At-Tur 52:3

At-Tur · from ayah 3

52:3

فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ۟ۙفِىۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍۙ

کشادہ اوراق میں

— Fateh Muhammad Jalandhari

In parchment spread open

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:3

جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کشادہ اوراق میں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

صحیفے میں لکھی ہوئی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو کھلے دفتر میں لکھا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جو) کھلے صحیفہ میں (ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ایسے ورق میں جو کھلا ہوا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کھلے ہوئے صفحات میں لکھی ہوئی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جھلی کے کھلے ہوئے اوراق میں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایک کھلے ہوئے دفتر میں

— مولانا اسحاق مدنی

جو کشادہ اوراق میں لکھی گئی ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

on an unrolled scroll,

— Muhammad Taqi Usmani

on an unrolled scroll,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In parchment unrolled.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

In parchment spread open

— Saheeh International

on parchment for distribution,

— Muhammad Sarwar

In an outstretched fine parchment,

— Muhammad Habib Shakir

In parchment unrolled.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 52:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–16

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 2 قدیم زمانے میں جن کتابوں اور تحریروں کو زمانہ دراز تک محفوظ رکھنا ہوتا تھا انہیں کاغذ کے بجائے ہرن کی کھال پر لکھا جاتا تھا۔ یہ کھال خاص طور پر لکھنے ہی کے لیے رقیق جلد یا جھلی کی شکل میں تیار کی جاتی تھی اور اصطلاح میں اسے رَقّ کہا جاتا تھا۔ اہل کتاب بالعموم توراۃ، زَبور، انجیل اور صُحُف انبیاء کو اسی رَقّ پر لکھا کرتے تھے تاکہ طویل مدت تک محفوظ رہ سکیں۔ یہاں کھلی کتاب سے مراد یہی مجموعہ کتب مقدسہ ہے جو اہل کتاب کے ہاں موجود تھا۔ اسے " کھلی کتاب " اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ نایاب نہ تھا، پڑھا جاتا تھا، اور بآسانی معلوم کیا جاسکتا تھا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ، لفظ رق دراصل پتلی باریک کھال کے لئے بولا جاتا ہے، جو لکھنے کے واسطے کاغذ کی جگہ بنائی جاتی تھی، مراد اس سے وہ چیز ہے جس پر لکھا گیا ہو، اس لئے اس کا ترجمہ کاغذ سے کردیا جاتا ہے اور کتاب مسطور سے مراد تو انسان کا نامہ اعمال ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے اور بعض مفسرین نے اس سے مراد قرآن کریم قرار دیا ہے (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فی رق منشور (3)۔۔۔ لفظ رق کی تحقیق اوپر بیان ہوچکی ہے۔ اس کتاب کے پھیلے ہوئے اوراق میں ہونے کا حوالہ یہاں خلق پر اتمام حجت کے پہلو سے ہے، یعنی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ ایک آشکر حقیقت ہے جو بالکل کھلے اور پھیلے ہوئے اوراق میں بیان ہوئی ہے، جو شخص چاہے، اس کو پڑھ سکتا ہے اور اگر پڑھ نہیں سکتا تو اس کو پڑھوا کر سن سکتا ہے۔ بلکہ اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کتاب کے حاملین سے مطالبہ کرے کہ وہ اس کو بتائیں اور سنائیں کہ اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے کیا بیان فرمایا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اہل عرب دینی معاملات میں اہل کتاب کی برتری تسلیم کرتے رہے ہیں، چناچہ جگہ جگہ قرآن نے ان کو توجہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 رق یہ متعلق ہے مَسْطُورِ کے۔ رَقِ وہ باریک چمڑا جس پر لکھا جاتا تھا۔ منشور بمعنی مبسوط پھیلا یا کھلا ہوا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–7

1: پچھلی سورت کے شروع میں قرآن کریم کی قسموں پر جو حاشیہ ہم نے دیا ہے، اسے یہاں بھی ملاحظہ فرمالیا جائے، یہاں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کھائی ہے، پہلے کوہ طور کی جس کی طرف اشارہ ہے کہ آخرت میں نافرمانوں کو عذاب ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ کوہ طور پر جو کتاب حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی، وہ بھی اس بات کی گواہ ہے، دوسری قسم ایک کتاب کی کھائی گئی ہے جو ایک صحیفے میں لکھی ہوئی ہے اس سے مراد بعض مفسرین کے نزدیک تورات ہے، اس صورت میں اس قسم کا بھی آخرت کے عذاب سے وہی تعلق ہے جو کوہ طور کا عرض کیا گیا، البتہ بعض مفسرین نے اس سے مراد نامہ اعمال لیا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ انسانوں کا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 2–3

وکتب مسطور (25 : 2) فی رق منشور (25 : 3) ” ایسی کتاب کی قسم جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے “۔ زیادہ قریب بات یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت موسیٰ کی کتاب ہے جو تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ اس تفسیر کے مطابق طور کے ساتھ مناسبت پوری ہوجاتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ مراد لوح محفوظ ہے۔ اسی لئے کہ اس کے بعد الیت المعمور کی قسم ہے اور السقف المرفوع کی قسم ہے اور یہ مفہوم بھی ممکن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–3

2 اس کتاب سے شاید لوح محفوظ مراد ہو یا لوگوں کا اعمالنامہ یا قرآن کریم یا طور کی مناسبت سے تورات یا عام کتب سماویہ، سب احتمالات ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ۔ } ”کشادہ ورق میں۔“ یعنی وہ تختیاں خوب کشادہ تھیں جن پر تورات کی عبارت تحریر تھی۔ گویا یہ تین قسمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات سے متعلق ہیں۔ کو ہِ طور پر آپ علیہ السلام کو مکالمہ الٰہی سے سرفراز فرمایا گیا اور آپ علیہ السلام کو ایک ایسی کتاب عطا کی گئی جو کشادہ تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 رق کا لغوی مفہوم :۔ رَقِّ بمعنی پتلا اور نرم ہونا اور رق ہر وہ چیز ہے جو پتلی اور نرم ہو۔ مثلاً درختوں کے پتے جھلی، پتلا چمڑہ اور کاغذ وغیرہ (مفردات) اور کتب سماویہ عموماً جھلی اور پتلے چمڑے پر لکھے جاتی تھیں۔ تاکہ امتداد زمانہ کا ساتھ دے سکیں اور خراب نہ ہوں۔ اور نشر کے معنی کھولنا بھی ہے اور پھیلانا بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب ہوگا وہ کتاب جس کے صفحات کھلے ہوئے ہیں، کہتے ہیں نَشَرْتُ الْکِتَابَ ثُمَّ طَوَیْتُہ، میں نے کتاب کھولی پھر بند کردی اور اس سے مراد کوئی بھی آسمانی کتاب ہوسکتی ہے بلکہ لوح محفوظ بھی اور ربط مضمون یا طور کے ذکر کے لحاظ سے تورات کی تختیاں بھی۔ اور دوسرے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–7

1۔ یعنی یہ سارا نظام کائنات، سارا کارخانہ فطرت بزبان حال گواہ ہے کہ جزائے اعمال ضرور مل کررہے گی اور اسی جزائے عمل کے مکان وزمان کا نام حشر یا قیامت ہے۔ (آیت) ” والطور “۔ یعنی پہاڑ گواہ ہیں۔ جو آج اپنی جگہ پر اتنے مضبوط ومستحکم نظر آرہے ہیں۔ الطور۔ سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا کوہ طور پر ہوسکتا ہے، چناچہ متعدد مفسرین اسی طرف گئے ہیں۔ لیکن لغت میں طور کا مفہوم عام ہے۔ یعنی مطلق پہاڑ اور وہی سیاق کے زیادہ مناسب ہے۔ قیل اسم لکل جبل (راغب) اسم لکل جبل علی ماقیل فی اللغۃ العربیۃ عند الجمھور (روح) الطور الجبل بالسریانیۃ اوما طار من اوج الایجاد الی حضیض المواد (بیضاوی) ھو اسم الجنس (کبیر) (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ،۔ شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے طور کی یعنی اس پہاڑ کی جس پر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف بخشا اور قسم ہے لکھی ہوئی کتاب کی جو کھلے ہوئے کاغذ میں ہے یعنی تورات کی یاد قرآن کی اور قسم ہے بیت المعمور کی وہ تیسرے یا چھٹے یا ساتویں آسمان پر کعتبہ اللہ کے بالمقابل ہے روزانہ طواف اور نماز کے لئے ستر ہزار فرشتے اس کی زیارت کرتے ہیں آئندہ ان کا کبھی نمبر نہ آئے گا اور قسم ہے اونچی چھت یعنی آسمان کی اور قسم ہے بھرے ہوئے دریا کی بلاشبہ تیرے رب کا عذاب اس کے مستحق پر نازل ہونے والا ہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے جس دن آسمان تھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فی رق منشور سمندر کی قسم جو (پانی) سے پُر ہے۔ رَقٍّ : (ہرن وغیرہ کی) کھال جس پر لکھا جاتا ہے مجازاً ہر وہ چیز جس پر کچھ تحریر کیا جائے (جو لکھنے کے کام میں آئے مثلاً کاغذ وغیرہ) ۔ مَّنْشُوْرٍ : پڑھنے کے لیے پھیلائی ہوئی ‘ کھولی ہوئی۔ اس سے لوح محفوظ مراد نہیں ہے کیونکہ رق منشور میں مکتوب ہونا اس کتاب کی صفت بیان کی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ لوح محفوظ ایسی نہیں ہے اس لیے بعض اہل تفسیر کے نزدیک قرآن مجید مراد ہے یا ہر وہ کتاب مراد ہے جس میں احکام شرعی مرقوم ہوں۔ کلبی نے کہا : وہ توریت مراد ہے جو اللہ نے اپنے دست قدرت سے حضرت موسیٰ کے لیے لکھی تھی اور موسیٰ نے قلم الٰہی کے چلنے کی آواز بھی سنی تھی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 2–3

(2۔ 3) اور قسم ہے اس کتاب یعنی لوح محفوظ کی جس میں انسانوں کے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور قسم ہے لکھے ہوئے نامہ اعمال کی جس کو ہر ایک انسان قیامت کے دن پڑھے گا اور وہ اس کے سامنے کھلا ہوا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

(وکتب مسطور ، فی رق منشور :”مسطور“ ترتیب اور خوبصورتی کے ساتھ سطر میں لکھی ہوئی کتاب۔ ”رق“ کا مادہ رقت اور باریکی کے لئے استعمال ہوتا ہے، مراد باریک چمڑا یا جھلی ہے جو مضبوط اور دیرپا ہونے کی وجہ سے لکھنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ کاغذ یا کسی طرح کا باریک ورق بھی ”رق“ ہے۔ ”منشور“ کھلا ہوا، جسے کھول کر پڑھا جاسکے۔ اس ”کتاب مسطور“ کے متعلق مفسرین کے متعدد اقوال ہیں، لوح محفوظ، اعمال نامے، تورات، آسمانی کتابیں اور قرآن مجید وغیرہ۔ لفظ عام ہونے کی وجہ سے ”کتاب مسطور“ میں یہ تمامم کتابیں اور انسان، جن یا فرشتے جو کچھ لکھتے ہیں وہ سب کچھ شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–3

وکتب مسطور، مسطور کا معنی مکتوب ہے (1) یعنی قرآن جسے مومن مصاحف سے پڑھتے ہیں اور ملائکہ لوح محفوظ سے پڑھتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انہ لقران کریم، فی کتب مکنون، (الواقعہ) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد تمام سمادی کتب ہیں جو انبیاء پر نازل ہوئیں۔ ہر کتاب کاغذ میں لکھی ہوتی جسے پڑھنے کے لئے کتاب والے کھولتے۔ کلبی نے کہا : مراد تو رات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے اپنے دست قدرت سے لکھا جب کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قلم چلنے کی آواز سن رہے تھے (2) ۔ فراء نے کہا : مراد اعمال کے صحیفے ہیں کچھ اپنی کتاب دائیں ہاتھ میں پکڑیں گے اور کچھ اپنی کتاب بائیں ہاتھ میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والطور '' سے مراد ہے ایک پہاڑ۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طور جنت کے پہاڑوں میں سے ہے۔ 3:۔ ابن مرودیہ (رح) نے کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف سے اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طور جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے۔ 4:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر نے ام سلمہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والطور '' سریانی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں (آیت ) '' و کتاب مسطور '' (اور اس کتاب کی قسم جو کھلے ہوئے کاغذ پر لکھی ہوئی ہے) یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ [ ایک پھیلائی ہوئی پتلی چیز میں ہے ] رق ق : (ض) رقۃ ۔ پتلا ہونا، نرم ہونا ۔ رق پتلی چیز ، پتلا کاغذ ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 3 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

قیام کے دن منکرین کی بدحالی، انہیں دھکے دے کر دوزخ میں داخل کردیا جائے گا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ایسی چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کی بڑی اہمیت ہے، اس کے بعد فرمایا ہے کہ بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے، قیامت کو جھٹلانے والے اس کے وقوع کے منکر ہیں، ان کے شک اور انکار کو رد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار قسمیں کھائی ہیں، سورة الذاریات کا افتتاح اور سورة النازعات کی ابتداء بھی اسطرح سے ہے، ان آیات میں اولاً طورپہاڑ کی قسم کھائی یہ وہی پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا، اس کے بعد کتاب مسطور کی قسم کھائی مسطور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔ (ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔ قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ ” والطور “ یہ دعوی سورت پر پہلی نقلی دلیل ہے از موسیٰ (علیہ السلام) یعنی وہ کوہ طور بھی شاہد ہے کہ حشر و نشر اور جزاء وسزا حق ہے۔ جہاں موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی تھی کہ ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا لتجزی کل نفس بما تسعی (طہ رکوع 1) ۔ یہ ذکر مکان اور ارادہ مکین کے قبیل سے ہے۔ ” و کتاب مسطور فی رق منشور “ یہ دوسری نقلی دلیل ہے از کتب سابقہ۔ ” رق “ باریک چمڑا وغیرہ جس پر وہ لکھی جاتی ہیں۔ یعنی کتب سابقہ بھی شاہد ہیں کہ جزاء و سزا واقع ہوگی کیونکہ ان میں بھی یہ مضمون نازل کیا جاچکا ہے۔ ” والبیت المعمور “ یہ دلیل وحی بیت معمور ساتویں آسمان پر خانہ کعبہ کے بالمقابل فرشتوں کا عبادت خانہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ۝ 3 ۙ رق الرِّقَّةُ : کالدّقّة، لکن الدقّة تقال اعتبارا بمراعاة جوانبه، والرِّقَّةُ اعتبارا بعمقه . فمتی کانت الرّقّة في جسم تضادّها الصّفاقة، نحو : ثوب رَقِيقٍ وصفیق، ومتی کانت في نفس تضادّها الجفوة والقسوة، يقال : فلان رَقِيقُ القلب، وقاسي القلب . والرَّقُّ : ما يكتب فيه، شبه الکاغد، قال تعالی: فِي رَقٍّ مَنْشُورٍ [ الطور/ 3] ، وقیل لذکر السّلاحف : رِقٌّ ، والرِّقُّ : ملک العبید . والرَّقِيقُ : المملوک منهم، وجمعه أَرِقَّاءُ ، واسْتَرَقَّ فلان فلانا : جعله رقیقا . والرَّقْرَاقُ : تَرَقْرُقُ الشّراب، والرَّقْرَاقَةُ : الصافية اللون . والرَّقَّةُ : كلّ أرض إلى جانبها…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–8

وَالطُّوْرِ ۔ وَکِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ ۔ فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ۔ وَّالْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ ۔ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ ۔ وَالْبَحْرِالْمَسْجُوْرِ ۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ۔ مَّالَـہٗ مِنْ دَافِعٍ ۔ (الطور : 1 تا 8) (قسم ہے طور کی۔ اور ایک لکھی ہوئی کتاب کی۔ جھلی کے کھلے ہوئے اوراق میں۔ اور قسم ہے آباد گھر کی۔ اور اونچی چھت کی۔ اور لبریز سمندر کی۔ بیشک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔ جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ ) قسموں اور مقسم علیہ کا ذکر ان آیات میں طور، کتاب مسطور، بیتُ المعمور، سقفِ مرفوع اور بحرمسجود کی قسم کھائی گئی ہے۔ یعنی ان قسموں سے بعد میں آنے والے جوابِ قسم یا مقسم علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورة الذّاریات کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جس دن کا کفار سے وعدہ کیا جاتا ہے اس دن ان کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ سورة الطور کا آغاز پانچ قسمیں اٹھانے کے بعد اس بات سے ہوا ہے کہ جو دن کفار کے لیے ہلاکت کا باعث ہوگا اس کی ہلاکت اور عذاب کو کفار بھی ٹال نہیں سکتے۔ قسم ہے طور کی اور قسم ہے کھلے اوراق میں لکھی ہوئی کتاب کی قسم ہے آباد گھر کی، قسم ہے بلندو بالا چھت کی، قسم ہے بھڑکائے جانے والے سمندر کی۔ 1۔ الطور سے مراد وہ پہاڑ ہے بالخصوص اس کا وہ حصہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہوئے تھے۔ طور کو طور سیناء اور طور سینین بھی کہا گیا ہے، طور سیناء اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 3 : فِیْ رَقٍّ اس سے صحیفہ مراد ہے یا نمبر 2۔ وہ چمڑہ جس پر لکھا جائے۔ مَّنْشُوْرٍ کھلا ہوا جس پر مہراختتام نہ ہو۔ یا چمکدار۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ) یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 3] رقٍ منشورٍکامفہوم اور اس سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لکھی ہے ایک کھلے ہوئے دفتر میں۔ رق اور رق یعنی فتح اور کسرہ دونوں کے ساتھ دراصل اس باریک جلد کو کہا جاتا ہے جس پر لکھا جاتا ہے اور اسی جلد کے حکم میں ہے وہ کاغذ وغیرہ بھی جس پر لکھا جاتا ہے، اسی لئے ابوعبیدہ لغوی نے رق کے معنی ورق ہی کے کئے ہیں [ روح، قرطبی، محاسن اور صفوہ، وغیرہ ] ور منشور [ کھلے ہوئے دفتر ] سے مراد یہ ہے کہ وہ ہر کسی کے پڑھنے کے لیے موجود ہے، جیسا کہ جملہ آسمانی کتب کی یہی شان رہی ہے، اور خاص کر قرآن حکیم کی جو کہ سب کی جامع، سب سے آخری، اور سب کے لئے ناسخ کتاب ہے، اس میں دوسرے اوصاف اور خصائص کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–12

آخرت کے لیے اللہ کی دی گئی قسمیں کہ یہ یقینی ہے تشریح : قرآن پاک پورے کا پورا بہترین مضامین کا مجموعہ ہے۔ مگر پھر بھی کسی کسی سورت کی کوئی خاص فضیلت احادیث سے ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں ' زمانہ حج میں میں بیمار تھی حضور ﷺ سے میں نے اپنا حال کہا تو آپ نے فرمایا تم سواری پر سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کرلو چناچہ میں نے سواری پر بیٹھ کر طواف کیا اس وقت آنحضرت ﷺ بیت اللہ کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے اور والطور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ (بخاری از ابن کثیر) اس سورت میں قیامت کا ایسا ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے کہ ہر ذی شعور انسان پر اس کا بےحد اثر اور خوف طاری ہوجاتا ہے۔ جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–4

ف 3 یعنی اس مسجد کی جو ساتویں آسمان پر ہے اور فرشتوں سے آباد ہے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :” معراج کے موقع پر) پھر ساتواں آسمان پار کرلینے کے بعد مجھے ” البیت المعمود “ کی طرف لے جایا گیا۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو قیامت تک دوبارہ اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:3) فی رق منشور متعلقہ مسطور ہے : رق ۔ الرقۃ۔ (باریکی) اور دقۃ کے معنی ایک ہی معنی ہیں ۔ لیکن رقۃ بلحاظ کناروں کی باریکی کے استعمال ہوتا ہے اور دقۃ بلحاظ عمق کے بولا جاتا ہے۔ پھر اگر رقت کا لفظ اجسام کے متعلق استعمال ہو تو اس کیضد صفاقت آتی ہے۔ جیسے ثوب رقیق (باریک کپڑا) اور ثوب صفیق (موٹا کپڑا) اور دل کے متعلق استعمال ہو تو اس کی ضد قسادت آتی ہے مثلاً نرم دل کے متعلق کہا جاتا ہے فلان رقیق القلب اور اس کے بالمقابل سخت دل کو قسی القلب کہیں گے۔ الرق کے اصل معنی کھال یا چمڑا کے ہیں۔ قدیم زمانہ میں جب کہ کاغذسازی کی صنعت ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ حسب ضرورت پائدار کاغذ نایاب تھا۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔ (ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] مراد ہے مجموعہ کتب مقدسہ تورات، انجیل اور دوسرے آسمانی صحیفے، قدیم زمانے میں جن کتابوں اور تحریروں کو زمانہ دراز تک محفوظ رکھنا مقصود ہوتا ان کو بجائے کاغذ کے ہرن کی کھال پر لکھا جاتا جو لکھنے کے لئے خاص طور پر جھلی کی شکل میں تیار کی جاتی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–16

سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 2–3

اس کتاب کے رب کی قسم جو کشادہ اوراق میں ہے 3 ؎ (رق) کیا ہے ؟ (رق) اصل میں ہرن کی کھال کو کہا جاتا ہے اور قدیم زمانہ میں جس تحریر کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے اس کو ہرن کی کھال پر لکھا کرتے تھے تاکہ وہ دیر تک محفوظ رہ سکے اور یہ بھی کہ کاغذ اس وقت تک ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا پھر اس سے ہر اس چیز پر اس کا اطلاق ہونا شروع ہوگیا جس پر کچھ لکھا جائے اور اب جب کہ کاغذ ایجاد ہوگیا اور اس کا منشا بھی یہی ہے تو اب کاغذ اور اوراق کو (رق) کہا جانے لگا۔ اس لئے مفسرین میں سے بھی کسی نے کچھ اور کسی نے کچھ تحریر کیا ہے اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ وہی چیز ہے جس پر کچھ تحریر کیا جائے تاکہ وہ تحریر محفوظ رہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ‌ فِي رَ‌قٍّ مَّنشُورٍ‌ (and by a book, written on an unrolled scroll....52:2-3) The word raqq means fine parchment or fine piece of skin, used for the purpose of writing on it. It is, therefore, usually translated as paper. Here it could be referring to man's account-book of deeds or, according to some of the scholars, it stands for the Qur'an. (Qurtubi)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 In ancient times the books and writings which were meant to be preserved for long were written on the skin of dar instead of the paper. This skin was especially prepared for writing as a thin and fine parchment and was called raqq terminologically. The Jews and Christians in general wrote the Torah, Psalms, the Gospels and the Prophets' Books on this same raqq so that they would endure. Here, by "an open Book" is implied the same collection of the holy scriptures which the followers of the Book possessed. It has ban described as "an open Book" because it was not extinct; it was read and one…

Read the full tafseer →