Ayahs 53:1–41:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' (قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے ثریا (ستارہ) ہے جب وہ غائب ہوجائے اور ایک روایت میں یوں ہے جب وہ فجر کے ساتھ ساقط ہوجائے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ثریا جب واقع ہوجائے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' سے مراد ہے قسم ہے ثریا کی جب وہ لٹک جائے۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' یعنی قسم ہے ثریا (ستارہ) کی جب وہ بلند ہوجائے۔
4:۔ عبدالرزاق (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' یعنی قسم ہے ستارے کی جب وہ غائب ہوجائے۔
5:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' یعنی قسم ہے قرآن کی جب وہ نازل ہوا۔
6:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ (رح) سے (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' کے بارے میں روایت کیا کہ عتبہ بن ابی لھب نے کہا کہ بیشک میں نے نجم کے رب کا انکار کیا۔ معمر نے کہا کہ مجھے طاؤس کے بیٹے نے اپنے باپ سے یہ خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر اپنے کتے کو مسلط فرمادیں ابولہب کا بیٹا لوگوں کے ساتھ سفر میں نکلا یہاں کہ انہوں نے کچھ سفر طے کیا تھا تو انہوں نے شیر کی آواز سنی تو ابو لہب کے بیٹے نے کہا کہ وہ (شیر) میرا ارادہ رکھتا ہے اس کے ساتھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے اور اس کو اپنے درمیان میں کرلیا یہاں تک کہ جب وہ سوگئے شیر آیا اور اس کی کھوپڑی کو پکڑ لیا۔
7:۔ ابوالفرج الاصبہانی نے کتاب الاغانی میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' نازل ہوئی تو عتبہ بن ابی لھب نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ میں نے نجم کے رب کا انکار کیا جب وہ غروب ہوجائے تو نبی کریم ﷺ نے یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتا بھیج دے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ ایک قافلہ کے ساتھ شام کی طرف نکلاان میں ھناد بن اسود بھی تھا یہاں تک کہ جب وہ وادی غاضرہ میں پہنچے تو اس وادی میں طرح طرح کے درندے تھے تو رات کے وقت وہ وہاں ٹھہر گئے انہوں نے ایک صف میں بستر بچھالئے عتبہ نے کہا کیا تم ارادہ کرتے ہو کہ ایک رکاوٹ بنالو نہیں اللہ کی قسم میں تمہارے درمیان رات گزاروں گا پس مجھے درندوں کے سا کوئی مجھے نیند سے نہیں جگائے گا سو وہ درندہ ان میں سے ہر ایک کو سونگھتا ہوا آیا یہاں تک جب وہ اس تک پہنچا تو اس نے اپنی کینچلیاں (یعنی نوکیلے دانت) اس کی کنپٹی میں گاڑ دیئے۔
8:۔ ابونعیم (رح) نے دلائل میں وابن عساکر نے عروہ کے طریق سے ھبار بن اسود (رح) سے روایت کیا کہ ابولہب اور اس کے بیٹے عتبہ نے شام کی طرف تیاری کی اور میں نے بھی اس کے ساتھ تیاری کی ابولہب کے بیٹے نے کہا اللہ کی قسم ! میں محمد کے پاس ضرور جاؤں گا اور ان کو ضرور ایذا دوں گا اس کے رب کے بارے میں وہ چلا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس آپہنچا اور کہنے لگا اے محمد ! ﷺ وہ اس کے ساتھ کفر کرتا ہے یعنی (آیت ) '' ثم دنا فتدلی (1) فکان قاب قوسین اوادنی '' (پھر وہ فرشتہ رسول اللہ ﷺ کے قریب آیا پھر اور قریب آیا سو دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس پر اپنے کتوں کو بھیج دے۔
9:۔ ابو نعیم (رح) نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' تلاوت کی تو عتبہ بن ابی لہب نے کہا میں نے ستارے کے رب کے ساتھ کفر کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو اس پر مسلط کردے۔
ابولہب کے بیٹے پر کتا مسلط ہوا :
10:۔ ابونعیم (رح) نے ابوالضحی (رح) سے روایت کیا کہ ابولہب کے بیٹے نے کہا کہ وہ اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے یہ کہا (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مسلط کردے گا جب یہ خبر اس کے باپ کو پہنچی تو اس نے اپنے ساتھیوں کو وصیت کی۔ جب تم کسی منزل پر اترو تو اس کو اپنے درمیان میں رکھنا انہوں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ جب رات ہوئی تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک درندہ بھیج دیا جس نے اس کو قتل کردیا۔
11:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' حاصل کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے کہ محمد ﷺ نے راہ سے بھٹکے اور نہ غلط رو ہوئے۔
12:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے قرآن کے ستاروں کے ساتھ قسم کھائی کہ محمد ﷺ نہ راہ بھٹکے اور نہ غلط رو ہوئے۔
13:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' یعنی وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے (آیت ) '' ان ھو الا وحی یوحی '' (ان کا ارشاد خالص وحی ہے جو ان کو بھیجی جاتی ہے) یعنی اللہ تعالیٰ جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف وحی فرماتے ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) تک وحی پہنچاتا ہے۔
14:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوالحمراء اور حبۃ العرنی رحمہما اللہ دونوں نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام دروازے بند کرنے کا حکم فرمایا جو مسجد میں تھے یہ حکم ان پر بھاری گزرا حبہ نے کہا بلاشبہ میں دیکھ رہا ہوں حمزہ بن عبدالمطلب کی طرف اور وہ ایک سرخ چادر لئے ہوئے ہیں اور ان کی آنکھیں آنسوں بہا رہی تھیں اور وہ کہہ رہے تھے تم نے اپنے چچا کو اور ابوبکر کو عمر کو اور عباس کو نکال دیا۔ اور اپنے چچا کے بیٹے کو ٹھہرایا ہے اس دن ایک آدمی نے کہا کہ وہ دیر نہیں کریں گے اپنے چچا کے بیٹے کو اٹھانے میں رسول اللہ ﷺ نے یہ جان لیا کہ یہ حکم ان پر بھاری گزار ہے تو آپ نے لوگوں کو بلایا کہ '' الصلاۃ جامعہ '' کہ نماز تیار ہے جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور آپ سے پہلے کبھی ایسا فصیح وبلیغ خطبہ نہیں سنا گیا آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف وتحمید اور وحدانیت کا ذکر فرمایا جب آپ فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا اے لوگوں میں نے کسی دروازے کو بند نہیں کیا اور نہ میں نے اس کو کھولا اور نہ میں نے تم کو نکالا اور نہ میں نے اس کو ٹھہرایا پھر یہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی ' (1) ماضل صاحبکم وما غوی (2) وما ینطق عن الھوی (3) ان ھوالا وحی یوحی (4) '' (اور قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یہ تمہارے ساتھ رہنے والے (یعنی محمد ﷺ نہ راہ سے بھٹکے اور نہ غلط رو ہوئے اور نہ یہ اپنی نفسانی خواہش سے باتیں بناتے ہیں بلکہ ان کا ارشاد خالص وحی ہے جو ان کو بھیجی جاتی ہے۔ )
15:۔ احمد والطبرانی والضیاء نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی کی سفارش سے جو کم نبی نہیں ہیں دو قبیلوں یعنی ربیعہ اور مضر یا دونوں سے ایک مثل جنت میں داخل ہوں گے، ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ربیعہ مضر سے ہیں ؟ اور آپ نے فرمایا بلاشبہ میں کہہ رہا ہوں جو میں کہہ رہا ہوں۔
آپ (علیہ السلام) کے ارشادات وحی غیر متلو ہے :
16:۔ البزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو کچھ میں تم کو خبر دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ ایسی خبر ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں۔
17:۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا آپ کے اصحاب میں بعض نے کہا بلاشبہ آپ یا رسول اللہ ہم سے ہنسی مذاق بھی فرماتے ہیں تو آپ نے فرمایا بلاشبہ میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔
18:۔ الدارمی نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) سنت لے کر اس طرح نازل ہوتے ہیں جیسے قرآن لے کر نازل ہوتے تھے۔
Ayah 53:51:۔ ابن جریر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' علمہ شدید القوی '' (ان کو بڑے طاقتور فرشتے نے تعلیم دی) یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' علمہ شدید القوی '' سے مراد ہے جبرائیل (علیہ السلام) (آیت ) '' ذومرۃ '' (جو پیدائش طور پر طاقتور ہے) یعنی جو طویل الخلقت اور خوبصورت ہے۔
3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' علمہ شدید القوی '' سے مراد ہے کہ ان کو سکھایا یاقوت و طاقت والے جبرائیل (علیہ السلام) نے۔
Ayah 53:64:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذومرۃ '' سے مراد ہے خوبصورت پیدائش والے۔
5:۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ' ' ذو مرۃ '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کے امر کے بارے میں زبردست قوت اور طاقت والا ہو۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ بنی ذیبان کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
فدی اقربہ اذ ضافنی وھنا قری ذی مرۃ حازم :
ترجمہ : اس نے فدیہ دینے کا اقرار کیا جب وہ میرے ہاں مہمان بنا اور یہ تو طاقت ور محتاط اور مستقل مزاج (سردار) کی بستیاں ہیں۔
Ayahs 53:7–86:۔ احمد وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کو (اصلی) صورت میں نہیں دیکھا مگر دو مرتبہ پہلی مرتبہ جب آپ نے ان سے سوال کیا کہ وہ ان کو اپنی اصلی صورت دکھائے تو انہوں نے اپنی اصلی صورت دکھائی جس نے آسمان کے کناروں کو بند کردیا اور دوسری مرتبہ جبکہ وہ آپ کے ساتھ آسمان کے اوپر چڑھے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' وھو بالافق الاعلی (7) لقدرای من ایت ربہ الکبری '' (اس وقت وہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر تھا انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے یعنی جبرائیل (علیہ السلام) پیدا کئے گئے۔
7:۔ احمد وعبد بن حمید وابن المنذر (رح) ولطبرانی (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔ ان میں سے ہر پر نے آسمان کے کنارے کو بھر دیا اور ان کے پروں سے رنگ برنگے زیورات موتی اور یاقوت گرتے ہوئے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی حقیقی علم رکھتے ہیں۔
8:۔ ابن جریر (رح) وابوالشیخ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے سدرۃ المنتہی کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے اور ان کے پروں سے مختلف رنگوں کے زیورات موتی اور یاقوت جھڑتے ہیں۔
9:۔ ابن ال منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وھو بالافق الاعلی '' میں افق اعلی سے مراد مطلع الشمس ہے۔
10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' وھو بالافق الاعلی '' کے بارے میں روایت کیا کہ حسن (رح) نے فرمایا کہ افق اعلی مشرقی کنارے پر ہے (آیت ) '' ثم دنا فتدلی '' (پھر وہ فرشتہ رسول اللہ ﷺ کے قریب آیا پھر اور قریب آیا یعنی جبرائیل (علیہ السلام) (آیت ) '' فکان قاب قوسین '' (سو دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا) یعنی دو کمانوں کا فاصلہ (آیت ) '' اوادنی '' (یا اس سے بھی کم) یعنی جہاں قوس کا تانت ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ جبرائیل (علیہ السلام) کے اتنا قریب ہوئے۔
Ayahs 53:9–1011:۔ البخاری (رح) ومسلم (رح) والترمذی (رح) (وصححہ) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی ابوالشیخ والضحاک (وصحح) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم (رح) والبیہقی (رح) نے الدلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکان قاب قوسین '' سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔
کوئی غلطی نہیں کی) یعنی رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا ان پر سبز رفرف (باریک ریشم) کے دو جوڑے ہیں اور انہوں نے آسمان اور زمین کے درمیان ساری جگہ کو بھر دیا ہے۔
جبرائیل امین (علیہ السلام) محلہ اجیاد میں ملاقات :
13:۔ ابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی پہلے یہ کیفیت تھی کہ انہوں نے اپنی نیند میں جبرائیل (علیہ السلام) کو محلہ اجیاد میں دیکھا پھر آپ اپنی بعض ضرورت کے لئے باہر نکلے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے زور سے آوازدی اے محمد ﷺ اے محمد ﷺ آپ نے داہنی اور بائیں طرف دیکھا تو تین بار ایسا ہوا تو پھر آپ نے اپنی نظر کو اوپر اٹھایا تو اچانک وہ ( یعنی جبرائیل (علیہ السلام) یا افق آسمان پر اپنی ایک ٹانگ موڑ کر دوسری پر رکھے ہوئے تھے انہوں نے کہا اے محمد ﷺ میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں پھر آپ کو اطمینان دلانے لگے تو نبی کریم ﷺ بھاگ گئے یہاں تک کہ لوگوں میں داخل ہوگئے پھر دیکھا تو کچھ بھی نظر نہ آیا پھر لوگوں میں سے نکلے پھر ان کو دیکھ لیا اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ قول ہے (آیت ) '' والنجم اذا ھوی (1) ماضل صاحبکم وما غوی '' سے لیکر '' ثم دنی فتدلی '' یعنی جبرائیل (علیہ السلام) قریب ہوئے محمد ﷺ سے (آیت ) '' فکان قاب قوسین او ادنی '' میں القاب سے مراد ہے آدھی انگلی (آیت ) '' فاوحی الی عبدہ ما اوحی '' (پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرمائی یعنی جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو اپنے رب عزوجل کے قریب ہوئے پھر اور زیادہ قریب ہوئے۔
15:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ثم دنا '' یعنی اپنے رب کے قریب ہوئے (آیت ) '' فتدلی '' اور قریب ہوئے۔
16:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکان قاب قوسین '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ان کے قریب ہوئے دو کمانوں کی مقدار اور عبد بن حمید (رح) نے فرمایا کہ آپ کے اور ان کے درمیان دو کمانوں کی مقدار (فاصلہ) تھا
17:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکان قاب قوسین '' سے مراد ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) ان کے قریب ہوئے یہاں تک کہ ایک ذراع یا دو ذراع کا فاصلہ رہ گیا۔
18:۔ الطبرانی وابن مردویہ والضیاء نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکان قاب قوسین اوادنی '' میں القاب سے مراد ہے فاصلہ اور قوسین سے مراد ہے دوزراع۔
19:۔ الطبرانی نے السنۃ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' قاب قوسین '' سے مراد ہے دو زراع کی مقدار القاب سے مراد ہے مقدار القوس سے مراد ہے ذراع۔
20:۔ شقیق بن سلمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکان قاب قوسین '' سے مراد ہے دو ذراع اور القوس سے مراد وہ ذراع ہے جس کے ساتھ ہر چیز کی پیمائش کی جاتی ہے۔
21:۔ سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ ذراع ہے جس سے پیمائش کی جاتی ہے۔
22:۔ آدم بن ابی ایاس والفریابی والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' قاب قوسین '' سے مراد ہے جہاں تانت ہوتی ہے قوس میں یعنی آپ اپنے رب سے اتنے قریب ہوگئے۔
23:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) اور عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آپ ان سے (اتنا) قریب ہوئے یہاں تک کہ آپ کے اور ان کے درمیان اتنا فاصلہ تھا جسے کمان کے دونوں کناروں سے لے کر تانت تک کے درمیان ہوتا ہے۔
24:۔ الطبرانی نے السنۃ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' قاب قوسین '' سے مراد ہے دو کمانوں کی مقدار۔
25:۔ حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' قاب قوسین '' سے مراد ہے تمہاری ان قوموں میں سے دو قوموں کی مقدار۔
26:۔ ابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ کو آسمان پر تشریف لے گئے تو آپ اپنے رب کے قریب ہوئے (آیت ) '' فکان قاب قوسین اوادنی '' فرمایا کیا تو نے کمان کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ تانت کے کتنا قریب ہوتی ہے۔
27:۔ عبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ '' القاب '' سے مراد کمان کے کنارے کا وہ بچا ہوا حصہ جو تانت کے اوپر ہوتا ہے۔
Ayah 53:1112:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) فی الدلائل ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ماکذب الفوادما رای '' (دل نے دیکھی ہوئی چیز میں
28:۔ النسائی وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاوحی الی عبدہ ما اوحی '' یعنی اپنے بندے محمد ﷺ (کی طرف وحی فرمائی )
29:۔ الطبرانی نے السنۃ میں اور الحکیم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے بڑا نور دیکھا اور اس کے میرے سامنے موتیوں اور یاقوت والا اپنا ریشمی پردہ لٹکادیا پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف جو وحی کرنا چاہی وہ وحی فرمائی۔
30:۔ ابوالشیخ (رح) و ابونعیم (رح) نے دلائل میں سریج بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ آسمان کی طرف اوپر چڑھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف وحی فرمائی جو وحی فرمائی فرمایا جب جبرائیل (علیہ السلام) نے رب کے قریب ہونا محسوس کیا تو آپ سجدہ میں گرپڑے وہ مسلسل اس ذات کی تسبیحات پڑھتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف فیصلہ فرمایا جو فیصلہ فرمایا پھر آپ نے اپنا سرمبارک اٹھایا پھر میں نے اسے اس کی اصلی حالت میں دیکھا جس پر اسے پیدا کیا گیا کہ اس کے پر پروئے ہوئے تھے زبرجد موتی اور یاقوت کے ساتھ مجھے خیال آیا کہ وہ فاصلہ جو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہے اس نے مشرق اور مغرب کے درمیان بند کردیا ہے اور میں نے اس سے پہلے اس کو نہیں دیکھا تھا مگر مختلف صورتوں پر اور اکثر اوقات میں اس کو دحیہ کلبی کی صورت پر دیکھا کرتا تھا اور بسا اوقات اس سے پہلے میں اسے نہیں دیکھا تھا مگر اس طرح جیسے ایک آدمی اپنے ساتھی کو چھلنی کے پیچھے سے دیکھتا ہے۔
31:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس دحیہ کلبی کی صورت میں آتے تھے۔
رب العزت کی زیارت :
32:۔ مسلم واحمد والطبرانی وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ما کذب الفؤاد ما رای (11) افتمرونہ علی ما یری (12) ولقد راہ نزلۃ اخری (13) '' (دل نے دیکھی ہوئی چیز میں کوئی غلطی نہیں کی اور انہوں نے اس کو ایک دفعہ اور بھی دیکھا) یعنی محمد ﷺ نے اپنے دل (کی آنکھوں) کے ساتھ اور دو مرتبہ اپنے رب کو دیکھا۔
33:۔ عبد بن حمید (رح) والترمذی (وحسنہ) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ما کذب الفؤاد ما رای '' سے مراد ہے کہ آپ نے اپنے دل (کی آنکھوں) کے ساتھ اس کو دیکھا۔
Ayah 53:1234:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) '' افتمرونہ '' اور اس کی تفسیر کرتے کہ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔
35:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) '' افتمرونہ '' پھر فرمایا جس نے اس کو پڑھا (آیت ) '' افتمرونہ '' تو اس نے کہا کیا تم اس سے جھگڑا کرتے ہو اس بارے میں۔
36:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو (آیت ) '' افتمرونہ '' پڑھا کرتے تھے۔
37:۔ عبد بن حمید (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ شریح (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) '' افتمرونہ '' الف کے ساتھ اور مسروق (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) '' افتمرونہ '' (بغیر الف کے )
38:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔
39:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
40:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ایک مرتبہ اپنی آنکھوں سے اور مرتبہ اپنے دل سے۔
Ayah 53:1341:۔ الترمذی والطبرانی وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' ولقد راہ نزلۃ اخری '' کے بارے میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔
42:۔ عبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن المنذر (رح) والحاکم وابن مردویہ (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ کعب ؓ سے عرفات میں ملے اور ان سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا اور پھر اس طرح اللہ اکبر کہا کہ پہاڑوں نے بھی اس کا جواب دیا ابن عباس ؓ نے فرمایا ہم بنو ہاشم یہ گمان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم کہیں کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا تو کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی رؤیت کو اور اپنے کلام کو تقسیم فرمادیا موسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان محمد ﷺ نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو دوبارہم کلامی کا شرف حاصل ہوا، مسروق (رح) نے فرمایا میرے پاس عائشہ ؓ تشریف لائیں اور میں نے کہا کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تو انہوں نے فرمایا تو نے اس چیز کے بارے میں بات کی کہ اس کے لئے میرے بال کھڑے ہوگئے میں نے کہا تھوڑی سی مہلت دیجئے پھر میں نے یہ (آیت) پڑھی '' لقد رای من ایت ربہ الکبری '' (انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے عائشہ ؓ نے فرمایا تجھ کو کہا لے جایا جارہا ہے بلاشبہ وہ جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں جو تجھ کو یہ خبر دے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا یا انہوں نے کسی چیز کو دچھپایا ان چیزوں میں سے جن کا حکم دئیے گئے، یا وہ ان پانچ چیزوں کو جانتے تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' ان اللہ عندہ علم الساعۃ '' (کے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے قیامت کا علم) الا یہ تو اس نے بڑا جھوٹ باندھا لیکن آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا آپ نے ان کو اپنی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ایک مرتبہ سدرۃ المنتہی کے پاس اور ایک مرتبہ محلہ اجیاد کے پاس ان کے چھ سو پر تھے اور اس نے سارے افق کو بند کردیا تھا۔
43:۔ النسائی والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تم تعجب کرتے ہو کہ خلوت ہو ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے اور کلام ہو موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے اور رؤیت ہو محمد ﷺ کے لئے۔
44:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔
45:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب کو بہت اچھی صورت میں دیکھا مجھ سے فرمایا اے محمد کیا تو جانتا ہے کون سی چیز میں ملاء اعلی کے فرشتے جھگڑ رہے ہیں میں نے عرض کیا اے میرے رب میں نہیں جانتا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ مبارت میرے کندھوں کے درمیان رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے کے درمیان محسوس کیا۔ اور میں نے جان لیا جو کچھ آسمان اور زمین میں تھا میں نے عرض کیا میرے رب درجات کفارات اور جماعات کی طرف قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کرنے کے بارے میں (وہ گفتگوکر رہے ہیں) پھر میں نے عرض کیا اے میرے رب آپ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا موسیٰ (علیہ السلام) کو کلام فرمایا اور آپ نے ایسا کیا اور ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تیرے سینے کو نہیں کھول دیا ؟ کیا میں نے تجھ سے تیرے بوجھ کو نہیں اتارلیا کیا ؟ میں نے تیرے ساتھ ایسا نہیں کیا ؟ کیا میں نے ایسا نہیں کیا ؟ پس اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسی اشیاء ظاہر فرمائیں کہ مجھے اجازت نہیں دی گئی کہ میں ان کو بیان کروں اسی کو فرمایا (آیت ) '' ثم دنا فتدلی (8) فکان قاب قوسین اوادنی (9) فاوحی الی عبدہ ما اوحی (10) ما کذب الفؤاد مارای (11) یعنی میرا نور بصر کو میرے دل میں ڈالا تو میں نے اسے اپنے دل سے دیکھا۔
46:۔ ابن اسحاق والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں (وضعفہ) عبداللہ بن ابی سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمر بن خطاب ؓ نے عبداللہ بن عباس ؓ کی طرف ایک آدمی کو یہ سوال کرنے کے لئے بھیجا کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ؟ عبداللہ بن عباس ؓ نے ان کی طرف یہ پیغام بھیجا ہاں (دیکھا ہے) عبداللہ بن عمر ؓ نے اس قاصد کو یہ پوچھنے کے لئے واپس لوٹایا آپ نے اپنے رب کو کیسے دیکھا پھر انہوں نے یہ جواب بھیجا کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کو سبز باغ میں دیکھا اس میں سونے کا فرش تھا۔ اور سونے کی کرسی پر وہ اپنی شان قدرت کے مطابق تشریف تھے اور کرسی کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں تھا دوسرا بیل کی صورت میں تھا تیسرا گدھ کی صورت میں تھا اور چوتھا شیر کی صورت میں تھا۔
47:۔ البیہقی (رح) فی الاسماء والصفات (وضعفہ) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ فرمایا ہاں (اس حال میں) ان کو دیکھا ہے گویا کہ ان کے قدم سبزے پر تھے جس کے پیچھے موتیوں کا پردہ تھا میں نے عرض کیا اے ابن عباس ؓ ! کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ہیں (آیت ) '' لا تدرکہ الابصار '' (اس کو آنکھیں نہیں پاسکتیں) پھر فرمایا تیری ماں نہ ہو اس سے مراد اس کا وہ نور ہے جو اس کا ذاتی نور ہے، تو جب وہ اس نور سے تجلی ڈالیں گے تو کوئی چیز اس کا ادراک نہیں کرسکے گی۔
48:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرضی (رح) نے نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھ سے نہیں دیکھا اور میں نے اس کو اپنے دل کے ساتھ دیکھادو مرتبہ پھر یہ (آیت ) '' ثم دنا فتدلی '' تلاوت کی۔
49:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ؟ فرمایا میں نے نہر کو دیکھا اور میں نے نہر کے پیچھے پردہ کو دیکھا اور میں نے نور کے پردے کو دیکھا اس کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔
50:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد راہ نزلۃ اخری '' سے مراد ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے دل کے ساتھ اسے دیکھا اور اپنی آنکھوں سے ان کو نہیں دیکھا۔
51:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ما کذب الفؤاد ما رای '' سے مراد ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے رب کو اپنے دل کے ساتھ دو مرتبہ دیکھا۔
52:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں یہ گمان نہیں رکھتا کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے اور میں یہ گمان نہیں رکھتا کہ آپ نے ان کو نہیں دیکھا۔
53:۔ مسلم الترمذی وابن مردویہ (رح) نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو نہیں دیکھا ہے فرمایا '' نورانی اراہ '' یعنی وہ نور ہے میں نے اس کو دیکھا ہے اور اگر اس کو نورانی پڑھا جائے تو یہ معنی ہوگا (وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں) ۔
54:۔ مسلم وابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ـ فرمایا میں نے ایک نور کو دیکھا ہے۔
55:۔ عبدبن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) ابن مردویہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے رب کو اپنے دل سے دیکھا ہے اور اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔
اللہ تعالیٰ کی زیارت دل سے ہوئی :
56:۔ النسائی نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو اپنے دل کے ساتھ دیکھا ہے اور ان کو اپنی نظر سے نہیں دیکھا۔
57:۔ مسلم والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد راہ نزلۃ اخری '' سے مراد ہے کہ آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا۔
58:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا۔
59:۔ عبد بن حمید (رح) نے مرہ حمدانی (رح) سے روایت کیا کہ آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی صورت میں دو مرتبہ آئے آپ نے ان کو سرسبز شاداب جگہ میں دیکھا جس کے ساتھ موتی لٹک رہے تھے۔
60:۔ عبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ولقد راہ نزلۃ اخری '' سے مراد ہے کہ آپ نے سدرۃ المنتہی کے پاس ایک بہت بڑے نور کو دیکھا۔
61:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے (آیت ) '' ولقد راہ نزلۃ اخری '' کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اس حال میں دیکھا کہ ان کی ٹانگ سدرۃ سے معلق ہے اور پر ہیرے موتی اس طرح چمک رہے ہیں جیسا کہ بارش کے قطرے ہوتے ہیں سبزیوں پر۔
62:۔ ابوالشیخ نے ابن مسعود ؓ سے (آیت ) '' ولقد راہ نزلۃ اخری (13) عند سدرۃ المنتھی '' کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں سدرۃ کے پاس دیکھا ان کے چھ سو پر تھے ان میں سے ایک پر آسمان کے کناروں کو ڈھکے ہوے تھا اور اس کے پروں سے رنگ برنگ کے آلات موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے جن کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 53:14معرج کے موقع پر نبی (علیہ السلام) کو ملنے والا تحفہ :
63:۔ احمد وعبدبن حمید (رح) ومسلم الترمذی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ البیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کرائی گئی تو آپ سدرۃ المنتہی تک پہنچے اور یہ چھٹے آسمان میں ہے جو روحیں اوپر چڑھتی ہیں وہ یہاں تک پہنچتی ہیں اور ان کو قبض کرلیا جاتا ہے۔ اور جو چیز اس کے اوپر سے اترتی ہے وہ بھی یہاں تک پہنچتی ہے اور یہاں سے اسے قبض کرلیا جاتا ہے۔ فرمایا (آیت ) '' عند سدرۃ المنتھی '' (جب سدرۃ المنتہی کو لپٹ رہی تھی جو چیزیں لپٹ رہی تھیں) یعنی وہ بچھونا تھا سونے کا (اور) فرمایا رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں دی گئیں پانچ نمازیں دی گئیں اور سورة بقرہ کی آخری آیات دی گئیں اور آپ کی امت میں سے اس شخص کے جہنم میں ڈالنے والے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیا جائے گا جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنایا۔
64:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سدرۃ المنتہی کے بارے میں پوچھا گیا تور فرمایا یہاں تک کہ ہر عالم کا علم اس تک رک جاتا ہے اور جو کچھ اس کے آگے ہے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
65:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا سدرۃ المنتہی کیوں نام رکھا گیا ؟ فرمایا اللہ کے حکم پر ہر چیز اس کے پاس آکر رک جاتی ہے اس سے آگے تجاوز نہیں کرتی۔
66:۔ ابن جریر (رح) نے شمر (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے کعب ؓ سے پاس آئے اور فرمایا مجھے سدرۃ المنتہی کے بارے میں بیان کیجئے انہوں نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ میری عرش کی جڑ میں ہے ہر مقرب فرشتے اور بنی اسرائیل کا علم یہاں آکر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے آگے جو غیب ہے اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
67:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ وہ بیری عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کے سروں پر یہاں تک مخلوق کا علم ختم ہوجاتا ہے پھر اس کے آگے کا کسی کو علم نہیں ہے اس لئے اس کا نام سدرۃ المنتہی رکھا گیا کیونکہ اس کے پاس علم کی انتہا ہوجاتی ہے۔
68:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے کعب سے پوچھا کہ سدرۃ المنتہی کیا ہے فرمایا وہ بیری ہے جس تک فرشتوں کا علم ختم ہوجاتا ہے۔ اور اس کے پاس وہ اللہ کا حکم پاتے ہیں اس سے آگے علم تجاوز نہیں کرتا پھر میں نے ان سے جنت الماوی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ ایک باغ ہے جس میں سبز پرندے ہیں کہ اس میں شہداء کی روحیں ترقی کی منزلیں طے کرتی ہیں۔
69:۔ الفریابی (رح) وابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) والطبرانی (رح) نے ابن مسعود ؓ سے (آیت ) '' عند سدرۃ المنتھی '' کے بارے میں روایت کیا کہ فرمایا یہ جنت کا درمیانی حصہ ہے جس میں باریک اور موٹے ریشم کا زائد کپڑا ڈال دیا گیا۔
70:۔ احمد وابن جریر (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں سدرۃ تک پہنچ کر رک گیا تو دیکھا اس کے بیر مکڑیوں کی طرح اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے جب اس کو اللہ کے حکم میں (کسی چیز نے) ڈھانک لیا جو کچھ اس کو ڈھانک لیا تو وہ یاقوت اور زمرد میں اور اسی طرح کی اور چیزوں میں بدل جاتی ہیں۔
71:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) سے (آیت ) '' سدرۃ المنتھی '' کے بارے میں روایت کیا کہ آخرت میں پہلا دن اور دنیا میں آخری دن وہ ہے جہاں (دنیا) کی انتہا ہوگی)
سدرۃ المنتہی کی کیفیت :
72:۔ ابن جریر (رح) والحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سدرۃ المنتہی کی صفت بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک سوار آزمائش کے دور پر اس سے سو سال چلے گا اور سو شہسوار آزمائشوں کی وجہ سے اس کا سایہ حاصل کریں گے اس میں سونے کے بچھونے ہیں اور اس کے پھل مٹکوں کی طرح ہیں۔
73:۔ الحکیم الترمذی ابویعلی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' (جب سدرۃ المنتہی کو لپٹ رہی تھیں۔ جو چیزیں لپٹ رہی تھیں) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اس کو دیکھا جب میں نے اس کی وضاحت چاہی تو اس کے آگے سونے کا بچھونا حائل ہوگیا۔
Ayah 53:1574:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) '' عندھا جنۃ الماوی '' پڑھا (اس کے قریب جنت الماوی ہے) اور آپ نے اس پر عیب لگایا جس نے پڑھا (آیت ) '' جنۃ الماوی ''
75:۔ عبدبن حمید (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے (آیت ) '' جنۃ الماوی '' پڑھا یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے دیوانہ بنادیا کیونکہ یہ (آیت ) '' جنۃ الماوی '' ہے
76:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) '' عندھا جنۃ الماوی '' کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عرش کے داہنی طرف ہے اور وہ شہد کا گھر ہے۔
77:۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جنت ساتویں بلند آسمان میں ہے اور دوزخ ساتویں نچلی زمین میں ہے۔
78:۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت ) '' عندھا جنۃ الماوی '' یعنی یہ رات گزارنے کی جنت ہے۔
Ayahs 53:16–1879:۔ آدم بن ابی ایاس والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' کے بارے میں روایت کیا کہ بیری کی ٹہنیاں موتی اور یاقوت کی ہیں محمد ﷺ نے اپنے دل سے اسے اور اپنے رب کو دیکھا ہے۔
80:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' سے مراد ہیں فرشتے (کہ فرشتوں نے اس بیری کو ڈھانک لیا تھا)
81:۔ عبد بن حمید (رح) نے سلمہ بن وھرام (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتوں نے رب تبارک وتعالیٰ سے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کرنے کی اجازت طلب کی تو انکو اجازت دی گئی تو فرشتے بیری پر چھاگئے تاکہ وہ نبی کریم ﷺ کی زیارت کرسکیں۔
82:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے یعقوب بن زید (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کیا آپ نے فناء سدرہ (یعنی سدرہ کا میدان دیکھا ہے) فرمایا وہ سونے کا ایک فرش ہے۔
83:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) ' ' اذ یغشی السدرۃ ما یغشی '' کے بارے میں فرمایا کہ میں نے اس کو معراج کی رات میں دیکھا کہ اس کو سونے ٹڈیوں نے گھیر لیا تھا۔
84:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' مازاغ البصر '' (نگاہ ہٹی) یعنی آپ کی آنکھ نہ تو دائیں طرف گئی اور نہ بائیں طرف گئی (آیت ) '' وما طغی '' (اور نہ پڑھی یعنی آپ نے اس سے تجاوز کیا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا )
85:۔ الفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید والبخاری وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی وابن مردویہ (رح) وابو نعیم والبیہقی (رح) فی الدلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لقد رای من ایت ربہ الکبری '' (انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے) یعنی آپ نے سبز رفرف کو دیکھا جنت میں سے جس نے آسمان کے کناروں کو بند کردیا تھا۔
86:۔ ابن جریر بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مجھے اوپر (آسمانوں پر) لے جایا گیا جبرائیل (علیہ السلام) چلتے رہے یہاں تک کہ وہ جنت میں آگئے جب میں داخل ہوا تو مجھے نہر کوثر دی گئی پھر آگے چلے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہی پر پہنچ گئے پھر رب تیرا قریب ہوا اتنا قریب ہوا کہ دو کمانوں سے کم فاصلہ رہ گیا۔
87:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میں بیری تک پہنچا تو اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے بیر مٹکوں کی طرح تھے جب اس پر اللہ کا امر اس پر چھا گیا تو جو کچھ چھا گیا تو وہ بدل گئی (اور) پھر آپ نے یاقوت کا ذکر فرمایا۔
88:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ سدرۃ المنتہی وہ مقام ہے جہاں پر نبی کریم ﷺ اور ہر فرشتے کے امر کو انتہا ہوتی ہے۔
Ayahs 53:19–211:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لات ایک آدمی تھا جو حاجیوں کے لئے ستوتلتا تھا عبید بن حمید (رح) نے الفاظ اس طرح ہیں کہ وہ ستوتلتا تھا اور حاجی لوگ اسے پانی پلاتے تھے۔
2:۔ النسائی وابن مردویہ نے ابوالطفیل (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کرلیا تو خالد بن ولید کو نخلہ کی طرف بھیجا وہاں عزی (بت) تھا خالد وہاں آئے تو وہ تین ببول کے درخت تھے انہوں نے درخت کو کاٹا اور اس مکان کو گرادیا جس پر وہ تھا پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان کو خبر دی آپ نے فرمایا واپس جاؤ تو نے کچھ نہیں کیا خالد واپس آئے جب وہاں کے دربانوں نے آپ کو دیکھا تو وہ دوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے اور کہہ رہے تھے اے عزی، اے عزی ! خالد ان کے پاس آئے اچانک وہ ایک عورت تھی جو اپنے بالوں کو پھیلائے ہوئے ننگی حالت میں تھی اپنے سر پر لپ بھر کر مٹی ڈال رہی تھی آپ نے تلوار کے ساتھ اس پر وار کیا یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا پھر رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس آئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی آپ ﷺ نے فرمایا وہ عزی تھی (جس کو تو نے قتل کیا ) ۔
3:۔ الطبرانی وابن مردویہ (رح) نے اب عباس ؓ سے روایت کیا کہ عزی بطن نخلہ میں تھا اور لات طائف میں تھا اور مناۃ وادی قدید میں تھا۔
'' لات '' بت کی حقیقت :
4:۔ سعید بن منصور والحاکم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں لات ایک آدمی تھا طائف کی چٹان پر اس کی بکریاں تھیں وہ ان کا دودھ لیتا اور طائف کی کشمش اور پنیر لیتا اور اس سے حسیس (حلوا) تیار کرتا تھا۔ اور لوگوں میں سے جو گزرتا اس کو کھلاتا جب وہ مرگیا تو لوگ اس کی پوجا کرنے لگے اور انہوں نے کہا وہ لات ہے۔ اور مجاہد (رح) لات کو مشدد پڑھتے تھے۔
5:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لات حاجیوں کے لئے ستوتلتا تھا جو اس میں سے پیتا تو وہ موٹا ہوجاتا (اس پر) لوگوں نے اس کی پوجا (شروع) کردی۔
6:۔ الفاکھی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لات جب مرگیا تو عمروبن یحییٰ نے ان سے کہا کہ وہ نہیں مرا لیکن وہ چٹان میں داخل ہوگیا تو لوگوں نے اس کی عبادت شروع کردی اور اس پر ایک عمارت تعمیر کردی۔
7:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) '' افرء یتم اللات '' (کیا تم نے لات کو نہیں دیکھا) کہ بارے میں میں روایت کیا کہ یہ قبیلہ ثقیف میں سے ایک آدمی تھا جو زیتون کے ساتھ ستو کو تلتا تھا جب وہ مرگیا تو اس کی قبر کو بت بنالیا اور لوگوں نے گمان کیا کہ وہ عامر بن ظرب تھا جس نے دشمن کو پکڑا تھا۔
8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) (آیت ) '' افرء یتم اللت والعزی '' (کیا تم لات اور عزی کو دیکھتے ہو) کے بارے میں روایت کیا کہ لات ستوتلتا تھا طائف میں تو لوگ اس کی قبر پر اعتکاف کرنے لگے اور عزی کانٹے دار درخت تھے۔
9:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' افرء یتم اللت والعزی '' (19) ومنوۃ '' یعنی یہ (تینوں جھوٹے) معبود تھے کہ وہ لوگ ان عبادت کرتے تھے لات طائف والوں کا بت تھا عزی قریش کا بت تھا، شعیب کے مقام پر بطن نخلہ میں اور منات انصار کا بت تھا وادی قدید میں۔
10:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابوصالح (رح) سے روایت کیا کہ لات وہ آدمی تھا جو ان کے معبودوں پر کھڑا رہتا تھا اور ان کے لئے ستوتلتا تھا اور عزی کھجور کا ایک درخت تھا جس پر لوگ زرہیں اور رنگ برنگی اون لٹکاتے تھے اور منات وادی قدید میں ایک پتھر تھا۔
11:۔ عبدبن حمید (رح) نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ لات ایک پتھر ہے جس پر ستو تلے جاتے تھے۔
Ayahs 53:22–23قولہ تعالیٰ : (آیت) '' تلک اذا قسمۃ ضیزی ''
12:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) '' ضیزی '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے ظلم کرنے والی پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے امرؤالقیس کا یہ قول نہیں سنا۔
ضازت بنواسد بحکمھم اذیعدلون الراس بالذنب :
ترجمہ : بنواسد نے ظلم کیا اپنے فیصلہ کے ساتھ کیونکہ وہ سرکودم کے برابر قرار دیتے ہیں۔
13:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ضیزی '' سے مراد منقوصۃ یعنی جس کو کم کردیا گیا۔
14:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ضیزی '' سے مراد ہے ظلم کرنے والی۔
15:۔ عبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
16:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ضیزی '' سے مراد ایسی ظلم اور زیادتی ہے جس میں کوئی حق نہ ہو۔
Ayahs 53:24–25قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ام للانسان ماتمنی ''
17:۔ احمد والبخاری والبیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی تمنا کرے تو اس کو دیکھنا چاہئے کہ اس نے کیا تمنی کی کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی آرزو اور خواہش کے سبب اس کے لئے لکھا جائے گا۔
Ayahs 53:26–27قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وکم من ملک فی السموت '' (الآیہ)
18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' وکم من ملک فی السموت لاتغنی شفاعتھم شیأا '' اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی یعنی ان کا یہ کہنا کہ غرانقہ یعنی خوبصورت لڑکے اور لڑکیاں سفارش کریں گے (جب فرشتے سفارش نہیں کرسکتے تو بت کیسے سفارش کریں گے )
Ayahs 53:28–301:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ دین کے بارے میں رائے دینے سے ڈرو بلاشبہ وہی رائے جو رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ہے وہی صحیح رائے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو دکھا دیتا ہے۔ بلاشبہ وہ رائے یہاں مخفی تکلف اور گمان ہے۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) وان الظن لا یغنی من الحق شیأا '' (اور بلاشبہ گمان امر حق میں ذرا بھی مفید نہیں ہوتے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' ذلک مبلغھم من العلم ''
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذلک مبلغھم من العلم '' (ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی ہے) سے مراد ہے یہ ان کی رائے ہے۔
مجلس میں پڑھنے کی دعاء :
3:۔ الترمذی (وحسنہ) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ بہت کم رسول اللہ ﷺ اپنی مجلس میں کھڑے ہوتے تھے یہاں تک کہ اپنے اصحاب کرام کے لئے اس قسم کی دعائیں کرتے تھے :
اللہم اقسم لنا من خشیتک ماتحول بیننا وبین معاصیک ومن طاعتک ماتبلغنا بہ جنتک ومن الیقین ماتھون علینا مصیبات الدنیا ومتعنا باسما عنا وابصارنا وقوتنا ما احییتنا واجعلہ الوارث منا، واجعل ثارنا علی من ظلمنا، وانصرنا علی من عادانا ولا تجعل مصیبتنا فی دیننا ولا تجعل الدنیا اکبرھمنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علینا من لا یرحمنا۔
ترجمہ : اے اللہ تعالیٰ ہم کو ایسی خشیت اور خوف عطا کر جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو اور ایسی طاعت و عبادت کا ذوق عطا فرما جو ہم کو تیری جنت میں پہنچا دے وہ یقین عطا فرما جو ہم پر دنیا کی مصیبتیں آسان کردے۔ اور ہم کو قوت سماعت اور قوت بصارت سے لطف اندوز فرما اور ہم کو قوت و طاقت عطا فرما جب تک تو ہم کو زندہ رکھے اور ہمارے جانب سے اسے وارث بنا اور جو ہم پر ظلم کرے اس سے بدلہ لینے کی توفیق عطا فرما اور ہمارے دشمنوں پر ہماری مدد فرما اور مشکلات نہ بنا ہمارے دین میں اور دنیا کو ہمارا ہم مقصد نہ بنا اور نہ ہی اسے ہمارا مبلغ علم بنا اور اس کو کے ہم پر مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کرے۔
Ayah 53:31وقولہ تعالیٰ : (آیت ) '' وللہ مافی السموت وما فی الارض ''
4:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لیجزی الذی اسآء وابما عملوا '' (تاکہ بدلہ دے (اللہ تعالیٰ ) ان لوگوں کو جنہوں نے برے کام کئے) یعنی شرک کرنے والے (آیت ) '' لیجزی الذی احسنوا '' (اور اللہ تعالیٰ بدلہ دیں گے نیک کام کرنے والوں کو) یعنی ایمان لانے والے۔