وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰی ۟ۙوَالنَّجۡمِ اِذَا هَوٰىۙ
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the star when it descends,
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
The Star · Meccan · 62 ayahs · 3 rukus
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰی ۟ۙوَالنَّجۡمِ اِذَا هَوٰىۙ
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the star when it descends,
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
قسم ہے تارے کی جبکہ وہ غروب ہوا
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
قسم ہے ستارے کی جب وه گرے
قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے۔
اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم! جب یہ معراج سے اترے
قَسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب وہ (چشمِ زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اترے،
قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے !
ستارے کی قسم جب وہ ڈوبنے لگے۔
(شاہد ہیں ستارے جب کہ وہ گرتے ہیں
قسم ہے تارے کی جب کہ وہ ڈوبنے لگے
قسم ہے ستارہ کی جب وہ ڈوبنے لگے
قسم ہے ستارے کی جبکہ وہ گرتا ہے۔
تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے
By the star when it sets:
By the star when it goes down to set,
By the star when it goes down to set,
By the star when it goes down.
By the Star when it setteth,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
By the star when it descends,
By the declining star,
I swear by the star when it goes down.
By the star when it setteth.
By the Star when it goes down,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–4
حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 1 اصل میں لفظ " النّجم " استعمال ہوا ہے۔ ابن عباس، مجاہد اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس سے مراد ثریا (Pleiades) ہے۔ ابن جریر اور زمخشری نے اسی قول کو ترجیح دی ہے، کیونکہ عربی زبان میں جب مطلقاً النجم کا لفظ بولا جاتا ہے تو عموماً اس سے ثریا ہی مراد لیا جاتا ہے۔ سدی کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ (Venus) ہے۔ اور ابو عبیدہ نجوی کا قول ہے کہ یہاں النجم بول کر جنس نجوم مراد لی گئی ہے، یعنی مطلب یہ ہے کہ جب صبح ہوئی اور سب ستارے غروب ہوگئے۔ موقع و محل کے لحاظ سے ہمارے نزدیک یہ آخری قول زیادہ قابل ترجیح ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر قسم ہے ستارہ کی جب وہ غروب ہونے لگے (یعنی کوئی بھی ستارہ ہو اور اس قسم میں مضمون جواب قسم مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى کے ساتھ ایک خاص مناسبت ہے، یعنی جس طرح ستارہ طلوع سے غروب تک اس تمام تر مسافت میں اپنی باقاعدہ رفتار سے ادھر ادھر نہیں ہوا اسی طرح آپ اپنی عمر بھر ضلال وغوایت سے محفوظ ہیں اور نیز اشارہ ہے اس طرف کہ جیسے نجم سے ہدایت ہوتی ہے، اسی طرح آپ سے بھی بوجہ عدم ضلال و عدم غوایت کے ہدایت ہوتی ہے اور چونکہ ستاروں کے وسط سماء میں ہونے کے وقت کسی سمت کا اندازہ نہیں ہوتا، اس لئے اس وقت ستارے سے راستہ کا پتہ نہیں لگتا، اس لئے اس میں قید لگائی غروب کے وقت کی اور گو قرب من…
Read the full tafseer →1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت (والنجم اذا ھوی) (1)۔۔۔۔ (النجم سے مراد) النجم سے عام طور پر مفسرین نے ثریا کو مراد لیا ہے، لیکن اس کا کوئی قرینہ نہیں ہے، اس سے زیادہ واضح قرینہ تو شعریٰ کا ہوسکتا ہے جس کا ذکر اسی سورة میں آگے آیا ہے لیکن اس کو مراد لینے کا بھی، جیسا کہ وضاحت آئے گی، یہاں کوئی محل نہیں ہے، ہمارے نزدیک یہ اسم جنس کے مفہوم میں ہے جس طرح (وبا النجم ھم یھتدون) (النحل : 2) (اور ستاروں سے وہ ہنمائی حاصل کرتے ہیں) یا (والنجم والشجر یسجدن) (الرحمن 6) (اور ستارے اور درخت سجدہ کرتے ہیں) اور اس نوع کی دوسری آیات میں جگہ جگہ قرآن میں آیا ہے۔ (ھوی یھوی کا مفہوم) ھوی یھوی کے اصل معنی…
Read the full tafseer →یہ پہلی سورت ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے کفار کے مجمع عام میں تلاوت کیا، تلاوت کے بعد آپ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے پیچھے جتنے لوگ تھے، سب نے سجدہ کیا، ماسوائے امیہ بن خلف کے، اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اس پر سجدہ کیا۔ چناچہ یہ کفر کی حالت میں ہی مارا گیا (صحیح بخاری، تفسیر سورة نجم) بعض طریق میں اس شخص کا نام عتبہ بن ربیعہ بتلایا گیا ہے (تفسیر ابن کثیر) واللہ اعلم۔ حضرت زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس سورت کی تلاوت آپ ﷺ کے سامنے کی، آپ ﷺ نے اس میں سجدہ نہیں کیا (صحیح بخاری، باب مذکور) اس کا مطلب یہ ہوا کہ سجدہ کرنا مستحب ہے، فرض نہیں۔ اگر کبھی چھوڑ بھی دیا جائے تو جائز ہے۔ 1۔ 1 بعض مفسرین نے ستارے سے…
Read the full tafseer →1: ستارے کے گرنے سے مراد اس کا غائب ہونا ہے، جیسا کہ سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، اس سورت کا اصل موضوع حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت کو ثابت کرنا ہے، اس لئے سورت کے شروع میں آپ پر نازل ہونے والی وحی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک قابل اعتماد فرشتہ آپ کے پاس لے کر آتا ہے، شروع میں ستارے کی قسم کھانے سے اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح ستارہ روشنی کی ایک علامت ہے اور عرب کے لوگ اس سے صحیح راستے کا پتہ لگاتے تھے، اسی طرح حضور اقدس ﷺ لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت کا پیکر ہیں، اس کے علاوہ ستارے کے سفر کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو راستہ مقرر فرمایا ہے وہ اس سے بال برابر بھی ادھر ادھر نہیں…
Read the full tafseer →اس پیراگراف میں ہم نہایت ہی بلند روشن اور پھڑپھڑانے والے افق پر ہیں جہاں حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک نے چند خوبصورت اور نورانی لمحات عالم بالا کے ساتھ گزارے۔ ایک نہایت ہی نرم ، دھیمی موجوں پر مشتمل اور ترکیب پانے والے ترنم ہیں۔ ہم ان پر کیف لمحات کے رنگ ڈھنگ اور اشارات سنتے ہیں۔ الفاظ ان کی موسیقیت اور ماحول سب ہی پر کیف ہیں۔ یہ واردات قلب محمد ﷺ کے وہ وہ لمحات ہیں جن میں آپ کی نظروں کے سامنے سے تمام حجابات ہٹا دیئے گئے ہیں اور آپ عالم بالا سے ہدایات اور وحی لے رہے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور سن رہے ہیں۔ آپ کا قلب حفظ کررہا ہے۔ یہ لمحات کیسے تھے اس کا صحیح احساس تو صیقل شدہ قلب محمد ہی کو ہوگا لیکن…
Read the full tafseer →3 یعنی غروب ہو۔
Read the full tafseer →آیت 1{ وَالنَّجْمِ اِذَا ہَوٰی۔ } ”قسم ہے ستارے کی جبکہ وہ گرتا ہے۔“ ھَوٰی یَھْوِیْ ھَوِیًّا کا اصل معنی ہے اوپر سے نیچے گرنا۔ یہاں اس سے ستاروں کا افق سے غائب ہونا ‘ ڈوب جانا یا فنا ہوجانا مراد ہوسکتا ہے۔ اس پر قدرے تفصیلی بحث سورة الواقعہ میں ”مَوَاقِعِ النُّجُوْم“ کے ضمن میں آئے گی۔ الْھَوِیَّۃ گہرے کنویں کو اور ھَاوِیَۃ دوزخ کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ اسی مادہ سے ھَوِیَ یَھْوٰی ھَوًی کا معنی ہے خواہش کرنا۔ یہ لفظ الھَوٰی آگے آیت 3 میں آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →1 بعض علماء نے (ألْنَّجْمُ ) سے مراد زہرہ لیا ہے بعض نے ثریا اور بعض نے اس سے مراد ستاروں کی جنس لی ہے۔ یعنی اس وقت کی قسم جب ستارے غائب ہوجاتے ہیں اور دن کی روشنی پھیل جاتی ہے۔ یا ان ستاروں کی قسم جو اپنی مقررہ راہ ہی پر چلتے رہتے ہیں کبھی ادھر ادھر نہیں ہٹتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ یعنی جس طرح ستارہ طلوع سے غروب تک ساری مسافت میں اپنی باقاعدہ رفتار قائم رکھتا ہے اور ذرا ادھر سے ادھر نہیں ہوتا، اسی طرح یہ پیغمبرامین ساری عمرضلال وغوایت کے اثر سے محفوظ رہے اور افراط وتفریط دونوں سے الگ، ٹھیک حق کی صراط مستقیم پر قائم ہیں (آیت) ” والنجم “۔ ستارہ سے مراد یہاں ستارہ کی جنس ہے، تو بعض نے ستارہ ثریا سے مراد لی ہے۔ الثریا اوجنس النجوم (کشاف) اقسم بالثریا اوبجنس النجوم (مدارک) ستارہ گو اپنی باقاعدہ رفتار سے ادھر ادھر جس طرح طلوع سے غروب تک نہیں ہوتا اسی غروب سے طلوع تک بھی نہیں ہوتا۔ لیکن یہ دوسری کیفیت مرئی ومحسوس نہیں۔ اور وہ پہلی کیفیت مشاہد ہے۔ اس لئے ذکر اسی قید کے ساتھ…
Read the full tafseer →ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے، قسم ہے ثریا ستارے کی جب گرے یعنی غائب ہو تمہارا ساتھی محمد ﷺ راہ ہدایت سے نہ بہکا اور نہ بھٹکا یعنی اس نے (اعتقاداً ) کج روی اختیار نہیں کی اور وہ (ینی غی) اعتقاد فاسد سے پیدا ہونے والا جہل ہے، اور جو کچھ وہ تم سے بیان کرتے ہیں اور پانی خواہش نفس سے بیان نہیں کرتے وہ تو صرف وحی ہے جو اس کی طرف نازل کی جاتی ہے اس وحی کی ان کو ایک فرشتہ نے تعلیم دی ہے، جو بڑا طاقتور ہے اور زور آور ہے یعنی قوت و شدت والا ہے، یا حسین المنظر ہے یعنی جبرئیل (علیہ السلام) پھر وہ سیدھا کھڑا ہو کر ٹھہر گیا حال یہ ہے کہ وہ مشرق کی بالائی افق پر…
Read the full tafseer →و النجم اذا ھوٰی . قسم ہے (مطلق) ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے۔ والبی اور عوفی کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب ثریا گرجائے (غائب ہوجائے) ھوٰی کا معنی ہے غائب ہوجانا۔ عرب ثریا کو النجم کہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت ہے (کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) زمین پر جو آفت ارضی (کیڑے مکوڑے وغیرہ) ہوتی ہے۔ نجم یعنی ثریا کے نکلنے ہی وہ جاتی رہتی ہے۔ (رواہ البغوی) امام احمد کی روایت میں ہے ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی (ارضی) آفت برپا ہو اور نجم صبح کو نکلے اور وہ آفت دور نہ کردی گئی ہو یا ہلکی نہ کردی گئی ہو۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ مجاہد نے کہا آسمان کے سب ستارے مراد ہیں۔ النجم میں الف لام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی قسم کھا کر فرماتا ہے جب کہ قرآن حکیم کو بذریعہ جبریل امین رسول اکرم پر قسط وار ایک ایک دو دو تین تین اور چار چار آیتیں کر کے پورے بیس سال میں نازل فرمایا جب آیت نازل ہوئی تو عتبہ بن ابی لہب نے سنا کہ محمد قرآن حکیم کے حصوں کی قسم کھاتے ہیں تو اس نے کہا کہ محمد کو یہ بات پہنچا دو کہ میں قرآن کریم کے حصوں کا انکار کرتا ہوں، جبکہ ان لوگوں نے آپ کو یہ بات پہنچائی تو آپ نے فرمایا الہ العالمین اپنے درندوں میں سے کوئی درندہ اس پر مسلط کردے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حران کے قریب ایک شیر کو اس پر مسلط کردیا تو اس شیر نے اسے اس کے ساتھیوں میں سے نکال کر قریب ہی سر سے لے کر…
Read the full tafseer →(1) والنجم اذا ھویٰ :”النجم“ ستارہ۔”الف لام“ تعریف کیلئے ہو تو مراد ”ثریا“ ہے کیونکہ عرب کے ہاں ”النجم“ بول کر ”ثریا“ مراد لینا معروف ہے اور اگر ”الف لام“ جنس کے لئے ہو تو ستاروں کی جنس مراد ہے، خواہ کوئی ہوں اور یہاں جنس مراد لینا زیادہ مناسب ہے۔“”ھوی یھوی ھویاً“ (ض) کا معنی جکرنا اور غروب ہونا بھی آتا ہے اور چڑھنا اور طلوع ہونا بھی اور ”ھوی یھوی ھوی“ (س) کا معنی ہے محبت کرنا۔ (2) قرآن مجید کی قسمیں اپنے جواب قسم کی شہادت کے طور پر لائی جاتی ہیں اورق سم اور جواب قسم میں معنوی طور پر مناسب ہوتی ہے۔ یہاں ”والنجم اذا ھویٰ“ میں مذکور قسم بعد کی آیت ”ماضل صاحبکم وما غوی“ کے دعویٰ کی شہادت کے طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
والنجم اذا ھویٰ ۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا، والنجم اذا ھوی ٰ سے مراد ہے ثریا جب فجر کے ساتھ غروب ہوجائے۔ عرب ثریا کو نجم کہتے ہیں اگرچہ تعداد میں یہ نجوم ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سات ستارے ہیں ان میں سے چھ ظاہر ہیں اور ایک مخفی ہے جس کے ساتھ لوگ اپنی نظروں کا امتحان کرتے ہیں۔ قاضی عیاض کی ” الشفا “ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ثریا میں گیارہ ستارے دیکھا کرتے تھے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : معنی ہے قسم ہے قرآن کی جب وہ نازل ہو (1) کیونکہ وہ آیات درآیات نازل ہوتا تھا، یہ فراء کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : مراد تمام ستارے ہیں جب وہ غروب ہوں، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے فرمایا : اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' (قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے ثریا (ستارہ) ہے جب وہ غائب ہوجائے اور ایک روایت میں یوں ہے جب وہ فجر کے ساتھ ساقط ہوجائے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ثریا جب واقع ہوجائے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' سے مراد ہے قسم ہے ثریا کی جب وہ لٹک جائے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' یعنی قسم ہے ثریا (ستارہ) کی جب وہ بلند ہوجائے۔ 4:۔ عبدالرزاق (رح) نے حسن (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →وَالنَّجْمِ [قسم ہے ستارے کی ] اِذَا هَوٰى [ جب وہ اترتا (ڈوبتا ) ہے ] ترکیب : آیت ۔ 1 ۔ میں ھوی اور آیت ۔ 3 میں الھوی میں جو فرق ہے اس کو سمجھ لیں ۔ مادہ ” ھ و ی “ کی لغت آیت نمبر ۔ 2:87 ۔ میں دی ہوئی ہے ۔ اس حوالے سے نوٹ کریں کہ یہ مادہ جب باب ضرب سے آتا ہے تو فعل ماضی کا پہلی صیغہ ھوی بنتا ہے جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہوکر ھوی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں وہ اترا۔ آیت زیر مطالعہ میں اذا کے ساتھ آیا ہے اس لیے معنی ہیں جب وہ اترتا ہے ۔ یہی مادہ جب باب سمع سے آتا ہے تو اس کے فعل ماضی کا پہلا صیغہ ھوی بنتا ہے اور یہ تبدیلی کے بغیر استعمال ہوتا ہے اس کا مصدر ھوی ہے جو قاعدے کے مطابق تبدیل ہوکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
رسول اللہ ﷺ صحیح راہ پر ہیں، اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے، وحی کے مطابق اللہ کا کلام پیش کرتے ہیں، آپ نے جبرائیل کو دو بار ان کی اصلی صورت میں دیکھا یہاں سے سورة النجم شروع ہے اس کے پہلے رکوع کے اکثر حصہ میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور وحی کی حفاظت اور وحی لانے والے فرشتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی قوت اور ان کی رؤیت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا ﴿ وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۙ001﴾ (قسم ہے ستارہ کی جب غروب ہونے لگے) ۔ ﴿ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ002﴾ (تمہارا ساتھی نہ راہ سے بھٹکا ہے اور نہ غلط راستہ پر پڑا ہے) ۔ ﴿وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ003﴾ (اور وہ اپنی نفسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” والنجم۔ تا۔ الکبری “ یہ تمہید ہے برائے اثبات و صداقت رسول اللہ ﷺ ۔ ” ما ضل “ جواب قسم ہے۔ ” ضلال “ یعنی راستہ نہ ملنا اور ” غوایۃ “ راستہ ملنے کے بعد بھٹک جانا۔ الضلال ضد الھدایۃ والھی ضد الرشد یعنی ھو مھتد راشد (مظہری ج 9 ص 104) ۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ نیچے گرتا ہے یعنی غروب ہوتا ہے۔ محمد ﷺ غلط راہ پر نہیں ہیں، بلکہ راہ راست پر قائم ہیں۔ یعنی ستارے کا نیچے آنا شاہد ہے کہ نبی کریم ﷺ پر آسمان سے فرشتہ اترتا اور وحی لاتا ہے اور آپ کا یہ فرمانا کہ مجھ پر وحی آتی ہے غلط نہیں اور نہ بعید از قیاس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…
Read the full tafseer →وَالنَّجْمِ اِذَا ہَوٰى 1 ۙ نجم أصل النَّجْم : الكوكب الطالع، وجمعه : نُجُومٌ ، ونَجَمَ : طَلَعَ ، نُجُوماً ونَجْماً ، فصار النَّجْمُ مرّة اسما، ومرّة مصدرا، فَالنُّجُوم مرّة اسما کالقلُوب والجُيُوب، ومرّة مصدرا کالطُّلوع والغروب، ومنه شُبِّهَ به طلوعُ النّبات، والرّأي، فقیل : نَجَمَ النَّبْت والقَرْن، ونَجَمَ لي رأي نَجْما ونُجُوماً ، ونَجَمَ فلانٌ علی السّلطان : صار عاصیا، ونَجَّمْتُ المالَ عليه : إذا وَزَّعْتُهُ ، كأنّك فرضت أن يدفع عند طلوع کلّ نَجْمٍ نصیباً ، ثم صار متعارفا في تقدیر دفعه بأيّ شيء قَدَّرْتَ ذلك . قال تعالی: وَعَلاماتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ [ النحل/ 16] ، وقال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
وَالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی۔ مَا ضَلَّ صَاحِبُـکُمْ وَمَا غَوٰی۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم : 1 تا 4) (قسم ہے ستاروں کی، جب وہ غروب ہوگئے۔ تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ گمراہ ہوا ہے۔ وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا۔ وہ تو ایک وحی ہے جو اسے کی جاتی ہے۔ ) اَلنَّجْم سے مراد کیا ہے ؟ عام طور پر مفسرین اَلنَّجْمِ سے ثریا مراد لیتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اس سے زہرہ مراد لیا ہے۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی ایک کو مراد لینے پر بھی کوئی قرینہ موجود نہیں۔ ابوعبید نحوی کا قول زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ یہاں النجم بول کر جنسِ نجوم مراد لی گئی ہے، یعنی یہ اسم جنس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن ربط سورت : سورة الطور کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جب ستارے غروب ہونے کے وقت ہو تو اپنے رب کو یاد کیا کرو۔ اس مناسبت سے سورة النجم کا آغاز ستارے کی قسم سے ہورہا ہے۔ عربی زبان میں حرف واؤ کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اسے قسم کے معنٰی میں استعمال کیا گیا ہے۔ رب ذوالجلال کا ارشاد ہے کہ مجھے ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم۔ تمہارا ساتھی نہ بہکا ہے اور نہ ہی بھٹکا ہے۔ نبی معظم ﷺ کے بارے میں اہل مکہ یہ پراپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ آپ صحیح راستے سے بہک گئے ہیں، کچھ لوگ کہتے کہ محمد ﷺ گمراہ ہوچکے ہیں۔ خیال رہے کہ اہل لغت راستہ بھول جانے والے مسافر کے لیے ضلّ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جو شخص…
Read the full tafseer →آیت 1: والنجم نمبر 1۔ ثریا ستاروں کی قسم اٹھائی۔ نمبر 1، جنس نجوم کی، اذا ھوی جب غروہ ہو، نمبر 2، جب قیامت کے دن ٹوٹ کر بکھر جائے۔
Read the full tafseer →سورة النجم مکی ہے اور اس کی باسٹھ 62 آیتیں ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی ستارے کے ٹوٹنے کی، یعنی رات کے آخری حصے میں جب رات کے جانے اور دن کے آنے کا وقت ہوتا ہے اس وقت افق میں ستارے کے گرنے کی قسم کھاتے ہیں کیونکہ اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر کی موجب ہیں کہ اس کی قسم کھائی جائے اور صحیح معنی یہ ہے کہ النجم ستارہ اسم جنس ہے جو تمام ستاروں کو شامل ہے۔ رسول اللہ جو وحی لے کر آئے ہیں، اس کی صحت پر اللہ نے ستاروں کی قسم کھائی ہے کیونکہ وحی الٰہی اور ستاروں کے مابین ایک عجیب مناسبت ہے اللہ نے ستاروں کو آسمان کی زینت بنایا اسی طرح اللہ نے وحی اور اس کے آثار کو زمین کے لیے زینت بنایا پس اگر انبیائے کرام کی طرف سے موروث علم نہ ہوتا تو لوگ گمراہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[ 3] صاحبکم کے لفظ کی بلاغت و تاثیر کا ذکر وبیان : سو اس لفظ اور اس کی ترکیب سے واضح فرما دیا گیا کہ جس کی پوری زندگی، اور زندگی کی ہر حالت، تمہارے سامنے ہے، اور ایک کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے، بچپن سے لڑکپن، اور لڑکپن سے جوانی، اور جوانی کے بعد کی پوری حیات طیبہ تمہارے سامنے ہے، اور اس طور پر کہ اس کا کوئی مرحلہ بھی تم سے مخفی اور تمہاری نگاہوں سے اوچھل اور پوشیدہ نہیں، اور تم خود ان کی صداقت، اور ان کی امانت و دیانت داری کے قائل اور معترف ہو، اور ان کو تم لوگ خود صادق و امین مانتے ہو، اور ان کی نزاہت و پاکیزگی کے تم لوگ خود عینی شاہد اور کھلے گواہ ہو، تو جب چالیس سال کی طویل زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی غروب ہونے کیلئے جھکے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے قرآن مراد ہے کیونکہ وہ بھی منجماً (تھوڑا تھوڑا کر کے) نازل ہوا ہے۔
Read the full tafseer →(53:1) والنجم : واؤ قسمیہ ہے۔ اذا۔ جب ، جس وقت، ناگہاں۔ ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر بھی دلالت کرتا ہے کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے جیسے واذاراوا تجارۃ اولہوا ن انفضوا الیہا (62:11) اور جب ان لوگوں نے سودا بکتا یا سودا ہوتے دیکھا تو جھٹک کر ادھر ادھر چل دئیے۔ اور اگر اذا قسم کے بعد واقع ہو تو پھر زمانہ حال کے لئے آتا ہے جیسا کہ آیت زیر غور میں ہے۔ والنجم اذا ھوی (53:1) اور قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے۔ جب وہ غائب ہوجائے۔ ھویٰ ماضی واحد مذکر غائب ھ و ی مادہ سے مصدر۔ ھوی ھ کی فتح سے باب ضرب سے بمعنی (ستارہ کا طلوع ہونا۔ اور مصدر ھوی ( ھ کے ضمیر سے) باب ضرب سے بمعنی (ستارہ کا) غروب ہونا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →(ف 1) النجم کی تفسیر میں مفسرین کے بہت قول ہیں۔ بعض نے ثریامراد لیا ہے اگرچہ ثریا کئی تارے ہیں لیکن نجم کا اطلاق ان پر عرب کی عادت ہے بعض نے نجم سے جنس نجوم مراد لی ہے بعض نے وہ نباتات ہے جو شاق نہیں رکھتے زمین پر پھیلتے ہیں ، بعض نے نجم سے قرآن مراد لیا ہے لیکن نجم سے مراد ذات گرامی ہادی برحق سیدا نبی اء محمد کی ہے۔ (خازن) ۔
Read the full tafseer →[1] مطلب یہ ہے کہ ستارے غروب ہو کر صبح روشن نمودار ہوگئی۔
Read the full tafseer →(1) قسم ہے تارے کی جب وہ غروب ہونے لگے۔
Read the full tafseer →ستاروں کے رب کی قسم جب وہ غروب ہوں 1 ؎ (النجم) اسم جنس ہے اور جنس میں واحد جمع کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ گزشتہ سورت کے خاتمہ پر (ادبار النجوم) ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ستاروں کے غروب ہونے کے بعد اور وہاں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ وہ وقت ہے جب صلوٰۃ فجر ادا کی جاتی ہے یعنی صبح کی نماز با جماعت ادا کی جاتی ہے۔ اس جگہ (النجم) سے مراد مفسرین نے زیادہ تر ” ایک ستارہ “ لی ہے اور پھر اس ستارہ کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ ایک گروہ نے اس ستارہ سے مراد ثریا جس کو پروین کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور ہماری پنجابی زبان میں اس کو ” کھتی “ کے نام سے موسوم کرتے ہیں جو چند ستاروں کا ایک جھنڈ سا آسمان پر نظر…
Read the full tafseer →Characteristics of Surah An-Najm Surah An-Najm is the first chapter that the Holy Prophet ﷺ proclaimed in Makkah (` Abdullah Ibn Masud ؓ has transmitted it - as in Qurtubi) and this is the first Surah in which a verse of sajdah (prostration) is revealed. The Holy Prophet recited it and prostrated. A strange thing happened on this occasion: When the Holy Prophet finished reciting the Surah before a mixed gathering of Muslims and disbelievers, and, along with his followers, he prostrated himself on the ground. The disbelievers too prostrated, except one proud and arrogant man (regarding whose…
Read the full tafseer →1 In the original the word "an-najm"has been used. Ibn `Abbas, Mujahid and Sufyan Thauri opine that it implies the Pleides. Ibn Jarir and Zamakhshari have held this same interpretation as preferable, for in Arabic when the word an -najm is used absolutely it usually implies the Pleides. Suddi says that it implies Venus; and Abu `Ubaidah, the grammarian, holds that here the word an-najm has been used generically so as to express this idea: "When the day dawned, and the stars set." In view of the context we are of the opinion that this last interpretation is more preferable.
Read the full tafseer →