Ayah 53:24 " رفیق " سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ یعنی نہ آپ غلط فہمی کی بناء پر راستہ سے بہکے، نہ اپنے قصد و اختیار سے جان بوجھ کر بےراہ چلے، بلکہ جس طرح آسمان کے ستارے طلوع سے لے کر غروب تک ایک مقرر رفتار سے معین راستہ پر چلے جاتے ہیں کبھی ادھر ادھر ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔ آفتاب نبوت بھی اللہ کے مقرر کیے ہوئے راستہ پر برابر چلا جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ایک قدم ادھر یا ادھر پڑجائے۔ ایسا ہو تو ان کی بعثت سے جو غرض متعلق ہے وہ حاصل نہ ہو۔ انبیاء (علیہم السلام) آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی اور رفتار سے دنیا کی راہنمائی ہوتی ہے اور جس طرح تمام ستاروں کے غائب ہونے کے بعد آفتاب درخشاں طلوع ہوتا ہے۔ ایسے ہی تمام انبیاء کی تشریف بری کے بعد آفتاب محمدی مطلع عرب سے طلوع ہوا۔ پس اگر قدرت نے ان ظاہری ستاروں کا نظام اس قدر محکم بنایا ہے کہ اس میں کسی طرح کے تزلزل اور اختلال کی گنجائش نہیں تو ظاہر ہے کہ ان باطنی ستاروں اور روحانی آفتاب و ماہتاب کا انتظام کس قدر مضبوط و محکم ہونا چاہیے۔ جن سے ایک عالم کی ہدایت وسعادت وابستہ ہے۔
Ayahs 53:3–45 یعنی کوئی کام تو کیا۔ ایک حرف بھی آپ کے دہن مبارک سے ایسا نہیں نکلتا جو خواہش نفس پر مبنی ہو۔ بلکہ آپ ﷺ جو کچھ دین کے باب میں ارشاد فرماتے ہیں وہ اللہ کی بھیجی ہوئی وحی اور اس کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ اس میں وحی متلوکو " قرآن " اور غیر متلو کو " حدیث " کہا جاتا ہے۔
Ayah 53:56 یعنی وحی بھیجنے والا تو اصل میں اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن جس کے ذریعہ سے وہ وحی آپ ﷺ تک پہنچتی ہے اور جو بظاہر آپ ﷺ کو سکھلاتا ہے وہ بہت سخت قوتوں والا، بڑا زور آور حسین و وجیہ فرشتہ ہے جسے " جبرائیل امین " کہتے ہیں۔ چناچہ " سورة التکویر " میں جبرائیل کی نسبت فرمایا۔ (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۙ ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ 20 ۙ ) 81 ۔ التکویر :19)
Ayahs 53:6–77 " اونچے کنارے " سے اکثروں نے افق شرقی مراد لیا ہے۔ جدھر سے صبح صادق نمودار ہوتی ہے نبی کریم ﷺ کو ابتدائے نبوت میں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ اس وقت آسمان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ یہ غیر معمولی اور مہیب منظر پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے دیکھا تھا۔ دیکھ کر گھبرائے تو سورة " مدثر " اتری۔
Ayahs 53:8–108 یعنی جبرائیل اپنے اصلی مستقر سے تعلق رکھنے کے باوجود نیچے اترے۔ اور آنحضرت ﷺ سے اس قدر نزدیک ہوگئے کہ دونوں کے درمیان دو ہاتھ یا دو کمانوں سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندہ (محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی بھیجی۔ غالباً اس سے مراد سورة " مدثر " کی یہ آیات ہیں۔ (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ ۽) 74 ۔ المدثر :2-1) یا کچھ اور احکام ہوں گے۔ (تنبیہ) فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ میں محققین کے نزدیک " او " شک کے لیے نہیں۔ بلکہ اس قسم کی ترکیب پوری تاکید اور مبالغہ کے ساتھ زیادہ کی نفی کے لیے ہوتی ہے۔ یعنی تعیین کر کے یہ بتلانا مقصود نہیں کہ " قوسین " کا فاصلہ تھا یا اس سے بھی کم، وہاں اتنا ظاہر کردینا ہے کہ کسی حال اور کسی طرح اس سے زائد نہ تھا۔ وفیہ اقوال اخر ذکرہا المفسرون۔
Ayah 53:119 یعنی جبرائیل کو آپ ﷺ نے آنکھ سے دیکھا اور اندر سے دل نے کہا کہ اس وقت آنکھ ٹھیک ٹھیک جبرائیل کو دیکھ رہی ہے، کوئی غلطی نہیں کر رہی کہ کچھ کا کچھ نظر آتا ہو۔ ایسا کہنے میں آپ کا دل سچا تھا۔ حق تعالیٰ اسی طرح پیغمبروں کے دلوں میں فرشتہ کی معرفت ڈال دیتے ہیں ورنہ رسول کو خود اطمینان نہ ہو تو دوسروں کو اطمینان کہاں سے دستیاب ہوسکتا ہے۔
Ayah 53:1210 یعنی وحی بھیجنے والا اللہ، لانے والا فرشتہ جس کی صورت و سیرت نہایت پاکیزہ اور فہم و حفظ وغیرہ کی تمام قوتیں کامل، پھر اتنا قریب ہو کر وحی پہنچائے، پیغمبر اس کو اپنی آنکھ سے دیکھے، اس کا صاف اور روشن دل اس کی تصدیق کرے، تو کیا ایسی دیکھی بھالی چیز میں تم کو حق ہے کہ اس سے فضول بحث و تکرار کرو اور جھگڑے نکالواِذَا لَمْ تَرَالہِلَالَ فَسَلِّمْ لِنَّاسٍ رَاَوْہُ بالْاَبْصَارِ ۔
Ayahs 53:13–1511 جس طرح جنت کے انگور، انار وغیرہ کو دنیا کے پھلوں اور میووں پر قیاس نہیں کرسکتے، محض اشتراک اسمی ہے۔ اس بیری کے درخت کو بھی یہاں کی بیریوں پر قیاس نہ کیا جائے اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ بیری کس طرح کی ہوگی۔ بہرحال وہ درخت ادھر ادھر کی سرحد پر واقع ہے جو اعمال وغیرہ ادھر سے چڑھتے ہیں، اور جو احکام وغیرہ ادھر سے اترتے ہیں سب کا منتہی وہ ہی ہے۔ مجموعہ روایات سے یوں سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان میں پھیلاؤ ساتویں آسمان میں ہوگا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 53:1612 یعنی حق تعالیٰ کے انوار و تجلیات اس درخت پر چھا رہے تھے۔ اور فرشتوں کی کثرت و ہجوم کا یہ عالم تھا کہ ہر پتے کے ساتھ ایک فرشتہ نظر آتا تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ " مایَغْشٰی " سنہری پروانے تھے۔ یعنی نہایت خوش رنگ جن کے دیکھے سے دل کھنچا جائے۔ اس وقت درخت کی بہار اور رونق اور اس کا حسن و جمال ایسا تھا کہ کسی مخلوق کی طاقت نہیں کہ لفظوں میں بیان کرسکے۔ شاید ابن عباس وغیرہ کے قول کے موافق معراج میں جو اللہ کا دیدار حضور ﷺ کو ہوا اس کا بیان اسی آیت کے ابہام میں منطوی و مندرج ہو۔ کیونکہ پہلی آیتوں کے متعلق تو عائشہ صدیقہ کی احادیث میں تصریح ہے کہ ان سے رویت رب مراد نہیں۔ محض رویت جبرائیل مراد ہے۔ ابن کثیر نے مجاہد سے جو ابن عباس کے اخص اصحاب میں سے ہیں اسی آیت کے تحت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ " کَانَ اَغْصَان السِّدْرَۃِ لُوءْ لُوًا وَیَا قُوْتًا وَزَبَرجَدًا فَرَاہَا مُحَمَّدٌ صَلَی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَای رَبَّہ، بِقَلْبِہٖ ۔ " اور یہ رویت چونکہ صرف قلب سے نہ تھی بلکہ قلب اور بصر دونوں کو دیدار سے حصہ مل رہا تھا جیسا کہ " مَازَاغَ الْبَصَرُ " سے ظاہرہوتا ہے۔ شاید اسی لیے ابن عباس نے طبرانی کی بعض روایات میں فرمایا۔ " راٰہ مَرَّتَیْنِ مَرَّۃً بِقَلْبِہٖ وَمَرَّۃً بِبَصَرِہٖ " یہاں دو مرتبہ دیکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی وقت میں دو طرح دیکھا۔ (کما قالوا فی حدیث اِنْشَقَّ الْقَمَر بِمَکَّۃ مَرَّتَیْنِ ) ظاہری آنکھ سے بھی اور دل کی آنکھوں سے بھی لیکن یاد رہے کہ یہ رویت وہ نہیں جس کی نفی " لَا تُدْرِکْہُ الْاَبْصَارُ " میں کی گئی ہے کیونکہ اس سے غرض احاطہ کی نفی کرنا ہے۔ یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ علاوہ بریں ابن عباس سے جب سوال کیا گیا کہ دعوئے رویت، آیت " لا تدرکہ الابصار " کے مخالف ہے تو فرمایا " وَیَحْکَ ذَاکَ اِذَا تَجَلیّٰ بِنُوْرِہِ الَّذِیْ ہُوَ نُورُہ،" (رواہ الترمذی) معلوم ہوا کہ خداوند قدوس کی تجلیات و انوار متفاوت ہیں۔ بعض انوار قاہرہ للبصر ہیں بعض نہیں۔ اور رویت رب فی الجملہ دونوں درجوں پر صادق آتی ہے۔ اور اسی لیے کہا جاسکتا ہے کہ جس درجہ کی رویت مومنین کو آخرت میں نصیب ہوگی جبکہ نگاہیں تیز کردی جائیں گی جو اس تجلی کو برداشت کرسکیں۔ وہ دنیا میں کسی کو حاصل نہیں۔ ہاں ایک خاص درجہ کی رویت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو شب معراج میں ابن عباس کی روایات کے موافق میسر ہوئی۔ اور اس خصوصیت میں کوئی بشر آپ ﷺ کا شریک وسہیم نہیں۔ نیز ان ہی انوار و تجلیات کے تفاوت و تنوع پر نظر کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ عائشہ اور ابن عباس ؓ کے اقوال میں کوئی تعرض نہیں۔ شاید وہ نفی ایک درجہ میں کرتی ہوں اور یہ اثبات دوسرے درجہ میں کر رہے ہوں۔ اور اسی طرح ابوذر کی روایات " رایت نورًا "' اور " نور انی اراہ " میں تطبیق ممکن ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 53:1713 یعنی آنکھ نے جو کچھ دیکھا، پورے تمکن و اتقان سے دیکھا، نہ نگاہ ٹیڑھی ترچھی ہو کر داہنے بائیں ہٹی نہ مبصر سے تجاوز کر کے آگے بڑھی، بس اسی چیز پر جمی رہی جس کا دکھلانا منظور تھا۔ بادشاہوں کے دربار میں جو چیز دکھلائی جائے اس کو نہ دیکھنا اور جو نہ دکھلائی جائے اس کو تاکنا دونوں عیب ہیں آپ ﷺ ان دونوں سے پاک تھے۔
Ayah 53:1814 " اِذْیَغْشَی السِّدْرَۃً " کے فائدہ میں جو بیان ہوچکا ہے اس کے علاوہ جو نمونے دیکھے ہوں گے وہ اللہ ہی جانتا ہے۔
اکنوں کرا دماغ کہ پرسد زباغباں بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صباچہ کرد
Ayahs 53:19–201 یعنی اس لا محدود عظمت و جلال والے خدا کے مقابلہ میں ان حقیر و ذلیل چیزوں کا نام لینے سے شرم آنی چاہیے۔ (تنبیہ) " لات " و " عزیٰ "، " منات " ان کے بتوں اور دیویوں کے نام ہیں۔ ان میں " لات " طائف والوں کے ہاں بہت معظم تھا۔ " منات " اوس و خزرج اور خزاعہ کے ہاں۔ اور " عزیٰ " کو قریش اور بنی کنانہ وغیرہ ان دونوں سے بڑا سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اول " عزیٰ " جو مکہ کے قریب نخلہ میں تھا۔ پھر " لات " جو طائف میں تھا۔ پھر سب سے پیچھے تیسرے درجہ میں " منات " جو مکہ سے بہت دور مدینہ کے نزدیک واقع تھا۔ علامہ یاقوت نے معجم البلدان میں یہ ترتیب نقل کی ہے اور لکھا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف کرتے ہوئے یہ الفاظ کہتے تھے۔ " واللات والعزی ومناۃ الثالثۃ الاخری ھوءلاء الغرانیق العلی وان شفا عتھن لترتجی۔ " کتب تفسیر میں اس موقع پر ایک قصہ نقل کیا گیا ہے جو جمہور محدثین کے اصول پر درجہ صحت کو نہیں پہنچتا۔ اگر فی الواقع اس کی کوئی اصل ہے تو شاید یہ ہی ہوگی کہ آپ ﷺ نے مسلمانوں اور کافروں کے مخلوط مجمع میں یہ سورت پڑھی۔ کفار کی عادت تھی کہ لوگوں کو قرآن سننے نہ دیں اور بیچ میں گڑ بڑ مچا دیں۔ کما قال تعالیٰ (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :26) جب یہ آیت پڑھی تو کسی کافر شیطان نے آپ ﷺ کی آواز میں آواز ملا کر آپ ﷺ ہی کے لب و لہجہ سے وہ الفاظ کہہ دیے ہوں گے جو ان کی زبانوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ " تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الُعلیٰ " آگے تعبیر و ادا میں تصرف ہوتے ہوتے کچھ کا کچھ بن گیا۔ ورنہ ظاہر ہے نبی کی زبان پر شیطان کو ایسا تسلط کب حاصل ہوسکتا ہے اور جس چیز کا ابطال آگے کیا جا رہا ہے اس کی مدح سرائی کے کیا معنی۔
Ayahs 53:21–222 یاقوت نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ کفار ان بتوں کو خدا کے بیٹیاں کہتے تھے۔ سو اول تو خدا " لم یلد ولم یولد " ہے اور بالفرض اولاد کا نظریہ تسلیم کیا جائے تب بھی یہ تقسیم کس قدر بھونڈی اور مہمل ہے کہ تم خود تو بیٹے لے جاؤ اور خدا کے حصہ میں بیٹیاں لگادو۔
Ayah 53:233 یعنی پتھروں اور درختوں کے کچھ نام رکھ چھوڑے ہیں جن کی خدائی کی کوئی سند نہیں۔ بلکہ اس کے خلاف پر دلائل قائم ہیں۔ ان کو اپنے خیال میں خواہ بیٹیاں کہہ لو۔ یا بیٹے یا اور کچھ محض کہنے کی جس کے نیچے حقیقت کچھ نہیں۔
4 یعنی باوجودیکہ اللہ کے پاس سے ہدایت کی روشنی آچکی اور وہ سیدھی راہ دکھا چکا۔ مگر یہ احمق ان ہی اوہام و اہواء کی تاریکیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جو کچھ اٹکل پچو ذہن میں آگیا اور دل میں امنگ پیدا ہو کر گزرے۔ تحقیق و بصیرت کی راہ سے کچھ سروکار نہیں۔
Ayahs 53:24–255 یعنی سمجھتے ہیں کہ یہ بت ہمارے سفارشی بنیں گے۔ یہ خالی خیالات اور آرزوئیں ہیں۔ کیا انسان جو تمنا کرے وہ ہی مل جائے گا۔ یاد رہے دنیا اور آخرت کی سب بھلائی اللہ کے ہاتھ ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بت پوجنے سے کیا ملتا ہے، ملے وہ ہی جو اللہ دے۔
Ayah 53:266 یعنی ان بتوں کی تو حقیقت کیا ہے آسمان کے رہنے والے مقرب فرشتوں کی سفارش بھی کچھ کام نہیں دے سکتی۔ ہاں اللہ ہی جس کے حق میں سفارش کرنے کا حکم دے اور اس سے راضی ہو تو وہاں سفارش بیشک کام دے گی۔ ظاہر ہے اس نے نہ بتوں کو سفارش کا حکم دیا اور نہ وہ کفار سے راضی ہیں۔
Ayahs 53:27–287 یعنی جن کو آخرت کا یقین نہیں وہ سزا کی طرف سے بےفکر ہو کر ایسی گستاخیاں کرتے ہیں۔ مثلاً فرشتوں کو زنانہ قرار دے کر خدا کی بیٹیاں کہہ دیا۔ یہ ان کی محض جہالت ہے۔ بھلا فرشتوں کو مرد اور عورت ہونے سے واسطہ۔ اور خدا کے لیے اولاد کیسی۔ کیا سچی اور ٹھیک بات پر قائم ہونا ہو تو ایسی اٹکلوں اور پادر ہوا اوہام سے کام چل سکتا ہے۔ اور کیا تخمینے اور اٹکلیں حقائق ثابتہ کے قائم مقام ہوسکتی ہیں ؟
Ayahs 53:29–308 یعنی جس کا اوڑھنا بچھونا یہ ہی دنیا کی چند روزہ زندگی ہو کہ اس میں منہمک ہو کر کبھی خدا کو اور آخرت کو دھیان میں نہ لائے، آپ ﷺ اس کی بکواس کو دھیان میں نہ لائیں۔ وہ خدا سے منہ موڑتا ہے۔ آپ ﷺ اس کی شرارت اور کجروی کی طرف سے منہ پھیر لیں۔ سمجھانا تھا سو سمجھا دیا۔ ایسے بدطینت اشخاص سے قبول حق کی توقع رکھنا اور ان کے غم میں اپنے کو گھلانا بیکار ہے۔ ان کی سمجھ تو بس اسی دنیا کے فوری نفع نقصان تک پہنچتی ہے اس سے آگے ان کی رسائی نہیں۔ وہ کیا سمجھیں کہ مرنے کے بعد مالک حقیقی کی عدالت میں حاضر ہو کر ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہے۔ ان کی تمام تر علمی جدوجہد صرف بہائم کی طرح پیٹ بھرنے اور شہوت فرو کرنے کے لیے ہے۔
9 یعنی جو گمراہی میں پڑا رہا اور جو راہ پر آیا، ان سب کو اور ان کی مخفی استعدادوں کو اللہ تعالیٰ ازل سے جانتا ہے۔ اسی کے موافق ہو کر رہے گا۔ ہزار جتن کرو، اس کے علم کے خلاف ہرگز واقع نہیں ہوسکتا۔ نیز وہ اپنے علم محیط کے موافق ہر ایک سے ٹھیک ٹھیک اس کے احوال کے مناسب معاملہ کرے گا۔ لہذا آپ یکسو ہو کر ان معاندین کا معاملہ خدا کے سپرد کردیں۔
Ayah 53:311 یعنی ہر شخص کا حال اس کو معلوم اور زمین و آسمان کی ہر چیز پر اس کا قبضہ۔ پھر نیک و بد کا بدلہ دینے سے کیا چیز مانع ہوسکتی ہے۔ بلکہ غور سے دیکھو تو زمین و آسمان کا یہ سارا کارخانہ پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں زندگی کا ایک دوسرا غیر فانی سلسلہ قائم کیا جائے جہاں بروں کو ان کی برائی کا بدلہ ملے اور نیکوں کے ساتھ ان کی بھلائی کے صلہ میں بھلائی کی جائے۔
Ayah 53:322 گناہ کبیرہ اور صغیر کا فرق سورة " نساء " کے فوائد میں مفصل گزر چکا۔ " لمم " کی تفسیر میں کئی قول ہیں۔ بعض نے کہا کہ جو خیالات وغیرہ گناہ کے دل میں آئیں مگر ان کو عمل میں نہ لائے وہ " لمم " ہیں۔ بعض نے صغیرہ گناہ مراد لیے ہیں۔ بعض نے کہا کہ جس گناہ پر اصرار نہ کرے یا اس کی عادت نہ ٹھہرائے یا جس گناہ سے توبہ کرلے وہ مراد ہے، ہمارے نزدیک بہترین تفسیر وہ ہی ہے جو مترجم محقق قدس اللہ روحہ ' نے سورة " نساء " کے فوائد میں اختیار کی ہے لیکن یہاں ترجمہ میں دوسرے معانی کی بھی گنجائش رکھی ہے۔
3 اسی لیے بہت سے چھوٹے موٹے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور توبہ قبول کرتا ہے۔ گنہگار کو مایوس نہیں ہونے دیتا۔ اگر ہر چھوٹی بڑی خطا پر پکڑنے لگے تو بندہ کا ٹھکانا کہاں۔ یعنی اگر تقویٰ کی کچھ توفیق اللہ نے دی تو شیخی نہ مارو۔ اور اپنے کو بہت بزرگ نہ بناؤ۔ وہ سب کی بزرگی اور پاکبازی کو خوب جانتا ہے۔ اور اس وقت سے جانتا ہے جب تم نے ہستی کے اس دائرہ میں قدم بھی نہ رکھا تھا۔ آدمی کو چاہیے کہ اپنی اصل کو نہ بھولے۔ جس کی ابتداء مٹی سے تھی، پھر بطن مادر کی تاریکیوں میں ناپاک خون سے پرورش پاتا رہا۔ اس کے بعد کتنی جسمانی و روحانی کمزوریوں سے دوچار ہوا۔ آخر میں اگر اللہ نے اپنے فضل سے ایک بلند مقام پر پہنچا دیا تو اس کو اس قدر بڑھ چڑھ کر دعوے کرنے کا استحقاق نہیں۔ جو واقعی متقی ہیں وہ دعویٰ کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اب بھی پوری طرح کمزوریوں سے پاک ہوجانا بشریت کی حد سے باہر ہے۔ کچھ نہ کچھ آلودگی سب کو ہوجاتی ہے۔ الا من عصمہ اللہ۔
Ayah 53:335 یعنی اپنی اصل کو بھول کر خالق ومالک حقیقی کی طرف سے منہ پھیرلیا۔
Ayah 53:346 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی تھوڑا سا ایمان لانے لگا پھر اس کا دل سخت ہوگیا۔ " مجاہد وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ آیات ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئیں۔ حضور ﷺ کی باتیں سن کر اس کو اسلام کی طرف تھوڑی سی رغبت ہو چلی تھی۔ اور کفر کی سزا سے ڈر کر قریب تھا کہ مشرف باسلام ہوجائے۔ ایک کافر نے کہا کہ ایسا مت کر میں تیرے سب جرائم اپنے اوپر لیتا ہوں۔ تیری طرف سے میں سزا بھگت لوں گا۔ بشرطیکہ اس قدر مال مجھ کو دیا جائے۔ اس نے وعدہ کرلیا اور مقررہ رقم کی کچھ قسط ادا کر کے باقی سے انکار کردیا۔ اس صورت میں " وَاَعْطٰی قَلِیْلًا وَاَکْدیٰ " کے معنی یہ ہوں گے کہ کچھ مال دیا، پھر ہاتھ کھینچ لیا۔
Ayah 53:357 یعنی کیا یہ غیب کی بات دیکھ آیا ہے کہ آئندہ اس کو کفر کی سزا نہ ملے گی اور دوسرے کو اپنی جگہ پیش کر کے چھوٹ جائے گا۔
Ayahs 53:36–378 یعنی ابراہیم اپنے قول وقرار اور عہد و پیمان کی پابندی میں پورا اترا اور اللہ کے حقوق پوری طرح ادا کیے اور اس کے احکام کی تعمیل میں ذرہ بھر تقصیر نہ کی۔
Ayah 53:389 یعنی موسیٰ اور ابراہیم کے صحیفوں میں یہ مضمون تھا کہ خدا کے ہاں کوئی مجرم دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی جوابدہی بذات خود کرنا ہوگی۔
Ayah 53:3910 یعنی آدمی جو کچھ کوشش کر کے کماتا ہے وہ ہی اس کا ہے۔ کسی دوسرے کی نیکیاں لے اڑے یہ نہیں ہوسکتا۔ باقی کوئی خود اپنی خوشی سے اپنے بعض حقوق دوسرے کو ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ اس کو منظور کرلے وہ الگ بات ہے جس کی تفصیل حدیث و فقہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔