وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۟ۙوَالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِۙ
اور آباد گھر کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the frequented House
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۟ۙوَالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِۙ
اور آباد گھر کی
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the frequented House
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah At-Tur
اور آباد گھر کی
اور آباد گھر کی
اورآباد گھر کی
اور قسم ہے بیت معمور کی۔
اور بیت معمور
اور (فرشتوں سے) آباد گھر (یعنی آسمانی کعبہ) کی قَسم،
اور آباد گھر کی !
اور بیت المعمور کی قسم
اور شاہد ہے آباد گھر
اور اس آباد گھر کی
اور بیت معمور کی
اور قسم ہے آباد گھر کی۔
اور آباد گھر کی قسم
by the much-frequented House,
and by the Populated House (Al-Bait-ul-Ma'mur) ,
and by the Populated House (Al-Bait-ul-Mamur) ,
And by Al-Bayt Al-Ma`mur.
And the House frequented,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the frequented House
by the established House (Mecca),
And the House (Kaaba) that is visited,
By the House Frequented.
By the much-frequented Fane;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 2–16
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 3 " آباد گھر " سے مراد حضرت حسن بصری کے نزدیک بیت اللہ، یعنی خانہ کعبہ ہے جو کبھی حج اور عمرہ اور طواف و زیارت کرنے والوں سے خالی نہیں رہتا۔ اور حضرت علی، ابن عباس، عِکرِمہ، مجاہد، قَتَادہ، ضحّاک، ابن زید اور دوسرے مفسرین اس سے مراد وہ بیت معمور لیتے ہیں جس کا ذکر معراج کے سلسلے میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے، جس کی دیوار سے آپ نے حضرت ابراہیم ؑ کو ٹک لگائے دیکھا تھا۔ مجاہد، قتادہ اور ابن زید کہتے ہیں کہ جس طرح خانہ کعبہ اہل زمین کے لیے خدا پرستوں کا مرکز و مرجع ہے، اسی طرح ہر آسمان میں اس کے باشندوں کے لیے ایسا ہی ایک کعبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے ایسی ہی مرکزیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
آسمانی کعبہ بیت معمور وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ ، بیت معمور آسمان میں فرشتوں کا کعبہ ہے، دنیا کے کعبہ کے بالمقابل ہے، صحیحین کی احادیث میں ثابت ہے کہ شب معراج رسول اللہ ﷺ جب ساتویں آسمان پر پہنچے تو آپ کو بیت معمور کی طرف لے جایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے داخل ہوتے ہیں، پھر کبھی ان کو دوبارہ یہاں پہنچنے کی نوبت نہیں آتی (کیونکہ ہر روز دوسرے نئے فرشتوں کا نمبر ہوتا ہے) ابن کثیر بیت معمور ساتویں آسمان کے رہنے والے فرشتوں کا کعبہ ہے، اسی لئے شب معراج میں رسول اللہ ﷺ جب بیت معمور پر پہنچے تو دیکھا کہ ابراہیم ؑ اس کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں چونکہ وہ دنیا کے کعبہ کے بانی…
Read the full tafseer →والبیت المعمور (4) (بیت معمور سے مراد) بیت معمور سے عام طور پر مفسرین نے جنت کے اندر ایک گھر کو مراد لیا ہے جو فرشتوں کے لیے آسمان میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو زمین میں انسانوں کے لیے بیت اللہ الحرام کی ہے۔ لیکن یہ قول ہمارے نزدیک، یہاں غیر متعلق ہے۔ اس طرح کا کوئی گھر جنت میں ہے تو اس کی شہادت اس دعوے کے حق میں کیا وزن رکھتی ہے جو اس قسم کے بعد پیش کیا گیا ہے ؟ ہمارے مفسرین کو چونکہ یہ غلط فہمی ہے کہ قسم جس چیز کی کھائی جائے وہ کوئی مقدس چیز ہونی چاہئے، اس وجہ سے وہ صرف مقسم بہ کے تقدس کو دیکھتے ہیں حالانکہ اصل دیکھنے کی چیز مقسم بہ کا تقدس نہیں بلکہ پیش کردہ دعوے پر اس کی شہادت کا پہلو ہے۔ اس…
Read the full tafseer →4۔ 1 یہ بیت معمور، ساتویں آسمان پر وہ عبادت خانہ ہے جس میں فرشتے عبادت کرتے ہیں، یہ عبادت خانہ فرشتوں سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ روزانہ اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے آتے ہیں جن کی پھر دوبارہ قیامت تک باری نہیں آتی۔ جیسا کہ احادیث معراج میں بیان کیا گیا۔ بعض بیت معمور سے خانہ کعبہ مراد لیتے ہیں۔ جو عبادت کے لیے آنے والے انسانوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے معمور کے معنی ہی آباد اور بھرے ہوئے کے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1: پچھلی سورت کے شروع میں قرآن کریم کی قسموں پر جو حاشیہ ہم نے دیا ہے، اسے یہاں بھی ملاحظہ فرمالیا جائے، یہاں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی ہے، پہلے کوہ طور کی جس کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں نافرمانوں کو عذاب ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ کوہ طور پر جو کتاب حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی، وہ بھی اس بات کی گواہ ہے، دوسری قسم ایک کتاب کی کھائی گئی ہے جو ایک صحیفے میں لکھی ہوئی ہے اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک تورات ہے، اس صورت میں اس قسم کا بھی آخرت کے عذاب سے وہی تعلق ہے جو کوہ طور کا عرض کیا گیا، البتہ بعض مفسرین نے اس سے مراد نامہ اعمال لیا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ انسانوں کا…
Read the full tafseer →والبیت العمور (آباد گھر کی قسم) اس سے مراد کعبة اللہ بھی ہوسکتا ہے واضح یہ ہے کہ مراد وہ بیت المعمور ہے جو فرشتوں کی عبادت کی جگہ ہے کیونکہ صحیح احادیث میں اور حدیث اسرا میں آتا ہے ” اس کے بعد مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا۔ اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہوتا۔ “ یعنی یہ فرشتے وہاں اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور وہ اسی کا اسی طرح طواف کرتے ہیں جس طرح اہل زمین ، زمین کے کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →3 شاید کعبہ کو کہا یا ساتویں آسمان پر خانہ کعبہ کی ٹھیک محاذات میں فرشتوں کا کعبہ ہے اس کو " بیت معمور " کہتے ہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 4{ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ۔ } ”اور قسم ہے آباد گھر کی۔“ ”البَیْتِ الْمَعْمُوْر“ سے بعض مفسرین بیت اللہ مراد لیتے ہیں کہ اس میں طواف اور عبادت کے لیے ہر وقت لوگ موجود رہتے ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین کی رائے میں اس سے مراد خانہ کعبہ کے عین اوپر ساتویں آسمان میں فرشتوں کا کعبہ ہے جو ہر وقت ”معمور“ رہتا ہے ‘ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ بعض مفسرین کی رائے میں اس سے دنیا مراد ہے جو طرح طرح کی مخلوق سے معمور ہے اور مجھے ذاتی طور پر اس رائے سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ بعد والی قسم اسی مفہوم سے مناسبت رکھتی ہے۔
Read the full tafseer →3 بیت المعمور کونسا گھر ہے ؟ یعنی ہر وقت آباد رہنے والا گھر۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ جو ہر وقت حج وعمرہ اور طواف اور عبادت کرنے والوں سے بھرا رہتا ہے اور کبھی خالی نہیں ہوتا۔ نیز اس سے مراد ساتویں آسمان پر فرشتوں کی وہ عبادت گاہ بھی ہے جو خانہ کعبہ کے عین سیدھ میں واقع ہے۔ رسول اللہ کو شب معراج میں جب آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کو اسی گھر کی دیوار سے ٹیک لگائے دیکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات، سارا کارخانہ فطرت بزبان حال گواہ ہے کہ جزائے اعمال ضرور مل کررہے گی اور اسی جزائے عمل کے مکان وزمان کا نام حشر یا قیامت ہے۔ (آیت) ” والطور “۔ یعنی پہاڑ گواہ ہیں۔ جو آج اپنی جگہ پر اتنے مضبوط ومستحکم نظر آرہے ہیں۔ الطور۔ سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا کوہ طور پر ہوسکتا ہے، چناچہ متعدد مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ لیکن لغت میں طور کا مفہوم عام ہے۔ یعنی مطلق پہاڑ اور وہی سیاق کے زیادہ مناسب ہے۔ قیل اسم لکل جبل (راغب) اسم لکل جبل علی ماقیل فی اللغۃ العربیۃ عند الجمھور (روح) الطور الجبل بالسریانیۃ اوما طار من اوج الایجاد الی حضیض المواد (بیضاوی) ھو اسم الجنس (کبیر) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
والبیت المعمور بیت معمور آباد گھر کو کہتے ہیں، بیت معمور ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے مقابلہ میں فرشتوں کا عبادت خانہ ہے، ستر ہزار فرشتے اس میں روزانہ عبادت کرتے ہیں جن فرشتوں کی باری ایک مرتبہ آگئی پھر قیامت تک نہ آئے گی، بیہقی نے شعب میں حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے البیت المعمور فی السماء السابعۃ یدخلہ کل یوم سبعون الف ملک لا یعودون الیہ بعض حضران نے بیت معمور سے خانہ کعبہ مراد لیا ہے۔
Read the full tafseer →والبیت المعمور اور بیت المعمور کی قسم اَلْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ : کعبہ کی بالکل سیدھ میں ساتویں آسمان پر ایک عبادت خانہ ہے جس کو صراح کہا جاتا ہے ‘ آسمان پر اس کی ایسی ہی تعظیم کی جاتی ہے جیسی زمین پر کعبہ کی۔ مسلم نے حضرت انس کی روایت سے حدیث معراج میں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ساتویں آسمان پر میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا جو بیت معمور سے اپنی پشت لگائے ہوئے تھے ‘ بیت معمور میں روزانہ ستّر ہزار فرشے (عبادت کے لیے) داخل ہوتے ہیں جو دوبارہ (کبھی) نہیں آتے۔ بغوی کی روایت ہے ‘ وہ بیت معمور کا طواف کرتے ہیں اور اس کے اندر نماز پڑھتے ہیں ‘ پھر لوٹ کر دوبارہ کبھی نہیں آتے (ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(4۔ 5) اور قسم ہے بیت المعمور کی وہ ساتویں آسمان پر بیت اللہ کے محاذ میں فرشتوں کی عبادت گاہ اور ان کا حرم ہے اس کے اور بیت اللہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسا کہ ساتویں زمین کی تہہ تک اور اس میں ستر ہزار فرشتے یومیہ داخل ہوتے ہیں اور جو ایک بار داخل ہوچکے ان کی پھر کبھی باری نہیں آئے گی اور یہ وہ گھر ہے جس کی حضرت آدم نے تعمیر فرمائی تھی اور پھر طوفان کے ذریعے ساتویں آسمان کی طرف اسے اٹھالیا گیا تھا اور اسے صراح بھی کہتے ہیں اور قسم ہے آسمان کی جو کہ ہر چیز سے بلند ہے۔
Read the full tafseer →(والبیت المعمور : آباد گھر۔ اس کے متعلق بھی مفسرین کے مختلف اقوال ہیں بعض نے فرمایا، اس سے مراد حدیث میں مذکور ساتویں آسمان پر موجود ایک مکان ہے۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :(ثم عرج بنا الی السماء السابعۃ فاستفتح جبریل فقیل من ھذا ؟ قابل جبریل، قبل و من معک ؟ قال محمد ﷺ ، قیل وقد بعث الیہ ؟ قال قد بعث الیہ، فتح لنا فاذا انا ابراہیم ﷺ مسنداً ظھرہ الی البیت المعمور واذا ھو یدخلہ کل یوم سبعون الف ملک لایعودون الیہ) (مسلم، الایمان، باب الاسراء برسول اللہ ﷺ الی السموات…: 162)”پھر ہمارے ساتھ ساتویں آسمان کی طرف چڑھے تو جبریل نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا، کہا…
Read the full tafseer →(4) ۔ والبیت المعمور ،۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء نے کہا : یہ آسمان میں بیت اللہ شریف کے بالمقابل ایک گھر ہے جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، پھر اس سے نکلتے ہیں اور دوبارہ نہیں آتے (1) ۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : یہ چھٹے آسمان میں گھر ہے۔ ایک قول کیا گیا ہے : یہ چوتھے آسمان میں ہے۔ حضرت انس مالک ؓ نے حضرت مالک بن صعصعہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے چوتھے آسمان میں لایا گیا تو ہمارے لئے بیت معمور اٹھایا گیا یہ کعبہ شریف کے بالمقابل ہے اگر گرے تو کعبہ شریف پر گرے ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ جب اس سے نکلتے ہیں تو واپس نہیں آتے، (2) ۔…
Read the full tafseer →9:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ والحاکم (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیت المعمور ساتویں آسمان میں ہر دن ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں پھر اس کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی۔ بیت المعمور میں فرشتوں کی عبادت : 10:۔ ابن المنذر (رح) والعقیلی وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ضعیف سن کے ساتھ ابو رہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آسمان میں گھر ہے جس کو معمور کہا جاتا ہے۔ جو بالکل کعبہ کی سیدھ میں ہے اور چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کو حیوان کہا جاتا ہے۔ اس میں جبرائیل (علیہ…
Read the full tafseer →وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ [ اور قسم ہے اس آباد کئے ہوئے گھر کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قیام کے دن منکرین کی بدحالی، انہیں دھکے دے کر دوزخ میں داخل کردیا جائے گا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ایسی چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کی بڑی اہمیت ہے، اس کے بعد فرمایا ہے کہ بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے، قیامت کو جھٹلانے والے اس کے وقوع کے منکر ہیں، ان کے شک اور انکار کو رد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار قسمیں کھائی ہیں، سورة الذاریات کا افتتاح اور سورة النازعات کی ابتداء بھی اسطرح سے ہے، ان آیات میں اولاً طورپہاڑ کی قسم کھائی یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا، اس کے بعد کتاب مسطور کی قسم کھائی مسطور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔ (ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔ قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
2:۔ ” والطور “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے از موسیٰ (علیہ السلام) یعنی وہ کوہ طور بھی شاہد ہے کہ حشر و نشر اور جزاء وسزا حق ہے۔ جہاں موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی تھی کہ ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا لتجزی کل نفس بما تسعی (طہ رکوع 1) ۔ یہ ذکر مکان اور ارادہ مکین کے قبیل سے ہے۔ ” و کتاب مسطور فی رق منشور “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے از کتب سابقہ۔ ” رق “ باریک چمڑا وغیرہ جس پر وہ لکھی جاتی ہیں۔ یعنی کتب سابقہ بھی شاہد ہیں کہ جزاء و سزا واقع ہوگی کیونکہ ان میں بھی یہ مضمون نازل کیا جاچکا ہے۔ ” والبیت المعمور “ یہ دلیل وحی بیت معمور ساتویں آسمان پر خانہ کعبہ کے بالمقابل فرشتوں کا عبادت خانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…
Read the full tafseer →وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ 4 ۙ بيت أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ، ( ب ی ت ) البیت اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔ عمر العِمَارَةُ : نقیض الخراب : يقال : عَمَرَ أرضَهُ : يَعْمُرُهَا عِمَارَةً. قال تعالی: وَعِمارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ [ التوبة/ 19] . يقال : عَمَّرْتُهُ فَعَمَرَ فهو مَعْمُورٌ. قال : وَعَمَرُوها أَكْثَرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ۔ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۔ وَالْبَحْرِالْمَسْجُوْرِ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ مَّالَـہٗ مِنْ دَافِعٍ ۔ (الطور : 1 تا 8) (قسم ہے طور کی۔ اور ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ جھلی کے کھلے ہوئے اوراق میں۔ اور قسم ہے آباد گھر کی۔ اور اونچی چھت کی۔ اور لبریز سمندر کی۔ بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ ) قسموں اور مقسم علیہ کا ذکر ان آیات میں طور، کتاب مسطور، بیتُ المعمور، سقفِ مرفوع اور بحرمسجود کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی ان قسموں سے بعد میں آنے والے جوابِ قسم یا مقسم علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
فہم القرآن ربط سورت : سورة الذّاریات کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جس دن کا کفار سے وعدہ کیا جاتا ہے اس دن ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ سورة الطور کا آغاز پانچ قسمیں اٹھانے کے بعد اس بات سے ہوا ہے کہ جو دن کفار کے لیے ہلاکت کا باعث ہوگا اس کی ہلاکت اور عذاب کو کفار بھی ٹال نہیں سکتے۔ قسم ہے طور کی اور قسم ہے کھلے اوراق میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم ہے آباد گھر کی، قسم ہے بلندو بالا چھت کی، قسم ہے بھڑکائے جانے والے سمندر کی۔ 1۔ الطور سے مراد وہ پہاڑ ہے بالخصوص اس کا وہ حصہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہوئے تھے۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے، طور سیناء اور…
Read the full tafseer →فرشتوں کا کعبہ : آیت 4 : وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ وہ عبادت خانہ جو آسمان میں بیت اللہ کے سیدھ (برابری) میں ہے جس کا فرشتے طواف کرتے ہیں۔ کثرت زوّار کی وجہ سے اس کو آباد گھر فرمایا۔ روایت میں ہے کہ ہر روز اس میں سے جو ستّر ہزار ملائکہ طواف کر کے نکلتے ہیں۔ ان کی دوبارہ باری نہ آئے گی۔ ایک قول : کعبہ کا ہی نام ہے۔ حجاج و عمار کی وجہ سے وہ ہر وقت آباد ہے۔
Read the full tafseer →3 ۔” فی رق منشور “ رق جس میں لکھا جائے۔ وہ مصحف کا چمڑا منشور کھلا ہوا۔ اس کتاب کی تعیین میں اختلاف ہوا ہے کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے توریت کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور موسیٰ (علیہ السلام) قلم کے چلنے کی آواز سن رہے تھے اور کہا گیا ہے کہ وہ لوح محفوظ ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ حفاظت کرنے والے فرشتوں کے رجسٹر ہیں جوان کی طرف قیامت کے دن کھلے ہوئے نکلیں گے۔ پس اس کے دائیں کو اور اس کے بائیں کو پکڑ لیں گے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول ” ونخرج لہ یوم القیامۃ کتابا یلقاہ منشورا “ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…
Read the full tafseer →(وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ ) ۔ اور بیت معمور کی (قسم) ۔ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ کے مکرم فرشتوں سے آباد رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی کہا جاتا ہے کہ بیت المعمور، سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج وعمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے جیسا کہ اللہ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے (وھذالبلدالامین۔ التین 3) ۔ اور اس امن والے شہر کی قسم۔ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے…
Read the full tafseer →[ 4] بیت معمور کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے اس آباد گھر کی۔ یعنی کعبۃ اللہ کی، جو کہ حج، عمرہ، طواف، نماز، اعتکاف، ذکر و فکر اور تعلیم و تذکیر وغیرہ عبادات سے معمور آباد ہے۔ کیونکہ یہ بیت عظیم اپنی اس شان و شوکت اور ہیبت کذائیہ کے ساتھ ساتھ پیغمبروں کی صداقت و حقانیت کی دلیل، اور اس بات پر ایک کھلی نشانی اور اس کا واضح ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی تصدیق و تائید ان حضرات کی پشت پر ہوتی ہے، جو ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز و سرشار ہوتے ہیں اور جو کچھ ان حضرات نے کہا اور جزا و سزا کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے وہی حق و صدق ہے، کہ کس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر) اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 3 یعنی اس مسجد کی جو ساتویں آسمان پر ہے اور فرشتوں سے آباد ہے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” معراج کے موقع پر) پھر ساتواں آسمان پار کرلینے کے بعد مجھے ” البیت المعمود “ کی طرف لے جایا گیا۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو قیامت تک دوبارہ اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(52:4) والبیت المعمور : واؤ عاطفہ ہے البیت المعمور موصوف وصفت، اس کا عطف والطور پر ہے اور قسم ہے بیت معمور کی۔ المعمور اسم مفعول واحد مذکر عمر و عمارۃ (باب نصر) مصدر۔ آباد کیا ہوا۔ البیت المعمور آباد گھر۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد آسمانی کعبہ ہے جو معراج کی رات رسول اکرم ﷺ کو دکھایا گیا تھا اور جو ہمارے کعبہ کے عین مقابل جہت میں واقع ہے المعمور کی صفت دونوں گھروں پر صادق آئی ہے آسمانی کعبہ اگر فرشتوں اور ان کی عبادت سے آباد ہے اور پرنور ہے۔ تو بیت الحرام بھی طائفین اور راکعین و ساجدین سے مزین اور معمور ہے۔ اور قسم ہے بیت معمور کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔ (ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…
Read the full tafseer →[4] آباد گھر سے مراد خانہ کعبہ ہے جو ایک ویرانے میں بنایا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آبادی بخشی جو دنیا میں کسی عمارت کو نہیں بخشی گئی تھی اور جو کبھی حج، عمرہ، طواف اور زیارت کرنے والوں سے خالی نہیں رہتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…
Read the full tafseer →(4) اور آباد گھر کی۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یہ ساتویں آسمان میں عبادت کانہ ہے فرشتوں کا۔
Read the full tafseer →اور قسم ہے (بیت محمور) کے رب کی (والبینت المعمور) 4 ؎ (والبیت المعمور) کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ آسمان پر خواہ وہ تیسرا آسمان ہے ‘ چھٹا آسمان ہے یا ساتواں آسمان ہے کہ اس آسمان پر بیت اللہ کے محاذ پر فرشتوں کے لئے ایک عبادت گاہ تعمیر ہے جس میں ایک نماز میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور ایک بار جو اس میں داخل ہوتے ہیں ان کو دوبارہ داخل ہونے کا موقع نہیں ملتا۔ اسی کا نام (البیت المعمور) ہے۔ لغت میں اور کتب تفاسیر میں اس کو ” بیعت معمور “ اور کہیں ” بیعت المعمور “ اور کہیں قرآن کریم کے بیان کے مطابق (البیت المعمور) لکھا گیا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ عروۃ الوثقیٰ کے لئے العروۃ الوثقیٰ ہی کو صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
Al-Bait-ul-Ma` mur وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ (and by the Populated House [ AI-Bait-ul-Ma` mur ],...52:4) Al-Bait-ul-Ma` mur is the Ka'bah in the heaven meant for the angels' service and is parallel to the Ka'bah on earth. According to a Tradition in Sahihain that the Holy Prophet ﷺ said about his Ascension to the seventh heaven: "Then, I was taken to Al-Bait-ul-Ma` mur. It is visited every day by seventy thousand angels who will not come back to visit it again" because every day other new angels take their turn to visit it. (Ibn Kathir) Al-Bait-ul-Ma` mur is the Ka'bah of the angels who…
Read the full tafseer →3 According to Hadrat Hasan Basri, "the inhabited House" implies the House of Allah, the Ka`bah, which is never without its visitors and pilgrims at any time of the day and night. However, Hadrat `Ali, Ibn `Abbas, `Ikrimah, Mujahid, Qatadah, Dahhak, Ibn Zaid and other commentators have stated that it implies the Bait-al-ma 'mur (the inhabited House) which the Holy Prophet referred to in connection with his Mi'raj (Ascension), against the wall of which he had seen the Prophet Abraham reclining. Mujahid, Qatadah and Ibn Zaid say that just as the Ka`bah is the centre and place of refuge for all…
Read the full tafseer →