Explained with ayahs 44–49
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب
مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کرلینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہوگی یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہوگا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آرہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ 14 ۙ) 15۔ الحجر :14) ، اگر ہم ان کے لئے آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور یہ وہاں چڑھ جائیں…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 37
یہ اسی مضمون کا اعادہ ہے جو سورة السجدہ، آیت 21 میں گزر چکا ہے کہ " اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں "۔ یعنی دنیا میں وقتاً فوقتاً شخصی اور قومی مصیبتیں نازل کر کے ہم انہیں یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ اوپر بالا تر طاقت ان کی قسمتوں کے فیصلے کر رہی ہے اور کوئی اس کے فیصلوں کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مگر جو لوگ جہالت میں مبتلا ہیں انہوں نے نہ پہلے کبھی ان واقعات سے سبق لیا ہے نہ آئندہ کبھی لیں گے۔ وہ دنیا میں رونما ہونے والے حوادث کے معنی نہیں سمجھتے، اس لیے ان کی ہر وہ تاویل کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–47
خلاصہ تفسیر
(جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…
Read the full tafseer →(وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک ولکن اکثرھم لا یعلمون) (47)
(اس عذاب کی طرف اشارہ مکذبین رسول پر دنیا میں آتا ہے)۔۔ یعنی آخرت کا عذاب تو ہے ہی، ان ظالموں کے لیے ایک عذاب اس سے پہلے بھی ہے لیکن ان کی اکثریت اس سے بیخبر ہے۔ یہ اشارہ اسی عذاب کی طرف ہے جو سنت الٰہی کے مطابق ان لوگوں پر ہمیشہ آیا ہے جنہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور اس پر اڑے رہ گئے۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں، یہ عذاب قریش کے مکذبین پر بھی آیا اور وہ سب نبی ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ذلیل و پا مال ہوگئے۔
Read the full tafseer →(1) یعنی دنیا میں، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) 32۔ السجدہ :21)
47۔ 2 اس بات سے کہ دنیا کے یہ عذاب اور مصائب، اس لئے ہیں تاکہ انسان اللہ کی طرف رجوع کریں یہ نکتہ چونکہ نہیں سمجھتے اس لئے گناہوں سے تائب نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ پہلے سے بھی زیادہ گناہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ جس طرح ایک حدیث میں فرمایا کہ ' منافق جب بیمار ہو کر صحت مند ہوجاتا ہے تو اسکی مثال اونٹ کی سی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں رسیوں سے باندھا گیا۔ اور کیوں کھلا چھوڑ دیا گیا ؟ (ابوداؤد کتاب الجنائز نمبر 389)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
14: یعنی آخرت کا جو عذاب ہونے والا ہے اس سے پہلے دنیا میں بھی کافروں کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، چنانچہ ان میں سے بہت سے جنگ بدر وغیرہ میں مارے گئے، اور آخر کار جزیرہ عرب میں ان کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
یہ مخالفین پر ایک نیا تنقیدی حملہ ہے۔ اس کا آغاز ایک شدید دھمکی اور تہدید سے ہوتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ مار گرائے جائیں گے اور یہ واقعہ حشر ونشر اور قیامت میں اٹھانے سے قدرے پہلے ہوگا۔ اس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ آج تو یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف کچھ نہ کچھ تدابیر کرتے ہیں لیکن اس دن کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ قیامت سے پہلے بھی ان پر عذاب آنے والا ہے لیکن ان کو پتہ نہیں ہے۔
اس آخری دھمکی کے بعد مکذبین کے معاملے میں یہ حملہ فارغ ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل اس سورت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور سخت حملے ان پر کئے اور آخر میں کہہ دیا کہ قریبی عذاب بھی ان کے انتظار…
Read the full tafseer →12 یعنی ان میں سے اکثروں کو خبر نہیں کہ آخرت کے عذاب سے ورے دنیا میں بھی ان کے لیے ایک سزا ہے جو مل کر رہے گی۔ شاید یہ معرکہ " بدر " وغیرہ کی سزا ہو۔
Read the full tafseer →آیت 47{ وَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِکَ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ } ”اور ان ظالموں کے لیے اس آخرت کے عذاب کے علاوہ بھی ایک عذاب ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔“
اس عذاب سے یا تو قحط مکہ کا عذاب مراد ہے جس کا ذکر سورة الدخان میں ہے اور یا پھر غزوئہ بدر کے دن کا عذاب جس دن مکہ کے ستر سردار مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
Read the full tafseer →39 دنیا میں جو جو چھوٹے موٹے عذاب آتے ہیں وہ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے آتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی بالا تر ہستی موجود ہے۔ لہذا وہ سنبھل جائیں۔ مگر لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جو ایسے عذاب کو نہ عذاب سمجھتی ہے نہ تنبیہ بلکہ وہ اس عذاب کا کوئی طبعی سبب اور اپنے کفر پر جمے رہنے کا کوئی بہانہ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔
Read the full tafseer →24۔ (اور اسی لیے اس کے باب کوئی فکر واہتمام نہیں کرتے) (آیت) ” عذابا دون ذلک “۔ یعنی اس اخروی دائمی عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی عنقریب ان کو سزا ملنے والی ہے، قحط، قید، قتل، شکست وہزیمت وغیرہ کی شکل میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔
ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…
Read the full tafseer →وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک ولکن اکثرھم لا یعلمون .
اور ان ظالموں کے لیے قبل اس (عذاب) کے اور عذاب بھی ہونے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر کو معلوم نہیں۔
لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا : عام ظالم مراد ہیں یا مخصوص افراد دونوں قول صحیح ہیں۔
عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِکَ : یعنی مرنے سے پہلے دنیا ہی میں ان پر عذاب آجائے گا۔
حضرت ابن عباس کے نزدیک عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِکَ سے مراد ہے بدر کے دن کافروں کا مارا جانا۔ مجاہد کے نزدیک بھوک اور ہفت سالہ قحط مراد ہے۔ حضرت براء ؓ ابن عازب نے کہا : عذاب قبر مراد ہے۔ میں کہتا ہوں یہ مطلب اس وقت صحیح ہوگا جب یومھم سے مراد نفخۂ اولیٰ کا دن مانا جائے (کیونکہ عذاب قبر نفخۂ اولیٰ…
Read the full tafseer →جس دن یعنی قیامت کے ابوجہل وغیرہ کی تدبیریں عذاب الہی کے سامنے ان کے کچھ بھی کام نہ آئیں گی اور جس چیز کا ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا نہ یہ اس کو روک سکیں گے اور ان مشرکین مکہ پر دوزخ کے عذاب سے پہلے قبر میں بھی عذاب ہونے والا ہے، لیکن ان میں سے ا کثر کو یہ معلوم نہیں اور نہ یہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(1) وان للذین ظلموا عذاباً دون ذلک : یعنی کفار کے لئے قیامت سے پہلے بھی ایک عذاب ہے۔ اس سے مراد دنیا میں آنے والے عذاب ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (126) اور سورة سجدہ (21) کی تفسیر۔
(2) ولکن اکثرھم لایعلمون : یعنی دنیا میں ان پر مختلف مصیبتیں اور عذب آتے ہیں، جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ پلٹ آئیں اور توبہ کرلیں، مگر ان میں سے زیادہ تر لوگ نہیں جانتے کہ ہم پر یہ مصیبتیں کیوں آئیں۔ اس لئے جیسے ہی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے پہلے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ نافرمان بن جاتے ہیں اور عذاب کو نہ عذاب سمجھتے ہیں نہ تنبیہ، بلکہ وہ عذاب کا کوئی سائنسی سبب اور نافرمانی پر جمے رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →وان للذین ظلموا یعنی جنہوں نے کفر کیا۔ عذاباً دون ذلک ایک قول یہ کیا گیا ہے، ان کی موت سے قبل انہیں عذاب وہ گا۔ ابن زید نے کہا، مراد دنیا کے مصائب ہیں یعنی درد، بیماریاں، آزمائشیں، مال اور اولاد کا چلا جانا۔ مجاہد نے کہا، اس سے مراد بھوک اور سات سال تک خشک سالی ہے (2) حضرت ابن عباس نے کہا، مراد قتل ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : مراد عذاب قبر ہے، یہ حضر براء بن عازب اور حضرت علی شیر خدا کا قول ہے۔ دون کا معنی غیر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ایسا عذاب ہے جو آخرت کے عذاب سے خفیف ہوگا۔
ولکن اکثرھم لایعلمون۔ لیکن اکثر یہ نہیں جانتے کہ ان پر عذاب نازل ہوگا۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : ان میں سے اکثر…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک '' (اور ان ظالموں کے لئے قبل اس عذاب کے اور عذاب بھی ہونے والا ہے) یعنی قبر کا عذاب قیامت کے دن سے پہلے۔
2:۔ ہناد نے زاذان (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عذاب قبر (کا ذکر) قرآن میں ہے پھر یہ (آیت) تلاوت کی '' وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک ''
4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وان للذین ظلموا عذابا دون ذلک '' سے مراد ہے دنیا میں قریش کے لئے بھوک اور قحط۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا [ اور بیشک ان کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ] عَذَابًا [ ایک عذاب ہے ] دُوْنَ ذٰلِكَ [ اس کے علاوہ ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ [ اور ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ جانتے نہیں ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 47 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں وقتا فوقتا شخصی اور قومی مصیبتیں نازل کرکے ہم انھیں یاد دلاتے رہیں گے کہ اوپر کوئی بالاتر طاقت ان کی قسمتوں کے فیصلے کررہی ہے اور کوئی ان کے فیصلوں کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ لیکن جو لوگ جہالت میں مبتلا ہیں انہوں نے نہ پہلے کبھی ان واقعات سے سبق لیا ہے اور نہ آئندہ کبھی لیں گے ۔ وہ دنیا میں رونما ہونے والے حوادث کی ہر وہ تاویل کرتے ہیں جو حقیقت…
Read the full tafseer →﴿وَ اِنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ ﴾ (اور جن لوگوں نے ظلم کیا ان کے لیے اس سے پہلے عذاب ہے) اس عذاب سے کون سا عذاب مراد ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے یوم بدر مراد ہے اور حضرت مجاہد نے فرمایا کہ وہ قحط مراد ہے جو سات سال تک مکہ معظمہ کے مشرکین کو پیش آیا ﴿ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 0047﴾ (اور لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے) کہ بطور وعید جس عذاب کا تذکرہ کیا جا رہا ہے محض دھمکی نہیں ہے بلکہ واقعی ہوجانے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔
(ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…
Read the full tafseer →23:۔ یعنی قیامت کے عذاب سے پہلے بھی عذاب دردناک ہے لیکن یہ جانتے نہیں اس سے جنگ بدر میں قتل و قید، قحط سالی اور قبر کا عذاب مراد ہے۔ وھو القتل ببدر والقحط سبع سنین و عذاب القبر (مدارک ج 4 ص 147، خازن ج 6 ص 254) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
ربط آیات
پہلے رسالت کے متعلق بیان ہوچکا ہے کہ مشرک اور کافر لوگ اللہ کے نبی کو کبھی کاہن کہتے ، کبھی شاعر اور کبھی العیاذ باللہ دیوانہ کہتے ۔ اللہ نے ان کے اس غلط نظریے کی تردید کی اور فرمایا کہ یہ تو خود بےعقل لوگ ہیں جو حق و باطل میں تمیز ہی نہیں کرتے۔ کفار قرآن کو وحی الٰہی بھی تسلیم نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تو اس مدعی نبوت کا خود ساختہ کلام ہے ۔ اللہ نے چیلنج کیا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو تم بھی ایسا کلام پیش کر کے دکھائو ۔ پھر ان لوگوں کے انکار کی بعض ممکنہ وجوہات کا تذکرہ فرمایا کہ کیا یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا کوئی خالق نہیں ہے ، یا ان کی تخلیق بےمقصد ہے یا ان کے پاس…
Read the full tafseer →وَاِنَّ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 47
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
1 ؎ جس کا ان پر بوجھ پڑا رہا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِکَ وَلٰـکِنَّّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الطور : 47)
(بےشک ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا اس کے سوا بھی ایک عذاب ہے، لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔ )
عذابِ آخرت سے پہلے عذاب کا ذکر
جو کفار اپنی ہٹ دھرمیوں کے باعث عذاب آخرت کے مستحق ہوچکے ہیں انھیں عذاب آخرت تو قیامت کے دن ہوگا لیکن ان کی زندگی میں چھوٹے موٹے عذابوں کا مزہ انھیں چکھایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں۔ یعنی دنیا میں وقتاً فوقتاً شخصی اور قومی مصیبتیں نازل کرکے پروردگار انھیں یاد دلاتا رہتا ہے کہ کوئی بالاتر طاقت ان کی قسمتوں کے فیصلے کررہی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی ہٹ دھرمی کی انتہا۔
اللہ تعالیٰ نے واضح دلائل اور سخت ترین تنبیہات کے ذریعے اہل مکہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ رسول ﷺ پر ایمان لائیں، آخرت پر یقین رکھیں اور صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ لیکن مشرک اس قدر ہٹ دھرم ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کو کسی صورت بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی ان حالات میں یہ ارشاد ہوا کہ ان لوگوں پر اگر آسمان کا کوئی حصہ گرا دیا جائے تو اسے نیچے آتے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو گھنے بادلوں کا ٹکڑا ہے۔ لہٰذا ان کو انہی کے حال پر چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ کہ وہ دن آپہنچے جس دن یہ بےہوش کردیئے جائیں گے۔ اس دن نہ ان کا مکرو فریب…
Read the full tafseer →بدر کا قتل یا عذاب قبر :
آیت 47 : وَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا (اور ان ظالموں کے لئے) عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِکَ (قبل اس کے اور عذاب بھی ہونے والا ہے) قیامت کے عذاب کے علاوہ۔ اور وہ بدر میں قتل ہونا ہے۔ اور سات سال کا قحط اور عذاب قبر۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (لیکن ان میں سے اکثر کو یہ معلوم نہیں)
Read the full tafseer →46 ۔” یوم لا یغنی عنھم کیدھم شیئا ولا ھم ینصرون “ یعنی ان کو ان کا مکر موت کے دن نفع نہ دے گا اور عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
44۔ 47۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر قرآن اور یہ دین سچا ہے تو اللہ ہم پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسائے یا کوئی اور عذاب بھیج دے تاکہ اس دین کا سچا پن ہم کو معلوم ہوجائے اور سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ قریش میں کے چند آدمیوں نے کہا تھا کہ عذاب کے طور پر آسمان کا کوئی ٹکڑا بھی ہم پر گر پڑے تو بھی اس قرآن پر ایمان نہ لائیں گے غرض قریش کی ایسی ایسی باتوں کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے کہ ان لوگوں کی ڈھٹائی اب یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ قوم عاد یا قوم شعیب کی طرح آسمان پر کوئی عذاب کا بادل کا ٹکڑا بھی ان کو نظر آئے گا تو جب بھی انہیں عذاب کا یقین نہ آئے گا اور اس…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے روز ظالموں کے لیے عذاب ہے آگاہ فرمایا کہ قیامت کے روز عذاب سے پہلے بھی ان کے لیے عذاب ہے اور یہ عذاب قتل کیے جانے قیدی بنائے جانے، اپنے گھروں سے نکالے جانے، قبر اور برزخ کو شامل ہے۔ (وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ یعنی اسی لیے ایسے کاموں پر جمے ہوئے ہیں جو عذاب اور سخت سزا کے موجب ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اقوال کے بطلان پر دلائل وبراہین بیان کردیے تو اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ ان مشرکین کی کچھ بھی پرواہ نہ کریں اور اپنے رب کے حکم قدری وشرعی کا استقامت کے ساتھ التزام کرتے ہوئے اس پر صبر کریں…
Read the full tafseer →[ 60] ظالموں کے لئے آخرت سے پہلے دنیا کے عذاب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا اور ظالموں کے لئے اس سے پہلے بھی عذاب ہے۔ یعنی آخرت کے اس حقیقی اور دائمی عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی ان کو مختلف قسم کے عذابوں سے واسطہ پڑتا رہے گا تاکہ شاید یہ ہوش کے ناخن لے سکیں اور اس آخری اور ہولناک انجام سے بچ سکیں۔ { ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلہم یرجعون } [ سورة السجدہ : 21 پ 21] مگر یہ لوگ اس حقیقت کو سمجھ نہیں رہے، کہ تنبیہات سے ان کو کیا سبق مل رہے ہیں، اور یہ کی مآل کا ران کو کس انجام بد سے سابقہ پڑنے والا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو یہ اسی سنت الہیہ کی طرف اشارہ ہے جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–49
نبوت کے منکر عقل سے عاری
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
آیات 29 تا 49۔
اسرار ومعارف۔
آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
ف 6 اس سے مراد وہ عذاب بھی ہے جو بدر کے دن قید و بند اور قتل کی صورت میں کفار مکہ پر نازل ہوا اور وہ قحط سالی کا عذاب بھی جس میں سات برس مبتلا رہے اور عذاب قبر بھی۔ حضرت ابن عباس نے خاص طور پر عذاب قبر مراد لیا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(52:47) للذین ظلموا سے عام ظالم مراد ہیں یا مخصوص افراد۔ دونوں قول صحیح ہیں ۔
عذابا دون ذلک یعنی مرنے سے پہلے دنیا میں یہی عذاب ان پر آجائے گا۔ جیسا کہ سورة السجدہ میں ہے والنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلہم یرجعون (32:21) اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا مزہ بھی چکھائیں گے شاید کہ وہ (ہماری طرف) لوٹ آئیں۔
یوم یصعقون (آیت نمبر 45) کے بارے میں مختلف اقوال کے لحاظ سے آیت ہذا میں دون ذلک کے متعلق بھی مختلف اقوال ہیں۔ (1) مثلاً حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس سے مراد بدر کے دن کافروں کا مرادا جانا ہے۔
(2) مجاہد ؓ کے نزدیک بھوک اور ہفت سالہ قحط مراد ہے۔
(3) حضرت براء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46
کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے)
مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔
تشریح آیت نمبر 29 تا 49
اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان کفار کی ڈھٹائی اب یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ قوم عاد یا قوم شعیب کی طرح آسمان پر کوئی عذاب کا بادل کا ٹکڑا بھی ان کو نظر آئے گا تو جب بھی انہیں عذاب کا یقین نہ آئے گا اور اس عذاب کے بادل کو جس طرح قوم عاد نے معمولی بادل بتلایا تھا ویسا ہی یہ کہیں گے کہ یہ تو کہیں کی ہوا یا بادل ہے اوپر تلے جمع ہوگئے ہیں اور غلیظ ہوکرابر کی صورت اختیار کرگئے ہیں اور اب بارش ہوگی پھر فرمایا کہ جب ان لوگوں کی سرکشی اس درجے کو پہنچ گئی تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے سمجھا نے اور نصیحت کرنے کا موقع اب باقی نہیں رہا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے پھر ان کو ان کی سرکشی کی سز امل جائے گی ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
[19] مراد روز قیامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
ف 2: غزوہ بدر کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ اس میں صنادید فریش کو چن چن کر مار ڈالا گیا ۔ اور ان کے سارے ناز اور غرور کو خاک میں ملادیا گیا ۔
Read the full tafseer →(47) اور بلا شبہ جو لوگ ظلم کا ارتکاب کررہے ہیں اور جو ظالم ہیں ان ظالموں کو اس مذکورہ قیامت کے عذاب سے قبل بھی اور اس سے درے بھی عذاب ہونے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر کو اور بہت سوں کو معلوم نہیں۔ یعنی قیامت کے دن تو جو کچھ ہونا ہے وہی ہوگا یہی لیککن اس سے پہلے بھی عذاب میں یہ ظالم مبتلا ہوں گے۔
ظالم اس لئے فرمایا کہ مشرک ہیں وہ عذاب مشرکین کا قتل ، قحط، جنگ بدر وغیرہ ہیں اکثر اس لئے فرمایا کہ اس عذاب دنیوی سے پہلے کچھ لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے اور دین حق کو قبول کرلیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ف 4۔ حاصل یہ کہ اپنے دل کو ادھر مشغول رکھیئے پھر فکر و غم کا غلبہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →اور بلاشبہ ظالموں کے لئے اس کے علاوہ ایک عذاب ہے جس سے اکثر بیخبر ہیں
47 ؎ وہ لوگ انبیاء کرام اور رسل عظام کی مخالفت کرتے ہیں اور پھر کرتے ہی چلے جاتے ہیں جب ان کو دی گئی مہلت ختم ہوجاتی ہے اور وہ اپنے حصے کی خوشیاں پوری کرچکے ہیں تو ان کو طرح طرح کے مصائب و آلام میں گرفتار کردیا جاتا ہے حالانکہ اس عذاب کا دراصل مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے سبق حاصل کریں اور اپنی اصلاح کے لئے کوئی کوشش کرلیں۔ توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں لیکن وہ عذاب کے ان جھٹکوں سے سلجھنے کی بجائے مزید سرکشی میں بڑھ جاتے ہیں اور دراصل یہ ان کی جہالت اور بیخبر ی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جہالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
{ 1} It refers to the punishments faced by the disbelievers right in this world, like famines and the deterrent defeat in the battle of Badr. (Muhammad Taqi Usmani).
Read the full tafseer →37 This is a repetition of the same theme that has already occurred in As-Sajdah: 21 above: "Even in this world We shall make them taste (one or the other) lesser torment before that greater torment; maybe they desist (from their rebellious attitude)." That is, "We shall send down personal and national disasters from time to time in the world to remind that there is above them a superior power which is deciding their destinies and none has the power to change its decisions. But the people who are involved in ignorance have neither learnt any lesson from these events before not will learn any…
Read the full tafseer →