53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے تارے کی جب گرے3

3 یعنی غروب ہو۔
Ayah 53:2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

بہکا نہیں تمہارا رفیق اور نہ بےراہ چلا4

4 " رفیق " سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ یعنی نہ آپ غلط فہمی کی بناء پر راستہ سے بہکے، نہ اپنے قصد و اختیار سے جان بوجھ کر بےراہ چلے، بلکہ جس طرح آسمان کے ستارے طلوع سے لے کر غروب تک ایک مقرر رفتار سے معین راستہ پر چلے جاتے ہیں کبھی ادھر ادھر ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔ آفتاب نبوت بھی اللہ کے مقرر کیے ہوئے راستہ پر برابر چلا جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ایک قدم ادھر یا ادھر پڑجائے۔ ایسا ہو تو ان کی بعثت سے جو غرض متعلق ہے وہ حاصل نہ ہو۔ انبیاء (علیہم السلام) آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی اور رفتار سے دنیا کی راہنمائی ہوتی ہے اور جس طرح تمام ستاروں کے غائب ہونے کے بعد آفتاب درخشاں طلوع ہوتا ہے۔ ایسے ہی تمام انبیاء کی تشریف بری کے بعد آفتاب محمدی مطلع عرب سے طلوع ہوا۔ پس اگر قدرت نے ان ظاہری ستاروں کا نظام اس قدر محکم بنایا ہے کہ اس میں کسی طرح کے تزلزل اور اختلال کی گنجائش نہیں تو ظاہر ہے کہ ان باطنی ستاروں اور روحانی آفتاب و ماہتاب کا انتظام کس قدر مضبوط و محکم ہونا چاہیے۔ جن سے ایک عالم کی ہدایت وسعادت وابستہ ہے۔
Ayahs 53:3–4

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے،

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ تو حکم ہے بھیجا ہوا5

5 یعنی کوئی کام تو کیا۔ ایک حرف بھی آپ کے دہن مبارک سے ایسا نہیں نکلتا جو خواہش نفس پر مبنی ہو۔ بلکہ آپ ﷺ جو کچھ دین کے باب میں ارشاد فرماتے ہیں وہ اللہ کی بھیجی ہوئی وحی اور اس کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ اس میں وحی متلوکو " قرآن " اور غیر متلو کو " حدیث " کہا جاتا ہے۔
Ayah 53:5

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

اس کو سکھلایا ہے سخت قوتوں والے نے زور آور نے6

6 یعنی وحی بھیجنے والا تو اصل میں اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن جس کے ذریعہ سے وہ وحی آپ ﷺ تک پہنچتی ہے اور جو بظاہر آپ ﷺ کو سکھلاتا ہے وہ بہت سخت قوتوں والا، بڑا زور آور حسین و وجیہ فرشتہ ہے جسے " جبرائیل امین " کہتے ہیں۔ چناچہ " سورة التکویر " میں جبرائیل کی نسبت فرمایا۔ (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۝ ۙ ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ 20 ۝ ۙ ) 81 ۔ التکویر :19)
Ayahs 53:6–7

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

پھر سیدھا بیٹھا

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ تھا اونچے کنارہ پر آسمان کے7

7 " اونچے کنارے " سے اکثروں نے افق شرقی مراد لیا ہے۔ جدھر سے صبح صادق نمودار ہوتی ہے نبی کریم ﷺ کو ابتدائے نبوت میں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ اس وقت آسمان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ یہ غیر معمولی اور مہیب منظر پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے دیکھا تھا۔ دیکھ کر گھبرائے تو سورة " مدثر " اتری۔
Ayahs 53:8–10

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر نزدیک ہوا اور لٹک آیا

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

پھر رہ گیا فرق دو کمان کے برابر یا اس سے بھی نزدیک،

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندہ پر جو بھیجا8

8 یعنی جبرائیل اپنے اصلی مستقر سے تعلق رکھنے کے باوجود نیچے اترے۔ اور آنحضرت ﷺ سے اس قدر نزدیک ہوگئے کہ دونوں کے درمیان دو ہاتھ یا دو کمانوں سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندہ (محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی بھیجی۔ غالباً اس سے مراد سورة " مدثر " کی یہ آیات ہیں۔ (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۝ ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ ۝۽) 74 ۔ المدثر :2-1) یا کچھ اور احکام ہوں گے۔ (تنبیہ) فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ میں محققین کے نزدیک " او " شک کے لیے نہیں۔ بلکہ اس قسم کی ترکیب پوری تاکید اور مبالغہ کے ساتھ زیادہ کی نفی کے لیے ہوتی ہے۔ یعنی تعیین کر کے یہ بتلانا مقصود نہیں کہ " قوسین " کا فاصلہ تھا یا اس سے بھی کم، وہاں اتنا ظاہر کردینا ہے کہ کسی حال اور کسی طرح اس سے زائد نہ تھا۔ وفیہ اقوال اخر ذکرہا المفسرون۔
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جھوٹ نہیں کہا رسول کے دل نے جو دیکھا9

9 یعنی جبرائیل کو آپ ﷺ نے آنکھ سے دیکھا اور اندر سے دل نے کہا کہ اس وقت آنکھ ٹھیک ٹھیک جبرائیل کو دیکھ رہی ہے، کوئی غلطی نہیں کر رہی کہ کچھ کا کچھ نظر آتا ہو۔ ایسا کہنے میں آپ کا دل سچا تھا۔ حق تعالیٰ اسی طرح پیغمبروں کے دلوں میں فرشتہ کی معرفت ڈال دیتے ہیں ورنہ رسول کو خود اطمینان نہ ہو تو دوسروں کو اطمینان کہاں سے دستیاب ہوسکتا ہے۔
Ayah 53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

اب کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو اس نے دیکھا10

10 یعنی وحی بھیجنے والا اللہ، لانے والا فرشتہ جس کی صورت و سیرت نہایت پاکیزہ اور فہم و حفظ وغیرہ کی تمام قوتیں کامل، پھر اتنا قریب ہو کر وحی پہنچائے، پیغمبر اس کو اپنی آنکھ سے دیکھے، اس کا صاف اور روشن دل اس کی تصدیق کرے، تو کیا ایسی دیکھی بھالی چیز میں تم کو حق ہے کہ اس سے فضول بحث و تکرار کرو اور جھگڑے نکالواِذَا لَمْ تَرَالہِلَالَ فَسَلِّمْ لِنَّاسٍ رَاَوْہُ بالْاَبْصَارِ ۔
Ayahs 53:13–15

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور اس کو اس نے دیکھا ہے اترتے ہوئے ایک بار اور بھی

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

سدرۃ المنتہیٰ کے پاس

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اس کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی11

11 جس طرح جنت کے انگور، انار وغیرہ کو دنیا کے پھلوں اور میووں پر قیاس نہیں کرسکتے، محض اشتراک اسمی ہے۔ اس بیری کے درخت کو بھی یہاں کی بیریوں پر قیاس نہ کیا جائے اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ بیری کس طرح کی ہوگی۔ بہرحال وہ درخت ادھر ادھر کی سرحد پر واقع ہے جو اعمال وغیرہ ادھر سے چڑھتے ہیں، اور جو احکام وغیرہ ادھر سے اترتے ہیں سب کا منتہی وہ ہی ہے۔ مجموعہ روایات سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان میں پھیلاؤ ساتویں آسمان میں ہوگا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جب چھا رہا تھا اس بیری پر جو کچھ چھا رہا تھا12

12 یعنی حق تعالیٰ کے انوار و تجلیات اس درخت پر چھا رہے تھے۔ اور فرشتوں کی کثرت و ہجوم کا یہ عالم تھا کہ ہر پتے کے ساتھ ایک فرشتہ نظر آتا تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ " مایَغْشٰی " سنہری پروانے تھے۔ یعنی نہایت خوش رنگ جن کے دیکھے سے دل کھنچا جائے۔ اس وقت درخت کی بہار اور رونق اور اس کا حسن و جمال ایسا تھا کہ کسی مخلوق کی طاقت نہیں کہ لفظوں میں بیان کرسکے۔ شاید ابن عباس وغیرہ کے قول کے موافق معراج میں جو اللہ کا دیدار حضور ﷺ کو ہوا اس کا بیان اسی آیت کے ابہام میں منطوی و مندرج ہو۔ کیونکہ پہلی آیتوں کے متعلق تو عائشہ صدیقہ کی احادیث میں تصریح ہے کہ ان سے رویت رب مراد نہیں۔ محض رویت جبرائیل مراد ہے۔ ابن کثیر نے مجاہد سے جو ابن عباس کے اخص اصحاب میں سے ہیں اسی آیت کے تحت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ " کَانَ اَغْصَان السِّدْرَۃِ لُوءْ لُوًا وَیَا قُوْتًا وَزَبَرجَدًا فَرَاہَا مُحَمَّدٌ صَلَی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَای رَبَّہ، بِقَلْبِہٖ ۔ " اور یہ رویت چونکہ صرف قلب سے نہ تھی بلکہ قلب اور بصر دونوں کو دیدار سے حصہ مل رہا تھا جیسا کہ " مَازَاغَ الْبَصَرُ " سے ظاہرہوتا ہے۔ شاید اسی لیے ابن عباس نے طبرانی کی بعض روایات میں فرمایا۔ " راٰہ مَرَّتَیْنِ مَرَّۃً بِقَلْبِہٖ وَمَرَّۃً بِبَصَرِہٖ " یہاں دو مرتبہ دیکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی وقت میں دو طرح دیکھا۔ (کما قالوا فی حدیث اِنْشَقَّ الْقَمَر بِمَکَّۃ مَرَّتَیْنِ ) ظاہری آنکھ سے بھی اور دل کی آنکھوں سے بھی لیکن یاد رہے کہ یہ رویت وہ نہیں جس کی نفی " لَا تُدْرِکْہُ الْاَبْصَارُ " میں کی گئی ہے کیونکہ اس سے غرض احاطہ کی نفی کرنا ہے۔ یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ علاوہ بریں ابن عباس سے جب سوال کیا گیا کہ دعوئے رویت، آیت " لا تدرکہ الابصار " کے مخالف ہے تو فرمایا " وَیَحْکَ ذَاکَ اِذَا تَجَلیّٰ بِنُوْرِہِ الَّذِیْ ہُوَ نُورُہ،" (رواہ الترمذی) معلوم ہوا کہ خداوند قدوس کی تجلیات و انوار متفاوت ہیں۔ بعض انوار قاہرہ للبصر ہیں بعض نہیں۔ اور رویت رب فی الجملہ دونوں درجوں پر صادق آتی ہے۔ اور اسی لیے کہا جاسکتا ہے کہ جس درجہ کی رویت مومنین کو آخرت میں نصیب ہوگی جبکہ نگاہیں تیز کردی جائیں گی جو اس تجلی کو برداشت کرسکیں۔ وہ دنیا میں کسی کو حاصل نہیں۔ ہاں ایک خاص درجہ کی رویت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو شب معراج میں ابن عباس کی روایات کے موافق میسر ہوئی۔ اور اس خصوصیت میں کوئی بشر آپ ﷺ کا شریک وسہیم نہیں۔ نیز ان ہی انوار و تجلیات کے تفاوت و تنوع پر نظر کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ عائشہ اور ابن عباس ؓ کے اقوال میں کوئی تعرض نہیں۔ شاید وہ نفی ایک درجہ میں کرتی ہوں اور یہ اثبات دوسرے درجہ میں کر رہے ہوں۔ اور اسی طرح ابوذر کی روایات " رایت نورًا "' اور " نور انی اراہ " میں تطبیق ممکن ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

بہکی نہیں نگاہ اور نہ حد سے بڑھی13

13 یعنی آنکھ نے جو کچھ دیکھا، پورے تمکن و اتقان سے دیکھا، نہ نگاہ ٹیڑھی ترچھی ہو کر داہنے بائیں ہٹی نہ مبصر سے تجاوز کر کے آگے بڑھی، بس اسی چیز پر جمی رہی جس کا دکھلانا منظور تھا۔ بادشاہوں کے دربار میں جو چیز دکھلائی جائے اس کو نہ دیکھنا اور جو نہ دکھلائی جائے اس کو تاکنا دونوں عیب ہیں آپ ﷺ ان دونوں سے پاک تھے۔
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

بیشک دیکھے اس نے اپنے رب کے بڑے نمونے14

14 " اِذْیَغْشَی السِّدْرَۃً " کے فائدہ میں جو بیان ہوچکا ہے اس کے علاوہ جو نمونے دیکھے ہوں گے وہ اللہ ہی جانتا ہے۔ اکنوں کرا دماغ کہ پرسد زباغباں بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صباچہ کرد
Ayahs 53:19–20

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم دیکھو تو لات اور عزیٰ کو

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور منات تیسرے پچھلے کو1

1 یعنی اس لا محدود عظمت و جلال والے خدا کے مقابلہ میں ان حقیر و ذلیل چیزوں کا نام لینے سے شرم آنی چاہیے۔ (تنبیہ) " لات " و " عزیٰ "، " منات " ان کے بتوں اور دیویوں کے نام ہیں۔ ان میں " لات " طائف والوں کے ہاں بہت معظم تھا۔ " منات " اوس و خزرج اور خزاعہ کے ہاں۔ اور " عزیٰ " کو قریش اور بنی کنانہ وغیرہ ان دونوں سے بڑا سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اول " عزیٰ " جو مکہ کے قریب نخلہ میں تھا۔ پھر " لات " جو طائف میں تھا۔ پھر سب سے پیچھے تیسرے درجہ میں " منات " جو مکہ سے بہت دور مدینہ کے نزدیک واقع تھا۔ علامہ یاقوت نے معجم البلدان میں یہ ترتیب نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف کرتے ہوئے یہ الفاظ کہتے تھے۔ " واللات والعزی ومناۃ الثالثۃ الاخری ھوءلاء الغرانیق العلی وان شفا عتھن لترتجی۔ " کتب تفسیر میں اس موقع پر ایک قصہ نقل کیا گیا ہے جو جمہور محدثین کے اصول پر درجہ صحت کو نہیں پہنچتا۔ اگر فی الواقع اس کی کوئی اصل ہے تو شاید یہ ہی ہوگی کہ آپ ﷺ نے مسلمانوں اور کافروں کے مخلوط مجمع میں یہ سورت پڑھی۔ کفار کی عادت تھی کہ لوگوں کو قرآن سننے نہ دیں اور بیچ میں گڑ بڑ مچا دیں۔ کما قال تعالیٰ (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :26) جب یہ آیت پڑھی تو کسی کافر شیطان نے آپ ﷺ کی آواز میں آواز ملا کر آپ ﷺ ہی کے لب و لہجہ سے وہ الفاظ کہہ دیے ہوں گے جو ان کی زبانوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ " تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الُعلیٰ " آگے تعبیر و ادا میں تصرف ہوتے ہوتے کچھ کا کچھ بن گیا۔ ورنہ ظاہر ہے نبی کی زبان پر شیطان کو ایسا تسلط کب حاصل ہوسکتا ہے اور جس چیز کا ابطال آگے کیا جا رہا ہے اس کی مدح سرائی کے کیا معنی۔
Ayahs 53:21–22

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تم کو تو ملے بیٹے اور اس کو بیٹیاں

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ بانٹا تو بہت بھونڈا2

2 یاقوت نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ کفار ان بتوں کو خدا کے بیٹیاں کہتے تھے۔ سو اول تو خدا " لم یلد ولم یولد " ہے اور بالفرض اولاد کا نظریہ تسلیم کیا جائے تب بھی یہ تقسیم کس قدر بھونڈی اور مہمل ہے کہ تم خود تو بیٹے لے جاؤ اور خدا کے حصہ میں بیٹیاں لگادو۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ سب نام ہیں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے، اللہ نے نہیں اتاری ان کی کوئی سند3 محض اٹکل پر چلتے ہیں اور جو جیوں کی امنگ ہے اور پہنچی ہے ان کو ان کے رب سے راہ کی سوجھ4

3 یعنی پتھروں اور درختوں کے کچھ نام رکھ چھوڑے ہیں جن کی خدائی کی کوئی سند نہیں۔ بلکہ اس کے خلاف پر دلائل قائم ہیں۔ ان کو اپنے خیال میں خواہ بیٹیاں کہہ لو۔ یا بیٹے یا اور کچھ محض کہنے کی جس کے نیچے حقیقت کچھ نہیں۔ 4 یعنی باوجودیکہ اللہ کے پاس سے ہدایت کی روشنی آچکی اور وہ سیدھی راہ دکھا چکا۔ مگر یہ احمق ان ہی اوہام و اہواء کی تاریکیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جو کچھ اٹکل پچو ذہن میں آگیا اور دل میں امنگ پیدا ہو کر گزرے۔ تحقیق و بصیرت کی راہ سے کچھ سروکار نہیں۔
Ayahs 53:24–25

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کہیں آدمی کو ملتا ہے جو کچھ چاہے،

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

سو اللہ کے ہاتھ ہے سب بھلائی پچھلی اور پہلی5

5 یعنی سمجھتے ہیں کہ یہ بت ہمارے سفارشی بنیں گے۔ یہ خالی خیالات اور آرزوئیں ہیں۔ کیا انسان جو تمنا کرے وہ ہی مل جائے گا۔ یاد رہے دنیا اور آخرت کی سب بھلائی اللہ کے ہاتھ ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بت پوجنے سے کیا ملتا ہے، ملے وہ ہی جو اللہ دے۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور بہت فرشتے ہیں آسمانوں میں کچھ کام نہیں آتی ان کی سفارش مگر جب حکم دے اللہ جس کے واسطے چاہے اور پسند کرے6

6 یعنی ان بتوں کی تو حقیقت کیا ہے آسمان کے رہنے والے مقرب فرشتوں کی سفارش بھی کچھ کام نہیں دے سکتی۔ ہاں اللہ ہی جس کے حق میں سفارش کرنے کا حکم دے اور اس سے راضی ہو تو وہاں سفارش بیشک کام دے گی۔ ظاہر ہے اس نے نہ بتوں کو سفارش کا حکم دیا اور نہ وہ کفار سے راضی ہیں۔
Ayahs 53:27–28

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین نہیں رکھتے آخرت کا وہ نام رکھتے ہیں فرشتوں کے زنانے نام

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

اور ان کو اس کی کچھ خبر نہیں محض اٹکل پر چلتے ہیں اور اٹکل کچھ کام نہ آئے ٹھیک بات میں7

7 یعنی جن کو آخرت کا یقین نہیں وہ سزا کی طرف سے بےفکر ہو کر ایسی گستاخیاں کرتے ہیں۔ مثلاً فرشتوں کو زنانہ قرار دے کر خدا کی بیٹیاں کہہ دیا۔ یہ ان کی محض جہالت ہے۔ بھلا فرشتوں کو مرد اور عورت ہونے سے واسطہ۔ اور خدا کے لیے اولاد کیسی۔ کیا سچی اور ٹھیک بات پر قائم ہونا ہو تو ایسی اٹکلوں اور پادر ہوا اوہام سے کام چل سکتا ہے۔ اور کیا تخمینے اور اٹکلیں حقائق ثابتہ کے قائم مقام ہوسکتی ہیں ؟
Ayahs 53:29–30

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

سو تو دھیان نہ کر اس پر جو منہ موڑے ہماری یاد سے اور کچھ نہ چاہیے مگر دنیا کا جینا

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

بس یہیں تک پہنچی ان کی سمجھ8 تحقیق تیرا رب ہی خوب جانے اس کو جو بہکا اس کی راہ سے اور وہی خوب جانے اس کو جو راہ پر آیا9

8 یعنی جس کا اوڑھنا بچھونا یہ ہی دنیا کی چند روزہ زندگی ہو کہ اس میں منہمک ہو کر کبھی خدا کو اور آخرت کو دھیان میں نہ لائے، آپ ﷺ اس کی بکواس کو دھیان میں نہ لائیں۔ وہ خدا سے منہ موڑتا ہے۔ آپ ﷺ اس کی شرارت اور کجروی کی طرف سے منہ پھیر لیں۔ سمجھانا تھا سو سمجھا دیا۔ ایسے بدطینت اشخاص سے قبول حق کی توقع رکھنا اور ان کے غم میں اپنے کو گھلانا بیکار ہے۔ ان کی سمجھ تو بس اسی دنیا کے فوری نفع نقصان تک پہنچتی ہے اس سے آگے ان کی رسائی نہیں۔ وہ کیا سمجھیں کہ مرنے کے بعد مالک حقیقی کی عدالت میں حاضر ہو کر ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہے۔ ان کی تمام تر علمی جدوجہد صرف بہائم کی طرح پیٹ بھرنے اور شہوت فرو کرنے کے لیے ہے۔ 9 یعنی جو گمراہی میں پڑا رہا اور جو راہ پر آیا، ان سب کو اور ان کی مخفی استعدادوں کو اللہ تعالیٰ ازل سے جانتا ہے۔ اسی کے موافق ہو کر رہے گا۔ ہزار جتن کرو، اس کے علم کے خلاف ہرگز واقع نہیں ہوسکتا۔ نیز وہ اپنے علم محیط کے موافق ہر ایک سے ٹھیک ٹھیک اس کے احوال کے مناسب معاملہ کرے گا۔ لہذا آپ یکسو ہو کر ان معاندین کا معاملہ خدا کے سپرد کردیں۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں تاکہ وہ بدلہ دے برائی والوں کو ان کے کیے کا اور بدلہ دے بھلائی والوں کو بھلائی سے1

1 یعنی ہر شخص کا حال اس کو معلوم اور زمین و آسمان کی ہر چیز پر اس کا قبضہ۔ پھر نیک و بد کا بدلہ دینے سے کیا چیز مانع ہوسکتی ہے۔ بلکہ غور سے دیکھو تو زمین و آسمان کا یہ سارا کارخانہ پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں زندگی کا ایک دوسرا غیر فانی سلسلہ قائم کیا جائے جہاں بروں کو ان کی برائی کا بدلہ ملے اور نیکوں کے ساتھ ان کی بھلائی کے صلہ میں بھلائی کی جائے۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے مگر کچھ آلودگی2 بیشک تیرے رب کی بخشش میں بڑی سمائی ہے3 وہ تم کو خوب جانتا ہے، جب بنا نکالا تم کو زمین سے اور جب تم بچے تھے ماں کے پیٹ میں سو مت بیان کرو اپنی خوبیاں وہ خوب جانتا ہے اس کو جو بچ کر چلا۔

2 گناہ کبیرہ اور صغیر کا فرق سورة " نساء " کے فوائد میں مفصل گزر چکا۔ " لمم " کی تفسیر میں کئی قول ہیں۔ بعض نے کہا کہ جو خیالات وغیرہ گناہ کے دل میں آئیں مگر ان کو عمل میں نہ لائے وہ " لمم " ہیں۔ بعض نے صغیرہ گناہ مراد لیے ہیں۔ بعض نے کہا کہ جس گناہ پر اصرار نہ کرے یا اس کی عادت نہ ٹھہرائے یا جس گناہ سے توبہ کرلے وہ مراد ہے، ہمارے نزدیک بہترین تفسیر وہ ہی ہے جو مترجم محقق قدس اللہ روحہ ' نے سورة " نساء " کے فوائد میں اختیار کی ہے لیکن یہاں ترجمہ میں دوسرے معانی کی بھی گنجائش رکھی ہے۔ 3 اسی لیے بہت سے چھوٹے موٹے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور توبہ قبول کرتا ہے۔ گنہگار کو مایوس نہیں ہونے دیتا۔ اگر ہر چھوٹی بڑی خطا پر پکڑنے لگے تو بندہ کا ٹھکانا کہاں۔ یعنی اگر تقویٰ کی کچھ توفیق اللہ نے دی تو شیخی نہ مارو۔ اور اپنے کو بہت بزرگ نہ بناؤ۔ وہ سب کی بزرگی اور پاکبازی کو خوب جانتا ہے۔ اور اس وقت سے جانتا ہے جب تم نے ہستی کے اس دائرہ میں قدم بھی نہ رکھا تھا۔ آدمی کو چاہیے کہ اپنی اصل کو نہ بھولے۔ جس کی ابتداء مٹی سے تھی، پھر بطن مادر کی تاریکیوں میں ناپاک خون سے پرورش پاتا رہا۔ اس کے بعد کتنی جسمانی و روحانی کمزوریوں سے دوچار ہوا۔ آخر میں اگر اللہ نے اپنے فضل سے ایک بلند مقام پر پہنچا دیا تو اس کو اس قدر بڑھ چڑھ کر دعوے کرنے کا استحقاق نہیں۔ جو واقعی متقی ہیں وہ دعویٰ کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اب بھی پوری طرح کمزوریوں سے پاک ہوجانا بشریت کی حد سے باہر ہے۔ کچھ نہ کچھ آلودگی سب کو ہوجاتی ہے۔ الا من عصمہ اللہ۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا تو نے دیکھا اس کو جس نے منہ پھیرلیا5

5 یعنی اپنی اصل کو بھول کر خالق ومالک حقیقی کی طرف سے منہ پھیرلیا۔
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور لایا تھوڑا سا اور سخت نکالا6

6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی تھوڑا سا ایمان لانے لگا پھر اس کا دل سخت ہوگیا۔ " مجاہد وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ حضور ﷺ کی باتیں سن کر اس کو اسلام کی طرف تھوڑی سی رغبت ہو چلی تھی۔ اور کفر کی سزا سے ڈر کر قریب تھا کہ مشرف باسلام ہوجائے۔ ایک کافر نے کہا کہ ایسا مت کر میں تیرے سب جرائم اپنے اوپر لیتا ہوں۔ تیری طرف سے میں سزا بھگت لوں گا۔ بشرطیکہ اس قدر مال مجھ کو دیا جائے۔ اس نے وعدہ کرلیا اور مقررہ رقم کی کچھ قسط ادا کر کے باقی سے انکار کردیا۔ اس صورت میں " وَاَعْطٰی قَلِیْلًا وَاَکْدیٰ " کے معنی یہ ہوں گے کہ کچھ مال دیا، پھر ہاتھ کھینچ لیا۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس خبر ہے غیب کی سو وہ دیکھتا ہے7

7 یعنی کیا یہ غیب کی بات دیکھ آیا ہے کہ آئندہ اس کو کفر کی سزا نہ ملے گی اور دوسرے کو اپنی جگہ پیش کر کے چھوٹ جائے گا۔
Ayahs 53:36–37

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اس کو خبر نہیں پہنچی اس کی جو ہے ورقوں میں موسیٰ کے

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کے جس نے کہ اپنا قول پورا اتارا8

8 یعنی ابراہیم اپنے قول وقرار اور عہد و پیمان کی پابندی میں پورا اترا اور اللہ کے حقوق پوری طرح ادا کیے اور اس کے احکام کی تعمیل میں ذرہ بھر تقصیر نہ کی۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

کہ اٹھاتا نہیں کوئی اٹھانے والا بوجھ کسی دوسرے کا9

9 یعنی موسیٰ اور ابراہیم کے صحیفوں میں یہ مضمون تھا کہ خدا کے ہاں کوئی مجرم دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی جوابدہی بذات خود کرنا ہوگی۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ آدمی کو وہی ملتا ہے جو اس نے کمایا10

10 یعنی آدمی جو کچھ کوشش کر کے کماتا ہے وہ ہی اس کا ہے۔ کسی دوسرے کی نیکیاں لے اڑے یہ نہیں ہوسکتا۔ باقی کوئی خود اپنی خوشی سے اپنے بعض حقوق دوسرے کو ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ اس کو منظور کرلے وہ الگ بات ہے جس کی تفصیل حدیث و فقہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔