At-Tur 52:7

At-Tur · from ayah 7

52:7

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ ۟ۙاِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لوَاقِعٌ

کہ تمہارے پروردگار کا عذاب واقع ہو کر رہے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the punishment of your Lord will occur.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:7

کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ تمہارے پروردگار کا عذاب واقع ہو کر رہے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ تمہارے پروردگار کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ یقینا تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ آپ کے پروردگار کا عذاب واقع ہو کے رہے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک تمہارے رب کے عذاب نے بہرحال ہو کر رہنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ بیشک آپ کے پروردگار کا عذاب ضرور ہو کر رہے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تیرے رب کا عذاب یقینا واقع ہو کر رہے گا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ تمہارے رب کا عذاب ہو کر رہے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

verily your Lord's chastisement shall come to pass,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the punishment of your Lord is sure to fall.

— Muhammad Taqi Usmani

the punishment of your Lord is sure to fall.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, the torment of your Lord will surely come to pass.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! the doom of thy Lord will surely come to pass;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the punishment of your Lord will occur.

— Saheeh International

the torment of your Lord will inevitably take place

— Muhammad Sarwar

Most surely the punishment of your Lord will come to pass;

— Muhammad Habib Shakir

Verily the torment of thine Lord is sure to befalls

— Abdul Majid Daryabadi

Verily, the Doom of thy Lord will indeed come to pass;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–16

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الطُّوْر 5 اصل میں لفظ اَلْبَحْرِ الْمَسجُوْر استعمال ہوا ہے۔ اس کے متعدد معنی بیان کیے گئے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کو " آگ سے بھرے ہوئے " کے معنی میں لیا ہے۔ بعض اس کو فارغ اور خالی کے معنی میں لیتے ہیں جس کا پانی زمین میں اتر کر غائب ہوگیا ہو، بعض اسے محبوس کے معنی میں لیتے ہیں اور اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ سمندر کو روک کر رکھا گیا ہے تاکہ اس کا پانی زمین میں اتر کر غائب بھی نہ ہوجائے اور خشکی پر چھا بھی نہ جائے کہ زمین کے سب باشندے اس میں غرق ہوجائیں۔ بعض اسے مخلوط کے معنی میں لیتے ہیں جس کے اندر میٹھا اور کھاری، گرم اور سرد ہر طرح کا پانی آ کر مل جاتا ہے۔ اور بعض اسکو لبریز اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ (بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا اس کو کوئی دفع کرنے والا نہیں) یہ جواب قسم ہے اور طور، صحائف، اعمال، بیت المعمور، آسمان، سمندر کی جس مضمون کے لئے قسم کھائی ہے اس کا یہ بیان ہے کہ کفار کے اوپر اللہ کا عذاب ضرور واقع ہوگا۔ واقعہ فاروق اعظم حضرت فاروق اعظم نے ایک روز سورة طور پڑھی جب اس آیت پر پہنچے تو ایک آہ سرد بھری، جس کے بعد بیس روز تک بیمار رہے، لوگ عیادت کو آتے، مگر یہ کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ بیماری کیا ہے (ابن کثیر) حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ میں مسلمان ہونے سے پہلے ایک مرتبہ مدینہ طیبہ اس لئے آیا کہ رسول اللہ ﷺ سے بدر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) (اصل دعویٰ جو سورة کا عمود ہے)۔۔۔ یہ ہے وہ اصل دعویٰ جو اوپر کی قسموں کے بعد پیش کیا گیا ہے اور یہی اس سورة کا عمود بھی ہے۔ یہی بات معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، سابق سورة میں ہوائوں کی قسم کے بعد یوں ارشاد ہوئی ہے۔۔۔۔۔ (الذریت 5۔ 6) (بیشک جس چیز سے تمہیں ڈرایا جا رہا ہے وہ سچی ہے اور بیشک جزا اور سزا ہو کے رہے گی) بس اتنا فرق ہے کہ اس میں عذاب کا پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ ہم سابق سورة میں (انما توعدون لصادق) کی شرح کرتے ہوئے اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سے مراد در حقیقت وہ عذاب ہے جس سے اللہ کے رسولوں نے دنیا اور آخرت میں ڈرایا ہے۔ اس سورة میں گویا وہی بات واضح فرما دی گئی ہے جو سابق سورة میں مضمر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–7

6۔ 1 مسجور کے معنی ہیں بھڑکے ہوئے۔ بعض کہتے ہیں، اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت والے دن بارش نازل ہوگی، اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت والے دن آگ بھڑک اٹھے گی۔ جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے امام شوکانی نے اسی مفہوم کو اولی قرار دیا ہے اور بعض نے مسجور کے معنی مملوء بھرے ہوئے کے لیے ہیں یعنی فی الحال سمندروں میں آگ تو نہیں ہے البتہ وہ پانی سے بھرے ہوئے ہیں امام طبری نے اس قول کو اختیار کیا ہے اس کے اور بھی کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–7

1: پچھلی سورت کے شروع میں قرآن کریم کی قسموں پر جو حاشیہ ہم نے دیا ہے، اسے یہاں بھی ملاحظہ فرمالیا جائے، یہاں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی ہے، پہلے کوہ طور کی جس کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں نافرمانوں کو عذاب ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ کوہ طور پر جو کتاب حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی، وہ بھی اس بات کی گواہ ہے، دوسری قسم ایک کتاب کی کھائی گئی ہے جو ایک صحیفے میں لکھی ہوئی ہے اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک تورات ہے، اس صورت میں اس قسم کا بھی آخرت کے عذاب سے وہی تعلق ہے جو کوہ طور کا عرض کیا گیا، البتہ بعض مفسرین نے اس سے مراد نامہ اعمال لیا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ انسانوں کا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

ان عذاب ربک لواقع (25 : 7) مالہ من دافع (25 : 8) ” کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے۔ “ یہ عذاب یقینا ہونے والا ہے اور اسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ان دونوں آیات کا اثر اور ان کا سجع دونوں فیصلہ کن ہیں۔ الفاظ کے ترنم سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ واقع ہونے والا ہے اور اس میں کوئی دوسری بات ممکن نہیں ہے اور اس سے کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ جب یہ اثر انسان کے پردہ احساس پر پڑتا ہے اور براہ راست پڑتا ہے تو یہ دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی حالت بدل کر رکھ دیتا ہے۔ حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے اپنے باپ سے انہوں نے موسیٰ ابن داؤد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–8

6 یعنی یہ تمام چیزیں جن کی قسم کھائی شہادت دیتی ہیں کہ وہ خدا بہت بڑی قدرت و عظمت والا ہے۔ پھر اس کی نافرمانی کرنے والوں پر عذاب کیوں نہیں آئے گا۔ اور کس کی طاقت ہے جو اس کے بھیجے ہوئے عذاب کو الٹا واپس کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ } ”تیرے رب کا عذاب یقینا واقع ہو کر رہے گا۔“ اس سے قیامت کا سخت دن مراد ہے جس کے اٹل ہونے کی حقیقت کو سورة الشوریٰ کی آیت 47 میں { یَوْمٌ لاَّ مَرَدَّ لَـہٗ } ”وہ دن جسے لوٹایا نہ جاسکے گا“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6 پانچ قسموں کی تفصیل :۔ مذکورہ بالا پانچ چیزوں کی قسم کھاتے ہوئے یا انہیں بطور شہادت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت اور اس کا عذاب واقع ہو کے رہے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچوں چیزیں کسی اہم مفید اور قدرت کاملہ پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر اسی قدرت کاملہ سے انسان کو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فی الواقع قیامت بپا کرنے پر قادر ہے۔ (1) طور وہ مقام ہے جہاں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اسی رات اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ صادر کردیا تھا کہ بنی اسرائیل کو فرعون جیسے جابر بادشاہ کی غلامی سے آزاد کیا جائے گا۔ چناچہ یہ آزادی انہیں نصیب ہوئی اور ان کا دشمن غرق ہوا۔ (2) تمام کتب سماویہ جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–7

1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات، سارا کارخانہ فطرت بزبان حال گواہ ہے کہ جزائے اعمال ضرور مل کررہے گی اور اسی جزائے عمل کے مکان وزمان کا نام حشر یا قیامت ہے۔ (آیت) ” والطور “۔ یعنی پہاڑ گواہ ہیں۔ جو آج اپنی جگہ پر اتنے مضبوط ومستحکم نظر آرہے ہیں۔ الطور۔ سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا کوہ طور پر ہوسکتا ہے، چناچہ متعدد مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ لیکن لغت میں طور کا مفہوم عام ہے۔ یعنی مطلق پہاڑ اور وہی سیاق کے زیادہ مناسب ہے۔ قیل اسم لکل جبل (راغب) اسم لکل جبل علی ماقیل فی اللغۃ العربیۃ عند الجمھور (روح) الطور الجبل بالسریانیۃ اوما طار من اوج الایجاد الی حضیض المواد (بیضاوی) ھو اسم الجنس (کبیر) (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–8

والبحر المسجور مسجور، سجر سے مشتق ہے اسم مفعول کا صیغہ ہے، جو متعدد معنی میں مستعمل ہے، ایک معنی آگ بھڑکانے کے ہیں، بعض مفسرین نے اس جگہ یہنی معنی مراد لئے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت کے روز بارش نازل ہوگی اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں یگ، بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت کے دن آگ بھڑک اٹھے گی، جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور بعض حضرات نے مسجور کے معنی مملوء کے لئے ہیں، امام طبری نے اور صاحب جلالین نے اسی قوم کو اختیار کیا ہے۔ ان عذاب ربک لواقع یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان عذاب ربک لواقع . کہ بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب ضرور ہو کر رہے گا اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ : یعنی کافروں پر اللہ کا عذاب ضرور آئے گا۔ حضرت جبیر بن مطعم کا بیان ہے۔ میں بدر کے قیدیوں کے متعلق بات چیت کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ آیا ‘ مجھے جس وقت آپ کے پاس لے جایا گیا اس وقت آپ مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے اور آواز مسجد سے باہر آرہی تھی۔ میں نے سنا آپ نے سورة طور مَآلَہٗ مِنْ دَافِعٍ تک پڑھی جو نہی آپ نے مَآلَہٗ مِنْ دَافِعٍ پڑھا ‘ میرا دل (خوف سے) پھٹنے لگا۔ اس وقت تک میں مسلمان نہیں ہوا تھا ‘ آیت سنتے ہی نزول عذاب کے خوف سے فوراً مسلمان ہوگیا۔ مجھے یقین ہوگیا تھا کہ اس جگہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–12

(7۔ 12) غرض کہ ان تمام قسموں کے بعد ارشاد ہوا کہ قیامت کے دن بالخصوص قریش پر آپ کے رب کا عذاب ضرور ہوگا کوئی اس عذاب کو ٹال نہیں سکتا جس روز آسمان اور آسمان والوں کو لے کرچکی کی طرح گردش کرنے لگے گا اور تمام مخلوق کانپ ٹھے گی اور پہاڑ زمین پر سے ہٹ کر بادلوں کی طرح فضا میں لچنے لگیں گے۔ سو جو لوگ خصوصا ابو جہل وغیرہ رسالت اور قرآن کریم کا انکار کرنے والے ہیں ان کو قیامت میں سخت ترین عذاب ہوگا اور جو کہ تکذیب کے مشغلہ میں بےہودگی کے ساتھ لگے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ان عذاب ربک لواقع) یہ جواب قسم ہے، جس کا یقین دلانے کے لئے پانچوں قسمیں کھائی گی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

ان عذاب ربک لواقع، ، یہ جواب قسم ہے یعنی عذاب مشرکوں میں واقع ہونے والا ہے۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے کہا میں مدینہ طیبہ حاضر ہوا تاکہ میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کروں تو میں نے آپ کو مغرب کی نماز میں سورة طور کی تلاوت کرتے ہوئے پایا یہاں تک کہ آپ نے یہ آیت تلاوت کی ان عذاب ربک لواقع ،۔ مالہ من دافع گویا میرا دل پھٹ گیا تو عذاب کے نزول کے ڈر سے مسلمان ہوگیا مجھے یہ گمان تک نہ تھا کہ میں یہاں سے اٹھ سکوں گا یہاں تک کہ مجھ پر عذاب نازل ہوجائے گا (3) ۔ ہشام بن حسان نے کہا : میں اور مالک بن دینار، حضرت حسن بصری کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے پاس ایک آدمی سورة طور کی تلاوت کر رہا تھا یہاں تک کہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–18

1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔ 2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔ عذاب الہی کے تصور سے رونا : 3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ''…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ [ بیشک آپ کے رب کا عذاب ] لَوَاقِعٌ [ یقینا وقوع پذیر ہونے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–8

ان قسموں کے بعد فرمایا ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ007﴾ (بےشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے) ﴿ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ008﴾ (اسے کوئی دفع کرنے والا نہیں) یہ جواب قسم ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا فرمایا ہے جو عظیم الشان ہیں اور کائنات میں بڑی چیزیں ہیں اس کی قدرت سے یہ باہر نہیں ہے کہ صالحین کو ثواب اور منکرین کو عذاب دینے کے لیے قیامت قائم کرے، جب قیامت قائم ہوگی تو اسے کوئی بھی دفع کرنے والا نہیں ہوگا۔ حضرت جبیربن معطم ؓ نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تاکہ رسول اللہ ﷺ سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کروں ( اس وقت یہ مسلمان نہیں ہوئے تھے) میں آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔ (ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔ قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

4:۔ ” ان عذاب “ یہ مذکورہ بالا پانچ شواہد بصورت اقسام کا جواب ہے یعنی حشر نشر کے بعد جزاء و سزا بھی ہوگی اور اللہ کے عذاب سے کوئی بھاگ نہیں سکے اور نہ کوئی کسی سے عذاب کو ہٹا ہی سکے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ۝ 7 ۙ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–8

وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ۔ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۔ وَالْبَحْرِالْمَسْجُوْرِ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ مَّالَـہٗ مِنْ دَافِعٍ ۔ (الطور : 1 تا 8) (قسم ہے طور کی۔ اور ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ جھلی کے کھلے ہوئے اوراق میں۔ اور قسم ہے آباد گھر کی۔ اور اونچی چھت کی۔ اور لبریز سمندر کی۔ بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ ) قسموں اور مقسم علیہ کا ذکر ان آیات میں طور، کتاب مسطور، بیتُ المعمور، سقفِ مرفوع اور بحرمسجود کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی ان قسموں سے بعد میں آنے والے جوابِ قسم یا مقسم علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت کے منکرین کو قیامت کے دن ضرور عذاب دیا جائے گا اور اسے کوئی نہیں ٹال سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہر قسم کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ قیامت ہر صورت قائم ہوگی۔ اسی طرح اس نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ قیامت کے دن کفار، مشرکین اور بھاری مجرموں کو ہر صورت عذاب دیا جائے گا اور اس عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ جس دن مجرموں کو عذاب دیا جائے گا اس کا آغاز اس طرح ہوگا کہ آسمان کپکپانے لگے گا اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہلنا شروع ہوجائیں گے۔ جو اس دن کو جھٹلاتا ہے اس کے لیے ہلاکت ہوگی۔ قیامت کے دن جونہی اسرافیل صور پھونکیں گے تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 7 : اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ (بیشک تیرے رب کا عذاب ضرور اترنے والا ہے) وہ عذاب جس سے کفار کو ڈرایا گیا ہے۔ واقع۔ اترنے کو کہتے ہیں۔ قولِ جبیر بن مطعم۔ : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اساریٔ بدر کے سلسلہ میں بات چیت کے لئے حاضر ہوا۔ نماز فجر کے وقت میں پہنچا آپ سورة طور تلاوت فرما رہے تھے جب آپ اس آیت پر پہنچے ان عذاب ربک لواقع تو میں اس خوف سے مسلمان ہوگیا کہ کہیں عذاب اتر نہ پڑے۔ صحیح کے اندر جو روایت آئی ہے اس میں صلاۃ المغرب کا ذکر ہے اور آیت ام خلقوا من غیر شیٔ ام ہم الخالقون۔ سنی تو میرا دل خوف سے اڑنے لگا۔ ] بحوالہ حاشیہ کشاف 4/409[

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

والبحر المسجور کی تفسیر 6 ۔” والبحر المسجور “ محمد بن کعب قرظی اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں۔ یعنی جلایا ہوا گرم پانی بھڑکائے ہوئے تندور کی طرح اور یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے اور یہ اس وجہ سے کہ روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام سمندروں کو قیامت کے دن آگ بنادیں گے۔ پس اس کے ذریعے جہنم کی آگ میں اضافہ کریں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” واذا البحار سجرت “ اور حدیث میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی آدمی سمندر میں سوار نہ ہو مگر جہاد کرنے کے لئے یا عمرہ یا حج کرنے کے لئے کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے۔ مجاہد اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ اشیا جن کی اللہ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں یہ اللہ کی نشانیاں اس کی توحید کے دلائل اور اس کی قدرت اور حیات بعدالموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا (اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ) یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے اللہ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 7] جواب قسم کا ذکر وبیان : سو ان چھ قسموں کے بعد جو اب قسم کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا بیشک تمہارے رب کے عذاب نے بہرحال واقع ہو کر رہنا ہے۔ سو یہ جواب ہے ان سب قسموں کا جن کا ذکر اوپر ہوا کہ یہ سب قسمیں اللہ پاک کی عظیم الشان اور بےپایاں قدرت کا پتہ دیتی ہیں اس لئے نہ تو یہ عجیب و غریب عالم بےمقصد ہوسکتا ہے، اور نہ ہی اس عالم کی ان سب چیزوں سے فائدہ اٹھانے والا حضرت انسان جواب دہی اور بازپرسی سے بچ سکتا ہے، پس بدلے اور انصاف کے اس دن کا آنا عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، تاکہ اس طرح ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ وصلہ مل سکے، نیکوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر) اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:7) ان عذاب ربک لواقع۔ یہ جملہ جواب قسم ہے ان حرف مشبہ بالفعل عذاب اسم ان عذاب مضاف۔ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ عذاب کا ۔ لام تاکید کا واقع خبر۔ قسم ہے طور کی۔ قسم ہے کتاب مسطور کی۔ قسم ہے البیت المعمور کی، قسم ہے سقف مرفوع کی، قسم ہے البحر المسجور کی، کہ آپ کے رب کا عذاب یقینا آکر رہے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔ (ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–20

[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔ [7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ (الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–16

سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ آپ ﷺ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا 7 ؎ یکے بعد دیگرے چھ قسموں سے بات کو موکد کر کے بیان کی اجا رہا ہے تاکہ وہ کسی شک و شبہ میں ملوث نہ سمجھی جائے اور اس پر یقین کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب قیامت کے روز واقع ہوگا اور ضرور ہوگا۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ کافروں ‘ مشرکوں اور منافقوں کو اللہ تعالیٰ کا عذاب اپنی لپیٹ میں ضرور لے گا۔ جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے کہ بدر کے بعد مجھے مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجاتا کہ میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں آپ ﷺ سے بات چیت کروں میں جب آپ ﷺ کے پاس پہنچا تو اس وقت آپ ﷺ مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ کی آواز مسجد سے باہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

إِنَّ عَذَابَ رَ‌بِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهُ مِن دَافِعٍ (the punishment of your Lord is sure to fall. There is nothing to push it back,....52:7-8) Verses 1-6 constituted swearing of an oath, and the present verse is jawab-ul-qasam or the fact for which the oath is sworn, assuring that the torment of Allah will come to pass, and none will be able to avert it. The Incident of Sayyidna ` Umar ؓ Sayyidna ` Umar ؓ one day recited Surah Tur. When he came to these verses, he heaved a cool sigh after which he fell ill for about twenty days. During his illness the people would visit him, not knowing…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

5 Several meanings have ban given of the word al-bahr-il-masjur as used in the original. Some commentators have taken it in the meaning of "full of fire"; sonic take it in the sense of "empty and un-occupied", the water of which might have sunk into the earth; some take it in the meaning of "restricted and confined" , by which they imply that the ocean has ban restrained so that its water neither sinks into the earth nor spreads over the land to drown all its dwellers. Some have taken it in the meaning of mixed and blended because in it swat and saline, warm and cold, water is mixed together;…

Read the full tafseer →