52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 52:1

وَ الطُّوْرِۙ Open ayah 52:1 in the Quran reader

(کوہ) طور کی قسم

والطور طور کی قسم۔ سریانی زبان میں طور پہاڑ کو کہتے ہیں۔ اس جگہ طور سینا مراد ہے یہ مدین کا ایک پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ نے اللہ کا کلام سنا تھا۔
Ayah 52:2

وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ Open ayah 52:2 in the Quran reader

اور کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے

و کتب مسطور اور اس کتاب کی قسم جو کھلے ہوئے کاغذ پر لکھی ہوئی ہے سطر : لکھے ہوئے حروف کی ترتیب۔ یہاں سطر سے مراد مکتوب ہے۔
Ayah 52:3

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ Open ayah 52:3 in the Quran reader

کشادہ اوراق میں

فی رق منشور سمندر کی قسم جو (پانی) سے پُر ہے۔ رَقٍّ : (ہرن وغیرہ کی) کھال جس پر لکھا جاتا ہے مجازاً ہر وہ چیز جس پر کچھ تحریر کیا جائے (جو لکھنے کے کام میں آئے مثلاً کاغذ وغیرہ) ۔ مَّنْشُوْرٍ : پڑھنے کے لیے پھیلائی ہوئی ‘ کھولی ہوئی۔ اس سے لوح محفوظ مراد نہیں ہے کیونکہ رق منشور میں مکتوب ہونا اس کتاب کی صفت بیان کی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ لوح محفوظ ایسی نہیں ہے اس لیے بعض اہل تفسیر کے نزدیک قرآن مجید مراد ہے یا ہر وہ کتاب مراد ہے جس میں احکام شرعی مرقوم ہوں۔ کلبی نے کہا : وہ توریت مراد ہے جو اللہ نے اپنے دست قدرت سے حضرت موسیٰ کے لیے لکھی تھی اور موسیٰ نے قلم الٰہی کے چلنے کی آواز بھی سنی تھی۔ توریت مراد لینا لفظ طور سے مناسبت رکھتا ہے (طور پر ہی حضرت موسیٰ کو توریت دی گئی تھی) بعض کے نزدیک کرامًا کاتبین کے لکھے ہوئے اعمالنامے مراد ہیں جو کھلی ہوئی تحریر کی شکل میں ہر شخص کے سامنے لائے جائیں گے۔
Ayah 52:4

وَّ الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِۙ Open ayah 52:4 in the Quran reader

اور آباد گھر کی

والبیت المعمور اور بیت المعمور کی قسم اَلْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ : کعبہ کی بالکل سیدھ میں ساتویں آسمان پر ایک عبادت خانہ ہے جس کو صراح کہا جاتا ہے ‘ آسمان پر اس کی ایسی ہی تعظیم کی جاتی ہے جیسی زمین پر کعبہ کی۔ مسلم نے حضرت انس کی روایت سے حدیث معراج میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ساتویں آسمان پر میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا جو بیت معمور سے اپنی پشت لگائے ہوئے تھے ‘ بیت معمور میں روزانہ ستّر ہزار فرشے (عبادت کے لیے) داخل ہوتے ہیں جو دوبارہ (کبھی) نہیں آتے۔ بغوی کی روایت ہے ‘ وہ بیت معمور کا طواف کرتے ہیں اور اس کے اندر نماز پڑھتے ہیں ‘ پھر لوٹ کر دوبارہ کبھی نہیں آتے (ہر وقت) ملائکہ اس پر چھائے رہتے ہیں (یعنی نئے نئے ملائکہ آتے رہتے ہیں) بیضاوی نے لکھا ہے : بیت معمور سے کعبہ مراد ہے ‘ حج و اعتکاف کرنے والوں سے کعبہ معمور (آباد) ہے یا مؤمن کا دل مراد ہے جس کی آبادی معرفت اور اخلاص سے ہوتی ہے۔
Ayah 52:5

وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ Open ayah 52:5 in the Quran reader

اور اونچی چھت کی

والسقف المرفوع السقف المرفوع : اس سے مراد آسمان ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا۔
Ayah 52:6

وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ Open ayah 52:6 in the Quran reader

اور ابلتے ہوئے دریا کی

والبحر المسجور . اور بلند چھت (یعنی آسمان) کی قسم اور اَلْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ : قاموس میں ہے کہ : سجرا التنور : تنور کو گرم کردیا۔ سجر النھر : نہر کو بھر دیا۔ محمد بن کعب اور ضحاک نے کہا : اَلْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ ‘ وہ سمندر جس کو آگ کی طرح بھڑکایا اور گرم کیا جائے گا ‘ جیسے گرم کیا ہوا تنور۔ حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تمام سمندروں کو آگ بنا دے گا جس سے دوزخ کی آگ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ بیہقی نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سوائے مجاہد اور حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے کے اور کوئی شخص سمندر میں سفر نہ کرے کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے یا (فرمایا) آگ کے نیچے سمندر ہے۔ حضرت یعلی بن امیہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سمندر جہنم ہے۔ ابو الشیخ نے العظمۃ میں اور بیہقی نے بطریق سعید بن مسیّب بیان کیا ہے کہ حضرت علی ؓ بن ابی طالب نے فرمایا : میں نے فلاں شخص سے زیادہ کسی یہودی کو سچا نہیں دیکھا ‘ اس نے (مجھ سے) کہا تھا کہ اللہ کی عظیم ترین آگ سمندر ہے (یعنی سمندر عظیم ترین آگ بن جائے گا) جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ اس میں سورج اور چاند اور ستاروں کو جمع کر دے گا (یعنی سب کو سمندر میں پھینک دے گا) پھر پچھوا ہوا بھیج کر اس کو بھڑکائے گا ‘ اس طرح سارا سمندر جہنم کی آگ بن جائے گا۔ کلبی نے کہا : مَسْجُوْرکا معنی ہے بھرا ہوا ‘ عرب کہتے ہیں : سجرت الاناءَ : میں نے برتن بھر دیا۔ حسن ‘ قتادہ اور ابو العالیہ نے مَسْجُوْر کا ترجمہ کیا : ” خشک “ جس کا پانی سوکھ جائے گا۔ ربیع بن انس نے کہا : شیریں اور شور کا مخلوط (یعنی میٹھا اور نمکین سمندر سب مخلوط ہوجائیں گے ‘ اسی مجموعے کو بحر مسجور کہا گیا ہے) ۔ ضحاک نے بحوالہ نزال بن سبرہ بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : بحر مسجور عرش کے نیچے ایک سمندر ہے ‘ اس کی گہرائی اتنی ہے جتنا سات آسمانوں کا سات زمینوں سے فاصلہ۔ اس میں گاڑھا پانی بھرا ہوا ہے۔ اس سمندر کو بحر حیوان (بحر حیات) کہا جا ا ہے۔ پہلا صور پھینکا جانے کے بعد چالیس صبح اس سے مخلوق پر بارش ہوگی ‘ جس سے لوگ اپنی اپنی قبروں میں (غلّہ کے دانوں کی طرح) اگیں گے۔ مقاتل کا بھی یہی قول ہے۔
Ayah 52:7

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ Open ayah 52:7 in the Quran reader

کہ تمہارے پروردگار کا عذاب واقع ہو کر رہے گا

ان عذاب ربک لواقع . کہ بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب ضرور ہو کر رہے گا اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ : یعنی کافروں پر اللہ کا عذاب ضرور آئے گا۔ حضرت جبیر بن مطعم کا بیان ہے۔ میں بدر کے قیدیوں کے متعلق بات چیت کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ آیا ‘ مجھے جس وقت آپ کے پاس لے جایا گیا اس وقت آپ مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے اور آواز مسجد سے باہر آرہی تھی۔ میں نے سنا آپ نے سورة طور مَآلَہٗ مِنْ دَافِعٍ تک پڑھی جو نہی آپ نے مَآلَہٗ مِنْ دَافِعٍ پڑھا ‘ میرا دل (خوف سے) پھٹنے لگا۔ اس وقت تک میں مسلمان نہیں ہوا تھا ‘ آیت سنتے ہی نزول عذاب کے خوف سے فوراً مسلمان ہوگیا۔ مجھے یقین ہوگیا تھا کہ اس جگہ سے اٹھنے سے پہلے (مجھ پر) عذاب آجائے گا۔
Ayah 52:8

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ Open ayah 52:8 in the Quran reader

(اور) اس کو کوئی روک نہیں سکے گا

مالہ من دافع کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا۔
Ayah 52:9

یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًاۙ Open ayah 52:9 in the Quran reader

جس دن آسمان لرزنے لگا کپکپا کر

یوم تمور السمآ مورا (یہ اس روز ہوگا) جس روز آسمان تھرتھرانے لگے گا یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ : یعنی آسمان چکی کی طرح گھومے گا۔ قتادہ نے ترجمہ کیا جس روز آسمان حرکت کرے گا۔ عطاء خراسانی نے کہا : آسمان کے بعض اجزاء بعض میں درآمد برآمد کریں گے بعض اہل تفسیر نے ترجمہ کیا : آسمان تھرتھرائے گا۔ لغت میں مورٌ کے یہ سب معانی آئے ہیں : آنا ‘ جانا ‘ گھومنا ‘ لرزنا ‘ تھرتھرانا ‘۔ (کذا فی القاموس) آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ زمین اور پہاڑوں کی طرح آسمان ساکن ہے ‘ متحرک نہیں ہے ‘ فلاسفہ آسمان کو متحرک کہتے ہیں۔
Ayah 52:10

وَّ تَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًاؕ Open ayah 52:10 in the Quran reader

اور پہاڑ اُڑنے لگے اون ہو کر

و تسیر الجبال سیرا اور پہاڑ (اپنی جگہ سے) ہٹ جائیں گے تَسِیْرُ الْجِبَالُ : یعنی پہاڑ جل کر خاک کی طرح ہوا میں اڑیں گے۔
Ayah 52:11

فَوَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَۙ Open ayah 52:11 in the Quran reader

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے

فویل یومئذ للمکذبین سو اس روز تباہی ہوگی ‘ ان لوگوں کو جو جھٹلانے والے ہیں فَوَیَلٌ یَّوْمَءِذٍ : یعنی جس روز عذاب واقع ہوگا اور اس کو دفع کرنے والا کوئی نہ ہوگا ‘ اس روز ان لوگوں کی کم بختی اور خرابی ہوگی جو عذاب قیامت کو جھٹلاتے تھے اور غفلت میں پڑے ہوئے بیہودگیوں میں مشغول تھے۔
Ayah 52:12

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَۘ Open ayah 52:12 in the Quran reader

جو خوض (باطل) میں پڑے کھیل رہے ہیں

الذین ھم فی خوض یلعبون ‘ اور جو اس (تکذیب کے) مشغلہ میں بیہودگی کے ساتھ لگ رہے ہیں۔
Ayah 52:13

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ Open ayah 52:13 in the Quran reader

جس دن ان کو آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جائیں گے

یوم یدعون الی نار جھنم دعا جس روز جہنم کی آگ کی طرف ان کو دھکے دے کرلے جایا جائے گا یَوْمَ یُدَعُّوْنَ : وَعٌّ : سختی کے ساتھ دھکے دینا جہنم کے کارندے کافروں کے ہاتھ گردن سے باندھ کر پیشانیوں کو (جھکا کر) قدموں سے ملا کر منہ کے بل دھکے دے کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے
Ayah 52:14

هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 52:14 in the Quran reader

یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے

ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون افسحر ھذا . (اور ان سے کہا جائے گا) یہ وہ آگ ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے ‘ تو کیا یہ جادو ہے۔ ۔ جب دوزخ کے پاس پہنچ جائیں گے تو کہیں گے یہ وہی آگ ہے جس کا تم انکار کرتے تھے۔
Ayah 52:15

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ Open ayah 52:15 in the Quran reader

تو کیا یہ جادو ہے یا تم کو نظر ہی نہیں آتا

تو کیا یہ جادو ہے ؟ اَفَسِحْرٌ : میں استفہام انکاری توبیخی ہے اور فَ تعقیبی ہے یعنی دنیا میں تم وحی اور معجزات کو سحر کہتے تھے ‘ اب حقیقت سامنے آگئی تو کیا تمہارے خیال میں یہ بھی جادو ہے۔ ام انتم لا تبصرون یا یہ کہ (اب بھی) تم کو نظر نہیں آتا اَمْ اَنْتُمْ لاَ تُبْصِرُوْنَ : یعنی کیا تم کو یہ آگ دکھائی نہیں دیتی جس طرح تم کو دنیا میں معجزات دکھائی نہیں دیتے تھے اور تم کہتے تھے ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔
Ayah 52:16

اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا١ۚ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 52:16 in the Quran reader

اس میں داخل ہوجاؤ اور صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لئے یکساں ہے۔ جو کام تم کیا کرتے تھے (یہ) انہی کا تم کو بدلہ مل رہا ہے

اصلوھا فاصبروا اولا تصبروا سواء علیکم انما تجزون ما کنتم تعملون . اس میں داخل ہوجاؤ پھر اس کو سہار کرو یا نہ کرو تمہارے حق میں دونوں برابر ہیں ‘ جیسا تم کرتے تھے ویسا ہی تم کو بدلہ دیا جائے گا۔ سَوَآءٌ : مصدر بمعنی اسم فاعل ہے یعنی دونوں چیزیں تمہارے لیے برابر ہیں۔ تمہارے اعمال کی سزا تو ضرور ملنی ہے۔ کفر کی سزا کی وعید اللہ کی طرف سے تم کو مل چکی تھی اور کفر کی سزا بھی اللہ کی واجب کردہ ہے (اس لیے نہ وعید کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے نہ اللہ کی مقرر کردہ سزا بدل سکتی ہے) ۔
Ayah 52:17

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ Open ayah 52:17 in the Quran reader

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعتموں میں ہوں گے

ان المتقین فی جنت و نعیم متقی لوگ بلاشبہ بہشت کے باغوں اور سامان عیش میں ہوں گے اور جو چیزیں ان کے رب نے ان کو دی ہوں گی ان سے وہ خوش دل ہوں گے اور ان کا رب دوزخ کے عذاب سے ان کو محفوظ رکھے گا۔ جَنّٰتٍ اور نَعِیْمٍ میں تنوین تعظیم ہے یعنی عظیم الشان جنتیں اور عالی قدر بڑی راحتیں۔
Ayah 52:18

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ۚ وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 52:18 in the Quran reader

جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال۔ اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا

فاکھین بما اتاھم ربھم ووقھم ربھم عذاب الجحیم . فَاکِھِیْنَ : راحت کے مزے اڑانے والے ‘ لذت یاب۔ بِمَآ اٰتٰھُمْ رَبُّھُمْ : مَا اٰتٰی میں ابہام ہے ‘ عطاء کی تفصیل نہیں ہے۔ یہ ابہام بجائے خود عظمت عطاء پر دلالت کر رہا ہے ‘ پھر دینے کی نسبت رب کی طرف کی گئی ہے جس سے نعمت کی عظمت اور بڑھ گئی ‘ جیسا عظیم الشان دینے والا ‘ اسی کے مناسب عظیم الشان نعمت۔
Ayah 52:19

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 52:19 in the Quran reader

اپنے اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

کلوا واشربوا ھنیا بما کنتم تعملون کُلُوْا وَاشْرَبُوْا : یعنی ان سے کہا جائے گا کہ کھاؤ اور پیو۔ ھَنِیْءًا : خوشگواری کے ساتھ کھاؤ پیو یا خوشگوار کھانا کھاؤ اور خوشگوار مشروب پیو۔ اوّل صورت میں ھَنِیْءًا مفعول ہوگا اور دوسری صورت میں محذوف مفعول بہ کی صفت) ھَنِئٌاس چیز کو کہتے ہیں جس کے کھانے پینے میں کوئی دشواری نہ ہو اور کھانے کے بعد معدے میں ناگواری نہ ہو۔ بِمَا کُنْتُمْ.... : اپنے اعمال کے سبب یا اپنے اعمال کے بدلے میں۔
Ayah 52:20

مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ١ۚ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ Open ayah 52:20 in the Quran reader

تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کر دیں گے

متکئین علی صرر مصفوفۃ و زوجناھم بحور عین . خوب کھاؤ ‘ پیو ‘ مزہ کے ساتھ اپنے اعمال کے بدلہ میں وہ تکیہ لگائے ہوئے ‘ برابر برابر بچھائے ہوئے تختوں پر ہوں گے اور ہم کشادہ چشم گوریوں (یعنی حوروں) سے ان کا جوڑ لگا دیں گے۔ زَوَّجْنٰھُمْ : ماضی بمعنی مستقبل۔
Ayah 52:21

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ Open ayah 52:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی۔ ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہوا ہے

والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنابھم ذریتھم وما التناھم من عملھم من شی . اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا ہم ان کی اولاد کو بھی (درجہ میں) ان کے ساتھ شامل کردیں گے اور ان کے عمل میں سے کچھ کم نہیں کریں گے۔ ذُرِّیَّتُھُمْ : ذرّیت کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور زیادہ پر بھی۔ بِاِیْمَانٍ : تنوین تنکیر یہ بتارہی ہے کہ (درجہ میں) شامل کرنے کے لیے صرف ایمان کافی ہوگا بلکہ ایمان حکمی بھی الحاق کے لیے کافی ہے جیسے بچہ کا ایمان اور جنون کی حالت کا ایمان۔ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ مؤمنوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ان کی اولاد کا درجہ اونچا کر دے گا ‘ خواہ ان کی اولاد درجہ میں ان سے کم ہو ‘ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ (رواہ الحاکم والبیہقی فی السنن والبزار و ابو نعیم فی الحلیۃ و ابن المنذر و ابن جریر و ابن ابی حاتم) حضرت علی ؓ راوی ہیں کہ امّ المؤمنین حضرت خدیجہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے ان دو بچوں کے متعلق دریافت کیا جو جاہلیت (اسلام سے پہلے) کے زمانے میں مرچکے تھے۔ فرمایا : وہ دونوں دوزخ میں ہوں گے۔ جب اس بات سے حضرت خدیجہ ؓ کے چہرے پر ناگواری کے آثار حضور ؓ نے ملاحظہ فرمائے تو ارشاد فرمایا : اگر تم بھی ان کی جگہ (یا حالت) کو دیکھ لو گی تو ان سے نفرت کرو گی۔ حضرت خدیجہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میری جو اولاد آپ سے تھی اس کا کیا ہوگا ؟ فرمایا : وہ جنت میں ہوگی ‘ پھر فرمایا : مؤمن مرد اور ان کی اولاد جنت میں ہوگی اور مشرک مرد اور ان کی اولاد دوزخ میں۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے آیت : وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْ حَقْتَابِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ : رواہ عبداللہ بن احمد فی الزوائد تلاوت فرمائی۔ اس روایت میں بعض راوی مجہول ہیں اور سلسلۂ سند بھی متصل نہیں ہے۔ فصل حدیث مذکور سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرکوں کے بچے دوزخ میں ہوں گے مگر صحیح یہ ہے کہ مشرکوں کے بچے جنت میں ہوں گے۔ رہی حدیث مذکور تو اس کی روایت میں انقطاع ہے اور بعض راوی مجہول بھی ہیں۔ امام احمد (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں دریافت کیا ‘ فرمایا : اگر تم چاہو تو میں دوزخ کے اندر ان کی چڑھائی (کی آواز) تم کو سنوا دوں۔ اس حدیث کی سند میں بہت ہی ضعف ہے۔ بعض نے کہا : مشرکوں کے بچوں کے متعلق یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ ابن عبدالبر نے ضعیف سند سے حضرت عائشہ ؓ ہی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ نے مشرکوں کی اولاد کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ‘ فرمایا : وُ ہ اپنے آباء سے ہیں (یعنی باپوں کے حکم میں ہیں ( کچھ مدت کے بعد حضرت خدیجہ ؓ نے پھر دریافت کیا تو فرمایا : اللہ ہی کو بخوبی معلوم ہے کہ وہ (زندہ رہتے تو) کیا کرتے ؟ کچھ مدت کے بعد پھر یہی سوال کیا تو آیت : وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا : وہ فطرت اسلام پر ہوں گے یا فرمایا : جنت میں ہوں گے۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے نسل انسانی کے ان بچوں کے متعلق مانگ کی جو کھیلنے والے ہوں۔ اللہ نے مجھے وہ عطا فرما دیئے (یعنی ان کو جنتی بنا دیا) ۔ ابن عبدالبر نے کہا : کھیلنے والوں سے مراد ہیں بچے کیونکہ ان کے کام بےعقلی کے کھیل کود کی طرح ہوتے ہیں ‘ عزم کے ساتھ نہیں ہوتے۔ ابن جریر نے لکھا ہے کہ حضرت سمرہ ؓ نے فرمایا : ہم نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے متعلق دریافت کیا ‘ فرمایا : وہ جنت والوں کے خادم ہوں گے۔ ابن جریر نے ایسی ہی حدیث حضرت ابن مسعود ؓ سے موقوفاً بھی بیان کی ہے۔ طیالسی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے اسی کی ہم معنی حدیث نقل کی ہے ‘ بعض علماء کا خیال ہے کہ مشرکوں کے بچوں کی جانچ کی جائے گی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ‘ اللہ ہی کو علم ہے کہ وہ (جوان ہو کر) کیا کرنے والے ہوتے۔ (متفق علیہ من حدیث ابی ہریرہ ؓ مَا اَلَتْنٰھُمْ : یعنی ان کے باپوں کے اعمال کے ثواب میں ہم کوئی کمی نہیں کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ مؤمن اولاد کو ان کے باپوں کے ساتھ شامل کردینے اور درجہ میں ان کے ساتھ ملا دینے سے ان کے آباء کے اعمال کے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔ مؤمن اور اسکی مؤمن اولاد کا حکم تو آیت مذکورہ سے معلوم ہوگیا۔ رہے بدکار لوگ تو انکی حالت اگلی آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔ کل امریء بما کسب رھین . ہر شخص اپنے (کفریہ) اعمال میں محبوس ہوگا۔ مقاتل نے کہا ہر شخص سے مراد ہے ہر کافر یعنی ہر کافر اپنے عمل شرک کی پاداش میں دوزخ کے اندر محبوس ہوگا۔ اس کی یہ سزا دوسرے کو نہیں پہنچے گی ‘ لہٰذا کافر اور فاسق کے ساتھ اس کی اولاد کو بغیر عمل کے شامل نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 52:22

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 52:22 in the Quran reader

اور جس طرح کے میوے اور گوشت کو ان کا جی چاہے گا ہم ان کو عطا کریں گے

وامددنھم بفاکھۃ ولحم مما یشتھون اور ہم ان کو میوہ اور گوشت جس قسم کا ان کو مرغوب ہو روز افزوں دیتے رہیں گے اَمْدَدْنٰھُمْ : یعنی وقتاً فوقتاً ہم متقیوں کی نعمتوں میں اضافہ کرتے رہیں گے۔ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ : یعنی طرح طرح کی نعمتیں۔
Ayah 52:23

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ Open ayah 52:23 in the Quran reader

وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹ لیا کریں گے جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہوگی نہ کوئی گناہ کی بات

میتنا زعون فیھا کا سا لا لغو فیھا ولا تاثیم . اور وہ آپس میں (خوش طبعی کے طور پر) شراب بھرے پیالوں کی چھینا جھپٹی بھی کریں گے ‘ اس میں نہ بک بک لگے گی اور نہ کوئی بیہودہ بات ہوگی۔ یَتَنَازَعُوْنَ : یہ لفظ نزع سے ماخوذ ہے۔ نزع کا معنی ہے کسی کے ہاتھ سے کھینچ لینا ‘ (چھین لینا) اس جگہ باب تفاعل ثلاثی مجرد کے معنی میں ہے یعنی یَتَنَازَعُوْنَ کا معنی ہے ینزعون من ید الساقی : ساقی کے ہاتھ سے لے لیں گے۔ کاسًا : مشروب سے بھرے ہوئے پیالے ‘ برتن میں بھرے ہوئے مشروب کو بھی کاس کہا جاتا ہے اور برتن کو بھی۔ لاَ لَغْوٌ : قتادہ نے لغو کا ترجمہ کیا ‘ باطل۔ مقاتل بن حبان نے کہا : بیہودہ بکواس۔ سعید بن مسیّب نے کہا : بیہودہ کلام۔ ابن زید نے کہا : گالی گلوچ ‘ جھگڑے۔ عنبی نے کہا : جنت کی شراب سے ہوش و حواس میں خرابی نہیں آئے گی کہ بیہودہ بکواس کرنے لگیں۔ وَلاَ تَاْثِیْمٌ : زجاج نے کہا : دنیا میں شراب پینے کے بعد شرابیوں میں جو بکواس ہوتی ہے ‘ اہل جنت میں شراب پینے کے بعد ایسی کوئی بکواس اور موجب گناہ حرکت نہیں ہوگی۔ بعض اہل تفسیر نے کہا : لا تاثیم : کا یہ مطلب ہے کہ جنت کی شراب پینے سے اہل جنت گناہ گار نہ ہوں گے ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 52:24

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 52:24 in the Quran reader

اور نوجوان خدمت گار (جو ایسے ہوں گے) جیسے چھپائے ہوئے موتی ان کے آس پاس پھریں گے

ویطوف علیھم غلمان لھم کانھم لو لو مکنون . اور ان کے پاس ایسے لڑکے آتے جاتے رہیں گے جو خاص انہیں کے لیے ہوں گے ‘ گویا وہ حفاظت سے رکھے ہوئے موتی ہیں۔ یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ : یعنی ان کی خدمت کے لیے گردش کرتے رہیں گے۔ غِلْمَانٌ لَّھُمْ : ان کے مخصوص غلام یعنی جو انہیں کے مملوک ہوں گے (مشترک خادم نہیں ہوں گے) ۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمام جنتیوں میں سب سے نچلا درجہ اس شخص کا ہوگا جس کے پیچھے دس ہزار خادم (کمربستہ) خدمت کے لیے کھڑے ہوں گے۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ اہل جنت میں کمترین درجہ کا وہ شخص ہوگا جس کی خدمت کے لیے صبح و شام پانچ ہزار خادم ایسے کمر بستہ ہوں گے جن میں سے کسی ایک کے پاس بھی (کھانے پینے کا) وہ برتن نہ ہوگا جو کسی دوسرے کے پاس ہوگا (یعنی ہزاروں قسم کے کھانے کے برتن جدا جدا ہوں گے) ۔ مَّکْنُوْنٌ : سیپ کے اندر پوشیدہ ‘ صفائی ‘ سفیدی اور خوبصورتی میں وہ دُرِّ مکنون کی طرح ہوں گے۔ بغوی نے حسن کی روایت سے لکھا ہے کہ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! جب خادم (حسن و چمک میں) موتی کی طرح ہوں گے تو ان کے مخدوم کی کیا حالت ہوگی۔ قتادہ نے کہا : ہم سے بیان کیا گیا کہ ایک شخص نے عرض کیا یا نبی اللہ ! جب خادم ایسے ہوں گے تو مخدوم کیسا ہوگا ؟ فرمایا : مخدوم کی خادم پر (آب و تاب ‘ چمک اور خوبصورتی میں) برتری ایسی ہوگی جیسی چودہویں رات کے چاند کی باقی ستاروں پر۔ عبدالرزاق اور ابن جریر نے اپنی اپنی تفسیروں میں قتادہ کی مرسل روایت بھی اسی طرح نقل کی ہے۔
Ayah 52:25

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 52:25 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے آپس میں گفتگو کریں گے

واقبل بعضھم علی بعض یتسالون اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے ‘ یَتَسَآءَ لُوْنَ : یعنی باہم ایک دوسرے سے گزشتہ دنیوی احوال اور واقعات پوچھے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : دنیا میں جو خوف اور دکھ تھا باہم اس کا تذکرہ کریں گے۔ اَقْبَلَ : ماضی کا صیغہ ہے لیکن مراد مستقبل ہے۔
Ayah 52:26

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ Open ayah 52:26 in the Quran reader

کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہتے تھے

قالوا انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین کہیں گے ہم اس سے پہلے اپنے گھر (یعنی دنیا) میں بہت ڈرا کرتے تھے ‘ قَالُوْٓا : کہیں گے۔ اِنَّا کُنَّا قَبْلُ : اس سے پہلے دنیا میں۔ مُشْفِقِیْنَ : اللہ کے عذاب سے ڈرتے تھے۔
Ayah 52:27

فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ Open ayah 52:27 in the Quran reader

تو خدا نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا

فمن اللہ علینا ووقنا عذاب السموم . سو اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔ فَمَنَّ اللہ عَلَیْنَا : یعنی اللہ نے ہم کو توفیق دی ‘ ہماری مغفرت کردی اور رحم فرمایا۔ عَذَاب السَّمُوْمِ : لُو کی طرح مسامات کے اندر گھسنے والی آگ کے عذاب سے۔ حسن نے کہا سموم جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
Ayah 52:28

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 52:28 in the Quran reader

اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ بےشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے

انا کنا من قبل ندعوہ انہ ھو البر الرحیم . ہم اس سے پہلے (دُنیا میں) اس سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ واقعی وہ بڑا محسن ‘ مہربان ہے۔ نَدْعُوْہُ : اللہ کی عبادت کرتے تھے ‘ جہنم سے محفوظ رکھنے کی دعا کرتے تھے۔ اَلْبَرُّ : احسان کرنے والا ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مہربانی کرنے والا۔ ضحاک نے کہا : وعدہ کا سچا ‘ وعدہ پورا کرنے والا۔ الرَّحِیْمُ : بڑی رحمت والا۔
Ayah 52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّ لَا مَجْنُوْنٍؕ Open ayah 52:29 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے

فذکر فما انت بنعمت ربک بکاھن ولا مجنون . تو آپ سمجھاتے رہیے کیونکہ آپ اللہ کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں۔ فَذَکِّرْ : اس میں فَ سببیہ ہے (پہلا کلام تذکیر کی علّت ہے) اللہ کی طرف سے وعدہ اور وعید کو پورا کرنا وعظ و نصیحت کے حکم کا سبب ہے۔ فَمَآ اَنْتَ : فَ تعلیلیہ ہے یعنی لوگوں کو نصیحت کیجئے کیونکہ آپ اللہ کے نبی ہیں ‘ اپنے رب کی نعمت یعنی نبوت اور عقل سلیم کے حامل ہیں۔ کاہن اور مجنون نہیں۔ نبوت اور دین کہانت کے منافی ہے۔ اس لیے آپ کاہن نہیں ہیں اور عقل سلیم جنون کے منافی ہے اس لیے آپ مجنون نہیں ہیں۔ آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جو مکہ کے پہاڑیوں کی گھاٹیوں میں الگ الگ بٹ کر بیٹھ گئے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو کاہن ‘ ساحر اور شاعر کہتے تھے۔ ابن جرید نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ : رسول اللہ ﷺ کے معاملہ میں مشورہ کرنے کے لیے قریش دارالندوہ (چوپال) میں جمع ہوئے۔ بعض لوگوں نے کہا : یہ بھی زہیر اور نابغہ کی طرح ایک شاعر ہے۔ اس کو قید کردو یہاں تک کہ خود اپنے وقت پر مرجائے جیسے دوسرے شاعر مرگئے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 52:30

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا کافر کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے (اور) ہم اس کے حق میں زمانے کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں

ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون کیا یہ لوگ (یوں بھی) کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم ان پر حادثۂ موت آنے کا انتظار کر رہے ہیں رَیْبَ الْمَنُوْنِ : حوادث زمانہ یا حوادث موت یعنی مہلک حوادث ‘ کافروں نے کہا تھا جیسے اور شاعر مرگئے ‘ محمد ﷺ بھی مرجائیں گے۔ یہ بھی ایک شاعر ہیں ‘ ان کے مرنے کے بعد ان کے ساتھی منتشر ہوجائیں گے۔ ان کا باپ جوان مرگیا ہم کو امید ہے کہ یہ بھی باپ کی طرح جوان مرجائے گا۔ یَامَنُوْنَ مَنَّہ : سے اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ مَنَّہ : اس کو کاٹ دیا۔ اس سے زمانہ مراد ہے یا موت زمانہ اور موت زندگی کو کاٹ دیتے ہیں۔
Ayah 52:31

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

کہہ دو کہ انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

قل تربصوا فانی معکم من المتربصین . ‘ آپ کہہ دیجئے تم لوگ انتظار کرتے رہو ‘ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ قُلْ : اے محمد ! آپ ﷺ کہہ دیجئے۔ تَرَبَّصُوْا : تم میرے مرنے کے منتظر رہو۔ میں بھی منتظر ہوں کہ تمہارے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہوتا ہے۔
Ayah 52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں۔ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر

ام تامرھم احلامھم بھٰذا ام ھم قوم طاغون . کیا انکی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں یا یہ شریر لوگ ہی ہیں آخر بدر کے دن اللہ کا عذاب کافروں پر بصورت قتل آگیا۔ اَمْ تَاْمُرُھُمْ اِحْلَامُھُمْ : کیا ان کی عقلیں ان متضاد اقوال کا حکم دے رہی ہیں ‘ کاہن تو بڑا زیرک اور دقیق النظر ہوتا ہے اور مجنون بےعقل ‘ خبط الحواس اور شاعر وہ ہوتا ہے جس کا کلام بلیغ ‘ موزوں اور تخیل کا حامل ہوتا ہے اور مجنون کے کلام میں نہ وزن ہوتا ہے ‘ نہ بلاغت ‘ نہ خیال کی پرواز۔ قریش کے بڑے لوگ بہت دانش مند مانے جاتے تھے۔ اللہ نے فرمایا : ان کو تو زیرک (دانا) اور پاگل میں بھی امتیاز نہیں ہے۔ حق و باطل میں بھی تمیز نہیں کرسکتے۔ پھر کیسے عقلمند ہیں ؟ کیا اس تضاد بیانی کا حکم ان کی عقلیں دے رہی ہیں ؟ ایسا نہیں ہے۔ اَمْ ھُمْ قُوْمٌ طَاغُوْنَ : بلکہ یہ لوگ عناد و عداوت میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں۔ قرآن اور نبی کی صداقت کی دلیل روشن ہے اور برہان و اضح ہے اس لیے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ متضاد باتیں بنائیں۔
Ayah 52:33

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا (کفار) کہتے ہیں کہ ان پیغمبر نے قرآن از خود بنا لیا ہے بات یہ ہے کہ یہ (خدا پر) ایمان نہیں رکھتے

ام یقولون تقولہ بل لا یؤْمنون یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے بلکہ یہ لوگ تصدیق نہیں کرتے اَمْ یَقُوْلُوْنَ : بلکہ یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے قرآن خود بنا لیا ہے ‘ اللہ کی طرف سے نہیں آیا حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ دشمنی اور فرط عناد کی وجہ سے یہ لوگ مانتے نہیں ہیں اور اس قسم کی باتیں بناتے ہیں۔
Ayah 52:34

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

اگر یہ سچے ہیں تو ایسا کلام بنا تو لائیں

فلیاتوا بحدیث مثلہ ان کانوا صدقین . تو یہ بھی اس طرح کا کلام بنا کرلے آئیں ‘ اگر یہ سچے ہیں۔ مِثْلِہٖ : کوئی کلام جو بلاغت کا حامل اور غیب کی اطلاع دینے میں قرآن کی طرح ہو ‘ پیش کریں۔ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ : اگر یہ لوگ اس بات میں سچے ہیں کہ رسول کاہن ہیں یا مجنون ہیں یا شاعر ہیں کیونکہ ان میں بہت سے کاہن ہیں ‘ کچھ مجنون بھی ہیں بکثرت شاعر بھی ہیں۔ اس تفسیر پر کافروں کی تینوں تہمت تراشیوں کی تردید ہوجائے گی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دعوت مقابلہ دینے سے صرف آخری قول کی تردید مقصود ہو کیونکہ باقی اقوال کا غلط ہونا تو ظاہری ہے ‘ ان کو باطل کرنے کے لیے دعوت مقابلہ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
Ayah 52:35

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں

ام خلقوا من غیر شیء ام ھم الخالقون کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق کے خودبخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں مِنْ غَیْرِ شَیْ ءٍ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مراد یہ ہے کہ کیا بغیر ربِّ خالق کے یہ پیدا ہوگئے ‘ ایسا ناممکن ہے کیونکہ حادث جو پہلے معدوم تھا ‘ اس کا وجود بغیر موجد کے ہو نہیں سکتا۔ بعض اہل علم نے من شی ءٍ کا ترجمہ کیا : ” بےوجہ “۔ یعنی عبادت پر مامور کرنے کے بغیر اور بلا سزا جزا کے مقصد کے یونہی بیکار پیدا کردیا گیا ہے کہ نہ ان پر احکام تشریعی جاری ہوں گے ‘ نہ اعمال کا اچھا برا بدلہ آخرت میں دیا جائے گا۔ ابن کیسان اور زجاج نے یہی مطلب بیان کیا ہے۔ اَمْ ھُمُ الْخٰلِقُوْنَ : یعنی یا یہ بات ہے کہ یہ خود اپنے خالق ہیں ‘ اس قول کی غلطی محتاج دلیل نہیں۔ اس جملہ سے حضرت ابن عباس کے تفسیری قول کی تائید ہوتی ہے ‘ اسی لیے اس کے بعد فرمایا :
Ayah 52:36

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے

ام خلقوا السموات والارض بل لا یوقنون . یا انہوں نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے بلکہ یہ لوگ (بوجہ جہالت کے توحید پر) یقین نہیں لاتے۔ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ : یعنی واضح اور قطعی برہان موجود ہے کہ یہ خود آسمان و زمین کے خالق نہیں ہیں بلکہ اللہ نے انکو بھی پیدا کیا اور آسمان و زمین کو بھی ‘ پس لازم تھا کہ یہ ایمان لے آتے لیکن انکو یقین ہی نہیں ہے اگر یقین ہوتا تو اللہ کی عبادت سے اعراض نہ کرتے۔
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں؟

ام عندھم خزآئن ربک ام ھم المصیطرون . کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ لوگ (اس محکمۂ نبوت کے) حاکم ہیں۔ اَمْ عِنْدَھُمْ : یعنی کیا رزق رب کے انکے پاس خزانے ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دے دیں یا خزائن سے مراد ہیں خزائن علم رب یعنی کیا انکے پاس رب کے علم اور حکمت کے خزانے ہیں کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ کون نبوت کا مستحق ہے اور حکمت کا تقاضا کیا ہے۔ اَمْ ھُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ : یا ان کا تسلط تمام چیزوں پر ہے اور ان کے اقتدار کے نیچے تمام اشیاء داخل ہیں کہ جیسا چاہیں کریں ‘ کسی کا حکم ان پر نہ چلے۔
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر (چڑھ کر آسمان سے باتیں) سن آتے ہیں۔ تو جو سن آتا ہے وہ صریح سند دکھائے

ام لھم سلم یستمعون فیہ فلیات مستمعھم بسلطان مبین . کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر (یہ آسمان کی) باتیں سن لیا کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان میں جو آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ کوئی صاف دلیل پیش کرے۔ اَمْ لَھُمْ سُلَّمٌ : یعنی ان کے پاس آسمان تک پہنچانے والی کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ ملائکہ کا کلام سن سکیں اور علم غیب کی وحی ان تک پہنچ جائے اور ان کو معلوم ہوجائے کہ کیا ہونے والا ہے یا یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کی طرف سے حق کیا ہے تاکہ خود حق پرست بن جائیں اور محمد ﷺ کا اتباع نہ کریں ‘ اگر ان کو اس بات کا دعویٰ ہے تو ان میں سے جو شخص کلام ملائکہ اور حکم وحی کو سننے کا مدعی ہو تو وہ واضح دلیل پیش کرے۔
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا خدا کی تو بیٹیاں اور تمہارے بیٹے

ام لہ البنٰت ولکم البنون . کیا خدا کے لیے بیٹیاں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں۔ کافر کہتے ہیں کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں ‘ اللہ ان کی تحمیق کرتا ہے اور فرماتا ہے ‘ کیا انہوں نے اللہ کی بیٹیاں فرض کر رکھی ہیں اور انسانوں کے لیے بیٹے (پسند کرتے ہیں) کیسے سفیہ العقل اور سبک سر ہیں ‘ ایسے شخص کو تو ہوش مند نہیں کہا جاسکتا ‘ چہ جائیکہ وہ شخص عالم ملکوت تک روحانی ارتقاء رکھتا ہو اور غیب کی باتوں کی اس کو اطلاع ہو۔
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

(اے پیغمبر) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے

ام تسئلھم اجرا فھم من مغرم مثقلون . یا (تبلیغ احکام کا) کوئی معاوضہ آپ ان سے مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان لوگوں کو گراں معلوم ہوتا ہے۔ اَمْ تَسْءَلُھُمْ اَجْرًا : یعنی کیا تبلیغ رسالت کی کوئی اجرت آپ ان سے طلب کر رہے ہیں ‘ جس کا تاوان ان پر پڑ رہا ہے اور وہ بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں اور اسی لیے آپ کا اتباع نہیں کرتے ‘ باوجودیکہ موجب اتباع موجود ہے۔