At-Tur 52:48

At-Tur · from ayah 48

52:48

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُ ۟ۙوَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعۡيُنِنَا‌ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ

اور تم اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو۔ تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو اور جب اُٹھا کرو تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And be patient, [O Muhammad], for the decision of your Lord, for indeed, you are in Our eyes. And exalt [Allah] with praise of your Lord when you arise.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:48

اے نبیؐ، اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، تم ہماری نگاہ میں ہو تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو۔ تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو اور جب اُٹھا کرو تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ صبح کو جب تو اٹھے اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم اپنے پروردگار کے حکم پر جمے رہو، کیونکہ تم ہماری نگاہوں میں ہو، اور جب تم اٹھتے ہو اس وقت اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیا کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اے محبوب! تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو کہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں ہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو جب تم کھڑے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیبِ مکرّم! اِن کی باتوں سے غم زدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھئے بیشک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں٭ اور آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے جب بھی آپ کھڑے ہوں، ٭ اگر ان ظالموں نے نگاہیں پھیر لی ہیں تو کیا ہوا، ہم تو آپ کی طرف سے نگاہیں ہٹاتے ہی نہیں ہیں اور ہم ہر وقت آپ کو ہی تکتے رہتے ہیں۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کر، پس بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر جب تو کھڑا ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی ﷺ آپ اپنے پروردگار کا حکم آنے تک صبر کیجئے۔ بلاشبہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جب آپ اٹھا کریں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ بیشک تم ہماری آنکھوں میں ہو۔ اور اپنے رب کی تسبیح کرو، اس کی حمد کے ساتھ، جس وقت تم اٹھتے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آپ صبر (و برداشت) ہی سے کام لیتے رہیں اپنے رب کے حکم (و فیصلہ) تک کہ یقینا آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور تسبیح کرتے رہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ جب آپ اٹھیں

— مولانا اسحاق مدنی

آپ اپنے پروردگار کی تجویز پر صبر سے قائم رہئے اس لئے کہ آپ تو عین ہماری حفاظت میں ہیں۔ اور آپ اپنے پروردگار کی حمد وتسبیح کیا کیجئے جب اٹھا کیجئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور اے نبی ﷺ آپ اپنے ربّ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔ بیشک آپ ہماری نگاہوں میں ہیں۔ اور آپ تسبیح کرتے رہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ جب آپ کھڑے ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو۔ تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو اور جب اٹھا کرو تو اپنے رب کی تعریف کیا کرو۔ (تسبیح)۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Be patient, then, (O Prophet), until the judgement of your Lord comes. For surely you are before Our eyes. And celebrate the praise of your Lord when you rise,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (O Prophet) be patient about the decision of your Lord, because you are in front of Our Eyes. And proclaim the purity of your Lord along with His praise when you stand (in Prayer),

— Muhammad Taqi Usmani

And (O Prophet) be patient about the decision of your Lord, because you are in front of Our Eyes. And proclaim the purity of your Lord along with His praise when you stand (in Prayer),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So wait patiently for the decision of your Lord, for verily, you are under Our Eyes; and glorify the praises of your Lord when you get up.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So wait patiently (O Muhammad) for thy Lord's decree, for surely thou art in Our sight; and hymn the praise of thy Lord when thou uprisest,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And be patient, [O Muhammad], for the decision of your Lord, for indeed, you are in Our eyes. And exalt [Allah] with praise of your Lord when you arise.

— Saheeh International

Wait patiently for the command of your Lord. We are watching over you. Glorify your Lord when you rise during the night

— Muhammad Sarwar

And wait patiently for the judgment of your Lord, for surely you are before Our eyes, and sing the praise of your Lord when you rise;

— Muhammad Habib Shakir

And wait thou patiently the judgment of thy Lord; verily thou art before Our eyes; and hallow the praise of thy Lord when thou uprisest.

— Abdul Majid Daryabadi

Now await in patience the command of thy Lord: for verily thou art in Our eyes: and celebrate the praises of thy Lord the while thou standest forth,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–49

طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کرلینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہوگی یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہوگا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آرہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ 14 ۙ) 15۔ الحجر :14) ، اگر ہم ان کے لئے آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور یہ وہاں چڑھ جائیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 38 دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صبر و استقامت کے ساتھ اپنے رب کے حکم کی تعمیل پر ڈٹے رہو۔ سورة الطُّوْر 39 یعنی ہم تمہاری نگہبانی کر رہے ہیں۔ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ نہیں دیا ہے۔ سورة الطُّوْر 40 اس ارشاد کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں، اور بعید نہیں کہ وہ سب ہی مراد ہوں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ جب بھی تم کسی مجلس سے اٹھو تو اللہ کی حمد و تسبیح کر کے اٹھو۔ نبی ﷺ خود بھی اس پر عمل فرماتے تھے، اور آپ نے مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت فرمائی تھی کہ کسی مجلس سے اٹھتے وقت اللہ کی حمد و تسبیح کرلیا کریں، اس سے ان تمام باتوں کا کفارہ ادا ہوجاتا ہے جو اس مجلس میں ہوئی ہوں۔ ابوداؤد، ترمذی نسائی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا، دشمنوں کی دشمنی اور مخالفت و تکذیب سے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آخر سورت میں پہلے تو یہ فرمایا کہ " آپ ہماری نظروں میں ہیں " یعنی ہماری حفاظت میں ہیں ہم آپ کو ان کے ہر شر سے بچائیں گے، آپ ان کی کسی بات کی پروا نہ کریں، جیسا کہ دوسری ایک آیت میں ارشاد ہے (ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) اللہ تعالیٰ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرما دیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی تسبیع وتحمید میں لگ جانے کا حکم فرمایا جو اصل مقصد زندگی بھی ہے اور ہر مصیبت سے بچنے کا اصلی علاج بھی فرمایا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ ، یعنی اللہ کی حمد کی تسبیح کیا کریں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–49

(واصبر لحکم ربک فانک باعیننا وسبح بحمد ربک حین لقوم ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم) (48، 49) (نبی ﷺ کو صبر اور انتظار کی ہدایت)۔۔ یہ نہایت دلنواز پیرایہ میں نبی ﷺ کو صبر و انتظار کی ہدایت اور ساتھ ہی اس صبر کے حصول کے تدبیر تلقین فرمائی گئی ہے۔ (واصبر لحکم ربک) صبر کے بعد ل کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ لفظ صبر یہاں انتظار کے مفہوم پر متضمن ہے، یعنی پوری استقامت کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ حکم سے مراد ان باتوں کے ظہور کا حکم ہے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ (فانک باعیننا) یہ نہایت ہی دل نواز فقرہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ہر وقت ہماری آنکھوں یعنی ہماری حفاظت میں ہو، یہ کتنی ہی چالیں چلیں لیکن مجال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

48۔ 1 اس کھڑے ہونے سے کونسا کھڑا ہونا مراد ہے ؟ بعض کہتے ہیں جب نماز کے لئے کھڑے ہوں جیسے آغاز نماز میں سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ پڑھی جاتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب کسی مجلس میں کھڑے ہوں جیسے حدیث میں آتا ہے جو شخص کسی مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھ لے تو یہ اسکی مجلس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ انت أستغفرک واتوب الیک۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: یہ بڑی پیار بھری تسلی ہے جو حضور اقدس ﷺ کو دی جا رہی ہے کہ آپ اپنے کام میں لگے رہئے، ہم ہر آن آپ کی نگرانی اور حفاظت کر رہے ہیں۔ 16: اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب آپ تہجد کے لیے اٹھیں، اس وقت تسبیح فرمائیں اور یہ بھی کہ جب آپ اپنی کسی مجلس سے اٹھیں تو تسبیح پر اس کا اختتام ہونا چاہیے، چنانچہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ کسی مجلس کے آخر میں اگر سبحانک اللہم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک۔ پڑھ لیا جائے تو یہ اس مجلس کا کفارہ ہوجاتا ہے (ابو داود، حدیث نمبر :4216) یعنی اگر اس مجلس میں دینی اعتبار سے کوئی بھول چوک یا غلطی ہوگئی ہو، تو اس کی تلافی ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واصبرالحکم ربک (25 : 84) ” آپ اپنے رب کے فیصلے تک صبر کریں “ لیکن صبر کے حکم کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک زبانی اعزاز بھی دیا جاتا ہے۔ اللہ کی عنایت کے لئے آپ مستحق قرار پاتے ہیں۔ آپ کو ایسی محبت دی جاتی ہے کہ اس دست محبت سے آپ کے تمام الم اور تھکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور یہ فرمایا جاتا ہے کہ مشکلات پر صبر اللہ کے نزدیک بہت ہی محبوب اور پسندیدہ امر ہے اور یہی اس اعزاز کا ذریعہ اور نسبت ہے۔ واصبر لحکم ربک فانک باعیننا (25 : 84) ” اے نبی اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو ، تم ہماری نگاہ میں ہو “ کیا ہی خوبصورت تعبیر ہے اور کیا ہی بہترین تصویر ہے اور کس قدر بڑا اعزاز ہے۔ یہ وہ مقام اعزاز ہے جس تک کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی صبرو استقامت کے ساتھ اپنے رب کے حکم تکوینی و تشریعی کا انتظار کیجیے جو عنقریب آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ اور آپ ﷺ کو مخالفین کی طرف سے کچھ بھی نقصان نہ پہنچے گا۔ کیونکہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے زیر حفاطت ہیں۔ 1 یعنی صبر تحمل اور سکون و اطمینان کے ساتھ ہمہ وقت اللہ کی تسبیح وتحمید اور عبادت گزاری میں لگے رہیے۔ خصوصاً جس وقت آپ سو کر اٹھیں یا نماز کے لیے کھڑے ہوں، یا مجلس سے اٹھ کر تشریف لے جائیں۔ ان حالات میں تسبیح وغیرہ کی مزید ترغیب و تاکید آئی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48{ وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ } ”اور اے نبی ﷺ آپ اپنے ربّ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔“ ابتدائی مکی دور کی سورتوں میں یہ حکم بار بار آیا ہے۔ خصوصاً زیر مطالعہ گروپ کی سورتوں اور 29 ویں پارے کی سورتوں میں تو فَاصْبِرْ یا وَاصْبِرْکے صیغے کی بہت تکرار ملتی ہے۔ سورة النحل میں فرمایا گیا : { وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ اِلاَّ بِاللّٰہِ } آیت 127 ”آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر تو اللہ ہی کے سہارے پر ہے“۔ سورة الاحقاف میں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا : { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ } آیت 35 ”پس آپ بھی صبر کیجیے جیسے ہمارے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا“۔ مثلاً حضرت نوح…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے کہ ان نامساعد حالات سے نجات کے لیے جب تک اللہ کا حکم آ نہیں جاتا۔ آپ صبر کیجئے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ پروردگار کے جو احکام اب تک آپ کو مل چکے ہیں ان کی تعمیل اور بجاآوری میں صبر و استقامت سے ڈٹے رہیے۔ 41 ہم آپ کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑیں گے اور جب ہماری حکمت کا تقاضا ہوا آپ کو نجات کی راہ بتادیں گے اور ان کافروں کی تمام سازشوں اور تدبیروں کو ناکام بنادیں گے۔ 42 اس جملہ کے کئی مطلب ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ جب آپ نیند سے بیدار ہوں تو اللہ کی حمد و تسبیح بیان کی جائے۔ دوسرا یہ کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو حمد و تسبیح بیان کیجئے۔ تیسرا یہ کہ جب آپ تبلیغ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ (اور مخالفین ومعاندین آپ ﷺ کو ضرر نہیں پہنچا سکتے) (آیت) ” باعیننا “۔ عین کے یہاں مجازی معنی حفاظت وذمہ داری کے ہیں۔ اے فی حفظنا وحراستنا فالعین مجاز عن الحفظ (روح) العین کا صیغہ جمع اظہار عظمت و کمال کے لیے ہے اور قرآن مجید میں اس کی مثالیں اور بھی موجودہ ہیں۔ معناہ التعظیم والتفخیم ونظیرہ فی الجمع للتفخیم والتعظیم قولہ تعالیٰ تجری باعیننا وقولہ تعالیٰ مماعملت ایدینا انعاما (غرائب القرآن۔ للسجستانی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مراقبہ حضوری کو دخل عظیم طمانینت و سکون قلب میں ہے۔ (آیت) ” واصبرلحکم ربک “۔ یعنی ان معاندین سے انتقام کی عجلت نہ کیجئے، صبر و تحمل سے کام لیتے رہیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 48–49

فانک باعیننا دشمنوں کی دشمنی اور مخالفت و تکذیب سے رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے پہلے تو یہ فرمایا کہ آپ ہماری نظروں میں ہیں یعنی ہماری حفاظت میں ہیں ہم آپ کو ان کے شر سے بچائیں گے، آپ ان کی کسی بات کی پرواہ نہ کریں، جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ربانی ہے واللہ یعصمک من الناس اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تسبیح وتحمید میں لگ جانے کا حکم فرمایا جو اصل مقصد زندگی بھی ہے اور ہر مصیبت سے بچنے کا اصلی علاج بھی، فرمایا وسبح بحمد ربک حین تقوم کھڑے ہونے سے مراد سو کر اٹھنا بھی ہوسکتا ہے ابن جریر نے اسی کو اختیار کیا ہے، اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کو امام احمد نے حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واصبر لحکم ربک فانک باعیینا و سبح بحمد ربک حین تقوم اور آپ اپنے رب کی اس تجویز پر صبر سے بیٹھے رہئے کہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور مجلس سے یا بستر خواب سے اٹھتے وقت اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیا کیجئے وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ : حکم رب پر صبر رکھنے کے یہ معنی ہیں کہ ان کو مہلت دو ۔ اللہ نے ان کو ڈھیل دی ہے تم بھی اس پر صبر کرو۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہم نے ان کے عذاب کا حکم دے دیا ہے۔ آپ وقوع عذاب تک صبر کریں۔ فَاِنَّکَ بِاَعْیَنِنَا : زجاج نے کہا یعنی آپ ایسے مقام پر ہیں کہ ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اور آپ کی حفاظت کر رہے ہیں۔ یہ لوگ آپ کو کوئی دکھ نہیں پہنچا سکیں گے۔ خلاصہ یہ کہ آپ ہماری…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 48–49

(48۔ 49) اور آپ اپنے پروردگار کے احکام کی تبلیغ پر جمے رہیے یا یہ کہ اطاعت خداوندی میں جو آپ کو ان کفار کی طرف سے تکالیف پہنچیں آپ ان پر صبر سے بیٹھے رہیے، کیونکہ آپ ہماری حفاظت میں ہیں اور سونے سے اٹھتے وقت اپنے پروردگار کی نماز پڑھتے رہیے۔ مثلا صبح سے رات تک بھی اور رات کے آنے کے بعد بھی نماز پڑھتے رہیے یعنی ظہر عصر مغرب اور ستاروں کے غائب ہونے کے بعد بھی یعنی صبح کی دو سنتیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) واصبر لحکم ربک : یہاں ”لام“ ”علی“ کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہے کہ اپنے رب کے حکم پر عمل کرنے میں صبر و استقامت اختیار کرو اور دعوت کا کام جاری رکھو، جیسے فرمایا :(واصبر علی مایقولون) المزمل : 10) ”اور اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں۔“ اور اگر ”الی“ کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہے کہ ان ظالموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، جیسا کہ فرمایا :(واصبر حتی یحکم اللہ) (یونس : 109)”اور صبر کر یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔“ اس مقام پر حرف ”لام“ لانے سے ایسا جامع مفہوم پیدا ہو رہا ہے جو کوئی اور حرف لانے سے پیدا نہیں ہوتا۔”واصبر لحکمنا“ (اور ہمارے حکم پر صبر کر) کے بجائے فرمایا :(واصبر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واصبر لحکم ربک فانک باعیننا اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ واصبر لحکم ربک ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنے رب کے فیصلہ پر صبر کیجیے جو اس نے آپ پر رسالت کی ذمہ داریاں ڈالیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس آزمائش پر صبر کیجیے جو اس نے آپ کی قوم کی جانب سے آپ کو آزمائش میں ڈالا۔ پھر آیت سیف کے ساتھ اسے منسوخ کردیا گیا۔ مسئلہ نمبر 2 فانک باعیننا ہماری آنکھوں کے سامنے جو تم کہتے ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو ہم اسے دیکھتے اور سنتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیونکہ ہم تجھے دیکھتے ہیں، تیری حفاظت کرتے ہیں۔ سب کا معنی ایک ہی ہے، اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولتصنع علی عینی۔ (طہ) مراد میری حفاظت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–49

قولہ تعالیٰ : (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' 5:۔ الفریابی وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' (اور اٹھتے وقت اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے) یعنی ہر مجلس سے (اٹھتے وقت) 6:۔ ابن ابی شیبہ نے ابوالاحوص (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' وسبح بحمد ربک حین تقوم '' یعنی جب آپ اٹھیں تو '' سبحان اللہ وبحمدہ '' کہیں۔ کفارئہ مجلس کی دعاء : 7:۔ عبد الرزاق (رح) نے جامعہ میں ابو عثمان فقیر (رح) سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم ﷺ کو سکھایا کہ جب آپ اپنی مجلس سے کھڑے ہوں تو یہ کہا کریں : سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاصْبِرْ [ اور آپ ثابت قدم رہیں ] لِحُكْمِ رَبِّكَ [ اپنے رب کے حکم کے لیے ] فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا [ تو بیشک آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ] وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ [ اور آپ تسبیح کریں اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] حِيْنَ تَـقُوْمُ [ جس وقت آپ کھڑے ہوتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ ﴾ (اور آپ اپنے رب کی تجویز پر صبر کیجئے) ان کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جا رہی ہے اس پر صبر کیجئے، انتقام کے لیے جلدی نہ کیجئے، وقت معین پر مبتلائے عذاب ہو گے ﴿ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا ﴾ (سو بیشک آپ ہماری حفاظت میں ہیں) آپ کے خلاف ان کی تدبیریں کامیاب نہ ہوں گی۔ ﴿ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَقُوْمُۙ0048﴾ (اور آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے جس کے ساتھ حمد بھی ہو جس وقت آپ کھڑے ہوں) ۔ صاحب روح المعانی نے حضرت عطاء اور مجاہد اور ابن جریج سے اس کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ جب بھی کسی مجلس سے کھڑے ہوں اللہ کی تسبیح وتحمید بیان کیجئے اس موقعہ پر ایک حدیث…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–49

زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔ (ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–49

24:۔ ” واصبر لحکم ربک۔ الایۃ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے دوسری بار تسلی کا ذکر ہے آپ ان کی ایذاؤں پر صبر کریں اور ان کی پرواہ نہ کریں اور اللہ کے فیصلے کے مطابق ان پر آنے والے عذاب کا انتظار کریں وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، کیونکہ آپ ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہیں۔ ای اصبر علی اذاھم ولا تبا لھم فانک بمرای منا وتحت کلاتنا واللہ یعصمک من الناس (ابن کثیر ج 4 ص 245) ۔ ” حین تقوم “ یعنی جب دن کو اٹھو دن بھر حسب اوقات فرصت اللہ کی تسبیح وتحمید کرو۔ اور شرک سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کرو۔ ” ومن اللیل “ اور پھر اگلی رات میں بھی۔ ” وادبار النجوم “ اور اس کے بعد آنے والے دن میں بھی الغرض ہر وقت اللہ کی یاد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–49

ربط آیات پہلے رسالت کے متعلق بیان ہوچکا ہے کہ مشرک اور کافر لوگ اللہ کے نبی کو کبھی کاہن کہتے ، کبھی شاعر اور کبھی العیاذ باللہ دیوانہ کہتے ۔ اللہ نے ان کے اس غلط نظریے کی تردید کی اور فرمایا کہ یہ تو خود بےعقل لوگ ہیں جو حق و باطل میں تمیز ہی نہیں کرتے۔ کفار قرآن کو وحی الٰہی بھی تسلیم نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تو اس مدعی نبوت کا خود ساختہ کلام ہے ۔ اللہ نے چیلنج کیا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو تم بھی ایسا کلام پیش کر کے دکھائو ۔ پھر ان لوگوں کے انکار کی بعض ممکنہ وجوہات کا تذکرہ فرمایا کہ کیا یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا کوئی خالق نہیں ہے ، یا ان کی تخلیق بےمقصد ہے یا ان کے پاس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ۝ 48 ۙ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 48–49

وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّـکَ بِاَعْیُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاِدْبَارَالنُّجُوْمِ ۔ (الطور : 48، 49) (اے پیغمبر آپ صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلے کا انتظار کیجیے، آپ ہماری نگاہوں میں ہیں، اور اپنے رب کی تسبیح کیجیے اس کی حمد کے ساتھ، جس وقت آپ اٹھتے ہیں۔ اور رات کو بھی اس کی تسبیح کیجیے اور ستاروں کے پیچھے پلٹنے کے وقت بھی۔ ) مخالفین کی مخالفت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر کو نہایت دلنواز انداز میں صبر کی تلقین فرمائی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی اشارہ فرمایا ہے کہ صبر کی طاقت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے۔ اور وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 48–49

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کو عذاب کی دھمکی دینے کے بعد نبی محترم ﷺ کو صبر کرنے کی تلقین۔ توحید کے دلائل دینے اور کفار کو عذاب کا انتباہ کرنے کے بعد نبی ﷺ کو تلقین کی گئی کہ آپ حوصلہ اور مستقل مزاجی سے کام لیں اور ہر حال میں یقین رکھیں کہ آپ کا رب آپ کو دیکھ رہا ہے۔ جہاں نبی ﷺ کو تسلی دینے کے لیے وہی انداز اور الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے استعمال کیے گئے۔ قوم کے بارے میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بدعا قبول ہوئی تو انہیں حکم ہوا کہ آپ ہماری ہدایت کے مطابق ہمارے سامنے کشتی تیار کریں کیونکہ عنقریب آپ کی قوم کو تباہ کردیا جائے گا۔ (ھود : 37)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 48 : پھر ان پر عذاب آنے تک صبر کی تلقین فرمائی۔ وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ (اور آپ اپنے رب کی اس تجویز پر صبر سے بیٹھے رہیے) کہ ان کو مہلت دے رکھی ہے اور آپ کو مشقتیں پہنچ رہی ہیں۔ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا (آپ ہماری حفاظت میں ہیں) یعنی ہم آپ کو دیکھتے اور آپ کی حفاظت کرتے ہیں اور اعین جمع عین کی ہے کیونکہ ضمیر لفظ جماعت سے تاء لاتے ہیں۔ کیا دوسرے مقام پر نہیں دیکھتے ہو۔ ولتصنع علی عینی۔ مفرد لائے ضمیر بھی مفرد۔ ] طہ۔ 39[ نیند سے بیدار ہو کر اس کی تسبیح کریں : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِیْنَ تَقُوْمُ (اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید اٹھتے وقت کیا کریں) جب نماز کے لئے اٹھیں۔ اور یہ وہی ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

47 ۔” وان للذین ظلموا “ کفر کیا۔ ” عذابادون ذلک “ یعنی دنیا میں عذاب ہے آخرت کے عذاب سے پہلے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی بدر کے دن قتل۔ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں وہ بھوک اور سال سال کا قحط ہے۔ براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں وہ قبر کا عذاب ہے۔” ولکن اکثرھم لا یعلمون “ کہ عذاب ان پر اترنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–49

48۔ 49۔ ابوجعفر بن جریرنے کھڑے ہونے کی تفسیر سوتے سے اٹھنے کے وقت کی کی ہے اور اس تفسیر کی تائید ان صحیح حدیثوں سے ہوتی ہے جو صحاح 4 ؎ میں ہیں کہ آنحضرت ﷺ سوتے سے اٹھ کر اکثر اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو کوئی سوتے سے اٹھ کر اللہ کی توحید بیان کرے اور پھر دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا قبول فرماتا ہے۔ سفیان 5 ؎ ثوری اور سلف نے کھڑے ہونے کی تفسیر کسی مجلس سے اٹھنے کی کی ہے اور دعا کفارۃ المجلس کی حدیث جو ترمذی 6 ؎ وغیرہ میں ہے۔ اس تفسیر کی تائید میں پیش کی ہے جس کو ترمذی نے صحیح کہا ہے لیکن حقیقت میں بات یہ ہے کہ آیت کا مطلب عام ہے اور دونوں قسم کی حدیثیں آیت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 48–49

فرمایا ( فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا) یعنی آپ ہمارے سامنے ہماری حفاظت میں ہیں اور آپ کا معاملہ ہمارے زیر عنایت ہے اور آپ کو حم دیا کہ صبر ذکر الہی اور عبادت سے مدد لیں چناچہ فرمایا ( وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَـقُوْمُ ) اور اے نبی جب آپ کھڑے ہوں تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیجئے۔ اس آیت کریمہ میں رات کے قیام کا حکم ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ نماز پنجگانہ کے لیے کھڑے ہوں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (ومن الیل فسبحہ وادبار النجوم) اور کچھ حصہ رات میں بھی پس آپ اس کی تسبیح کیجئے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی۔ یعنی رات کے آخری حصے میں اور اس میں فجر کی نماز بھی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 48–49

خدا کی حمدوثنا کہاں کہاں اور کیسے کیے ہو ؟ قول باری ہے (وسبح بحمد ربک حین تقوم، اور آپ جب اٹھا کیجئے تو اپنے رب کی حمدوتسبیح کیا کیجئے) حضرت ابن مسعود ؓ ، ابوالاحوص اور مجاہد کا قول ہے۔ جس وقت آپ کسی بھی جگہ سے اٹھ کھڑے تو یہ دعا پڑھیں۔ (سبحانک وبحمدک الا الہ الا انت استفرک واتوب الیک) علی بن ہاشم نے روایت کی ہے کہ اعمش سے پوچھا گیا کہ آیا ابراہیم نخعی جب نشست سے کھڑے ہوتے تو وہ یہ دعا پڑھنا پسند کرتے تھے۔ ” سبحانک اللھم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک۔ “ اعمش نے جواب دیا کہ ابراہیم کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ اس سنت کا درجہ دے دیا جائے۔ ضحاک نے حضرت عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ اس سے نماز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 62] صبر و سیلہئِ نظر۔ وباللّٰہ التوفیق : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ صبر ہی سے کام لیتے رہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے لیتے رہے ہیں، کہ راہ حق بہرحال وہی ہے جس پر آپ گامزن ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور تاکید مزید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ { انک لمن المرسلین۔ علیٰ صراطٍ مستقیم } [ یٰسین : 3-4] یعنی " آپ یقینی طور پر رسولوں میں سے ہیں اور سیدھی راہ پر ہیں " نیز ایک اور مقام پر اسی تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا۔ { انک لعلی الحق المبین } یعنی یقینی طور پر آپ کھلے اور واضح حق پر ہیں۔ اور حق میں صبر و استقامت ذریعہء ِ فوز و فلاح اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–49

نبوت کے منکر عقل سے عاری تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–49

آیات 29 تا 49۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 حدیث میں ہے کہ آنحضرت جب کسی مجلس سے اٹھتے تو فرماتے : سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیہ اور فرماتے کہ یہ دعا ان تمام باتوں کا کفارہ ہے جو آدمی مجلس میں کرتا ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:48) اصبر امر واحد مذکر حاضر۔ صبر (باب ضرب) مصدر۔ تو صبر کر تو استقلال سے رہ۔ تو اپنے آپ کو روکے رکھ۔ لحکم ربک : میں لام تعلیل کی ہے تو اپنے رب کے حکم کے لئے صبر کر۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) آپ اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کریں۔ یعنی صبر کے ساتھ انتظار کرو۔ (2) آپ کے رب نے جو آپ کو حکم دے رکھا ہے صبر و استقامت کے ساتھ اس پر ڈٹے رہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کفار کے ساتھ معاملہ میں آپ کو بڑی محنت کرنا پڑے گی یا کہ پڑ رہی ہے بڑے دکھ سہنے پڑیں گے۔ بڑی مصیبتیں برداشت کرنا ہوں گی مگر آپ صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں اور اپنا کام پوری دلجمی سے سرانجام دیتے رہیں آخر کار فتح…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–49

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 48–49

(ف 1) یعنی جب سوکراٹھو تو اللہ کی حمد وتسبیح کیا کرو، نبی ﷺ سوتے سے اٹھ کر اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو کوئی سوتے سے اٹھ کر اللہ کی توحید بیان کرے اور پھر دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا قبول فرماتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ ہر مجلس سے اٹھتے وقت حمد وتسبیح بجالایا کرو، اور اکثر مفسرین نے رات کی تسبیح کی تفسیر تہجد کی نماز کی ہے اور تاروں کے ڈوبنے کے بعد مراد یہ ہے کہ ان اوقات میں اللہ کی تسبیح و تمحید کرو، بعض مفسرین نے تسبیح کی تفسیر صبح کی دوسنت رکعتوں کی کی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–49

ف 2: غزوہ بدر کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ اس میں صنادید فریش کو چن چن کر مار ڈالا گیا ۔ اور ان کے سارے ناز اور غرور کو خاک میں ملادیا گیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(48) اور اے پیغمبر آپ اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لیجئے بیشک آپ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری حفاظت ونگران میں ہیں اور جس وقت آپ اٹھا کریں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کیا کیجئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 47–49

ف 4۔ حاصل یہ کہ اپنے دل کو ادھر مشغول رکھیئے پھر فکر و غم کا غلبہ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! صبر کیجئے اور اپنے رب کی حمد اور تسبیح بیان کرتے رہئے 48 ؎ اب سورت کا اختتام ہونے کو ہے اور نبی اعظم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ جس قوم کی طرف آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے وہ قوم نہایت اکھڑ اور اجڈ ہے اور عقل و فکر اور سمجھو سوچ ان کے قریب سے بھی نہیں گزری اس لئے وہ آپ ﷺ کے خلاف ہر وقت طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں اور ان کی ہر دوسری چال پہلی چال سے خطرناک ہوتی چلی جا رہی ہے ان کا معاملہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں ہماری ہی دی گئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کر رہے ہیں اور وہ یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں سے نقصان کس کا کر رہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا (...you are before Our Eyes....) The hostility of the enemies towards, and their opposition to, and rejection of the Holy Prophet ﷺ depressed him. At the conclusion of the chapter, the Qur'an says 'You are before Our eyes', that is, under Our care and We shall protect you from every evil. Do not be anxious about it. On another occasion, the Qur'an says, وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ 'And Allah shall protect you from the people'. Then the verse goes on to say, وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ حِينَ تَقُومُ (And proclaim the purity of your Lord along with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38 Another meaning can be: Remain firm and steadfast in carrying out the Command of your Lord." 39 That is, "We are watching over you and have not left you alone." implied:

Read the full tafseer →