Explained with ayahs 44–49
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب
مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کرلینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہوگی یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہوگا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آرہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ 14 ۙ) 15۔ الحجر :14) ، اگر ہم ان کے لئے آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور یہ وہاں چڑھ جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
سورة الطُّوْر 36
اس ارشاد سے مقصود ایک طرف سرداران قریش کی ہٹ دھرمی کو بےنقاب کرنا، اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دینا ہے۔ حضور اور صحابہ کرام کے دل میں بار بار یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی معجزہ ایسا دکھا دیا جائے جس سے ان کو نبوت محمدیہ کی صداقت معلوم ہوجائے۔ اس پر فرمایا گیا ہے کہ یہ خواہ کوئی معجزہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، بہرحال یہ اس کی تاویل کر کے کسی نہ کسی طرح اپنے کفر پر جمے رہنے کا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے، کیونکہ ان کے دل ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں متعدد دوسرے مقامات پر بھی ان کی اس ہٹ دھرمی کا ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–47
خلاصہ تفسیر
(جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(نذرھم حتی یلقوا یرمھم الذی یصعقون یوم لا یغنی عنھم کیدھم شیا ولا ھم ینصرون) (45، 46) مطلب یہ ہے کہ جب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ لوگ چال چل رہے ہیں تو اب ان کے درپے ہونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اب ان کو اس دن کے حوالے کرو جس دن صور اسرافیل سے ان پر غشی طاری ہوجائے گی۔ یہ اشارہ اس دن کی طرف ہے جسکے ہول کی تصویر سورة حج میں بدیں الفاظ میں کھینچی گئی ہے (وتری الناس سکری وما ھم یسکری ولکن عذاب اللہ شدید) (2) (اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے اور یہ مد ہوشی شراب کی نہیں ہوگی اور بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا)۔ (یوم لا یغنی عنھم کیدھم) الایۃ۔۔ فرمایا کہ اس دن نہ ان کی یہ چالیں کچھ کام آئیں گی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
44۔ 1 مطلب ہے کہ اپنے کفر وعناد سے پھر بھی باز نہ آئیں گے، بلکہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ عذاب نہیں، بلکہ ایک پر ایک بادل چڑھا آرہا ہے، جیسا کہ بعض موقعوں پر ایسا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
14: یعنی آخرت کا جو عذاب ہونے والا ہے اس سے پہلے دنیا میں بھی کافروں کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، چنانچہ ان میں سے بہت سے جنگ بدر وغیرہ میں مارے گئے، اور آخر کار جزیرہ عرب میں ان کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
یہ مخالفین پر ایک نیا تنقیدی حملہ ہے۔ اس کا آغاز ایک شدید دھمکی اور تہدید سے ہوتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ مار گرائے جائیں گے اور یہ واقعہ حشر ونشر اور قیامت میں اٹھانے سے قدرے پہلے ہوگا۔ اس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ آج تو یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف کچھ نہ کچھ تدابیر کرتے ہیں لیکن اس دن کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ قیامت سے پہلے بھی ان پر عذاب آنے والا ہے لیکن ان کو پتہ نہیں ہے۔
اس آخری دھمکی کے بعد مکذبین کے معاملے میں یہ حملہ فارغ ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل اس سورت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور سخت حملے ان پر کئے اور آخر میں کہہ دیا کہ قریبی عذاب بھی ان کے انتظار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
11 یعنی ایسے معاندوں کے پیچھے پڑنے کی زیادہ ضرورت نہیں۔ چھوڑ دیجیے کہ چند روز اور کھیل لیں اور باتیں بنالیں۔ آخر وہ دن آتا ہے جب قہر الٰہی کی کڑک بجلی سے ان کے ہوش و حواس جاتے رہیں گے۔ اور بچاؤ کی کوئی تدبیر کام نہ دے گی، نہ کسی طرف سے مدد پہنچے گی .
Read the full tafseer →آیت 46{ یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْہُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا وَّلَا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ۔ } ”جس دن ان کی چالیں ان کے کسی کام نہ آسکیں گی اور نہ ہی ان کی کوئی مدد ہی ہوگی۔“
ان کی ساری چالیں ناکام ہوجائیں گی اور کوئی مددگار ان کی مدد کو نہ پہنچ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
38 اس سے مراد نفخہ صور اول ہے۔ یعنی ان لوگوں یا ان جیسے ہٹ دھرم لوگوں کی بدبختی کا یہ عالم ہے کہ اگر انہیں قیامت تک زندگی مل جائے تو بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں ان باتوں کا یقین تب ہی آئے گا جب عذاب خود ان پر واقع ہوجائے گا۔ لہذا آپ ایسے لوگوں کے پیچھے نہ پڑیں۔ بس اپنا کام کرتے جائیے۔
Read the full tafseer →23۔ (کسی طرف سے نہ مخلوق کی طرف سے کہ اس کا امکان ہی نہیں اور نہ خالق کی طرف سے کہ اس کا وقوع نہیں ہونے گا) (آیت) ” کیدھم “۔ کید سے مراد ان کی وہ تدبیریں اور سازشیں ہیں جو یہ اپنی کامیابی اور اسلام کی مخالفت میں برابر کام میں لاتے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔
ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…
Read the full tafseer →یوم لا یغنی عنھم کیدھم شیئا ولا ھم ینصرون
جس روز کہ ان کی تدبیریں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
وَلَاھُمْ یُنْصَرُوْنَ : یعنی اللہ کے عذاب سے ان کو بچایا نہیں جائے گا (کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا) ۔
یَوْمَ لَا یُغْنِیْ : یَوْمَھُمْ سے بدل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(45۔ 46) اے محمد آپ ان کو چھوڑیے یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ مریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(1) وان للذین ظلموا عذاباً دون ذلک : یعنی کفار کے لئے قیامت سے پہلے بھی ایک عذاب ہے۔ اس سے مراد دنیا میں آنے والے عذاب ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (126) اور سورة سجدہ (21) کی تفسیر۔
(2) ولکن اکثرھم لایعلمون : یعنی دنیا میں ان پر مختلف مصیبتیں اور عذب آتے ہیں، جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ پلٹ آئیں اور توبہ کرلیں، مگر ان میں سے زیادہ تر لوگ نہیں جانتے کہ ہم پر یہ مصیبتیں کیوں آئیں۔ اس لئے جیسے ہی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے پہلے کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ نافرمان بن جاتے ہیں اور عذاب کو نہ عذاب سمجھتے ہیں نہ تنبیہ، بلکہ وہ عذاب کا کوئی سائنسی سبب اور نافرمانی پر جمے رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فذٓرھم یہ آیت سیف سے منسوخ ہے۔ حتی یلقوا یومھم الذین فیہ یصعقون۔ یاء کے فتحہ کے ساتھ عام قرأت ہے۔ ابن عامر اور عاصم نے یاء کے ضمہ کے ساتھ اسے پڑھا ہے۔ فراء نے کہا، دو لغتیں ہیں صعق، صعق جس طرح سعد، سعد ہے۔ قتادہ نے کہا، جس روز وہ مریں گے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد یوم بدر ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد نفخہ الوی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد یوم قیامت ہے جس میں ایسا عذاب آئے گا جو ان کی عقلوں کو زائل کر دے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اصمقہ اللہ سے یاء کے ضمہ کے ساتھ یصعقون ہے۔
یوم لایغنی عنھم کیدھم شیئاً یعنی دنیا میں جو وہ نیب کریم ﷺ کے ساتھ خفیہ تدبیر کرتے رہے۔ ولاھم ینصرون۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔
6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…
Read the full tafseer →يَوْمَ لَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ [ جس دن کام نہ آئے گی ان کے ] كَيْدُهُمْ [ ان کی چالبازی ] شَيْــــًٔا [ ذرا سا بھی ] وَّلَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ [ اور نہ ان کی مدد کی جائے گی ]
Read the full tafseer →﴿ يَوْمَ لَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا ﴾ (جس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کوئی کام نہ آئے گی) ﴿ وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَؕ0046﴾ (اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔
(ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
22:۔ ” فذرھم “۔ یومہم سے نفخہ اولی کا دن مراد ہے جس سن کر سب پر بےہوشی طاری ہوجائے گی (مدارک) ۔ آپ ان سے اعراض فرمائیں اور اس دن کا انتظار فرمائیں۔ جب دہشت و خوف سے ان پر حقیقت طاری ہوگی اس دن ان پر حقیقت حال واضح ہوجائے گی لیکن اب اس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس دن عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے ان کا کوئی حیلہ کامیاب نہ ہوسکے گا اور نہ ان کو اپنے خود ساختہ معبودوں، گمراہ کرنے والے پیشواؤں اور دیگر سفارشیوں کی طرف ہی سے کچھ مدد مل سکے گی اور وہ کسی بھی طرح سے خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
ربط آیات
پہلے رسالت کے متعلق بیان ہوچکا ہے کہ مشرک اور کافر لوگ اللہ کے نبی کو کبھی کاہن کہتے ، کبھی شاعر اور کبھی العیاذ باللہ دیوانہ کہتے ۔ اللہ نے ان کے اس غلط نظریے کی تردید کی اور فرمایا کہ یہ تو خود بےعقل لوگ ہیں جو حق و باطل میں تمیز ہی نہیں کرتے۔ کفار قرآن کو وحی الٰہی بھی تسلیم نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تو اس مدعی نبوت کا خود ساختہ کلام ہے ۔ اللہ نے چیلنج کیا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو تم بھی ایسا کلام پیش کر کے دکھائو ۔ پھر ان لوگوں کے انکار کی بعض ممکنہ وجوہات کا تذکرہ فرمایا کہ کیا یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا کوئی خالق نہیں ہے ، یا ان کی تخلیق بےمقصد ہے یا ان کے پاس…
Read the full tafseer →يَوْمَ لَا يُغْنِيْ عَنْہُمْ كَيْدُہُمْ شَيْــــًٔا وَّلَا ہُمْ يُنْصَرُوْنَ 46 ۭ
غنی( فایدة)
أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ،
( غ ن ی ) الغنیٰ
اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
1 ؎ جس کا ان پر بوجھ پڑا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فَذَرْھُمْ حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ فِیْہِ یُصْعَقُوْنَ ۔ یَوْمَ لاَ یُغْنِیْ عَنْھُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا وَّلاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ (الطور : 45، 46)
(پس اے نبی ! انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے، یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس دن ان کے ہوش جاتے رہیں گے۔ جس دن نہ ان کی اپنی کوئی چال ان کے کسی کام آئے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ )
یعنی جب یہ بات کھل گئی کہ یہ درحقیقت اپنی سخن سازیوں کے پردے میں اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کیخلاف کوئی چال چل رہے ہیں تو اب ان کو سمجھانے بجھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اب ان کو اس دن کے حوالے کردیجیے جس دن صوراسرافیل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی ہٹ دھرمی کی انتہا۔
اللہ تعالیٰ نے واضح دلائل اور سخت ترین تنبیہات کے ذریعے اہل مکہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ رسول ﷺ پر ایمان لائیں، آخرت پر یقین رکھیں اور صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ لیکن مشرک اس قدر ہٹ دھرم ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کو کسی صورت بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی ان حالات میں یہ ارشاد ہوا کہ ان لوگوں پر اگر آسمان کا کوئی حصہ گرا دیا جائے تو اسے نیچے آتے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو گھنے بادلوں کا ٹکڑا ہے۔ لہٰذا ان کو انہی کے حال پر چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ کہ وہ دن آپہنچے جس دن یہ بےہوش کردیئے جائیں گے۔ اس دن نہ ان کا مکرو فریب…
Read the full tafseer →آیت 46 : یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْہُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا وَّلا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ (جس روز ان کی تدابیر ان کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اور نہ ان کی مدد کی جائے گی)
Read the full tafseer →45 ۔” فذرھم حتی یلاقوا “ وہ معائنہ کرلیں۔” یومھم الذی فیہ یصعقون “ وہ مرجائیں گے یعنی حتیٰ کہ وہ موت کا معائنہ کرلیں۔ بن عامر اور عاصم رحمہما اللہ نے ” یصعقون “ یاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہلاک کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
44۔ 47۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر قرآن اور یہ دین سچا ہے تو اللہ ہم پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسائے یا کوئی اور عذاب بھیج دے تاکہ اس دین کا سچا پن ہم کو معلوم ہوجائے اور سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ قریش میں کے چند آدمیوں نے کہا تھا کہ عذاب کے طور پر آسمان کا کوئی ٹکڑا بھی ہم پر گر پڑے تو بھی اس قرآن پر ایمان نہ لائیں گے غرض قریش کی ایسی ایسی باتوں کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے کہ ان لوگوں کی ڈھٹائی اب یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ قوم عاد یا قوم شعیب کی طرح آسمان پر کوئی عذاب کا بادل کا ٹکڑا بھی ان کو نظر آئے گا تو جب بھی انہیں عذاب کا یقین نہ آئے گا اور اس…
Read the full tafseer →(يَوْمَ لَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْــــًٔا) جس دن ان کی چالیں کم یا زیادہ) کچھ کام نہ آئیں گی۔ اگرچہ دنیا کے اندر انہوں نے سازشیں کیں اور ان کے ذریعے سے قلیل سے زمانے تک زندگی گزاری قیامت کے دن ان کی سازشوں کا تارو پود بکھر جائے گا ان کی دوڑ دھوپ رائیگاں جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہ سکیں گے (ولاھم ینصرون) اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔
Read the full tafseer →[ 59] قیامت کے روز منکرین کی بےبسی کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن نہ ان کو اپنا داؤ کچھ کام آسکے گا اور نہ ہی ان کی کہیں سے کوئی مدد کی جائے گی۔ سو جس مکرو فریب اور داؤ بازی کی آج یہ لوگ اس دنیا میں حق کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور اس کو اپنی بڑی دانش مندی اور قابلیت سمجھ رہے ہیں، اس ہوشرباون میں نہ تو ان کا ایسا کوئی داؤ چل سکے گا، اور نہ ان کی ایسی کوئی چالبازی ان کے کچھ کام آسکے گی۔ اور نہ ہی ان کے لئے باہر سے ایسی کوئی مدد آسکے گی، جو ان کے کچھ کام آسکے، سو اس دن ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اور بھرپور طریق سے بھگتنا ہوگا۔ اور نہ ہی ان کو اپنے ان مزعومہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–49
نبوت کے منکر عقل سے عاری
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
آیات 29 تا 49۔
اسرار ومعارف۔
آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
ف 6 اس سے مراد وہ عذاب بھی ہے جو بدر کے دن قید و بند اور قتل کی صورت میں کفار مکہ پر نازل ہوا اور وہ قحط سالی کا عذاب بھی جس میں سات برس مبتلا رہے اور عذاب قبر بھی۔ حضرت ابن عباس نے خاص طور پر عذاب قبر مراد لیا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(52:46) یوم لا یغنی : بدل ہے یومہم سے۔ یعنی وہ دن جب ان کی فریب کاری ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ لایغنی مضارع منفی واحد مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر ۔ کام نہ آئیگا۔ فائدہ نہیں پہنچائے گا، دفع نہیں کرے گا۔
کیدہم : مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی چال۔ ان کی تدبیر، ان کی فریب کاری۔
شیئا : یہ مفعول مطلق ہے یعنی کسی قسم کا فائدہ۔ (مفعول بہٖ نہیں ہے)
ولاہم ینصرون : اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ ینصرون مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ نصر (باب نصر) مصدر سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46
کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے)
مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔
تشریح آیت نمبر 29 تا 49
اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان کفار کی ڈھٹائی اب یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ قوم عاد یا قوم شعیب کی طرح آسمان پر کوئی عذاب کا بادل کا ٹکڑا بھی ان کو نظر آئے گا تو جب بھی انہیں عذاب کا یقین نہ آئے گا اور اس عذاب کے بادل کو جس طرح قوم عاد نے معمولی بادل بتلایا تھا ویسا ہی یہ کہیں گے کہ یہ تو کہیں کی ہوا یا بادل ہے اوپر تلے جمع ہوگئے ہیں اور غلیظ ہوکرابر کی صورت اختیار کرگئے ہیں اور اب بارش ہوگی پھر فرمایا کہ جب ان لوگوں کی سرکشی اس درجے کو پہنچ گئی تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے سمجھا نے اور نصیحت کرنے کا موقع اب باقی نہیں رہا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے پھر ان کو ان کی سرکشی کی سز امل جائے گی ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
[19] مراد روز قیامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
ف 2: غزوہ بدر کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ اس میں صنادید فریش کو چن چن کر مار ڈالا گیا ۔ اور ان کے سارے ناز اور غرور کو خاک میں ملادیا گیا ۔
Read the full tafseer →(46) اس دن ان کو ان کا مکرو فریب اور چالیں چلنی ان کو کچھ بھی فائدہ نہ پہنچا سکیں گی اور ان کے ذرا بھی کام نہآئیں گی اور نہ کہیں سے ان کو مدد پہنچے گی۔ یعنی جب ان کی سرکشی کی یہ حالت ہے تو ان سے کوئی توقع نہ رکھیئے اور ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ ان پر قیامت آجائے آگے قیامت کا ذکر فرمایا کہ اس دن ہوش و حواس صحیح نہ رہیں گے یا قبروں سے اٹھتے وقت اس دن کی ہولناکی کو دیکھ کر بےہوش ہوجائیں گے جیسا کہ سورة زمر کے آخر میں گزرچکا ہے اس دن ان کی چالیں بھی بیکار ہوجائیں گی اور مدد کی بھی کوئی شکل نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی نہ تو مخلوق کی طرف سے مدد ملے گی کہ اس کا امکان ہی نہیں، اور نہ خالق کی طرف سے کہ اس کا وقوع نہیں، یعنی اس روز کو حقیقت معلوم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →جس روز ان کی چالبازی ان کے کچھ کام نہیں آئے گی اور نہ ہی ان کو مدد پہنچے گی
46 ؎ ان لوگوں نے جتنی بھی چالیں چلیں وہ سب کی سب ان کے خلاف پڑھیں اور ان کو ان کی خفیہ تدبیروں نے ہلاک کر کے رکھ دیا لیکن اس کے باوجود وہ ان چالوں سے باز نہ آئے تا آنکہ موت نے آ کر ان کا کام تمام کردیا اور کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا نہ تو اس وقت جب ان کو ان کے ظلم کی پاداش میں ہلاک کیا گیا اور نہ ان کی موت کے وقت اور نہ ہی قیامت کے روز ان کی مدد کو کوئی پہنچے گا گویا ان کی ساری اسکیمیں دھری کی دھری رہ گئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
{ 1} It refers to the punishments faced by the disbelievers right in this world, like famines and the deterrent defeat in the battle of Badr. (Muhammad Taqi Usmani).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
36 This is meant to expose the stubbornness of the Quraish chiefs, on the one hand, and to console the Holy Prophet (upon whom be peace) and his Companions, on the other. The Holy Prophet and his Companions wished that those people should be shown such a miracle by Allah as should convince them of the truth of his Prophet hood. At this, it has been said: Whatever miracle they might see with their eyes, they will in any case misinterpret it and invent an excuse for persisting in disbelief, for their hearts are not at all inclined to believe. At several other places also in the Qur'an their…
Read the full tafseer →