وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ ۟ۙوَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِۙ
اور ابلتے ہوئے دریا کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the sea filled [with fire],
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ ۟ۙوَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِۙ
اور ابلتے ہوئے دریا کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the sea filled [with fire],
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah At-Tur
اور موجزن سمندر کی
اور ابلتے ہوئے دریا کی
اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی
اور بھرے ہوئے سمندر کی
اور سلگائے ہوئے سمندر کی
اور اُبلتے ہوئے سمندر کی قَسم،
اور لباب بھرے ہوئے سمندر کی !
اور جوش مارتے ہوئے سمندر کی
اور لبریز سمندر
اور اس جوش مارتے ہوئے سمندر کی
اور پانی سے لبریز سمندر کی
اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی۔
اور ابلتے ہوئے دریا کی قسم
and by the swelling sea:
and by the sea, flared up (with fire),
and by the sea, flared up (with fire),
And by the sea that is Masjur.
And the sea kept filled,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the sea filled [with fire],
and by the swelling ocean,
And the swollen sea
By the sea overflowing.
And by the Ocean filled with Swell;-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 2–16
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الطُّوْر 5 اصل میں لفظ اَلْبَحْرِ الْمَسجُوْر استعمال ہوا ہے۔ اس کے متعدد معنی بیان کیے گئے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کو " آگ سے بھرے ہوئے " کے معنی میں لیا ہے۔ بعض اس کو فارغ اور خالی کے معنی میں لیتے ہیں جس کا پانی زمین میں اتر کر غائب ہوگیا ہو، بعض اسے محبوس کے معنی میں لیتے ہیں اور اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ سمندر کو روک کر رکھا گیا ہے تاکہ اس کا پانی زمین میں اتر کر غائب بھی نہ ہوجائے اور خشکی پر چھا بھی نہ جائے کہ زمین کے سب باشندے اس میں غرق ہوجائیں۔ بعض اسے مخلوط کے معنی میں لیتے ہیں جس کے اندر میٹھا اور کھاری، گرم اور سرد ہر طرح کا پانی آ کر مل جاتا ہے۔ اور بعض اسکو لبریز اور…
Read the full tafseer →وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ ، بحر سے مراد سمندر اور مسجور سجر سے مشتق ہے جو کئی معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے، ایک معنی آگ بھڑکانے کے بھی ہیں، بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ یہی معنی لئے کہ قسم ہے سمندر کی جو آگ بنادیا جائے گا، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ قیامت کے روز سارا سمندر آگ بن جائے گا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے (وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ) یعنی چاروں طرف کے سمندر آگ بن کر میدان حشر میں جمع ہونے والے انسانوں کے محیط ہوجائیں گے، یہی معنی حضرت سعید بن مسیب نے حضرت علی سے نقل کئے ہیں، حضرت ابن عباس اور سعید بن مسیب، مجاہد، عبید اللہ بن عمیر نے بھی یہی تفسیر کی ہے (ابن کثیر) حضرت علی سے کسی یہودی نے…
Read the full tafseer →والبحر المسجور (6) سجر کے معنی بھرنے کے ہیں۔ سجر الرجل التنور تنور کو ایندھن سے بھر دیا۔ سجر الماء النھر پانی نے نہر کو لبریز کردیا۔ (سمندر کی شہادت)۔۔ زمین اور آسمان کی شہادت کے بعد یہ زمین کی ایک سب سے بڑی نشانی سمندر کی قسم کھائی۔ یہ امر یہاں ملحوظ ہے کہ قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی زمین اور آسمان کی نشانیوں کا حوالہ دینے کے بعد سمندر کی نشانیوں کا ذکر آیا ہے، ملاحظہ ہوں سورة رحمن کی آیت 10۔ 24 ان آیات پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ زمین و آسمان کی نشانیوں میں سے سمندر اپنے اندر خدا کی توحید، اس کی قدرت، اس کی ربوبیت اور اس کی جزاء و سزا کے اتنے شواہد رکھتا ہے کہ انسان ان کو شمار نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6۔ 1 مسجور کے معنی ہیں بھڑکے ہوئے۔ بعض کہتے ہیں، اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت والے دن بارش نازل ہوگی، اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت والے دن آگ بھڑک اٹھے گی۔ جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے امام شوکانی نے اسی مفہوم کو اولی قرار دیا ہے اور بعض نے مسجور کے معنی مملوء بھرے ہوئے کے لیے ہیں یعنی فی الحال سمندروں میں آگ تو نہیں ہے البتہ وہ پانی سے بھرے ہوئے ہیں امام طبری نے اس قول کو اختیار کیا ہے اس کے اور بھی کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: پچھلی سورت کے شروع میں قرآن کریم کی قسموں پر جو حاشیہ ہم نے دیا ہے، اسے یہاں بھی ملاحظہ فرمالیا جائے، یہاں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی ہے، پہلے کوہ طور کی جس کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں نافرمانوں کو عذاب ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ کوہ طور پر جو کتاب حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی، وہ بھی اس بات کی گواہ ہے، دوسری قسم ایک کتاب کی کھائی گئی ہے جو ایک صحیفے میں لکھی ہوئی ہے اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک تورات ہے، اس صورت میں اس قسم کا بھی آخرت کے عذاب سے وہی تعلق ہے جو کوہ طور کا عرض کیا گیا، البتہ بعض مفسرین نے اس سے مراد نامہ اعمال لیا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ انسانوں کا…
Read the full tafseer →والبحر المسحور (25 : 6) ” اور قسم ہے موجزن سمندر کی “ یعنی بھرے ہوئے سمندر کی۔ سمندر کا ذکر آسمان کے مقابلے میں زیادہ مناسب ہے کیونکہ وہ بہت وسیع ہے۔ بھرا ہوا ہے اور طویل و عریض ہے۔ یہ ایک ایسی نشانی ہے جس میں خوبصورتی بھی ہے اور اس میں عظمت اور خوف بھی ہے اور یہ مذکورہ بالا دوسری نشانیوں کے ساتھ زیادہ نصیحت آموز ہے۔ للمسحور کا معنی وہ جس میں آگ لگی ہوئی ہو۔ دوسری سورة میں کہا گیا۔ واذا البحار سجرت ” جب سمندروں کو بھڑکایا جائے گا “ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یعنی۔ والبحر المسجور (25 : 6) سے مراد آگ کا کوئی سمندر ہو جیسا کہ۔ البیت المعمور سے مراد ایک غیبی عبادت گاہ ہے۔ ان عظیم چیزوں کی…
Read the full tafseer →5 دنیا کے ابلتے ہوئے دریا مراد ہوں، یا وہ عظیم الشان دریا مراد ہو جس کا وجود عرش عظیم کے نیچے اور آسمانوں کے اوپر روایات سے ثابت ہوا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6{ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ۔ } ”اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی۔“ اس سے سمندر کی وہ کیفیت مراد ہے جسے ہم اپنی زبان میں ”موج زن سمندر“ یا ”ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر“ کہہ کر بیان کرتے ہیں۔ سمندر کو دیکھنے سے واقعتا ایسے محسوس بھی ہوتا ہے جیسے یہ جوش سے ابل رہا ہے۔ بہرحال جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے ان قسموں کے معانی و مفاہیم کے بارے میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ البتہ ان قسموں کا مقسم علیہ وہی ہے جو کہ سورة الذاریات کی قسموں کا مقسم علیہ ہے۔
Read the full tafseer →5 مسجور۔ سجر میں کسی چیز کے بھرے ہوئے ہونے اور اس میں مخالطت یا تلاطم کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ (مقائیس اللغۃ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس سمندر کی قسم جو لبالب بھرا ہوا بھی ہے اور اس کے تلاطم میں اتنا جوش ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ابل رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات، سارا کارخانہ فطرت بزبان حال گواہ ہے کہ جزائے اعمال ضرور مل کررہے گی اور اسی جزائے عمل کے مکان وزمان کا نام حشر یا قیامت ہے۔ (آیت) ” والطور “۔ یعنی پہاڑ گواہ ہیں۔ جو آج اپنی جگہ پر اتنے مضبوط ومستحکم نظر آرہے ہیں۔ الطور۔ سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا کوہ طور پر ہوسکتا ہے، چناچہ متعدد مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ لیکن لغت میں طور کا مفہوم عام ہے۔ یعنی مطلق پہاڑ اور وہی سیاق کے زیادہ مناسب ہے۔ قیل اسم لکل جبل (راغب) اسم لکل جبل علی ماقیل فی اللغۃ العربیۃ عند الجمھور (روح) الطور الجبل بالسریانیۃ اوما طار من اوج الایجاد الی حضیض المواد (بیضاوی) ھو اسم الجنس (کبیر) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
والبحر المسجور مسجور، سجر سے مشتق ہے اسم مفعول کا صیغہ ہے، جو متعدد معنی میں مستعمل ہے، ایک معنی آگ بھڑکانے کے ہیں، بعض مفسرین نے اس جگہ یہنی معنی مراد لئے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت کے روز بارش نازل ہوگی اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں یگ، بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت کے دن آگ بھڑک اٹھے گی، جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور بعض حضرات نے مسجور کے معنی مملوء کے لئے ہیں، امام طبری نے اور صاحب جلالین نے اسی قوم کو اختیار کیا ہے۔ ان عذاب ربک لواقع یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →والبحر المسجور . اور بلند چھت (یعنی آسمان) کی قسم اور اَلْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ : قاموس میں ہے کہ : سجرا التنور : تنور کو گرم کردیا۔ سجر النھر : نہر کو بھر دیا۔ محمد بن کعب اور ضحاک نے کہا : اَلْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ ‘ وہ سمندر جس کو آگ کی طرح بھڑکایا اور گرم کیا جائے گا ‘ جیسے گرم کیا ہوا تنور۔ حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تمام سمندروں کو آگ بنا دے گا جس سے دوزخ کی آگ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ بیہقی نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سوائے مجاہد اور حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے کے اور کوئی شخص سمندر…
Read the full tafseer →اور قسم ہے بھرے ہوئے دریا کی اور یہ دریا ساتویں آسمان پر اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے ہے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گا اور اس کو حیوان بھی کہتے ہیں یا یہ کہ یہ گرم دریا ہے جو آگ ہوجائے گا اور قیامت کے دن دوزخ میں ڈالا جائے گا۔
Read the full tafseer →(والبحر المسجور :”سجر یسجر“ (ن) کئی معنوں میں آتا ہے۔”بحر التنور“ ”اس نے تنور ایندھن سے بھر کر بھڑکا دیا۔“”سجر الماء النھر ‘ ”پانی نے نہر کو بھر دیا۔“”سجر الکلب (شدہ بالساجور)“”اس نے کتے کو پٹے کے ساتھ باندھ دیا۔“ اس آیت میں زمین کی سطح پر پائی جانے والی سب سے عظیم مخلوق سمندر کی قسم کھا کر اسے قیامت کے دن عذاب دینے پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ لفظ ”المسجور“ لغت کے لحاظ سے جن کیفیتوں کا اظہار کرتا ہے وہ تینوں یہاں مراد لی جاسکتی ہییں۔ ایک یہ کہ وہ لبالب بھرا ہوا ہے، مدتیں گزرنے کے باوجود اس کی لبریزی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ قتادہ نے فرمایا :”الممتلی“ (طبری : 32593، بسند…
Read the full tafseer →والبحر المسجود، مجاہد نے کہا : مراد روشن کیا گیا ہے (3) ۔ حدیث میں آیا، ، سمندر کو قیامت کے روز گرم کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ آگ ہوجائے گا، ، (4) ۔ قتادہ نے کہا : اس کا معنی بھرا ہوا ہے۔ نحویوں نے نمربن ثواب کا شعر پڑھا : اذا شاء طالع مسجود تری حولھا النبع والسا سما (5) جب وہ چاہتا ہے وہ بھرے ہوئے چشمے پر جاپہنچتا ہے تو اس چشمہ کے گرد نبع اور سماسم کے درخت اگے ہوئے دیکھے گا۔ شاعر پہاڑی بکرے کا ارادہ کرتا ہے جو ایسے چشمے پر وارد ہوتا ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ آگ سے بھرا ہوا ہو۔ تو یہ پہلے قول کی طرح ہوگا۔ ضحاک، ثمر بن عطیہ، محمد بن کعب اور اخفش نے اسی طرح کہا ہے وہ گرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
22:۔ ابن راھویہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے العظمہ میں والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) فی شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسقف المرفوع '' (اور بلند چھت) سے مراد وہ آسمان ہے۔ 23:۔ ابوشیخ نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسقف المرفوع '' سے مراد ہے عرش (آیت ) '' والبحر المسجور '' (اور سمندر کی قسم جو پانی پر ہے) یعنی وہ اوپر والا پانی جو عرش کے نیچے ہے۔ 24:۔ ابن جریر (رح) وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسقف المرفوع '' سے مراد آسمان۔ 25:۔ عبدالرزاق (رح) سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن جریر (رح)…
Read the full tafseer →وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ [ اور قسم ہے اس جوش دیئے ہوئے سمندر کی ]
Read the full tafseer →اس کے بعد ﴿وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ006﴾ کی قسم کھائی جس کا ترجمہ ہے ” وہ سمندر جو دہکایا گیا۔ “ یعنی خوب اچھی طرح تنور کی طرح جلایا گیا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ تفسیر منقول ہے سورة التکویر میں قیامت کے دن کے احوال میں ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ006﴾ جو فرمایا ہے اس کی تفسیر میں مفسرین نے سجرت یعنی اُقِّدَت لکھا ہے جب سمندروں کو جلایاجائے گا اور وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ کا یک ترجمہ البحر المملوء یعنی بھرا ہوا سمندر بھی کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سمندر کا سفر صرف وہ آدمی کرے جو حج یا عمرہ کے لیے یا جہاد فی سبیل اللہ کے لیے روانہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔ (ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔ قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3:۔ ” والسقف المرفوع “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے اور سقف مرفوع سے آسمان بلند مراد ہے یعنی آسمان بلند جو تم سب کو محیط ہے، بھی گواہ ہے کہ تم احاطہ سے نکل کر بھاگ نہیں سکتے۔ تائید : ” یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموات والارض فانفذوا، لاتنفذوان الا بسلطان (رکوع 2) ۔ ” والبحر المسجور “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ ” المسجور “ پانی سے لبریز۔ قال قتادۃ البحر المسجور المملوء وھذا معروف من اللغۃ رجحہ الطبری (طبری، بحر) ۔ یہ پانی سے بھرا ہوا سمندر بھی گواہ ہے کہ جس طرح اس نے تم کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے، اسی طرح قیامت کے دن اللہ کا عذاب تم کو ہر جانب سے گھیر لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…
Read the full tafseer →وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ 6 بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه، وقال عليه الصلاة والسلام في فرس ركبه : «وجدته بحرا» «1» وللمتوسع في علمه بحر، وقد تَبَحَّرَ أي : توسع في كذا، والتَبَحُّرُ في…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ۔ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۔ وَالْبَحْرِالْمَسْجُوْرِ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ مَّالَـہٗ مِنْ دَافِعٍ ۔ (الطور : 1 تا 8) (قسم ہے طور کی۔ اور ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ جھلی کے کھلے ہوئے اوراق میں۔ اور قسم ہے آباد گھر کی۔ اور اونچی چھت کی۔ اور لبریز سمندر کی۔ بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ ) قسموں اور مقسم علیہ کا ذکر ان آیات میں طور، کتاب مسطور، بیتُ المعمور، سقفِ مرفوع اور بحرمسجود کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی ان قسموں سے بعد میں آنے والے جوابِ قسم یا مقسم علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورة الذّاریات کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جس دن کا کفار سے وعدہ کیا جاتا ہے اس دن ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ سورة الطور کا آغاز پانچ قسمیں اٹھانے کے بعد اس بات سے ہوا ہے کہ جو دن کفار کے لیے ہلاکت کا باعث ہوگا اس کی ہلاکت اور عذاب کو کفار بھی ٹال نہیں سکتے۔ قسم ہے طور کی اور قسم ہے کھلے اوراق میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم ہے آباد گھر کی، قسم ہے بلندو بالا چھت کی، قسم ہے بھڑکائے جانے والے سمندر کی۔ 1۔ الطور سے مراد وہ پہاڑ ہے بالخصوص اس کا وہ حصہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہوئے تھے۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے، طور سیناء اور…
Read the full tafseer →آیت 6 : وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ بھرا ہوا سمندر یا گرم کیا ہوا۔ نحو : اول وائو قسم کے لئے ہے اور باقی عاطفہ ہیں اور جواب قسم ان عذاب ربک ہے۔
Read the full tafseer →5 ۔” والسقف المرفوع “ یعنی آسمان۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” وجعلنا السماء سقفا محفوظا “ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…
Read the full tafseer →وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ ) یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم۔ اللہ نے اسے پانی سے لبریز کردیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے مگر اللہ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر جانے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں یہ بھی کہا جاتا ہے (المسجور) سے مراد وہ سمندر ہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہوگا۔
Read the full tafseer →[ 6] بحر مسجور کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے اس جوش مارتے سمندر کی "۔ جو آج پانی کی موجوں کی شکل میں جوش مار رہا ہے۔ اور کل قیامت کے روز بھڑکتی ہوئی آگ کی صورت میں جوش مار رہا ہوگا۔ سو سمندر کا یہ عظیم الشان ذخیرہء آب حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اسی کی طرف سے اس کو اس طرح روک کر اور بند کرکے رکھا گیا ہے، کہ پانی کا اس قدر ذخیرہ ہونے کے باوجود یہ زمین اور اہل زمین کو غرق نہیں کرتا، جیسا مسند امام احمد (رح) کی روایت میں حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ سمندر روزانہ تین مرتبہ حق تعالیٰ سے اجازت مانگتا ہے کہ اپنی حدوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر) اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 5 یعنی جنہیں فرشتے دھکیل کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔
Read the full tafseer →(52:6) والبحر المسجور۔ اس کی ترکیب بھی ویسی ہی ہے جیسے آیت سابقہ کی۔ اور قسم ہے البحر المسجور کی۔ المسجور اسم مفعول واحد مذکر سجر (باب نصر) مصدر۔ (پانی کا دریا کو) بھرنا۔ البحر سے کونسا سمندر مراد ہے بعض کے نزدیک اس سے مراد دنیوی سمندر ہی ہے جسے ہم دیکھتے اور جانتے ہیں۔ بعض نے اس سے مراد وہ سمندر لیا ہے جو پر عرش عظیم ہے۔ ابو داؤد نے حضرت احنف بن قیس سے ایک طویل حدیث بیان کی ہے۔ اسی طرح المسجور سے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) مسجور۔ بمعنی مملو، پر، بھرا ہوا۔ جیسے کہتے ہیں سجرت الاناء بالماء میں نے برتن کو پانی سے بھر دیا ۔ (2) مسجور بمعنی موقد بھڑکا یا ہوا۔ چناچہ حضرت علی کرم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔ (ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[5] یعنی آسمان کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…
Read the full tafseer →(6) اور ابلتے اور جوش مارنے والے سمندر کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 5۔ مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →6 ؎ (البحر المسجور) کیا ہے ؟ البحر دریا اور المسجور اسم مفعول واحد مزکر معنی بھرا ہوا ‘ لبریز۔ (مجاہد و کلبی (رح) ) بالکل خشک سوکھا ہوا۔ (حسن بصری رحمتہ اللہ ‘ قتادہ رحمتہ اللہ اور ابو العالیہ (رح)) شیریں اور شور مخلوط۔ (ربیع بن انس رحمتہ اللہ) تنور کی طرح سخت گرم۔ (محمد بن کعب قرظی ‘ ضحاک (رح)) مقاتل ہی کا قول ہے کہ ضحاک تو بتوسط نزال بن بسرہ سیدنا علی ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ (البحر المسجور) سے مراد وہ سمندر ہے جو عرش کے نیچے ہے قیامت کے قریب پہلا صور پھونکنے کے بعد جب جاندار مر جائیں گے تو اللہ تعالیٰ چالیس روز تک اس سمندر سے بارش کرے گا جس کے باعث انسان قبروں سے سبزہ کی طرح اگ آئیں گے اس…
Read the full tafseer →وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ (and by the sea, filled up with fire...52:6) The word bar means sea and the passive participle masjur is derived from sajr which is used in several different senses, one of which is to kindle with fire. Some of the commentators interpret the participle in this sense here, that is, by the sea which will be kindled with fire on the Day of Resurrection, just as Allah said in another verse وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ "And when the seas will be kindled with fire". In other words, it will be kindled with fire and become a raging fire surrounding the people in the plain…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 Several meanings have ban given of the word al-bahr-il-masjur as used in the original. Some commentators have taken it in the meaning of "full of fire"; sonic take it in the sense of "empty and un-occupied", the water of which might have sunk into the earth; some take it in the meaning of "restricted and confined" , by which they imply that the ocean has ban restrained so that its water neither sinks into the earth nor spreads over the land to drown all its dwellers. Some have taken it in the meaning of mixed and blended because in it swat and saline, warm and cold, water is mixed together;…
Read the full tafseer →