فرمایا گیا ہے کہ وہ تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے آرام و سکون سے بیٹھے ہوں گے اور ہم کشادہ آنکھوں والی رانیاں اور ان کے جوڑ کی ان کو ددے دیں گے اور بلاشبہ مرد عورت کے لیے اور عورت مرد کے لیے سکون کا باعث ہے اور خصوصاً اس وقت جب کہ مزاج بھی ایک جیسے ہوں اور دونوں ایک دوسرے کا احترام کرنے والے ہوں کہ ایک بات کہے اور دوسرا کان لگا کر سنے وہ ایسی روکھی پھیکی نہ ہو کہ دوسرے سنتے ہی برداشت نہ کرسکے اور جنت میں تو دنیا کی کوئی مشکل حائل ہی نہ ہوگی وہاں تو ایک دوسرے کی رضا ومرضی کی تلاش کے سوا کوئی کام ہی نہیں ہوگا کیونکہ دنیا کی ہیچ کھیچ وہاں موجود ہی نہ ہوگی اور وہ زندگی ایسی پاکیزہ زندگی ہوگی کہ اس کا تصور اس دنیا میں رہنے والے نہیں کرسکتے۔
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی ہم ان کی اولاد کو ان سے ملا دیں گے اور ان کے اعمال میں ہم کچھ کمی نہیں کریں گے ، ہر شخص اپنے اعمال کی پاداش میں گرفتار ہو گا

اور ہم ایمان والوں کے ساتھ ان کی ایمان والی اولاد کو ملا دیں گے۔ 21: اولادبلاشبہ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک انعام ہے بشرطیکہ وہ نیک ہو اور ماں باپ کی فرمانبردار بھی ہو اور خوش اخلاق بھی اور یہی حال دوسری رشتہ داریوں کا ہے کہ اللہ کرے دلوں میں ان کے قرب کے باعث کوئی خلش نہ پیدا ہوجائے جو سرور کو متاثر کردے یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی جا رہی ہے کہ نیک لوگوں کی وہ الواد جو نیک ہوگی اور اپنے اعمال کے باعث جنت کی مستحق ہوگی تو وہ یقیناً ان کے ساتھ ملا دی جائے گی اور یہ میل ملاپ ان کے ایمان کا نتیجہ ہوگا اور اس طرح والدین اولاد کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے اور نیک اولاد بھی والدین کی معیت حاصل کرکے یقیناً خوش ہوگی۔ ہاں ! رہی مشرکوں ، کافروں اور منافقوں کی اولاد جو بچپن ہی میں وفات پاگئی اور ان کے اعمال کا بھی کوئی جواز ابھی نہ پیدا ہوا تھا تو ان کے بارے میں اگرچہ متضاد اقوال بیان کیے گئے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے اور اس لحاظ سے وہ جنت میں جائیں گے اور یقیناً وہ دوزخ میں جانے والے اپنے والدین کی معیت میں جانے کے لیے تیار بھی نہیں ہوں گے اور یہ بات مشاہدہ کی جاسکتی ہے کہ کوئی انسان بھی اگر اس کو خوش حالی میسر آجائے تو اس کو چھوڑ کر مجبوراً ہی بد حالی کی طرف جاتا ہے خوشی سے اس کو کبھی نہیں چھوڑتا یعنی عسر کی بجائے یسر کو پسند کرتا ہے بہرحال یہ بات ہماری بحث سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کا ذکر ضمناً آگیا ہے جو بات ہو رہی ہے وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ نیک لوگوں کی اولاد جو نیک ہوگی اور بلوغت کے بعد وہ بھی جنت ہی کے اعمال کرنے والی ہوگی تو ان کی آپس میں ملاقات ہوگی اور وہ جنت میں اکٹھے کردئیے جائیں گے اور ظاہر ہے کہ اس طرح دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے سکھ اور چن کا اباعث ہوں گے۔ یہ مضمون اس سے پہلے ہم عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 23 ، جلد ششم سورة ال مومن کی آیت 8 میں بیان کرچکے ہیں کیونکہ ان آیات میں بھی یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اہل جنت کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کی بیویوں سے جو جو افراد بھی نیک اور صالح ہوں گے وہ سب جنت میں اکٹھے کردئیے جائیں گے۔ لیکن اس جگہ ایک مزید خوشخبری یہ دی گئی ہے کہ نیک اولاد جو جنت کی مستحق ٹھہرے گی اگر ان کے والدین کے صالح اعمال اولاد کے اعمال سے درجات کے لحاظ سے بلند ہوں گے تو اولاد کے لیے نیک لوگوں کی اولاد ہونے کے باعث ان کے والدین سے ان کو ملا دیا جائے گا یا نیک والدین کے بلند درجات تک اولاد کو محض اس لیے پہنچا دیا جائے گا کہ وہ نیک لوگ اولاد کو ساتھ دیکھ کر خوش و خرم ہوں گویا اولاد کو والدین کے ساھت ملایا جائے گا نہ کہ بلند درجہ سے والدین کو نیچے درجہ میں لایا جائے گا تاکہ وہ اولاد کے ساتھ اکٹھے ہوجائیں۔ قرآن کریم نے ایک اصول بیان کردیا ہے اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ اگر اولاد اپنے درجات میں چلی گئی تو اس کے ساتھ ان کے والدین کو ملانے کے لیے نیچے درجہ میں نہیں لایا جائے گا بلکہ ان کے والدین کو اوپر کے درجہ میں منتقل کردیا جائے گا اور بلاشبہ یہ احسان ہے خواہ والدین کے ساتھ اولاد کے باعث کیا گیا یا اولاد کے ساتھ والدین کے باعث کیا گیا اور یہ بات جو اس جگہ بیان ہوئی ہے اس سے زائد ہے جو سورة ال مومن اور سورة الرعد میں بیان ہوئی تھی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ بات بعد میں اضافہ کی گئی ہے بلکہ یہ سورة ال مومن کی آیت کی وضاحت ہے اور پھر جب ایک بار ایک چیز کی وضاحت کردی گئی تو دوسری بات سورة الرعد میں اس کا عدم ذکر سمجھا جائے گا کیونکہ قرآن کریم کے بیانات میں ضرورت کی چیز ایک جگہ بیان کی جاتی ہے اور دوسری جگہ اگر اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کو حذف کردیا جاتا ہے اور یہ بات عام بول چال میں بھی عام ہے لیکن افسوس کہ بعض لوگوں نے ایسی ہی باتوں پر اپنی دکانداری چلا رکھی ہے حالانکہ اس دکانداری کا کوئی جواز موجود نہیں ہے مثلاً ایک صحابی ؓ نبی اعظم و آخر سے ایک بات بیان کرتے ہیں اور جو کچھ اس وقت ان کو سمجھانا مقصود تھا اس کو ثابت کرنے کے لیے بعض باتوں کا ذکر نہیں کرتے اور یہ بات کتب احادیث میں عام ہے لیکن بعد میں آنے والوں نے انہی روایات پر بحث کرکے ایک فکر قائم کرلی ہے کہ فلاں صحابی نے یہ بات ذکر نہیں کی جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات انہوں نے آپ کو کرتے نہیں دیکھا حالانکہ ان صحابی نے یہ وضاحت نہیں بلکہ صرف عدم ذکر کی بنا پر ایک فکر قائم کردی گئی اور پھر اس پر اس طرح ڈٹ گئے کہ اس کے مقابلہ میں کسی نے دس احادیث بھی پیش کردیں کہ دیکھو ان میں یہ حکم موجود ہے تو دوسروں نے ان روایات پر تنقید کرکے کوئی نہ کوئی سقم ان میں نکال دیا اور پھر دوسرے فریق نے دوسروں کی روایات میں اس طرح کے اسقام نکال دکھائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک تیسرا آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اس روایت میں سقم ہے اور دوسری میں بھی تو اس کا مطلب تو صاف ہے کہ ان روایات میں کوئی بھی نہیں جس پر اعتماد کی اجائے اس لیے اس نے دونوں کی تنقید کو دیکھ کر یا سن کر کلھم ردی کہہ دیا اور اس بات کی کوشش ہی ترک کردی کہ جب ہم میں سے ہر نتھو خیرے کو یہ حق ہے کہ ہم قرآن کریم کی ایک آیت کو پڑھ کر اس کا مفہوم اپنے سامعین اور قارئین کو سمجھائیں تو کیا نبی اعظم و آخر کو یہ حق نہیں تھا ؟ اگر تھا تو کیا آپ نے استعمال نہیں کیا ؟ اور اگر کیا تو کیا اس کا کوئی حصہ بھی محفوظ نہ رہا ؟ پھر اگر بات ایسی ہے تو اس طرح تو قرآن کریم کے محفوظ رہنے میں بھی شبہ ہونے لگے گا کیونکہ قرآن کریم میں بہت سا حصہ ایسا ہے جس کو اگر رسول ﷺ کے پریکٹیکل سے الگ کردیا جائے تو اس کی کوئی حیثیت ہی قائم نہیں رہتی بلکہ وہ ایک بازیچہ اطفال بن جاتا ہے اور یہ بات اتنی واضح ہے کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ کسی بھی تھیوری کو اس کے پریکٹیکل سے الگ کردیا یا پریکٹیکل کو تھیوری سے تو دونوں ہی ادھورے ہی رہ جاتے ہیں پھر اس پر مزید شہادت یہ بات دیتی ہے کیہ جس اللہ نے قرآن کریم نازل کیا اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا اور کیوں بھیجا محض اس لیے کہ وہ قرآن کریم جو انسانی زندگی کے لیے قانون کی کتاب ہے اس کی واضح تشریح اپنے عمل سے کردیں یعنی اس کو نافذ کرکے دکھا دیں تاکہ قانون اور اس کا نفاذ دونوں لازم و ملزوم ہو کر امت کے پاس رہ جائیں ورنہ قانون کی تشریح کسی وقت بھی غلط کی جاسکتی ہے جو قوم کے لیے نہایت مہلک ہوسکتی ہے پھر انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کا یہ حال ہے تو اس قانون کا کیا ہوگا جس کا بنانے والا اور جس پر عمل کرنے والا دونوں اس قدر الگ الگ ہوں گے کہ قانون پر عمل کرانے والے کا کوئی تعلق ہی قانون بنانے والے سے قائم نہ ہوا اور نہ ہی ہوسکے گا۔ کاش کہ یہ اصول مد نظر رکھا جاتا اور دین میں اس قدر مختلف راہیں نہ نکلتین جو بات سے بات بنانے والوں نے نکال لی ہیں کہ حقیقت حال کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ بہرحال اس جگہ بات اہل جنت کی اور ان کی اس اولاد کی ہو رہی ہے جو اولاد بلوغت کو پہنچ کر نیک عمل کرنے والی ہوئی اور نیک والدین کی فرمانبردار اور تابعدار ہوئی۔ رہی مومن و مسلم والدین کی وہ اولاد جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچی تو وہ تو بہرحال جنت کے پھول ہیں جو والدین کے کسی کمزوری کا ازالہ ہوسکتے ہیں اور ان کے جنتی ہونے میں کسی کو کوئی شبہ ہی نہیں ہونا چاہئے بلکہ وہ والدین کے لیے اعلی مقام کا باعث ہوں گے اور اس کی تصریح کتب احادیث میں واضح ہے اور ان احادیث میں کسی طرح کا کوئی سقم موجود نہیں۔ بلاشبہ ہر ایک انسان اپنے کسب کے عوض میں رہن ہے۔ یہ بات تو پہلے معلوم ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی (کسب) کا لفظ آیا ہے اس سے مراد اس دنیا کی کمائی کا طریقہ نہیں ہے کہ کوئی جوتا گانٹھ رہا ہے اور کوئی کپڑا بن رہا ہے اس طرح اگر کوئی شخص حدادی کا پیشہ کرتا ہے تو کوئی نجاری کا بلکہ قرآن کریم میں لفظ (کسب) کا مفہوم وہ اعمال ہیں جو انسان نیک یا بد کرتا ہے اور ان کے نتائج سے اس کو دچار ہونا ہوگا خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کیا ہے ہر شخص کا نتیجہ اس کے ذاتی عمل کے ساتھ وابستہ ہے اور ایک کا عمل دوسرے کے کام ہرگز نہیں آئے گا اس لحاظ سے غور و فکر کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر ایک بندے کو عمل کی جو قوتیں اور عقل و فہم کی جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ بطور قرض ہیں اور ان کے بدلہ میں انسان کی جان اللہ تعالیٰ کے پاس رہن ہے اور رہن کے متعلق کون نہیں جانتا کہ وہ چھڑانا نہایت ضروری ہے بلکہ اس مدت کے اندر چھڑانا ہے جو اس کے لیے متعین کردی گئی اور اس رہن کی مدت انسان کی دنیوی زندگی ہے۔ اگر بندہ وہ قرض ادا کرے گا تو وہ اپنی رہن شدہ جان اسے واپس دے دی جائے گی ورنہ بحق قرض خواہ ضبط ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کے اس قرض کی ادائیگی کی صورت کیا ہے ؟ فرمایا اس کی صورت یہ ہے کہ انسان ان قوتوں اور نعمعتوں کو اس کے حکم کے مطابق استعمال کرے اگر اس نے ایسا کیا وہ جان اس کی واپس مل جائے گی بصورت دیگر وہ گروی ہی رہے گی اور اس کو کبھی بھی رہائی نصیب نہیں ہوگی۔ چونکہ زیر نظر آیت میں والدین کے ذریعہ سے جنت میں بلند مقام پر پہنچنے کا ذکر تھا اس لیے اس کی مزید وضاحت کردی کہ درجات کا بلند ہونا ایک دوسری بات ہے لیکن فک رہن اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ وہ خود اپنے کسب سے اپنی جان کو چھڑائے باپ داد کی کمائی اولاد کو نہیں چھڑآ سکتی۔ پھر اگر باپ دادا کا تعلق جو نہایت قرب کا تعلق ہے وہ کام نہیں آسکتا تو پیر و مرشد اور اسی طرح کسی دوسرے بزرگوں کا تعلق کیونکر کام آسکتا ہے۔
Ayah 52:22

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور ہم ان کو دم بدم میوے ، گوشت اور جو وہ چاہیں گے دیتے رہیں گے

ہم اہل جنت کو دم بدم میوے ، گوشت اور جو وہ چاہیں گے دیتے رہیں گے : 22: یہ بات ہم ساتھ ساتھ عرض کرتے چلے آرہے ہیں کہ انسن کو جو کچھ اس دنیا میں مرغوب ہے اور اس کو جس چیز کی چاہت ہوتی ہے قرآن کریم نے جنت میں وہ سب کچھ ملنے کا ذکر کیا ہے اور ان میں سے ایک چیز بھی نہیں جس کو چھوڑا ہو لیکن ساتھ ساتھ یہ بات واضح کرتا گیا ہے کہ ان ناموں کے سوا دنیا کی ان چیزوں اور آخرت کی ان چیزوں میں کوئی مناسبت نہیں نام یہی ہوں گے اور ان کی شناخت کے لیے ان کی شکل و صورت بھی ان سے ملتی جلتی ہوگی لیکن اصلیت کا اس دنیا کی چیزوں اور آخرت کی چیزوں میں بہت زیادہ فرق ہے بلکہ ان دونوں کا کوئی وصف آپس میں نہیں ملتا ہوگا مثلا جنت میں دودھ ، شہد ، ہر طرح کے پھل اور شراب کے ملنے کا ذکر موجود ہے اور ساتھ ہی یہ تصریح بھی ہے کہ جس طرح یہاں کا دودھ جانور کو دوہنے سے حاصل ہوتا ہے اور جس طرح یہاں کا شہد شہد کی مکھی کے پیٹ سے نکلتا ہے اور جس طرح دنیا کی شراب پھلوں کے گلنے سڑنے کے بعد ان کو نچوڑ کر حاصل کی جاتی ہے وہاں نہ تو اس طرح کا دودھ ، نہ اس طرح کا شہد اور نہ ہی اس طرح کی شراب اور نہ ہی اس طرح خے دوسرے پھل کہ پھل سے دوگنا چھلکے اور پھر چھلکے کے اندر گودا اور گودے کے اندر رس جو اصل کا چوتھا یا چھٹا حصہ بھی نہیں ہوتا اور پھر ان کو استعمال کرنے سے کتنے فضلات ہوتے ہیں جو گندے ہو کر مختلف راستوں سے نکلتے ہیں بہت زیافہ فضلات مقعد کے راستے خارج ہوتے ہیں اور باقی ناک ، تھوک ، آنکھ کی میل ، کان کی میل ، بدن کے پسینے اور بول و براز کے مقامات سے خارج ہوتے ہیں وہاں اس طرح کا کوئی گند اور پلیدی نہیں ہوگی بلکہ ہر طرف پاکیزگی ہی پاکیزگی ہوگی اور یہی حال مردوں اور عورتوں کا ہوگا کہ جس طرح ہر انسان کے پاس پانچ چھ کلو گرام کے ناپاک فضلات ہر وقت موجود رہتے ہیں اور جن کے اخراج سے طہارت کی ضرورت پیدا ہوتی رہتی ہے وہاں ایسا کوئی معاملہ نہیں ہوگا ، جس طرح اس دنیا میں انسان خواہ کتنا ہی بزرگ اور پاک کیوں نہ ہو یہاں تک کہ کوئی نبی و رسول ہی کیوں نہ ہو ازدواجی زندگی سے ناپاک ہوتا ہے اور پھر پاکیزگی اور طہارت کے اصولوں کے مطابق جا کر وہ پاک ہوتا ہے وہاں اس طرح کی کوئی ناپاکی لاحق نہیں ہوگی۔ پھر باقی کیا رہ گیا جو اس دنیا کے ساتھ اس کی مشابہت قائم ہو سوائے ناموں اور ظاہری شکلوں کے فرمایا جنت میں ہم جنت کے رہنے والوں کو ہر طرح کے پھل اور میوے ، تازہ بتازہ گوشت اور علاوہ ازیں جو جو چیز وہ پسند کریں گے ان کو دیں گے اور اس طرح کثرت کے ساتھ دیں گے کہ ان کو کمی محسوس نہیں ہوگی بلکہ ہرچیز کی کثرت اور فراوانی مہیا ہوگی اور جس چیز کی ان کو اشتہا ہوگی وہ حاضر کردی جائے گی۔ اس کی مزید وضاحت درکار ہو تو عروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة الصافات کی آیت 45 ، 46 ، جلد ہذا سورة محمد کی آیت 15 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 52:23

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

جس جام کو وہ لیتے ہوں گے اس میں نہ کوئی لغو بات ہوگی اور نہ ہی فتور عقل ہو گا

جس جام کو وہ ایک دوسرے سے بڑھ کرلیتے ہوں گے اس میں کوئی لغو بات نہ ہوگی : 23: وہی بات جو پہلے گزر چکی فرمایا کہ وہ ان آب خوروں سے جام پر جام پئیں گے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کو پی کر مدہوش ہوجائیں گے اور دنیا میں پی کر جس طرح لوگ غل غپاڑا مچاتے ہیں وہ بھی مچائیں گے ہرگز نہیں وہ شراب نشہ آور نہیں ہوگی اور سوائے اس کے کہ وہ نام کے لحاظ سے شراب ہوگی اور کوئی علامت اس کی اس شراب سے نہیں ملے گی نہ اس کو پی کر کوئی بدمست ہوگا اور نہ ہی کوئی بیہودہ بکواس اور گالی گلوچ پر اترے گا اس طرح کی کوئی بدمزگی وہاں نہیں ہوگی۔ اس کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة الصافات کی آیت 47 میں کردی ہے اور اس جگہ بھی ارشاد الٰہی ہے کہ اس کو پی کر کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں کرے گا کہ جنت اور گناہ کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے وہ پاکیزہ جگہ ہے جو پاکیزہ لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور ان کے ارد گرد خدمت گار لڑکے ہوں گے گویا وہ موتی ہیں جو کہیں چھپائے رکھے تھے

ان کے ارد گرد خدمت گار لڑکے ہوں گے گویا وہ موتی ہوں گے جو کہیں چھپا کر رکھے گئے تھے : 24: انسانی فطرت میں جو چیزیں اس کو مرغوب ہیں اور جن کو دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے ان میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں جو معصوم ہوتے ہیں اور خصوصاً چھ سات سال کی عمر میں جب وہ توتلی زبان سے بات کرتے ہیں اور کسی کو اپنے معصوم ہاتھوں سے تحفہ پیش کرتے ہیں اور خصوصا جب وہ صاف ستھرے اور خبوصورت بھی ہوں اور ظاہری حسن و زیبائش سے آراستہ بھی تو طبیعت کو بہت بھاتے ہیں اور ان کی معصومیت کو دیکھ کر شاید ہی کوئی قسی القلب ہو جس کی آنکھوں میں لبھائے نہ ہوں اور اس کے دل میں ان کی معصومتی (Innocence) کا پیار نہ آئے اور جی نہ چاہے کہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے گال پر ایک دھپی دی جائے اور اس کے اس کی زبان میں اسی طرح جھوم جھوم کر بات نہ کرے اور وہ کوئی نامراد ہی ہوگا جس کے دل میں اس کی معصومیت کو دیکھ کر اس کی شکل و صورت بنانے والے اللہ رب ذوالجلا والاکرام کی صفت و کاریگری کی تعریف نہ نکلے کہ واہ سبحان اللہ بنانے والے نے اس انسان کے بچے کو کیا خوب بنایا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی چھپا ہوا موتی ہے جو اس وقت سیپ کے اندر محفوظ رہا ہے اور اس کو اس دنیا کی ہوا بھی نہیں لگی۔ یہ کتنا معصوم ہے اور کتنا پیارا کہ اس کو دیکھتے ہی پیار امنڈ آیا ہے۔ غلمان ، جمع ہے غلام کی اور غلام چھوٹے معصوم بچے اور نوجوان دونوں کو کہتے ہیں لیکن کلام کا سیاق وسباق اس کی عمر متعین کرتا ہے کہ آیا اس جگہ مراد معصوم بچہ ہے یا امرد نوجوان لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس حقیقت کو دیکھنے کی کبھی پروا نہیں کی بلکہ اس معاملہ میں ہمیشہ لکیر کے فقیر بنے رہے۔ سورة کہف میں صاحب موسیٰ نے جس غلام کو تقل کیا تھا اس کو معصوم بچہ بنا دیا ہے اور ان غلمان کو جو معصوم بچے ہیں جیس کہ قرآن کریم کی عبارت تقاضا کر رہی ہے لیکن انہوں نے ان کو نوجوان اور امرد بنا دیا ہے حالانکہ کانہم لولو مکنون کے الفاظ جو ان کو سیپ میں چھپے ہوئے موتی کہہ رہے ہیں ان کو نوجوان اور امرد کیسے کہا جاسکتا ہے۔ صنف نازک کا معاملہ اور ہے لیکن بچہ ہو یا بچی جب وہ تین چار سال سے پانچ چھ سال کی عمر میں ہوتا ہے تو اس کی ہر ادا سے معصومیت ٹپک رہی ہوتی ہے اور اس کو دیکھ کر انسان کا دل فی الواقعہ اس کو ایک گھونگا یا موتی ہی تصور کرتا ہے اور اس کا جی چاہتا ہے کہ اس کو گود میں بٹھا کر ، چھاتی سے لگا کر اس کے سر اور گال پر بوسہ دے کر اس کی معصومیت سے پیار کرے اور جب وہ اپنا پوتا یا دوہتا بھی ہو یا کسی دوست و عزیز کا عزیز ہو تو اس سے پیار کرنے کو کون پسند نہیں کرے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی اپنے دوہتے کو اس طرح پیار کیا اور اس کا گال چوم لیا تو آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ایک بدو نے جس کے نام کا بھی حدیث میں تذکرہ کیا گیا ہے کہا کہ یارسول اللہ ! میرے پاس تو دس بچے ہیں لیکن آج تک میں نے کسی کو بھی بوسہ نہیں دیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر تیرے دل میں بجائے قلب کے اللہ نے پتھر رکھ دیا ہے تو میں اس کا کیا کرسکتا ہوں ؟ کسی کی تکلیف کو دیکھ کر دل کا بھر آنا اور آنسوؤں کا بہہ نکلنا اور کسی معصوم بچہ کو دیکھ کر اس کی معصومیت کو پیار کرنا رقیق القلب ہونے اور ایک اچھا دل رکھنے کی نشانی ہے۔ اس لیے ہم نے اس جگہ نوجوان خدمت گزار مراد نہیں لیے کیونکہ ان سے نہ تو چارہ لدوانا ہے اور نہ ہی کوئی زور کا کام کروانا ہے بلکہ ان سے پھولوں کا گلدستہ ہی وصول کرنا ہے یا ان کو دیکھ کر دل کو خوش کرنا ہے اور وہ ان کی معصومیت ہی کے پیش نظر وصول کیا جائے گا جو ہماری سمجھ میں آیا ہے اور جو کچھ قرآن کریم کا سیاق وسباق کہہ رہا ہے وہ یہی ہے جس کو ہم نے عرض کیا ہے۔
Ayah 52:25

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر وہ پوچھیں گے

اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر وہ پوچھیں گے 25 ؎ ” وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ یہ متوجہ ہونا غلمان اور اہل جنت کا نہیں بلکہ اہل جنت کا اہل جنت سے ہے خواہ عام اہل جنت کا آپس میں اور خواہ والدین اور ان کی بالغ اولاد جو اپنے کسب سے اہل جنت ہوئی ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے احسانا اولاد کو والدین سے ملا دیا ہوگا یہ آپس میں پوچھیں گے اور آپس میں راز و نیاز اور پیار و محبت کی باتیں کریں گے جیسے کہ ہم مشرب اور گہرے دوست آپس میں ایک دوسرے سے مصروف گفتگو ہوتے ہیں اور ہر ایک اپنے دل کی بات کہتا اور سنتا ہے اور اس طرح آپس میں جب سلسلہ گفتگو شروع ہوگ اتو ظاہر ہے کہ وہ جہاں آ کر آباد ہوئے ہیں یعنی جنت اس کی بات بھی چلے گی اور گزشتہ دنیا کی باتیں اور یادیں بھی ان کو آئیں گی تو اس وقت وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ہم نے اپنی دنیوی زندگی بہت ڈر ڈر کر گزاری تھی اور اپنی طرف سے ہم نے بڑی ہی احتیاط کی تھی کہ ایسا نہ ہو کہ ہم سے کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہوجائے اور بحمد اللہ ہم نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ ہم جو کچھ کریں وہ اپنے پیارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں کریں اور اگر ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوجاتی تھی تو ہم فوراً تائب ہوتے تھے اور اپنے پروردگار سے گڑ گڑا کر معافی طلب کرتے تھے اور وہ انعامات جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو دنیوی زندگی میں عطا کئے تھے ہم آپس میں ان کا بھی اکثر تذکرہ کیا کرتے تھے اور ہم میں سے ہر ایک دوسرے کے …ئے ناصح اور خیر خواہی کا جذبہ رکھتا تھا اور ایک دوسرے کو اچھے عمل کی تلقین کیا کرتا تھا اور آج ہم کو بحمد اللہ اس جگہ بھی مل بیٹھنا نصیب ہوگیا بہرحال اس طرح وہ آپس میں جواب وسوال کے انداز میں مصروف گفتگو ہوں گے۔
Ayah 52:26

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

کہیں گے اس سے قبل ہم اپنے لوگوں میں (بھی) ڈرتے رہتے تھے

ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے 26 ؎ وہ آپس میں مصروف گفتگو ہوں گے تو دنیا کی زندگی کے متعلق بھی ان کو بہت کچھ یاد آئے گا اور وہ اس بات کا ایک دوسرے سے اعتراف کریں گے کہ ہم نے کس طرح اللہ تعالیٰ کا ڈر اختیار کیا اور اپنی زندگی کن کن پابندیوں میں گزاری اور اپنے ماحول کی ساری باتیں ان کو یاد آئیں گی اور دنیاوی زندگی کے سارے ساتھی اور ان کا آپس میں وطیرہ سب یاد آئے گا اس طرح کی گفتگو کا تذکرہ اس سے قبل سورة الاعراف کی آیات 37 سے چل کر 53 تک چلا گیا ہے کہ اہل جنت آپس میں مصروف گفتگو ہوں گے اور اہل دوزخ سے بھی بات چیت کا موقع ان کو فراہم کیا جائے گا وہ بھی ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے اہل جنت ان کے دعوئوں کا بھی ذکر کریں گے کہ تم تو دنیا میں بڑی بڑی ڈینگیں مارا کرتے تھے تم ادھر کدھر چلے گئے اور یہ بھی کہیں گے کہ ہمارے متعلق تو تم کبھی اچھی رائے نہیں رکھتے تھے بلک ہہر وقت ہم سے مذاق اور استہزا ہی چلتا تھا ‘ سنائو آج تمہارا حال کیا ہے ؟ پھر اہل دوزخ ان سے جنت کی نعمتیں بھی طلب کریں گے لیکن جونہی وہ ان کا نام لیں گے تو درمیان میں ایک پردہ حائل ہوجائے گا اور اللہ رب کریم کا فرشتہ فوراً پکارا ٹھے گا کہ جنت کی چیزیں اہل دوزخ کے لئے حرام ہیں یعنی ان کو نہیں دی جا سکتیں۔ اس طرح آپس کی ایک لمبی گفتگو بیان کی گئی ہے اور زیر نظر آیت میں اہل جنت کی آپس میں گفتگو کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ آپس میں کن خطوط پر ایک دوسرے سے بات کریں گے۔
Ayah 52:27

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

پھر بلاشبہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچا لیا

پھر بلاشبہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا کہ ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا 27 ؎ وہ آپس میں دوران گفتگو اپنے جنت میں پہنچنے کا ذکر بھی کریں گے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے احسان کا تذکرہ بھی ہوگا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نیک کاموں کی توفیق عطا نہ کرتا تو آج ہم بھی عذاب میں پھنسے ہوتے اور یہ بھی کہ ہمارے اعمال پر کیا انحصار ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہم کو اہل النار سے نہ کیا بلکہ اہل الجنتہ میں شمار فرمایا ورنہ اس وقت ہم بھی نہ معلوم کس عذاب میں پھنسے ہوتے اور ہمارا بھی کوئی پرسان حال نہ ہوتا۔ وہ لوگ جو دوسروں کے سہارے اور آسرے پر اس دن کو بھول ہی بیٹھے تھے آج وہ کہاں جل بھن رہے ہیں اس طرح گویا وہ باتوں ہی باتوں میں دنیا میں اپنے جاننے والوں کی طرف دبی زبان میں اشارہ کر جائیں گے۔
Ayah 52:28

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

بلاشبہ ہم اس سے قبل دعائیں مانگا کرتے تھے ، بلاشبہ وہ احسان کرنے والا پیار کرنے والا ہے

ہم تو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتے تھے بلاشبہ وہ بہت احسان کرنے والا ہے : 28: البر ، احسان کرنے والا ، نیک سلوک کرنے والا ، اس کا مادہ ب ر ر ہے اور بر سے صفت مشبہ کا صیغہ بر کے معنی جنگل اور زمین کے بھی ہیں چونکہ اس میں وسعت کا تصور موجود ہے اس لیے اس سے بر کا اشتقاق ہوا جس کے معنی خوب نیکی کرنے کے ہیں چناچہ بر کی نسبت کبھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے زیر نظر آیت میں اور کبھی بندہ کی طرف جیسے و برا بوالدیہ اور اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے اس کا استعمال ہوگا تو اس کے معنی ثواب عطا کرنے کے ہوں گے اور جب یہ لفظ بندہ کے لیے آئے گا تو اطاعت کرنے کے معنی دے گا جیسے بر الوالدین سے مراد ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ہے اور عقوق اس کی ضد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ آپس میں دوران گفتگو اس بات کا تذکرہ بھی کریں گے کہ ہم تو دنیا میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہمیں سیدھی راہ دکھا اور یہ کہ اس پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم رکھ اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا اور اس طرح ہم دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے تھے اور ہر دعا میں کہا کرتے تھے کہ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بہت احسان کیا کہ ہماری دعاؤں کو قبولیت بخشی بلاشبہ وہ احسان کرنے والا اور اپنے بندوں سے بہت ہی پیار کرنے والا ہے اور اب مضمون کا رخ نبی اعظم و آخر ﷺ کی طرف پھر رہا ہے۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

پس آپ نصیحت کرتے رہیے کیونکہ تم اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہو اور نہ مجنون ہو

پس اے پیغمبر اسلام ! آپ نصیحت کرتے رہیں لاریب آپ کاہن اور مجنون نہیں ہیں : 29: کفار مکہ نے نبی اعظم و آخر ﷺ پر جو جو الزامات لگائے تھے ان کا ذکر پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے انہوں نے آپ کو مجنون یعنی پاگل اور فاتر العقل کہا۔ آپ کو کاہن کے نام سے پکارا۔ آپ کو شاعر کہا اور مفتری سمجھا۔ ساحر اور سحر زدہ ہونے کا الزام دیا اور اس طرح آپ کے بارے میں متضاد باتیں کیں کہ جو کچھ آپ کے متعلق انہوں نے کہا وہ سب کچھ ان پر صادق آنے لگا۔ بہت سے مقامات پر پیچھے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ اس طرح کی جو بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں جب ان کا کوئی سر پیر نہیں ہے تو آپ خواہ مخواہ متفکر نہ ہوں اور ان کی ان بےسروپا باتوں کی کوئی پروا نہ کریں آپ بحمد اللہ نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون و پاگل پھر ان کے اس طرح کے اعمال سے آپ کا کچھ نہیں بگڑے گا آپ اپنا کام اپنے منہ دھیان کرتے رہیں۔ ابھی تو یہ لوگ دار العمل میں ہیں اور ہم نے ان کو ڈھیل دے رکھی ہے یہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کی بجائے الٹا اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ اس طرح گویا ایک طریقہ سے آپ کو تسلی دی جا رہی ہے اور مخالفین کو بھی سنایا جا رہا ہے کہ تمہارے ان الزامات سے ہمارے رسول کا کچھ نہیں بگڑے گا جو نقصان ہوگا وہ سراسر تمہارا اپنا ہی ہوگا اور اس طرح تم لوگ پہاڑ سے ٹکر لے کر اپنا سر آپ پھوڑ رہے ہو اس وقت تو تم اس دنیا کی ہو ہوا میں اس قدر مست ہو کہ تم کو کچھ نہیں سوجھ رہا لیکن آخر تمہاری یہ زندگی ہی کتنی ہے جس پر تم اس طرح نازاں ہو یہ تو چند روزہ بات ہے اور ایسی ہے کہ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے۔