وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۟ۙوَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِۙ
اور اونچی چھت کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the heaven raised high
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۟ۙوَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِۙ
اور اونچی چھت کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the heaven raised high
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah At-Tur
اور اونچی چھت کی
اور اونچی چھت کی
اور اونچی چھت کی
اور بلند کی ہوئی چھت کی۔
اور بلند چھت
اور اونچی چھت (یعنی بلند آسمان یا عرشِ معلٰی) کی قَسم،
اور اونچی اٹھائی ہوئی چھت کی !
اور اونچی چھت کی
اور بلند چھت
اور اس اونچی چھت کی
اور اونچی چھت کی
اور قسم ہے اونچی چھت کی۔
اور اونچی چھت کی قسم
by the elevated canopy;
and by the roof, raised high,
and by the roof, raised high,
And the roof raised high.
And the roof exalted,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the heaven raised high
by the high ceiling (heaven),
And the elevated canopy
By the roof elevated.
By the Canopy Raised High;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 2–16
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 4 اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جو زمین پر ایک قُبّے کی طرح چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ اور یہاں یہ لفظ پورے عالم بالا کے لیے استعمال ہوا ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة " قٓ "، 7)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آسمانی کعبہ بیت معمور وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ ، بیت معمور آسمان میں فرشتوں کا کعبہ ہے، دنیا کے کعبہ کے بالمقابل ہے، صحیحین کی احادیث میں ثابت ہے کہ شب معراج رسول اللہ ﷺ جب ساتویں آسمان پر پہنچے تو آپ کو بیت معمور کی طرف لے جایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے داخل ہوتے ہیں، پھر کبھی ان کو دوبارہ یہاں پہنچنے کی نوبت نہیں آتی (کیونکہ ہر روز دوسرے نئے فرشتوں کا نمبر ہوتا ہے) ابن کثیر بیت معمور ساتویں آسمان کے رہنے والے فرشتوں کا کعبہ ہے، اسی لئے شب معراج میں رسول اللہ ﷺ جب بیت معمور پر پہنچے تو دیکھا کہ ابراہیم ؑ اس کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں چونکہ وہ دنیا کے کعبہ کے بانی…
Read the full tafseer →(والسقف المرفوع) (5) (آسمان کی شہادت) زمین کے بعد آسمان کی شہادت پیش کی گئی ہے۔ قرآن نے اپنے دعوی کی تائید میں بالعموم زمین کی نشانیوں کے ساتھ آسمان کی نشانیوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ سورة ٔ ذرایت کی آیت (۔۔۔۔ 22) (اور آسمان میں تمہاری روزی بھی ہے اور وہ چیز بھی جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے) نیز اس میں۔۔۔۔۔ (7) (دھاریوں والے آسمان کی قسم) بھی ہے۔ اس کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ اس سے معلوم ہوجائے گا کہ معتوب قوموں کی تباہی میں آسمان کے برابر ہوا کے تصرفات کو کتنا دخل ہو رہا ہے۔ آسمان کا ذکر قرآن میں موقع و محل کی رعایت سے مختلف صفات کے ساتھ ہوا ہے۔ یہاں اس کو سقف مرفوع سے…
Read the full tafseer →5۔ 1 اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے بمنزلہ چھت کے ہے۔ قرآن نے دوسرے مقام پر اسے ' محفوظ چھت ' کہا ہے، بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لئے چھت ہے۔ (وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا) 21۔ الانبیاء :32)۔ بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: پچھلی سورت کے شروع میں قرآن کریم کی قسموں پر جو حاشیہ ہم نے دیا ہے، اسے یہاں بھی ملاحظہ فرمالیا جائے، یہاں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی ہے، پہلے کوہ طور کی جس کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں نافرمانوں کو عذاب ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ کوہ طور پر جو کتاب حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی، وہ بھی اس بات کی گواہ ہے، دوسری قسم ایک کتاب کی کھائی گئی ہے جو ایک صحیفے میں لکھی ہوئی ہے اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک تورات ہے، اس صورت میں اس قسم کا بھی آخرت کے عذاب سے وہی تعلق ہے جو کوہ طور کا عرض کیا گیا، البتہ بعض مفسرین نے اس سے مراد نامہ اعمال لیا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ انسانوں کا…
Read the full tafseer →والسقف المرفوع (25 : 5) ” اور قسم ہے اونچی چھت کی “ اس سے مراد آسمان ہے۔ سفیاں ثوری کی یہی رائے ہے اور ابوالاحوص نے سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے یہی رائے نقل کی ہے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی ؓ نے یہ آیت پڑھی۔ وجعلنا ........ معرضون ” اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں۔ “
Read the full tafseer →4 یعنی آسمان کی قسم جو زمین کے اوپر ایک چھت کی طرح ہے اور یا " سقف مرفوع " عرش عظیم کو کہا جو تمام آسمانوں کے اوپر ہے اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنت کی چھت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5{ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ۔ } ”اور قسم ہے اونچی چھت کی۔“ اس سے آسمان مراد ہے۔ پچھلی آیت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ دنیا ایک گھر کی مانند ہے جس میں انسان آباد ہیں اور آسمان اس گھر کی چھت ہے۔
Read the full tafseer →4 اس سے مراد وہ نیلگوں آسمان ہے جو ہمیں اپنے سروں پر قبہ کی طرح چھایا ہوا نظر آتا ہے نیز اس سے پورے کا پورا عالم بالا بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات، سارا کارخانہ فطرت بزبان حال گواہ ہے کہ جزائے اعمال ضرور مل کررہے گی اور اسی جزائے عمل کے مکان وزمان کا نام حشر یا قیامت ہے۔ (آیت) ” والطور “۔ یعنی پہاڑ گواہ ہیں۔ جو آج اپنی جگہ پر اتنے مضبوط ومستحکم نظر آرہے ہیں۔ الطور۔ سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا کوہ طور پر ہوسکتا ہے، چناچہ متعدد مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ لیکن لغت میں طور کا مفہوم عام ہے۔ یعنی مطلق پہاڑ اور وہی سیاق کے زیادہ مناسب ہے۔ قیل اسم لکل جبل (راغب) اسم لکل جبل علی ماقیل فی اللغۃ العربیۃ عند الجمھور (روح) الطور الجبل بالسریانیۃ اوما طار من اوج الایجاد الی حضیض المواد (بیضاوی) ھو اسم الجنس (کبیر) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
والبیت المعمور بیت معمور آباد گھر کو کہتے ہیں، بیت معمور ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے مقابلہ میں فرشتوں کا عبادت خانہ ہے، ستر ہزار فرشتے اس میں روزانہ عبادت کرتے ہیں جن فرشتوں کی باری ایک مرتبہ آگئی پھر قیامت تک نہ آئے گی، بیہقی نے شعب میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے البیت المعمور فی السماء السابعۃ یدخلہ کل یوم سبعون الف ملک لا یعودون الیہ بعض حضران نے بیت معمور سے خانہ کعبہ مراد لیا ہے۔
Read the full tafseer →والسقف المرفوع السقف المرفوع : اس سے مراد آسمان ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : وَجَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(4۔ 5) اور قسم ہے بیت المعمور کی وہ ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے محاذ میں فرشتوں کی عبادت گاہ اور ان کا حرم ہے اس کے اور بیت اللہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسا کہ ساتویں زمین کی تہہ تک اور اس میں ستر ہزار فرشتے یومیہ داخل ہوتے ہیں اور جو ایک بار داخل ہوچکے ان کی پھر کبھی باری نہیں آئے گی اور یہ وہ گھر ہے جس کی حضرت آدم نے تعمیر فرمائی تھی اور پھر طوفان کے ذریعے ساتویں آسمان کی طرف اسے اٹھالیا گیا تھا اور اسے صراح بھی کہتے ہیں اور قسم ہے آسمان کی جو کہ ہر چیز سے بلند ہے۔
Read the full tafseer →(والسقف المرفوع : اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے چھت کی طرح ہے، جیسا کہ فرمایا :(وجعلنا السمآء سقفاً محفوظاً وھم عن ایتھا معرضون) (الانبیائ : 32)”اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنا یا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرنے والے ہیں۔“ جسے اللہ تعالیٰ نے اتنی بلندی پر کسی ستون کے بغیر محض اپنے حکم کے ساتھ تھام کر رکھا ہوا ہے، فرمایا :(اللہ الذی رفع السموت بغیر عمد ترونھا) (الرعد : 2)”اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ستونوں کے جنہیں تم دیکھتے ہو۔“ اور فرمایا :(ویمسک السمآء ان تفع علی الارض الا باذنہ) (الحج : 65) ”اور وہ آسمان کو تھام کر رکھتا ہے اس سے کہ زمین پر گرپڑے مگر اس کے اذن سے۔“…
Read the full tafseer →والسقف المرفوع ،۔ آسمان کو سقف کا نام دیا کیونکہ یہ زمین کے لئے اسی طرح ہے جس طرح کمرہ کے لئے چھت ہوتی ہے (2) اس کی وضاحت اس ارشاد میں ہے : وجعلنا السماء سقفا محفوظا (الانبیائ :32) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد عرش ہے جو جنت کی چھت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
22:۔ ابن راھویہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے العظمہ میں والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) فی شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسقف المرفوع '' (اور بلند چھت) سے مراد وہ آسمان ہے۔ 23:۔ ابوشیخ نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسقف المرفوع '' سے مراد ہے عرش (آیت ) '' والبحر المسجور '' (اور سمندر کی قسم جو پانی پر ہے) یعنی وہ اوپر والا پانی جو عرش کے نیچے ہے۔ 24:۔ ابن جریر (رح) وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والسقف المرفوع '' سے مراد آسمان۔ 25:۔ عبدالرزاق (رح) سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن جریر (رح)…
Read the full tafseer →وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ [ اور قسم ہے اس بلند کی ہوئی چھت کی ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوْعِۙ005 یعنی بلند چھت کی قسم ہے۔ روح المعانی میں حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ اس سے عرش الٰہی مراد ہے جو جنت کی چھت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔ (ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔ قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3:۔ ” والسقف المرفوع “ یہ پہلی عقلی دلیل ہے اور سقف مرفوع سے آسمان بلند مراد ہے یعنی آسمان بلند جو تم سب کو محیط ہے، بھی گواہ ہے کہ تم احاطہ سے نکل کر بھاگ نہیں سکتے۔ تائید : ” یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموات والارض فانفذوا، لاتنفذوان الا بسلطان (رکوع 2) ۔ ” والبحر المسجور “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ ” المسجور “ پانی سے لبریز۔ قال قتادۃ البحر المسجور المملوء وھذا معروف من اللغۃ رجحہ الطبری (طبری، بحر) ۔ یہ پانی سے بھرا ہوا سمندر بھی گواہ ہے کہ جس طرح اس نے تم کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے، اسی طرح قیامت کے دن اللہ کا عذاب تم کو ہر جانب سے گھیر لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…
Read the full tafseer →وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ 5 ۙ سقف سَقْفُ البیت، جمعه : سُقُفٌ ، وجعل السماء سقفا في قوله تعالی: وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ [ الطور/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلْنَا السَّماءَ سَقْفاً مَحْفُوظاً [ الأنبیاء/ 32] ، وقال : لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33] ، والسَّقِيفَةُ : كلّ مکان له سقف، کالصّفّة، والبیت، والسَّقَفُ : طول في انحناء تشبيها بالسّقف ( س ق) سقف البیت مکان کی چھت کر کہتے ہیں اس کی جمع سقف ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفاً مِنْ فِضَّةٍ [ الزخرف/ 33]( ہم ) ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنادیتے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ [ الطور/ 5] اور اونچی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ۔ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۔ وَالْبَحْرِالْمَسْجُوْرِ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ مَّالَـہٗ مِنْ دَافِعٍ ۔ (الطور : 1 تا 8) (قسم ہے طور کی۔ اور ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ جھلی کے کھلے ہوئے اوراق میں۔ اور قسم ہے آباد گھر کی۔ اور اونچی چھت کی۔ اور لبریز سمندر کی۔ بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ ) قسموں اور مقسم علیہ کا ذکر ان آیات میں طور، کتاب مسطور، بیتُ المعمور، سقفِ مرفوع اور بحرمسجود کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی ان قسموں سے بعد میں آنے والے جوابِ قسم یا مقسم علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورة الذّاریات کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جس دن کا کفار سے وعدہ کیا جاتا ہے اس دن ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ سورة الطور کا آغاز پانچ قسمیں اٹھانے کے بعد اس بات سے ہوا ہے کہ جو دن کفار کے لیے ہلاکت کا باعث ہوگا اس کی ہلاکت اور عذاب کو کفار بھی ٹال نہیں سکتے۔ قسم ہے طور کی اور قسم ہے کھلے اوراق میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم ہے آباد گھر کی، قسم ہے بلندو بالا چھت کی، قسم ہے بھڑکائے جانے والے سمندر کی۔ 1۔ الطور سے مراد وہ پہاڑ ہے بالخصوص اس کا وہ حصہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہوئے تھے۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے، طور سیناء اور…
Read the full tafseer →آیت 5 : وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ آسمان مراد ہے عرش الٰہی مراد ہے۔
Read the full tafseer →4 ۔” والبیت المعمور “ پردوں اور اہل کی کثرت کے ساتھ۔ یہ بیت ساتویں آسمان میں عرض کے محاذی کعبہ کے اوپر ہے اس کو صراح کہا جاتا ہے اس کا احترام آسمانوں میں ایسے ہی ہے جیسے کعبہ کا احترام زمین میں ہے۔ اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں طواف کرتے ہیں اور اس میں نماز پڑھتے ، پھر وہ کبھی واپس اس کی طرف نہ لوٹیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…
Read the full tafseer →(وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ) اور اونچی چھت (کی قسم) ۔ یعنی آسمان کی جس کو اللہ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے اللہ آسمان سے بارش رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔
Read the full tafseer →[ 5] سقف مرفوع کی قسم اور اس سے مقصود و مراد : سو ارشاد فرمایا گیا " سو قسم ہے اس اونچی اٹھائی گئی چھت کی " یعنی آسمان کی جو کہ اس دنیا کے لئے بمنزلہ چھت کے ہے اور جو کہ قادر مطلق ررب ذوالجلال کی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ کا ایک عظیم الشان مظہر اور کھلی ہوئی علامت ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، سو اس ارشاد سے زمین کے بعد آسمان کی شہادت پیش فرمائی گئی ہے، اور یہ قرآن حکیم کا ایک عام معروف اسلوب ہے کہ یہ اپنے دعاوی کی تائید و تصدیق میں بالعموم زمین کی نشانیوں کے ساتھ ساتھ آسمان کی نشانیوں کا بھی حوالہ دیتا ہے، جیسا کہ پ 26 سورة الذٰرِیٰت کی آیت نمبر 20 تا 22 میں اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ { وفی الارض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر) اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →ف 4 اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد عرش ہے۔ واللہ اعلم (شوکانی)
Read the full tafseer →(52:5) والسقف المرفوع : اس کی بھی وہی ترکیب ہے جو البیت المعمور کی ہے اور قسم کے بلند چھت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔ (ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[5] یعنی آسمان کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…
Read the full tafseer →(5) اور اونچی اور بلند چھت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ف 5۔ مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →اور اونچی چھت کے رب کی رقسم (والسقف المرفوع) 5 ؎ (السقف المرفوع) کیا ہے ؟ اس سے مراد زیادہ تر مفسرین نے آسمان ہی لی ہے کہ بلند آسمان کو چھت کہا گیا ہے اور بعض نے اس سے مراد فرش عظیم بھی لی ہے جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس کے معنوں میں بھی وسعت بہرحال تسلیم ہے اور ہم اس سے بیت اللہ (البیت المعمور) ہی کی چھت مراد لیتے ہیں کہ اس کا ذکر پیچھے موجود ہے اور اس کی چھت ایک خاص اہتمام کے ساتھ نبی اعظم و آخر ﷺ کی اپنی زندگی میں نبوت سے پہلے ڈالی تھی جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے حجر اسود کے رکھنے کی ایک خاص ترتیب و ترکیب کی تھی اور یہ واقعہ بہت مشہور و معروف ہے تاہم آسمان کو چھت کہنے سے ہم کو کوئی انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
Al-Bait-ul-Ma` mur وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ (and by the Populated House [ AI-Bait-ul-Ma` mur ],...52:4) Al-Bait-ul-Ma` mur is the Ka'bah in the heaven meant for the angels' service and is parallel to the Ka'bah on earth. According to a Tradition in Sahihain that the Holy Prophet ﷺ said about his Ascension to the seventh heaven: "Then, I was taken to Al-Bait-ul-Ma` mur. It is visited every day by seventy thousand angels who will not come back to visit it again" because every day other new angels take their turn to visit it. (Ibn Kathir) Al-Bait-ul-Ma` mur is the Ka'bah of the angels who…
Read the full tafseer →4 "The elevated roof : the sky which seems to be spread over the earth like a vault; here this word has ban used for the entire Universe. (For explanation, sec E.N. 7 of Surah Qaf).
Read the full tafseer →