Explained with ayahs 44–49
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب
مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کرلینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہوگی یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہوگا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آرہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ 14 ۙ) 15۔ الحجر :14) ، اگر ہم ان کے لئے آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور یہ وہاں چڑھ جائیں…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 41
اس سے مراد مغرب و عشا اور تہجد کی نمازیں بھی ہیں، اور تلاوت قرآن بھی، اور اللہ کا ذکر بھی۔
سورة الطُّوْر 42
ستاروں کے پلٹنے سے مراد رات کے آخری حصہ میں ان کا غروب ہونا اور سپیدی صبح کے نمودار ہونے پر ان کی روشنی کا ماند پڑجانا ہے۔ یہ نماز فجر کا وقت ہے۔
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ ، یعنی رات میں تسبیح کیجئے اس میں نماز مغرب و عشاء بھی داخل ہے اور عام تسبیحات بھی، وَاِدْبَار النُّجُوْمِ ، یعنی ستاروں کے غائب ہونے کے بعد، مراد اس سے نماز فجر اور اس وقت کی تسبیحات ہیں (ابن کثیر)
تمت
سورة الطور بحمد اللہ سبحانہ عصر یوم
الاربعاء لثلٰث و عشرین من ربیع الاول س 1391 ھ
واللہ المسؤل لاتمام الباقی بعونہ و حسن توفیقہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(واصبر لحکم ربک فانک باعیننا وسبح بحمد ربک حین لقوم ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم) (48، 49)
(نبی ﷺ کو صبر اور انتظار کی ہدایت)۔۔ یہ نہایت دلنواز پیرایہ میں نبی ﷺ کو صبر و انتظار کی ہدایت اور ساتھ ہی اس صبر کے حصول کے تدبیر تلقین فرمائی گئی ہے۔ (واصبر لحکم ربک) صبر کے بعد ل کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ لفظ صبر یہاں انتظار کے مفہوم پر متضمن ہے، یعنی پوری استقامت کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ حکم سے مراد ان باتوں کے ظہور کا حکم ہے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ (فانک باعیننا) یہ نہایت ہی دل نواز فقرہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ہر وقت ہماری آنکھوں یعنی ہماری حفاظت میں ہو، یہ کتنی ہی چالیں چلیں لیکن مجال…
Read the full tafseer →49۔ 1 اس سے مراد قیام اللیل۔ یعنی نماز تہجد، جو عمر بھر نبی ﷺ کا معمول رہا۔
Read the full tafseer →17: اس سے مراد سحری کا وقت یا فجر کا وقت ہے جب ستارے غائب ہونے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا گیا :
وانا ........ یوحیٰ ” اور میں نے آپ کو چن لیا ہے لہٰذا جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اسے سنو “ اور یہ بھی کہا گیا تھا۔
والقیت ........ عینی ” اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبت ڈال دی تاکہ تمہاری پرورش میری آنکھوں کے سامنے ہو۔ “ اور دوسری جگہ کہا گیا۔
واصطنعتک لنفسی ” میں نے تجھے اپنے لئے بنایا ہے “ یہ سب تعبیرات بتائی ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ نہایت ہی بلند تھا لیکن اس کے مقابلے میں حضور اکرم کے لئے جو الفاظ استعمال ہوئے وہ یہ ہیں :
فانک باعیننا (25 : 84) ” تم ہماری نگاہ میں ہو ” یہ ایک ایسا انداز ہے جس میں خصوصی اعزاز نظر آتا ہے۔ خصوصی…
Read the full tafseer →6 " رات کے حصہ " سے مراد شاید تہجد کا وقت ہو، اور تاروں کے پیٹھ پھیرنے کا وقت صبح کا وقت ہے۔ کیونکہ صبح کا اجالا ہوتے ہی ستارے غائب ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ تم سورة الطور وللّٰہ الحمد والمنۃ۔
Read the full tafseer →آیت 49{ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ } ”اور رات کے ایک حصے میں بھی آپ اس کی تسبیح کریں“
گویا تہجد کے علاوہ بھی رات کے مختلف حصوں میں حضور ﷺ کو تسبیح وتحمید کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ ابتدائی دور کی ان سورتوں میں جن اوقات کو اللہ کے ذکر کے لیے مخصوص کرنے کے احکام دیے گئے ہیں ‘ بعد میں جب پانچ اوقات کی نماز فرض ہوئی تو وہی اوقات مختلف نمازوں کے اوقات قرار پائے۔ چناچہ اس حکم کے مطابق مغرب اور عشاء کی نمازیں فرض ہوئیں ‘ کیونکہ غروب آفتاب سے رات شروع ہوجاتی ہے اور عشاء کی نماز بھی رات کے ایک حصے میں ہی ادا کی جاتی ہے۔
{ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ۔ } ”اور ستاروں کے پیٹھ موڑتے وقت بھی آپ تسبیح…
Read the full tafseer →43 رات سے مراد مغرب، عشا اور تہجد کی نمازیں بھی ہوسکتی ہیں اور ان کے علاوہ ذکر الٰہی بھی۔ اور ستاروں کے غروب ہونے سے سپیدہ صبح کے ظہور کا وقت ہے۔ جب سب ستاروں کی روشنی ماند پڑنے لگتی ہے پھر غائب ہوجاتے ہیں اور اس سے مراد نماز فجر ہے۔
Read the full tafseer →26۔ یعنی ستاروں کے غروب کے بعد اور مثلا نماز فجر کے وقت۔ (آیت) ” حین تقوم “۔ مثلا اپنی مجلس سے اٹھتے وقت یا رات کو تہجد سے اٹھتے وقت۔ غرض اپنے دل کو ذکر الہی وتسبیح میں لگائے رہیے۔ اس سے فکر وغم کا غلبہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
فانک باعیننا دشمنوں کی دشمنی اور مخالفت و تکذیب سے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے پہلے تو یہ فرمایا کہ آپ ہماری نظروں میں ہیں یعنی ہماری حفاظت میں ہیں ہم آپ کو ان کے شر سے بچائیں گے، آپ ان کی کسی بات کی پرواہ نہ کریں، جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ربانی ہے واللہ یعصمک من الناس اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تسبیح وتحمید میں لگ جانے کا حکم فرمایا جو اصل مقصد زندگی بھی ہے اور ہر مصیبت سے بچنے کا اصلی علاج بھی، فرمایا وسبح بحمد ربک حین تقوم کھڑے ہونے سے مراد سو کر اٹھنا بھی ہوسکتا ہے ابن جریر نے اسی کو اختیار کیا ہے، اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کو امام احمد نے حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت…
Read the full tafseer →و من الیل فسبحہ و ادبار النجوم . اور رات میں بھی اس کی تسبیح کیا کیجئے (مثلاً عشاء) اور ستاروں سے پیچھے بھی۔
وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ : یعنی نماز پڑھو۔ مقاتل نے کہا : مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے۔ میں کہتا ہوں بظاہر یہی مراد لینا زیادہ اچھا ہے۔ آیت میں نماز شب کا خصوصی ذکر اس لیے کیا کہ رات کی عبادت نفس پر بڑی شاق ہوتی ہے اور دکھاوٹ کا شبہ نہیں ہوتا۔
وَاِدْبَار النُّجُوْمِ : یعنی جب ستارے غائب ہوجائیں اور صبح نکل آئے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک صلٰوۃ فجر سے پہلے کی دو رکعتیں مراد ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فجر کی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(48۔ 49) اور آپ اپنے پروردگار کے احکام کی تبلیغ پر جمے رہیے یا یہ کہ اطاعت خداوندی میں جو آپ کو ان کفار کی طرف سے تکالیف پہنچیں آپ ان پر صبر سے بیٹھے رہیے، کیونکہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور سونے سے اٹھتے وقت اپنے پروردگار کی نماز پڑھتے رہیے۔
مثلا صبح سے رات تک بھی اور رات کے آنے کے بعد بھی نماز پڑھتے رہیے یعنی ظہر عصر مغرب اور ستاروں کے غائب ہونے کے بعد بھی یعنی صبح کی دو سنتیں۔
Read the full tafseer →(1) ومن الیل فسبحہ : اس سے مراد مغرب اور عشاء ہے۔
(2) وادبار النجوم : اس سے مراد فجر کی فرض نماز ہے۔ بعض حضرات نے اس سے مراد فجر کی نماز سے پہلے کی دو رکعتیں لی ہیں، مگر امام طبری فرماتے ہیں کہ یہاں ”فسبحہ“ امر کا صیغہ ہے جو فرض کے لئے ہے، اس لئے اس سے مراد فرض رکعتیں ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات میں پانچوں نمازوں کا حکم ہے، اس طرح کہ ”حین تقوم“ میں ظہر و عصر کا، ”من الیل“ میں مغرب و عشاء کا اور ”ادبار النجوم“ میں فجر کی نماز کا ذکر ہے۔ (واللہ اعلم)
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 2۔ ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم۔ اس کیب ارے میں گفتگو سورة ق میں مکمل گزر چکی ہے۔ جاں تک ادبار النجوم کا تعلق ہے تو حضتر علی شیر خدا، حضرت ابن عباس، حضرت جابر اور حضرت انس سے مروی ہے مراد فجر کی دو رکعتیں ہیں۔ بع علماء نے اس آیت کو اس قول پر بطور ندا محمول کیا ہے اور اسے پانچ نمازوں کے ساتھ منسوخ قرار دیا ہے۔ ضحاک اور ابن زید سے مروی ہے وادبار النجوم سے مراد صبح کی نماز ہے، یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے : مراد نمازوں کے آخر میں تسبیحات ہیں۔ ادبار النجوم کے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ساتوں قراء نے مصدر پڑھا ہے جس طرح ہم نے سورة ق میں ب یان کیا ہے۔ سالم بن ابی جعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
قولہ تعالیٰ : (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم ''
5:۔ الفریابی وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' (اور اٹھتے وقت اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے) یعنی ہر مجلس سے (اٹھتے وقت)
6:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوالاحوص (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' یعنی جب آپ اٹھیں تو '' سبحان اللہ وبحمدہ '' کہیں۔
کفارئہ مجلس کی دعاء :
7:۔ عبد الرزاق (رح) نے جامعہ میں ابو عثمان فقیر (رح) سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ کو سکھایا کہ جب آپ اپنی مجلس سے کھڑے ہوں تو یہ کہا کریں :
سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب…
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّيْلِ [ اور رات میں سے ] فَسَبِّحْهُ [ پھر آپ تسبیح کریں اس کی ] وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ [اور ستاروں کے پیٹھ پھیرنے (ڈوبنے ) کے وقت ]
Read the full tafseer →﴿وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَار النُّجُوْمِ (رح) 0049﴾ (اور رات کے حصہ میں اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے اور ستاروں کے چھپنے کے بعد) اس میں رات کے اوقات میں تسبیح بیان کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ستاروں کے غروب ہوجانے کے بعد بھی بعض حضرات نے ﴿ وَ مِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ ﴾ سے مغرب اور عشاء کی نماز مراد لی ہے اور ادبار النجوم سے فجر کی دورکعتیں مراد لی ہیں اور بعض حضرات نے ومن الیل سے رات کو نفل پڑھنا مراد لیا ہے۔ وباللہ التوفیق وھو خیر عون و خیر رفیق
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔
(ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
24:۔ ” واصبر لحکم ربک۔ الایۃ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے دوسری بار تسلی کا ذکر ہے آپ ان کی ایذاؤں پر صبر کریں اور ان کی پرواہ نہ کریں اور اللہ کے فیصلے کے مطابق ان پر آنے والے عذاب کا انتظار کریں وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، کیونکہ آپ ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہیں۔ ای اصبر علی اذاھم ولا تبا لھم فانک بمرای منا وتحت کلاتنا واللہ یعصمک من الناس (ابن کثیر ج 4 ص 245) ۔ ” حین تقوم “ یعنی جب دن کو اٹھو دن بھر حسب اوقات فرصت اللہ کی تسبیح وتحمید کرو۔ اور شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کرو۔ ” ومن اللیل “ اور پھر اگلی رات میں بھی۔ ” وادبار النجوم “ اور اس کے بعد آنے والے دن میں بھی الغرض ہر وقت اللہ کی یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
ربط آیات
پہلے رسالت کے متعلق بیان ہوچکا ہے کہ مشرک اور کافر لوگ اللہ کے نبی کو کبھی کاہن کہتے ، کبھی شاعر اور کبھی العیاذ باللہ دیوانہ کہتے ۔ اللہ نے ان کے اس غلط نظریے کی تردید کی اور فرمایا کہ یہ تو خود بےعقل لوگ ہیں جو حق و باطل میں تمیز ہی نہیں کرتے۔ کفار قرآن کو وحی الٰہی بھی تسلیم نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تو اس مدعی نبوت کا خود ساختہ کلام ہے ۔ اللہ نے چیلنج کیا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو تم بھی ایسا کلام پیش کر کے دکھائو ۔ پھر ان لوگوں کے انکار کی بعض ممکنہ وجوہات کا تذکرہ فرمایا کہ کیا یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا کوئی خالق نہیں ہے ، یا ان کی تخلیق بےمقصد ہے یا ان کے پاس…
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْہُ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ 49 ۧ
ليل
يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل :
أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33]
( ل ی ل ) لیل ولیلۃ
کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
1 ؎ جس کا ان پر بوجھ پڑا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّـکَ بِاَعْیُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاِدْبَارَالنُّجُوْمِ ۔ (الطور : 48، 49)
(اے پیغمبر آپ صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلے کا انتظار کیجیے، آپ ہماری نگاہوں میں ہیں، اور اپنے رب کی تسبیح کیجیے اس کی حمد کے ساتھ، جس وقت آپ اٹھتے ہیں۔ اور رات کو بھی اس کی تسبیح کیجیے اور ستاروں کے پیچھے پلٹنے کے وقت بھی۔ )
مخالفین کی مخالفت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر کو نہایت دلنواز انداز میں صبر کی تلقین فرمائی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی اشارہ فرمایا ہے کہ صبر کی طاقت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے۔ اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو عذاب کی دھمکی دینے کے بعد نبی محترم ﷺ کو صبر کرنے کی تلقین۔
توحید کے دلائل دینے اور کفار کو عذاب کا انتباہ کرنے کے بعد نبی ﷺ کو تلقین کی گئی کہ آپ حوصلہ اور مستقل مزاجی سے کام لیں اور ہر حال میں یقین رکھیں کہ آپ کا رب آپ کو دیکھ رہا ہے۔ جہاں نبی ﷺ کو تسلی دینے کے لیے وہی انداز اور الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے استعمال کیے گئے۔ قوم کے بارے میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بدعا قبول ہوئی تو انہیں حکم ہوا کہ آپ ہماری ہدایت کے مطابق ہمارے سامنے کشتی تیار کریں کیونکہ عنقریب آپ کی قوم کو تباہ کردیا جائے گا۔ (ھود : 37)…
Read the full tafseer →آیت 49 : وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ (اور رات میں بھی اس کی تسبیح کریں اور ستاروں سے پیچھے بھی) جب کہ ستارے رات کے آخری حصہ میں چلے جائیں۔
قراءت : و ادبار زیر سے پڑھا۔ یعنی ستاروں کے پیچھے اور ان کے آثار جب غروب ہوجائیں۔
المراد : یہاں ان کلمات کے کہنے کا حکم دیتا ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ۔ ان اوقات میں۔
ایک قول یہ ہے :
التسبیح سے مراد نماز ہے جبکہ آدمی نیند سے بیدار ہو۔ اور ومن اللیل سے مغرب و عشاء کی نمازیں اور ادبارالنجوم سے نماز فجر مراد ہے۔
Read the full tafseer →48 ۔” واصبر لحکم ربک “ یہاں تک کہ ان پر وہ عذاب واقع ہو جس کا ہم نے ان پر فیصلہ کیا ہے۔ ” فانک باعیننا “ یعنی ہماری نگاہ میں ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جو وہ آپ کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں اور زجاج (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ آپ (علیہ السلام) اس حیثیت پر ہیں کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں اور آپ (علیہ السلام) کی حفاظت کریں گے۔ پس وہ آپ (علیہ السلام) کو ناپسند چیز نہ پہنچا سکیں گے۔ ” وسبح بحمد ربک حین تقوم “ سعیدبن جبیر (رح) اور عطاء (رح) فرماتے ہیں یعنی جب آپ (علیہ السلام) مجلس سے کھڑے ہوں تو یہ کہیں ” سبحانک اللھم وبحمدک “ پس اگر مجلس خیر کی ہوگی تو نیکیاں زیادہ ہوجائیں گی اور اگر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48۔ 49۔ ابوجعفر بن جریرنے کھڑے ہونے کی تفسیر سوتے سے اٹھنے کے وقت کی کی ہے اور اس تفسیر کی تائید ان صحیح حدیثوں سے ہوتی ہے جو صحاح 4 ؎ میں ہیں کہ آنحضرت ﷺ سوتے سے اٹھ کر اکثر اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو کوئی سوتے سے اٹھ کر اللہ کی توحید بیان کرے اور پھر دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا قبول فرماتا ہے۔ سفیان 5 ؎ ثوری اور سلف نے کھڑے ہونے کی تفسیر کسی مجلس سے اٹھنے کی کی ہے اور دعا کفارۃ المجلس کی حدیث جو ترمذی 6 ؎ وغیرہ میں ہے۔ اس تفسیر کی تائید میں پیش کی ہے جس کو ترمذی نے صحیح کہا ہے لیکن حقیقت میں بات یہ ہے کہ آیت کا مطلب عام ہے اور دونوں قسم کی حدیثیں آیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
فرمایا ( فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا) یعنی آپ ہمارے سامنے ہماری حفاظت میں ہیں اور آپ کا معاملہ ہمارے زیر عنایت ہے اور آپ کو حم دیا کہ صبر ذکر الہی اور عبادت سے مدد لیں چناچہ فرمایا ( وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ ) اور اے نبی جب آپ کھڑے ہوں تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیجئے۔ اس آیت کریمہ میں رات کے قیام کا حکم ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ نماز پنجگانہ کے لیے کھڑے ہوں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم) اور کچھ حصہ رات میں بھی پس آپ اس کی تسبیح کیجئے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی۔ یعنی رات کے آخری حصے میں اور اس میں فجر کی نماز بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
خدا کی حمدوثنا کہاں کہاں اور کیسے کیے ہو ؟
قول باری ہے (وسبح بحمد ربک حین تقوم، اور آپ جب اٹھا کیجئے تو اپنے رب کی حمدوتسبیح کیا کیجئے) حضرت ابن مسعود ؓ ، ابوالاحوص اور مجاہد کا قول ہے۔ جس وقت آپ کسی بھی جگہ سے اٹھ کھڑے تو یہ دعا پڑھیں۔ (سبحانک وبحمدک الا الہ الا انت استفرک واتوب الیک)
علی بن ہاشم نے روایت کی ہے کہ اعمش سے پوچھا گیا کہ آیا ابراہیم نخعی جب نشست سے کھڑے ہوتے تو وہ یہ دعا پڑھنا پسند کرتے تھے۔ ” سبحانک اللھم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک۔ “ اعمش نے جواب دیا کہ ابراہیم کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ اس سنت کا درجہ دے دیا جائے۔ ضحاک نے حضرت عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ اس سے نماز…
Read the full tafseer →[ 65] خاص وقتوں کی تسبیح کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا اور رات کو بھی اور ستاروں کے پیٹھ پھیرنے کے بعد بھی : ابن عباس ؓ ما کہتے ہیں کہ اس سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں۔ جو سنتوں میں سب سے اہم سنتیں ہیں، اور جن کی آنحضرت ﷺ کو بطور خاص زیادہ پابندی فرمایا کرتے تھے، اور صحیح مسلم وغیرہ کی روایت کے مطابق یہ دو رکعتیں دنیا مافیہا سے بہتر ہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ رات میں بھی اپنے رب کی حمد اس کی تسبیح کیا کرو، اور ستاروں کے پیٹھ پھیر جانے یعنی ان کے ڈوب جانے کے بعد بھی، سو اس ارشاد عالی میں رات کی نمازوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، سو رات کے پہلے حصے میں مغرب عشاء کی نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–49
نبوت کے منکر عقل سے عاری
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
آیات 29 تا 49۔
اسرار ومعارف۔
آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…
Read the full tafseer →ف 8 جمہور مفسرین کے قول یہ پوری سورة مکی ہے ایک روایت میں حضرت ابن عباس نے آیت الذین یجتنبون کیا براء الاثم و القواحش کو مدنی قرار دیا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ سب سے پہلی سورة جس میں سجدہ تلاوت اترا، سورة نجم تھی۔ آنحضرت نے سجدہ کیا اور ایک شخص کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ علماء نے تصریح کی ہے کہ سجدہ تلاوت مستحب ہے واجب نہیں ہے اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(52:49) ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم : ای فسبحہ من الیل وادبار النجوم۔ اور اس کی تسبیح کیجئے رات کے کسی حصہ میں اور اس وقت بھی جب ستارے ڈوب رہے ہوں۔
من تبعیضیہ ہے۔ رات کا بعض حصہ۔ رات کو تسبیح سے مراد ہے کہ نماز پڑھو۔ مقاتل (رح) نے کہا اس سے مغرب اور عشاء کی نماز مراد ہے، میں کہتا ہوں بظاہر تہجد مراد لینا اچھا ہے آیت میں نماز شب کا خصوصی ذکر اس لئے کیا کہ رات کی عبادت نفس پر بڑی شاق گذرتی ہے اور دکھاوے کا شبہ نہیں ہوتا (تفسیر مظہری)
ادبار النجوم : ادبار بروزن افعال مصدر ہے۔ پیٹھ پھیرنا۔ ای وقت ادبار النجوم من اخر الیل اخیر شب تاروں کے ڈھلنے کے وقت۔ غیب تھا بضوء الصبح صبح کی لو سے ستاروں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46
کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے)
مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔
تشریح آیت نمبر 29 تا 49
اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(ف 1) یعنی جب سوکراٹھو تو اللہ کی حمد وتسبیح کیا کرو، نبی ﷺ سوتے سے اٹھ کر اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو کوئی سوتے سے اٹھ کر اللہ کی توحید بیان کرے اور پھر دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا قبول فرماتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ ہر مجلس سے اٹھتے وقت حمد وتسبیح بجالایا کرو، اور اکثر مفسرین نے رات کی تسبیح کی تفسیر تہجد کی نماز کی ہے اور تاروں کے ڈوبنے کے بعد مراد یہ ہے کہ ان اوقات میں اللہ کی تسبیح و تمحید کرو، بعض مفسرین نے تسبیح کی تفسیر صبح کی دوسنت رکعتوں کی کی ہے۔
Read the full tafseer →[20] رات کے ایک حصے سے مراد تہجد کا وقت ہے۔
[21] یعنی فجر کے وقت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
ف 2: غزوہ بدر کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ اس میں صنادید فریش کو چن چن کر مار ڈالا گیا ۔ اور ان کے سارے ناز اور غرور کو خاک میں ملادیا گیا ۔
Read the full tafseer →(49) اور بعض اوقات شب میں بھی اور ستاروں کے غائب ہوئے پیچھے بھی اس کی تسبیح کیا کیجئے۔ حضرت حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو صبر کی تلقین فرمائی یعنی آپ انتقام میں جلدی نہ کیجئے اگرچہ آپ کی یہ جلدی اپنے نفس کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اسلام کی برتری اور دین حق کی بلندی کے لئے ہوتی ہے کہ جس قدر جلد کفر کی شوکت پارہ پارہ ہوگی اس قدر جلدی اسلام بلند ہوگا پھر بھی اپنے رب کے حکم کا انتظار کرتے رہیے اور صبر کریں اور اپنے رب کے حکم کے منتظر رہیں اور اس کا فکر ن کریں کہ مہلت کے زمانے میں کفار آپ کو اذیت پہنچا سکیں گے کیونکہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔
واصنع الفلک باعیننا حضرت نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 4۔ حاصل یہ کہ اپنے دل کو ادھر مشغول رکھیئے پھر فکر و غم کا غلبہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →رات کو بھی اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کریں اور تاروں کو غروب ہونے کے بعد بھی
49۔ دنیا کی کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے کیا گیا مصیبتیں اٹھانا پڑتی ہیں اگر اس بات کا پتہ چلان ہو تو دنیا کے کسی بادشاہ کا تذکرہ پڑھ کر دیکھ لو لیکن اس میں چونکہ صرف ناموری مقصود ہوتی ہے اس لئے اس راہ میں شکست دینا اور شکست کھانا دونوں کا احتمال موجود ہوتا ہے تاہم اس کے لئے سارا انحصار مادی دنیا پر ہوتا ہے کہ فوج اکٹھی کرو اور دنیا کے سرو سامان ایک دوسرے سے بڑھ کر کرو۔ چالیں چلنے اور دھوکہ و فریب کرنے میں مہارت حاصل کرو لیکن نبوت و رسالت کا تعلق خالصتاً باللہ ہوتا ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہوتی ہے۔ ملک…
Read the full tafseer →وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ (And, in parts of night too, proclaim His purity, and at setting of the stars...52:49) 'Proclaiming the purity of the Lord in parts of night' includes Maghrib and ` Isha' prayers, as well as the general tasbihat (proclamation of the purity of the Lord). The concluding part of this verse; "...and at setting of the stars" refers to the Fajr prayer and the tasbihat recited at that time. (Ibn Kathir)
Alhamdu1i11ah
The Commentary on
Surah At-Tur
Ends here
Read the full tafseer →40 There can be several meanings of this and possibly alI may be First, "Whenever you rise from a meeting, you should rise glorifying and praising AIIah. " The Holy Prophet himself acted upon this as well as instructed the Muslims that they should glorify and praise AIlah when they rose from a meeting. Abu Da'ud, Tirmidhi, Nasa`i and Hakim have related, on the authority of Hadrat Abu Hurairah, that the Holy Prophet said: "If a person sat in a meeting in which much controversy took place, and he pronounced the following words before rising, Allah would forgive whatever passed in the meeting:…
Read the full tafseer →