Explained with ayahs 44–49
طے شدہ بدنصیب اور نشست و برخواست کے آداب
مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کرلینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہوگی یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے تو بھی انہیں تصدیق و یقین نہ ہوگا بلکہ صاف کہہ دیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آرہا ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ 14 ۙ) 15۔ الحجر :14) ، اگر ہم ان کے لئے آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور یہ وہاں چڑھ جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
سورة الطُّوْر 36
اس ارشاد سے مقصود ایک طرف سرداران قریش کی ہٹ دھرمی کو بےنقاب کرنا، اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دینا ہے۔ حضور اور صحابہ کرام کے دل میں بار بار یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی معجزہ ایسا دکھا دیا جائے جس سے ان کو نبوت محمدیہ کی صداقت معلوم ہوجائے۔ اس پر فرمایا گیا ہے کہ یہ خواہ کوئی معجزہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، بہرحال یہ اس کی تاویل کر کے کسی نہ کسی طرح اپنے کفر پر جمے رہنے کا بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے، کیونکہ ان کے دل ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں متعدد دوسرے مقامات پر بھی ان کی اس ہٹ دھرمی کا ذکر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–47
خلاصہ تفسیر
(جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(نذرھم حتی یلقوا یرمھم الذی یصعقون یوم لا یغنی عنھم کیدھم شیا ولا ھم ینصرون) (45، 46) مطلب یہ ہے کہ جب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ لوگ چال چل رہے ہیں تو اب ان کے درپے ہونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اب ان کو اس دن کے حوالے کرو جس دن صور اسرافیل سے ان پر غشی طاری ہوجائے گی۔ یہ اشارہ اس دن کی طرف ہے جسکے ہول کی تصویر سورة حج میں بدیں الفاظ میں کھینچی گئی ہے (وتری الناس سکری وما ھم یسکری ولکن عذاب اللہ شدید) (2) (اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے اور یہ مد ہوشی شراب کی نہیں ہوگی اور بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا)۔ (یوم لا یغنی عنھم کیدھم) الایۃ۔۔ فرمایا کہ اس دن نہ ان کی یہ چالیں کچھ کام آئیں گی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
44۔ 1 مطلب ہے کہ اپنے کفر وعناد سے پھر بھی باز نہ آئیں گے، بلکہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ عذاب نہیں، بلکہ ایک پر ایک بادل چڑھا آرہا ہے، جیسا کہ بعض موقعوں پر ایسا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
14: یعنی آخرت کا جو عذاب ہونے والا ہے اس سے پہلے دنیا میں بھی کافروں کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، چنانچہ ان میں سے بہت سے جنگ بدر وغیرہ میں مارے گئے، اور آخر کار جزیرہ عرب میں ان کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
یہ مخالفین پر ایک نیا تنقیدی حملہ ہے۔ اس کا آغاز ایک شدید دھمکی اور تہدید سے ہوتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ مار گرائے جائیں گے اور یہ واقعہ حشر ونشر اور قیامت میں اٹھانے سے قدرے پہلے ہوگا۔ اس دن ان کی کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ آج تو یہ لوگ تحریک اسلامی کے خلاف کچھ نہ کچھ تدابیر کرتے ہیں لیکن اس دن کوئی تدبیر ان کے کام نہ آئے گی۔ قیامت سے پہلے بھی ان پر عذاب آنے والا ہے لیکن ان کو پتہ نہیں ہے۔
اس آخری دھمکی کے بعد مکذبین کے معاملے میں یہ حملہ فارغ ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل اس سورت نے ان کا خوب تعاقب کیا اور سخت حملے ان پر کئے اور آخر میں کہہ دیا کہ قریبی عذاب بھی ان کے انتظار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
11 یعنی ایسے معاندوں کے پیچھے پڑنے کی زیادہ ضرورت نہیں۔ چھوڑ دیجیے کہ چند روز اور کھیل لیں اور باتیں بنالیں۔ آخر وہ دن آتا ہے جب قہر الٰہی کی کڑک بجلی سے ان کے ہوش و حواس جاتے رہیں گے۔ اور بچاؤ کی کوئی تدبیر کام نہ دے گی، نہ کسی طرف سے مدد پہنچے گی .
Read the full tafseer →آیت 45{ فَذَرْہُمْ حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ فِیْہِ یُصْعَقُوْنََ۔ } ”تو اے نبی ﷺ ! چھوڑے رکھیے ان کو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس میں ان پر بجلی کی کڑک گرے گی۔“
”چھوڑ دینے“ کے مفہوم میں یہ حکم ابتدائی زمانے کی سورتوں میں تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ جیسے سورة المعارج میں فرمایا گیا : { فَذَرْھُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَھُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۔ } ”تو اے پیغمبر ﷺ ! ان کو باطل میں پڑے رہنے اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آموجود ہو“۔ سورة القلم میں فرمایا گیا : { فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّـکَذِّبُ بِھٰذَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
38 اس سے مراد نفخہ صور اول ہے۔ یعنی ان لوگوں یا ان جیسے ہٹ دھرم لوگوں کی بدبختی کا یہ عالم ہے کہ اگر انہیں قیامت تک زندگی مل جائے تو بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں ان باتوں کا یقین تب ہی آئے گا جب عذاب خود ان پر واقع ہوجائے گا۔ لہذا آپ ایسے لوگوں کے پیچھے نہ پڑیں۔ بس اپنا کام کرتے جائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
22۔ (اور اسی دن انہیں حقیقت حال معلوم ہو کر رہے گی۔ اس کے ادھر نہیں) (آیت) ” فذرھم “۔ یعنی ان کے باب میں اب زیادہ فکر وتردد کو کام میں نہ لائیے اور انہیں ان کے حال پر چھوڑے ہوئے رہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔
ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…
Read the full tafseer →فدرھم حتی یلقوا یومھم الذی فیہ یصعقون
تو آپ ان کو رہنے دیجئے یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ ہو جس میں ان کے ہوش اڑ جائیں گے
فَذَرْھُمْ : ان کو چھوڑ دیجئے یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کی درخواست نہ کیجئے۔
یَوْمَھُمْ : یعنی یوم عذاب یعنی جس روز کہ اللہ ان کو ہلاک کر دے گا۔
بیضاوی نے لکھا ہے اس سے مراد ہے پہلی بار صور پھونکنے کا دن۔ میں کہتا ہوں یہ تشریح غلط ہے کیونکہ ان مشرکوں کو نفخۂ اوّل تک چوڑے رکھنے کا کوئی معنی نہیں ہیں بلکہ یوم موت مراد ہے۔ یعنی موت کے دن تک ان کو چھوڑ دیجئے۔
شَیْءًا : یہ مفعول مطلق ہے یعنی کسی قسم کا فائدہ (مفعول بہ نہیں ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(45۔ 46) اے محمد آپ ان کو چھوڑیے یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ مریں گے۔
Read the full tafseer →(فذرھم حتی یلقوا یومھم الذی فیہ یصعقون…: اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جب صورت میں پھونک کے ساتھ سب لوگ بےہوش ہو کر مرجائیں گے۔ (دیکھیے سورة زمر : 68) میزید دیکھیے سورة زخرف (83) اور سورة معارج (42، 43)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فذٓرھم یہ آیت سیف سے منسوخ ہے۔ حتی یلقوا یومھم الذین فیہ یصعقون۔ یاء کے فتحہ کے ساتھ عام قرأت ہے۔ ابن عامر اور عاصم نے یاء کے ضمہ کے ساتھ اسے پڑھا ہے۔ فراء نے کہا، دو لغتیں ہیں صعق، صعق جس طرح سعد، سعد ہے۔ قتادہ نے کہا، جس روز وہ مریں گے (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد یوم بدر ہے۔ ایکق ول یہ کیا گیا ہے : مراد نفخہ الوی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد یوم قیامت ہے جس میں ایسا عذاب آئے گا جو ان کی عقلوں کو زائل کر دے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اصمقہ اللہ سے یاء کے ضمہ کے ساتھ یصعقون ہے۔
یوم لایغنی عنھم کیدھم شیئاً یعنی دنیا میں جو وہ نیب کریم ﷺ کے ساتھ خفیہ تدبیر کرتے رہے۔ ولاھم ینصرون۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔
6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…
Read the full tafseer →فَذَرْهُمْ [ تو آپ چھوڑیں ان کو ] حَتّٰى يُلٰقُوْا [ یہاں تک کہ وہ لوگ ملاقات کریں ] يَوْمَهُمُ الَّذِيْ [ اپنے اس دن سے ] فِيْهِ يُصْعَقُوْنَ [ جس میں ان پر بجلی گرائی جائے گی ]
Read the full tafseer →اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرمایا ﴿ فَذَرْهُمْ حَتّٰى يُلٰقُوْا يَوْمَهُمُ الَّذِيْ فِيْهِ يُصْعَقُوْنَۙ0045﴾ (آپ ان کو چھوڑیں ان کی طرف التفات نہ فرمائیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس میں یہ لوگ بےہوش ہوجائیں گے) بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے یوم بدر مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نفخہ اولیٰ مراد ہے (یعنی جب صور پھونکا جائے گا اس میں بےہوشی ہوگی، اس دن تک انہیں چھوڑے ركھئے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔
(ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
22:۔ ” فذرھم “۔ یومہم سے نفخہ اولی کا دن مراد ہے جس سن کر سب پر بےہوشی طاری ہوجائے گی (مدارک) ۔ آپ ان سے اعراض فرمائیں اور اس دن کا انتظار فرمائیں۔ جب دہشت و خوف سے ان پر حقیقت طاری ہوگی اس دن ان پر حقیقت حال واضح ہوجائے گی لیکن اب اس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس دن عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے ان کا کوئی حیلہ کامیاب نہ ہوسکے گا اور نہ ان کو اپنے خود ساختہ معبودوں، گمراہ کرنے والے پیشواؤں اور دیگر سفارشیوں کی طرف ہی سے کچھ مدد مل سکے گی اور وہ کسی بھی طرح سے خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–49
ربط آیات
پہلے رسالت کے متعلق بیان ہوچکا ہے کہ مشرک اور کافر لوگ اللہ کے نبی کو کبھی کاہن کہتے ، کبھی شاعر اور کبھی العیاذ باللہ دیوانہ کہتے ۔ اللہ نے ان کے اس غلط نظریے کی تردید کی اور فرمایا کہ یہ تو خود بےعقل لوگ ہیں جو حق و باطل میں تمیز ہی نہیں کرتے۔ کفار قرآن کو وحی الٰہی بھی تسلیم نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تو اس مدعی نبوت کا خود ساختہ کلام ہے ۔ اللہ نے چیلنج کیا کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو تم بھی ایسا کلام پیش کر کے دکھائو ۔ پھر ان لوگوں کے انکار کی بعض ممکنہ وجوہات کا تذکرہ فرمایا کہ کیا یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا کوئی خالق نہیں ہے ، یا ان کی تخلیق بےمقصد ہے یا ان کے پاس…
Read the full tafseer →فَذَرْہُمْ حَتّٰى يُلٰقُوْا يَوْمَہُمُ الَّذِيْ فِيْہِ يُصْعَقُوْنَ 45 ۙ
وذر
[يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی:
قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
1 ؎ جس کا ان پر بوجھ پڑا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فَذَرْھُمْ حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ فِیْہِ یُصْعَقُوْنَ ۔ یَوْمَ لاَ یُغْنِیْ عَنْھُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا وَّلاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ (الطور : 45، 46)
(پس اے نبی ! انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے، یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس دن ان کے ہوش جاتے رہیں گے۔ جس دن نہ ان کی اپنی کوئی چال ان کے کسی کام آئے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ )
یعنی جب یہ بات کھل گئی کہ یہ درحقیقت اپنی سخن سازیوں کے پردے میں اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کیخلاف کوئی چال چل رہے ہیں تو اب ان کو سمجھانے بجھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اب ان کو اس دن کے حوالے کردیجیے جس دن صوراسرافیل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کی ہٹ دھرمی کی انتہا۔
اللہ تعالیٰ نے واضح دلائل اور سخت ترین تنبیہات کے ذریعے اہل مکہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ رسول ﷺ پر ایمان لائیں، آخرت پر یقین رکھیں اور صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ لیکن مشرک اس قدر ہٹ دھرم ہوتا ہے کہ وہ ان باتوں کو کسی صورت بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی ان حالات میں یہ ارشاد ہوا کہ ان لوگوں پر اگر آسمان کا کوئی حصہ گرا دیا جائے تو اسے نیچے آتے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو گھنے بادلوں کا ٹکڑا ہے۔ لہٰذا ان کو انہی کے حال پر چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ کہ وہ دن آپہنچے جس دن یہ بےہوش کردیئے جائیں گے۔ اس دن نہ ان کا مکرو فریب…
Read the full tafseer →آیت 45 : فَذَرْہُمْ حَتّٰی یُلٰقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ فِیْہِ یُصْعَقُوْنَ (تو آپ ان کو رہنے دیجئے۔ یہاں تک کہ ان کو اپنے اس دن سے سابقہ ہو جس میں ان کے ہوش اڑ جائیں گے)
قراءت : عاصم و شامی ٗ نے یصعقون ضمہ یاء سے پڑھا۔ جبکہ باقی قراء نے یاء کا فتحہ پڑھا۔ کہا جاتا ہے۔ صعقہٗ فصعق۔ اس کو بےہوش کیا پس وہ بےہوش ہوگیا اور یہ نفخہ اولیٰ کے وقت جو کہ نفخہ صعق ہے۔
Read the full tafseer →44 ۔” وان یروا کسفا “ ٹکڑا۔ ” من السماء ساقطا “ یہ جواب ہے ان کے قول ” فاسقط علینا کسفا من السمائ “ کا۔ فرماتے ہیں اگر ہم ان کو عذاب دے دیں آسمان کے بعض حصہ کا ان پر گرا کر تو وہ اپنے کفر سے باز نہ آئیں گے۔ ” یقولوا “ اپنی ضدوعناد کی وجہ سے۔ ” سحاب مرکوم “ تہ بتہ ہم پر بر سے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
44۔ 47۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر قرآن اور یہ دین سچا ہے تو اللہ ہم پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسائے یا کوئی اور عذاب بھیج دے تاکہ اس دین کا سچا پن ہم کو معلوم ہوجائے اور سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ قریش میں کے چند آدمیوں نے کہا تھا کہ عذاب کے طور پر آسمان کا کوئی ٹکڑا بھی ہم پر گر پڑے تو بھی اس قرآن پر ایمان نہ لائیں گے غرض قریش کی ایسی ایسی باتوں کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا ہے کہ ان لوگوں کی ڈھٹائی اب یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ قوم عاد یا قوم شعیب کی طرح آسمان پر کوئی عذاب کا بادل کا ٹکڑا بھی ان کو نظر آئے گا تو جب بھی انہیں عذاب کا یقین نہ آئے گا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
اللہ تبارک وتعالی ان آیات میں فرماتا ہے کہ مشرکین جو واضح حق کو جھٹلاتے ہیں انہوں نے حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور باطل پر نہایت سختی سے جم گئے ہیں نیز بیان فرمایا کہ اگر حق کے اثبات کے لیے ہر قسم کی دلیل قائم کردی جائے تو پھر بھی وہ اس کی اتباع نہیں کریں گے بلہ اس کی مخالفت کرتے رہیں گے اور اس سے عناد رکھیں گے (وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ سَاقِـطًا) یعنی اگر وہ بہت بڑی نشانیوں میں سے آسمان کا ٹکڑا عذاب بن کر گرتا دیکھیں گے ( يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ) تو کہیں گے یہ تو عام عادت کے مطابق گہرا بادل ہے یعنی وہ جن آیت الہی کا مشاہدہ کریں گے ان کی پروا کریں گے نہ ان سے…
Read the full tafseer →[ 57] ہٹ دھرموں سے اعراض و روگردانی کا حکم و ارشاد :
سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو چھوڑ دو ان کے حال پر، اور نہ ان کی پرواہ کریں، اور نہ ہی ان کی وجہ سے غم کھائیں۔ { افمن زین لہٗ سوئُ عملہ فراہ حسناً ط فان اللّٰہ یضل من یشآئُ ویھدی من یشآئُ ز فلا تذھب نفسک علیہم حسرتٍ ط انَّ اللّٰہ علیہم م بما یصنعون } [ فاطر : 8 پ 22] ۔ کہ منوالینا اور حق بات کو دل میں اتار دینا نہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے بس میں ہے یعنی جب ان کی ہٹ دھرمی واضح ہوگئی اور یہ حق بات کو ماننے اور قبول کرنے کے لئے کسی بھی طرح تیار نہیں ہو رہے، تو ایسوں کے پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–49
نبوت کے منکر عقل سے عاری
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
آیات 29 تا 49۔
اسرار ومعارف۔
آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
ف 6 اس سے مراد وہ عذاب بھی ہے جو بدر کے دن قید و بند اور قتل کی صورت میں کفار مکہ پر نازل ہوا اور وہ قحط سالی کا عذاب بھی جس میں سات برس مبتلا رہے اور عذاب قبر بھی۔ حضرت ابن عباس نے خاص طور پر عذاب قبر مراد لیا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(52:45) ذرھم۔ ذر : امر واحد مذکر حاضر۔ وذر (باب سمع، فتح) مصدر بمعنی چھوڑنا۔ اس کا صرف مضارع یا امر استعمال ہوتا ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تو ان کو چھوڑ۔ پس ان کو چھوڑ دو ۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ویذرہم فی طغیانھم یعمھون (7:186) اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں پڑے جھٹکتے رہیں۔
حتی یلقوا : حتی وقت کی انتہا کے اظہار کے لئے ہے ۔ یہاں تک۔ یلقوا مضارع منصوب بوجہ عمل حتی۔ جمع مذکر غائب، ملاقاۃ (مفاعلۃ) مصدر (حتی کہ) وہ پالیں ۔ وہ مل جائیں۔ لقی مادہ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط (7:40) یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46
کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے)
مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔
تشریح آیت نمبر 29 تا 49
اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان کفار کی ڈھٹائی اب یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ قوم عاد یا قوم شعیب کی طرح آسمان پر کوئی عذاب کا بادل کا ٹکڑا بھی ان کو نظر آئے گا تو جب بھی انہیں عذاب کا یقین نہ آئے گا اور اس عذاب کے بادل کو جس طرح قوم عاد نے معمولی بادل بتلایا تھا ویسا ہی یہ کہیں گے کہ یہ تو کہیں کی ہوا یا بادل ہے اوپر تلے جمع ہوگئے ہیں اور غلیظ ہوکرابر کی صورت اختیار کرگئے ہیں اور اب بارش ہوگی پھر فرمایا کہ جب ان لوگوں کی سرکشی اس درجے کو پہنچ گئی تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے سمجھا نے اور نصیحت کرنے کا موقع اب باقی نہیں رہا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے پھر ان کو ان کی سرکشی کی سز امل جائے گی ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
[19] مراد روز قیامت ہے۔
Read the full tafseer →ف 1: یعنی ان لوگوں کی دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے ۔ کہ اگر عذاب الٰہی کو برملا دیکھ لیں ۔ جب بھی نہ مانیں فرمایا : آپ ان لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیجئے ۔ ایک دن آنے والا ہے ۔ جب ان کے ہوش اڑجائیں گے ۔ اور معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اب عذاب آگیا ہے ۔ اور ہماری تمام تدبیریں ناکام ہیں ۔ اور اب یہ بھی ممکن نہیں ۔ کہ کوئی دیوتا ہماری اس آڑے وقت میں مدد کرسکے ۔
Read the full tafseer →(45) پس اے پیغمبر آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑئیے یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے ملاقات کریں اور مشاہدہ کرلیں جس دن میں ان کے ہوش گم کردیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
ف 2۔ مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →45 ؎ (یصعلون) کی اصل صعق ہے اور صعق کے دو معنی ہیں ایک بےہوش ہونا یا کسی زور دار آواز کا سن کر مثل کا مخل ہوجانا اور دوسرے معنی ہیں ہلاک ہونا اور مر جانا یعنی وہ لوگ ہلاک ہوں گے یا وہ لوگ مر جائیں گے۔ مفسرین میں سے بعض نے پہلے معنی مراد لئے ہیں اور بعض نے دوسرے لیکن جب صعق کے دونوں معنی صحیح ہیں تو اب ہم کو معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ صعق جس روز ہوگا وہ روز کون سا روز ہوگا ؟ سو اس دن سے مراد قیامت کا دن بھی لیا گیا ہے اور ہر انسان کی موت کا مقرر دن بھی۔ اس لئے اس دن کے فیصلہ کے ساتھ اس کی حالت کا فیصلہ بھی آسانی سے ہو سکتا ہے۔ اگر اس سے مراد قیامت کا روز ہے تو ظاہر ہے کہ وہ تو وہی لوگ دیکھیں گے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
{ 1} It refers to the punishments faced by the disbelievers right in this world, like famines and the deterrent defeat in the battle of Badr. (Muhammad Taqi Usmani).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
36 This is meant to expose the stubbornness of the Quraish chiefs, on the one hand, and to console the Holy Prophet (upon whom be peace) and his Companions, on the other. The Holy Prophet and his Companions wished that those people should be shown such a miracle by Allah as should convince them of the truth of his Prophet hood. At this, it has been said: Whatever miracle they might see with their eyes, they will in any case misinterpret it and invent an excuse for persisting in disbelief, for their hearts are not at all inclined to believe. At several other places also in the Qur'an their…
Read the full tafseer →