At-Tur 52:8

At-Tur · from ayah 8

52:8

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ ۟ۙمَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍۙ

(اور) اس کو کوئی روک نہیں سکے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Of it there is no preventer.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:8

جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) اس کو کوئی روک نہیں سکے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسے کوئی روکنے واﻻ نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کوئی ہیں ہے جو اسے روک سکے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اسے کوئی ٹالنے والا نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کوئی اس کو ٹالنے والا نہیں بن سکے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسے کوئی ٹالنے والا نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

کوئی بھی اسے ٹال نہیں سکتا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اسے کوئی روکنے والا نہ ہوگا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس کو روکنے والا کوئی نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

There is nothing to push it back,

— Muhammad Taqi Usmani

There is nothing to push it back,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There is none that can avert it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Of it there is no preventer.

— Saheeh International

and no one will be able to prevent it.

— Muhammad Sarwar

There shall be none to avert it;

— Muhammad Habib Shakir

Of it there is no averter.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 52:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–16

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 6 یہ ہے وہ حقیقت جس پر ان پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے۔ چونکہ یہاں اس پر ایمان لانے والے مخاطب نہیں ہیں بلکہ اس کا انکار کرنے والے مخاطب ہیں، اور ان کے حق میں اس کا آنا عذاب ہی ہے، اس لیے اس کو قیامت یا آخرت یا روز جزا کہنے کے بجائے " رب کا عذاب " کہا گیا ہے۔ اب غور کیجیے کہ اس کے وقوع پر وہ پانچ چیزیں کس طرح دلالت کرتی ہیں جن کی قسم کھائی گئی ہے۔ طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم کو اٹھانے اور ایک غالب و قاہر قوم کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا، اور یہ فیصلہ قانون طبیعی (Physical Law) کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون اخلاقی (Moral Law) اور قانون…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ (بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا اس کو کوئی دفع کرنے والا نہیں) یہ جواب قسم ہے اور طور، صحائف، اعمال، بیت المعمور، آسمان، سمندر کی جس مضمون کے لئے قسم کھائی ہے اس کا یہ بیان ہے کہ کفار کے اوپر اللہ کا عذاب ضرور واقع ہوگا۔ واقعہ فاروق اعظم حضرت فاروق اعظم نے ایک روز سورة طور پڑھی جب اس آیت پر پہنچے تو ایک آہ سرد بھری، جس کے بعد بیس روز تک بیمار رہے، لوگ عیادت کو آتے، مگر یہ کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ بیماری کیا ہے (ابن کثیر) حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ میں مسلمان ہونے سے پہلے ایک مرتبہ مدینہ طیبہ اس لئے آیا کہ رسول اللہ ﷺ سے بدر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) (اصل دعویٰ جو سورة کا عمود ہے)۔۔۔ یہ ہے وہ اصل دعویٰ جو اوپر کی قسموں کے بعد پیش کیا گیا ہے اور یہی اس سورة کا عمود بھی ہے۔ یہی بات معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، سابق سورة میں ہوائوں کی قسم کے بعد یوں ارشاد ہوئی ہے۔۔۔۔۔ (الذریت 5۔ 6) (بیشک جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ سچی ہے اور بیشک جزا اور سزا ہو کے رہے گی) بس اتنا فرق ہے کہ اس میں عذاب کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ ہم سابق سورة میں (انما توعدون لصادق) کی شرح کرتے ہوئے اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سے مراد در حقیقت وہ عذاب ہے جس سے اللہ کے رسولوں نے دنیا اور آخرت میں ڈرایا ہے۔ اس سورة میں گویا وہی بات واضح فرما دی گئی ہے جو سابق سورة میں مضمر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے یعنی یہ تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی مظہر ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ کا وہ عذاب بھی یقینا واقع ہو کر رہے گا جس کا اس نے وعدہ کیا ہے اسے کوئے ٹالنے پر قادر نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–18

2: یہ ترجمہ اس تفسیر پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ان الفاظ میں نقل فرمائی۔ ”وَ وَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْم عطف علی آتا ھم ان جعلت ما مصدریة، ای فاکھین بایتائھم ربھم و وقایتھم عذاب الجحیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

ان عذاب ربک لواقع (25 : 7) مالہ من دافع (25 : 8) ” کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے۔ “ یہ عذاب یقینا ہونے والا ہے اور اسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ان دونوں آیات کا اثر اور ان کا سجع دونوں فیصلہ کن ہیں۔ الفاظ کے ترنم سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ واقع ہونے والا ہے اور اس میں کوئی دوسری بات ممکن نہیں ہے اور اس سے کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ جب یہ اثر انسان کے پردہ احساس پر پڑتا ہے اور براہ راست پڑتا ہے تو یہ دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی حالت بدل کر رکھ دیتا ہے۔ حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے اپنے باپ سے انہوں نے موسیٰ ابن داؤد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–8

6 یعنی یہ تمام چیزیں جن کی قسم کھائی شہادت دیتی ہیں کہ وہ خدا بہت بڑی قدرت و عظمت والا ہے۔ پھر اس کی نافرمانی کرنے والوں پر عذاب کیوں نہیں آئے گا۔ اور کس کی طاقت ہے جو اس کے بھیجے ہوئے عذاب کو الٹا واپس کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6 پانچ قسموں کی تفصیل :۔ مذکورہ بالا پانچ چیزوں کی قسم کھاتے ہوئے یا انہیں بطور شہادت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت اور اس کا عذاب واقع ہو کے رہے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچوں چیزیں کسی اہم مفید اور قدرت کاملہ پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر اسی قدرت کاملہ سے انسان کو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فی الواقع قیامت بپا کرنے پر قادر ہے۔ (1) طور وہ مقام ہے جہاں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اسی رات اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ صادر کردیا تھا کہ بنی اسرائیل کو فرعون جیسے جابر بادشاہ کی غلامی سے آزاد کیا جائے گا۔ چناچہ یہ آزادی انہیں نصیب ہوئی اور ان کا دشمن غرق ہوا۔ (2) تمام کتب سماویہ جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–10

2۔ یعنی ایسی چیزیں جو وسعت، شان، صلابت وپائیداری میں آج اپنی نظیر آپ ہی سمجھی جاتی ہیں سب اپنے صفات وسعت وثبات وصلابت وغیرہ سے معری ہو کر سامنے آجائیں گی، (آیت) من دافع “۔ من زائدہ تاکید کے لئے ہے۔ یعنی کوئی سی بھی چیز اسے ٹال نہیں سکتی۔ من مزیدۃ للتاکید (روح) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–8

والبحر المسجور مسجور، سجر سے مشتق ہے اسم مفعول کا صیغہ ہے، جو متعدد معنی میں مستعمل ہے، ایک معنی آگ بھڑکانے کے ہیں، بعض مفسرین نے اس جگہ یہنی معنی مراد لئے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت کے روز بارش نازل ہوگی اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں یگ، بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت کے دن آگ بھڑک اٹھے گی، جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور بعض حضرات نے مسجور کے معنی مملوء کے لئے ہیں، امام طبری نے اور صاحب جلالین نے اسی قوم کو اختیار کیا ہے۔ ان عذاب ربک لواقع یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–12

(7۔ 12) غرض کہ ان تمام قسموں کے بعد ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن بالخصوص قریش پر آپ کے رب کا عذاب ضرور ہوگا کوئی اس عذاب کو ٹال نہیں سکتا جس روز آسمان اور آسمان والوں کو لے کرچکی کی طرح گردش کرنے لگے گا اور تمام مخلوق کانپ ٹھے گی اور پہاڑ زمین پر سے ہٹ کر بادلوں کی طرح فضا میں لچنے لگیں گے۔ سو جو لوگ خصوصا ابو جہل وغیرہ رسالت اور قرآن کریم کا انکار کرنے والے ہیں ان کو قیامت میں سخت ترین عذاب ہوگا اور جو کہ تکذیب کے مشغلہ میں بےہودگی کے ساتھ لگے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مالہ من دافع : اس کی تفصیل اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة روم (43) اور سورة معارج (1، 2) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

ان عذاب ربک لواقع، ، یہ جواب قسم ہے یعنی عذاب مشرکوں میں واقع ہونے والا ہے۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے کہا میں مدینہ طیبہ حاضر ہوا تاکہ میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کروں تو میں نے آپ کو مغرب کی نماز میں سورة طور کی تلاوت کرتے ہوئے پایا یہاں تک کہ آپ نے یہ آیت تلاوت کی ان عذاب ربک لواقع ،۔ مالہ من دافع گویا میرا دل پھٹ گیا تو عذاب کے نزول کے ڈر سے مسلمان ہوگیا مجھے یہ گمان تک نہ تھا کہ میں یہاں سے اٹھ سکوں گا یہاں تک کہ مجھ پر عذاب نازل ہوجائے گا (3) ۔ ہشام بن حسان نے کہا : میں اور مالک بن دینار، حضرت حسن بصری کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے پاس ایک آدمی سورة طور کی تلاوت کر رہا تھا یہاں تک کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–18

1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔ 2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔ عذاب الہی کے تصور سے رونا : 3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ''…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–8

ان قسموں کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ007﴾ (بےشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے) ﴿ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ008﴾ (اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں) یہ جواب قسم ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا فرمایا ہے جو عظیم الشان ہیں اور کائنات میں بڑی چیزیں ہیں اس کی قدرت سے یہ باہر نہیں ہے کہ صالحین کو ثواب اور منکرین کو عذاب دینے کے لیے قیامت قائم کرے، جب قیامت قائم ہوگی تو اسے کوئی بھی دفع کرنے والا نہیں ہوگا۔ حضرت جبیربن معطم ؓ نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تاکہ رسول اللہ ﷺ سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کروں ( اس وقت یہ مسلمان نہیں ہوئے تھے) میں آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔ (ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔ قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

4:۔ ” ان عذاب “ یہ مذکورہ بالا پانچ شواہد بصورت اقسام کا جواب ہے یعنی حشر نشر کے بعد جزاء و سزا بھی ہوگی اور اللہ کے عذاب سے کوئی بھاگ نہیں سکے اور نہ کوئی کسی سے عذاب کو ہٹا ہی سکے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَّا لَہٗ مِنْ دَافِعٍ۝ 8 دفع الدَّفْعُ إذا عدّي بإلى اقتضی معنی الإنالة، نحو قوله تعالی: فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 6] ، وإذا عدّي بعن اقتضی معنی الحماية، نحو : إِنَّ اللَّهَ يُدافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا [ الحج/ 38] ، وقال : وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ [ الحج/ 40] ، وقوله : لَيْسَ لَهُ دافِعٌ مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعارِجِ [ المعارج/ 2- 3] ، أي : حام، والمُدَفَّع : الذي يدفعه كلّ أحد «3» ، والدُّفْعَة من المطر، والدُّفَّاع من السّيل . ( دع ) الدفع ( دفع کرنا ، ہٹا دینا ) جب اس کا تعدیہ بذریعہ الیٰ ہو تو اس کے معنی دے دینے اور حوالے کردینا ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–8

وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ۔ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۔ وَالْبَحْرِالْمَسْجُوْرِ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ مَّالَـہٗ مِنْ دَافِعٍ ۔ (الطور : 1 تا 8) (قسم ہے طور کی۔ اور ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ جھلی کے کھلے ہوئے اوراق میں۔ اور قسم ہے آباد گھر کی۔ اور اونچی چھت کی۔ اور لبریز سمندر کی۔ بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ ) قسموں اور مقسم علیہ کا ذکر ان آیات میں طور، کتاب مسطور، بیتُ المعمور، سقفِ مرفوع اور بحرمسجود کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی ان قسموں سے بعد میں آنے والے جوابِ قسم یا مقسم علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت کے منکرین کو قیامت کے دن ضرور عذاب دیا جائے گا اور اسے کوئی نہیں ٹال سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر قسم کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ اسی طرح اس نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ قیامت کے دن کفار، مشرکین اور بھاری مجرموں کو ہر صورت عذاب دیا جائے گا اور اس عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ جس دن مجرموں کو عذاب دیا جائے گا اس کا آغاز اس طرح ہوگا کہ آسمان کپکپانے لگے گا اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے۔ جو اس دن کو جھٹلاتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہوگی۔ قیامت کے دن جونہی اسرافیل صور پھونکیں گے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 8 : مَّالَہٗ مِنْ دَافِعٍ (کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا) اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ نحو : جملہ واقعٌ کی صفت ہے۔ ای واقع غیر مدفوع اور لواقع یہ یوم کا عامل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ای یقع فی ذلک الیوم یا اذ کر یوم۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ ) اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ یعنی کوئی ایسی ہستی نہ ہوگی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہوگا جو اسے روک سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کرسکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 8–9

[ 8] رب کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارے رب کے عذاب نے بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہوگا۔ اپنے اس وقت سے جو اس کے لئے تمہارے رب نے مقرر فرما رکھا ہے اور جس کا علم اسی وحدہٗ لاشریک کو ہے، یہاں کائِن [ ہونے والا ] نہیں بلکہ " واقعٌ " فرمایا گیا ہے جس کے معنی بلندی سے نیچے گرنے والی، اور زور سے لگنے والی چیز کے ہیں، سو وہ عذاب بڑا ہی ہولناک ہوگا، اور وہ بہرحال ہو کر رہنے والا ہے، یہ منکر لوگ نہ تو خود اس کو ٹال سکیں گے اور نہ ہی ان کے مزموعہ شرکاء و شفعاء میں سے کسی کے اندر اس کا ٹالنے کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر) اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:8) مالہ من دافع۔ ما نافیہ، من زائدہ ہے تاکید کے لئے لایا گیا ہے دافع اسم فاعل واحد مذکر۔ دفع کرنے والا۔ ٹالنے والا۔ ہٹانے والا۔ اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ۔ یہ ان کی خبر ثانی ہے یا واقع کی صفت۔ یہ جملہ معترضہ بھی ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔ (ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–20

[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔ [7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ (الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–16

سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب عذاب واقع ہوگا تو اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہو گا 8 ؎ یعنی ان لوگوں نے جو جو وسیلے ‘ واسطے بنا رکھے ہیں سب کے سب ٹوٹ جائیں گے اور کوئی واسطہ اور وسیلہ بھی اس وقت کام نہیں آئے گا۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل ہوگا خواہ یہ وہ عذاب ہے جو نافرمان قوموں کو ہلاک کرتا رہا جب کہ انہوں نے اپنے انبیاء کرام اور رسل عظام رحمتہ اللہ کی نافرمانیوں میں ساری حدود پھلانگ دیں اور خواہ یہ عذاب دوزخ کا عذاب ہے جو معاندین و مخالفین کے لئے لازم و ضروری قرار دیا گیا ہے ان دونوں ہی عذابوں کی نسبت اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف ہے اور لاریب ان کو کوئی شخص بھی ٹال نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

إِنَّ عَذَابَ رَ‌بِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهُ مِن دَافِعٍ (the punishment of your Lord is sure to fall. There is nothing to push it back,....52:7-8) Verses 1-6 constituted swearing of an oath, and the present verse is jawab-ul-qasam or the fact for which the oath is sworn, assuring that the torment of Allah will come to pass, and none will be able to avert it. The Incident of Sayyidna ` Umar ؓ Sayyidna ` Umar ؓ one day recited Surah Tur. When he came to these verses, he heaved a cool sigh after which he fell ill for about twenty days. During his illness the people would visit him, not knowing…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 This is that truth for which an oath has been sworn by the five things. 'The torment of your Lord" implies the Hereafter, for it will be a torment for those who deny that it will come. That is why it has been called "the torment of your Lord" instead of the Resurrection, or the Hereafter, or the Day of Retribution. Now let us consider how the flue things by which an oath has been sworn point to ita occurrence. Mount Tur is the place where a decision was taken to exalt an oppressed nation and to abase an oppressive nation, and this decision was taken not on the basis of a physical law but on…

Read the full tafseer →